Leaderboard
-
AnjoCow
Cloud Premium12Likes1,368Posts -
Gujjar*123
Active Members6Likes473Posts -
ثقلین شاہ
Previous Members6Likes143Posts -
Hardtarget
Previous Members5Likes78Posts
Popular Content
Showing most liked content on 20/07/23 in all areas
-
ضمیر فروش
1 likeاپڈیٹ 2 میں ایک طویل سانس لے کر چپ ہو رہا۔ اس اثنا میں ویٹر چائے سرو کر چکا تھا۔ پھر ذرا دیر میں ڈرائیور بھی آگیا۔ صبا نے میرا شکریہ ادا کیا اور اپنی خراب کار کی چابیاں ڈرائیور کے حوالے کر کے اپنے پاپا کی کار میں روانہ ہوگئی میں ڈھیلے ڈھالے قدموں سے اپنی جیپ کی طرف بڑھ گیا۔ صبا سے اس مختصر ملاقات نے مجھے کافی مایوس کیا تھا۔ مگر میں ابھی نا امید نہ ہوا۔۔۔۔۔ اس دن لیفٹینٹ ذیشان نے مجھ سے گھر فون پر رابطہ کیا۔ " کیا ہوا کیپٹین صاحب ... کیا صبا سے ملاقات ہوئی یا ابھی تک صرف سوچا ہی جا رہا ہے؟" "ہاں یار! ہوئی تھی ملاقات میری """" اچھا۔ اس کے لہجہ میں غیر یقینی تھی۔ تو پھر کیسی رہی ملاقات؟" " کچھ خاص نتیجہ نہ نکلا میں نے کہا ۔ لیکن مجھے کچھ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صبا کچھ نہ کچھ جانتی ہے؟" " تم نے کیسے اندازہ لگایا؟" "اس کے اچانک گفتگو قطع کرنے سے...." "ہوں" اس نے پر سوچ ہنکاری بھری۔ ایک اور کوشش ٹرائے آگین ٹرائے.. "میرا خیال ہے. وہ کچھ بتانا نہیں چاہتی وہ چڑ جائے گی۔" "اگر ایسا ہے تو پھر کیپٹن صاحب سمجھ لینا کہ دال میں کچھ کالا ہے" "یار... ذیشان ! مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے کہ دونوں باپ بیٹی سلطان جہانزیب جیسے خبیث آدمی کے سامنے مجبور ہوں .... میں نے کہا...۔ "آف کورس" ... ذیشان بلا تامل بولا۔ اور مجبوری بھی ایسی کہ وہ کسی سے شیئر بھی کرنا نہ چاہتے ہوں۔“ "ایگز یکٹلی کو ریکٹ "...۔ میں نے کہا۔ "ویسے میرے ذہن میں خیال یہ تھا کہ کہیں سلطان جہانزیب نے صبا کے باپ سیٹھ اصغر کو بھی تو نہیں اپنے ساتھ ملالیا ہاں ایسا ممکن ہو سکتا ہے تو کیا صبا کو بھی معلوم نہ ہوگا۔" میں نے کسی خیال کے تحت کہا۔ "May be"... وہ بولا۔ "میرا خیال ہے. ہمیں خود ان دونوں پر نظر رکھنا ہوگی۔" "سیٹھ اصغر اور سلطان جہانزیب پر ؟" میں نے پوچھا۔ "ہاں" یار میں چاہتا ہوں صبا کی . جمشید سے منگنی یا پھر کم از کم نکاح سے پہلے پہلے جہانزیب کا اصل چہرہ آشکارا ہو جائے "میں نے دانت بھینچ کر کہا۔.. " لو.... یہ کام اتنا آسمان اور ترنت ہونے والا ہوتا تو اب تک ہو چکا ہوتا "وہ بولا۔ "یار تم میری مدد کرنے یا ہمت بندھانے کے بجائے مجھے بے حوصلہ کیوں کر رہے ہو؟" میں نے زچ ہو کر کہا۔ ... وہ مسکراتے لہجے میں بولا۔۔۔۔"بڈی ! میں تو حقیقت بیان کر رہا تھا۔ میں تمہارے ساتھ ہوں حکم کرو" ." ہاں یہ ہوئی نا بات" میں نے خوش ہو کر کہا۔ ۔۔۔ "تم ایک کام کرو صبا اور جمشید کو ٹریس کرنے کی کوشش کرو۔ میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ ان دونوں میں کس حد تک ذہنی و دلی ہم آہنگی ہے۔" "اس سے کیا پتہ چلاؤ گے" ذیشان نے پوچھا۔۔۔۔ "میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ آیا صبا کی جمشید سے کسی حد تک انڈرسٹینڈنگ ہے۔ تم نے بغور ان دونوں کے باہم انداز و اطوار اور میل جول پر نظر رکھنا ہوگی۔" " اور حکم ذیشان دوستانہ سعادت مندی سے بولا۔۔۔۔ " "بس یارا... یہ مہربانی کردو" "ارے مہربانی کیسی یہ تو میرا فرض ہے. بلکہ یہ تو ہر عام شہری کا فرض ہے کہ وہ ملک دشمن عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے کا عزم اپنے دل میں ہمہ وقت رکھے۔" "ویری گڈ... ذیشان !" میں جذبات سے لبریز ہو کر خوشی سے بولا۔۔۔۔"میں نے بھی یہ پختہ عزم کر رکھا ہے کہ ... سلطان جہانزیب کا چہرہ بے نقاب کر کے ہی رہوں گا۔ میں نے عزم مصم کے ساتھ رہا۔" "وطن کا یہ ادنی خادم تمہارا یار غار تمہارے ساتھ ہے۔...." ذیشان نے کہا۔" مگر پھر دوسرے ہی لمحے ذرا سنجیدگی سے بولا۔ "یار عمران ! ذرا محتاط رہنا۔ تم تو جانتے ہو گے کہ یہ سلطان جہانزیب کتنا خطر ناک آدمی ہے.میجر افتخار کا حشر تمہارے سامنے ہے۔ آج تک اس کا پتہ نہ چل سکا۔" " ہاں میں جانتا ہوں۔" میں نے کہا اور پھر بائے کہہ کر رابطہ منقطع کر دیا۔۔۔۔ سلطان جہانزیب گلبرگ کے علاقے میں رہتا تھا۔ وہاں اس کی عالیشان کوٹھی تھی۔ میں اپنی اس مہم میں دو باتوں کا خاص طور پر خیال رکھنا چاہتا تھا۔ نمبر ایک کہ اپنی مخصوص آرمی جیپ کا استعمال اس فہم کی حد تک قطعا نہ کروں نمبر دو اصل چہرے کے بجائے ریڈی میڈ میک اپ میں اس مہم کو انجام تک پہنچانے کی کوشش کروں۔ مہم کا آغاز ... میں نے رات سے کیا۔ اپنے کمرے میں میں نے با قاعدہ ایک ریڈی میڈ میک اپ کٹ تیار کی ۔ اس کے بعد چہرے پر ہلکی پھلکی لیپا پوتی کرنے کے بعد میں نے اپنا پستول سنبھالا اور رات کے دس بجے گلبرگ کے علاقہ کی طرف روانہ ہو گیا۔ میرے ہمراہ اقبال عرف بالا بھی تھا۔ ایک بس کے ذریعے ہم گلبرگ پہنچے۔ پھر پیدل ہی آگے بڑھ گئے۔ پھر اپنے مطلوبہ بلاک والے راستے پر چلتے ہوئے میں سلطان جہانزیب کی عالی شان کوٹھی کے سامنے سے گزرنے لگا۔ اندر وسیع لان سے جھانکتے بلند و بالا سفیدے اور یوکلپٹس کے درخت صاف نظر آ رہے تھے۔ آہنی گیٹ کے دونوں طرف سنگ مرمر کے چوکور ستونوں پر دودھیا گلوب روشن تھے ۔ گیٹ کے باہر بائیں طرف گارڈز کیبین نظر آ رہا تھا۔ خشت ارغواں سے بنی ہوئی یہ کوٹھی صرف ایک منزلہ تھی مگر اس کا رقبہ خاصا وسیع تھا۔ کوٹھی پر ویرانی کا راج تھا میں اور بالا بظاہر عام راہگیروں کی طرح چلتے ہوئے سامنے سے گزرے۔ پھر ہم نے ایک طواف کوٹھی کے گرد کیا اور ایک قریبی چائے خانے میں جابیٹھے۔ میں نے رسٹ واچ میں وقت دیکھا اور بالے سے بولا۔ "بالے تم گھر جاؤ۔ اماں اور بہن اکیلے ہیں۔ میں شاید صبح منہ اندھیرے ہی پہنچوں " وہ متردد ہوتے ہوئے بولا۔ "عمران صاحب ! آپ اکیلے ؟" "ہاں تم جاؤ ۔ باقی کا کام میرے اکیلے کا ہے۔ مگر تم نے سلطان جہانزیب کی کوٹھی کا اتہ پتہ اور محل وقوع تو اچھی طرح ذہن نشین کر ہی لیا ہو گا ؟" ہاں صاحب! آپ بے فکر رہیں۔ کیا میں صبح تڑکے آؤں؟" وہ بولا۔ ۔۔۔۔ "اس کی ضرورت نہیں۔ اب تم جاؤ" میں نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔۔۔ وہ جانے کیلئے اٹھنے لگا تو میں نے کہا۔ "سنو." جمی صاحب؟“ وہ رک گیا۔۔۔۔ "اماں اور بہن کو میرے بارے میں کچھ نہ بتانا۔ میں بیٹھک والے دوازے سے اندر داخل ہو جاؤں گا مگر تم اتنا کام کرتلنا گھر پہنچتے ہی دروازے کے ساتھ بیٹھک والے دروازے کی کنڈی اندر سے کھول دینا اور باہر سے تالا لگا دینا ڈوپلی کیٹ چابی میرے پاس موجود ہے۔ میں اس بیٹھک کے راستے اندر داخل ہو جاؤں" "ٹھیک ہے صاحب ... ! میں ایسا ہی کروں گا۔ پر صاحب ! اپنا خیال رکھنا" " ہاں تم بے فکر رہو "میں نے ہولے سے مسکرا کر کہا۔ وہ چلا گیا۔ میں وقت گزاری کیلئے ادھر ادھر مٹر گشت کرنے لگا۔ ایک سٹریٹ لیمپ کے قریب میں نے کلائی پر بندھی گھڑی پر نظر ڈالی بارہ بج کر چالیس منٹ کا وقت تھا۔ میں سلطان جہانزیب کی کوٹھی کی طرف بڑھ گیا۔ سردی زوروں پر تھی ۔ لاہور کی سردیاں ویسے بھی کڑاکے دار پڑتی ہیں مگر میں نے اس سردی سے بچاؤ کا اہتمام کر رکھا تھا۔ اونی سویٹر تو میں نے پہن ہی رکھا تھا۔ اوپر سے گرم کوٹ بھی پہنا ہوا تھا۔ گردن کے گرد مفلر بھی لپیٹ رکھا تھا۔ ذرا ہی دیر بعد میں سلطان جہانزیب کی کوٹھی کے سامنے سے گزر رہا تھا۔۔۔ اب میرا ارادہ کوٹھی کے عقب سے کسی طرح اندر داخل ہونے کا تھا۔ میں نے یہاں کا رخ کرنے سے قبل ذیشان سے معلومات لے رکھی تھی۔ کوٹھی کے اندر مکینوں کی زیادہ تعداد نہ تھی۔ سلطان جہانزیب اس کی بیوی ایک بیوہ بہن شہلا اور بیٹا جمشید کل چار مکین تھے۔ سلطان جہانزیب کی کوٹھی میں نقب لگانے کا میرا مقصد اس کے کمروں کی مفصل تلاشی لینا تھا۔ میری ہیڈ کوارٹر کے ریکارڈ روم سے حاصل کی ہوئی معلومات کے مطابق اس کوٹھی میں ایک بیسمنٹ بھی تھا۔ در حقیقت میں اس تہہ خانے کو تلاش کرنا چاہتا تھا۔ چنانچہ میں کوٹھی کے گیٹ کے سامنے سے گزرتا ہوا جیسے ہی کوٹھی کی شمالی دیوار کے متوازی مڑا تو اچانک سامنے سے آتی ہوئی کار کی تیز ہیڈ لائٹس مجھ پر پڑیں میں سر جھکائے راستے کے کنارے چلتا چلا گیا۔ جب کار میرے قریب سے گزری تو میں نے دزدیدہ نظروں سے کار کی طرف دیکھا اور کار سوار کو پہچان کر بری طرح ٹھٹک گیا۔ مگر رکا نہیں چہ جائیکہ کار سوار عقب نما آئینے میں سے اچانک رکتا ہوا نہ دیکھ لے کار میں صبا کا باپ سیٹھ اصغر سوار تھا۔ اور وہ خود ہی کار ڈرائیو کر رہا تھا۔ پھر جیسے ہی کار سلطان جہانزیب کی کوٹھی کی جانب مڑی تو میں الٹے قدموں واپس ہوا ... اریب قریب کا علاقہ سنسان ہونے کی وجہ سے میں نے کارنر کی دیوار کی آڑ لے کر کوٹھی کے گیٹ کی طرف جھانکا تو سیٹھ اصغر کی کار اندر داخل ہو رہی تھی۔ یہ اس وقت یہاں کیا کرنے آیا تھا؟ میرے ذہن میں سوالیہ نشان ابھرا .... میں واپس پلٹا اور کوٹھی کی عقبی دیوار کی طرف آ گیا۔ یہاں ذرا رک کر پہلے میں نے گردو پیش میں نظر دوڑائی ٹھٹھرتی ہوئی رات خاموش تھی اور کوئی ذی نفس نظر نہیں آ رہا تھا۔ میں نے بغور کوٹھی کی عقبی دیوار کا جائزہ لیا. بیشتر کوٹھیوں اور بنگلوں پر ٹھٹھرتی ہوئی ویرانی مسلط تھی۔ کوٹھی کی دیوار میں بارہ فٹ سے زیادہ بلند نہ تھیں مگر اوپر کے سرے پر خم دار اپنی بریکٹ نصب تھی۔ جن پر خار دار تاریں مسلک تھیں۔ اب میں ٹیلی فون کے اس کھمبے کو دیکھ رہا تھا۔ جسے میں پہلے ہی تاڑ چکا تھا۔ میں نے اس کے ذریعے کوٹھی کی دیوار پھاندنے کا ارادہ کر رکھا تھا۔ لہذا میں ذرا تیز روی سے چلتا ہوا مذکورہ پول کی طرف آیا۔ احتیاطاً ایک بار پھر گرد و پیش میں نظریں دوڑانے کے بعد میں نے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو با ہم مسلا اور ... پول سے چپک کر اوپر چڑھنا شروع کر دیا۔ یہ پول دیوار سے چند فٹ کے فاصلے کی دوری پر تھا۔ میں نے پول سے لپٹ کر اپنا توازن برقرار کیا اور سپرنگ کی طرح اچھل کر کوٹھی کی دیوار کے سرے پر لگی بریکٹوں کو پکڑ لیا۔ مگر اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا اور دیوار سے نیچے لٹک کر رہ گیا۔ بڑی مشکل کے ساتھ میں نے اپنی بے ترتیب سانسوں پر قابو پاتے ہوئے اپنی دونوں ٹانگوں کو سمیٹا اور خود کو آہنی بریکٹوں کے درمیان پھنسانے میں کامیاب ہو گیا۔ یہ باؤنڈری وال تھی جس سے تقریبا پانچ فٹ کی دوری پر کوٹھی کی دیوار نظر آ رہی تھی ۔ جہاں سے ٹینٹڈ گلاسز کی دو عدد کھڑکیاں صاف دکھائی دے رہی تھیں جو بند تھیں۔ میں نے نیچے جھانکا نیچے گلیار سا بنا ہوا تھا۔ اور وہاں پودوں کی قطاریں نظر آ رہی تھیں۔ اس وقت کوٹھی پر خاموش کا راج تھا۔ میں نے خود کو فولادی خاردار تاروں سے بچاتے ہوئے نیچے گلیارے میں چھلانگ لگا دی۔ گھنے پودوں کی کیاریوں میں ہلکی سی دھپ کی آواز سے میں گرا اور خاصی دیر تک سن گن لینے کی غرض سے وہیں دم سادھے پڑا رہا۔ آرمی ٹریننگ کے دوران سخت تربیت میرے کام آرہی تھی ... بہر طور... اچھی طرح سے اپنے گرد و پیش کی سن گن لینے کے بعد میں دبے پاؤں بڑھنے لگا۔ گلیارا باؤنڈری وال کے متوازی دائیں جانب گھوم رہا تھا۔ میں بھی چلتا ہوا مذکورہ سمت میں گھوم گیا۔ اب میں کوٹھی کی مرکزی دیوار کی جانب کھڑا تھا۔ یہاں بھی کمروں کی بند ٹنٹڈ گلاس کی کھڑکیاں نظر آ رہی تھیں۔ میں پھر بھی احتیاط کے پیش نظر جھکا جھکا آگے بڑھنے لگا چند قدم چلنے کے بعد میں ایک کھڑکی کے قریب پہنچ کر رک گیا۔ اس کھڑکی کے اندر سے مجھے روشنی کی ہلکی کرنیں پھوٹتی نظر آ رہی تھیں ... اور مدھم باتوں کی آواز بھی سنائی دے رہی تھی۔ میں نے ذرا سید ھے کھڑے ہو کر درز سے آنکھ چپکا دی مگر دوسری طرف جھولتے دبیز پردوں کی وجہ سے میں اندر کمرے کا منظر دیکھنے سے قاصر رہا تھا۔ البتہ کان لگا کر میں اندر ہونے والی گفتگو با آسانی سن سکتا تھا۔ میں نے سر دست اسی کو غنیمت جاتا اور بغور سننے لگا۔ رات کے ٹھڑے ہوئے سناٹے میں مجھے اندر ہونے والی گفتگو صاف سنائی دے رہی تھی۔ "سلطان جہانزیب ... میں نے تمہاری بات مان لی۔ اب تم بھی اپنا وعدہ پورا کرو " یہ سیٹھ اصغر کی آواز تھی۔ اس کے لہجے میں ایک طرح کی التجا تھی۔ جس نے مجھے چونکا دیا تھا۔ "ہاں سیٹھ اصغر ! مجھے اپنا وعدہ یاد ہے تم نے میرے لاڈلے بیٹے جمشید کی دیرینہ آرزو پوری کر دی اب میں بھی اپنا وعدہ ضرور پورا کروں گا۔ مگر....." وہ اچانک کچھ کہتے کہتے رکا تو مجھے سیٹھ اصغر کی بے چین سی آواز سنائی دی۔ "اگر مگر کیا ؟ سلطان؟" "ارے یار تم فکر کیوں کرتے ہو؟ شادی تو ہو جانے دو "سلطان جہانزیب کی مکارانہ ہنستی ہوئی آواز ابھری۔۔۔۔ لیکن تم نے تو کہا تھا کہ منگنی کا اعلان ہوتے ہی... """ "ہاں ہاں مجھے یاد ہے مگر سیٹھ اصغر منگنی کا کیا بھروسہ؟ کیا خبر اپنا کام نکلتے ہی تم منگنی توڑ دو" "یار یہ تم کیسی باتیں کر رہے ہو؟ میں بیٹی کا باپ ہوں ۔ بھلا ایسا میں کیسے کر سکتا ہوں ؟" تم ایک بیٹی کے باپ ہو مگر مال دار باپ ہو اور دولت بڑے بڑے عیب چھپا دیتی ہے۔" چند ثانیے خاموشی چھائی رہی۔ میرا دل سینے میں زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ میرا اندازہ درست ثابت ہوا تھا کہ سیٹھ اصغر نے یقینا اپنی کسی ذاتی یا کاروباری مجبوری کے تحت ہی اپنی حور پری جیسی معصوم بیٹی صبا کی منگنی جمشید جیسے لنگور سے کرنے کا اعلان کیا تھا وہ مجبوری کیا ہے؟ میں یہ جاننے کیلئے بے چین ہو گیا۔۔۔۔ "دیکھو سلطان اب تم وعدہ خلافی کر رہے ہو ؟"چند ثانیوں کی پر سوچ خاموشی کے بعد سیٹھ اصغر کی معاندانہ سی آواز ابھری۔ "کیسی وعدہ خلافی ؟ تم بدگمان ہو رہے ہو؟" سلطان جہانزیب نے مکاری سے کہا۔ "تو پھر اپنا وعدہ پورا کرو تم نہیں جانتے میں کسی قدر ذہنی اذیت اور انجانے خوف کا شکار ہوں۔ میرا سب کچھ ڈوب جائے گا ۔ اور میری پھول سی بیٹی در بدر ہو جائے گی۔ میرے سوا اس کا کوئی دنیا میں نہیں ہے۔ اسی لئے تو میں نے یہی فیصلہ کیا ہے کہ کم از کم میری بیٹی تمہارے پاس سکھی تو رہے گی۔" سیٹھ اصغر کا لہجہ اب رندھ گیا تھا۔۔۔۔ ادھر میرے اندر بری طرح پکڑ دھکڑ جاری تھی۔ "یار تم ایسا کیوں نہیں کرتے کہ میرے ساتھ مل جاؤ۔ چھوڑو یہ چھوٹی موٹی سمگلنگ اس میں رسک اور خطرات بھی بہت ہیں اور پیسہ بھی کم میرے ساتھ تم کروڑوں میں کھیلو گے" مکار سلطان جہانزیب نے پینترا بدلا۔۔۔۔۔ "نہیں یار تمہارا کام مجھ سے زیادہ خطرے والا ہے تمہارے پیچھے تو ویسے بھی انٹر سروسز کے خفیہ اہلکار لگے ہوئے ہیں۔۔۔"سیٹھ اصغر کی گھبرائی ہوئی آواز ابھری اور میری کنپٹیاں سنسنانے لگیں۔ سیٹھ اصغر کے جواب پر سلطان جہانزیب نے ہلکا سا استہزائیہ قہقہہ لگایا۔ وہ پر غرور لہجے میں بولا۔۔۔۔"سیٹھ اصغر تم مجھے معمولی آدمی سمجھتے ہو؟ میرا کوئی بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتا تم نے دیکھا نہیں کہ میں نے کس طرح ایک میجر کا کورٹ مارشل کروا ڈالا۔ اس کے بعد سے کسی کی اب تک مجھ پر آنکھ اٹھانے کی بھی جرات نہ ہو سکی۔" اس کے نخوت بھرے لہجے کی گفتگو نے مجھے سرتاپا لاوا بنا دیا تھا۔۔۔۔ "یار چھوڑو اس بات کو میرے کام کی بات کرو بہت دیر ہو گئی ہے۔ گھر میں صبا اکیلی ہے" اصغر خان نے پدرانہ محبت سے کہا۔۔۔۔ "اچھا ٹھیک ہے تم جاؤ اور مجھے تاریخ دے دو... نکاح کے بعد تمہارا کام ہو جائے گا۔۔۔۔" سلطان جہانزیب نے کہا تو دوسرے بھی لمحے سیٹھ اصغر کی پر طیش آواز ابھری۔ "سلطان پہلے تمہیں اپنا وعدہ پورا کرنا ہوگا" "مجھے تم ؟ اوہ ہماری بلی ہمیں ہی میاؤں" جوابا سلطان جہانزیب کی رعونت آمیز آواز پھر ابھری۔ "جاؤ پھر جو کرنا ہے کرو توڑ دومنگنی میں بھی تمہیں کوڑی کوڑی کا محتاج کر دوں گا۔ تمہاری بیٹی کو تمہارے عالی شان "سارنگ ہاؤس" سے بے دخل کر دیا جائے گا۔ پھر میں اسے آیا نوکرانی بنا لوں گا .... جو میرے بیٹے کی دل بستگی کا سامان بھی پیدا کرتی رہے گی ۔" "سلطان" سیٹھ اصغر کی غیظ آلود چیخ ابھری۔ "چیخنے کی ضرورت نہیں ہے سیٹھ اصغر اپنی اوقات کو پہچانو ۔ اس وقت تم میری چہار دیواری میں کھڑے ہو ۔ ایسا نہ ہو تمہارا نشان تک نہ ملے "سلطان جہانزیب کی بھی درشت آواز ابھری۔ "ٹھیک ہے ٹھیک ہے میں معافی چاہتا ہوں" سیٹھ اصغر کی پژمردہ سی آواز ابھری۔ اس کے بعد مکمل خاموشی چھا گئی۔ صبا کے متعلق ناپاک لفظوں کے استعمال نے مجھے آگ بگولا کر دیا تھا۔ میرا جی چاہا کہ اسی وقت کھڑکی کا شیشہ توڑ کر اندر داخل ہو جاؤں اور سلطان جہانزیب جیسے غدار وطن اور رذیل کتے کی گردن مروڑ ڈالوں لیکن میں نے بمشکل اپنے اندر کے ابال پر قابو پایا اور مزید چند ثانیے سن گن لینے کی کوشش کرتا رہا مگر اندر بدستور خاموشی طاری رہنے پر میں اندر داخل ہونے کے بارے میں سوچنے لگا۔ کھڑکیوں کے ذریعے اندر داخل ہونا ناممکن تھا۔ کیوں کہ شیشہ سرکنے کے باوجود اندر آہنی گرلیں لگی ہوئی تھیں۔ میں نے آگے قدم بڑھا دیئے میرا اراده . بیرونی حصے سے ٹیرس پر کودنے کا تھا لیکن ابھی میں چند قدم ہی آگے بڑھا تھا کہ اچانک مجھے اپنے عقب میں خوفناک غراہٹ سنائی دی۔ میں چونک کر پلٹا تو میرے اوسان خطا ہو گئے سامنے مدھم روشنی میں مجھے لمبا قد آور اور خوفناک بلڈ ہاؤنڈ کتا نظر آیا۔وہ اپنی چمکتی ہوئی خونخوار آنکھوں سے مجھے گھور رہا تھا۔ اس کے ہانپتے ہوئے آدھ کھلے تھوتھنے سے زبان باہر کو پلپا رہی تھی۔ جہاں سے شکاری دانتوں کی خوفناک جھلک صاف نمایاں تھی۔ ابھی میں سنبھل بھی نہیں پایا تھا کہ ایک اور درندے کی خونخوار خراٹے دار غراہٹ مجھے اپنے عقب میں سنائی دی میں چونک کر پلٹا اور میرا سانس جیسے سینے میں اٹک کر رہ گیا۔ اور ایک لمحے کو تو دہشت سے میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں میرے سامنے وہ قد اور خوفناک بلڈ ساؤنڈ کتا تھا جبکہ میرے عقب میں ایک خونخوار چیتا ان دونوں خونخوار جانوروں کے درمیان میں خود کو پا کر بری طرح بوکھلا گیا تھا۔ چیتا اپنے خوفناک جبڑے پھاڑے تیز نوکیلے دانتوں کی نمائش کرتا ہوا اپنی پچھلی ٹانگوں پر ذرا سمٹ گیا۔ وہ مجھ پر جست لگانے کے لئے پر تول رہا تھا۔ میں سردی کے باوجود پسینے میں نہا گیا۔ میں بہت خطرناک اور جان لیوا حد تک نازک پوزیشن میں تھا۔ چشم زدن میں میں نے اپنے مقتل پڑتے حواسوں پر قابو پانے کی کوشش کی. ادھر جیسے ہی میں نے کوٹ کی جیب میں پستول نکالنے کیلئے ہاتھ ڈالا چیتے نے ایک زبر دست چنگھاڑ مار کر مجھ پر چھلانگ لگا دی۔ میں یک دم نیچے بیٹھ گیا۔ چیتا میرے اوپر سے ہوتا ہوا ... کتے پر جاپڑا اب آر یا پار کچھ بھی کرنا تھا۔ ورنہ یہ دونوں خونخوار درندے مجھے چیر پھاڑ کر رکھ دیتے۔ مجھے پستول نکالنے کا موقع مل چکا تھا۔ چنانچہ میں نے بجلی کی سی پھرتی کے ساتھ اوپر تلے تین فائر جھونک مارے ایک گولی تو بلڈ ہاؤنڈ کتے کے چہرے پر کی تھی اور وہ وہیں ڈھیر ہو گیا تھا جبکہ باقی دو گولیاں چیتے کی گردن میں پیوست ہو گئیں تھیں۔ اس نے ایک خوفناک چنگھاڑ ماری اور زخمی ہونے کے باوجود مجھ پر جست لگانے کیلئے پر تولے میں نے اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان والی پیشانی کے نازک ترین حصے کا نشانہ لیا اور یکے بعد دیگرے دو گولیاں داغ ڈالیں... میری پستول کی نال نے دھماکے کے ساتھ دو شعلے اگلے اور چیتا وہی ڈھیر ہو گیا۔ اس اثنا میں مجھے عقب میں متعدد دوڑتے قدموں کی آوازیں سنائی دیں۔ میں پلٹا اور خونخوار درندوں کی لاشیں پھلانگتا ہوا اندھا دھند دوڑ پڑا۔ دفعتا عقب سے مجھے رکنے کا درشت حکم دیا گیا مگر میں نے پلٹ کر گولی داغ دی. اگلے ہی لمحے مجھے پر گولیوں کی بوچھاڑ شروع ہوگئی. میں نے گولیوں کی مہیب زد سے خود کو بچانے کی خاطر ... زمین پر گرا دیا۔ اور ساتھ ہی کمانڈوز ٹرینگ کے دوران حاصل کی ہوئی تربیت سے کام لیتے ہوئے میں نے بالنگ جست لگائی اور اپنے وجود کو بائیں جانب کے گلیارے کی طرف اچھالنے میں کامیاب ہو گیا۔ اور دیوار کی آڑ ملتے ہی میں نے ... انتہائی تیز رفتاری سے دوڑتے ہوئے لمبی ہائی جمپ لگائی تو سیدھا باؤنڈری وال کی منڈیر پر جا پہنچا ۔ آہنی بریکٹوں پر نصب خاردار باڑھ نے میری کھال چھیل کر رکھ دی۔ اسی وقت دوبارہ مجھ پر کوٹھی کے مسلح گارڈز نے برسٹ فائر کر ڈالے مگر میں تو چھلاوہ بنا ہوا تھا۔ سنسناتا ہوا لہو پارے کی مثل میری رگوں میں تیزی سے گردش کر رہا تھا۔ گولیاں باؤنڈری وال میں زنازٹ کی آواز سے پیوست ہونے لگیں .... چند گولیاں آہنی بریکٹوں سے اچٹ کر زن سے میرے چہرے کے بالکل قریب سے گزری تھیں کہ مجھے ان کی آتشین جھپک چہرے پر صاف محسوس ہوئی تھی شکر تھا کہ میں ابھی تک گولیوں کی خوفناک زد سے بچا ہوا تھا ۔ میں نے پھر ایک لمحے کی بھی دیر نہ لگائی تھی۔ اچھل کر دیوار کی دوسری طرف کو گیا ۔ اور نیچے کودتے ہی میں ناک کی سیدھ میں دوڑتا چلا گیا۔۔۔۔۔1 like
-
ضمیر فروش
1 likeاپڈیٹ1 وہ ایک سرد اور کہر آلود رات تھی جب میں اپنی ملٹری انٹیلی جنس کی جب میں "سارنگ ہاؤس پہنچا تھا۔ میرے ساتھ میری والدہ اور چھوٹی بہن سلطانہ بھی تھیں۔ سارنگ ہاؤس وسیع و عریض رقبے پر پھیلی ہوئی ایک پرشکوہ اور عظیم الشان کو ٹھی تھی جو لاہور کے ایک بہت بڑے تاجر سیٹھ اصغر خان کی ملکیت تھی۔ کوٹھی میں اس وقت خاصی گہما گہمی نظر آتی تھی۔ پوری کوٹھی بقعہ نور بنی ہوئی تھی اور کسی نوخیز دلہن کی طرح سجی ہوئی تھی۔ رنگ برنگے برقی قمقے گارڈن کی باڑ سے لے کر دیوار کی منڈھیروں پر وسیع و عریض لان کے خوشنما پودوں اور بل کھاتے بیل بوٹوں کی ہم رکابی میں جگمگا رہے تھے۔ کوٹھی کے اندر باہر متعدد نئے ماڈل کی چہچہاتی کاریں، پیجارو، لینڈ کروزر اور ڈبل کیبین انٹر کولر گاڑیاں کھڑی نظر آرہی تھیں جو اپنے مالکوں کی امارت کا بین ثبوت پیش کر رہی تھیں ۔ کوٹھی کی درون و بیرون سج دھج سے عیاں ہوتا تھا کہ یہاں کسی پر تکلف تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا اور حقیقت بھی یہی تھی کہ سیٹھ اصغر خان کی اکلوتی بیٹی صبا خان کی برتھ ڈے پارٹی منائی جارہی تھی۔ صبا خان میری چھوٹی بہن سلطانہ کی کلاس فیلو اور عزیز ترین سہیلی تھی۔ ہمارا آبائی گاؤں شاہینوں کے شہر سرگودھا کے نواح میں واقع تھا جہاں میں نے بچپن اور جوانی کا اولین دور اپنی والدہ اور بہن سلطانہ کے ساتھ ایک حویلی نما گھر میں گزارہ تھا۔ وہ جوائنٹ فیملی سسٹم تھا۔ میرے چاچا فاروق احمد اور تایا اخلاق احمد تھے۔میرے ابو نو از احمد اور ان سب کی اولادیں مل جل کر رہتے تھے۔ ہماری مشترکہ زمینیں بھی تھیں۔ مجھے فوج میں بھرتی ہونے کا جنون کی حد تک شوق تھا۔ اس وقت میرے ابو حیات تھے۔ در حقیقت وہ مجھے ایک اعلی آرمی آفیسر کے روپ میں دیکھنا چاہتے تھے جو کبھی خود ان کا اپنا دیرینہ خواب ہوا کرتا تھا۔ یہ ایک فطری امر ہے کہ والدین اپنی نا تمام آرزوؤں کی تکمیل اپنی اولاد کی صورت میں دیکھنے کے خواہشمند ہوتے ہیں۔ میرا قد کاٹھ اچھا تھا اور پھر ابو نے مجھے زمینداری میں لگانے کے بجائے اچھی تعلیم دلوائی تھی۔ یہ بات میرے تایا اور چاچا کو اچھی نہ لگی۔ کیوں کہ ان کی کسی اولاد نے چار پانچ جماعتوں سے زیادہ تعلیم حاصل نہ کی تھی اور کھیتی باڑی میں لگ گئے تھے۔ زمینیں بھی ہماری کچھ اتنی زیادہ نہ تھیں، بس اس قدر تھیں کہ تین خاندانوں کی کفالت بآسانی ہو جاتی تھی۔ بہر طور... چاچا اور تایا ہم سے اس بات پر خار کھانے لگے... یوں انہوں نے ہمیں زمین کی آمدنی سے بھی حصہ کم دینا شروع کر دیا۔ میرے ابو ایک امن پسند شریف اور فراخ دل انسان تھے۔ انہوں نے بھائیوں سے جھگڑنا مناسب نہ سمجھا اور اسی پر شاکر رہے۔ پھر وہ وقت بھی آیا کہ مجھے آرمی میں کمیشن مل گیا اور میں میں پر ٹرینینگ کیلئے چلا گیا۔ ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد جب میں کیپٹن کی وردی پہنے اپنے گاؤں میں داخل ہوا تو لوگوں کی آنکھیں پھیل گئیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ پورے گاؤں میں نہ کسی نے اتنی تعلیم حاصل کی تھی اور نہ ہی کوئی اتنے بڑے رینک تک پہنچا تھا۔ میرے ابا کی تو حالت خوشی کے مارے دیدنی ہو رہی تھی۔ ان کا تو جیسے دیرینہ خواب پورا ہو چکا تھا۔ گاؤں کے لوگ مبارکباد دینے کیلئے آنے لگے۔ گاؤں میں مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔ مگر میں نے محسوس کیا کہ چچا فاروق اور تایا اخلاق احمد کو ذرا بھی خوشی نہ ہوئی تھی۔ بلکہ الٹا وہ میری کامیابی پر جل بھن گئے تھے۔ جھوٹے منہ سے بھی انہوں نے ہم سے خوشی کا اظہار تک نہ کیا۔ مجھے ان کے مخاصمانہ رویوں پر دکھ ہوا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مجھے پتہ چلا کہ میرے چاچا اور تایا نے کن کن حیلے بہانوں سے میرے گھر والوں کو تنگ کرنا شروع کر دیا تھا۔ ابا تو بالکل ہی بیمار پڑ گئے۔ وہ تو جیسے مجھے دیکھنے کی آس میں جی رہے تھے۔ ہماری ٹریننگ بہت سخت ہوتی تھی چٹھی بھی مہینوں بعد ملتی تھی اور وہ بھی چند دنوں کیلئے۔ پھر انہی دنوں ابا کا انتقال ہو گیا تو میرا اپنے چاچا تایا بلکہ گاؤں سے ہی دل اٹھ گیا۔ میں نے یوں کیا کہ اپنے حصے کی زمینوں پر لعنت بھیجی اور اپنی والدہ اور بہن کو لے کر ہمیشہ کیلئے لاہور آ گیا۔ یہاں میری سرکاری رہائش گاہ تھی۔ اقبال گوندل المعروف بالا میرے بچپن کا دوست تھا۔ میری غیر موجودگی میں وہی میرے بوڑھے ماں باپ کے کام آیا کرتا تھا۔ وہ مجھ سے رابطے میں رہتا تھا۔ بے چارے کا دنیا میں کوئی نہ تھا۔ اقبال گوندل عرف بالے کو میں ایک سچا دوست ہی کہوں گا کیونکہ میں نے آج تک اسے ملازم کی حیثیت سے نہیں دیکھا تھا۔ اس کا چوں کہ دنیا میں کوئی نہ تھا ما سوائے اس کے دو چار ابن الوقت عزیز رشتے داروں کے... اس لئے میں اسے بھی اپنے ساتھ لاہور میں لے آیا تھا۔ میں بات کر رہا تھا۔ سیٹھ اصغر خان کی بیٹی صبا خان کی سالگرہ کی۔ جس کا انعقاد اس وقت بڑی شان و شوکت کے ساتھ سارنگ ہاؤس میں کیا گیا تھا۔ جیسا کہ مذکور ہوا... صبا میری چھوٹی بہن سلطانہ کی سہیلی تھی اور اس نے اسے فیملی سمیت اپنی سالگرہ میں شرکت کرنے پر اصرار کیا تھا۔ یوں بھی میں سلطانہ کو تنہا جانے نہ دیتا۔ نہ ہی وہ خود ہی جاتی۔ میں اس وقت وردی میں نہیں تھا حالانکہ سلطانہ نے تو اصرار کیا تھا کہ میں اپنی دردی میں ہی ان کے ساتھ جاؤں تا کہ وہ فخر کے ساتھ اپنے ویر کا تعارف کرواتی۔ مگر .... ایسا میں نے دانستہ نہیں کیا تھا۔ سلطانہ نے تحائف خرید رکھے تھے جو اقبال گوندل عرف بالے نے اٹھا رکھے تھے ۔ ہم سب جیپ سے اتر کر گیٹ کی طرف بڑھے. باوردی گارڈز نے احتراما جھک کر راستہ دیا۔ ہم چکنی روش پر چلتے ہوئے اندر داخل ہو گئے۔ لان کی طرف سے آنے والی نوع بنوع گل بوٹوں کی گلنار نے دماغ ترو تازہ کر دیا۔ سامنے محرابی چبوترے پر ساگوان کی لکڑی کا دروازہ تھا جہاں فلورا کے سنگ مرمر کے گملے رکھے تھے۔ ایک باوردی خدمت گار نے وہ بھاری بھر کم دروازہ احترام سے کھولا۔ ہم تینوں اندر داخل ہو گئے۔ موسم سرما کی وجہ سے اندر ہی میں تقریب اور مہمانوں کی نشست کا اہتمام کیا گیا تھا۔ درمیان میں بڑی مستطیل میز تھی (یا پھر تین چار میزوں کو جوڑ کر اس پر بیش قیمت میز پوش چڑھا دیئے گئے تھے ) درمیان میں گنبد نما گول کیک دھرا تھا جس پر موم بتیاں نصب تھیں۔ میں نے ان کی تعداد گن کر صبا کی عمر کا تعین کیا۔ یعنی اٹھارہ برس تقریب ابھی شروع نہیں ہوئی تھی۔ دائیں بائیں صوفوں پر سوٹڈ بوٹڈ مرد اور جھلملاتے سرسراتے لباسوں میں خواتین، بیش قیمت جیولری سے لدی خواتین اور دوپٹوں سے بے نیاز کمر لچکاتی ہرنی جیسی چال چلتی قہقے لگاتی نازنین تھیں، سلطانہ نے والدہ اور میرا تعارف کروایا۔ ساتھ مرد لدی پھندی ہاتھوں میں کاک ٹیل کے گلاس تھا مے باتوں میں مشغول تھے۔ ہائی سلطانہ ؟ اچانک ہمارے دائیں جانب ایک کھنکتی آواز ابھری۔ یہ صبا تھی نرم و نازک سندر اور چنچل صبا جو ہوا کے عطر بیز جھونکے کی طرح میرے قریب سے گزر کر سلطانہ سے لپٹ گئی۔ سلطانہ نے اسے وش کیا اور پھر ہاؤ کیوٹ ! آپ ہی اس کے وہ بھائی ہیں جو کیپٹن میں ... یہ بہت شیخیاں بھگارتی تھی آپ کی ... صبا نے مجھ سے مخاطب ہو کر کہا۔ اس کی موتیوں کی لڑی جیسے ہموار دانتوں کی قطار کی لمحاتی جھنک ابھری۔ پھر وہ سلطانہ اور والدہ کو لئے اپنی سہیلیوں کے جھرمٹ کی طرف چلی گئی۔ اسی اثنا میں ایک درمیانے قدوقامت کا قدرے بھاری بھر کم شخص میری طرف آیا۔ "میرا نام سیٹھ اصغر خان ہے۔ اس نے تعبیر آواز میں مجھ سے کہا اور مصافحہ کیلئے ہاتھ بڑھا دیا۔ نائس ٹومیٹ یو۔" میں نے مسکرا کر کہا اور اس کا ہاتھ تھام لیا۔ " کم آن انجوائے یور سیلف " وہ یہ کہہ کر دوبارہ اپنے دوستوں کی ٹولی سے جا ملا .. وہ لارنس کے گرے سوٹ میں ملبوس تھا۔ اس نے جیسے خانہ پری کی تھی۔ اسی اثنا میں ایک باوردی ویٹر ہاتھ میں لئے میری طرف آیا۔ میں نے کاک ٹیل کی بجائے .. ...ھوس کا گلاس اٹھالیا۔ بالا بھی میرے ساتھ تھا۔ ہم دونوں ایک کونے میں کھڑے ہو گئے۔ ہیلو کیپٹن صاحب اچانک ایک آواز پر میں نے چونک کر گردن موڑی۔ ارے ذیشان ..... تم یہاں دوسرے ہی لمحے میں اپنے دوست کو دیکھ کر گرم جوش آواز میں بولا۔ یہ ذیشان ملک تھا۔ سیالکوٹ کے بیس کیمپ میں ٹریننگ کے دوران وہ میرے ساتھ تھا۔ رینک اگرچہ اس کا لیفٹیننٹ کا تھا مگر ہم دونوں خوب گہرے دوست تھے۔ بہرطور ہم نے گرمجوشی کے ساتھ معانقہ اور بعد میں مصافحہ کیا۔ پھر میں نے ہولے سے بنتے ہوئے کہا۔ اوئے... یہ کیپٹن صاحب کا لاحقہ لگانا ضروری تھا؟ صرف عمران کہنا کافی نہ تھا۔؟" نو نیور سینٹر ! از سینئر وہ خالص آرمی قواعد کے مطابق اٹینشن ہوکر بولا۔ یہ کیمپ نہیں ہے. یہاں ہم صرف دوست ہیں۔ میں نے مصنوعی غصے سے گھور کر کہا۔ "اچھا یہ بتاؤ تمہاری اتنے بھاری بھرکم سیٹھ کی بیٹی سے کس طرح دوستی ہوئی جو اس کی سالگرہ میں چلے آئے۔" " نہیں یار.... میری تو دونوں باپ بیٹی سے رسمی سی بھی علیک سلیک نہیں ہے۔“ وہ بولا۔ "میں تو اپنی بہن نادره......" اوہ میں نے اس کی بات کائی تو گویا تم بھی میری طرح ہو۔" پھر اس اتفاق پر ہم دونوں ہی مسکرا اٹھے۔ اس کے بعد میں نے بالے کا تعارف کروایا اور ادھر ادھر کی باتوں میں مشغول ہو گئے۔ اس دوران نجانے کیوں میری نظریں نہ چاہتے ہوئے بھی بار بار صبا کی طرف اٹھ رہی تھیں۔ وہ واقعی مجھے بہت اچھی لگی تھی۔ بالکل شہزادیوں جیسی معصومیت تھی اس میں رنگ روپ بھی پھولوں ساتھا۔ اے مسٹر ڈونٹ لک ہر شی از گوئنگ ٹو بی انگیجڈ سون ... ذیشان ( لیفٹیننٹ) نے آخرکار تا ڑ لیا تھا مگر اس کی بات پر میرے دل کو ایک گھونسہ لگا۔ کیا واقعی صبا کی منگنی ہونے والی ہے مگر مجھے جیسے یقین نہ آیا۔ اوہ تو گویا کیپٹن صاحب محترمہ کو دیکھتے ہی دل دے بیٹھے۔" وہ شرارت سے بولا تو میں بے اختیار چھینپی سی ہنسی کے ساتھ بولا۔۔۔۔نہیں یار ایسی بات تو نہیں ہے" وہ دیکھو وہ ہے اس کا ہونے والا منگیتر ذیشان نے ہلکے سےاشارہ کیا۔۔۔۔۔۔ میں نے مذکورہ سمت دیکھا تو میرا منہ بے اختیار کھلے کا کھلا رہ گیا۔ حیران ہو گئے ناں ... صبا جیسی حور کے اس لنگور جیسے ہونے والے منگیتر کو دیکھ کر ۔۔۔۔۔۔۔وہ بولا۔۔۔۔۔ واقعی اگر یہ لنگور نما شخص... صبا جیسی حسین و جمیل پری وش کا منگیتر ہوتا تو میرے لئے افسوس کا ہی مقام تھا۔ انتہائی دبلا پتلا رنگت بھی سانولی سر کے بال بھی عنقریب فارغ البالی کا اعلان کرتے ہوئے نظر آ رہے تھے۔ آنکھیں بھی چندی چندی کی قد بھی ہلکا تھا۔ اگر صبا ہیل والی اونچی سینڈل پہن کر اس کے ساتھ کھڑی ہوتی تو اس لنگور کا قد بھی اس کے مقابل دب کر رہ جاتا۔ یار کیا۔۔۔" صبا یا اس کا باپ اندھے تھے جو " وشش۔۔۔۔ آہستہ بولو ورنہ بڑے بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے والا شعر ہم پر صادق آ جائے گا ۔۔۔۔ میرے ہولناک تبصرے پر ذیشان نے سرگوشیانہ کہا۔۔۔۔ صد افسوس ہے یار! یہاں بھی سیٹھ نے باپ بن کر نہ سوچا ضرور اپنے کسی کا روباری مفاد کی خاطر ہی اس لنگور کو اپنا داماد بنانے کا فیصلہ کیا ہوگا ؟میں نے متاسفانہ لہجے میں کہا۔ ۔۔۔ "ابھی تمہیں یہ نہیں پتہ کہ یہ لنگور ہے کس کا بیٹا ؟ پھر تو تم اپنا سر ہی پیٹ ڈالو گے " ذیشان نے جیسے مزید انکشاف کرنے کے سے انداز میں کہا۔ تو بتاؤ؟ میں نے جیسے سانس روک کر پوچھا۔۔۔۔ " سلطان جہانزیب خان معروف صنعتکار" اس نے بتایا۔ کیا ؟ بے اختیار میرے منہ سے غیر یقینی انداز میں نکلا تھا۔ روشن ہو گئے چودہ طبق ؟" یار یہ سلطان جہانزیب وہی تو نہیں جو۔۔۔ بس بس پھر کوئی ہولناک تبصرہ نہ کر دینا۔۔۔۔ سیٹھ اصغر کے سمدھی کے بارے میں ورنہ وہ میری بات کاٹ کر بولا اور دانستہ اپنا جملہ بھی ادھورا چھوڑ دیا۔۔۔۔ میرا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔۔۔صنعت کار سلطان جہانزیب کچھ اچھی شہرت کا آدمی نہ تھا۔ اس کی یہ مشکوک شہرت اگرچہ انٹیلی جنس کی حد تک ہی تھی مگر بہر حال مستند اور مصدقہ تھی لیکن ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے ابھی تک اس پر ہاتھ نہ ڈالا جا سکا تھا۔۔۔۔ وہ بے پناہ اثر و رسوخ کا بھی مالک تھا اور خطرناک بھی تھا۔ اسے ذرا بھی بھنک پڑ جاتی کہ کوئی اس کے پیچھے لگا ہوا ہے تو وہ اسے خاموشی کے ساتھ مروا ڈالتا تھا یا پھر ہمیشہ کیلئے غائب۔۔۔۔۔" پھر ذیشان ہی کی نشاندہی پر وہ مجھے ایک طرف کھڑا نظر آ گیا۔ کالے کوے جیسی سیاہ رنگت سر بالکل گنجا ... دراز قد اور عمر میں وہ اپنے ہونے والے سدھی ... سیٹھ اصغر خان جتنا ہی تھا۔ یعنی پینتالیس، پچاس کے پیٹے میں ۔ مجھے جیسے سانپ سونگھ گیا تھا۔ سلطان جہانزیب کے لنگور نما بیٹے کا نام جمشید تھا۔ وہ اس وقت صبا کا دم چھلا بنا نظر آ رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد کیک کاٹنے کی رسم ادا کی گئی اور پھر ساتھ ہی سیٹھ اصغر نے اپنی بیٹی صبا کی جمشید کے ساتھ عنقریب منگنی کا بھی اعلان کر دیا۔۔۔۔ جانے کیوں مجھے یوں لگا جیسے سیٹھ اصغر نے اپنی معصوم اور پری پیکر بیٹی کو سولی چڑھانے کا اعلان کیا ہو۔۔۔۔ میں بے اختیار ایک ٹھنڈی آہ بھر کر رہ گیا۔ تقریب کا انتقام ہوا ۔ ہم لوگ لوٹ آئے .... جانے کیوں میرا دل اداس اداس سا ہو کر رہ گیا تھا۔ سارے راستے میں خاموش رہا تھا۔ اپنی سرکاری رہائش گاہ پہنچ کر میں نے اماں اور بہن کو اتارا اور جیپ گیراج میں کھڑی کر کے اندر آ گیا۔ سالگرہ کی تقریب میں اچھی خاصی ریفریشمنٹ کر چکے تھے اس لئے کھانا کھانے کو جی نہ چاہا تھا۔ میری تو ویسے بھی بھوک اٹھ چکی تھی ۔ وہاں بھی میں نے کچھ نہیں کھایا تھا۔ میں اپنے کمرے میں آکر بستر پر دراز ہو گیا۔ مگر نیند میری آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ بار بار صبا کا معصوم اور حسین چہرہ میرے سامنے رقصاں ہو رہا تھا۔ میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ سیٹھ اصغر یا اس کی بیٹی صبا سے جا کر .... سلطان جہانزیب کی اصلیت کے بارے میں بتا دوں کہ وہ درحقیقت ایک غدار وطن تھا۔ دیگر اشیاء کی سمگلنگ کی آڑ میں وہ بعض اہم ملکی رازوں سے پڑوسی ملک کو آگاہ کرنے کی مذموم کوششیں کرتا رہتا تھا۔ مگر انٹیلی جنس کی اس کی انڈر گراؤنڈ مجرمانہ سرگرمیوں پر کڑی نگاہ ہونے کی وجہ سے وہ ہر بار نا کام رہا تھا۔ مگر ابھی تک ثبوت کی عدم فراہمی کی وجہ سے اس پر ہاتھ نہ ڈالا جا سکا تھا۔ اس کے جن گرگوں اور کار پردازوں کو گرفتار کیا گیا۔ ان میں سے چند نے تو اپنی جان ختم کر ڈالی تھی جو باقی بچے تھے وہ اپنے چیف" کے بارے میں کچھ بھی بتانے سے قاصر تھے کیوں کہ انہوں نے اب تک سات پردوں میں چھپے چیف کی آواز ہی سنی تھی ... مگر صورت نہیں دیکھی تھی۔ ایک میجر رینک کے اعلی آرمی آفیسر نے حب الوطنی کے جذبہ سے مغلوب ہو کر سلطان جہانزیب پر بغیر کسی ثبوت کے ڈائریکٹ ایکشن لینے کی کوشش کی تو الٹا اس بے چارے کا کورٹ مارشل ہو گیا تھا۔ پہلے اس بے چارے کی وردی اتری ... پھر بعد میں اس کا بالکل پتہ نہ چل سکا کہ وہ کہاں گیا۔ آرمی قوانین بہت سخت ہوتے ہیں۔ ان کا اپنا آدمی بھی اس سے ذرا بھی روگردانی کرتا ہے تو وہ اس کے خلاف بھی کارروائی کرنے سے نہیں چوکتے کیوں کہ مذکورہ میجر کی اس کارروائی سے دشمن مزید محتاط ہو گیا تھا۔ اور پھر آرمی کی بدنامی الگ ... بہرطور .... اس کے بعد سے سلطان جہانزیب کی طرف سے دوبارہ ...کسی ملک دشمن کارروائی کی ذرا بھی بھنک نہ ملی۔ پھر اس دوران کچھ افسران کے تبادلے ہوئے... اور یہ بات آئی گئی ہو گئی مگر بہرحال ... آرمی انٹیلی جنس کی نظروں میں سلطان جہانزیب کو ریڈ پرسن“ قرار دے دیا گیا تھا۔ مگر سول حلقوں کے ساتھ ساتھ اس کی بعض سر بر آوردہ شخصیات تک بھی رسائی تھی۔ بہر طور... میں نے وہ ساری رات بے چینی سے کروٹیں بدل بدل کر گزار دی۔ اگلے دن میں سیدھا ذیشان کے پاس گیا۔ وہ گھر پر ہی تھا۔ وہ بھی میری طرح چھٹیاں منا رہا تھا۔ ہم چوں کہ اب آفیسروں کے رینک میں آچکے تھے اس لئے اس بار ہمیں خاصی طویل مدت کی چھٹیاں نصیب ہوئی تھیں۔۔۔۔ یار ذیشان! میں سیٹھ اصغر سے ایک ملاقات کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے دبے دبے جوش سے کہا۔۔۔ کس سلسلے میں؟ ذیشان نے بغور میرے چہرے کی طرف دیکھ کر پوچھا۔۔۔۔ میں اسے سلطان جہانزیب کی اصلیت کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں ۔ میں نے بلا تعویض و تشخیص کہا۔۔۔ " ہوں تو گویا اب تم اس کے بیٹے جمشید کے رقیب رو سیاہ کا کردار ادا کرنا چاہتے ہو۔"وہ جیسے میرے دل کا چور پڑھتے ہوئے بولا۔ " کچھ بھی ہو... میں ایک بار سیٹھ اصغر سے ضرور ملنا چاہتا ہوں ... اور تم دل ہار رہے ہو۔ نہیں یار یہ بات نہیں میں نے جھلا کر کہا۔ میں سمجھ رہا ہوں ذیشان نے مجھے مزید بولنے کا موقع نہ دیا۔ " کیا خبر سیٹھ اصغر خان کو پہلے ہی سے علم ہو پھر تم کیا کرو گے؟ الٹا تمہارے گلے مصیبت پڑ جائے گی ... سلطان جہانزیب کے خونخوار کار پرداز ہاتھ دھو کر تمہاری جان کے درپے ہو جائیں گے۔“ "تم بھی میرے ساتھ چلو گے۔“ میں نے حتمی لہجے میں کہا۔۔۔۔ ذیشان چند ثانئے پر سوچ خاموشی کے بعد بولا۔ مجھے تمہارے ساتھ جانے میں کوئی اعتراض نہیں لیکن میرا مشورہ تو یہی ہے کہ .... اگر ہم سیٹھ اصغر خان سے ملنے کے بجائے اس کی بیٹی صبا سے ملیں تو زیادہ بہتر رہے گا۔۔۔۔ میں نے اس کی بات پر چند ٹانئے سوچ کر کہا۔ "اس کا کیا فائدہ ؟ حکم تو اس کے باپ کا ہی چلے گا۔“ "ہر گز نہیں۔صبا اس کی اکلوتی اولاد ہے۔ وہ اس پر اپنی مرضی ہرگز نہیں مسلط کر سکتا " "تو پھر اس لنگور نما شخص سے شادی پر وہ کیسے راضی ہوگئی" میں نے کہا۔۔۔۔ ہاں یہ تو سوچنے والی بات ہے۔ ذیشان بولا۔ ” مجھے واقعی حیرت ہے کہ آخر اس نے اس لنگور نما شخص سے شادی کرنے کی حامی کس طرح بھری ... مجھے تو کسی اور ہی چکر کی بو آ رہی ہے اور مجھے پورا یقین ہے کہ یہ صرف اور صرف صباہی بتا سکتی ہے۔ اس لئے میرا تمہیں مشورہ یہی ہے کہ تم تنہا صبا سے ایک ملاقات کرنے کی کوشش کرو اور اسے اعتماد میں بھی لینے کی کوشش کرو۔" میں نے اس کی بات پر ایک گہری ہنکاری خارج کرتے ہوئے پر سوچ انداز میں سر کو جنبش دی. ایک آرمی آفیسر کی حیثیت ہے تو میرے اندر جذبہ حب الوطنی کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا ہی لیکن ایک عام پاکستانی ہونے پر بھی مجھے اپنے وطن کی مٹی سے عشق تھا۔ اور فخر کرتا تھا کہ میرا خمیر جیالوں کی سرزمین سے ہی گندھا ہوا تھا۔ جنہیں اپنی سرزمین، وطن کی آن بان اور شان پر بے دریغ اور پروانہ وار قربان ہونے پر ہمیشہ سے فخر محسوس ہوتا رہا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ میں یہی چاہتا تھا کہ صبا جیسی معصوم صورت لڑکی تباہ ہونے سے بچ جائے ورنہ تو میرا اس سے کسی قسم کا کوئی بھی جذباتی لگاؤ نہ تھا۔ صرف اس حد تک کہ ... خوشنما پھولوں کا حق دید میں بھی رکھتا تھا۔۔ بہر طور... میں نے ایک روز صبا سے ملاقات کا فیصلہ کیا۔ میں چاہتا تو اپنی بہن سلطانہ کی معرفت اس سے ملاقات کر سکتا تھا لیکن میں نے ایسا کرنا مناسب نہ سمجھا تھا۔ مگر حسن اتفاق کہ مجھے یہ موقع میسر آ ہی گیا۔۔۔۔ وہ گلابی جاڑوں کی ایک دو پہر تھی۔ میں اپنے دوست ذیشان سے مل کر گھر کی طرف لوٹ رہا تھا۔ ایک چورا ہے سے موڑ کاٹ کر میں نے اپنی جیپ کو فل ایکسیلیٹر دیا مگر دوسرے ہی لمحے مجھے فوراً بریک پر پاؤں رکھنا پڑ گئے تھے۔ وجہ اس کی تھی جسے میں نے سڑک کے کنارے فٹ پاتھ کے قریب اپنی کار کے باہر پریشان کھڑے پایا .... غالبا اس کی کار میں کوئی خرابی پیدا ہو گئی تھی۔ یہ ون وے تھا۔ چنانچہ میں اپنے ہاتھ پر رہتے ہوئے جیپ ریورس کرتا ہوا چوراہے پر آیا۔ دوسری طرف سروس روڈ تھی۔ میں وہاں سے گزرتا ہوا... صبا کے قریب جا پہنچا اور جیپ سے اتر کر فوراً اس کی طرف بڑھا۔ میرا خیال تھا کہ وہ مجھے اچانک دیکھ کر پہچان نہیں پائے گی . بھلا سالگرہ کی تقریب میں پہلی بار اور وہ بھی سرسری سی ملاقات میں کون کسے یاد رکھتا ہے؟ مگر اس وقت مجھے خوشگوار حیرت کا سامنا ہوا جب مجھے قریب آتا دیکھ کر صبا کے قبیح چہرے پر شناسائی کے آثار ابھرے تھے اور وہ دھیرے سے مسکرائی۔ آپ شاید مجھے پہچان گئیں۔ چلیں پھر بھی میں اپنا تعارف کرائے دیتا ہوں میں در حقیقت" جی میں آپ کو پہچان گئی ہوں آپ کیپٹن عمران صاحب ہیں۔ میری بہت عزیز سہیلی سلطانہ کے بڑے بھائی وہ میری بات کاٹ کر مسکراتے ہوئے بولی۔ اور میں نے بھی جو ابا ہلکی مسکراہٹ سے کہا۔صرف .. عمران صاحب ۔ خیر میں یہاں سے گزر رہا تھا کہ آپ کو یوں کھڑے پاکر کشاں کشاں ادھر چلا آیا۔ شاید آپ کی کار .....میں نے آخر میں دانستہ اپنا جملہ ادھورا چھوڑا تو وہ بولی۔۔۔ ہاں پتہ نہیں کیا خرابی ہو گئی ہے۔ ویسے میں نے گھر موبائل پر اطلاع دے دی ہے پاپا کا ڈرائیور آنے ہی والا ہو گا۔۔۔ " کیا آپ کے ساتھ ڈرائیور نہ تھا۔؟" "نہیں میں کار عموماً خود ہی ڈرائیو کرتی ہوں۔ اپنی سہیلی کے ہاں گئی تھی ... واپس لوٹ رہی تھی کہ نہ جانے کیا ہوا چلتے چلتے جھٹکے مارنے لگی " اوہ اچھا میں ذرا خرابی ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہوں . میں نے شستہ مسکراہٹ سے کہا اور کار کا بونٹ اٹھا کر اس پر جھک گیا۔ خرابی معمولی نہ تھی کسی مکینک کو دکھائے بغیر دور نہیں ہو سکتی تھی ۔ اس لئے میں نے اچانک اس سے کہا۔ اگر آپ مائنڈ نہ کریں تو جب تک آپ کا ڈرائیور نہ آ جائے ہم وہ سامنے والے ریسٹورنٹ میں چل کر بیٹھ جاتے ہیں۔ مکینک بھی ساتھ ہی ہے جیسے ہی آپ کا ڈرائیور آئے گا میں اسے کار مکینک تک پہنچانے کا کہہ دوں گا۔ وہ کچھ سوچتے ہوئے راضی ہو گئی۔ "ہم دونوں ریسٹورنٹ میں آ کر ایسے کونے پر اچھی میز کرسیوں پر براجمان ہو گئے جہاں سے سڑک پر کھڑی کا رصاف نظر آتی تھی ۔" میں نے چائے کے آرڈر کے ساتھ کچھ اسنیکس بھی منگوانے چاہئے مگر صبا نے معذرت کرتے ہوئے صرف چائے پر اکتفا کیا۔ اور سنائیں آپ کیسی ہیں؟ میں نے اپنے دل کی بے طرح دھڑکنوں پر قابو پاتے ہوئے کہا۔ وہ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ میری طرف دیکھتے ہوئے بولی۔ بالکل ٹھیک ہوں۔ آپ سنائیں۔ آپ کی سروس کیسی چل رہی۔۔۔۔ ایک دم فرسٹ کلاس میں نے کہا۔ پھر میں نے ہولے سے کھنکار کر اس کے چہرے کی طرف غور سے دیکھا اور مزید بولا۔ "صبا صاحبہ ! درحقیقت میں آپ سے ایک بہت اہم بات کرنا چاہتا تھا۔ اور موقع کی تلاش میں تھا۔ پتہ نہیں آپ اسے کہیں میرے عامیانہ رویے پر محمول نہ کریں مگر مجبوراً بھی کچھ اہم باتیں کرنے کیلئے بسا اوقات ایسے عمومی سہاروں کی ضرورت پڑتی ہے۔" وہ میری بات پر کھلکھلا کر ہنس دی۔ "ارے .. عمران صاحب ! آپ تو واقعی بہت سنجیدہ نظر آنے لگے....خیر میں سن رہی ہوں " میں نے کہا۔ صبا صاحبہ شاید آپ کو برا لگے لیکن کیا آپ مجھے یہ بتائیں گی کہ آپ کے پاپا سیٹھ اصغر صاحب ... سلطان جہانزیب کو کب سے جانتے ہیں ... میری بات پر وہ قدرے چونک کر میرا چہرہ تکنے لگی۔ اس کی آنکھوں میں پہلے ایکا ایکی اداسی کی ایک رمق سی ابھری۔ پھر جب وہ ہولے سے مسکرا کر بولی تو مجھے اس کی مسکراہٹ .... بے تاثر ہی محسوس ہوئی۔ " کچھ زیادہ پرانی جان پہچان تو نہیں مگر بہر حال جتنی بھی ہے.....بہت مضبوط ہے..." اس تھوڑے عرصے میں اچانک ہونے والی مضبوط دوستی کی کوئی خاص وجہ یا میرا مطلب ہے. کوئی کاروباری مجبوری میں نے اس کی سرمگیں آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھا۔ تو اس بار وہ یوں آنکھیں پھیلا کر مجھے حیرت سے دیکھنے لگی جیسے میں نے کوئی انہونی کہہ ڈالی ہو۔ پھر دوسرے ہی لمحے وہ اپنے مخصوص کھلنڈرے پن والی ہنسی کے ساتھ بولی۔ "ارے واہ عمران صاحب آپ تو غضب کے قیافہ شناس ہیں۔ آپ کو کیسے علم ہوا کہ میرے پپا نے کسی کار باری مجبوری کی وجہ سے انکل سلطان کے ساتھ تھوڑے عرصے میں گہری دوستی بنالی ہے؟" "یہ قیافہ شناسی نہیں ہے. صبا صاحبہ ! بلکہ حقیقت ہے کہ سلطان جہانزیب کی شخصیت ملک دشمن عناصر کے حوالے سے مشکوک ہے۔“ محض افواہ ہے۔ وہ پہلی بار متانت سے بولی۔ میں نے کہا۔ "کیا آپ وہ کاروباری مجبوری بتائیں گی کہ...." عمران صاحب ! میرا خیال ہے. اتنا ہی کافی ہے۔ اس نے اچانک کہا۔1 like
-
کامیابی کی سچی کہانیاں ۔۔۔ اردو فن کلب
یہ تو بڑے لوگوں کی داستانیں ہیں لیکن ہمارے ملک میں ایسے بے شمار لوگ موجود ہیں جنہوں نے فٹ پاتھ سے کاروبار شروع کیا اور اب اربوں روپے کے اثاثوں کے مالک ہیں یہ لوگ وہ مقام تو حاصل نہ کر سکے جس کا ذکر اس تھریڈ میں ہے لیکن دوسروں کے لیے بہترین مثال ضرور ہیں۔1 like
-
کامیابی کی سچی کہانیاں ۔۔۔ اردو فن کلب
زبردست۔ کیا حسین داستان عروج ہیں۔ نہایت ہی ولولہ انگیز اور جوش دلا دینے والی۔1 like
-
کامیابی کی سچی کہانیاں ۔۔۔ اردو فن کلب
اگر آپ نے فرانس، دبئی، سعودیہ، یورپی ممالک اور امریکی ریاستوں کی سیر کی ہے تو ضرورت آپ کی نظروں سے Hilton Hotels & Restaurant نامی بلند و بالا اور پرشکوہ عمارتیں گزری ہوں گی۔ آئیے! ان کے موجد سے آپ کا تعارف کرواتے ہیں۔ کونرڈہلٹن کو ان عمارتوں کا موجد اول کہا جاتا ہے۔ اس نے ایک کھاتے پیتے گھرانے میں آنکھ کھولی تھی۔ اعلی تعلیم کے حصول کے بعد ملک میں مختلف ملازمتوں پر فائز رہا۔ وہ فطری طور پر تاجر پیدا ہوا تھا۔ اس لیے ان ملازمتوں میں اسے سکون نہ آتا تھا۔ کیلی فورنیا میں اتھارٹی برائے قانون سازی کا ممبر تھا لیکن بینک میں کام کرنے اور زیادہ پیسے کمانے اور اپنی تجارتی کمپنی چلانے کے خواب دیکھتا تھا۔ انہی خوابوں کی تکمیل کے لیے ہلٹن نے ٹیکساس کا رخ کیا۔ وہ رات کے کسی پہر ٹیکساس پہنچا۔ سفر کی وجہ سے کافی تھک چکا تھا۔ اس نے ایک ہوٹل میں رات گزارنے کا فیصلہ کیا، جب ہوٹل پہنچا تو ہوٹل استقبالیہ نے سے کمرہ دینے سے معذرت کر لی کیونکہ تمام کمرے پہلے سے بک تھے۔ مزید کسی مسافر کی رہائش کے لیے گنجائش نہ تھی۔ ہلٹن کافی پریشان ہوا۔ اس کے دل پہ چوٹ سی لگی۔ اس نے اس محرومی کا مقابلہ انوکھے انداز سے کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہلٹن نے عزم کیا وہ ٹیکساس میں اپنا ہوٹل کھولے گا۔ اپنے ارادے کی تکمیل کے لیے وہ کمر بستہ ہو گیا۔ بینک میں ملازمت یا تجارتی کمپنی شروع کرنے کے بجائے اس نے ہوٹل بنانے اور خریدنے کا سوچ لیا۔ ہلٹن کی جیب میں صرف 5000 ہزار ڈالر تھے۔ اس نے بیس ہزار ڈالر بینک سے قرض لیا اور پندرہ ہزار ڈالر اپنے دوستوں سے جمع کر لیے۔ چند ہی دنوں میں ہلٹن نے ٹیکساس کے شہر سیسکومیں ایک ہوٹل خرید لیا۔ اس کا کاروبار آہستہ آہستہ پھلنے پھولنے لگا۔ اس نے ابتدا سے ہی گاہکوں کا اعتماد حاصل کرنے کی طرف خاص توجہ دی۔ صارفین کی خدمت کے لیے مستعد عملہ اور باقی سہولیات کا بھرپور خیال رکھا۔ اس سے لوگوں کا اعتماد ہلٹن انتظامیہ پر بڑھ گیا۔ دس سال کا عرصہ ہی گزرا تھا کہ ہلٹن ٹیکساس میں سات بڑے بڑے ہوٹلوں کا مالک بن چکا تھا۔ یہ وہی شہر تھا جہاں ایک دہائی قبل ہلٹن کو رات ٹھہرنے کے لیے ہوٹل میں ایک کمرہ میسر نہ آیا تھا۔ یہ پہلا امریکی ہوٹل ہے جس نے یورپ، اسپین، استنبول، سعودیہ اور دبئی میں اپنی شاخیں کھولیں۔ ایک اندازے کے مطابق ہلٹن کے ہوٹلوں میں موجود کمروں کی تعداد 10,2000 ہے۔ جو جدید تقاضوں اور سہولیات سے لیس ہیں۔ ہلٹن ہوٹلز کا مرکزی دفتر کیلی فورنیا کے شہر بیفرلی میں واقع ہے۔ جو ریاست ہائے متحدہ امریکا میں 34 سے زائد ہوٹل براہ راست کنٹرول کرتا ہے۔ جبکہ آسٹریلیا سمیت دنیا کے دیگر ملکوں میں 18 سے زائد ہوٹلوں کے سلسلے بھی یہیں سے کنٹرول ہوتے ہیں۔ پوری دنیا میں ان کی مختلف شاخوں کا سلسلہ 180 کے عدد کو چھوتا ہے۔ اس کامیابی کے بعد ہلٹن نے اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ کنسٹرکشن کا پورا شعبہ ترتیب دیا۔ انجینئروں کی ایک ٹیم، نقشہ نگار اور دیگر عملہ بھرتی کیا تاکہ تعمیرات میں کسی دوسرے کا محتاج نہ رہا جائے۔ نیو یارک سٹی میں لوگوں کا عام خیال تھا کہ ایک شہر میں ایک کمپنی کی دو برانچیں یا ایک کمپنی کے دو ہوٹل کھل جائیں تو ان کی آمدن میں کمی آ جاتی ہے، لوگوں کا اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ ہلٹن نے نیو یارک سٹی میں دو ہوٹل کھول کر اس خیال کا شیرازہ بکھیر دیا۔ ہلٹن ہوٹل وہ پہلا امریکی ہوٹل ہے جس نے نیو یارک میں اپنے شیئرز بیچے۔ ترقی یافتہ ممالک میں سب سے زیادہ برانچیں رکھنے کا اعزاز بھی اسی کو حاصل ہے۔ دنیا میں سب سے پہلے ہوٹلوں میں گفٹ سنٹر کھولنا بھی اسی کا کارنامہ ہے۔ گفٹ سینٹر جیسی دیگر کئی سہولیات اور گاہکوں کی خدمت میں انتظامیہ نے کوئی کسر نہ چھوڑی۔ 1959 ء میں ہوٹل انتظامیہ نے ایئر پورٹس اور ہوائی اڈوں میں اپنے ہوٹل کھولنے کا اعلان کیا۔ اس سے پہلے ایئر پورٹوں میں یہ سہولت دسیتاب نہ ہوتی تھی۔ اس وقت دنیا کے پچاس سے زائد ایئر پورٹوں میں ہلٹن ہوٹلز اپنی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ کونر ڈہلٹن کی کامیابی کے تین راز ہیں: تعمیری سوچ ، خیال کو حقیقت بنانے میں سنجیدگی اور چیلنجز کا کھلے دل سے مقابلہ۔ کہا جاتا ہے اگر ہلٹن کو اس رات ہوٹل میں آرام کے لیے کمرہ مل جاتا تو آج دنیا ہلٹن ہوٹلز کے پورے سلسلے کے وجود سے محروم ہوتی۔ ہلٹن کو جب کمرہ دینے معذرت کی گئی تو اس نے مثبت اور تعمیری سوچ سوچی۔ اس نے کہا: میں اپنا ہوٹل کھولوں گا۔ اس نے اپنے خیال کو پھر محض خیال نہ رکھا بلکہ عملی جامہ پہنا کر دنیا کو حیران کر دیا۔ اس کے پاس ہوٹل بنانے کے لیے سرمایہ نہ تھا لیکن وہ گھبرایا نہیں بلکہ بینک اور اپنے دوستوں کی مدد حاصل کی۔ یوں وہ اپنے عزم میں کامیاب ہو گیا۔ آج کیلی فورنیا، نیویارک، شکاگو اور واشنگٹن کے بڑے ہوٹلوں میں کامیاب ہلٹن ہوٹلز سر فہرست نظر آتے ہیں۔ کامیابی اسی شخص کے قدم چومتی ہے جو سوچتا ہے، پھر خیال کو حقیقت کا جامہ پہنانے میں سنجیدہ ہو جاتا ہے۔ ایک وقت آتا ہے اس کی سوچ خود بخود حقیقت بننا شروع ہو جاتی ہے۔ ۔1979 ء میں کونرڈ ہلٹن انتقال کر گیا لیکن اپنے پیچھے کامیابی کے سنہرے اصول چھوڑ گیا۔ اسے ایک کمرے میں آرام کرنے سے محروم کیا گیا تھا، ہلٹن نے کئی لوگوں کے لیے کمرے بنا کر ثابت کر دیا کہ تعمیری سوچ کے حامل شخص کا دنیا میں کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اس نے ثابت کر دیا کہ ہر چیز کی ابتدا سوچ سے ہوتی ہے۔ پھر انتھک محنت، روز شب کی تگ و دو اور عزم مصمم اس خیال کو حقیقت میں بدل دیتے ہیں۔1 like
-
کامیابی کی سچی کہانیاں ۔۔۔ اردو فن کلب
یونیورسٹی کی فیس ادا نہ کرسکنے والا فریڈ ڈیلوکا سب وے کمپنی کا بانی کیسے بنا مقررہ تاریخ پر فیس جمع نہ کرانے والوں کو کلاس میں بیٹھنے کی اجازت نہ ہو گی۔‘‘ یہ اعلان ہونے کے بعد میری پریشانی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔ کافی دنوں سے میں اپنی یونیورسٹی فیس کے بارے میں بہت پریشان تھا۔ گھر کے حالات کچھ ایسے نہ تھے کہ میں اپنی بھاری بھر کم فیس کا بوجھ اپنے والدین کے کاندھوں پر ڈال دیتا۔ادھر میرے پاس بھی اس کا بظاہر کوئی ذریعہ نہیں تھا کہ اسے مقررہ دن پر ادا کرپاتا۔مجھے ڈاکٹر بننے کا بہت زیادہ شوق تھا، لیکن اب مجھے خطرہ محسوس ہورہا تھا کہ کہیں میرا ڈاکٹری کا خواب چکنا چور نہ ہو جائے۔ میں ایک دن پریشانی کے عالم میں اسکول پہنچا تو نوٹس بورڈ پر آویزاں اعلان پڑھ کر مجھے شدید خطرہ لاحق ہو گیا۔ فیس ادا کرنے کا دن قریب آ چکا تھا اور میری جیب میں دھیلا تک نہ تھا۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کروں۔ میرا ضمیر بھی کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی اجازت نہیں دیتا تھا۔گھر میں غربت کا ڈیرہ تھا۔ اس لیے میں اپنا تعلیمی خرچ پورا کرنے کے لیے ایک اسٹور پر کام کرتا تھا۔ وہاں سے ملنے والی مزدوری سے بمشکل گزارا ہو رہا تھا۔ یونیورسٹی کی فیس زیادہ تھی، جو میری استطاعت سے باہر تھی۔ میں پارٹ ٹائم کی جاب سے اسے پورا نہیں کر سکتا تھا۔ اپنی پریشانی کو کم کرنے کے لیے اپنے ایک پرانے اور دیرینہ دوست کے پاس چلا گیا کہ اس سے کوئی مشورہ یا بات وغیرہ کر وں، جو میری پریشانی کو ہلکا کر دے اور اس مشکل سے نکلنے کی کوئی سبیل پیدا ہو۔ وہ منظر آج بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے۔ اس دن گرم لُوچل رہی تھی۔ چلچلاتی دھوپ اور دوپہر کا وقت۔ میں اپنے دوست کے گھر میں موجود تھا۔ میرے چہرے پر پریشانی کے آثار نمایاں تھے۔ میرے دوست پیٹربک نے مجھے دیکھا تو میری پریشانی بھانپ گیا۔ میں نے ساری صورت حال بتادی۔ اس کے بعد اس نے مجھے مشورہ دیا کہ ’’آپ ایک سینڈوچ شاپ کھول لیں۔‘‘ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا،یہ جواب میری توقع سے بہت مختلف تھا۔ میں گہری سوچ میں پڑ گیا۔ پیٹر نے میری ہمت یوں بندھائی کہ اگر میں یہ بزنس شروع کروں تو وہ بھی میرا پارٹنر ہو گا۔ میرے لیے یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل تھا، میرے پاس تو یونیورسٹی کی فیس دینے کے لیے کچھ نہ تھا۔ بزنس کے لیے تو سرمایہ چاہیے، وہ میں کہاں سے لاتا؟ یہ مسئلہ صرف میرے ساتھ نہ تھا، بلکہ دنیا میں جو شخص بھی بزنس کا ارادہ کرتا ہے اسے مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دوسروں کی نوکری چاکری کرتے کرتے میں بھی تھک چکا تھا۔ اب اپنا بزنس شروع کرنے کی خواہش انگڑائی لینے لگی۔ اس تمنا کو آخر پیٹر ہی نے پورا کر دیا۔ اس نے بزنس شروع کرنے کے لیے ایک ہزار ڈالر بطورِ قرض دیے۔میں نے اس کا شکریہ ادا کیا۔ اندھے کوکیا چاہیے دو آنکھوں کے سوا۔ ہم دونوں نے مل کر 1965 ء کو برج پورٹ میں ایک سب وے سینڈ وچ شاپ کھول لی۔یہی آگے چل کر دنیا کی نمبر ون کمپنی بنی۔ پہلے سال جہاں سیکھنے کو بہت کچھ ملا، وہاں مشکل حالات کا بھی خوب سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران مجھے احساس ہوا کہ بزنس کے پھیلاؤ کے لیے ایڈورٹائزنگ اور پبلسٹی کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ویزیبلٹی بہت ضروری ہے۔یعنی دکان ایسی جگہ پر ہو، جو دور سے نظر آئے۔ اگلے ہی سال ہم دونوں دوستوں نے دوسرا اسٹور بھی کھول لیا۔ ہم نے ابتدا ہی سے اپنی پروڈکٹ ’’سینڈوچ‘‘ کی کوالٹی پر کوئی سمجھوتہ قبول نہ کیا۔ عمدہ معیار کی وجہ سے دِنوں میں ہمارے گاہک بڑھتے گئے۔ ہماری پروڈکٹ کا شہرہ ہونے لگا۔ اس بڑھتی ہوئی مقبولیت اورہر دلعزیزی کو دیکھ کر میں نے عزم کیا کہ آئندہ 10 سالوں میں 32 اسٹور مزید کھولوں گا۔ اس خواب کو پورا کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ یہاں ایک بات قابلِ غور ہے کہ میں اسی ایک اسٹور کو بھی بڑا کر سکتا تھا، لیکن اس میں کاہگوں کے لیے مسائل تھے۔ وہ ہمارے سینڈ وچ کو پسند کرتے تھے اور اس کے لیے انہیں سفر کی صعوبت بھی اٹھانی پڑتی تھی۔ مجھے یہ بات گوارا نہ تھی۔ اگر آپ بزنس کو ترقی دینا چاہتے ہیں تو اس کے لیے فرنچائزیں کھولیں۔ جب آپ کی ساکھ بن چکی ہوتی ہے تو کسٹمرز اپنے قریبی اسٹور سے آپ کی پروڈکٹ خریدنا پسند کرتے ہیں۔ فاسٹ فوڈز کے بزنس میں ضروری ہے کہ آپ مختلف جگہوں اور شہروں میں اپنی فرنچائز اور اسٹورز کھولیں۔ اتنی بات ضرور یاد رکھیں کہ اپنی پروڈکٹ اور کسٹمر سروس کی کوالٹی اور معیار میں رتی برابر فرق نہ آنے دیں، ورنہ آپ کا بزنس پانی کا بُلبُلہ ثابت ہو گا۔ کون جانتا تھا کہ فریڈ ڈیلوکا ڈاکٹر بن کر لوگوں کا علاج کرنے کے بجائے ان کی غذا کا سامان کرے گا۔ آج میری سب وےکمپنی 106 ممالک میں 41 ہزار 827 ریسٹورنٹ کے ساتھ موجود ہے۔ یہ دنیا میں فاسٹ فوڈز کی نمبر ون کمپنی ہے۔1 like
-
کامیابی کی سچی کہانیاں ۔۔۔ اردو فن کلب
خطروں سے کھیلنے والا شیلڈن جو مسلسل ناکامیوں کے بعد 51ویں بزنس میں کامیاب ہوگیا جمعرات کا دن تھا۔ یونیورسٹی میں صبح سے ہی چہل پہل شروع ہو چکی تھی۔ ایک لان میں اسٹیج سجا ہوا تھا۔ خوبصورت شامیانے لگے ہوئے تھے۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ طلبہ کی ٹولیاں جگہ جگہ نظر آ رہی تھیں۔ وہ گپ شپ میں مصروف تھے اور بات بات پر قہقہے لگا رہے تھے۔ ان کے چہروں سے خوشی کے آثار صاف دکھائی دے رہے تھے۔وہ خوش اس لیے تھے کہ آج ان سے دنیا کے دسویں امیر ترین شخص نے خطاب کرنا تھا۔ اپنی کامیابی کے راز سے پردہ اٹھانا تھا کہ بارہ سالہ اخبار فروش بچہ کیسے دنیا کا امیر ترین آدمی بن گیا۔ وہ آدمی شیلڈن تھا اور شیلڈن کی کہانی کچھ اس طرح ہے۔ شیلڈن ایڈلسن ایک امریکی بزنس مین ہے۔ جولائی 2014ء فوربس میگزین کے مطابق اس کے اثاثہ جات 36.4 ارب ڈالرز پر مشتمل ہے۔ اس مالیت کے ساتھ یہ دنیا کا دسواں امیر ترین شخص ہے۔ یہ ایک اسرائیلی اخبار کا مالک بھی ہے بہرحال! صبح 10 بجے وہ لمحہ آن پہنچا، جس کے لیے یہ سارے انتظامات کیے گئے تھے۔ شیلڈن مائیک پر آئے اور یونیورسٹی کے طلبہ اور پروفیسر سے خطاب کرنے لگے۔ 90 منٹ کی تقریر تھی۔ آخر پر سوالات کی نشست ہوئی۔ ایک طالب نے سوال کیا: ’’آپ کی کامیابی کا راز کیا ہے؟‘‘ ’’میں اس کے بارے میں کبھی جان نہ سکا‘‘ شیلڈن نے کہا۔ اس کا یہ جواب طلبہ کے لیے انوکھا اور حیران کن تھا۔ ایک اور طالب علم نے ہمت کرتے ہوئے کہا: ’’یہ تو ہو نہیں سکتا کہ آپ ترقی کی منزلیں طے کرتے چلے جائیں، اور آپ کو کامیابی کے اسباب کا علم تک نہ ہو۔‘‘ اس تبصرے پر شیلڈن ہنس پڑا اور کہنے لگا کہ میری کامیابی کے راز اور اسباب بہت ہو سکتے ہیں لیکن جس کو میں اپنی ترقی کا راز سمجھتا ہوں وہ چار حرف پر مشتمل ایک لفظ ہے۔ رسک یعنی خطرات میں کود جانا۔ شیلڈن 14 اگست 1933 ء کو ایک غریب خاندان میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ ایک ٹیکسی ڈرائیور تھا۔ شیلڈن کا بچپن ہی والدین کے لیے حیران کن تھا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک ایسا بچہ عطا کیا تھا جو بہت ساری خصوصیات کا مالک تھا۔ حوصلہ مندی، بہادری اور خطرات میں کود جانا اس میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ اس سے بڑھ کر یہ خوبی تھی کہ ناکامی سے گھبرانے کے بجائے اس سے مزید سیکھتا اور آگے بڑھتا چلا جاتا۔ 12 سال کی عمر میں شیلڈن نے اپنا بزنس کیرئیر شروع کیا۔ اس کے پاس اتنے پیسے نہ تھے کہ وہ کوئی کاروبار کر سکتا۔ اس مشکل سے نکلنے کے لیے اس نے اپنے چچا سے دو سو ڈالر قرض لیے اور اس سے اخبار فروشی کا لائسنس خریدا۔ یہ صبح سویرے اٹھتا اور سائیکل پر اخبار لاد کر مختلف گھروں تک پہنچاتا اور پھر اسکول جاتا۔ یہ کام چار سال باقاعدگی سے چلتا رہا،لیکن اس کام میں ترقی کے آثار نظر نہیں آ رہے تھے۔ اس وجہ سے ٹافیاں بنانے والی مشین کی خرید و فروخت کا بزنس شروع کر لیا۔ اس دوران شیلڈن کو احساس ہوا کہ بزنس سے متعلق تعلیم حاصل کرنی چاہیے، کیونکہ رسمی تعلیم عملی زندگی میں زیادہ ساتھ نہیں دے پاتی۔ شیلڈن ایک ٹریڈ اسکول میں بڑھنے لگا۔ ابھی تعلیم مکمل نہیں ہو پائی تھی کہ فوج میں بھرتی ہو گیا۔ کسی وجہ سے یہ فوج سے ڈسچارج کر دیا گیا۔ اس کے بعد سٹی کالج آف نیو یارک میں پڑھنے لگا۔ بزنس ’’شیلڈن‘‘ کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا تھا۔ اس لیے یہ تعلیم کے ساتھ پرس اور بیگ وغیرہ فروخت کرنے لگا۔ شیلڈن کے ساتھ ایک مسئلہ تھا جسے آپ اس کی خوبی یا عیب کہہ سکتے ہیں۔ یہ جس چیز میں نفع دیکھتا تو پہلے کام کو چھوڑ کر اس کی طرف لپک پڑتا۔ اس کے بعد یہ کیمیکل اسپرے فروخت کرنے لگا۔ ۔1960 ء میں اس نے ایک چارٹر ٹورز بزنس شروع کیا۔ بہت سارے خیر خواہوں اور دوستوں نے اسے اس بزنس میں کودنے سے منع کیا لیکن یہ ہمیشہ رسک لیتا اور روکنے کے باوجود رکا نہیں کرتا تھا۔ ٹورزم (سیاحت) کے بزنس سے پہلے ہر کام میں اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا، لیکن شیلڈن اس کو ناکامی نہیں کہتا تھا۔ اس کے مطابق یہ ایک رکاوٹ تھی جو اس کے راستے میں آئی اور ہٹ گئی۔ یہ بزنس اس کے لیے ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔ اب اس کی کاروباری زندگی ایک نئے ڈگر پر چل پڑی۔ یہ جلد ہی لاکھوں مالیت کا مالک بن گیا۔ اگر شیلڈن کی 30 سالہ زندگی کا جائزہ لیا جائے تو اس میں بے شمار اتار چڑھاؤ دکھائی دیتے ہیں۔ قدم قدم پر ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا، لیکن اس نے ہمت نہ ہاری۔ شیلڈن نے اپنی کاروباری زندگی میں خود سے 50 بزنس کیے۔ اگر آپ بھی بزنس کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو رسک لینا پڑے گا۔ کاروباری سفر خطرات سے پُر ہوتا ہے۔اس میں کامیابی صرف ان کے قدم چومتی ہے جو رسک لیتے ہیں۔ جتنا آپ گُڑ ڈالیں، اتنا میٹھا ہوگا۔1 like
-
کامیابی کی سچی کہانیاں ۔۔۔ اردو فن کلب
موچی سے کمپنی مالک تک ٹامس باٹا کی کامیابی کا سفر باٹا کمپنی اس وقت دنیا کا سب سے بڑا جفت ساز ادارہ ہے۔ اس کے براہ راست ملازمین کی تعداد تقریبا 90 ہزار اور بالواسطہ اس کے علاوہ ہے۔ ٹامس باٹا کی کامیابی کا سفر ایک مزدور کے ایک فقرے سے شروع ہوا اور اس کے بعد وہ کسی جگہ رکا نہیں۔ وہ مزدور اب بوڑھا ہو چکا تھا۔ واجبی سی تعلیم تھی، لیکن تجربات سے مالامال تھا۔ وہ زندگی کے پُرپیچ راستوں سے خوب واقف تھا۔ یہ اسی بوڑھے مزدور کے تجربات سے بھرپور فقرہ تھا جس نے اسے عام موچی سے ملٹی نیشنل کمپنی کا مالک بنا دیا، جس کا آج بھی شہرہ ہے۔ ٹامس نے موچی کا کام شروع کیا۔ اس کے لیے ایک دکان کھول لی اور ساتھ مزدور بھی رکھ لیے۔ یہ چند مہینے دکان چلا پایا تھا، لیکن اسے ہر قدم پر ناکامی ہو رہی تھی۔ لوگ اس کے بنائے ہوئے جوتے نہیں خریدتے تھے اور ملازمین بھی اس سے خوش نہ تھے۔ ٹامس ہمت ہار کے گھر بیٹھ گیا۔ دکان پر جانا چھوڑ دیا اور پریشان سا رہنے لگا۔ انہی دنوں ایک شناسا بوڑھے مزدور سے ملاقات ہوئی۔ اس نے اس کے چہرے سے پریشانی بھانپ لی اور وجہ پوچھی تو ٹامس نے ساری صورت حال بتا دی۔ بوڑھے مزدور نے کہا: ’’بیٹا! ہمیشہ تم یہ خیال کیا کرو کہ میری پروڈکٹ مہنگی ہے اور مزدوروں کو ان کی محنت سے کم تنخواہ دے رہا ہوں، اس طرح آپ یہ کوشش کرتے رہیں گے کہ کس طرح میری پروڈکٹ سستی ہو اور میرے مزدوروں کو زیادہ تنخواہ ملے۔‘‘ یہ بات تیر کی طرح ٹامس کے دل کو لگی اور اس نے ہمیشہ کے لیے اس پر عمل کرنے کی ٹھان لی۔ ٹامس باٹا ’’باٹا شوز کمپنی‘‘ کا بانی ہے۔ اس نے کمپنی اپنے خاندان کے نام پر بنائی۔ اس کا خاندان ابتداء میں چیکوسلواکیا میں رہتا تھا۔ جفت سازی ان کا آبائی پیشہ ہے جو 1620ء سے ان کے ہاں چلا آ رہا ہے۔ ٹامس نے 24 اگست 1894ء میں پہلی بار جوتے کا کارخانہ لگایا۔ یہی کارخانہ بڑھتے بڑھتے ایک ملٹی نیشنل کمپنی کی صورت اختیار کر گیا۔ جس کا کاروبار 114 ممالک میں پھیلا ہوا ہے۔ باٹا کمپنی اس وقت دنیا کا سب سے بڑا جفت ساز ادارہ ہے۔ اس کے براہ راست ملازمین کی تعداد تقریبا 90 ہزار اور بالواسطہ اس کے علاوہ ہے۔ جفت سازی آبائی پیشہ ہونے کی وجہ سے ٹامس کے لیے آسان تھا۔ جس کی وجہ سے اس نے اسی کو اپنایا۔ تقریباً 3 سو سال سے یہ کام ان کے خاندان میں چلا آ رہا تھا لیکن کسی نے اس میں ترقی کی طرف توجہ نہ دی اور اس کاروبار کو پھیلانے کی کوشش بھی نہ کی جیسا کہ ہمارے ہاں ہوتا ہے۔ باپ دادا سے ایک دکان چلی آ رہی ہے۔ اولاد میں وراثت کے طور پر تقسیم ہو جاتی ہے۔ وہ دکان بڑی ہونے کے بجائے مزید ٹکڑوں میں بٹ جاتی ہے، لیکن کسی کو یہ خیال نہیں آتا کہ اس کاروبار کو پھیلایا اور بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔ ٹامس نے خاندانی روایت کو توڑنے کے لیے کارخانے کی بنیاد رکھی اور اپنے ساتھ 10ملازمین بھی رکھ لیے۔ ایک سال یہ کام چلا ہو گا کہ ٹامس قرض کے بوجھ تلے دبنے لگا اور مالی پریشانیوں نے اسے آگھیرا۔ اس دوران ایک شناسا بوڑھے مزدور سے ملاقات ہوئی، جس نے اس کی مشکل ہمیشہ کے لیے حل کر دی۔ ٹامس نے چمڑے کے جوتے بنانے کے ساتھ موٹے کپڑے سے جوتے تیار کرنے لگا جو سستے پڑتے تھے اور لوگوں نے بھی انہیں بہت پسند کیا۔ ان جوتوں کی مقبولیت اور مانگ بڑھنے سے ملازمین کی تعداد 10 سے 50 ہو گئی۔ ٹامس نے اپنی پروڈکٹ کے سستے ہونے کی طرف توجہ دی۔ اس طرح ملازمین کی بھی اجرت کا خیال رکھا۔ٹامس نے باٹا پرائس بھی متعارف کروائی۔ ان کی پروڈکٹ کی قیمت 9 کے ہندسے پر ختم ہوتی ہے۔ کسی چیز کی قیمت 99 یا 19.99 روپے ہو گی، جو دیکھنے میں 100 اور 20 سے اچھی لگتی ہے حالانکہ ایک عدد کا فرق پڑتا ہے۔ چار سال میں باٹا شوز کمپنی کا کام اس حد تک بڑھ گیا کہ اب مشینوں کی ضرورت پڑ گئی کیونکہ اس کے علاوہ ڈیمانڈ پوری نہیں کی جا سکتی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ اب آٹومیشن کا دور آگیا ہے۔ مشینوں اور ٹیکنالوجی سے آپ کم وقت اور قلیل خرچ سے زیادہ پروڈکٹ بنا سکتے اور منافع کما سکتے ہیں۔ ٹامس باٹا ہمیشہ ایک تاجر کی طرح سوچتا رہتا تھا کہ اپنے کاروبار کو بڑھانے کے لیے وہ کیا کر سکتا ہے۔ وہ کاروباری حضرات سے مشاورت بھی کرتا۔ 1904ء میں اس نے اپنی کمپنی میں مکینکل پروڈکٹ تکنیک متعارف کروائی۔ اس طرح جلد ہی باٹا شوز کمپنی یورپ کی پہلی بڑی جفت ساز کمپنی بن گئی۔ 1912ء میں اس کی کمپنی کے ملازمین 600 ہو چکے تھے جو اس کی ترقی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ 1914ء میں پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی۔یہ ٹامس کے لیے قرعہ فال ثابت ہوئی۔ اس کے پاس جرمن فوج کے جوتے بنانے کے آرڈر آنے لگے۔ 1914ء سے لے کر 1918ء تک اسے پہلے سے دس گنا زیادہ ملازمین رکھنے پڑگئے۔ کاروباری دنیا میں کامیابی کے ساتھ پریشانی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ جنگ کے بعد اس کا کاروبار بہت مندا ہو گیا، لیکن اس نے ہمت نہ ہاری۔ 1925ء میں پھر سے بزنس عروج کی طرف بڑھنے لگا۔ ٹامس کی باٹا کمپنی زلین میں تھی۔ اب یہ ایک شہر کی صورت اختیار کر گیا ۔ کمپنی بھی کئی ایکڑ زمین پر پھیل چکی تھی۔ ٹامس باٹا 1932 ء میں 56 سال کی عمر میں جہاز کے ایک حادثے میں فوت ہو گیا۔ وہ خود تو اس دنیا سے چلا گیا، لیکن آج بھی اس کے لگائے ہوئے درخت سے دنیا بھر کے لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔1 like