اسلام و علیکم دوستو ں میرا نام آفتاب خان ہے اور میں پنجاب کے ایک گاؤں نور پور سے تعلق رکھتا ہوں میں نے بہت سے سٹوری پڑھی ہیں اور کئی سالوں سے پڑھ رہا ہوں تو سوچا کیوں نہ میں بھی کوشش کروں تو دوستوں یہ میری پہلی کوشش ہے اس لیے کوئی غلطی ہوجائے تو درگزر کرئیے گا یہ پوری سچی تو نہیں کہہ سکتے لیکن اکثر کافی کچھ سچ بھی ہے سٹوری لازمی مکمل ہوگی اور ہفتے میں دو یا تین اقساط پوسٹ کروں گا۔
قسط نمبر1:۔
اب آتا ہوں سٹوری پر سب سے پہلے تعارف کروا دوں جیسا کہ آپ کو بتایا کہ میں پنجاب کے ایک گاؤں نور پور سے تعلق رکھتا ہوں میرے والد نام عثمان خان ہے ا ن کی عمر تقریباً47سال ہے صحت مند اور ہٹے کٹے اور مضبوط جسم کے مالک ہیں ہیں اور وہ ایک بڑے زمیندار ہیں گاؤں کی تقریباً تین حصے زمین کے مالک میرے والد ہیں اور ساتھ ہی فلور ملز اور کئی کاروبار کے مالک ہیں میری ماں صائمہ جن کی عمر 40سال ہے ایک گھریلو عورت ہیں زیادہ پڑھی لکھی نہیں ہیں لیکن ایک بڑے زمیندار گھرانے کی ہیں حالانکہ گھر میں کئی نوکر اور نوکرانیاں ہونے کے باوجود خود سب کچھ سنبھالتی ہیں جس کی وجہ سے وہ بالکل صحت مندسمارٹ اور ایکٹو ہیں۔سدرہ میرے والد کی دوسر ی بیوی اور ہماری چھوٹی ماں ہیں جن کی عمر 35سال ہے وہ شہر کی پڑھی لکھی تعلیم یافتہ اور ایک بڑے گھر کی ہیں اور ان سے میری ایک بہن نوشے ہے جو کہ 19سال کی ہے۔نورمیری بڑی بہن جن کی عمر22سال ہے انہوں نے انگلش میں ماسٹر کیا ہے وہ ایک سنجیدہ ٹائپ لڑکی ہیں زیادہ شور شرابہ ان کو پسند نہیں۔ پھر میری بہن عائشہ جن کی عمر20سال ہے وہ ابھی کیمسٹری میں ماسٹر کررہی ہے وہ شوخ چنچل اور باتونی ہیں ان کی باتیں ختم نہیں ہوتی ہیں۔ پھر میری بہن نمرہ جس کی عمر18سال ہے اور میں ہم دونوں جڑواں ہیں اور بچپن سے ہی بہت قریب رہے ہیں میری سب سے زیادہ نمرہ سے ہی بنی ہے ہم دونوں اب ایک ہی یونیورسٹی سے گریجویشن کر رہے تھے ہم نے ایک ہی سکول سے اور ایک ہی کالج سے میٹرک اور انٹر کیا تھا تقریباً ہمارا وقت ساتھ ہی گزرتا جن کو معلوم نہ ہوتا ان کو یہی لگتا ہے ہم کپل ہیں ہماری کبھی لڑائی نہ ہوئی تھی۔ میں نمرہ کو پیار سے نمو کہتا اور وہ اِفی۔ ہمارا سارے گھر میں بہت پیار تھا حالانکہ ابو نے دوسری شادی کی تھی لیکن پھر بھی ہمارے گھر میں کبھی کسی بات پرلڑائی نہیں ہوئی کیونکہ چھوٹی ماں میرے ابو کے ایک دوست کی بیٹی تھی وہ بہت بیمار تھے جاتے وقت ان سے وہ نکاح کر گئے تھے پہلے ہمیں تھوڑی مشکل ہوئی پھر چھوٹی ماں کے پیار نے سب کو ہی پیار کرنے پر مجبور کردیا وہ ہم پر سب سے زیادہ جان دیتی تھیں۔ہم سب خوش تھے سب ایک دوسرے کو بہت خیال رکھتے تھے اور میں اکلوتا لڑکا تھا گھر میں اس لیے میری تو ہربات فوراً پوری کی جاتی لیکن میں نے کبھی بھی بے جا فرمائش نہیں کی تھی یہ ہمارا گھر تھا۔ اور میرا ایک ہی چچا تھا سلیمان جو کہ ساتھ والے گاؤں میں رہتے تھے ان کی فیملی میں ان کی بیوی مسرت، بیٹیاں نوشین، شہناز، عظمیٰ اور بیٹا علی ہے۔
ہمارا گھر 8کنال کی حویلی پر مشتمل ہے جس میں 40کمرے ہیں دس کمرے ایک ہی قطار میں ان کے آگئے برآمدہ۔ پھر ایک طرف ٹی لاؤنچ، سوئمنگ پول، کچن، باتھ سب آگے تھے باقی دس کمرے دوسرے منزل پر اور دس کمرے تیسری منزل پر تھے جن میں جو ماسٹر روم تھے ان کے ساتھ اٹیچ باتھ تھے ایک بڑی جم اور شوٹنگ جم بھی تھی جہاں پر ہر روز میں اور میرے ابو ٹریننگ کرتے تھے۔ اور میرے استاد مجھے ٹریننگ دیتے تھے۔ باقی کمرے ملازموں کے لیے ایک طرف بنے تھے جن میں اکثر میں پوری فیملی رہتی اور عورتیں اور مرد رہتے تھے۔جو پکے ملازمین تھے باقی کے گاؤں سے آتے تھے۔
ہمارے گاؤں کی صدیوں سے ایک پرانی روایت تھی کہ ہر 25سال بعدعلاقہ کی سربراہی نئے سربراہ کو سونپ دی جاتی جس میں تقریباً25گاؤں آتے تھے اور اس کے لیے باقاعدہ مقابلہ ہوتا تھا۔ تمام بڑے خاندان اس میں حصہ لیتے اور جو جیت جاتا وہ اگلے 25سال کے لیے ان تمام گاؤں کے سربراہ بن جاتے تھے ہرگاؤں کا ایک چھوٹا سربراہ ہوتا لیکن ان سب کے اوپر ایک بڑا سربراہ ہوتا جس کا فیصلہ آخری سمجھا جاتا۔ مقابلے میں حصہ لینے کے لیے تین شرائط پر ہونا لازمی تھا چونکہ پٹھانوں کا علاقہ تھا تو اس لیے 1۔ عمر زیادہ سے زیادہ 25سال ۔2۔ جسمانی لڑائی میں ماہر ہو 3۔ نشانہ بازی میں ماہر ہو۔ 4۔ تیراکی میں ماہر ہو۔ مقابلہ اس لیے کروایا جاتا کہ سربراہ کو طاقت ور ہونا چاہیے اگر خود اپنی حفاظت نہیں کرسکتا تو سربراہی کیسے سنبھالے گا۔
یہ سب آپ کو بتانے کا مقصد آپ سٹوری کو آسانی سے سمجھ سکیں میرے والد اس وقت سربراہ تھے اور ان کی خواہش تھی کے اگلاسربراہ میں بنوں تو اس لیے چھوٹے ہوتے ہی انہوں نے اس کی تیاری شروع کروا دی صبح نماز کے بعد فوراً میدان میں جاتا جہاں پر چار اُستاد تھے جن میں دو لڑائی کے ماہر تھے اور دو نشانہ بازی کے اُستاد تھے جنہوں نے باقاعدہ باہر کے کئی ملکوں سے ٹریننگ کی تھی دو گھنٹے ان کے ساتھ گزارتا پھر ایک خاص تیل کی مالش کرتا جو کہ خاص کر میرے لیے تیار کروایا گیا تھا جس سے میرا جسم مضبوط ہو اور نشوو نما اچھی ہو اور ہرقسم کی چھوٹ براداشت ہوسکے۔ کیونکہ بچپن سے ہی تیاری کررہا تھا اس لیے لڑائی میں، تیراکی میں اور ہرقسم کے نشانے میں ماہر ہوچکا تھا خالی ہاتھ یا ہتھیار کے ساتھ کسی بھی مشکل حالات میں لڑ سکتا تھامیں بہت محنت کرتا لیکن میرے والد پھر بھی مطمئن نہ تھے۔ وہ کہتے تھے کہ تم کو بہترین ہونا چاہیے مقابلہ میں ایک سے ایک ماہر ہوگا کیونکہ ہر ماہ ابو میری گارکردگی چیک کرنے کے لیے مجھ سے مقابلہ کرتے لیکن میں ان سے کبھی جیت نہ پاتا وہ آج بھی ماہر تھے کیونکہ وہ ہرروز مشق کرتے تھے اب بھی انہوں نے میری خاص نگرانی یہ رکھی کہ میں لڑکیوں کی طرف نہ دھیان دوں انہوں نے کہا تھا کہ ایک بار تم مقابلہ جیت جاؤ پھر جو چاہے کرنا تب تک انہوں نے مجھے ایک قسم میں باندھ دیا تھا۔ پھر انہوں نے اپنے ایک دوست سے بات کی جو کہ آرمی میں کرنل ریٹائر تھے اور انہوں نے کئی ملکوں میں اپنا اور ملک کا نام روشن کیا تھا مقابلہ میں ایک سال اور تین ماہ تھے مطلب 15ماہ تو انہوں نے کہا کہ میں اس کو اپنے ساتھ لے جاؤں گا اور ٹریننگ کرواؤن گا یہاں پر گھر میں رہ کر یہ ٹھیک طرح سے ٹریننگ نہ ہو سکے گی۔ جب گھر سے رخصت ہو رہا تھا تو سب سے زیادہ نمر ہ روئی میں نے اس کو تسلیاں دیں اور کہا کہ میں جلد آجاؤں گا۔ باقی سب کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے لیکن ابو نے کہا کہ بہادر لوگ نہیں روتے۔ پھر وہاں سے روانہ ہوگئے اور گلگت بلقستان کی وادیوں میں چلے گئے اور پھر میری ٹریننگ شروع ہوئی کرنل صاحب نے مجھے کہا کہ لڑائی یا کسی بھی معاملہ میں سب سے اہم چیز ہوتی ہے سٹیمنا ہوتا ہے جتنا سٹیمنا اتنا انسان طاقتور ہوتا ہے تم سٹیمنا اچھا ہے لیکن بہترین ہونا چاہیے تم گھنٹوں تک لڑو تب بھی تم کو تھکنا نہیں چاہیے تم گھنٹو ں بھاگوں تم کو تھکنا نہیں چاہیے باقی تم بچپن سے ٹریننگ کرتے آرہے ہو تم سب میں بہترین ہو لیکن میں تم کا سٹیمنا بڑھانے کی ٹریننگ دوں گا۔ پھر انہوں نے سخت ٹریننگ سے گزارہ مجھے ٹریننگ کا مطلب سمجھ آیا کہ پاکستانی آرمی کیسی ٹریننگ کرتی ہے نشانہ بازی میں تو میں بچپن سے ماہر تھا ہرقسم کا ہتھیار چلانا اور نشانہ لگانا سنائپر گن تک میں نے ٹریننگ کی تھی۔ اب میرا اتنا سٹیمنا تھا کہ گھنٹوں لڑ سکتا تھا گھنٹوں بھاگ سکتا ہے گھنٹو تیر سکتا تھا۔ ہر طرح کے حالات سے مقابلہ کرسکتا تھا۔اگر مجھ سے زیادہ کوئی طاقتور ہو تو کیسے لڑسکتے ہیں اس کی توانائی اس کے خلاف استعمال کرنا ہر چیز سیکھتا گیا۔کرنل صاحب نے مجھے یوگا بھی سکھایا جو کہ میری توانائی کو بہت آگے لے گیا۔ لیکن ایک چیز بتاتا چلوں کے دوستوں میں تھا انسان ہی کسی قسم کا سپرپاور ہیرو نہ تھا۔ لیکن اب میں اتنا ماہر تھا کہ کئی لوگوں سے کئی گھنٹے لڑ سکتا تھا دو ہزار میٹر تک ٹھیک نشانہ لگا سکتا تھا۔تیس منٹ سانس روک سکتا تھا۔ میرا جسم اتنا مضبو ط ہوچکا تھا کہ بڑی سے بڑی چوٹ کو برداشت کرسکتا تھا۔