Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 30/01/24 in Posts

  1. کیا آپ نئے سال کے لیئے تیار ہیں؟ اردو فن کلب سال 2024 میں بھی اپنے فورم پر کچھ مزید تبدیلیوں کا ارادہ رکھتا ہے۔ اردو فن کلب نے ہمیشہ ہی تعداد کی بجائے صرف معیار کو اہمیت دی ہے ۔ہماری یہ تبدیلیاں فورم کی سروس کو مزید بہترین بنائیں گی ۔ ان تبدیلیوں میں کچھ پابندیاں اور بہت سی نئی سہولیات شامل ہیں ۔ان تمام پابندیوں اور سہولتوں کا ذکر اسی تھریڈ میں کیا جائے گا۔اس سال 2024 میں ممبرز کے آسانی کے لیئے بہت سی پابندیوں کو ختم کر دیا گیا ہے ۔اور کچھ نئی سہولیات بھی شامل کی گئی ہیں۔ امید کرتے ہیں یہ فورم پر ایک اچھا اضاٖفہ ثابت ہو گا۔ فاسٹ ڈیڈیکیٹ سرورز ہر بار کی طرح ٹریفک کے حساب سے ہم نے اس بار بھی اپنے سرورز کو مزید بہتر کیا ہے اور ان میں مزید ایکٹرا ریسورس شامل کیئے ہیں ۔ تاکہ آپ سب ممبرز کو مزید بہتر سروس مہیا کی جا سکے ۔ان کی تفصیلات ایک الگ تھریڈ میں بتا دی جائیں گی ۔ تاکہ جو ممبرز ان تفصیلات میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔وہ ان کو سمجھ سکیں ۔ان تبدیلوں کو جاننے کے لیئے اس لنک پر وزٹ کریں۔ ایک سے زیادہ اکاؤنٹس والے ممبرز اس کا اعلان گزشتہ سال میں بھی کیا گیا تھا ۔جس کو 2024 تک موخر کیا گیا۔ نئے سال میں ہم بہت سے ممبرز کو فورم سےرخصت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ایسے تمام ممبران جو ایک سے زیادہ اکاؤنٹ رکھتے ہیں اور انہوں نے اپنے ڈبل اکاؤنٹ کے بارے میں انتظامیہ کو خود سےنہیں بتایا۔جبکہ انتظامیہ ان ممبران سے مکمل باخبر ہے۔ ان ممبرز کو بین کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا جائے گا۔جو کہ ان ممبرز کے لیئے بھی سرپرائز ہو گا ۔ جو انتظامیہ کو غافل سمجھتے ہیں۔ان ممبران میں پریمیم ممبران بھی شامل ہوں گے ۔ کیونکہ وہ بھی رولز کی خلاف ورزی میں شامل ہیں ۔اگر اب بھی ایسے ممبران اپنا اکاؤنٹ بین ہونے سے بچانا چاہتے ہیں تو ان کے لیئے یہ آخری موقعہ ہے ۔ اپنے تمام اکاؤنٹ کی تفصیلات نیچے دئیے گئی ای میل پر سینڈ کر کے ایکسٹرا اکاؤنٹ کلوز کروا کر اپنا ایک اکاؤنٹ ایکٹو کروا لیں ۔بعد میں کوئی اعتراض قبول نہ ہو گا۔ verify@urdufunclub.org ایڈز فری براؤزنگ فورم میں ایڈز فری براؤزنگ کے لیئے ایک ایڈ آن شامل کیا گیا ہے ۔ جس کی قیمت ہم نے نہایت ہی مناسب رکھی ہے ۔ ممبرز 2 ڈالر ماہانہ یا 20 ڈالر سالانہ ادا کر کے ایڈ فری براؤزنگ حاصل کر سکتے ہیں ۔یہ آپشن کسی ممبر پر زبردستی لاگو نہیں کیا جا رہا ۔ جو ممبران ایڈز کے ساتھ اپنا اکاؤنٹ مینج کر سکتے ہیں ان کو یہ سہولت خریدنے کی ضرورت نہیں ہے ۔البتہ جو ممبران ایڈ فری براؤزنگ چاہتے ہیں وہ اسے حاصل کر سکتے ہیں ۔ ایڈز کمپنی فورم ممبرز کا کیشے اور براؤزنگ ڈیٹا کلکٹ کر کے ہی ممبرز کو اپنی ایڈز شو کرتے ہیں ۔ جس سے ممبرز کی پرائیویسی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ ممبرز کی پرائیویسی ہماری اولین ترجیح ہے۔ہماری کوشش ہے کہ پریمیم ممبرز کو ایڈز نیٹ ورک سے الگ رکھا جائے ۔تاکہ ممبرز کی پرائیویسی متاثر نہ ہو۔ پروفائل انفارمیشن نئے سال میں ہم نے ممبرز کی فیس بک پروفائل انفارمیشن ، وٹس اپ کنفرمیشن ، اور دیگر کنفرمیشن رولز کو ہٹا دیا ہے ۔ کسی بھی فورم ممبر کو ان کی کنفرمیشن کی ضرورت نہ ہو گی ۔سابقہ ممبرز کی طرف سےپہلے سے دی گئی تمام انفارمیشن کو بھی فورم سے حدف کر دیا جائے گا ۔ اور کسی قسم کا کوئی ریکارڈ نہ رکھا جائے گا ۔ ویری فکیشن صرف اور صرف آئی ڈی کارڈ سے ہو گی ۔ جو کہ ممبر اپنی خوشی سے اگر کروانا چاہیں تو کروا سکیں گے ۔ جو ممبر نہ کروانا چاہیں ان کےلیئے کوئی ویری فکیشن کی پابندی نہ ہو گی ۔ اگر کوئی ممبرز اپنی پرائیویسی کو لے کر حساس ہیں تو وہ اپنی ویری فکیشن نہ کروا کر بھی فورم ہر ایکٹو رہ سکتے ہیں ۔ وہ ویری فائیڈ ممبرز کی سہولیات کے علاوہ فورم کی مزید تمام سہولیات سے مستفید ہو سکیں گے ۔ فارگوٹ پاسورڈ (اکاؤنٹ کا پاسورڈ بھولنا) آپ کے اکاؤنٹ کا پاسورڈ اور لاگ ان کی تفصیلات ہی آپ کی شناخت ہے ۔ اسے ہر حال میں یاد رکھیں ۔ اسے بھولنے یا بلاک کرنے کی صورت میں فورم انتظامیہ ، سپورٹ ٹیم یا ایڈمن، آپ کو پاسورڈ مہیا نہیں کرے گا ۔ اور اس حوالے سے کسی ای میل یا میسج کا جواب نہیں دیا جائے گا ۔سسٹم میں فارگوٹ پاسورڈ کا آپشن موجود ہے ۔ جس کی مدد سے اپنی مدد آپ کے تحت نیا پاسورڈ سیٹ کیا جا سکتا ہے ۔ سسٹم رسپانس آپ کے اکاؤنٹ کی سابقہ کارکردگی سے لنک رکھتا ہے ۔سسٹم رسپانس کے لیٹ ہونے یا ممبر کے نہ سمجھنے کی صورت میں کسی قسم کی سپورٹ فراہم نہیں کی جائے گی۔ سپورٹ ٹیم سے اکاؤنٹ پاسورڈ کو ری سیٹ کروانے کی صورت میں چارجز ادا کرنا ہوں گے۔جو کہ اکاؤنٹ کی کیٹکری کے حساب سے ہوں گے۔ سائیلنٹ ممبرز اس سال سائلنٹ ممبرز کی ایکسس کو مزید بڑھایا جائے گا ۔ اور ان کو ایک کی بجائے دو ناولز کے سیکشن کی ایکسس دستیاب ہو گی۔ مزید 1 سیکشن کی ایکسس کو وہ فورم پر ایکٹو رہ کر اور فورم پر کمنٹس اور تھریڈ پوسٹ کر کے فری اپگریڈ کر سکیں گے ۔ جو کہ ان کے ایکٹو رہنے تک موجود رہے گی۔ اور رینک ایکٹو ممبر ہو جائے گا۔دوبارہ غیر فعال ہونے پر سسٹم ان کو دوبارہ سائلینٹ ممبر پر ڈاؤن گریڈ کر دے گا ۔جسے دوبارہ سے ایکٹو ہو کر ایکٹو ممبر رینک پر اپگریڈ کیا جا سکے گا ۔ نوٹ ! کلاؤڈ بیسک ،کلاؤڈ پریمیم اور کلاؤڈ پلاٹینم کے ممبران پر ان رولز کی شرط نہ ہو گی۔ان کا اکاؤنٹ ممبرشپ تک فعال رہے گا۔ کمنٹس اپروول سیٹ اپ یہ رول گزشتہ سال سے نافد عمل ہے ۔ جو ممبرز رومن یا کسی دوسری زبان میں کمنٹ کرتے ہیں ان کے کمنٹ کو ڈیلیٹ کر دیا جاتا ہے ۔ اور اپروول نہیں کیا جاتا ۔ ان تمام ممبرز کو دوبارہ نوٹ کروایا جا رہا ہے کہ کمنٹ کو صرف اور صرف اردو میں لکھیں تاکہ وہ اپروول ہو سکے ۔ رومن یا کسی بھی زبان میں لکھاگیا کمنٹ ڈائریکٹ ڈیلٹ کر دیا جائے گا ۔بے شک وہ معیاری کمنٹس ہی کیوں نہ ہوں ان کو اپروول نہیں کیا جائے گا ۔ اور ایسے تمام کمنٹس جو کہ چند مخصوص الفاظ جیسا کہ ۔ اپڈیٹ ، نائیس ، گڈ ، اور ان جیسےکسی بھی فضول الفاظ پر مشتمل ہوں گے۔ یا آپ کے کمنٹ میں کسی قسم کی تصویر شامل ہوئی ۔ ان کو بھی اپروول نہیں کیا جائے گا ۔ ان کمنٹس کو ڈائریکٹ ڈیلیٹ کر دیا جائے گا ۔ اردو الفاظ پر مشتمل معیاری کمنٹس کو ہی اپروول کیا جائے گا ۔ یہاں تمام ممبرز ایک بات نوٹ کر لیں ۔ آپ کا کمنٹ کتنا ہی اچھا اور معیاری کیوں نہ ہو ۔ اگر آپ کہانی کی اپڈیٹ کی تصاویر کو کوٹ کر کے کمنٹ کریں گے جس سے اپڈیٹ کی امیج آپ کی پوسٹ میں شامل ہوں ایسا کمنٹ اپروول نہیں ہو گا ۔ اسے ڈائریکٹ ڈیلیٹ کیا جائے گا۔تمام کمنٹس 24 سے 72 گھنٹوں کے دوران اپروول ہو جاتے ہیں۔ کلاؤڈ ممبرشپ جون 2024 میں کلاؤڈ بیسک ،اور کلاؤڈ پریمیم نئی ممبرشپ کی فیس اور رولز میں تبدیلی کی جا سکتی ہے ۔امکان یہی ہے کہ اس تبدیلی میں نئے رولز کے ساتھ رینیول فیس کو اسی طرح برقرار رکھا جائے گا ۔ جس سے موجودہ ممبرز متاثر نہ ہوں گے ۔ جبکہ نئی ممبرشپ کی پہلی ادائیگی کی فیس میں تبدیلی کی جائے گی۔ جس کا ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ۔اس حوالے سے نوٹیفکیشن جلد جاری کیا جائے گا۔اور تھریڈ کا لنک یہاں ایڈ کر دیا جائے گا۔ یہ تمام سہولیات اور پابندیاں آپ سب ممبرز کی بہتری کے لیئے ہیں ۔ ان سے ہم ایک مختصر اور اچھی کمیونٹی بنائیں گے ۔ ہمیں 20000 ممبران کی بجائے صرف 1000 ممبران کی کمیونٹی قبول ہے مگر ہم تعداد کے لیئے معیار پر سمجھوتا نہیں کریں گے۔نئے سال میں جو ممبران ان سب رولز کے ساتھ فورم پر رہنا چاہیں گے تو ہم ان سب کو خو ش آمدید کہیں گے ۔ اور باقی ممبران جو ان رولز سے اختلاف رکھتے ہیں ان کو بخوشی الوداع کریں گے۔ ایڈمنسٹریٹر ۔۔۔اردو فن کلب
  2. سعدیہ كے منہ سے اپنی انگلیاں نکالی اور اسے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا ، جس سے اس کا چہرہ میرے قریب آ گیا ، میں اس کی ہوس سے بھری آنکھوں میں آخری بار اپنے لیے محبّت ڈھونڈ رہا تھا ، لیکن ہوا وہی ، میرے ارمانوں کا حقیقت سے نہ تو پہلے کوئی واسطہ تھا اور نہ ہی اب تھا اور جب مجھے یقین ہوگیا کہ وہ وہی پرانی سعدیہ ہے جس نے محبّت کو ہمیشہ ہوس کی پیاس سے نیچے سمجھا ہے ، تو میں اس کو ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں بری طرح جکڑ لیا . . . . " جانور بن گئے ہو کیا . . . " مجھے دکھا دے کر وہ بولی اور اپنے ہونٹ ہاتھ سے سہلانے لگی . . . . " سوری . . . " میں وآپس اس کے قریب گیا اور اس کی کمر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس کی براہ کو اس کے سینے سے الگ کیا اور ایک بار پھر اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں بری طرح جکڑ لیا . . . سعدیہ نے اِس بار بھی پوری کوشش کی مجھے دور کرنے کی ، لیکن وہ اِس بار ناکام رہی . . . لیکن کچھ دیر كے بَعْد مجھے اس کی پرواہ ہونے لگی ، اس کا درد میرا درد بن گیا ، اور میں نے اس کے گلابی ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے الگ کر دیا اور اس کی گانڈ کو پکڑ لیا اور اس کی گانڈ پر ہاتھوں سے دباؤ ڈالا . . . . . " گندے بچے . . . . " میرے طرف جھک کر میرے کانوں كے پاس آ کر وہ بولی . میں نے سعدیہ سے کچھ نہیں کہا اور اسے پکڑ کر اُلٹا گھوما دیا ، اب اس کی پیٹھ میرے سینے سے اور اس کے کولہے میرے لنڈ سے ٹچ ہو رہے تھے ، . . سعدیہ شاید جان چکی تھی کی اب میں کیا اور کیسے کرنے والا ہوں ، اور ویسے بھی جس لڑکی کو ہر دن اپنے بستر کا ساتھی بدلنے کی بیماری ہو ، وہ کم سے کم سیکس كے پوزیشن تو جان ہی جاتی ہے . . . . سعدیہ نے میرے بولنے سے پہلے ہی اپنے دونوں ہاتھ سامنے کی طرف بستر پر تیکاے اور اپنی گانڈ میری طرف کرکے تھوڑا جھک گئی اور بولی . . . " اس کو کہتے ہے زبردست چودائی کرنا . . . اب کیوں روکے ہو ، ڈال دو اندر اور ایسا ڈالنا کہ اندر تک دستک دے جائے . . . . " دِل کر رہا تھا کہ سعدیہ کا قتل کر دوں اور پھر اس کی لاش كے پاس بیٹھ کر زندگی بھر رونا شروع کر دوں ، دِل کر رہا تھا کہ سامنے كے دیوار پر سعدیہ کا سَر اتنی زور سے دے ماروں کی اس کا سَر ہی نہ رہے . . . . وہ مجھ سے ایسے بات کیسے کر سکتی ہے ، جب کے میں اسے . . . . . . . . . . اور ایک بار پھر دِل كے ارمان ہوس میں دھول گئے ، یہ میرے لیے پہلی بار نہیں تھا . . . . . " چلو ارمان ، چودو مجھے . . . آئی ایم ویٹنگ . . . " اپنی گانڈ ہلاتی ہوئی سعدیہ بولی . . . میں نے اپنے کپڑے اتارے اور سعدیہ كے گانڈ پر اپنے ہاتھ سے دبائو بڑھانے لگا وہ ابھی سے مستی بھری آوازیں نکالنے لگی ، اس کی پینٹی کو نیچے کھسکا کر اپنے ہاتھوں سے اس کی چوت کو پھلایا ، اور اپنے لنڈ کو اس کی چوت سے لگایا اور آہستہ آہستہ سے اندر کی طرف دھکہ دیا . . . . " آہ ہ ہ ہ ہ . . . . . . . " سعدیہ کی سیسکاریاں شروع ہوگئی ، اب کی بار خود میرے منہ سے بھی مستی بھری آوازیں باہر نکل رہی تھی . میرا آدھا لنڈ اس کی چوت میں دستک دے چکا تھا ، جب کہ سعدیہ اپنے کہولوں کو آگے پیچھے ہلا کر مزہ لے رہی تھی ، میں نے ایک اور دھکہ مارا اور پورا لنڈ اس کی چوت میں سماں گیا ، اس کے بَعْد میں نے اپنے ڈھکے تیز کر دیئے ، میرے تیز ڈھکوں كے وجہ سے اس کا پورا جسم بری طرح ہل رہا تھا ، میں جب بھی اپنا لنڈ اندر ڈالتا وہ اپنی کمر کو میری طرف پوش کرتی اور سامنے کی دیوار کی طرف اپنا چہرہ کرکے ایک لمبی سسکی بھرتی اور اس کے بَعْد جیسے ہی میں اپنا لنڈ باہر نکلتا ، وہ پھر مستی میں چار چاند لگا دینے والی آوازوں كے ساتھ پہلے والے پوزیشن پر آ جاتی . . . . . ایک پل كے لیے میں روکا اور اس کے گانڈ کے ابھاروں کو اپنے ہاتھوں سے مسلتے ہوئے اور پھر تیز رفتاری سے اسے چودنے لگا ، سعدیہ سے ایک لگاؤ سا ہوگیا تھا مجھے اس وقت ، اس لیے جب وہ چیختی تو میں تھوڑی دیر كے لیے روک جاتا اور پھر جب وہ وآپس نارمل ہو جاتی تو میں پھر سے شروع ہو جاتا . . . اور کبھی کبھی جب وہ درد سے چیختی تو میں اپنا لنڈ ایک تیز جھٹکے كے ساتھ اس کے چوت میں ڈال دیتا اور پھر اس کے مموں کو زور سے سے دباتے ہوئے اپنا لنڈ کو اس کی پھدی كے اندر ہی ہلانے لگتا ، میرا ایسا کرنے پر سعدیہ میری کمر کو پکڑ کر مجھے دور کرنے کی کوشش کرتی . . . . " آہ ہ ہ ہ ہ . . . . اوئی ی ی ی ی. . . . . ارمان تھنکس اس کے لئے . . . " وہ یہ بولتے بولتے اِس بار بھی مجھ سے پہلے فارغ ہوگئی ، میرا لنڈ اب بھی اس کی چوت میں تھا ، جس کی وجہ سے اس کی چوت سے نکلتا گرم پانی مجھے اپنے لنڈ پر محسوس ہوا . . . . میں بھی اب گیم ختم کرنے والا تھا ، اس لئے میں نے سعدیہ کی کمر کو پکڑ کر اس کی طرف جھک گیا اور اسے بستر پر پورا الٹا لیٹا کر اس کے اوپر آ گیا ، اس کی چوت کا پانی پورے بستر میں پھیل رہا تھا ، میں نے اس کی گانڈ کے ابھاروں کو الگ کیا اور اپنے لنڈ کو ایک ہی جھٹکے میں اندر تک گھسہ دیا ، اور اپنی پوری طاقت كے ساتھ سعدیہ کو چودنے لگا ، وہ بری طرح چییخی . . . تو میں نے کہا کہ ، بس کچھ دیر کی بات ہے ، برداشت کر لو . . . . اس نے ویسا ہی کیا . . . بستر كے سرہانے کو پکڑ کر اس نے اپنے جسم کو ٹائیٹ کر لیا وہ بستر کو جکڑنے لگی تھی . . . . اور میں اس کی کمر ، اس کی پیٹھ پر تیزی سے ہاتھ پھیرتے ہوئے فارغ ہوگیا ، میرا لنڈ سعدیہ کی چوت میں ہی تھا ، سعدیہ بہت تھک چکی تھی ، ساتھ میں میں بھی حانپ رہا تھا ، مجھے سعدیہ كے اوپر لیٹے لیٹے کب نیند آ گئی پتہ ہی نہیں چلا . . . . صبح میری آنکھ ایک گرم سرپرائز سے کھلی ، جسے اکثر لوگ بلوجاب کہتے ہے ، میں سعدیہ كے بستر پر ننگا لیٹا ہوا تھا اور وہ میرے لنڈ پر اپنے گرم گرم ہونٹ پھیر رہی تھی ، . . . " اسے اچھی اور خوشامد صبح کیا ھوگی ارمان ، جب کوئی تمہیں بلوجاب دے کر اٹھائے . . . " میرے لنڈ کو چُوسنا بن کرکے اپنے ہاتھ سے سہلاتے ہوئے سعدیہ بولی . . . تقریباً دس منٹ تک وہ میرے لنڈ کو چوستی رہی اور اس کے بَعْد میں اک بار پھر فارغ ہوگیا ، پچھلی رات تِین بار فارغ ہونے کی وجہ سے پیٹ میں بہت درد ہو رہا تھا ، کمزوری بھی محسوس ہو رہی تھی اور سَر بھی بہت بھاری ہو رہا تھا . . . . . " میں چلتا ہوں . . . " باتھ روم سے نکل کر میں نے اپنے کپڑے پہنے . . . " جاؤ ، اور اپنا خیال رکھنا . . . " میں اِس انتظار میں اب بھی کھڑا تھا کی کہی شاید اسے میری آنکھوں میں کچھ ایسا دِکھ جائے ، جسے وہ مجھے گلے لگا لے ، لیکن ایسا نہیں ہوا ، یہاں تک کہ اس نے میری آنکھوں کی طرف دیکھا تک نہیں ، اس کی نظر اب بھی میرے لنڈ پر تھی ، سعدیہ میرے لنڈ کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی . . . . . " تمہارا ہونے والا شوہر کیا کرتا ہے . . . . " " تم کیوں پُوچھ رہے ہو . . . " " جنرل نالج كے لیے ، کیا پتہ یہ سوال ، زندگی كے امتحان میں آ جائے " " یہ ’ مذاق نہیں ہے ارمان . . . تم جاؤ ، اور آج كے بَعْد سمجھ لینا كے ہم ایک دوسرے سے ملے ہی نہیں . . . " میں نے ایک جھوٹی مسکراہٹ سے سعدیہ کو دیکھا اور بولا . . . " تنہائی میں جینے والے لوگوں کو اکثر ان کے چھوٹے سے چھوٹے سہارے سے اتنی محبت ہو جاتی ہے کہ وہ ان کے لیے خود کو مٹا دیتے ہیں . . . . . تمہیں کبھی کسی سے محبّت ہو تو میری بات پر غور کرنا ، ورنہ لوگ تو اپنوں کو پل بھر میں بھول جاتے ہے ، میں تو ویسے بھی تمھارے لیے غیر ہوں . . . . " سعدیہ كے ذہن میں ہزاروں سوال چھوڑ کر میں اس کے گھر سے سیدھے باہر نکل گیا ، میں اپنے کواٹر کی طرف آ رہا تھا کہ کاشف نے مجھے کال کی . . . " کہاں ہے بھائی ، آنے کا ارادہ ہے یا اسی كے ساتھ ہی رہیگا . . . " میں نے کال ریسیو کی تو کاشف تانے مارتا ہوا بولا . . . " بس کواٹر میں ہی آ رہا ہوں . . . " " جلدی آ ، تیرے لیے سرپرائز ہے ، اور وہ سرپرائز اتنا بڑا ہے کہ ، تو . . . . " میں جہاں تھا وہی کھڑا ہو گیا اور کاشف سے بولا " کیا ہے وہ سرپرائز . . . " " ھممممممم . . . . تو پہلے کواٹر میں آجا ، . . " اور اس نے کال کاٹ دی " پاگل بنا رہا ہوگا کاشف . . . " یہی سوچتے سوچتے میں کواٹر میں آیا ، میں نے کاشف کو آواز دی لیکن اس نے کوئی جواب نہیں دیا اور پھر جب باتھ روم كے اندر سے مجھے شاور كے چلنے کی آواز آئی تو میں سمجھ گیا کہ کاشف اندر ہے ، میں نے ٹائم دیکھا ساڑے نو بج رہے تھے ، اب اتنا ٹائم نہیں تھا کہ میں آج ڈیوٹی پر جاتا ، اور ویسے بھی آج میرا موڈ نہیں تھا . . . . میں نے کمرے کی کھڑکی کھولی اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا . . . . تبھی مجھے ایک آواز سنائی دی جس نے مجھے اندر سے جھنجھوڑ كر رکھ دیا . . . . ایسا لگا کہ دِل کی دھڑکنیں روک گئی ہو . . . " کیا بات ہے یار، بہت دنوں سے حویلی میں نہیں آیا . . . " میری جگہ اس وقت کوئی اور ہوتا تو شاید نظر اندازِ کر دیتا اِس آواز کو ، لیکن میرے لیے یہ الفاظ، یہ جملے بہت اہمیت کی حامل تھی . . . . میں پیچھے دیکھے بنا ہی جان گیا تھا کہ میرے پیچھے کون ہے ، لیکن اتنے مہینوں بَعْد وہ کیسے یہاں آیا . . . . . ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ میرے سَر پر ایک زوردار تھپڑ پڑا ، مارنے والے نے اتنی زور سے مارا تھا جیسے کہ نسلوں کا بدلہ لے رہا ہو . . . . . وہ کوئی اور نہیں بلکہ میرا خاص نہیں میرا سب سے خاص دوست اظہر تھا ، اور میں بھی اس کا سب سے خاص دوست تھا . . . . . " اوے کمینے لڑکیوں کی طرح ادھر ہی دیکھتے رہیگا یا پھر گلے بھی ملے گا . . . . " اس کی آواز میں مجھے اپنے لیے وہی اپنایت محسوس ہوئی ، جو کالج كے دنوں میں ہوا کرتا تھی، میں ایک جھٹکے سے پیچھے مڑا اور اظہر کو گلے لگا لیا . . . . . میں اور اظہر ایک دوسرے كے لیے اتنے خاص تھے کہ ہم دونوں gay ہوتے ( جو کہ نہیں تھے ) تو آج ایک دوسرے سے شادی کر لی ہوتی. . . . . . اپنے غصے اور مجھ سے ناراضگی کا ایک اور اظھار کرتے ہوئے اس نے مجھے زور سے ایک لات ماری اور بولا " بہن چود گانڈ مروا رہا تھا تو یہاں ، تیرا نمبر تبدیل ہوگیا ، گھر سے بنا بتائے غائب ہے اور یہاں تک کہ . . . یہاں تک کہ . . . " مجھ پر ایک لات کا پیار اور کرتے ہوئے بولا " یہاں تک کہ تو نے مجھے بھی نہیں بتایا ، کہا گئی تیری وہ بڑی بڑی باتیں . . . " ہماری دُنیا میں ایک کہاوت بہت مشہور ہے کہ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ملے تو بھی بہت ہوتا ہے ، لیکن مجھے تو آج پورا کا پورا ایک جہاز مل گیا تھا اظہر كے روپ میں . . . . . " بھڑوے ، خود کو انجینئر بولتا ہے ، تو نے سب انجیرنز کا نام خاک میں ملا دیا . . . . " وہ اب بھی مجھ پر بہت غصہ تھا . . . . " چھوڑ پرانی باتوں کو اور بتا یہاں کیسے آیا اور کاشف کہاں ہے ، کہی تو نے اس کا قتل تو نہیں کر دیا . . . " " بلکل ، سہی سمجھا بے ، اس کی لاش باتھ روم میں پڑی ہے ، پلیز پولیس کو بتا دے . . . . " کچھ دیر تک ہم دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر ہنس پڑے . . . . " اب چال بتا ، تو یہاں کیوں ہے . . . " اپنی ہنسی روک کر اظہر بولا ، وہ اب سنجیدہ تھا . . . . " سب کچھ چھوڑ چھاڑ كے آ گیا میں ، گھر والے ملک سے باہر ہے ، نہ تو انہیں کوئی فرق پڑتا ہے اور نہ ہی مجھے . . . " " تیرے بھائی کی شادی ہونے والی تھی ، اس وقت جب تو گھر چھوڑ کر یہاں آ گیا تھا . . . " " کمینے میری غلطیوں کی فہرست پکڑ كے بیٹھ گیا ہے. . . اب جان نکال کر ہی دم لے گا " میں نے اندر ہی اندر سوچا . . . " وہ سب تو چھوڑ " اظہر کا چہرہ پھر لال ہونے لگا ، " مجھے یہ بتا کہ تو نے مجھے کال کیوں نہیں کی ، کالج میں تو میرا بیسٹ فرینڈ بنا پھرتا تھا . . . . " اظہر كے اِس سوال کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا اور میں اسے کچھ کہتا بھی تو کیا یہ کہتا کہ " مجھ میں اب جینے کی خوائش نہیں ہے . . . " یا پھر یہ کہتا کہ " سارہ كے جانے كے بَعْد جیسے میرے دِل نے دھڑکنا بند کر دیا ہے . . . " " کچھ بولے گا بھی یا نہیں . . . " وہ مجھ سے پھر مخاطب ہوا . . . . " وجہ جاننا چاہتا ہے ، تو سن . . . . جب میں اپنی بی۔ٹیگ کی خالی ڈگری لے کر گھر گیا تو جانتا ہے میرے ساتھ کیا سلوک ہوا . . . گھر میں بڑے بھائی کی شادی کی تیاری چل رہی تھی اس لئے گھر میں لوگوں کہ ہجوم سا رہتا تھا ، اور جب کوئی میرے بارے میں پوچھتا تو سب یہی کہتے کہ . . . . ہمارے خاندان میں سب سے خراب میں ہوں ، میں ہی ایک اکیلا شخص ہوں ، جس نے اپنے خاندان کا نام ڈوبا دیا . . . ایسا اس لئے ہوا کیوںکہ میرے پاس پیسہ نہیں تھا ، میرے پاس نوکری نہیں تھی . . . . . مجھ سے کہی بھی تھوڑی سی بھی غلطی ہو جاتی تو میری اس غلطی کو میرے پڑھائی سے جوڑ دیا جاتا . . . . میں اپنے ہی گھر میں رہ کر پاگل ہو رہا تھا ، اور پھر جس دن لڑکی والے ہمارے گھر آئے تو بھائی نے ایک چھوٹی سی بات پہ سب کے سامنے مجھ پر ہاتھ اٹھا دیا . . . . بس اسی وقت میرے دِل اور دماغ دونوں نے ایک ساتھ چلا کر کہا کہ بس بہت ہو گیا ، اور مجھے سب سے برا تب لگا جب مجھے کسی نے نہیں روکا . . . سب یہی چاھتے تھے کہ میں ان کی زندگی سے چلا جاؤں ، سو میں نے وہی کیا . . . . " یہ سب بولتے بولتے میں بہت غم زدہ ہوگیا تھا ، اظہر کو اپنی زندگی كے کچھ گزرے وقت سنا کر میں نے اپنے زخم پھر سے تازہ کر لیے تھے . . . . کاشف بھی تب تک آ چکا تھا اور دروازے پر چُپ چاپ کھڑا میری باتیں سن رہا تھا . . . . . . کچھ دیر تک ہم تینوں میں سے کوئی کچھ نہیں بولا ، اور پھر اظہر نے اپنا بیگ اپنی طرف کھیچ کر کھولا اور شراب کی ایک بوتل نکال کر بولا . . . " یہ لے تیرا گفٹ . . . " میری نم آنکھوں میں ایک ہنسی جھلک آئی " تو کمینے ابھی تک بھولا نہیں . . . " یہ ہم دونوں کی ایک خاص عادت تھی کہ ہم دونوں نے ایک دوسرے کو گفٹ كے طور پر ہمیشہ شراب ہی گفٹ کی تھی . . . اور سب سے بڑی بات یہ کی اظہر نے ہی مجھے شراب پینے کی عادت لگائی تھی . . . . . . " شباب سے زیادہ شراب اچھی . . . " یہ بولتے ہوئے میں نے اس کے ہاتھ سے بوتل چھینی اور کاشف کی طرف دیکھ کر بولا " آج رات کا جوگار ہوگیا بے . . . " میرے ایسا کہنے پر کاشف كے ساتھ ساتھ اظہر بھی ہنس پڑا . . . کاشف اور اظہر ہی میری موجودہ زندگی میں میرے اپنے تھے ، کاشف كے والد انسپیکٹر تھے اور اظہر ریلوے میں کسی اچھی پوسٹ پر تھا . . . " شادی ہو گئی تیری . . . " شراب کی بوتل کو ایک کنارے پر رکھ کر میں نے اظہر سے پوچھا . . . . " کہاں شادی ، ابھی تو زندگی کی انجویمنٹ باقی ہے . . . شادی کرتے رہینگے آرام سے . . . . " "کاشف ، لے پیگ تو بنا ، سَر دَرْد کر رہا ہے . . . . " " ارمان ، یہ سعدیہ کون بے " " ہے ، محلے میں رہنے والی ایک لڑکی . . . " میں نے بولا . . . . " میں نے سوچا نہیں تھا کہ اس کے جانے كے بَعْد تو کسی لڑکی كے ساتھ دوستی کرے گا . . . " اظہر جانتا تھا کہ مجھے اس کا نام لینا اب پسند نہیں ہے ، اس لئے اس نے اس کا نام نہیں لیا . . . . " سوچا تو میں نے بھی نہیں تھا ، لیکن معلوم نہیں یہ کیسے ہو گیا . . . . " " لو پکڑو . . . " اسی دوران کاشف نے ہم تینوں کا پیگ تیار کر دیا ، جسے پی کر کاشف بولا " یار اظہر ، میں نے اسے کتنی بار اس کی بیتے لمحوں كے بارے میں پوچھنے کی کوشش کی ، لیکن اس نے مجھے ایک بار بھی نہیں بتایا اور ہر بار کسی نہ کسی بہانے سے ٹال دیا . . . . " " دماغ مت کھا یار تو اب ایک اور گلاس بنا . . . شراب بہترین ہے . . " میں نے ایک بار پھر کاشف کی بات کو ٹالنے کی کوشش کی . . . . لیکن شاید آج میں کامیاب نہیں رہوں گا اس کا مجھے اندازہ ہو گیا تھا . . . . . " آج تو خلاصہ ہوکر ہی رہیگا کاشف . . . " اپنا پیگ گلے سے نیچے اتار کر اظہر بولا " فکر مت کرو ، آج یہ سب کچھ بتاۓ گا. . . . " " میں کچھ نہیں بتانے والا . . . " " نہیں بتائے گا . . . " " بلکل بھی نہیں . . . " " اک بار اور سوچ لے . . . " " میں نے بول دیا نہ ایک بار . . . " " پھر وہ باتھ روم والی بات میں کاشف کو بتا دونگا ، سوچ لے . . . " اظہر نے میری کمزوری کو پکڑ لیا تھا ، دو تین گلاس پینے سے دماغ بھی ایک دم ریلکس ہو گیا تھا ، ایک دم بہترین . . . . . . شراب کی بوتل خالی ہوچکی تھی اور میں بھی اب بلکل تیار تھا کاشف کو وہ سب بتانے كے لیے ، جو میں نہیں بتانا چاہتا تھا . . . . " ایک اور گلاس بنا . . . . " میں نے کہا
  3. " سعدیہ. . . . " " میں اندر ہوں باتھ روم میں . . . " سعدیہ کی آواز نے میرا دھیان باتھ روم کی طرف کھینچا، " اِس وقت باتھ روم میں ، کیا کر رہی ہو . . . " " چوت صاف کر رہی ہو ، دلچسپی ہے تو آ کر صاف کر دو . . . " " ہاں ، جیسے دُنیا کی سارے دلچسپ کام ختم ہوگئے ہے ، جو میں اندر آ کر تمہاری چوت صاف کروں . . ." " پھر میرا ٹاول بستر پر پڑا ہے ، وہ دو . . . . " میں نے بستر پر نظر ڈالی ، وہاں ٹاول كے ساتھ ساتھ بلیک کلر کی براہ اور پینٹی بھی رکھی ہوئی تھی ، میں نے ٹاول اٹھایا اور سعدیہ کو آواز دی . . . " دو . . . " باتھ روم کا دروازہ پورا کھول کر سعدیہ نے میری طرف اپنا ہاتھ بڑھایا ، وہ پوری کی پوری پانی میں بھیگی ہوئی ننگی کھڑی تھی ، جسے دیکھ کر میرے لنڈ نے ایک بار پھر سلامی دینا شروع کر دی پینٹ كے اندر . . . . " ارے دو نا . . . " مجھے اپنی طرف اِس طرح سے دیکھتا ہوا دیکھ کر وہ بولی " اتنے غور سے تو تم نے مجھے اُس وقت بھی نہیں دیکھا تھا ، جب میں تمھارے ساتھ پہلی بار ہم بستر ہوئی تھی . . . " میں نے کچھ نہیں کہا اور اس کے پورے ننگے گورے جسم کو آنکھوں سے چودتے ہوئے اسے ٹاول دے دیا ، اور بستر پر آکر لیٹ گیا . . . ایک بات جو میں اکثر سوچتا تھا کہ دُنیا بھر کی لڑکیاں باتھ روم میں جاتے وقت ٹاول باہر کیوں بھول جاتی ہے . . . . " براہ بھی دینا . . . . " ایک بار پھر باتھ روم سے آواز آئی اور باتھ روم کا دروازہ کھلا ، " یہ لو . . . " براہ اور پینٹی دونوں اس کے ہاتھ میں پکڑاتے ہوئے میں نے کہا اور میری نظر سیدھے اس کے مموں پر جا ٹکی . . . . . " سائز معلوم ہے ، ان کا . . . " وہ دروازے کو پکڑ کر مستی میں بولی اور جب میں نے کچھ نہیں کہا تو وہ باتھ روم کا دروازہ بند کرنے لگی . . . . " سعدیہ . . . روکو . . . " " بولئے جناب . . . " " جلدی سے باہر آؤ ، تمھارے بنا چین نہیں ہے . . . " میں اپنی اِس حرکت پر خود شرما گیا . . . . . کچھ دیر كے بَعْد سعدیہ باہر آئی ، اور میرے بغل میں لیٹ کر میری طرح وہ بھی چھت کو دیکھنے لگی . . . " تم سچ میں شادی کرنے والی ہو . . . " سعدیہ کا ایک ہاتھ پکڑ کر میں بولا . . . وہ ابھی ابھی نہا كے آئی تھی ، جس کی وجہ سے اس کے پورے جسم سے خوشبو آ رہی تھی . . . . میرے سوال کو سن کر وہ تھوڑا حیران ہوئی اور میری طرف اپنا چہرہ کرکے بولی " یہ تم کیوں پُوچھ رہے ہو ، " " بس ایسے ہی . . . " " ہاں یار ، سچ میں شادی کر رہی ہے اور آج کی رات ہم دونوں کی آخری رات ھوگی . . . " " آخری رات . . . " میں نے دھورایا. . . " آخر تمھارے دل میں ہے کیا . . . " وہ حیران تھی کہ میں اب کیوں اسے اس کی شادی كے بارے میں پُوچھ رہا ہوں ، جب کے پہلی بار ہی اسے میں نے صاف منع کر دیا تھا ، خیر حیران تو میں خود بھی تھا . . . . " تم ایک عجیب قسم کے انسان ہو. . . لیکن آج کچھ زیادہ ہی عجیب حرکتیں کر رہے ہو . . . " میں نے اس کا ہاتھ جس ہاتھ میں پکڑ رکھا تھا وہ اسے سہلاتے ہوئی بولی ، اس کا چہرہ اب بھی میری طرف تھا . . . . سعدیہ کو اکثر ایسا لگتا کہ دُنیا بھر کا سارا سسپنس میرے اندر ہی بھرا پڑا ہے . . . . " نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے ، میں تو بس ایسے ہی پُوچھ رہا تھا . . . " کوئی تو بات تھی جو میرے اندر کھٹک رہی تھی ، یہ میں جانتا تھا . . . . " اب ساری رات ایسے ہی بور کروگے یا پھر کچھ اور . . . . . . . . " وہ آگے کچھ اور کہتی اس سے پہلے ہی میں نے اس کی چوت كے اوپر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور اسے پینٹی کے اوپر سے ہی سہلانے لگا . . . . " ڈائریکٹ پوائنٹ پر ہاں . . . " وہ ایک بار پھر مسکراتے ہوئے بولی . . . " پوائنٹ تو اب آیا ہے . . . " میں نے اس کے پینٹی كے اندر ہاتھ ڈال کر اس کی چوت کو سہلاتے ہوئے بولا اور اپنی ایک انگلی چوت كے اندر ڈال دی . . . کچھ دیر پہلے كے واقعے سے ابھی بھی اس کی پھدی گیلی تھی . . . ہم دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے ، آج پہلی بار وہ مجھے بہت ہی خوبصورت لگ رہی تھی ، دِل کر رہا تھا کہ اسے چوم لوں ، لیکن سعدیہ کو کس پسند نہیں تھا . . . " تم کیا سوچ رہے ہو . . . " وہ کانپتی ہوئی آواز میں میری طرف دیکھ کر بولی . . . جواب میں میں نے اپنے دوسرے ہاتھ کی انگلیوں کو اپنے ہونٹوں پر رکھا کر اشارہ کیا کہ میں تمہارے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں بھرنا چاہتا ہوں . . . . میرے اشارے سے سعدیہ تھوڑی بے چینی محسوس کرنے لگی اور مجھ میں کچھ دیر تک نہ جانے کیا دیکھتی رہی . . . . . " واقعے تم میرے ہونٹ پر کس کرنا چاہتے ہو . . . ؟ ؟ ؟ " اپنے ہونٹ پر عجیب سی حرکت لاتے ہوئے اس نے مجھ سے پوچھا ، میری ایک انگلی اب بھی اس کی چوت كے اندر باہر ہو رہی تھی . . . . . " ہاں . . . میں چاہتا ہوں کے تمہارے ہونٹوں پر کس کروں . . . " میں نے بس اتنا کہا اور وہ میرے ہونٹوں كے قریب آئی ، ہم دونوں ایک دوسرے کی سانسیں کی گرمائش محسوس کر رہے تھے ، جو کہ ہم دونوں کو اور بھی گرم کر رہی تھی . . . . آج پہلی بار سعدیہ كے لیے میرے دِل میں کچھ فیلنگس آئی تھی اور وہ فیلنگس اس لئے تھی کیوںکہ سعدیہ آج مجھ سے دور جا رہی تھی ، آج کی رات ہماری آخری رات تھی ، شاید اس لیے وہ مان بھی گئی . . . . . " تم سچ میں بہت عجیب ہو . . . " میرے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے ٹچ کرکے وہ بولی " لیکن مجھے اچھے لگتے ہو . . . " اور اس کے بَعْد میں نے وقت نہ گواتے ہوئے اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لے لیا . . . . اور اس کے اوپر آ گیا . . . . اسی دوران میں نے اس کو ایک بار چھوڑا تو وہ میرے ہونٹوں کو چوسنے کی وجہ سے حانپ رہی تھی اس کے سینے كے ابھار بہت تیزی سے اوپر نیچے ہو رہے تھے . . . . " ایک بات بتاؤ " میں نے بولا " جب تمہیں معلوم تھا کہ میں کچھ دیر بَعْد تمہاری براہ اور پینٹی کو اتار دوںگا تو تم نے پہنا ہی کیوں . . . . " میرے ایسا کہنے کی دیر تھی کی وہ کھلکھلا كے ہنس پڑی ، اور میرے سَر پر اپنا ہاتھ پھیرنے لگی . . . . . " تم سچ میں بہت عجیب ہو . . . " " وہ تو میں ہوں . . . " میں نے دوبارہ اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے چپکا لیا اور پھر چُوسنے لگا . . . . میں اس کے ہونٹوں کو اتنا زور سے چوس رہا تھا کہ اس کے ہونٹوں پر خون اترنے لگا ، اور ہونٹ كے کنارے پر مجھے خون کی کچھ بوندے بھی دکھی . . . لیکن میں روکا نہیں اور اسے پی گیا . . . . . . " بہت ٹیسٹی ہے . . . " " کیا . . . " " تمھارے ہونٹ . . . لیکن ذرا آرام سے ، درد ہوتا ہے . . . " سعدیہ بولی . سعدیہ كے بولنے کا لہجہ سیدھے میرے دِل پر لگا ، میں یہ تو جانتا تھا کہ سعدیہ كے لیے میں صرف اس کے جسم کی بھوک مٹانے كے لئے ہوں ، لیکن آج وہ کچھ بدلی بدلی سی لگ رہی تھی . . . اس وقت جب اس نے کہا کہ " آرام سے کرو ، درد ہوتا ہے . . . . " تو میں جیسے اس وقت اس کا مرید ہو گیا ، دِل چاہتا تھا کہ میں بس ایسے ہی اس کے اوپر لیٹا اسے پیار کروں اور یہ رات کبھی ختم نہ ہو ، دِل چاہتا تھا کہ کل کی صبح ہی نہ ہو ، لیکن یہ ممکن نہیں تھا . . . . میرے دِل میں سعدیہ كے لیے آج کچھ اور جذبات تھے ، اک بار تو میرے دل میں خیال بھی آیا کہ کہی میں سعدیہ سے . . . . . . . . . . . نہیں یہ ہرگز نہیں ہو سکتا ، جن راستوں پر میں نے چلنا چھوڑ دیا ہے تو پھر ان راستوں سے گزرنے والی منزلیں مجھے کیسے مل سکتی ہے . . . . . . " یار اب اِس حسین پل میں کہاں کھو گئے ، کرو نہ. . . " " اتنی جلدی بھی کیا ہے سعدیہ . . . " میں نے بہت ہی پیار سے کہا ، اتنے پیار سے میں نے آج سے پہلے کبھی کسی سے بات کی تھی ، یہ مجھے یاد نہیں . . . . . " جلدی تو مجھے بھی نہیں ہے ، لیکن اس کا کیا کرے ، کمینی چین سے ایک پل جینے بھی نہیں دیتی . . . . " سعدیہ کا اشارہ اس کی گرم ہوتی چوت کی طرف تھا ، جو میرے لنڈ کی راہ تک رہی تھی کہ میں کب سعدیہ کو چودنا شروع کروں . . . لیکن میں سعدیہ كے اوپر سے ہٹ کر اس کے بغل میں لیٹ گیا اور اس میں جو چیز مجھے سب سے زیادہ پسند تھی اسے سہلاتے ہوئے میں نے کہا . . . . " کچھ دیر بات کر لیتے ہے ، تب تک تم نارمل ہو جاؤ گی اور تمہیں درد بھی کم ھوگا . . . " آج سعدیہ کو میں نے ایک سے بڑھ کر ایک جھٹکے دیئے تھے اور مجھے پورا یقین تھا کہ اسے اب بھی جھٹکا لگا ھوگا ، میرا اندازہ سہی نکلا وہ مجھے حیران ہوکر دیکھ رہی تھی . . . . . " ارمان . . . آخر بات کیا ہے ، سب کچھ ٹھیک تو ہے نہ . . . " میرے چہرے کو سہلاتے ہوئے سعدیہ نے مجھ سے کہا . . . " ہاں ، سب ٹھیک ہے . . . " میں سعدیہ کی طرف دیکھتے ہوئے بولا لیکن میرے دِل میں کچھ اور ہی تھا ، میں کچھ الگ ہی خواب سجا رہا تھا . . . . . بقول شاعر " آج پھر دِل کرتا ہے کی کسی كے سینے سے لپٹ جاؤں . . . . اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سارے غم پی جاؤں . . . . ہم دونوں رہے ساتھ ہمیشہ اس لئے . . . دِل کرتا ہے کی اس کی تقدیر کو اپنی تقدیر سے جوڑ دوں . . . . میں کچھ اور بھی کہنا چاہتا تھا سعدیہ سے لیکن اس نے مجھے آگے بولنے کا موقع ہی نہیں دیا اور درمیان میں بول پڑی . . . . " پھر کیا بات ہے . . . جلدی کرو صبح ہونے والی ہے اور پھر ہم کبھی ایک ساتھ نہیں رہینگے . . . " سانسیں روک گئی تھی ، جب اس نے چھوڑ جانے كے لیے کہا . . . . . دِل نہ ٹوٹے میرا اس لئے . . . دِل کرتا ہے کی اپنے دِل کو اس کے دِل سے جوڑ دوں . . . . . " چلو یار ارمان . . . کیا سوچ رہے ہو ، وہ بھی اب " وہ مجھے بستر پر سوچ میں پڑا دیکھ کر جینجلا اٹھی ، تب مجھے احساس ہوا کہ سعدیہ كے لیے میں اب بھی سوائے ایک جسم کی بھوک مٹانے والے كے سوا کچھ نہیں ہوں اور اس کی طرف سے کہی گئی باتوں کا میں 101 % غلط مطلب نکال لیا تھا . . . مجھے برا تو لگا لیکن ساتھ ہی ساتھ اپنی غلطی کا بھی احساس ہوا اور اپنی غلطی کا ازالہ کرنے كے لیے میں وآپس سعدیہ كے اوپر آ گیا. . . . . " یس اب آئے نہ لائن پڑ ، اپنی انگلی میرے منہ میں ڈالوں اور شروع ہو جاؤ . . . " وہ بولی اور میں نے ویسا ہی کیا ، میں نے اپنی انگلیاں اس کے منہ میں ڈالی اور اس کی زبان سے ٹچ کرنے لگا اور پھر کچھ دیر بَعْد اپنی انگلیاں نکل کر اس کو سَر سے پکڑا اور اسے اپنی طرف کھینچا . . . . . . بقول شاعر: " میرے دور جانے سے اے دوست خوشی ملتی ہے تجھے تو بتا دے مجھے . . . . . . تیری اِس خوشی كے لیے میں تجھے تو کیا اِس دُنیا کو چھوڑ كے چلا جاؤں . . . . .
  4. (48) اگلے دن میری پٹیاں کھلنی تھیں۔۔۔نادر صبح نو بجے ہی آ دھمکا۔۔۔ناشتہ کرنے کے بعد صبح دس بجے ڈاکٹر نے مجھے آپریشن روم میں مجھے اپنے سامنے بٹھایا اور میرے چہرے کی پٹیاں کھولنا شروع کر دیں۔۔۔پٹیوں سے آزاد کرنے کے بعد ڈاکٹر نے کوئی دو تین اقسام کے لوشن مکس کر کے ان سے میرے چہرے پر مساج کرنا شروع کر دیا۔ مجھے بہت جلدی تھی کہ دیکھوں تو سہی ڈاکٹر کی کارگزاریوں کا کیا نتیجہ نکلا ہے۔۔۔پر میں صبر اور تحمل سے آنکھیں بند کیے بیٹھا رہا۔۔۔آدھے گھنٹے بعد ڈاکٹر نے میرے چہرے کو کپڑے سے اچھی طرح صاف کیا اور مجھے اٹھا کر چلاتے ہوئے باہر کامن روم میں لا کر صوفے پر بٹھا دیا۔۔۔چند لمحوں کی خاموشی کے بعد نادر کھنکھارتے ہوئے بولا۔۔۔میرے ویر ہن اکھاں کھول لے۔۔۔میں نے آنکھیں کھولیں تو نادر کو اپنے سامنے سنگل صوفے پر بیٹھے دیکھا۔ نادر کے ساتھ والے ڈبل صوفے پر ڈاکٹر اور اس کی پٹاخہ بیوی شبنم بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔میں نے ڈاکٹر کی آنکھوں میں ایک فخر اور خوشی کا احساس دیکھا۔۔۔شبنم مبہوت میرے چہرے کو دیکھ رہی تھی جبکہ نادر کی آنکھوں میں ایک عجیب احساس تھا۔۔۔اس احساس کو میں کوئی بھی نام نہیں دے پایا۔ میں نے نادر کو دیکھتے ہوئے پوچھا نادر کیا ہوا۔۔۔ایسے کیوں دیکھ رہے ہو۔۔۔تو نادر بولا میری جان میں جو تجھ میں دیکھ رہا ہوں وہ تجھے شیشہ دیکھنے کے بعد پتہ چلے گا۔۔۔لیکن شیشہ تم گھر میں جا کر ہی دیکھو گے۔۔۔میں نے اچنبے سے پوچھا کیوں یہاں آئینہ دیکھنے میں کیا قباحت ہے تو نادر بولا۔۔۔میرے ویر اتنی سی بات مان لے۔۔۔سمجھ لے اس میں میری خوشی ہے۔ میں نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا کہ یار نادر کیسی بات کرتا ہے بھائی تیری وجہ سے تو میں ہوں۔۔۔تو بولے تو ساری زندگی آئینہ مت دیکھوں۔۔۔ہماری باتیں سن کر شبنم اٹھ کھڑی ہوئی اور بولی: ویل مسٹر کمال!!!مبارک ہو آپ کو آپ کا چہرہ صحیح سلامت واپس مل گیا ہے۔۔۔پھر وہ چونکتے ہوئے بولی۔۔۔اوہ سوری میں نے اپنا تعارف تو کروایا ہی نہیں۔۔۔مجھے مسِز رحمان کہتے ہیں۔۔۔یہ کہہ کر اس نے میری طرف مصافحے کیلئے ہاتھ بڑھایا۔۔۔میں نے اس کا نرم و نازک ہاتھ تھام کر مصافحہ کیا اور وہ پھر پلٹ کر اندرونی کمروں کی طرف چلی گئی۔ اسی وقت ڈاکٹر نے پاس پڑی میز سے ایک چھوٹی سی بوتل اٹھا کر میری طرف بڑھائی اور بولا کہ یہ میرا تیار کردہ لوشن ہے۔۔۔تین دن تک اس کا مساج چہرے پر کرنا ہو گا۔۔۔تا کہ چہرے کی ملائمیت قائم رہ سکے۔۔۔ورنہ جِلد خراب ہو جانے کا خدشہ ہے۔۔۔کچھ دیر بعد ہم لوگ ٹیکسی میں بیٹھے نایاب خان کے گھر واپس جا رہے تھے۔۔۔نایاب کے گھر کو تالا لگا ہوا تھا۔۔۔نادر نے چابی سے تالا کھولا اور ہم لوگ اندر داخل ہو گئے۔ کرسیوں پر بیٹھنے کے بعد ہم دونوں خاموشی سے بیٹھے ایک دوسرے کی شکل تکتے رہے۔۔۔پجر نادر ہی اس خاموشی کو توڑتے ہوئے بولا۔۔۔کمال میرے دوست!!!میں نے ایک کام تم سے پوچھے بنا کر ڈالا ہے۔۔۔میں خاموش رہا تو وہ بولا لیکن یہ کام میں نے کیوں کیا ہے وہ پہلے ان لو اس کے بعد جو دل چاہے بولنا میں چپ چاپ مان جاؤں گا۔۔۔میں پھر خاموشی سے اس کی طرف دیکھتا رہا۔۔۔نادر نے دو سگریٹ سلگائے۔۔۔ایک سگریٹ مجھے دینے کے بعد دوسرا وہ اپنے ہونٹوں میں دباتے ہوئے بولا:یار کمالے ایک دن جب میں گھر گیا تو میں نے شمسہ کو عجیب حالت میں دیکھا۔ میں نے چونک کر اس کی آنکھوں میں دیکھا تو وہ آنکھیں چراتے ہوئے اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور اپنا منہ دوسری طرف گھماتے ہوئے بولا۔۔۔میں گھر گیا تو گھر کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔۔۔پہلے بھی اکثر یہی ہوتا تھا کیونکہ ہمسائے والی ماسی سارا دن شمسہ کے پاس بیٹھی رہتی ہے تو آنا جانا لگا رہتا ہے۔۔۔اس لیے میں نے کوئی خاص دھیان نہیں دیا اور اپنی ہی دھن میں چلتا ہوا اندرونی کمروں کی طرف چلا گیا۔۔۔اتنا کہہ کر نادر چپ ہو گیا۔ جبکہ میں سوچ رہا تھا کہ آج پہلی بار نادر خلافِ توقع اتنا سنجیدہ ہے کہ وہ اپنی عادت کے برخلاف پنجابی چھوڑ کر اردو میں بات کر رہا ہے۔۔۔پر میں منہ سے کچھ نہیں بولا اور دھیان سے نادر کی بات سننے لگا۔۔۔وہ اپنی ہی دھن میں بولے جا رہا تھا۔ کمالے جمیل بھائی کے جانے کے بعد بھی شمسہ اکیلی ہی اپنے کمرے میں سوتی تھی یا کبھی کبھار ماسی اس کے ساتھ سو جاتی تھی۔۔۔تمہیں تو پتہ ہی ہے کہ میں ذیادہ تر گھر سے باہر رہتا تھا۔۔۔اور کیسے ہم دونوں نے مل کر آج تک جمیل کو زندہ رکھا ہوا ہے۔۔۔خیر میں بتا رہا تھا کہ اس دن جب میں اس کے کمرے کے پاس پہنچا تو مجھے عجیب سی آواز سنائی دی۔ یہ آوازیں میرے لیے انجان نہیں تھیں۔۔۔یہ آوازیں کوئی لڑکی یا عورت اس وقت حلق سے نکالتی ہے جب وہ کیف و سرور کی منزل سے گزر رہی ہو۔۔۔میں ٹھٹھک گیا کیونکہ یہ آوازیں شمسہ کے کمرے سے ہی آ رہی تھیں۔۔۔پہلے تو میں ایک دم غصے میں آ گیا اور سوچا کہ اندر داخل ہوتے ہی شمسہ اور اس کے ساتھ جو بھی ہو ان دونوں کو گولی سے اڑا دوں۔ میں نے اپنا پستول بھی ہاتھ میں پکڑ لیا۔۔۔پھر میں نے خود پر قابو پاتے ہوئے سوچا کہ پہلے دیکھوں تو سہی کہ یہ کون خنزیر کا پتر ہے جو میرے ہی گھر میں نقب لگا رہا ہے۔۔۔میں نے احتیاط سے اندر جھانکا تو وہیں پتھر ہو گیا۔۔۔اندر شمسہ۔۔۔شمسہ اتنا کہہ کر نادر چپ ہو گیا۔۔۔میں نے نہایت دھیمی آواز میں پوچھا!!!نادر اندر ایسا تم نے کیا دیکھا کہ تم وہیں پتھر کے ہو گئے۔۔۔بھائی مناسب سمجھو تو مجھے بتاؤ۔۔۔نادر آہستگی سے بولا کہ اندر شمسہ ننگی لیٹی ہوئی تھی اور اپنے ہاتھ سے ایک کھیرا پکڑ کر اپنی ٹانگوں کے درمیان والی جگہ میں ڈال کر زور زور سے ہلاتے ہوئے سسکیاں بھرتے ہوئے جمیل بھائی کو یاد کر رہی تھی۔ ************************* (49) اسی وقت مجھے لگا کہ جیسے وہ تڑپ رہی ہے۔۔۔پھر اس نے کھیرا نکال کر باہر پھینک دیا اور دونوں ہاتھوں سے منہ چھپا کر روتے ہوئے جمیل بھائی کو آوازیں دینے لگی۔۔۔جمیل میری زندگی۔۔۔مجھے یہاں اکیلا تڑپنے کیلئے چھوڑ کر کہاں چلے گئے۔۔۔یہ پہاڑ جیسے زندگی کیسے کٹے گی۔۔۔کمالے مجھ میں اور سننے،دیکھنے یا سہنے کی ہمت نہیں تھی۔۔۔میں چپ چاپ وہاں سے نکلا اور کافی دیر بعد گھر واپس گیا۔۔۔اگلے مہینوں میں بھی کئی دفعہ میں نے شمسہ کو اسی آگ میں جلتے ہوئے دیکھا۔ پر میں سوائے اپنا دل جلانے کے اور کیا کر سکتا تھا۔۔۔پھر اس دن میں نے تمہیں دیکھا تمہارے چہرے کی حالت دیکھی تو میں نے اپنے دل میں اندر ہی اندر ایک فیصلہ کر لیا۔۔۔تمہیں یاد ہو گا کہ میں نے گاؤں سے آتے وقت گھر سے جمیل کی چند تصاویر اٹھائی تھیں۔۔۔وہ تصاویر میں نے ڈاکٹر کو دے دیں۔۔۔اتنا کہہ کر نادر چپ کر گیا۔۔۔لیکن میں کچھ نہ سمجھنے کے انداز میں پوچھ بیٹھا!!!یار نادر ان تصویروں سے میرا کیا تعلق۔ نادر آگے گیا اور دیوار پر ٹنگا ہوا شیشہ لا کر میرے سامنے کرسی پر رکھا اور چپ چاپ منہ پھیر کر کھڑا ہو گیا۔۔۔میں نے شیشہ اٹھایا اور اس میں اپنا منہ دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا۔۔۔ہکلاہٹ کے مارے میرے منہ سے صرف اتنا ہی نکل پایا۔۔۔نن۔نادر یہ یہ جمیل۔میرا چہرہ۔۔۔اسی وقت نادر جھکتے ہوئے میرے قدموں میں بیٹھ گیا اور ہاتھ جوڑ کر میرے سامنے کرتے ہوئے بولا۔۔۔میرے یار میری اس خود غرضی کو معاف کر دینا۔۔۔مجھ سے شمسہ کی حالت دیکھی نہیں جاتی تھی اس لیے میں نے تمہیں جمیل کا روپ اور شکل و صورت دے دی ہے تاکہ۔۔۔تاکہ تم جمیل بن کر شمسہ کو سنبھالو۔۔۔اسے سہارا دو،شمسہ کے حصے کی خوشیاں اسے دے دو میرے بھائی۔ میں سکتے کی کیفیت میں بیٹھا اس کی باتیں سن رہا تھا۔۔۔پر نادر مم۔مم۔میں کیسے جمیل۔۔۔شمسہ۔۔۔اف فف میری تو سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا۔۔۔یہ کہہ کر میں نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پکڑ لیا۔۔۔نادر نے مجھے اس حالت میں دیکھا تو کہہ اٹھا۔۔۔نہیں نہیں میرے ویر پریشان مت ہو۔۔۔چنگی طرح سوچ لے۔۔۔پر یاد رکھنا اس کے علاوہ میرے پاس ایک ہی حل ہے کہ میں شمسہ کو گولی مار کر خودکشی کر لوں۔۔۔میں اسے اس حالت میں نہیں دیکھ سکتا۔ نادر کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔میں کافی دیر سر پکڑے بیٹھا رہا۔۔۔پھر میں نے آئینے میں اپنی شکل دیکھی تو اچانک ایک انوکھی بات میرے ذہن میں آئی کہ اب میرا چہرہ میرا نہیں تھا جمیل کا تھا اور سب کو یہی پتہ ہے کہ جمیل سعودی میں بیمار ہے۔۔۔صرف میرے گھر والوں کو پتہ تھا اور وہ دنیا میں نہیں رہے۔۔۔تو مطلب اب اس راز کو جاننے والے میں اور نادر تھے۔ میں اس شکل کے ساتھ واپس اپنے گاؤں جا سکتا تھا اور وہاں سیالوں کے سامنے رہ کر ان کے سینوں پر مونگ دل سکتا تھا۔۔۔ویسے بھی میرا اپنا چہرہ تو بری طرح سے جل گیا تھا اور اب نادر کی مہربانی سے مجھے جمیل کی وجاہت ملی تھی۔۔۔چاہے اس میں نادر کی خود غرضی چھپی ہوئی تھی پر نادر کا خلوص اور اس خود غرضی کے پیچھے ایک معصوم لڑکی کی مدد یہ سب باتیں میرے دل میں گھر کر گئیں۔۔۔میں وہاں سے اٹھا اور چلتے ہوئے باہر نکل آیا۔ نادر باہر صحن میں بیٹھا ہوا سگریٹ پھونک رہا تھا۔۔۔مجھے دیکھ کر نادر بھی اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔میں نےبھاگ کر نادر کو گلے لگا لیا اور شوخی بھرے لہجے میں بولا۔۔۔نادر تو وڈا حرامی ایں۔۔۔اینا کجھ کر لیا پر مینوں خبر وی نہ ہون دتی۔۔۔نادر نے ایک دم مجھے خود سے علیحدہ کیا اور جھنجھوڑتے ہوئے بولا۔۔۔مطلب تجھے اس سارے پروگرام پر کوئی اعتراض نہیں؟تو میں نے گردن جھکاتے ہوئے کہا:یارا آج میں جو بھی ہوں تیری وجہ سے ہوں۔ میں تیرے خلوص کو کیسے بھول سکتا ہوں۔۔۔میرے یار تو جو بھی کرے گا چنگا ہی کرے گا۔۔۔میں ہر طرح سے تیرے ساتھ ہوں۔۔۔نادر نے میری بات سن کر مجھے سینے سے لگا لیا اور کہنے لگا۔۔۔او جی خوش کیتا ای جواناں۔۔۔بس ہن فٹافٹ میں شمسہ نوں ایتھے لیان دا بندوبست کردا واں تے توں اپنی ٹریننگ آپ شروع کر لے کہ اودے نال کی گل کریں گا کداں اونوں سنبھالیں گا۔۔۔باقی جمیل الوں سارے خط تے توں اونوں اپنے ہتھ نال ای لکھدا ریا ایں نا۔۔۔اس لئی مینوں یقین اے کہ سارے حالات جاندے ہوئے تو اونوں چنگی طرح سنبھال لویں گا۔ میں نے اسے پکڑ کر چارپائی پر اپنے ساتھ بٹھاتے ہوئے کہا!!!یار نادر شمسہ کو یہاں لانے کی کیا ضرورت ہے ہم لوگ گاؤں بھی تو جا سکتے ہیں نا۔۔۔اب میں،میں نہیں ہوں اب میں جمیل ہوں۔۔۔نادر چند لمحے تو میری بات سمجھ نہیں پایا پھر جیسے ہی میری بات اس کی سمجھ میں آئی وہ ایک دم جوش میں میرے کندھے پر ہاتھ مار کر بولا"ایتھے رکھ،،یار ایہہ گل تے میرے ذہن وچ ای نہیں آئی۔ پھر وہ سنجیدہ لہجے میں بولا۔۔۔کمالے یار گاؤں جانے سے پہلے کچھ اہم کرنے باقی ہیں۔۔۔سیالوں کی طرف سے ہم پر بہت بھاری قرض ہے جو کہ ہمیں بہت اچھے انداز میں چکانا ہے۔۔۔سیالوں کے ساتھ جو کچھ کرنا ہے اس کیلئے ابھی ہمیں بہت طاقت درکار ہے۔۔۔جسمانی طاقت نہیں،کچھ اور ہی طرح کی طاقت۔۔۔ایسی طاقت جس کے ذریعے ہم ان کتی کے پتروں کے سامنے چٹان کی طرح جم کے کھڑے ہو سکیں۔۔۔بولتے بولتے نادر کے جبڑوں کی رگیں تن گئیں اور میں خوشی سے سرشار سوچنے لگا کہ پتہ نہیں یہ میری کس نیکی کا صلہ ہے جو قدرت نے مجھے نادر جیسا جانثار دوست عطا کیا ہے۔۔۔پھر نادر بولا:میں اتنے دن خالی نہیں بیٹھا۔۔۔کچھ بھاگ دوڑ کی ہے جس سے کافی کام کی معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ ************************* (50) پھر وہ چند لمحے کچھ سوچ کر بولا:بلکہ تو ایسا کر ابھی میرے ساتھ چل میں تجھے کچھ دکھانا چاہتا ہوں۔۔۔میں اس کے ساتھ وہاں سے نکلا۔۔۔نادر نے ایک ٹیکسی کو روک کر کوئی ایڈریس بتایا پھر ہم لوگ ٹیکسی میں بیٹھ کر وہاں سے چل پڑے۔۔۔بیس منٹ بعد ہم لوگ ایک درمیانے درجے کی کوٹھی کے سامنے ٹیکسی سے اتر رہے تھے۔۔۔ٹیکسی والے کو کرایہ دے کر فارغ کرنے کے بعد ہم لوگ سیدھا اندر چلے گئے۔ اندرونی کمروں میں داخل ہونے سے پہلے ہی ایک دفتر نما کمرہ تھا۔۔۔نادر مجھے لیے ہوئے سیدھا اس کمرے میں گھستا چلا گیا۔۔۔اندر ایک بڑی سی میز کے پیچھے کرسی پر ایک مارواڑی سندھی بیٹھا ہوا تھا۔۔۔علیک سلیک کے بعد ہم لوگ اس کے سامنے بیٹھ گئے۔۔۔نادر کو دیکھ کر سندھی کی باچھیں کھل گئیں اور وہ مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔آؤ جی نادر صاحب کیسے مزاج ہیں۔۔۔آج ہماری یاد کیسے آ گئی۔۔۔نادر نے جواب دیا سیٹھ تمہارے پاس ایک کام سے آئے ہیں۔۔۔ہمیں کچھ اسلحہ چاہیے جو کہ فارن میڈ ہو۔ وہ سندھی ہمیں لیکر اندرونی حصے میں موجود ایک تہہ خانے میں پہنچ گیا۔۔۔تہہ خانے میں ہر قسم کے چھوٹے بڑے ہتھیار موجود تھے۔۔۔تہہ خانہ کیا بلکہ یہ تو کسی آرمی بٹالین کا اسلحہ خانہ لگتا تھا۔۔۔میں نے اپنے لیے ایک جرمن لیوگر ہی پسند کیا جس کے ساتھ ایک چھوٹے سائز کا نہایت نفیس قسم کا سائلنسر تھا۔۔۔میری دیکھا دیکھی نادر نے بھی ایک جرمن لیوگر ہی اٹھا لیا۔ اس کے بعد نادر نے دو نہایت اعلیٰ قسم کی سٹین گنیں پسند کیں۔۔۔میں نے ایک تیز دھار خنجر،جو کے چمڑے کی ایک پیٹی میں بند تھا وہ پسند کیا۔۔۔تسمے کی مدد سے یہ خنجر میں نے اپنی داہنی پنڈلی کے ساتھ باندھ لیا۔۔۔سیٹھ کو پیمنٹ کرنے کے بعد سٹین گنیں اور سارے ہتھیاروں کا ایمونیشن دو دن بعد گاؤں والے ایڈریس پر پہنچانے کا کہہ کر ہم لوگ وہاں سے نکل آئے۔ گھر پہنچ کر اپنے پاس موجود گنز ہم نے ایک الماری میں رکھیں اور نادر مجھے لیکر پھر گھر سے نکل پڑا۔۔۔اب کی بار ہم لوگ ایک بینک پہنچے جہاں جا کر نادر نے بینک مینجر سے میرا تعارف اپنے بزنس پارٹنر کے طور پر کروایا۔۔۔پھر نادر نے اپنے اکاؤنٹ پر میرا نام بھی لکھوایا تا کہ نادر کی غیر موجودگی میں رقم نکالتے وقت مجھے کوئی پرابلم نہ ہو۔۔۔بینک سے فارغ ہو کر ہم باہر نکلے تو نادر نے ایک سگریٹ سلگا کر مجھے دیا اور دوسرا خود اپنے ہونٹوں سے لگا کر جلاتے ہوئے بولا:لالے دی جان ایتھے آلے تے سارے کم مک گئے۔۔۔ہن دس پنڈ واپسی دا کی پروگرام اے۔ میں دھواں اڑاتے ہوئے بولا۔۔۔نہیں نادر ابھی ایک کام باقی ہے یار۔۔۔پھر بنا نادر کو کچھ بتائے میں نے ایک پی سی او سے ڈاکٹر رحمان کے نمبر پر کال ملائی تو شومئی قسمت شبنم نے ہی کال اٹینڈ کی۔۔۔رسمی علیک سلیک کے بعد میں نے مدعے کی بات شروع کی۔ شبنم!!!تمہیں یاد ہے اس رات میں نے تم سے کہا تھا کہ ہو سکتا مجھے تمہاری ضرورت پڑے تو شبنم نے جواب دیا:کیوں نہیں میری جان سب یاد ہے تم بتاؤ تو سہی کیا کام ہے۔۔۔میں نے کہا شبنم میری ساری کہانی تو تم سن ہی چکی ہو۔۔۔اب مجھے ایک دو ایسے جانثاروں کی ضرورت ہے جو کہ پورے خلوص سے میرے ساتھ مل کر کام کریں۔۔۔تم ڈاکٹر کے ذرائع استعمال کر کے پتہ چلاؤ کہ ایسے لوگ کہاں سے ملیں گے۔۔۔چونکہ ڈاکٹر کرنل بھی ہے تو وہ لازمی ایسے لوگوں کو جانتا ہو گا۔ شبنم کہنے لگی یار اتنے سے کام کیلئے ڈاکٹر کو زحمت دینے کی ضرورت نہیں۔۔۔میں بذاتِ خود ایسے دو آدمیوں کو جانتی ہوں جو کہ زمانے کے ستائے ہوئے ہیں۔۔۔اور زندہ رہنے کے تمام گر سیکھ چکے ہیں۔۔۔جرائم کی دنیا کی ساری اونچ نیچ سے واقف ہیں۔۔۔باقی تم ان دونوں سے مل لو خود ہی معلوم پڑ جائے گا کہ وہ کتنے پانی میں ہیں۔۔۔میں بس اتنا جانتی ہوں کہ وہ تمہارے کام آ سکتے ہیں۔۔۔تم اپنا ایڈریس مجھے بتاؤ میں ان کو بھیج دیتی ہوں۔ ************************* (51) میں نے ایڈریس اسے بتایا تو اس نے دو گھنٹے کا کہہ کر کال کاٹ دی۔۔۔نادر چپ چاپ میری شکل دیکھ رہا تھا۔۔۔میں نے نادر کو اس رات کی ساری داستان سنائی تو نادر میرے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے بولا:جیو شہزادے کہاں ہاتھ مارا ہے۔۔۔علاج کے دوران ہی ڈاکٹر کی بیوی چود ڈالی۔۔۔او کمالے تو واقعی کمال ہے۔۔۔اسی طرح ہنستے کھیلتے،باتیں کرتے ہم لوگ گھر پہنچ گئے۔۔۔دو گھنٹے بعد گھر کے صدر دروازے پر دستک ہوئی تو نادر نے اٹھ کر دروازہ کھولا۔۔۔دروازے پر دو نوجوان موجود تھے۔ نادر ان کو لیکر اندر کمرے میں آ گیا۔۔۔چند منٹ بعد ہم لوگ بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔۔۔رسمی باتوں کے بعد میں نے ان کا ماضی جاننے کی استدعا کی تو انہوں نے اپنا ماضی الضمیر کھول کر میرے سامنے رکھ دیا۔۔۔واقعی یہ زمانے کے ستائے ہوئے جوان تھے۔۔۔ایک کا نام سردار علی اور دوسرے کا نام حنیف خان تھا۔۔۔سردار علی جسامت میں حنیف خان سے کافی تگڑا تھا۔۔۔جبکہ حنیف خان لمبوترے قد کے ساتھ سانپ جیسی آنکھیں رکھتا تھا۔۔۔حنیف خان کے گھر والے کسی دشمنی کی بھینٹ چڑھ گئے تھے۔۔۔دشمنوں نے اس کے پورے خاندان کو گولیوں سے اڑا دیا تھا۔ اس وقت حنیف خان کمزور تھا۔۔۔کچھ کر نہیں پایا لیکن وہ اپنے دشمن کو شکل سے پہچانتا تھا۔۔۔بعد میں حنیف خان نے چن چن کر مخالفوں کو قتل کر کے اپنے خاندان کے ایک ایک فرد کا بدلہ لیا۔۔۔میں حنیف خان کی کہانی سن کر بہت متاثر ہوا کیونکہ میں بھی تو اسی دشمنی کی بھینٹ چڑھ کر اپنا سارا خاندان کھو بیٹھا تھا۔ سردار علی لاولد تھا۔۔۔مطلب اس کو اپنے والدین بارے کچھ معلوم نہیں تھا۔۔۔ایک یتیم خانے میں پل کر بڑھا ہوا۔۔۔اور معمولی چوری چکاری کرتے کرتے ایک دن پولیس کے ہتھے چڑھ گیا۔۔۔اسے جیل ہو گئی اور پھر جیل سے وہ جرائم کی دنیا کے تمام قوانین سیکھ کر باہر نکلا۔۔۔شبنم کے ان لوگوں سے تعلقات بارے یہ پتہ چلا کہ حنیف خان تو شبنم کا دور پار کا رشتے دار تھا۔۔۔شبنم چونکہ حنیف کے سارے حالات جانتی تھی اس لیے اکثر شبنم اسے کہیں نہ کہیں کام دلوا دیا کرتی تھی۔۔۔اور حنیف کے توسط سے ہی سردار کو کام مل جاتا تھا کیونکہ یہ دونوں ایک ہی لائن کے آدمی تھے اس لیے آپس میں تعلقات تھے۔ میرے پاس آنے سے پہلے وہ ایک اسمگلر کے ساتھ کام کرتے تھے۔۔۔لیکن وہ اسمگلر چند مہینے پہلے ہی اپنے گروہ کے چیدہ چیدہ کارندوں سمیت قانون ساز اداروں کے ہاتھوں مارا گیا تو اس لیے آج کل یہ دونوں فارغ البال تھے۔۔۔چنانچہ شبنم کے کہنے پر میرے پاس چلے آئے۔۔۔میں جسے معمولی لڑکی سمجھتا رہا وہ تو بڑی توپ قسم کی شے نکلی۔۔۔شبنم کا کریکٹر مجھے کچھ خاص سمجھ نہیں آیا۔۔۔بہرحال میں نے دل میں سوچا کہ مجھے اس کا کریکٹر سمجھ کر کرنا بھی کیا ہے۔ اپنا کام بنتا بھاڑ میں جائے جنتا۔ مجھے اپنے کام سے غرض رکھنی چاہیے۔۔۔مجھے حنیف خان کی آنکھوں میں بجلیاں سی دوڑتی نظر آئیں۔۔۔آنے والے وقتوں میں یہ ثابت بھی ہو گیا کہ بظاہر منحنی اور مجہول نظر آنے والا یہ شخص بے مثل صلاحیتوں کا مالک تھا۔۔۔اسے دیکھ کر کوئی شخص سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ کتنا پھرتیلا اور طاقتور ہے۔۔۔اژدھے کی طرح وہ اگر کسی کو ایک بار اپنی گرفت میں جھکڑ لیتا تو پھر جان سے مار کر ہی چھوڑتا۔۔۔اس کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ وہ صرف جسمانی طور پر ہی نہیں،ذہنی طور پر بھی بہت پھرتیلا اور مستعد تھا۔۔۔کسی بھی صورتحال میں فوری فیصلہ کرنا اور اس پر عملدرآمد کرنا اس کی خصوصیت تھی اور عام طور پر وہ فیصلہ درست ہی ثابت ہوتا تھا۔ میں نے ان دونوں ہر اعتماد کرنے کا فیصلہ کر لیا اور انہیں شروع سے لیکر آخر تک اپنی ساری رام لیلا سنائی۔۔۔ساری تفصیلات جاننے کے بعد وہ دونوں بہت متاثر ہوئے اور میرے لیے کام کرنے پر آمادہ ہو گئے۔۔۔پھر ہم لوگوں نے فیصلہ کیا کہ اب ہمیں واپس گاؤں جانا چاہیے۔۔۔اسلحہ کے نام پر دونوں کے پاس ریوالور موجود تھے۔۔۔ہم لوگوں نے اگلے دن وہاں سے گاؤں کوچ کرنے کا قصد کیا۔ ************************ (52) میں کافی دنوں سے محسوس کر رہا تھا کہ میرے دماغ میں کراچی کے حوالے سے کوئی چیز کھٹک رہی ہے۔۔۔لیکن بہت زور دینے پر بھی میں اپنے دماغ کو کلئیر نہیں کر پایا تھا۔۔۔ابھی اچانک جب واپسی کا قصد کیا تو اچانک میرے دماغ میں دو نام گونجے۔ رضیہ عرف راجی۔ چوہدری صفدر سیال۔ حالانکہ میری براہِ راست صفدر سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔۔۔لیکن صفدر کا وڈے چوہدری کے خاندان کا حصہ ہونا ہی اس کا سب سے بڑا جرم تھا۔۔۔اوپر سے راجی کے کہنے کے مطابق وہ راجی کا مجرم بھی تھا اور سفاکیت میں اپنی مثال آپ۔۔۔راجی کے خاندان کو قتل کرنے والا صفدر سیال۔۔۔جیسے جیسے میں اس بارے سوچتا گیا۔۔۔میرے دماغ میں جیسے پارہ بھرتا گیا۔۔۔میرے ذہن میں کھچڑی سی پک رہی تھی ، میرے وجود میں کہیں کوئی چنگاری سی پھوٹی تھی اور شعلہ بنتی جا رہی تھی۔۔۔میں سر تا پا مبتلائے اذیت تھا۔۔۔میرا رواں رواں جل رہا تھا۔۔۔جسم کا ہر مسام آگ اگل رہا تھا۔ مجھے یوں مٹھیاں بھینچ تے ہوئے دیکھ کر نادر نے مجھے آواز دیتے ہوئے پوچھا۔۔۔لالے دی جان کی گل خیر تے ہے۔۔۔میں نے نادر کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔نادر ہم لوگ یہاں سے جا تو رہے ہی ہیں۔۔۔کیوں نہ جاتے جاتے وڈے چوہدری کیلئے ایک تحفہ ہی چھوڑ جائیں۔۔۔تحفہ؟ نادر نے سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھا تو میں نے پھنکارتے ہوئے کہا:وڈے چوہدری کا ایک تخم یہاں کراچی میں بھی تو موجود ہے نا۔ نادر نے سرسراتے انداز میں کہا:کہیں تم صفدر سیال کی بات تو نہیں کر رہے۔۔۔میرے سر ہلانے پر وہ کچھ سوچتے ہوئے بولا۔۔۔صفدر سیال جب بھی کہیں باہر نکلتا ہے تو اس کے ساتھ محافظوں کا پورا دستہ ہوتا ہے۔۔۔راستے میں اس پر ہاتھ ڈالنا بہت مشکل کام ہے البتہ ہم لوگ رات کے اندھیرے میں ان کو غفلت میں دبوچیں تو ذیادہ بہتر رہے گا۔۔۔تو کیا خیال ہے دوستو کام کی ابتدا کی جائے؟ یہ بات نادر نے سردار علی اور حنیف خان کو دیکھتے ہوئے کہی تھی۔۔۔حنیف خان بولا:سر جیسے آپ کہیں۔۔۔میں تو خود معاشرے کے اس ناسور کو مٹانے کیلئے بہت بیتاب ہوں۔ نادر نے مجھے مخاطب کیا:یار ایک مسئلہ ہے اس کنجر کے تخم کو ڈھونڈیں گے کیسے؟ کیونکہ میں صفدر سیال کی رہائش گاہ کے بارے میں نہیں جانتا۔۔۔البتہ ایک دفعہ وڈے چوہدری کے کسی کام سے مجھے صفدر کے ایک گودام میں جانے کا اتفاق ہوا تھا۔۔۔اس گودام کا ایڈریس مجھے معلوم ہے بس۔۔۔میں نے چونک کر پوچھا گودام۔کس چیز کا گودام؟ نادر نے بتایا کہ صفدر نے کسی انٹرنیشنل کمپنی کے ساتھ مل کر یہاں کراچی میں چھوٹے سائز کی جیپ بنانے کا کاروبار شروع کیا ہوا ہے جو کہ بہت منافع میں جا رہا ہے۔۔یہ بہت ہی منافع بخش یونٹ ہے۔ کراچی کے مضافات میں انہوں نے بڑے بڑے گودام بنا رکھے ہیں، جہاں وہ تیار شدہ جیپں اسٹور کرتے ہیں۔۔۔انہیں وہ پوائنٹ ون کے نام سے پکارتے ہیں۔۔۔اس پوائنٹ ون اور گوداموں کا انچارج ایک جبار باری نام کا بندہ ہے جو کہ عرفِ عام میں جے باری کہلاتا ہے۔۔۔یہ جے باری ان گوداموں کا انچارج بھی ہے اور ویسے یہ ایک چلتا پھرتا پرزہ ہے۔۔۔درجنوں قتل کر چکا ہے اور عادتاً انتہائی سفاک ہے۔۔۔جب میں وہاں گیا تھا تو اسی سے ملاقات ہوئی تھی۔۔۔پھر اس کی جنم کنڈلی نکالی تو اس کے بارے میں یہ سب معلومات حاصل ہوئیں۔ ************************ (53) میں سر جھکائے کچھ سوچ رہا تھا تبھی حنیف خان گلا کھنکھارتے ہوئے بولا:سر جہاں تک میں سمجھا ہوں کہ آپ ان گوداموں کے مالک کو گھیرا چاہتے ہیں۔۔۔تو اس کا ایک سیدھا سادھا حل میرے پاس ہے۔۔۔پہلے ان گوداموں کے بارے میں مکمل معلومات نکالتے ہیں۔۔۔پھر موقع دیکھ کر وہاں کوئی بڑی کاروائی کرتے ہیں۔۔۔اب ظاہری سی بات ہے کہ گودام کی تباہی پر مالک تو ضرور آئے گا نا۔ میں نے تحسین بھرے انداز میں حنیف خان کا کاندھا تھپکتے ہوئے کہا۔۔۔واہ میرے دوست تم نے تو ایک منٹ میں انتہائی آسان حل بتا دیا۔۔۔چلو پھر لگ جاؤ کام پر اور جتنی جلدی ہو سکے ان گوداموں کا مکمل بائیو ڈیٹا اکٹھا کر لو تا کہ ان کتی کے بچوں پر ایک کاری ضرب لگا کر جنگ کا آغاز کریں۔ حنیف خان نے سردار علی کو اٹھاتے ہوئے کہا سر مجھے صرف چند گھنٹے درکار ہیں۔۔۔امید ہے کہ کل صبح تک پوری معلومات کے ساتھ حاضر ہو جاؤں گا۔۔۔اس کے بعد وہ دونوں نادر سے گوداموں کا ایڈریس معلوم کر کے وہاں سے چلے گئے۔۔۔یہ رات نایاب خان کی معیت میں بڑی اچھی گزری۔۔۔یہ خان بھی یاروں کا یار تھا۔۔۔وہ ہمارے بارے میں صرف اتنا ہی جانتا تھا کہ ہم لوگ کسی دشمنی کا شکار ہوئے ہیں اور میں اپنا چہرہ تبدیل کرنے کراچی آیا ہوں۔۔۔اس سے ذیادہ نہ ہم نے اسے بتایا اور نہ ہی اس سیدھے سادے انسان کو بتانے کی ضرورت تھی۔ رات کو آتے وقت وہ بازار سے فرائی چکن اور گرما گرم تندوری روٹیاں لے آیا۔۔۔ہم تینوں نے مل کر خوب مزے سے کھانا کھایا۔۔۔پھر ہم لوگوں نے نایاب کو بتایا کہ ہم لوگ کل صبح واپس چلے جائیں گے تو ہمارے جانے کا سن کر وہ تھوڑا غمگین ہوتے ہوئے بولا بھائیو!!!تم لوگوں کے ساتھ تو ٹھیک سے بیٹھ کر گپ شپ بھی نہیں کر پایا اور تم لوگوں نے واپسی کی نوید سنا دی۔۔۔بہرحال اس کو کوئی میٹھا پپلو سنا کر ہم لوگوں نے اپنی واپسی بارے میں رام کیا اس کے بعد کافی دیر گپ شپ لگاتے رہے۔ اگلے دن صبح نو بجے حنیف خان اور سردار کی آمد ہوئی۔۔۔اس وقت نایاب خان کسی کام سے باہر نکلا تھا۔۔۔نایاب خان کو ہم نے یہی بتایا تھا کہ گیارہ بجے ہم لوگ گھر سے نکلیں گے تو وہ اس سے پہلے پہلے واپس آنے کا کہہ کر کسی ضروری کام سے چلا گیا۔۔۔چند لمحوں بعد میں اور حنیف آمنے سامنے بیٹھے تھے۔۔۔حنیف کے چہرے پر ایک خاص قسم کی چمک محسوس کر کے میں پوچھے بغیر رہ نہ سکا۔۔۔کیا بات ہے حنیف بہت پرجوش لگ رہے ہو تو وہ بولا:سر بات ہی خوشی کی ہے۔۔۔ہم نے کل رات پورا بائیو ڈیٹا نکال لیا ہے۔ ہماری معلومات کے مطابق پانچ سو کے قریب تیار شدہ جیپیں وہاں موجود شیڈز میں منتقل کی جا چکی ہیں۔۔۔پروڈکشن کا خام مال بھی کافی مقدار میں سٹور کیا ہوا ہے۔۔۔دھڑا دھڑ مینوفیکچرنگ ہو رہی ہے اور جیپ کے ٹینک میں پٹرول ڈال کر جیپ کو شیڈ میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔۔۔جیسے ہی مجھ پر یہ دلچسپ انکشاف ہوا کہ ان جڑواں گوداموں میں سیال اینڈ کمپنی کی پانچ سو تیار شدہ جیپیں موجود ہیں۔۔۔میری ذہن میں موجود چنگاری شعلہ بن کر ابھرنے لگی۔۔۔میں نے دل ہی دل میں فیصلہ کر لیا کہ سیالوں پر ایک کاری ضرب لگانی ہے۔ ان کی ماں کی پھدی۔ کہا جاتا ہے کہ محبت اور جنگ میں سب جائز ہے اور میں بھی اس وقت سیالوں کے ساتھ حالتِ جنگ میں تھا تو میں نے فیصلہ کیا کہ میں تن تنہا ان گوداموں میں گھسوں گا اور ان گشتی کے بچوں سیالوں کو یادگار نقصان پہنچاؤں گا۔۔۔میرا ٹارگٹ گوداموں میں موجود وہ بڑے شیڈز تھے جہاں کمپنی کی تیار شدہ پانچ سو جیپیں موجود تھیں۔ میں نے حنیف اور نادر دونوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے تو ہمیں اس بھلے مانس نایاب خان کو چکر دینا ہے۔۔۔اس بابت میں نے ساری بات حنیف کو سمجھائی تو وہ بولا اس بات کی آپ فکر مت کریں۔۔۔آپ لوگ یہاں سے سیدھے ریلوے اسٹیشن جائیں اور میں آپ لوگوں کو ریلوے سٹیشن سے گیارہ بجے اٹھا لوں گا۔۔۔اس کے بعد باقی کا پروگرام میرے ٹھکانے پر بیٹھ کر طے کریں گے۔ پروگرام فائنل ہونے کے بعد سردار اور حنیف وہاں سے نکل گئے۔۔۔کچھ دیر بعد ہی نایاب خان گھر پہنچ گیا۔۔۔ٹھیک ساڑھے دس بجے نایاب خان خود ہمیں ریلوے اسٹیشن چھوڑنے آیا۔۔۔اس کو دکھانے کیلئے ہم نے باقاعدہ لاہور والی گاڑی کے ٹکٹ خریدے اور گاڑی میں بیٹھ گئے۔۔۔گاڑی کے وصل دیتے ہی وہ سادہ لوح آدمی ہمیں الوداع کہہ کر واپس چلا گیا اور ہم اگلے ڈبے سے ہو کر گاڑی سے اتر کے محتاط انداز سے دیکھتے ہوئے سٹیشن سے باہر نکل آئے۔۔۔پروگرام کے مطابق حنیف خان ایک سرمئی رنگ کی فوکسی میں موجود تھا۔ ************************ (54) ہم گاڑی میں بیٹھے تو حنیف خان نے گاڑی آگے بڑھا دی۔۔۔میں نے پوچھا حنیف یہ گاڑی کہاں سے لائے ہو تو وہ بولا:سر یہ ایک دوست کی ورکشاپ سے لایا ہوں۔۔۔میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔۔کچھ دیر بعد ہم لوگ ایک پرانے سے محلے کی تنگ گلیوں میں سے ہوتے ہوئے ایک چھوٹے سے مکان کے سامنے گاڑی سے اتر رہے تھے۔۔۔سردار علی دروازے پر ہی موجود تھا۔۔۔ہم لوگ اندر چلے گئے یہ دو کمروں کا مکان تھا۔۔۔کمرے میں موجود کرسیوں پر بیٹھ کر ہم نے آگے کا پلان ڈسکس کرنا شروع کر دیا۔ میں نے انہیں ساری بات تفصیل سے سمجھائی۔۔۔اس کام کیلئے ہمیں ایک بڑی گاڑی کی ضرورت تھی۔۔۔اس کی حامی سردار علی نے بھر لی کہ عین وقت پر وہ کسی پارکنگ لاٹ سے گاڑی اڑا لائے گا بقول اس کے یہ ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔۔۔کاروائی کرنے کے بعد گاڑی کہیں بھی چھوڑی جا سکتی تھی۔۔۔نادر نے سردار کی بات سے اتفاق کیا۔۔۔بقیہ وقت ہم لوگوں نے کچھ ضروری خریداری میں گزارا۔۔۔پھر اپنے پروگرام کے مطابق رات تقریباً دس بجے سردار علی ایک نئی کالے رنگ کی تاریک شیشوں والی کرولا کار اڑا لایا۔ ہم چاروں اس تاریک شیشوں والی کار میں بیٹھ کر وہاں سے نکلے اور اس شخص کی کوٹھی پر پہنچ گئے جو کہ ان گوداموں کا کرتا دھرتا تھا۔۔۔جی ہاں میں جے باری کی بات کر رہا ہوں۔۔۔میں نے اور نادر نے انتہائی قیمتی لباس زیب تن کیے ہوئے تھے جو کہ سپیشل آج ہی اسی مقصد کیلئے خریدے گئے تھے۔اسلحے کے نام پر ہم دونوں کے پاس جرمن لیوگر موجود تھے۔۔۔حنیف پروگرام کے مطابق کوٹھی سے تھوڑے فاصلے پر اتر گیا جبکہ سردار ڈرائیور کی حیثیت سے ڈرائیونگ سیٹ پر موجود رہا۔۔۔حنیف کو اتارنے کے بعد ہم سیدھا باری کی کوٹھی پر پہنچ گئے۔۔۔ہماری نئی نویلی کار دیکھ کر اس کے گارڈز بڑی تعظیم سے پیش آئے۔ میں نے جے باری کو پیغام بھجوایا کہ میں ایک ابھرتا ہوا صنعتکار ہوں اور کاروباری حوالے سے ہمارا باری صاحب سے ملنا اشد ضروری ہے۔۔۔اسی ضمن میں پہلے سے تیار کردہ ایک فرضی کارڈ بھی اندر بھجوایا۔۔۔تھوڑی سی مدوکدر کے بعد جے باری کے کارندے مجھے اور نادر کو ڈرائنگ روم میں لے گئے۔۔۔ہم لوگ صوفوں پر بیٹھے تھے کہ چند منٹ بعد جے باری بھی وہاں پہنچ گیا۔۔۔اس کو آتے دیکھ کر اس کا کارندہ جو ہمیں وہاں لیکر آیا تھا تعظیم دیتے ہوئے واپس چلا گیا۔ جے باری سانولی رنگت اور چست جسم والا چونتیس، پی تیس سالہ شخص تھا۔۔۔اس کے ساتھ ایک جواں سال لڑکی بھی تھی۔۔۔خوش شکل لڑکی نے جزبات بھڑکانے والا ایسا لباس پہن رکھا تھا کہ دیکھتے ہی لن سر اٹھانے لگے۔۔۔اس کی آنکھوں میں ہلکا سا خمار تھا صاف دکھتا تھا کہ وہ شراب پیتے ہوئے اٹھ کر آئے ہیں۔۔۔لڑکی کو دیکھتے ہی مجھے اندازہ ہو گیا کہ وہ نہایت"اونچے درجے کی گاہک"پھانسنے والی رنڈی ہے۔۔۔آج ہفتے کی رات تھی اور غالباً جے باری اس ویک اینڈ پر گشتی کی پھدی مارنے کیلئے اس کو لایا تھا۔ پر جے باری کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ ایک اینڈ اس کے سر پر کیا قیامت توڑنے والا ہے۔۔۔میرے دل کا موسم عجیب ہو رہا تھا۔۔۔سیالوں اور ان سے وابستہ کسی بھی فرد کیلئے میرے دل میں رحم کی رمق نہیں تھی۔۔۔اسی وقت کمرے کا دروازہ کھلا اور ایک باوردی ملازم ٹرالی دھکیلتا ہوا اندر داخل ہوا۔۔۔ٹرالی ہر شراب کی بوتل اور گلاس رکھے ہوئے تھے۔۔۔ملازم نے ہم سب کیلئے شراب کے جام بنائے اور الٹے قدموں واپس کمرے سے باہر چلا گیا۔ میں نے جے باری سے پوچھا"کیا ہم یہاں پورے تحفظ کے ساتھ بات کر سکتے ہیں۔،، دوسرے لفظوں میں میرا مدعا یہ تھا کہ کیا ہماری بات چیت کے درمیان یہ لڑکی یہاں ہی موجود رہے گی؟ جے باری نے کہا" ہاں آپ پورے اعتماد سے بات کر سکتے ہیں یہ کمرہ ہر طرح سے محفوظ ہے اور جب تک میں نہیں چاہوں گا کوئی ملازم بھی اندر قدم نہیں رکھے گا۔۔۔وہ ہمارے بیش قیمت لباسوں سے خاصا مرعوب نظر آ رہا تھا۔ ************************ (55) باری کی بات سن کر میں نے اور نادر نے گہری نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکھا اور ہم دونوں نے سائلنسر لگے لیوگر باہر نکال لیے تو جے باری اور اس کی ساتھی کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔۔۔پہلے تو جے باری نے فٹافٹ اٹھنے کی کوشش کی پھر گن کا رخ اپنی جانب دیکھ کر جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔ کون ہو تم؟،، اس کی آنکھوں میں دنیا جہاں کے اندیشے سمٹ آئے۔ میں تمہارا باپ ہوں۔۔۔تیری ماں کا ٹھوکو ہوں۔۔۔میرا نام کمال ہے اور اگر میرا موڈ ہو تو میں بلاوجہ ہی بندہ مار دیا کرتا ہوں۔۔۔میری بات سن کر جے باری کی آنکھوں میں خوف کی لہر ابھر آئی۔۔۔اس نے اپنا شراب کا جام ٹرالی پر رکھا اور خود کو سنبھال کر بولا،، میں کسی کمال کو نہیں جانتا۔۔۔تم جو کوئی بھی ہو، میں تمہیں بتا دوں کہ یہاں چھ مسلح گارڈ موجود ہیں۔تم کسی بری نیت سے آئے ہو تو یہاں سے بچ کر نہیں جا سکو گے۔ اس دوران نادر اٹھ کر دروازے کے پاس چلا گیا اور دروازہ کور کر لیا مباداً کوئی آ نہ جائے۔۔۔میں نے ایک سگریٹ سلگا کر ہونٹوں میں دباتے ہوئے کہا،، تیرے جیسے نامرد کتوں کی فوج کے سہارے حرامی پن کر سکتے ہیں۔۔۔یہ میرے ہاتھ میں جو گن موجود ہے اس پر بڑا نفیس سائلنسر لگا ہوا ہے۔۔۔تمہیں گولی ماروں گا تو شاید ساتھ والے کمرے میں کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا کہ تمہارے ساتھ کیا ہوا۔۔۔یہ نمونہ دیکھو۔،، میں نے گولی چلائی تو ٹھس کی آواز نکلی اور گولی سیدھا لڑکی کی آنکھوں کے بیچوں بیچ ماتھے پر جا لگی اور کھوپڑی کو توڑتی ہوئی پیچھے سے نکل گئی۔ وہ گشتی باری کے پہلو میں بیٹھی تھی اس کے منہ سے چیخ بھی نہ نکل سکی وہ ایک دم جھکی اور اوندھے منہ قالین پر گر گئی۔۔۔اس کے خون سے سرخ قالین سرخ تر ہونے لگا۔۔۔جے باری جیسے سکتے کی حالت میں رہ گیا تھا۔۔۔اس کے ہونٹ کانپتے رہ گئے مگر آواز،، ندارد،، تھی۔۔۔میں نے زہریلے لہجے میں کہا:دیکھا بلکل بھی آواز نہیں آئی۔۔۔پانچ دس سیکنڈز تک قیامت خیز سناٹا جاری رہا۔ کک۔کیا چاہتے ہو تم؟" جے باری نے رندھے ہوئے گلے سے پوچھا۔ میں تو بہت کچھ چاہتا ہوں، لیکن فلحال تم بنا چوں چراں کیے میرے ساتھ پوائنٹ ون کے گوداموں پر چلو گے۔۔۔جہاں صفدر سیال اینڈ کمپنی کی تیار شدہ جیپیں موجود ہیں۔۔۔اس نے سر گھما کر لڑکی کی طرف دیکھا تو اس گشتی کی لاش تھوڑی دیر جنبش کرتی نظر آئی پھر ساکت ہو گئی۔۔۔جے باری نے ایک نہایت دہشت زدہ نظر لاش پر ڈالی اور اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔میں نے جے باری کو گن دکھا کر اسے نشانہ پر رکھتے ہوئے لیوگر جیب میں ڈال لیا۔ یہاں شاید دوستوں کو مجھ سے اختلاف ہو کہ میں نے بے رحمی سے ایک بے قصور لڑکی کو مار دیا۔۔۔دشمنی کے اس انداز کو یقیناً آپ لوگ غیر اخلاقی قرار دیں گے لیکن سیالوں نے جس بے رحمی سے میری فیملی کو قتل کیا اور میری معصوم بہن کی عزت لوٹی اس کو پامال کیا تھا اس نے میرے اندر نفرت کا ایک ایسا الاؤ بھڑکا دیا تھا کہ اب میرے اندر اخلاقی اور غیر اخلاقی کی اہمیت بلکل بھی باقی نہ رہی تھی۔ میں سیالوں کے ساتھ جڑے ہر شخص کو بے رحمی سے ہی قتل کر دینا چاہتا تھا۔۔۔مجھے معلوم تھا کہ اب جو میں کرنے جا رہا ہوں یہ کروڑوں کا نقصان ہو گا لیکن یہ سب ایک ایسے دشمن کا نقصان تھا جس کا ہر فائدہ اس کی کالی طاقت میں اضافہ کرتا۔۔۔اور اس کی طاقت میرے جیسے بے ضرر لوگوں کو مجرم بناتی۔۔۔چھیمو جیسی لڑکیوں کی زندگیاں اجیرن کرتی۔۔۔راجی جیسی لڑکیوں کو اس کے عیش کدے کی زینت بناتی۔۔۔میری فیملی جیسے بے قصور لوگوں کا خون پیتی۔۔۔یہ طاقت ایک کالی شکتی تھی۔۔۔یہ کسی بھی حالت میں ہوتی تو اسے تباہ کرنا میرے نزدیک نیکی ہی ہوتی،، بہت بڑی نیکی۔ ******************** (56) ٹھیک ایک گھنٹے بعد ہم پوائنٹ ون میں اس طرح داخل ہو رہے تھے کہ جے باری اپنی شاندار ٹیوٹا جیپ چلا رہا تھا اور میں اس کے پہلو میں اس طرح بیٹھا تھا کہ لیوگر میرے ہاتھ میں اور اس کی نال باری کی طرف تھی۔۔۔جبکہ نادر پچھلی سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا۔۔۔میں نے کن اکھیوں سے بیک مرر میں دیکھا تو حنیف اور سردار گاڑی میں پیچھے پیچھے آتے نظر آئے۔۔۔پروگرام کے مطابق اگر ہم اندر کسی مصیبت میں پھنس جاتے تو سائلنسر نکال کر ایک فائر کر دیتے۔۔۔جسے سنتے ہی وہ دونوں ہماری مدد کو اندر آ جاتے۔۔۔ پوائنٹ ون میں داخل ہوتے وقت میں نے کہا،، میرا خیال ہے کہ تم مجھے اچھی طرح جان چکے ہو اور ابھی تازہ تازہ میری کارکردگی بھی دیکھ چکے ہو۔۔۔تمہاری بہتری اسی میں ہے کہ کوئی بھی چالاکی دکھانے کی کوشش مت کرنا۔ سیکورٹی کے ایک دو مراحل سے گزر کر ہم پوائنٹ ون کے گوداموں کے قریب پہنچ گئے۔۔۔یہ گودام چھ عدد وسیع و عریض شیڈز پر مشتمل تھے۔۔۔یہاں تیار شدہ جیپیں قطار در قطار پارک کی گئی تھیں۔۔۔جے باری کو ابھی تک کچھ اندازہ نہیں تھا کہ میں کیا کرنے جا رہا ہوں۔۔۔ہم گاڑی سے اتر کر ایک وسیع و عریض شیڈز میں داخل ہو گئے۔۔۔یوں لگتا تھا کہ کسی اسٹیڈیم پر چھت ڈال دی گئی ہے۔۔۔اس شیڈ میں کم و بیش ڈیڑھ سو گاڑیاں موجود تھیں۔ دوسرے تین شیڈز بھی بلکل ساتھ ساتھ واقع تھے۔۔۔یہ ہفتے کی رات تھی۔۔۔گودام پر صرف ایک تہائی عملہ ڈیوٹی دے رہا تھا۔۔۔میں نے جے باری کو ہدایت کی کہ وہ کسی مناسب بہانے سے عملے کے ارکان کو پندرہ بیس منٹ کیلئے کسی دوسرے شیڈ کی طرف بھیج دے۔۔۔تھوڑی سی پش و پیش کے بعد باری نے میری ہدایت پر عمل کیا۔۔۔تاہم میں نے محسوس کیا کہ عملے کے انچارج کو باری کی یہ ہدایات کچھ پسند نہیں آئیں۔۔۔اس کے چہرے پر الجھن کے آثار تھے اور وہ میری اور نادر کی طرف سے بھی شک کا شکار معلوم ہوتا تھا۔ بہرحال اس نے عملے کے تین چار افراد کو باہر بھیج دیا۔۔۔میں اور نادر باری کے ساتھ شیڈ کے آفس میں کھڑے تھے جب انچارج اندر آگیا۔۔۔اس نے باری سے کہا:کیا میں آپ سے اکیلے میں بات کر سکتا ہوں؟ تم نے جو کہنا ہے یہیں کہہ دو۔" باری نے مری مری آواز میں کہا۔۔۔انچارج بولا" گستاخی معاف سر! یہ رولز کے خلاف ہے کہ ہم سب دوسرے شیڈ میں چلے جائیں۔۔۔اس کے علاوہ میں جاننا چاہتا ہوں کہ۔۔۔" ابھی الفاظ اس کے منہ میں ہی تھے کہ نادر کی بے آواز گن سے ایک گولی نکلی جو کہ انچارج کی کھوپڑی توڑ کر نکل گئی۔۔۔وہ لہرا کر زمین کی طرف آیا۔ میں نے اسے ایک ہاتھ سے سنبھالا اور آہستگی سے زمین پر لٹا دیا۔۔۔گولی چلنے سے جو ٹھس کی آواز نکلی تھی اس نے ایک بدقسمت پہرے دار کو اندر کھینچ لیا۔۔۔باہر کھٹکے کی آواز سنتے ہی میں لپک کر آفس کے دروازے کے پیچھے گیا تھا اور جیسے ہی پہرے دار اندر داخل ہوا میں نے پیچھے سے اس کے منہ کو دبوچتے ہوئے لیوگر کی ایک زوردار ضرب اس کی گدی پر لگائی اور وہ بھی لہرا کر نیچے آ رہا۔۔۔جے باری کا انتہائی زرد رنگ کچھ اور بھی زرد ہو گیا۔۔۔یوں لگتا تھا کہ وہ ابھی گر کر بیہوش ہو جائے گا۔ تھوڑی ہی دیر بعد باری عملے کے دوسرے ارکان کو کسی نہ کسی بہانے سے دوسرے شیڈ کی طرف بھیجنے میں کامیاب ہو گیا۔۔۔اب وہ بلا چوں چراں میری ہدایات پر عمل کر رہا تھا۔۔۔آفس میں بس ایک ٹیلی فون سیٹ تھا جس کی تار میں نے کاٹ دی اور فون سیٹ اٹھا کر باہر پھینکتے ہوئے نادر کو اشارہ کیا تو اس نے جیب میں موجود ایک رسی کے ساتھ فٹافٹ جے باری کے ہاتھ باندھے اور اسے آفس میں دھکیل کر آفس کو باہر سے بند کر دیا۔۔۔میں جانتا تھا کہ شیڈز میں موجود گاڑیوں کے اندر کافی مقدار میں پٹرول ہو گا۔۔۔یہ پٹرول کمپنی کی طرف سے گاڑیوں کو آگے پیچھے حرکت دینے کیلئے گاڑیوں میں ڈالا جاتا ہے۔ میں نے نادر کو اشارہ کیا اور خود ایک طویل قطار میں موجود چند گاڑیوں کے بونٹ اٹھائے اور ان کی فیول لائنیں ایک پلاس کی مدد سے کاٹ دیں۔۔۔میری دیکھا دیکھی نادر بھی ایک دوسری قطار میں گھس کر یہی کاروائی دہرانے لگا۔۔۔جونہی ہم فیول لائن کاٹتے تھے پٹرول ایک باریک دھار کی شکل میں فرش پر بہنے لگتا تھا۔۔۔اگلے دس منٹ میں ہم لوگوں نے اس شیڈ میں موجود کم از کم بیس مختلف جیپوں کی فیول لائنز کاٹ دیں۔ پٹرول تیزی سے فرش پر بہنے لگا۔۔۔پٹرول کی بو یقیناً جے باری تک بھی پہنچ گئی ہو گی۔۔۔لیکن اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ کوئی سوال کرنے کی کوشش کرتا۔۔۔آفس کے قریب ہی مجھے موبل آئل سے بھرے ہوئے چند ڈرم بھی نظر آ گئے۔۔۔میں نے ان ڈرمز کے کیپ ہٹائے اور انہیں بھی فرش پر لڑھکا دیا۔۔۔دیکھتے ہی دیکھتے یہ موبل آئل بھی فرش پر پھیلتا گیا۔۔۔اب فقط ایک دیا سلائی دکھانے کی دیر تھی۔۔۔میں نے لیوگر ہاتھ میں سنبھالا اور آفس کا دروازہ کھولا۔۔۔جے باری کی آنکھیں دہشت سے پھیلی ہوئی تھیں۔۔۔میں نے لیوگر باری کی طرف سیدھا کرتے ہوئے کہا:سوری باری،، تم نے مجھ سے تعاون کیا ہے لیکن میں تمہیں زندہ نہیں رکھ سکتا۔ ************************ (57) پپ۔پلیز۔۔۔فار گاڈ سیک مجھے معاف کر دو۔۔۔میں قسم کھاتا ہوں کسی کو کبھی کچھ نہیں بتاؤں گا۔ لوگ کہتے ہیں کہ وعدے توڑنے کیلئے کیے جاتے ہیں اور جو وعدہ جو تم کر رہے ہو یہ تو ویسے ہی بڑا نا پائیدار ہے۔۔۔میں نہیں چاہتا کہ جاتے جاتے تم ایک نا پائیدار وعدہ کرو۔ ،،خدا حافظ میں نے ٹرائیگر دبا دیا۔گولی اس کی شہہ رگ چیرتی ہوئی سر کے عقب سے نکل گئی۔۔۔وہ الٹ کر ریوالونگ چئیر پر گرا اور زمین بوس ہو گیا۔۔۔اسے گولی مار کر میں نے اس کی موت کو آسان بنا دیا تھا۔۔۔ورنہ اسے بھی وسیع شیڈ اور اس میں موجود گاڑہوں کے ساتھ زندہ نظرِ آتش ہو جانا تھا اور یہ بڑی دردناک موت ہوتی۔۔۔شیڈ کے مین دروازے کے بلکل قریب کھڑے ہو کر میں نے دیا سلائی روشن کی۔۔۔پٹرول کی ایک لکیر بہتی ہوئی میرے بلکل قریب چلی آئی تھی۔۔۔میں نے دیا سلائی اس لکیر پر پھینک دی۔۔۔آگ بڑی تیزی سے اپنے سفر پر روانہ ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے چند سیکنڈز میں ہی قطار در قطار کھڑی جیپوں کے نیچے پھیل گئی۔ شعلے تیزی سے بلند ہوئے تو میں اور نادر جلدی سے مین گیٹ سے سلپ ہو کر باہر نکل گئے۔۔۔آگ دیکھتے ہی ایک دم ہر طرف ہاہاکار مچ گئی اور ہم نے درجنوں باوردی کارکنوں کو آگ کی طرف بھاگتے ہوئے دیکھا۔۔۔یہ افراتفری بھاگنے کیلئے بے حد موزوں تھی۔۔۔ہم احتیاط سے پیچھے ہٹتے گئے۔۔۔چند منٹ میں ہم آتشزدگی کے مقام سے دور محفوظ مقام تک پہنچ چکے تھے۔۔۔تبھی ہم نے ان گِنت دھماکوں کی آوازیں سنیں۔۔۔یہ ٹائر برسٹ ہونے اور پٹرول ٹینک پھٹنے کی آوازیں تھیں۔۔۔شیڈ میں بھڑکنے والے شعلے دیکھتے ہی دیکھتے چالیس پچاس فٹ کی بلندی تک چلے گئے تھے۔۔۔جے باری کی ٹیوٹا جیپ کی چابی اس کے اگنیشن میں ہی موجود تھی۔۔۔ہم فٹافٹ جیپ میں بیٹھے نادر نے جیپ سٹارٹ کی اور بھاگتے دوڑتے لوگوں کے درمیان سے ڈرائیو کرتا ہوا بڑی سڑک کی طرف نکل گیا۔ کچھ دیر بعد ہم ایک محفوظ جگہ پر پہنچ گئے۔۔۔ہمیں ٹھکانے پر پہنچانے کے بعد حنیف خان اور سردار علی گاڑیاں ٹھکانے لگانے چلے گئے۔۔ اگلے روز کے اخبارات میں پوائنٹ ون میں ہونے والی آتشزدگی کی خبریں شہہ سرخیوں کے ساتھ موجود تھیں۔۔۔گودام میں موجود چار شیڈز جل کر بلکل راکھ ہو چکے تھے۔۔۔ان میں موجود باقی اشیاء بھی راکھ کا ڈھیر ہو گئیں۔۔۔اس آگ نے کم و بیش چار سو گاڑیوں کو اسکریپ میں بدل دیا تھا۔۔۔ان خبروں کے ساتھ تین ہلاکتوں کی خبر بھی چھپی تھی۔۔۔اور پولیس کی طرف سے اس آتشزدگی کو مجرمانہ فعل قرار دیا جا رہا تھا۔ پوائنٹ ون کے عملے نے بیان دیا تھا کہ دو شخص رات گئے جے باری کے ساتھ گودام میں آئے تھے جن کے عادات و اطوار مشکوک تھے۔۔۔مخاطب امکان ہے کہ وہ دونوں شخص ہی اس المیے کے ذمے دار ہوں۔۔۔مجھے کامِل یقین تھا کہ اس المیے کے بعد صفدر سیال اپنی تمام مصروفیات چھوڑ کر پوائنٹ ون کا رخ کرے گا اور یہی میں چاہتا تھا اس کاروائی کا مقصد ہی یہی تھا۔۔۔میری توقع کے عین مطابق اگلے روز صبح سویرے صفدر سیال اپنے پانچ عدد باڈی گارڈز کے ساتھ پوائنٹ ون پر موجود تھا۔۔۔اور بھی کافی لوگ وہاں پہنچے تھے جو کہ نقصان کا جائزہ لینے آئے تھے۔ میں نے سردار اور حنیف خان کی ڈیوٹی لگا رکھی تھی کہ وہ صفدر کی آمد و رفت اور اس کی نقل و حرکت کا مکمل حساب رکھیں اور مجھے صورتحال سے آگاہ کریں۔۔۔صفدر کے پوائنٹ ون پہنچتے ہی انہوں نے خوش اسلوبی سے اپنا کام کرنا شروع کر دیا۔۔۔حنیف نے وہاں کسی کے ساتھ یاری گانٹھ لی تھی تا کہ صفدر کے آنے پر وہ اس کو پہچان کر اس کی تصدیق کر سکے۔۔۔اتنا تردد صرف اسی لیے کہ حنیف خان پہلے صفدر سیال کو نہیں جانتا تھا۔ ************************ (58) رات گئے تک وہ دونوں واپس نہیں آئے تو میں اور نادر کھانا کھانے کیلئے باہر نکل گئے۔۔۔ایک اعلیٰ درجے کے ہوٹل میں کھانا کھانے کے بعد ہم لوگ ٹیکسی کی تلاش میں باہر فٹ پاتھ کے ساتھ ساتھ چلنے لگے۔۔۔اسی وقت میں نے ہوٹل کے گیٹ سے کچھ دور ہوٹل کی دیوار کے ساتھ پھیلی ہوئی سبزے کی پٹی پر ایک انتہائی بوڑھے اور آٹھ دس سال کے بچے کو بیٹھے دیکھا۔۔۔ان کے جسموں پر میلے کچیلے جیتھڑے جھول رہے تھے۔۔۔وہ ہوٹل کے گیٹ سے نکلنے والی ہر گاڑی کے سامنے پر امید انداز میں ہاتھ پھیلا رہے تھے۔۔۔مگر ہر گاڑی ان کے قریب سے گزرتی چلی جاتی تھی۔ ہم بھی ان کے سامنے سے گزر گئے۔۔۔وہاں سے گزرتے وقت میں نے اس معصوم سے بچے کی آنکھوں میں جس طرح امید کے ستارے ٹوٹتے دیکھے اس نظارے نے یکلخت ہی گویا مجھے کسی اونچی چوٹی سے دھکیل دیا۔۔۔اگر وہ پیشہ ور بھکاری تھے تب بھی قابلِ رحم تھے۔۔۔رات کا پچھلا پہر اور شہر کا یہ کنارہ۔۔۔ان کے جسموں پر جھولتے ہوئے چیتھڑے،، پھر ان کی عمریں بھی تو کیسی تھیں۔۔۔ایک اتنا معصوم اور کم سن کہ ابھی اس کی آنکھوں نے محرومی اور آسودگی پر افسردہ ہونا بھی نہیں سیکھا تھا۔۔۔دوسرا اتنا ضعیف کہ زندگی کی مزید نا انصافیوں کو سہنے کی سکت اس میں منقعود تھی۔۔۔مگر جانے وہ کس قرض کو چکانے کیلئے اپنی آپ کو ایسے گھسیٹ رہا تھا۔ ان تمام سوچوں اور ساری کیفیت نے ایک لمحے میں مجھ پر غلبہ پا لیا اور مجھے خود احساس نہیں ہوا کہ کب میں نادر سے پیچھے ہٹ کر ان کے سامنے جا کھڑا ہوا۔۔۔ان کے چہروں کی لجاجت اور بے بسی دیکھ کر میرا جسم جیسے مزید سرد پڑ گیا۔۔۔عجیب بات یہ تھی کہ مجھے ان پہ ترس نہیں آ رہا تھا بلکہ میں ان سے اپنے آپ کو خوفزدہ محسوس کر رہا تھا جیسے میں ان کا مجرم ہوں۔۔۔میں نے اپنے بٹوے سے پانچ سو والے دو نوٹ نکال کر بوڑھے کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا یہ نوٹ لو اور فوراً یہاں سے اپنے گھر چلے جاؤ۔۔۔دو منٹ بعد میں تم لوگوں کو یہاں نہ دیکھوں۔۔۔بوڑھے نے کانپتے ہاتھوں سے نوٹ تھامے،، بے یقینی سے میری طرف دیکھا اور لرزتی ہوئی آواز میں بولا" اتنے پیسوں میں تو پورا مہینہ آرام سے گزر جائے گا جی۔۔۔اب مجھے یہاں بیٹھنے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔لیکن کیا آپ واقعی یہ رقم مجھے دے رہے ہیں۔ ہاں۔ہاں تمہیں ہی دے رہا ہوں۔۔۔شاید میں تمہارا مقروض ہوں۔جن آسائشوں پر میرا قبضہ ہے،، شاید ان میں کچھ تمہارا بھی حصہ تھا۔۔۔میں نے تیزی سے کہا،، اب فوراً یہاں سے روانہ ہو جاؤ۔۔۔اتنا کہہ کر میں پیچھے ہٹ آیا۔نادر فٹ پاتھ پر کھڑا میری طرف ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔میں بوجھل قدموں سے نادر کے پاس پہنچا اور بنا کچھ بات کیے ہم لوگ آگے چلنے لگے۔۔۔اسی وقت ایک خالی ٹیکسی نظر آ گئی۔نادر نے اشارے سے اسے روکا۔۔۔اگلے ہی منٹ میں ہم لوگ وہاں سے نکل رہے تھے۔ ہم لوگ گھر واپس پہنچے تو دیکھا کہ وہ دونوں بھی واپس آ کر کھانا کھا چکے تھے۔۔۔حنیف خان نے رپورٹ دی کہ صفدر سیال اپنے پانچ باڈی گارڈز کے ساتھ آیا تھا۔۔۔اور بھی کافی لوگ گاڑیوں میں بھر کر وہاں پہنچے تھے۔۔۔انتظامیہ کے بھی کافی لوگ تھے۔۔۔اب یہ تو نہیں جانتا کہ وہ تفتیش کو کس رخ پر چلا رہے ہیں۔۔۔لیکن صفدر بہت غصے میں بولتے ہوئے بات بات پر چلا رہا تھا۔ صفدر کی روانگی کے وقت وہ دونوں انتہائی احتیاط سے اس کے پیچھے ہو لیے اور اس کی رہائش گاہ دیکھ آئے۔۔۔کراچی کے ایک پوش ایریا گلشنِ اقبال ٹاؤن میں اس کی رہائش گاہ ہے۔۔۔یہ ایک کوٹھی نما مکان ہے جہاں ہر وقت گھریلو ملازمین کے علاوہ چار پانچ مسلح محافظ موجود ہوتے ہیں۔۔۔چونکہ کسی کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں ہو سکتی تھی کہ صفدر پر حملہ کیا جا سکتا ہے اس لیے ہم چاروں نے بنا ٹائم ضائع کیے پوری طرح مسلح ہو کر دو گھنٹے بعد ہی صفدر کی رہائش گاہ پر دھاوا بول دیا۔۔۔مجھے معلوم تھا کہ اس طرح کے لوگوں نے ایسی رہائشوں میں صدر دروازے کے آس پاس ہی سکیورٹی کا کیبن بنایا ہوتا ہے۔۔۔جہاں ہر وقت ایک یا دو محافظ موجود ہوتے ہیں۔حنیف کے ذمہ دروازہ کھلوانے کا کام لگایا گیا اور ہمارے اندر داخل ہو کر گاڑی سے باہر آنے تک ہمیں کور بھی اسی نے مہیا کرنا تھا۔چنانچہ پروگرام کے مطابق ہم لوگ صدر دروازے پر پہنچ گئے۔۔۔میں اور نادر گاڑی میں پچھلی سیٹوں پر دبکے ہوئے تھے جبکہ حنیف نے کال بیل بجانے کی بجائے آہستہ سے دروازہ بجایا تو توقع کے عین مطابق ایک منٹ بعد ہی گیٹ کی چھوٹی کھڑکی کھلی اور ایک غنڈہ ٹائپ آدمی نے سر باہر نکالا۔۔۔میں آہستہ سے سر اٹھائے اسی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔حنیف نے باہر نکلنے والے منہ پہ اپنے سیدھے ہاتھ سے ایک زور دار پنچ مارا تو وہ سر ایک دم اندر غائب ہو گیا۔۔۔گمان غالب یہی تھا کہ وہ بندہ اس زوردار پنچ کہ تاب نہ لاتے ہوئے الٹ کر اندر جا گرا ہو گا۔ اس کے ساتھ ہی حنیف اندر داخل ہو گیا۔عین اسی وقت نادر نے اپنی سائیڈ کا دروازہ کھولا اور تقریباً اڑتے ہوئے گیٹ تک پہنچا اور غڑاپ سے اندر غائب ہو گیا حالانکہ یہ ہمارے پروگرام کا حصہ نہیں تھا۔میں بے چینی سے پہلو بدلتے ہوئے نیچے اترنے کی سوچ ہی رہا تھا کہ اسی وقت صدر دروازہ کھلتا ہوا دکھائی دیا تو سردار نے گاڑی بڑھائی اور ہم اندر داخل ہو گئے۔۔۔اندر دو عدد محافظ اوندھے پڑھ ہوئے تھے جن کو حنیف اور نادر ساتھ موجود کیبن کی جانب کھینچ رہے تھے۔۔۔میں بنا کوئی وقت ضائع کیے گاڑی سے اترا اور اندرونی کمروں کی طرف بھاگا۔۔سامنے راہداری میں آمنے سامنے بلکل ہوٹل طرز کے کئی کمرے تھے۔۔۔ایک کمرے کے دروازے سے مجھے دو گارڈز نکلتے دکھائی دیے تو میں نے لگاتار دو بار ٹرائیگر دبایا ایک تو سر میں گولی کھا کر پٹ سے گرا جبکہ دوسرے کے منہ سے ایک چیخ بلند ہوئی۔۔۔جو کہ لازماً اندر دوسروں کمروں تک سنی گئی ہو گی۔چنانچہ مجھے اس پر ایک گولی اور ضائع کرنی پڑی۔۔۔ سائلنسر لگے ریوالور کی گولیوں سے ان دو گارڈز کو مار گراتے ہوئے چند منٹ میں ہی مختلف کمروں میں جھانکتا ہوا ایک عالیشان کمرے تک پہنچ گیا۔۔۔یہ کمرہ اندر سے لاک تھا۔میں نے دروازے کے لاک پر لیوگر کی نال رکھ کر ٹرائیگر دبایا تو لاک کے پرخچے اڑ گئے اور میں دروازے کو دھکیلتا ہوا کمرے میں داخل ہو گیا۔ ************************ (59) اندر ایک اٹھائیس تیس سال کا نوجوان لڑکا جو کہ لازماً صفدر ہی تھا کیونکہ اس کے خباثت بھرے چہرے کے نین نقش بلکل اپنے باپ مظفر سیال سے ملتے تھے۔۔وہ بیڈ سے اٹھنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔مجھے یوں گن اٹھائے اندر گھستے دیکھ کر وہ وہیں ساکت ہو گیا۔۔۔اس کی آنکھیں میں ابھی تک نیند کا خمار موجود تھا۔۔۔صاف پتہ چل رہا تھا کہ میرے اندر داخل ہونے پر اس کی آنکھ کھلی ہے۔۔۔مجھے دیکھ کر وہ چلایا،، اوئے کون ہو تم۔۔۔اس وقت تک میں کمرے کے درمیان میں پہنچ چکا تھا۔۔۔ابھی بتاتا ہوں کتے کے بچے،، میرا لہجہ دھیما تھا لیکن مجھے امید تھی کہ وہ اس لہجے کی تہہ میں سرسراتی ہوئی سفاکی کی لہر کو محسوس کر سکتا تھا۔ اتنی دیر تک میں جو کہ بیڈ کے پاس پہنچ چکا تھا میں نے اپنا ہاتھ گھمایا اور لیوگر کا دستہ پوری قوت سے اس کی کنپٹی پر مارا تو وہ تیورا کر وہیں گر گیا۔۔۔صفدر کو بدستور لیوگر کی زد میں رکھتے ہوئے میں نے تنبیہہ کی۔ اپنی جگہ سے ہلنا مت۔ یہ کہہ کر میں نے نظریں گھما کر کمرے کا جائزہ لینے کی کوشش کی تو مجھے اس کی آنکھیں دیکھ کر ادراک ہوا کہ صفدر کی آنکھوں میں موجود کینہ اسے چین نہیں لینے دے گا وہ لازمی قسمت آزمائی کرنے کی کوشش کرے گا۔۔۔عین اسی وقت صفدر یکلخت ٹوٹ جانے والے اسپرنگ کی طرح اچھل کر مجھ پر حملہ آور ہوا۔۔۔لیکن دوستو میں وہاں چھولے بیچنے تو نہیں گیا تھا کہ اس سے غافل ہو جاتا۔۔۔میں کاوا کاٹ کر گھوم گیا اور اس سے پہلے کہ وہ مجھ تک پہنچ پاتا میں نے ایڑھی پر گھومتے ہوئے ایک زور دار ٹھوکر اس کی ناف پر رسید کی۔۔۔اس کے منہ سے اوغ،، کی آواز نکلی اور وہ ابکائی لیکر دہرا ہو گیا۔۔۔اس کے ساتھ ہی میرا ہاتھ اتنی تیزی سے حرکت میں آیا کہ میں خود بھی حیران ہوئے بغیر نہیں رہ سکا تھا۔۔۔ لیوگر کے دستے نے ایک بار پھر پوری قوت سے اس کی کنپٹی پہ اسی جگہ کو بوسہ دیا جہاں چند لمحے پہلے ایک دفعہ وہ اپنی مہر لگا چکا تھا۔ اسی وقت نادر اور سردار علی اندر داخل ہوئے۔۔۔اندر کی سچویشن دیکھ کر سردار علی تو مطمئن ہوتے ہوئے باہر نکل گیا لیکن نادر میرے پاس ہی کھڑا ہو کر بولا۔۔۔ہٹ جا کمالے اینوں میں ویکھدا آں۔۔۔میں نے اسی وقت اس کو روکتے ہوئے کہا:نہیں نادر تم نہیں اس سے تو مجھے خود ہی حساب چکتا کرنا ہے۔۔۔میں چند لمحے وہیں کھڑا رہا۔۔۔صفدر اب بے حس و حرکت ہو چکا تھا۔۔۔میں نے آگے بڑھ کر اس کمرے کی تلاشی لینی شروع کر دی۔۔۔الماری کے ایک خانے میں کافی رقم اور سونے کی چند اینٹیں نظر آ گئیں۔۔۔یہ دیکھ کر نادر نے تکیے کا غلاف اتارا اور یہ سب غلاف میں ڈال لیا۔۔۔ہمارا مقصد چوری نہیں تھا بلکہ جسمانی نقصان کے ساتھ ساتھ مالی نقصان تھا۔ آخرکار مجھے اپنی ضرورت کی چیز مل ہی گئی۔۔۔ایک قلم اور راٹنگ پیڈ۔میں وہاں سے پلٹ کر واپس آیا۔۔۔صفدر کے پاس زمین پر بیٹھتے ہوئے میں نے بلکل راجو کی طرح ہی لیوگر کی نال اس کی گانڈ میں گھسائی اور ٹرائیگر دباتا چلا گیا۔۔۔ہر گولی کے ساتھ اس کے جسم کو جھٹکے لگتے گئے اور وہ شعور میں آنے سے پہلے ہی عدم بالا کو روانہ ہو گیا۔ آخرکار لیوگر سے ٹرچ ٹرچ کی آواز نکلی تو میں ایک گہرا سانس لیتے ہوئے وہیں زمین پر بیٹھ گیا۔۔۔میرا دل اس وقت نفرت سے لبریز تھا۔۔۔مجھے نہیں معلوم تھا کہ میرے ساتھ جو کچھ ہوا اس میں اس کنجر کا انفرادی طور پر کوئی حصہ تھا یا نہیں لیکن میری نفرت کو دوچند کرنے کیلئے یہی احساس کافی تھا کہ یہ اسی موذی سانپوں کا بیٹا ہے جن کا نام میں اپنے دشمنوں کی مختصر سی فہرست میں لکھ چکا تھا۔ صفدر کے جسم کو بیہوشی کے عالم میں ہی چند جھٹکے لگے تھے اور پھر وہ ساکت ہو گیا۔ ************************ (60) سوری ڈئیر صفدر۔۔۔،، میں نے زیرِ لب کہا:تمہارا قصور میری نظر میں صرف اتنا تھا کہ تم چوہدری مظفر سیال کے خاندان سے ہو۔۔۔لیکن تم نے ایک معصوم لڑکی اور اس کی ماں کو زبردستی داغدار کرنے کے بعد اسے اس کی کے ماں باپ کے ساتھ قتل کر دیا۔۔۔میں اگر تمہارے ساتھ یہ سلوک نہ کرتا تو ایک نہ ایک روز تم کسی اور کے ہاتھوں مارے جاتے۔ پھر میں دل ہی دل میں بولا:راجی تیرا بدلہ پورا ہوا۔ اس کے بعد میں نے ایک کرسی کھینچ کر میز کے پاس کی اور بیٹھ کر نہایت توجہ اور انہماک سے لکھنے لگا۔ چوہدری مظفر سیال!!! اپنے ایک نادیدہ دشمن کی طرف سے یہ تحفہ قبول کرو۔۔۔تم اپنے ایک بے ضرر دشمن کو مار کر بہت خوش ہوئے تھے نا۔۔۔تو سوچا کہ اسی خوشی کے موقع پر ہم بھی تھوڑی خوشی منا لیں۔ اس طرح تھوڑا حساب بھی ہلکا ہو جائے گا۔۔۔ بہت جلد میں تم تک پہنچوں گا اور میرا وعدہ رہا اس دفعہ تجھے ایسی ہستی کی لاش پیش کروں گا جو کہ تمہیں جان سے ذیادہ پیاری ہو گی۔۔۔اپنی حفاظت کیلئے تم جو کوئی بھی طریقہ اختیار کرنا چاہو۔۔۔مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔۔۔میں اپنا وعدہ پورا کرنے کیلئے تم تک پہنچوں گا ضرور۔۔۔!!! منتظر رہنا۔ اب تم شاید سمجھ نہ پاؤ کہ میں ہوں کون۔۔۔ایک بات یاد رکھنا۔۔۔میری طرف سے جو بھی لاش کا تحفہ ملے گا اس میں کوئی نیا سوراخ نہیں ہو گا۔۔۔پورے جسم پر صرف ایک ہی جگہ گولیوں کے نشان ہوں گے۔۔۔امید ہے کہ تم سمجھ چکے ہو گے کہ میں کون ہوں۔ خط لکھ کر میں نے تنقیدی زاویہ نظر سے ایک دفعہ خط کو پڑھا۔۔۔ٹھیک ہی لکھا گیا تھا۔۔۔اس خط سے وڈے چوہدری پر یقیناً وہی اثر ہوتا جو کہ میں چاہتا تھا۔۔۔وہ ورق میں نے پیڈ سے اتار کر صفدر کی لاش کے گریبان میں پھنسایا۔۔۔پھر ہم لوگ نہایت اطمینان بھرے انداز میں صفدر کی ہی ایک گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکل آئے۔۔۔راستے میں ایک پبلک فون بوتھ میں کھڑے ہو کر میں نے وڈے چوہدری کا نمبر ملایا تو چند گھنٹیوں بعد کسی نے فون اٹھا لیا۔۔۔ہیلو کون ہے بھئی؟ وڈے چوہدری صاحب کیلئے ایک پیغام ہے!!! میں نے آواز بدلنے اور لہجہ حتیٰ الامکان سپاٹ رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔ وڈے چوہدری صاحب کو جب تم میرا پیغام دو گے تو وہ خود ہی سمجھ جائیں گے کہ میں کون ہوں۔" میں نے سرد مہری سے کہا۔،، ان سے کہنا کہ کراچی میں صفدر سیال کی رہائش گاہ پر ان کیلئے ایک تحفہ موجود ہے۔۔۔جس قدر جلد ممکن ہو اسے وصول کر لیں۔۔۔اس سے پہلے کہ پولیس وہاں پہنچے۔۔۔چوہدری صاحب کم از کم ایک نظر اسے دیکھ لیں تو بہتر ہو گا۔۔۔کک۔کک کیا مطلب آگے سے وہ ہکلایا لیکن میں نے کال کاٹ دی۔ پھر ہم لوگ وہاں سے نکلے اور گھر کے پاس پہنچ کر ہم سب اتر گئے جبکہ سردار اس گاڑی کو کسی انسان جگہ پر چھوڑنے چلا گیا۔۔۔تاریک رات تھی اس لیے کسی کی بھی نظروں میں آئے بغیر ہم لوگ سلامتی سے گھر پہنچ گئے۔۔۔گھر آتے ہی نادر نے پیسوں اور سونے کی اینٹوں والا غلاف میری طرف کر دیا۔۔۔میں نے چند لمحے اسے دیکھا پھر اس میں سے نقد رقم نکال کر اس میں سے آدھی رقم اور سونے کی اینٹیں حنیف خان کے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ حنیف یہ سب تم اور سردار آپس میں بانٹ لینا۔ حنیف خان نے شکریہ کہہ کر وہ اپنے پاس رکھ لیا اور سردار کے واپس آنے پر میرے سامنے ہی اس مال کے دو حصے کر کے ایک حصہ سردار کے حوالے کر دیا۔۔۔اتنا سونا اور پیسے دیکھ کر سردار کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک ابھری جسے میں کوئی خاص نام نہیں دے سکا۔۔۔بہرحال ہم لوگوں نے آگے کا پروگرام سیٹ کیا اور اس کے بعد ہم سو گئے۔۔۔اگلی صبح دس بجے میں اور نادر وہاں سے ریلوے اسٹیشن پہنچ گئے۔ ************************
  5. لگ جا گلے کہ پھر یہ حسین رات ہو نا ہو۔ آہہہ۔۔۔اوہ۔۔۔یس۔۔۔یس۔۔۔فک می۔ ٹھاہ۔۔۔ٹھاہ۔۔۔ڈزن۔ڈزن۔۔کلاشن کوف کی ترتڑاہٹ۔ قیدی نمبر 121۔ اچانک ہی میری آنکھ کھل گئی۔ ************************* (1) رات بڑی سرد تھی۔۔۔یخ بستہ اور ہڈیوں میں اترتی ہوئی۔ دور کہیں مشرق سے بلند ہونے والا پندرھویں کا چاند دھیرے دھیرے تاریک آسمان پر بلند ہو رہا تھا۔۔۔جیسے کوئی گول ،سنہری، گیس بھرا غبارہ کسی بچے کے ہاتھ سے چھوٹ کر اوپر ہی اوپر اٹھتا جا رہا ہو۔ اٹک جیل کے کہنہ سال دروبام چاندنی میں نہاتے چلے جا رہے تھے۔۔۔جگہ جگہ آہنی سلاخیں چمک رہی تھیں۔۔۔اور بیرکوں کے گدلے فرش پر روشن لکیریں سی رینگ رہی تھیں۔۔۔وہی چاندنی جو باغوں میں، کھلیانوں میں، میدانوں میں اور پہاڑوں پر حسن حسن بن کر برس رہی تھی۔اس جیل میں اتری تو پوری جان سے سسک اٹھی تھی۔ میں نے اپنی بیڑیاں سنبھالیں اود فرشی بستر سے اٹھتے ہوئے جیل کا پھٹا پرانا۔ جوؤں اور کھٹملوں سے بھرا ہوا خاکستری کمبل اچھی طرح شانوں پر لپیٹ کر دیوار سے ٹیک لگائی اور بے خیالی میں سلاخوں سے باہر دیکھنے لگا۔ ابھی رات کا آغاز ہوا ہی تھا۔۔۔لیکن یوں لگتا تھا، سورج غروب ہوئے مدتیں گزر گئی ہوں۔۔اور مدتوں سے میں اسی طرح کوٹھری میں بیٹھا سلاخوں سے باہر جھانک رہا ہوں۔اور چاندنی میں یادوں کی بساط بچھا کر کسی نئی چال سے چاندنی کو ہرانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ جیل میں مشقت کے بعد سرِشام چار بجے ہی قیدیوں کو بیرکوں میں بند کر دیا جاتا تھا۔۔۔اس لیے رات قیدیوں کیلئے کچھ زیادہ ہی طویل ہو جایا کرتی تھی۔ اور ہجر کی راتیں تو ویسے ہی لامتناہی ہوتی ہیں۔ایسی ،،ہجر کی راتوں،،میں جب ساون، چاندنی یا بہار کی پیوندکاری ہو جاتی ہے تو ان کا درد بھی بیکراں ہو جاتا ہے۔انسان کے اندر آپوں آپ ہی غم کا کوئی سوتا پھوٹ نکلتا ہے اور وہ جذبات کے اظہار کے لیے بے چین ہو جاتا ہے۔ چلیں!!!میں آپ کو اپنی داستان سناتا ہوں۔ دوستو!!!میرا نام کمال پاشا ہے۔ عدالت نے مجھے اٹھائیس افراد کے قتل کے جرم میں بیس سال قیدِ با مشقت اور پھر سزائے موت سنائی ہے۔ اور میں پچھلے چند سال سے جیل میں اپنی سزا پوری کرتے ہوئے موت کا انتظار کر رہا ہوں۔ میں اس جیل میں کیسے پہنچا اور ایسے کیا واقعات پیش آئے جن کی وجہ سے مجھے یہ سزا ہوئی۔ یہ سب جاننے کیلئے آپ کو میرے ماضی کے دریچوں میں جھانکنا ہو گا۔ ************************* (2) اس وقت میری عمر چالیس سال ہے۔۔۔میرا بچپن لاہور کے قریب ایک قصبہ نما گاؤں ہنجروال چک اکتیس میں گزرا ہے۔۔۔اگر لاہور میں کوٹ رادھا کشن سے رائے ونڈ روڈ پر پتوکی کی طرف جائیں تو چھانگا مانگا سے پہلے میرا گاؤں آتا ہے۔ میرا گھرانہ کل ملا کر چار افراد پر مشتمل تھا۔۔۔میں کمال،میری بہن روبینہ،جس کو پیار سب سب لوگ بینا،بینا کہہ کر بلاتے تھے۔ میری والدہ جو کہ خالص گھریلو خاتون تھیں۔۔۔اور میرے ابا جان جن کا نام جلال پاشا تھا۔۔۔والد صاحب زمین داری کرتے تھے۔۔۔میں سولہ سال کا تھا جب میٹرک کر لیا۔ میٹرک تک تعلیم میں نے اپنے قصبہ میں ہی حاصل کی۔۔۔اس کے بعد میں اپنی زرعی اراضی جو کہ چند ایکڑ پر مشتمل تھی اس زمین پر پل پڑا۔ دن رات وہ محنت کی کہ بہت جلد ہی ہمارے کھیت لہلہانے لگے۔۔۔گھر میں پیسے کی ریل پیل ہوتی گئی۔ صرف دو سالوں میں ہی خوشحالی نے ہمارے گھر کا راستہ دیکھ لیا۔۔۔کھیتوں پر کام کرنے کیلئے چند ملازم رکھ لیے۔ جس کی وجہ سے اب میرے پاس کافی وقت بچ جاتا تھا۔ بچپن سے ہی مجھے نشانہ بازی کا شوق تھا اور یہی شوق مجھے شکار کے راستے پر لے گیا۔ اب فارغ وقت ملتے ہی میں اپنی بندوقڑیاں اٹھا کر دوستوں کے ساتھ نکل جاتا اور اپنے گاؤں یا آس پاس کے دوسرے دیہاتوں میں یا پھر چھانگا مانگا جنگل میں مرغابیاں گراتے رہتے۔ کیونکہ میں بچپن سے نشانہ بازی کے جنون میں مبتلا تھا تو نویں کلاس میں ہی والد صاحب نے مجھے شکار کیلئے رائفل لے دی تھی۔ ویسے بھی اس وقت ہمارے گاؤں اور آس پاس کے دیہاتوں میں سور لاتعداد پائے جاتے تھے۔۔۔ یہ سور آئے دن کسی نا کسی کی فصل اجاڑ کر رکھ دیتے تھے اس لیے انہیں مار بگھانے کیلئے اکثر خوشحال گھرانوں میں اسحلہ پایا جاتا تھا۔ میرے ابا جان کے پاس بھی ڈبل بیرل بندوق تھی۔۔۔وہ بھی اکثر میرے کام آتی تھی۔۔۔ہزار نصیحتوں کے بعد ابا جان نے مجھے میرے شوق کی خاطر ایک رائفل بھی خرید دی۔ میرا نشانہ بہت اچھا ہو چکا تھا۔۔۔مشکل سے مشکل نشانہ میں باآسانی لگا لیا کرتا تھا۔ دوسرا شوق مجھے باڈی بلڈنگ کا تھا۔۔۔اس زمانے میں جمنازیم وغیرہ تو ہوتے نہیں تھے۔۔۔اس لیے اس کام میں استعمال ہونے والی چند چیزیں میں نے لا کر اپنے پاس رکھی ہوئی تھیں۔۔۔اور بلاناغہ باڈی بلڈنگ کیا کرتا تھا۔ شام کے وقت گاؤں کے باہر سے گزرتی نہر میں تیراکی کرنا تو میرا محبوب ترین مشغلہ تھا۔ لہٰذا زندگی بڑی پیاری گزر رہی تھی۔۔۔شام کو گھر جانے کے بعد بہن کے ساتھ دنیا جہان کی باتیں کرنا اور قصے کہانیاں سنانا بھی روزانہ کا معمول تھا۔ میری بہن تھی ہی بڑی معصوم۔ بھرے بھرے جسم کی مالک۔ گاؤں کی صحیح الہڑ دوشیزاؤں کی طرح اس پر بھی حسن ٹوٹ کر برسا تھا۔ بینا مجھ سے چار سال چھوٹی تھی۔۔۔آٹھویں جماعت پڑھنے کے بعد اس نے تعلیم کو خیر باد کہہ دیا اور امی جان کے ساتھ گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹانے لگی۔ رات کا کھانا کھانے کے بعد امی اور بینا اپنے کمرے میں سو جاتے۔۔۔جبکہ ابا جان شروع سے ہی بیٹھک میں سوتے تھے۔اور میرا کمرہ گھر کے پچھواڑے میں تھا۔ ************************* (3) کہتے ہیں!!!جب جوانی آتی ہے تو اپنے ساتھ نئی امنگوں کی کہانیاں بھی لاتی ہے۔۔۔اکثر یاروں کے ساتھ مل کر وی سی آر پر سیکس فلمیں دیکھا کرتا تھا۔ پھر رات کو اپنے کمرے میں لیٹنے کے بعد مٹھ مار کر اپنے آپ کو سکون دیا کرتا تھا۔میرا لن چھ انچ لمبائی اور دو انچ چوڑائی کے ساتھ کسی بھی پھدی کے بخیے ادھیڑنے کیلئے کافی تھا۔ پر پھدی ملے تو تب نا۔ میرا تو وہ حساب ہو گیا تھا۔ نہ دل لگدا۔ نہ دا(داؤ) لگدا۔ میں ہر وقت کسی نا کسی لڑکی کو تاڑنے کی سوچتا رہتا پر کبھی عملاً ہمت نہیں پڑی۔۔۔پھر ایک دن میں باہر سے گھر آیا تو گھر میں ایک لڑکی کو دیکھا۔ وہ ننگے سر بینا کے پاس بیٹھی اس سے باتیں کر رہی تھی اور اس کا دوپٹہ اس کے پاس ہی چارپائی پر پڑا تھا۔ اس کا بھربھرایا جسم دیکھ کر میرے دل و دماغ میں بجلیاں سی کودنے لگیں۔۔۔اسے دیکھتے ہی میں اس کی زلفوں کا اسیر ہو گیا۔ ان کے پاس سے گزرتے وقت بینا نے مجھے سلام کیا تو مڑ کر جواب دینے کے بہانے میں نے اس لڑکی کو دیکھا تو یاد آیا کہ یہ تو چاچے فقیرے کی بیٹی چھیمو ہے۔ چاچے فقیرے کا گھر ہمارے پچھواڑے تھا۔۔۔آہاں!!!وہ میرے ابو کا بھائی وائی نہیں تھا۔۔۔بس ایسے ہی گاؤں کے سب لوگ اسے چاچا فقیرا کہتے تھے۔ چند سال پہلے کھیتوں میں کام کرتے ہوئے سانپ کے ڈسنے سے چاچا کی موت ہو گئی تھی۔۔۔چاچا نے ترکے میں دو عدد بیٹیاں چھوڑی تھیں۔ ایک نجمہ اور ایک چھیمو۔ نجمہ بڑی تھی اور اس کی شادی ہو چکی تھی۔۔۔چھیمو جوان تھی لیکن ابھی تک اس کی شادی تو کیا کہیں منگ بھی نہیں پڑی تھی۔۔۔چھیمو پر مجھے ذیادہ محنت نہیں کرنی پڑی۔۔۔چند دنوں کے آنکھ مٹکے کے بعد وہ خود ہی میری آغوش تک پہنچ گئی۔ بلکل ایسے کہ جیسے وہ خود پہلے سے سوچ کر بیٹھی ہو کہ فدوی لائن مارے اور وہ سواگت کرے۔ چھیمو کے گھر میں صرف چھیمو،اس کی ماں،اور چاچا فقیرے کا بوڑھا باپ یعنی چھیمو کا دادا رہتے تھے۔۔۔چھیمو کی ماں بے چاری سارا دن کام کرنے کے بعد رات کو تھک کر چارپائی پر گِر جاتی تو اسے کوئی ہوش نہ رہتا۔ اس وقت چھیمو چپ چاپ دیوار پھلانگ کر ہمارے صحن سے ہوتے ہوئے میرے کمرے میں آ جاتی۔ اب سوال یہ کہ وہ کیوں میرے کمرے میں آتی تھی؟میں کیوں نہیں جاتا تھا؟تو دوستو ان کا گھر بہت چھوٹا سا تھا۔۔۔تو وہاں کوئی مناسب جگہ نہیں تھی۔ اس لیے چھیمو کو ہی دیوار پھلانگنی پڑتی تھی۔ پہلے پہل تو جپھیاں اور چوما چاٹی تک بات رہی لیکن کب تک دو سلگتے جسم ایک دوسرے سے دور رہ سکتے تھے۔۔۔آخرکار چھیمو کی شلوار بھی اتر ہی گئی۔ اور میں اس کی پھدی سے اپنے لن کو سیراب کرنے میں کامیاب ہو گیا۔۔۔مجھے اچھی طرح یاد ہے وہ بدھ کی رات تھی۔۔۔چھیمو معمول کے مطابق دیوار پھلانگ کر میرے کمرے میں آئی اور آتے ہی مجھ سے لپٹ گئی۔ ہم دونوں نے اپنے منہ ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیے اور ایک دوسرے کی زبانوں کو چوسنے لگے۔ ************************* زبانیں چوستے چوستے کب کپڑے اتارے اور کس نے کس کے کپڑے اتارے کچھ پتہ ہی نہیں چلا۔ کچھ ایسے ہیجانی انداز میں یہ سب ہوا کہ میں چکرا کر رہ گیا۔۔۔مجھے ہوش تب آئی جب چھیمو میرے اوپر اکڑوں بیٹھے میرا لن اپنی پھدی کے اندر لیے اچھل رہی تھی۔ میں چھیمو کی گوری ٹانگوں کو تھام کر اسے تکنے لگا۔۔۔جو کہ میری چھاتی پر اپنے دونوں ہاتھ ٹکائے پوری رفتار سے اچھل رہی تھی۔ اس کے منہ سے تیز تیز سسکیاں برآمد ہو رہی تھیں۔آہ۔آہہہ۔اوہ۔افففف۔ لن اس کی گانڈ کی ہر اچھال پر ایسی زوردار ضرب کھاتا کہ میرے جسم کے تمام بال کھڑے ہو جاتے۔چھیمو کے بھاری بھاری ممے ہلتے اور آپس میں ہی ٹکرا کر اتھل پتھل ہو کر رہ جاتے۔ مموں کا اچھلنا تو ہیجان انگیز تھا ہی مگر اصل ہیجان چھیمو کے چہرے کے تاثرات تھے۔ جیسے ہی وہ اپنی گانڈ اچھال کر نیچے جھٹکا مارتی۔۔۔میرا لن پوری رفتار سے اندر جاتا اور لن کے اندر گھسنے سے پھدی میں جو رگڑ پیدا ہوتی,,اس رگڑ سے چھیمو چہرے کے تاثرات ایسے شو کرتی کہ جیسے میرا لن اس کی پھدی پھاڑ کر نکل جائے گا۔ میں بہت ذیادہ دیر اس کے سامنے ٹک نہیں پایا,,اس میں ذیادہ ہاتھ چھیمو کا ہی تھا۔۔۔وہ ایسے ہیجانی کیفیت میں خود کو چدوا رہی تھی کہ تھوڑی ہی دیر میں میرے مساموں سے جیسے دھواں نکلنے لگا۔ مجھے اس کی پھدی کے اندر اپنا لن پھولتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔پھر اچانک میرے لن سے منی کی دھاریں خارج ہونے لگیں۔۔۔میرے چھوٹنے کے ساتھ ہی چھیمو نے ہلنا بند کر دیا اور خود کو کس کے میرے ساتھ چمٹ کر کانپنے لگی۔ (4) چند منٹ بعد چھیمو ایک سائیڈ پر میرے ساتھ ہی چارپائی پر لیٹ گئی۔۔۔تھوڑی سی خاموشی کے بعد بولی۔۔۔کمال تمہارا لن بھی کمال ہے۔ بہت عرصے بعد ایسا تگڑا لن ہاتھ آیا ہے۔ میں اس کی بات سن کر حیرانی سے بولا کہ اس کا مطلب ہے کہ تم پہلے بھی مرواتی رہی ہو۔۔۔تو وہ دانت نکوستے ہوئے بولی۔۔۔ مرواتی رہی ہو کا کیا مطلب میں اکثر لن لیتی ہوں۔۔۔آج بھی شام کو ایک بڈھا لن میرے اندر گیا۔ لیکن میری گرمی نہیں نکال پایا۔۔۔اسے لیے تو میں آج اتنی گرم تھی۔۔۔میں نے جھٹ سے پوچھا کہ پہلے کس کس سے مروائی ہے اور آج والا بڈھا لن کس کا تھا۔ اچانک اسے جیسے کرنٹ سا لگا اور وہ خاموشی سے اٹھ کر کپڑے پہننے لگی۔ کپڑے پہن کر اس نے ڈوپٹہ اٹھایا تو میں نے پھر استفسار کیا کہ چھیمو تم نے میری بات کا جواب نہیں دیا۔ وہ میری طرف دیکھ کر شوخی سے بولی،تم چپ چاپ آم کھاؤ نا۔۔۔پیڑ کیوں گنتے ہو۔ اچھا اب میں نکلتی ہوں امی کو بخار ہے کہیں اٹھ ہی نہ جائے۔۔۔یہ کہہ کر اس نے میرے ہونٹوں کو چوما اور دروازے سے باہر نکل گئی۔ میں چند منٹ پڑا سوچتا رہا پھر کندھے اچکا کر کپڑے پہننے لگا کہ لن پر چڑھے مجھے اس سے کیا کہ چھیمو کہاں کہاں سے چدی ہے۔ مجھے صرف پھدی سے غرض ہونی چاہیے۔پہلے ہی سالوں بعد پھدی ملی ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ غیر ضروری سوالات کے سبب یہ پھدی بھی ہاتھ سے جاتی رہے۔۔۔کپڑے پہننے کے بعد میں سو گیا۔ اگلی رات پھر وہ آئی۔ پھر وہ روزانہ ہی آنے لگی۔ ہم دونوں بلاناغہ سیکس کرنے لگے۔ چند دن بعد ایک رات وہ ملنے آئی تو اس کے ممے چوسنے کے بعد جیسے ہی میں نے اس کی شلوار اتارنے کی کوشش کی۔چھیمو نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے روکتے ہوئے کہا۔ نہیں کمال آج نہیں میرے دن چل رہے ہیں۔ مجھے اس کی بات سمجھ نہیں آئی تو میرے پوچھنے پر اس نے مجھے تفصیل سے سمجھایا کہ کیسے ہر لڑکی کو مہینہ وار چند دن کیلئے خون آتا ہے۔ اور ان دنوں میں اگر سیکس کیا جائے تو بہت سی تشویشناک بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں۔ تو میں نے اپنا لن باہر نکال کر اس کے سامنے لہراتے ہوئے کہا کہ چھیمو اب اس کا کیا کروں۔۔۔یہ تو مجھے سونے نہیں دے گا تو چھیمو بولی،میں آج تجھے دوسرے طریقے سے فارغ کرتی ہوں بس دیکھتا جا۔ یہ کہہ کر اس نے مجھے چارپائی پر لٹا دیا اور خود میرے لن کے سامنے زمین پر اکڑوں بیٹھ گئی۔۔میں سمجھا کہ وہ میری مٹھ مارنے لگی ہے۔ پر اس نے جھک کر میرے لن کے ٹوپے کو اپنے منہ میں بھر لیا اور تیزی سے چوسنے لگی۔ میں ایک دم اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔۔فلموں میں تو یہ سب دیکھا تھا اور سوچتا تھا کہ گورے ہی یہ کام کرتے ہیں پر چھیمو ایسا کرے گی میں نے سوچا بھی نہیں تھا۔ چھیمو کے منہ میں جتنا لن آ سکا وہ اتنے ہی لن کو منہ میں لئیے چوپے لگاتی رہی۔ پہلی دفعہ میرے لن کو کسی منہ کا ذائقہ چکھنے کا موقع ملا تھا اس لیے صرف پانچ منٹ کے جاندار چوپوں کے بعد ہی میں کانپنے لگا۔ میں نے چھیمو کو اشارہ کیا تو اس نے اپنے ہونٹ اور مضبوطی سے بند کیے اور تیزی سے لن چوستی گئی۔چوستی گئی۔ چوستی گئی۔ یہاں تک کہ میں اچانک اس کے منہ میں ہی چھوٹ گیا۔۔۔ چھیمو میرا سارا منی اپنے حلق سے نیچے اتار گئی۔۔۔میں نے انتہائی حیرانگی سے پوچھا چھیمو یہ کام بھی کرتی ہو تو وہ بولی جانِ من سب چلتا ہے۔ میں نے پھر پوچھا کہ یہ سب کہاں سے سیکھا ہے تو وہ بولی اسی سے سیکھا ہے جس نے مجھے،،اتنا کہہ کر وہ پھر خاموش ہو گئی۔۔۔مجھے اس دن کی بات یاد آ گئی۔ میں نے اٹھ کر اسے گلے سے لگاتے ہوئے پوچھا کہ چھیمو یار بتا نا کہ یہ سب کہاں سے سیکھا پہلی بار کس نے تیری پھدی ماری کہاں ماری کیسے ماری۔ پھر کس کس نے ماری سب تفصیل سے بتاؤ۔ چھیمو نے بے چارگی سے میری طرف دیکھا اور دھیمے لہجے میں بولی۔۔۔کمال تم یہ جان کر کیا کرو گے۔ رہنے دو وہ بہت بڑے لوگ ہیں۔ کہیں بات منہ سے پرائی ہو گئی تو لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔۔۔پھر میرے بے تحاشہ اصرار پر وہ بولی کہ اچھا اب تو دیر ہو رہی ہے۔۔۔میں کل آؤں گی تو تمہیں سب بتاؤں گی۔میں نے اس سے وعدہ لیا تو وہ وعدہ کر کے چلی گئی۔ ************************* (5) اگلے دن صبح اٹھ کر میں زمینوں پر چلا گیا۔۔۔اب میری زمین دن رات محنت کے بعد چند ایکڑ بڑھ چکی تھی۔ پیسہ ہن کی طرح برس رہا تھا۔ ابا جان نے پاس ہی ایک احاطہ دیکھ کر خرید لیا تھا اور چند بھینسیں خرید کر پال لی تھیں۔ ملازم ہی آ کر بھینسوں کی رکھوالی کرتے اور ان کا دودھ دوہتے تھے۔۔۔پھر یہ دودھ لاہور شہر میں بھیج دیا جاتا تھا۔دودھ کا کاروبار بھی چل نکلا تھا۔۔۔زمینوں پر چکر مارنے کے بعد میں احاطے میں گیا۔ ملازم بھینسوں کیلئے چارہ تیار کر رہے تھے۔۔۔ابا جان دودھ نکلوا کر سپلائی کروانے جا چکے تھے۔۔۔میں احاطے میں ہی بیٹھ گیا۔۔۔ابھی بیٹھا ہی تھا کہ میرا بچپن کا دوست نادر احاطے میں داخل ہوا۔ مجھے دیکھ کر خوشی سے میری طرف بڑھا۔۔۔میں بھی اٹھ کر اس سے گلے ملا اور اسے اپنے پاس بیٹھنے کیلئے چارپائی پر جگہ دی۔ نادر ہمارے گاؤں کے وڈے زمیندار چوہدری مظفر سیال کے ساتھ ہوتا تھا۔۔۔کام وام تو کچھ خاص نہیں تھا بس اس کے کارندوں میں شامل تھا۔ سیالوں کے سب لوگ جدی پشتی زمیندار تھے۔اس گاؤں اور آس پاس کے چند گاؤں میں ان کی سینکڑوں ایکڑ زمین اور لاہور شہر میں بھی ٹرانسپورٹ کا کاروبار تھا۔ سیاسی لوگوں کے ساتھ بھی ان لوگوں کا اٹھنا بیٹھنا تھا۔۔تو ایسے بندوں کو ہمیشہ چند کارندوں کی ضرورت پڑتی ہے تا کہ رعب داب بنا رہے اور اگر کہیں پھڈا ہو جائے تو چیلوں چپاٹوں کی نفری لڑائی میں کام آوے۔ نادر ہنستے ہوئے بولا۔سناؤ جی چوہدری کمال پاشا صاحب کی حال چال نیں جناب دے۔ میں بھی اسی کی ٹون میں بولا:حال تے چال دونوں ای ٹھیک نیں نادرے۔۔۔توں سنا اج ادھر کداں چند نکل آیا۔ تو نادر میرے کندھے پر ہاتھ مار کر بولا:کجھ نئیں یار وڈے چوہدری صاحب لاہور گئے تے میں سوچیا چل بھائی نوں ای مل آئیے۔ میں گھر جا ریا سی تے تینوں اندر آندے ویکھ کے سدھا اندر ای آ گیا۔۔۔یہ کہہ کر نادرے نے پہلو بدلا اور اپنی ڈب سے ریوالور نکال کر مجھے دکھاتے ہوئے بولا۔ چھڈ گلاں نوں آ ویکھ یار نواں مال منگوا کے دتا چوہدری صاحب نیں۔ اٹھتیس بور دا ریوالور اے۔ میں نے ریوالور پکڑ کر چیک کیا۔۔۔خالص اسٹیل باڈی کا بنا ہوا تھا۔۔۔نہایت خوبصورت تھا۔۔۔میگزین میں گولیاں بھری ہوئی تھیں۔ میں نے اٹھ کر احاطے میں موجود کیکر کے درخت پر نظریں دوڑائیں تو مجھے اپنے مطلب کی ایک جگہ نظر آ گئی۔۔۔نادرے نے میری نظروں کا تعاقب کیا تو ہنستے ہوئے چارپائی سے اٹھ کر کیکر کے پاس جا پہنچا اور تھوڑا اونچائی کی طرف ایک ٹہنی پر کوئلے سے مارک بنا دیا۔ اونچائی پر اس لیے بنایا کہ کہیں نیچے چلائی ہوئی گولی کسی کو نقصان نا پہنچا دے۔۔۔ میں نے ریوالور والا ہاتھ سیدھا کیا۔ نشانہ باندھا۔ سانس باہر چھوڑتے ہوئے ٹرائیگر دبا دیا۔ ڈززز۔ کی آواز کی کے ساتھ گولی سیدھا مارک کے بیچوں بیچ جا لگی۔۔۔میں نے مسکراتے ہوئے ریوالور نادرے کی طرف اچھال دیا جسے اس نے ہوا میں ہی کیچ کر لیا۔ اچھا ہے نادرے بہت اچھا ہے۔ پھر ہم دونوں چارپائی پر جا بیٹھے۔۔۔اتنی دیر میں ملازم دو گلاس اور لسی کا جگ بھر کر لے آیا۔ کچھ دیر باتیں کرنے اور لسی پینے کے بعد نادرے نے ریوالور اپنی ڈب میں لگایا اور اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔چنگا ویرے ہن مینوں اجازت دے۔ تھوڑا گھر وی چکر لا لواں۔۔۔بھابھی میری راہ ویکھدی ہونی۔۔۔مجھ سے گلے مل کر نادر باہر نکل گیا۔۔۔اور میں بھی وہاں سے نکل کر اپنے گھر کی جانب چل پڑا۔۔۔ ************************* (6) نادر ایک گھبرو جوان تھا۔۔قد کاٹھ میرے برابر تھا۔۔۔بس جسامت میں مجھ سے تھوڑا بھاری تھا۔۔۔جبکہ میرا جسم قدرے چھریرا تھا۔ نادر کے ماں باپ برسوں پہلے فوت ہو چکے تھے۔۔۔اس کے باپ کو ایک رات اچانک دل کا دورہ پڑا تھا اور کسی قسم کی طبی امداد میسر آنے سے پہلے ہی وہ اجل کے حوالے ہو گیا۔۔۔نادر کی ماں اپنے شوہر کی موت کا صدمہ سہہ نا سکی اور دن بدن کمزور ہوتی گئی۔ پھر ایک رات گھر کے تینوں نفوس نادر۔۔۔اس کا بڑا بھائی جمیل اور اس کی ماں سونے کیلئے لیٹے۔۔۔سوئے تو تین تھے لیکن اگلی صبح جاگے صرف دو ہی۔۔۔نادر کی ماں بھی زندگی کے ہر دکھ سے نجات پا گئی۔۔۔ جمیل اس وقت محنت مزدوری کرتا تھا۔۔۔ماں کو دفن کرنے کے بعد جمیل نے اپنے بھائی نادر کی کفالت کا پورا حق ادا کیا۔۔۔جمیل کا نام اس کی شکل و صورت سے پوری طرح میچ کرتا تھا۔۔۔وہ واقعی مردانہ وجاہت کا نمونہ تھا۔۔۔انتہائی حسین و جمیل نین نقش کا مالک تھا۔ جمیل ہماری زمینوں پر ابا جان کا ہاتھ بٹاتا تھا۔۔۔پھر ایک وقت آیا جب ابا جان نے گاؤں کے بزرگوں کی مشاورت سے ساتھ والے گاؤں کے ایک محنت کش کی خوبصورت بیٹی سے جمیل کی شادی کر دی۔۔۔شادی کے بعد جمیل نے دگنی محنت کرنی شروع کر دی۔ اس وقت تک میں یعنی کہ کمال پاشا بھی میٹرک کر چکا تھا۔۔۔اور آپ اپنی زمینوں پر پل پڑا تھا۔۔۔جیسے جیسے پیسہ آتا گیا زمینیں بڑھتی گئیں اور اس منافع میں ہم اپنے ملازموں کو بھی مختلف حیلوں بہانوں کے ساتھ ان کی مدد کر کے حصہ دیتے رہے۔ جمیل کی آمدن بھی بڑھ چکی تھی۔۔۔اس وقت تک نادر بس گلیوں کوچوں میں آوارہ گردی ہی کرتا تھا۔۔۔چونکہ جمیل کا لاڈلہ بھائی تھا تو اس نے کبھی بھی نادر کو کسی کام کیلئے نہیں کہا تھا۔ شادی کے ڈیڑھ سال بعد ہی جمیل پر سعودیہ جانے کا خبط سوار ہوا۔۔۔اس نے تھوڑے تھوڑے بچا کر پیسے جمع کر کے رکھے ہوئے تھے۔ چنانچہ اس نے وہ سارا پیسہ لگا کر سعودیہ کا ویزہ لگوایا اور محنت مزدوری کر کے سہانے مستقبل کے خواب آنکھوں میں سجائے سعودیہ چلا گیا۔ پہلے ہی مہینے اس نے اچھے خاصے پیسے گھر بھیجے۔۔۔سب لوگ خوش تھے۔۔۔ لیکن زندگی نے جمیل کے ساتھ وفا نہ کی اور چند ہفتے بعد ہی کام کے دوران ایک حادثے میں وہ جاں بحق ہو گیا۔ نادر کو یہ اطلاع بہم میں نے ہی پہنچائی تھی۔۔۔کیونکہ اس وقت گاؤں میں ایک سیالوں کی حویلی اور دوسرا فقط ہمارا گھر تھا جہاں ٹیلی فون لگا ہوا تھا۔ سعودی سے جمیل نے ایک دو بار ہمارے گھر ہی کال کی تھی اور ہم نے کسی ملازم کو بھیج کر اس کی بیوی کو بلوا کر اس سے بات چیت کروائی تھی۔ ایک دن میں گھر میں ہی تھا کہ فون کی گھنٹی بجی۔۔۔میں نے کال ریسیو کی تو سعودی سے جمیل کی کمپنی کا کوئی آدمی تھا۔ اس نے بتایا کہ جمیل کی حادثے میں موت ہو گئی ہے۔۔۔چونکہ سعودیہ کا قانون ہے کہ اگر کوئی بندہ مقروض ہو اور مر جائے تو اس کو وہیں سعودیہ میں ہی دفنا دیا جاتا ہے۔ (7) چنانچہ جمیل کو بھی یہیں دفنا دیا گیا ہے۔۔۔میں نے کسی کو بتائے بغیر یہ اطلاع نادر کو دی تو نادر گھنٹوں میرے گلے لگ کر رویا۔ پھر اس نے ہاتھ جوڑ کر میری منت کی کہ جمیل کے مرنے کی بات ابھی میں کسی کو نہ بتاؤں۔۔۔موقع محل دیکھ کر وہ خود ہی اپنی بھابھی کو بتا دے گا۔ نادر اپنی بھابھی شمسہ سے بہت پیار کرتا تھا۔۔۔وہ بھی دیور کو بھائیوں کی طرح ہی چاہتی تھی۔ میں نے نادر کو چپ کروانے کے بعد کہا۔۔۔لیکن نادرے یار جدوں جمیل دا فون نئیں آوے گا تے سارے پریشان ہون گے اودوں کی کریں گا۔ نادر نے اپنا سر جھکا لیا۔۔۔چند منٹ سوچنے کے بعد اس نے سر اٹھایا اور بولا ویرے تو اک کم کر۔۔۔سدھا میرے گھر جا تے شمسہ نوں اطلاع دے چھڈ کہ اوتھے حادثہ ہو گیا تے جمیل بہت بری طرح زخمی ہویا اے۔ ہن اودا علاج چل ریا اے۔۔۔ڈاکٹراں دے مطابق پورے اک سال تک اودا علاج ہووے گا۔۔۔نالے اودا جبڑا وی ٹٹ چکیا اے۔۔۔اس لئی او فون تے گل نئیں کر سکدا۔ ہاں مہینے دو مہینے بعد میں جمیل الوں کوئی خط پتر لکھ کے شمسہ نوں دے چھڈیا کراں گا۔۔۔فیر آہستہ آہستہ موقع محل ویکھ کے اونوں دس دیواں گا۔ تیری مہربانی صرف ہا اک احسان کریں ساڈے تے کہ کسے نوں خبر نا ہووے اصل گل کی اے۔۔۔میں نے کہا:یار نادرے اے بہت مشکل کم اے۔ توں خود شمسہ نوں ہا ساری گل دس۔ باقی میں پردہ پائی رکھاں گا۔ نادر کے جانے کے بعد میں نے سوچا کہ جب شمسہ کو پتہ چلے گا تو وہ روتی ہوئی سیدھا امی کے پاس ہی آئے گی۔پھر کچھ سوچ کر میں نے ابو کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا۔۔۔اور جا کر ساری بات من و عن ابو کو بتا دی۔ ابو کو بھی جمیل کی موت کا سن کر بہت دکھ ہوا۔۔۔پھر ابو نے بھی کہا کہ ہاں پتر یہی کرنا چاہیے کہ پہلے شمسہ کو ذہنی طور پر تیار کرنا چاہیے۔ دو گھنٹے بعد ہی شمسہ روتی ہوئی نادر کے ساتھ ہمارے گھر پہنچ گئی۔۔۔ابو نے اسے حوصلہ دیا کہ پتر فکر نا کر سب ٹھیک ہو جائے گا۔ کچھ دنوں بعد ہی نادر نے وڈے چوہدری کے پاس ملازمت کر لی۔۔۔کیونکہ گھر کا نظام تو چلانا تھا۔۔۔اسی طرح وقت گزر رہا تھا۔۔۔مہینے دو مہینے بعد نادر مجھ سے جمیل کی طرف سے ایک خط لکھوا کر جس میں اپنی خیر خیریت اور علاج چل رہا ہے کا بتا کے اور ایک دو رومانی مکالمے لکھوا کر خط شمسہ کو دے دیتا تھا اور وہ بھلی مانس دن رات جمیل کی تصویروں کو دیکھتے ہوئے آس لگائے بیٹھی تھی کہ کب اس کا شوہر ٹھیک ہو کر واپس آئے گا۔ یہ تھی نادر کی ساری کہانی۔ ************************* (8) میں یہ ساری باتیں سوچتا ہوا گھر پہنچ گیا۔۔۔گھر جا کر دوپہر کا کھانا کھایا۔ باقی وقت اسی طرح بینا اور امی کے ساتھ دنیا جہان کی باتیں کرتے ہوئے گزار دیا۔ سرِشام ہی ابو گھر آ گئے۔ رات کا کھانا کھانے کے بعد سب اپنے اپنے کمروں میں سو گئے۔۔۔اور میں اپنے کمرے میں لیٹ کر چھیمو کا انتظار کرنے لگا۔ کل جب سے اس نے چوپا لگایا تھا۔۔۔اس کے منہ کے لمس کو یاد کرتے ہی میرا لن فٹافٹ کھڑا ہو جاتا تھا۔۔۔ابھی بھی میں اپنے بستر پر لیٹ کر شلوار اتارے لن کو پکڑ کر سہلا رہا تھا۔۔۔کچھ دیر بعد ہی کمرے کا دروازہ کھلا اور چھیمو اندر داخل ہوئی۔ چھیمو کے کمرے میں آتے ہی میں نے آگے بڑھ کر دروازہ بند کیا۔۔۔کنڈی لگا کر مڑتے ہی چھیمو کے ہونٹوں پر پل پڑا۔۔۔کبھی وہ میری زبان چوستی تو کبھی میں اس کی زبان چوستا۔ ساتھ ساتھ چھیمو نے میرے لن کو پکڑ کر اپنے نرم نرم ہاتھوں سے سہلانا شروع کر دیا۔ میں پہلے ہی کافی گرم تھا اوپر سے چھیمو کی اس حرکت نے مجھے اور گرم کر دیا۔۔۔میں نے کھڑے کھڑے چھیمو کی قمیض اتار کر پھینک دی اور ساتھ ہی اپنی قمیض بھی اتار دی۔۔۔چھیمو کو اپنے ساتھ کھینچتا ہوا چارپائی پر لے گیا۔۔۔میں نے نیچے لیٹ کر اسے اپنے اوپر کھینچ لیا اور اس کے ہونٹوں کو چوسنے لگا۔ اس کے ننگے پیٹ نے میرے لن کو دبایا ہوا تھا۔۔۔ہم دونوں ایک دوسرے کو شدت کے ساتھ کسنگ اور ایک دوسرے کی زبانیں چوس رہے تھے۔ چھیمو نے مجھے زور سے پکڑا ہوا تھا اور میرے اوپر چِپکی ہوئی تھی۔۔۔ہم دونوں کافی دیر تک ایک دوسرے کے منہ میں منہ ڈال کر ایسے ہی چوستے رہے۔ پھر چھیمو میرے اوپر سے ہٹ کر ایک سائیڈ پر لیٹ گئی اور میں اس کے مموں پر پل پڑا۔۔۔اس کے بھاری بھاری ممے میری نگاہوں کے سامنے تھے۔ میں نے اس کے نپلز کو کاٹنا اور چوسنا شروع کر دیا۔۔۔اب میرا لن پوری طرح سے اکڑ چکا تھا۔ میں سیدھا ہو کر لیٹتے ہوئے بولا۔۔۔چھیمو میری جان اس کا کچھ کر یہ بہت تنگ کر رہا ہے۔ تو چھیمو بولی ابھی لو میری جان۔۔۔اتنا کہہ کر وہ اٹھی اور گھوڑی سٹائل میں ہو کر اپنا منہ میرے لن کے پاس لے آئی اور اسے ہاتھ سے پکڑ کر میرے لن کے ٹوپے پر ایک کِس کی۔ پھر ٹوپی سے لیکر لن کے آخری حصے تک چومتی گئی۔۔۔کچھ لمحے ایسے ہی چومنے کے بعد اس نے اپنی زبان باہر نکالی اور میرے لن کے ٹوپے پر پھیری۔۔۔ساتھ ہی اس نے ایک ایسی حرکت کی کہ مجھے مزہ ہی آ گیا۔ اس نے اپنی زبان کی نوک سے میرے لن کے سوراخ کو گداگدانا شروع کر دیا۔۔۔چند لمحے بعد اس نے لن کے ٹوپے کو پوری زبان کے ساتھ چاٹنا شروع کر دیا۔۔۔ساتھ ساتھ وہ لن کی ٹوپی کو ہونٹوں میں پکڑ کر سوراخ کو اپنی زبان سے گدگداتی رہی۔ میں تو مانو مزے کی لہروں پہ سوار تھا۔ میں نے ہاتھ بڑھا کر اس کے چوتڑوں کو دبوچ کر اپنی طرف کھینچا تو وہ تھوڑا تِرچھی ہو گئی۔۔۔اب اس پوزیشن میں اس کی گانڈ میرے پہلو میں آ گئی۔ میں نے شلوار کے اوپر سے ہی اپنی ایک انگلی کی پور اس کی گانڈ کے سوراخ پر رکھ کر دباتے ہوئے پوچھا۔ چھیمو کیا کبھی گانڈ بھی مروائی ہے تو وہ بولی ہاں کمال یہ راستہ بھی کھلا ہے۔ پر جب تک میرے دن ختم نہیں ہوتے میں گانڈ بھی نہیں مروا سکتی۔۔۔کیونکہ پھدی میں تو پہلے ہی جلن ہو رہی ہے اور گانڈ مرواتے ہوئے بھی درد ہوتی ہے۔۔۔اور میں دونوں جگہ پر ایک ساتھ درد برداشت نہیں کر سکتی۔ یہ کہہ کر اس نے آہستہ آہستہ میرے پورے لن کو اپنے منہ میں لینا شروع کر دیا۔۔۔میرا لن موٹا اور لمبا بھی تھا تو چھیمو کیلئے پورا لن منہ میں لینا ممکن نہیں تھا۔ اس لیے جتنا ہو سکا وہ منہ میں لیکر چوپا لگانے لگی۔ اس کا منہ اتنا گرم اور چھوٹا سا تھا کہ میرا لن پھنس پھنس کر اندر جا رہا تھا۔۔۔چھیمو مسلسل میرے لن کے چوپے لگا رہی تھی۔۔۔پھر اس کی سپیڈ بڑھتی گئی۔ مجھے اپنے جسم کے سارے مسام پھولتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے۔۔۔اس نے مزید دو منٹ تک میرے لن کے شاندار چوپے لگائے۔ مجھے لگا کہ بس اب میرا پانی نکلنے ہی والا ہے تو میں نے اپنے دونوں ہاتھ بڑھا کر اس کے بال پکڑے اور اپنی گانڈ چارپائی سے تھوڑا اوپر اٹھا کر اپنا جسم کا وزن اپنے پیروں پر ڈالتے ہوئے پوری رفتار سے اس کے منہ کو ہی چودنا شروع کر دیا۔ اس کے منہ سے اوغ،،اوغ،، کی آوازیں نکلنے لگیں لیکن میں ہر چیز سے بے نیاز جھٹکے مارتا گیا۔۔۔میرے ہر جھٹکے پر میرا لن اس کے حلق سے جا ٹکراتا۔ آخری جھٹکا میں نے جان سے مار کر اس کے سر کو اپنے لن پر دبا دیا تو میرے لن کا ٹوپہ اس کے حلق میں جا پھنسا اور وہیں میرے لن نے ہار مان لی۔ منی دھاروں کی شکل میں اس کے حلق میں بہتا جارہا تھا۔۔۔فارغ ہونے کے بعد جیسے ہی میں نے اس کے سر سے اپنا ہاتھ اٹھایا۔ اس نے ایک جھٹکے سے اپنا منہ اوپر اٹھایا اور کھانسی ہوئی اپنا منہ تکیے میں دبا لیا۔۔۔مباداً آواز باہر نہ چلی جائے۔۔۔دو منٹ بعد وہ معمول پر آ چکی تھی۔ (9) میں نے اسے کھینچ کر اپنے ساتھ لٹاتے ہوئے پوچھا۔۔۔چھیمو میرا یوں کرنا تمہیں برا تو نہیں لگا۔۔۔تو وہ میرے سینے میں اپنا سر دھنساتے ہوئے بولی۔ کمال تمہارا کچھ بھی مجھے برا نہیں لگتا اور ویسے بھی میں تو اس سب کی عادی ہو چکی ہوں۔۔۔میرے ساتھ یہ کونسا پہلی بار ہوا ہے۔ میں اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے بولا۔۔۔چھیمو تم نے وعدہ کیا تھا کہ سب بتاؤ گی کہ۔تو وہ میری بات کاٹتے ہوئے تیزی سے بولی،،ہاں بابا ہاں،،مجھے یاد ہے۔ لیکن کمال میں پھر کہتی ہوں کہ باز آ جاؤ یہ سب جاننا تمہارے لیے ٹھیک نہیں ہو گا۔۔۔میں بھی ضدی لہجے میں بولا ارے کچھ نہیں ہو گا۔ تو وہ کچھ دیر خاموش رہی پھر اس نے اپنا منہ اوپر اٹھایا اور جیسے خلا میں تکتی ہوئی بولی:یہ آج سے اڑھائی سال پہلے ان دنوں کی بات ہے کہ جب وڈے چوہدری سیال کی سب سے پہلی بیوی کے سب سے بڑے بیٹے نور سیال کی شادی کے دن رکھے گئے تھے۔ میں نے اسے روکا پہلے یہ بتاؤ کہ کیا تم یہ سیالوں کی فیملی کو جانتی ہو تو وہ انتہائی نفرت انگیز لہجے میں بولی۔۔۔میں ان کنجروں کے پورے خاندان کو جانتی ہوں۔۔۔یہی سیال تو میری بربادی کی وجہ بنے ہیں۔ چوہدری مظفر سیال وڈا زمیندار ہے۔ یہی شیطان ابنِ شیطان ہے۔ اس کا ایک چھوٹا بھائی بھی ہے شیطان کا جانشین چوہدری ظفر سیال۔۔۔دونوں بھائی ایک نمبر کے عیاش اور سفاک انسان ہیں۔۔۔اور یہی سارے گن آگے ان کی اولادوں میں بھی ہیں۔ وڈے چوہدری نے تین شادیاں کی ہیں۔۔۔اس کی پہلی دو عورتیں مر چکی ہیں۔۔۔ایک سانپ کے کاٹے سے مری اور دوسری کار ایکسیڈنٹ میں ماری گئی۔ تو میں بتا رہی تھی کہ نور سیال کی شادی کے دن رکھے گئے تو حویلی کی طرف سے آس پاس کے چند گھروں کو کہلوایا گیا کہ شادی کے کاموں میں ہاتھ بٹانے کیلئے اپنی لڑکیوں کو بھیج دو۔۔۔وہ سارا دن حویلی میں کام کریں گی اور رات کو واپس جانا چاہیں تو گھر جا سکتی ہیں نہیں تو ان کے وہاں سونے کا بھی انتظام کر دیا جائے گا۔ میں جنم جلی بھی حویلی اور حویلی والوں کی شان و شوکت دیکھنے کیلئے ان کے بلاوے پر چلی گئی۔ حویلی کے مہمان خانے کا سارا انتظام ہم دو لڑکیوں کے ذمہ لگایا گیا۔ ایک میں تھی اور ایک خوبصورت لڑکی جس کا نام رضیہ عرف راجی ہے۔ وہ پہلے سے ہی وہاں موجود تھی۔۔۔وہ لڑکی بھی ساتھ والے گاؤں کے ایک کسان کی بیٹی ہے۔۔۔اور آج کل اس حویلی میں ہی بظاہر خادمہ کی حیثیت سے کام کر رہی ہے۔ جبکہ اصل میں وہ سیالوں کے لن ٹھنڈے کر رہی ہے۔۔۔ہمیں وہاں آنے والے مہمانوں کی مہمانداری کیلئے مخصوص کیا گیا۔۔۔وہاں جاتے ہی وہاں موجود ایک ملازم نے ہمیں رسیو کیا اور مہمان خانے میں جانے سے پہلے اپنے ساتھ ایک کوارٹر میں لے گیا۔ کوارٹر میں لے جا کر اس نے ہم دونوں کو نئے سوٹ دیے اور کہا کہ اچھی طرح نہا دھو کر یہ پہن لو۔ وڈے چوہدری صاحب بہت نفاست پسند انسان ہیں۔۔۔وہ اپنے آس پاس کسی قسم کی گندگی پسند نہیں کرتے۔ تم دونوں باری باری اس واش روم میں جا کر نہا لو اور اپنے پرانے کپڑے اتار کر یہ حویلی والے نئے کپڑے پہن لو۔ یہ کہہ کر اس نے کمرے کے ساتھ موجود واش روم کی طرف اشارہ کیا۔ پھر باہر جاتے جاتے بولا کہ اپنے کپڑے طے کر کہ یہیں الماری میں رکھ دینا۔۔۔یہاں سے جاتے وقت یہ نئے سوٹ تم دونوں کے ہی ہوں گے۔۔۔جاتے ہوئے اپنے پرانے کپڑے بھی یہیں سے اٹھا لینا۔ اب جلدی جلدی تیار ہو جاؤ میں یہیں باہر ہی موجود ہوں۔۔۔پھر تم دونوں کو مہمان خانے میں پہنچا دوں گا۔ ہم دونوں جلدی سے تیار ہوئیں اور باہر نکل آئیں۔۔۔وہ آدمی ہم دونوں کو لیکر ایک ہال نما کمرے میں داخل ہوا۔۔۔کمرے میں ہر طرف بیش قیمت فرنیچر سجا ہوا تھا۔۔۔ایک عالیشان بیڈ اور سامنے پڑی ہوئی خوبصورت کرسیاں۔۔۔سامنے دیوار کے ساتھ ٹرالی پر بڑا سا ٹی وی اور وی سی آر بھی پڑا ہوا تھا۔ ہمیں کرسیوں پر بٹھا کر وہ آدمی باہر چلا گیا۔۔۔ہم دونوں اس شان و شوکت کو دیکھ کر مرعوب ہو رہی تھیں۔۔۔اسی وقت دروازہ کھلا اور دو نوجوان اندر داخل ہوئے۔۔۔بعد میں پتہ چلا کہ ان میں سے ایک کا نام نور سیال اور دوسرا اس کا چھوٹا بھائی راجو سیال تھا۔ (10) دونوں سیال زادوں نے ہمارے پاس آ کر ہم سے چھیڑخانی کرنا شروع کر دی۔۔۔میں اس وقت سمجھی کہ ہم دونوں ایک ایسے جال میں پھنس گئی ہیں۔۔۔جہاں سے نکلنا اب نا ممکن نظر آ رہا ہے۔۔۔مختصراً سیال زادوں کے ہاتھوں آج ہماری عزت کا جنازہ نکلنے والا ہے۔ ان دونوں نے ہم دونوں کو دبوچ لیا۔۔۔ہم دونوں چیختی چلاتی رہیں پر جتنا ہم چلاتی تھیں۔ اتنا ہی وہ قہقہے لگاتے تھے۔۔۔دونوں سیال زادوں نے اپنے کپڑے اتار کر ایک طرف اچھال دیے۔۔۔پھر نور سیال نے مجھے اٹھایا اور راجو نے دوسری لڑکی راجی کو۔۔۔ہم دونوں کو بیڈ پر پٹخ کر ہمارے کپڑے پھاڑ ڈالے۔ میں نے مزاحمت کرنے کی کافی کوشش کی لیکن نور سیال نے میرے چہرے پر طمانچے مارے اور مجھے ڈرایا دھمکا کر چپ کروا دیا۔ میرے کپڑے اترتے ہی وہ پاگلوں کی طرح میرے مموں پر ٹوٹ پڑا۔۔۔ممے چوسنے کے ساتھ ساتھ اس نے جانوروں کی طرح مموں کو کاٹنا شروع کر دیا۔۔۔میں تکلیف سے مچلتی رہی۔۔۔دوسری طرف راجی بھی اسی عذاب سے گزر رہی تھی۔۔۔پھر نور سیال نے میرے سر کے پاس آ کر اپنا موٹا ڈنڈے جیسا لن میرے منہ کے پاس کر دیا۔۔۔اور مجھے لن کو منہ میں لینے کو کہا۔ مجھے انتہائی گھِن آئی میں نے انکار کرنے کی کوشش کی تو اس نے نہیں کے انداز میں میرا سر ہلتے ہی ایک زوردار تھپڑ میرے منہ پر رسید کر دیا۔ میں روتے ہوئے کہہ رہی تھی کہ مجھے چھوڑ دو مجھے گھر جانا ہے۔۔۔تو وہ غراتے ہوئے بولا کہ چپ چاپ میرے حکم پر عمل کرو۔ ورنہ گھر سے تیری ماں کو بھی یہیں اٹھا لائیں گے۔۔۔پھر ماں بیٹی ایک ساتھ چدواؤ گی۔ یہ سن کر میں ڈر سے کانپ اٹھی۔۔۔پھر اس نے دوبارہ اپنا لن میرے ہونٹوں پر رگڑنا شروع کر دیا اور زور زور سے چلانے لگا۔ کھول اپنا منہ جلدی کر۔ میرا لن چوس،،رنڈی کی بچی،، میں نے بے چارگی سے اس کے لن کی ٹوپی منہ میں لی تو مجھے انتہائی گندی بدبو محسوس ہوئی۔ میں نے سانس روک کر اس کا لن منہ میں لے کر چوسنا شروع کر دیا۔۔۔اس کا لن میرے منہ میں جاتے ہی وہ بڑے پیار سے میرے سر پر ہاتھ پھیرنے لگا اور بولا شاباش ایسے ہی میری ہر بات مانو اور مجھے اچھی طرح سے مزہ دو گی تو کچھ نہیں کہوں گا بلکہ انعام واکرام دے کر یہاں سے واپس جانے کی اجازت دوں گا۔ کچھ دیر لن چسوانے کے بعد اس نے مجھے بیڈ پر لٹایا اور دوبارہ سے میرے مموں کو چوستے ہوئے اپنے ایک ہاتھ سے میری پھدی کو مسلنے لگا۔۔۔ساتھ ہی اس نے بیڈ پر پڑی ایک بوتل اٹھائی اور اس میں سے تیل نکال کر تھوڑا سا میری پھدی پر گرایا اور پھر اپنے دائیں ہاتھ سے میری پھدی کو مسلنا شروع کر دیا۔ میری آنکھیں بند تھیں اور ان سے لگا تار آنسو بہہ رہے تھے۔۔۔اسی وقت مجھے اس دوسری لڑکی راجی کی تیز چیخ سنائی دی۔ میں نے گردن موڑ کر دیکھا تو راجو نے اس کی ٹانگیں اپنے کندھے پر رکھی ہوئی تھیں اور تیز تیز جھٹکوں کے ساتھ وہ اپنا لن لڑکی کی پھدی میں اندر باہر کر رہا تھا۔۔۔اسی دوران اچانک مجھے اپنی پھدی پر پریشر پڑتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔مجھے ایسا لگا کہ جیسے آرے کے ساتھ میری پھدی کو چیرا جا رہا ہو۔ نور سیال کا لن میری پھدی کی دیواروں کو چیرتا ہوا اندر گھستا چلا جا رہا تھا۔۔۔میں نے بلکتے ہوئے نیچے سے نکلنے کی بہت کوشش کی لیکن نور سیال نے مجھے اپنے طاقتور بازوؤں میں جھکڑا ہوا تھا۔ ایک زوردار جھٹکے سے اس کا لن جڑ تک میری پھدی میں غائب ہو چکا تھا۔۔۔میرے منہ سے فلک شگاف چیخیں نکلنے لگیں۔۔۔مگر وہ حرام کا جنا ہر چیز سے بے نیاز میری پھدی میں اپنا لن ڈالے جھٹکے مارتا رہا۔ اس کے ہر دھکے پر مجھے اپنی پھدی میں دھماکے ہوتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے۔۔۔میرے سارے جسم میں درد کی لہریں پھیلتی جا رہی تھیں۔ چند منٹ تک ایسے ہی جھٹکے برداشت کرنے کے بعد نور سیال کے جھٹکوں میں اور تیزی آ گئی اور پھر اچانک نور سیال مجھے چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا اور مجھے الٹی کر کے اپنی سارا گرم گرم منی میری گانڈ کے اوپر نکال دیا۔۔۔ *************************

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.