Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 13/05/25 in all areas

  1. یں اپنا ایک سچا واقعہ بتاتا ہوں۔ یہ ایک سو فیصد میری اپنی سچی کہانی ہے اور ابھی تک جاری ہے لہذا گر کسی کو میری کسی بات سے اتفاق نہ ہو تو معذرت اور سب سے اخر میں میں یہ کہنا چاہوں گا کہ میں کوئی اچھا رائٹر نہیں ہو بس اج دل کیا سوچا کچھ اپنے بارے م میں سچ لکھوں اسی وجہ سے میں اس کہانی میں نام پتہ وغیر ہ سب غلط لکھ رہا ہوں ، میرا نام *** ہے اور میں ایک اچھی فیملی سے تعلق رکھتا ہوں۔ سیکس تو میری جسے کہ رگ رگ میں شامل تھا اور آج میں 36سال کا ہونے کے باوجود جب تک سیکس کی بات، سیکس نہ کروں مجھ سے رہا نہیں جاتا۔سب سے پہلے میں کچھ اپنے بارے میں شروع میں ہی بتا دوں ، میں سگریٹ اور چائے وغیرہ نہیں پیتاکیونکہ میں نے کسی جگہ پڑھا تھا کہ چائے پینے سے مرد کی ٹائمنگ کم ہو جاتی ہے میں نے جہاں بھی پڑھا تھا بلکل سچ پڑھا تھا۔اور شاید اسی وجہ سے آ ج بھی میری ٹائمنگ تمام مردوں سے بہت زیادہ ہے اور یہ سچ ہے بنا کسی دوائی کے میں کم از کم 30 سے 45منٹ تک اپنی مرضی سے سیکس کر سکتا ہوں اس بات کا اندازاہ آگے آپ کو میری کہانی میں پتہ چلتا جائے گا، تو زیادہ بور کرنے سے پہلے چلتے ہیں اپنی کہانی کی طرف۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری عمر اس وقت 36سال ہے یہ 2105کی بات ہے میں اپنی جاب کے سلسلے میں کراچی میں تھا، تو میرا ٹرانسفر ایبٹ اآباد کر دیا گیا مجھے پہلے تو بڑی خوشی ہوئی کی ایبٹ آباد جیسے علاقے میں جا رہاں دل بہت خوش تھا لیکن ساتھ ساتھ پریشان بھی تھا کہ میں اپنے آپ کو کیسے ایڈجسٹ کروں گا ۔ *** *** کر کے کے اپنے دل کو راضی کیا اور میں کراچی سے چل ۔پڑا۔ مجھے الحمد **** گھر سے کبھی بھی پیسے کی پریشنانی نہیں ہوئی لہذا میں کراچی سے بذریعہ ڈائیو ***** آباد کےلیے چل پڑا سارے راستے یہ سوچتا آیا کہ خدایا کہ میری زندگی کا یہ سفر یا پھر میرا ایبٹ آباد کا دورانیہ اچھا گزرے ۔ مجھے جوانی سے ہی ایک بات کی بڑی شدت سے عادت تھی کہ مجھے کوئی مل جائے جو میری طرح سیکس کی دیوانی ہو ایسی ہو کہ بس دنیا میں ایسی کوئی نہ ہو ۔ انہی خیالوں میں ***** آباد پہنچ گیا یہ دسمبر 2015کی بات ہے صبح تقریبا 9بجے میں ڈائیو کے ٹرمینل پر پہنچا تو اُس کے بعد میں نے ٹیکسی کی اور ایبٹ آباد کے بس سٹینڈ کی طرف چل پر وہاں پہنچ کر میں نے ایبٹ آباد کی ٹکٹ لی اور گاڑی میں بیٹھ گیا ۔ گاڑی چل پڑی راستے میں کوئی خاص واقعہ پیش نہ آیا ۔ راستے میں جب میں حویلیاں سے تھورا پیچھے تھا تو ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو کہ آج تک میری زندگی کے ساتھ چل رہا ہے اس میں اور بھی بہت سے واقعات چل رہے ہیں لیکن یہ واقعہ میری زندگی کا بہت ہی اہم واقعہ ہے ۔ ہو کچھ یوں کہ حویلیاں سےپہلے 2 سے 3 سی این جی اسٹیشن آتے ہیں اُن میں ایک سی این جی سٹیشن پر ہماری گاڑی رکی تو میں نے بھی سکھ کی سانس لی اور میں نے ذرا واش روم جانے کا سوچا ،میں جب اُس سی این جی کے واش روم میں گیا تو ضروری کام سے فارغ ہونے کے بعد میں نے واش روم کی دیوار پر دیکھا تو بہت سے نمبر اور لڑکیوں کے نام وغیرہ لکھے ہوئے تھے تو اُسی میں سے پتہ نہیں کیا سوچ کر میں نے 2 سے 3نمبر سیو کر لیے کہ شاید یہ عرصہ میرا چھا گزر جائے ۔ نمبر سیور کرنے کے بعد میں گاڑی میں آکر . بیٹھ گیا گاڑی چل پڑی تو راستے میں میں نے ان نمبر ز پر کال کرنا شروع کر دی مجھے اُن نمبرز میں سے صرف ایک نمبر پر بیل گئی باقی کے سارے نمبر ز بند تھے میں نے جس نمبر پر بیل گئ اُس کو سیو کر لیا اور باقی کے سارے نمبزر ڈیلیٹ کر دئِے ۔سوچا ایبٹ آباد جا کر اس نمبر ز پر ٹرائی کروں گا شاید کسی سے بات ہو جائے جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  2. جیسے ہی میں ایبٹ آباد پہنچا مجھے آفس کی طرف سے گاڑی لینے کے لیے بس اسٹیند پر موجود تھی ۔ میں گاڑی میں بیٹھا اور آفس کی طرف سے ملے ہوئے گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔ وہاں پہنچ کر آفس کی طرف سے میرے لیے ایک عدد کوک اور ایک عدد چوکیدار موجود تھا ۔ میں نے سامان رکھا اور کک سے ہاتھ ملایا اور چوکیدار سے بھی ہاتھ ملایا۔ میں اپنے کمرے میں آگیا اور کک کو کہا کہ میرے لیے انڈہ املیٹ بنائے ناشتہ کرنے کا دل کر رہا تھا ۔ اتنے میں میں نے اپنا موبائل نکالا اور اُسی نمبر پر کال کی پہلی بیل پر کسی نے بھی کال رسیو نہیں کی میں نے دوبارہ کال کی پھر بھی کسی نے کال ریسو نہیں کی میں نے تیسری کال کی تو کوئی چوتھی بیل پر کسی نے کال رسیو کی ۔ کیا خوبصورت آواز تھی اُس لڑکی کی اُس کی آواز سن کر ہی میرے لنڈ میں گرمی چڑھ گئِ اُس نے کہا ہیلو آپ کون ہیں اور کسے سے بات کرنی ہے ۔ میری آواز کپکپا گئی کیوں کے میں تو ابھی تک اُس کی آواز کے جادو میں ہی کھویا ہو ا تھا ۔ میں نے کہا میں آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں آپ کا نام کومل ہے اُس نے کہا جی ہاں میرا نام کومل ہے آپ کو میرا نمبر کس نے دیا اور کیا بات کرنی ہے میں نے کہا کہ صاف بتاوں یا جھوٹ بولوں اُس نے کہا کہ صاف بتاو میں نے کہا کہ میرا نام احمد اور میں فلاں محکمے میں آفسیر ہوں۔ آج ہی یہاں پر پوسٹ ہوا ہوں پہلے میں کراچی میں تھا ساتھ ساتھ ڈر بھی رہا تھا کہ صبح محکمے میں نہ آجائے لیکن یہ بھی سوچ لیا تھا کہ اگر آ بھی گئی تو سب کے سامنے بتا دوں گا کہ آپ کا نمبر فلاں جگہ پر لکھا ہوا ہے جا کے خود پڑھ لیں کومل نے کہا تو میں کیا کروں آپ بتائیں اپ نے کیوں کال کی ہے میں نے صاف اور سیدھی بات بتا دی کہ میں نے آپ کا نمبر کہاں سے لیا ہے ۔ اور ساتھ یہ بھی کہ دیا کہ میں صرف اور صرف آپ سے بات کرنے کی حد تک دوستی کرنا چاہتا ہوں ۔ اُس نے اسی وقت مجھے کہ دیا کہ آپ نے دوبارہ مجھے کال نہیں کرنی ورنہ آپ کے لیے اچھا نہیں ہوگا اور اُس نے فون بند کر دیا۔ میں نے سوچا صبح تک دیکھوں گا اور پھر اُس کو کال کروں گا کیوں کہ اُس کی آواز سن کر میرے لنڈ میں جو گرمی چڑھ گئی تھی اب جب تک کسی کی پھدی میں لن نہیں جائے گا تو آرام نہیں آئے گا اسی سوچوں میں گم تھا کہ کک میرے لیے ناشتہ لے آیا میں نے ناشتے کرنے کے ساتھ ساتھ کک سے پوچھ لیا کہ ایبٹ آباد میں کون سی جگہ ہے جہا ں پر بند ہ کوئی چہل قدمی کر سکتا ہے کیونکہ میرا تجربہ ہے کہ زیادہ تر لڑکیاں پارک وغیرہ میں ہی پٹ جاتی ہے اور آسانی سے کام ہو جاتا ہے تو اُس نے مجھے ایبٹ آباد کے مشہور پارک (لیڈیز پارک) کا بتایا میں نے اُس کاشکریہ ادا کیا اور ساتھ پانچ سو روپے دے دیئے تاکہ اگر کبھی میں کسی کو اپنے بنگلے پر لے کر آتا ہوں تو یہی کک اور چوکیدار میرے لیے میری آنکھوں کا کام کریں گے۔ ناشتے کرنے کے بعد میں نے ٹریک سوٹ پہنا ، جوگر پہنے اور آفس کی طرف سے ملی ہوئی گاڑی میں بیٹھ کر پارک کی طرف چل پر راستے میں سوچتا رہا کہ آج تو کچھ نہ کچھ کرنا ہے ۔ کیونکہ مجھے گرمی چڑھ گئی تھی اور مجھے مٹھ مارنے کی عادت نہیں تھی ۔ اسی سوچ میں گم میں لیڈیز پارک پہنچ گیا وہاں کی ٹکٹ لے کر میں پارک کے اندر چلا گیا ۔ اور ادھر اُدھر دیکھتا رہا ۔ تو اسی دوران مجھے ایک 24 سے 26سال کے درمیان کی ایک لڑکی نظر آئی جس کی گود میں بچہ تھا ۔ وہ اپنے بچے کو پارک میں اُٹھا کے گھوم رہی تھی میں نے تھوڑی دیر انتظار کیا کہ شاید اس کے ساتھ کوئی اس کا خاوند وغیرہ تو نہیں جب مجھے کنفرم ہو گیا کہ اس کے ساتھ کوئی نہیں ہے تو میں تھوڑا اس کے پیچھے ہو کے چلتا رہا ۔ کہ شاید اس کو کئی کام پڑ جائے تو شاید میرا کام بھی ہو جائے ۔ وہ آگے آگے جا رہی تھی میں بھی اُس کے پیچھے اُس کا جسم دیکھتا جا رہا تھا ۔ کیا مست قسم کی اُس کی گانڈ تھی مت پوچھیں قیامت تھی قیامت مجھے اُس کی گانڈ دیکھ کر کنفرم ہو گیا تھا کہ یہ عورت پیچھے سے لازمی کرواتی ہو گی بہت ہی گول شکل کی اُس کی گانڈ تھی ۔ اسی دوران شاید میری قسمت مجھ پر مہربان ہوئی کہ اُس کے موبائل پر بیل آئی ادھر اُس کے موبائل پر بیل آئی اور ادھر اس کے بچے نے رونا شروع کر دیا اسی کشمکش میں وہ موبائل نکالنے لگی تو اُس کا موبائل نیچے گر گیا تو میں تو اسی انتظار میں تھا کہ اس سے کسی نہ کسی طرح بات ہو ۔ میں بھاگ کر اس کے نزدیک گیا اور نیچے سے موبائل اُٹھا کے اس کو دیا اور ساتھ ہی کہا کہ اگر آپ کو بُرا نہ لگے تو اپنا بچہ مجھے دے دیں میں اس کو سنبھالتا ہوں آپ آرام سے بات کر لیں ۔ کچھ تو میری پرسنلٹی ایسی تھی کہ وہ مان گئِ اور میں نے اُس کے ۔ہاتھ سے بچہ لے لیا اور بچہ کو اُٹھا لیا جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.