یں اپنا ایک سچا واقعہ بتاتا ہوں۔ یہ ایک سو فیصد میری اپنی سچی کہانی ہے اور ابھی تک جاری ہے لہذا گر کسی کو میری کسی بات سے اتفاق نہ ہو تو معذرت اور سب سے اخر میں میں یہ کہنا چاہوں گا کہ میں کوئی اچھا رائٹر نہیں ہو بس اج دل کیا سوچا کچھ اپنے بارے م میں سچ لکھوں اسی وجہ سے میں اس کہانی میں نام پتہ وغیر ہ سب غلط لکھ رہا ہوں ،
میرا نام *** ہے اور میں ایک اچھی فیملی سے تعلق رکھتا ہوں۔ سیکس تو میری جسے کہ رگ رگ میں شامل تھا اور آج میں 36سال کا ہونے کے باوجود جب تک سیکس کی بات، سیکس نہ کروں مجھ سے رہا نہیں جاتا۔سب سے پہلے میں کچھ اپنے بارے میں شروع میں ہی بتا دوں ، میں سگریٹ اور چائے وغیرہ نہیں پیتاکیونکہ میں نے کسی جگہ پڑھا تھا کہ چائے پینے سے مرد کی ٹائمنگ کم ہو جاتی ہے میں نے جہاں بھی پڑھا تھا بلکل سچ پڑھا تھا۔اور شاید اسی وجہ سے آ ج بھی میری ٹائمنگ تمام مردوں سے بہت زیادہ ہے اور یہ سچ ہے بنا کسی دوائی کے میں کم از کم 30 سے 45منٹ تک اپنی مرضی سے سیکس کر سکتا ہوں اس بات کا اندازاہ آگے آپ کو میری کہانی میں پتہ چلتا جائے گا، تو زیادہ بور کرنے سے پہلے چلتے ہیں اپنی کہانی کی طرف۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری عمر اس وقت 36سال ہے یہ 2105کی بات ہے میں اپنی جاب کے سلسلے میں کراچی میں تھا، تو میرا ٹرانسفر ایبٹ اآباد کر دیا گیا مجھے پہلے تو بڑی خوشی ہوئی کی ایبٹ آباد جیسے علاقے میں جا رہاں دل بہت خوش تھا لیکن ساتھ ساتھ پریشان بھی تھا کہ میں اپنے آپ کو کیسے ایڈجسٹ کروں گا ۔ *** *** کر کے کے اپنے دل کو راضی کیا اور میں کراچی سے چل ۔پڑا۔ مجھے الحمد **** گھر سے کبھی بھی پیسے کی پریشنانی نہیں ہوئی لہذا میں کراچی سے بذریعہ ڈائیو ***** آباد کےلیے چل پڑا سارے راستے یہ سوچتا آیا کہ خدایا کہ میری زندگی کا یہ سفر یا پھر میرا ایبٹ آباد کا دورانیہ اچھا گزرے ۔ مجھے جوانی سے ہی ایک بات کی بڑی شدت سے عادت تھی کہ مجھے کوئی مل جائے جو میری طرح سیکس کی دیوانی ہو ایسی ہو کہ بس دنیا میں ایسی کوئی نہ ہو ۔ انہی خیالوں میں ***** آباد پہنچ گیا یہ دسمبر 2015کی بات ہے صبح تقریبا 9بجے میں ڈائیو کے ٹرمینل پر پہنچا تو اُس کے بعد میں نے ٹیکسی کی اور ایبٹ آباد کے بس سٹینڈ کی طرف چل پر وہاں پہنچ کر میں نے ایبٹ آباد کی ٹکٹ لی اور گاڑی میں بیٹھ گیا ۔ گاڑی چل پڑی راستے میں کوئی خاص واقعہ پیش نہ آیا ۔ راستے میں جب میں حویلیاں سے تھورا پیچھے تھا تو ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو کہ آج تک میری زندگی کے ساتھ چل رہا ہے اس میں اور بھی بہت سے واقعات چل رہے ہیں لیکن یہ واقعہ میری زندگی کا بہت ہی اہم واقعہ ہے ۔
ہو کچھ یوں کہ حویلیاں سےپہلے 2 سے 3 سی این جی اسٹیشن آتے ہیں اُن میں ایک سی این جی سٹیشن پر ہماری گاڑی رکی تو میں نے بھی سکھ کی سانس لی اور میں نے ذرا واش روم جانے کا سوچا ،میں جب اُس سی این جی کے واش روم میں گیا تو ضروری کام سے فارغ ہونے کے بعد میں نے واش روم کی دیوار پر دیکھا تو بہت سے نمبر اور لڑکیوں کے نام وغیرہ لکھے ہوئے تھے تو اُسی میں سے پتہ نہیں کیا سوچ کر میں نے 2 سے 3نمبر سیو کر لیے کہ شاید یہ عرصہ میرا چھا گزر جائے ۔ نمبر سیور کرنے کے بعد میں گاڑی میں آکر . بیٹھ گیا گاڑی چل پڑی تو راستے میں میں نے ان نمبر ز پر کال کرنا شروع کر دی مجھے اُن نمبرز میں سے صرف ایک نمبر پر بیل گئی باقی کے سارے نمبر ز بند تھے میں نے جس نمبر پر بیل گئ اُس کو سیو کر لیا اور باقی کے سارے نمبزر ڈیلیٹ کر دئِے ۔سوچا ایبٹ آباد جا کر اس نمبر ز پر ٹرائی کروں گا شاید کسی سے بات ہو جائے
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔