Leaderboard
-
Javaidbond
Previous Members11Likes65Posts -
ثقلین شاہ
Previous Members10Likes143Posts -
AnjoCow
Cloud Premium8Likes1,369Posts -
مرزا اسلم
Previous Writers7Likes375Posts
Popular Content
Showing most liked content on 27/04/23 in all areas
-
کالج کلز ، تعارفی ایڈیشن از ڈاکٹر فیصل خان
مولوی پر چوت کا بھوت سوار ہو گیا ہے۔۔ دوائی کھا کہ ایسی چس کروائے گا کہ عورت اس ک لن کی دیوانی ہو جائے گی۔۔۔1 like
-
کالج کلز ، تعارفی ایڈیشن از ڈاکٹر فیصل خان
1 like
-
کالج کلز ، تعارفی ایڈیشن از ڈاکٹر فیصل خان
رابعہ کی خود لذتی کا آپ نے کمال طریقہ سے منظر نامہ بیان کیا... واہ ایک ہاتھ ممے پر اور ایک پھدی پر... بہت ہی خوب ڈاکٹرصاحب مزہ آگیا.. سونیا کا سیکس سین نبیل کے ساتھ دیکھنے والا ہوگا.. کیا پتا رابعہ بھی دیکھ لے اور مجبور ہوجائے... آنے والے سین بڑے مزے دار ہونے والے ہیں اور مولوی صاحب کے سین کا ابھی لگتا ہے اور انتظار کرنا پڑے گا....1 like
-
کالج کلز ، تعارفی ایڈیشن از ڈاکٹر فیصل خان
یہ کہانیاں ہم صدیوں سے سن رہے ہیں کہ امیرزادیاں بندے اٹھا لیتی ہیں۔ اس میں کوئی خاص حقیقت نظر نہیں آتی۔ان کو اپنے سرکل میں اپنے جیسے کافی مل جاتے ہیں۔ان کو اپنے سے نیچے آنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ مگر ایسا بھی ہو جایا کرتا ہے کہ طبقاتی فرق سے نیچے آ کر کوئی معاشقہ چلا لے۔یہ کہانیاں اکثر سامنے آجاتی ہیں۔ ہمارا بولی وڈ اسی سے بھرا ہوا ہے۔ ماضی کی ہر فلم کی سٹوری یہی ہوتی تھی۔ امیر اور غریب کی محبت پر ہزاروں فلمیں بنی ہوئی ہیں۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ سیکس کرتی ہیں امیرزادیاں تو ہر انسان کی سیکس کی وجہ بڑی الگ ہوتی ہے۔ کسی کو محبت میں چاہیے،کسی کو صرف چند پیسوں کے بدلے بھی کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں۔ کال گرل جو ہے وہ ہزار 500 میں کرنے کے لیے تیار ہوتی ہیں،وجہ سیکس کا محرک پیسہ ہے۔ ایک شریف لڑکی جس نے کسی مرد کا منہ تک نہیں دیکھا ہوتا اچانک پہلی ملاقات میں شلوار اتار دیتی ہے کیونکہ سیکس کا محرک نکاح ہے اس کے لیے۔ نکاح جو بھی کر لے گا چاہے ناپسند ہی کیوں نہ ہو وہ چپ چاپ سیکس کروا لے گی۔ ایسے ہی ایسی لڑکیاں ہوتی ہیں جن کے لیے سیکس کسی خاص جذبے کی تسکین کا ذریعہ ہوتا ہے۔ لوگ اس کو حسرت یا ہمیشہ ترستے ہوئے دیکھیں اس کے لیے بھی سیکس کر سکتی ہیں۔ وہ جس کو جب چاہے سیکس سے نواز سکتی ہیں۔ میں ایک لڑکی کو جانتا تھا جس سے کوئی بندہ ہلکا سا بھی میٹھے بول یا ہمدردی کی بات کرتا تھا تو وہ بڑی آسانی سے مان جاتی تھی۔پتہ نہیں کتنے بندوں نے اس سے فیض حاصل کیا۔1 like
-
کالج کلز ، تعارفی ایڈیشن از ڈاکٹر فیصل خان
Sir g ya upgrade kasy ho ga Dr shab 2 doller kasy ada kary ap ko koi num ya tareeka tu batao Dr sahab1 like
-
مجرِم یا۔۔۔
1 likeشمسہ نے مسکراتے ہوئے اپنے نرم و ملائم،، نازک ہاتھوں سے میرے لن کو پکڑا جو کہ اس کی مٹھی میں سمانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔۔۔شمسہ میرے لن کی ٹوپی پر زبان پھیرتی ہوئے اسے منہ میں لیکر چوسنے لگی۔۔۔میرے جیسا تجربہ کار کھلاڑی بھی اس کی تاب نہ لا سکا اور میرے منہ سے بے اختیار سسکاریاں نکلنے لگیں۔ شمسہ نے جو میرے منہ سے مزے کی سسکاریاں سنیں تو وہ اور جوش سے میرے لن کی ٹوپی کو چوسنے لگی اور چوستے چوستے اس نے میرا لن ہاتھ سے چھوڑ کر جیسے ایک غوطہ مارتے ہوئے کمال خوبصورتی سے میرے پورے لن کو منہ میں لیتے ہوئے لن کی ٹوپی کو اپنے حلق سے ٹچ کیا اور واپس لن باہر نکال کر پھر سے ٹوپی چوسنے لگی۔۔۔میرے منہ سے بے اختیار ایک آہہہ نکلی۔۔۔یا حیرت یہ شمسہ اور جمیل تو بہت پہنچے ہوئے لگتے ہیں۔ اب اس نے لن کو ایک سائیڈ پر جیسے لٹا دیا اور قلفی کی طرح چوسنے لگی۔۔۔میرے برداشت کی حد ایک دم ختم ہو گئی اور میں نے شمسہ کے منہ کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑتے ہوئے پورا لن اس کے منہ میں گھسا کر اس کے منہ کو پھدی کی طرح چودنا شروع کر دیا۔۔۔شمسہ کی زبان شہوت کی شدت سے شعلہ و جوالہ بنی ہوئی تھی۔۔۔میں نے بے اختیار اس کے بالوں کو اپنی مٹھیوں میں جھکڑ کر ایک زور کا گھسہ مارا تو میرا پورا لن جڑ تک اس کے منہ میں غائب ہو گیا اور ٹوپہ اس کے حلق سے ٹکرانے لگا۔ شمسہ کو ایک دم کھانسی نما ابکائی آئی۔۔۔اس نے اپنا منہ پیچھے کر کے میرا لن باہر نکالا تو ساتھ ہی ڈھیر سارا تھوک برآمد ہوا۔۔۔شمسہ اس تھوک کے ساتھ ہی آدھے لن کو پھر سے منہ میں لیکر چوستی گئی۔۔۔میری برداشت ختم ہوتی جا رہی تھی۔۔۔مجھے لگا کہ چند سیکنڈ اور میرا لن اس کے منہ میں رہا تو میں چھوٹ جاؤں گا۔۔۔میں نے شمسہ کو بتایا کہ میں چھوٹنے والا ہوں تو اس کی چوپے لگانے کی رفتار اور بڑھ گئی اور وہ بڑی سپیڈ سے لن کو اندر باہر کرنے لگی۔۔۔وہ میرا لن منہ میں لیے ہوئے مسلسل میری آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔ مجھے اس کی خوبصورت بلوری آنکھوں میں شہوت کے ساتھ ساتھ پیار کا ایک سمندر موجزن دکھائی دیا۔۔۔میں بڑے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیر رہا تھا۔۔۔شمسہ میرا لن چوسنے میں مگن تھی جبکہ اس کی آنکھیں میری آنکھوں میں پیوست تھیں۔۔۔آخرکار میرا لن شمسہ کی گرم جوانی سے شکست کھانے کے قریب پہنچ گیا اور میرے جسم کو جھٹکا لگا۔۔۔جھٹکا محسوس کرتے ہی شمسہ نے میرے چوتڑوں پر اپنے ہاتھ ٹکاتے ہوئے انہیں دبا دیا اور میں جو اپنا لن اس کے منہ سے باہر نکالنے کی سعی میں مصروف تھا اپنے چوتڑوں پر اس کے ہاتھوں کے دباؤ کو محسوس کرتے ہی وہیں رک گیا۔ پھر ایک جھٹکے کے ساتھ منی کی پہلی پچکاری شمسہ کے حلق سے ٹکرائی تو اس نے اپنے ہونٹوں کی گرِپ میرے لن کی ٹوپی پر مضبوط کر لی۔۔۔پھر دوسری پچکاری پہلے سے بھی ذیادہ طاقت سے شمسہ کے حلق سے ٹکرائی۔۔۔میرے ہاتھوں کی گرفت شمسہ کے بالوں پر مضبوط ہوتی چلی گئی۔۔۔پھر تیسری پچکاری،، اس کے بعد چوتھی پچکاری،، میرا لن مسلسل شمسہ کے منہ میں پچکاریاں مار رہا تھا۔۔۔لیکن شمسہ نے میری منی کا ایک بھی قطرہ اپنے ہونٹوں سے باہر نہیں نکلنے دیا۔ ************************ (64) میری منی کو وہ ساتھ ساتھ ہی اپنے حلق سے نیچے اتارتی جا رہی تھی۔۔۔میرا اپنے پیروں پر کھڑا ہونا دوبھر ہو گیا اور میں شمسہ کو لیے ہوئے بیڈ پر گر پڑا۔۔۔میرا لن اتنی منی نکلنے کے بعد بھی ابھی تک تنا ہوا تھا۔۔۔لن ابھی تک شمسہ کے منہ میں تھا جسے وہ چوستی جا رہی تھی۔۔۔شمسہ نے میرا لن چوس چاٹ کر اچھی طرح صاف کرنے کے بعد اپنے منہ سے باہر نکالا اور مسکرا کر میری طرف دیکھا تو میں نے بھی مسکراتے ہوئے اپنی بانہیں کھول دیں۔۔۔اس نے ایک جست لگائی اور میری بانہوں میں سما گئی۔۔۔شمسہ کا سر میرے چوڑے چکلے سینے پر تھا اور میں بڑے پیار سے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہا تھا۔ شمسہ اٹھی اور ابھی آئی کا کہہ کر ننگی ہی کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔تھوڑی دیر بعد جب وہ واپس آئی تو اس کے چاند سے مُکھڑے سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔۔۔میں نے پوچھا۔۔۔میری جان کیا ہوا کہاں گئی تھی تو وہ بولی منہ صاف کرنے گئی تھی واش روم میں۔۔۔اتنا کہہ کر وہ جھکی اور اپنی پینٹی اتار دی۔۔۔پھر کھڑے ہو کر اس نے اپنی برا بھی اتار دی۔ میں اس کے ہوشربا جسم کو دیکھ کر مبہوت رہ گیا۔۔۔گول مٹول ممے،، صاف شفاف پیٹ،، گلابی نرم و نازک سی چوت جو کہ کسی کھلے ہوئے گلاب کی مانند چمک رہی تھی۔۔۔اس کا چاندی جیسا بدن۔آج تک میں نے ان لڑکیوں کی ہی پھدی ماری تھی جو کہ پہلے ہی مختلف مردوں سے چدائی کر چکی تھیں۔۔۔لیکن شمسہ پہلی لڑکی تھی جس نے اپنا سارا جسم صرف اپنے خاوند کیلئے سنبھال کر رکھا تھا۔۔۔مجھے اس طرح سکتے کی حالت میں دیکھ کر شمسہ کے ہونٹوں پر ایک شریر مسکراہٹ نمودار ہوئی اور اس نے ایڑھیوں کے بل گھوم کر اپنی پشت میری جانب کر لی۔۔۔جب میری نظر اس کی پتلی کمر سے ہوتی ہوئی اس کی ابھری ہوئی بے داغ دودھیا گانڈ پر پڑی میں تو جیسے سانس لینا ہی بھول گیا۔ شمسہ کو ایک اور شرارت سوجھی اور وہ مزید جھک گئی۔۔۔جس سے اس کی گانڈ کا سوراخ واضح ہو گیا۔۔۔مجھ پر تو جیسے مسلسل سکتے کی کیفیت طاری ہو گئی۔۔۔ہر مرد کی طرح ممے اور گانڈ میری بھی کمزوری تھی لیکن یہ نظارہ واقعی دیکھنے لائق تھا۔۔۔شمسہ سیدھی ہوئی اور بڑی ادا سے میرا اکڑا ہوا لن اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا تو اس کے ہاتھ کا لمس محسوس کر کے میں بھی ہوش میں آ گیا۔۔۔میں جیسے خواب سے چونک گیا۔۔۔مجھے احساس ہی نہیں تھا کہ میرا لن ایک بار پھر اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ اکڑ چکا ہے۔۔۔پھر مجھ پہ جیسے جنونیت کا دورہ پڑ گیا۔۔۔میں نے شمسہ کو کھینچ کر اپنے پہلو میں لٹایا اور اس پہ ٹوٹ پڑا۔ ہونٹ، کان، ناک، آنکھیں، گردن، لویں، بال، سینہ، ممے، پیٹ، ناف، رانیں، پنڈلیاں، ہاتھ، ہاتھوں کی انگلیاں،، غرض کے اس کے جسم کا ایک ایک ذرہ چومتا گیا۔۔۔میں شمسہ کی حالت سے بے خبر تھا جو بے چینی سے اپنا سر زور زور سے پٹخ رہی تھی،، آہیں بھر رہی تھی،، اس کی پھدی مسلسل پانی چھوڑ رہی تھی مگر میں اپنے جنون میں مگن اسے چومتا چاٹتا جا رہا تھا۔۔۔پھر میں نے شمسہ کو اپنی بانہوں میں بھرتے ہوئے اس کی زبان چوسنا شروع کر دی۔۔۔میرا انداز بے حد جنونی تھا جو کہ شمسہ کے جزبات کو اور بھی بھڑکا گیا۔۔۔اب معاملہ شمسہ کی برداشت سے بھی باہر ہوتا جا رہا تھا۔۔۔وہ میرے لن کو پکڑ کر اپنی پھدی کی طرف کھینچ رہی تھی۔ وہ اب لن سے چدنا چاہتی تھی۔۔۔اس لمحے کیلئے اس نے بہت انتظار کیا تھا۔۔۔ہمیشہ اپنے آپ سے کیا ہوا خاموش عہد نبھایا اور اپنے جسم کو صرف اپنے خاوند کیلئے سنبھال کر رکھا تھا۔۔۔یہ الگ بات تھی کہ جو لن اس کے نصیب میں آ رہا تھا وہ اس کے خاوند جمیل کا نہیں بلکہ میرا یعنی کمال عرف جمیل کا تھا۔۔۔میں شمسہ کی بےتابی کو محسوس کرتے ہوئے اٹھ کر اس کی ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گیا۔۔۔اور اپنے ہاتھ کی دو انگلیاں اس کی بھیگی ہوئی پھدی میں ڈال کر اسے انگلیوں سے چودنا شروع کر دیا۔۔۔شمسہ لن لینے کیلئے مری جا رہی تھی جبکہ میں اس کی آگ کو مزید ہوا دے رہا تھا۔ اب میں نے ذیادہ دیر کرنا مناسب نہ سمجھا اور اپنے لن کو شمسہ کی نازک پھدی کے ہونٹوں میں رگڑنے لگا۔۔۔شمسہ مزے سے تڑپتے ہوئے اپنی پھدی کے سوراخ کو میرے لن کی رینج میں لانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔میں نے آرام سے اپنے لن کو شمسہ کی پھدی کے سوراخ پر سیٹ کیا۔۔۔اس سے پہلے کہ میں گھسہ مارتا،، شمسہ نے پوری جان سے اپنی پھدی کو لن پر دبایا تو میرا لن اس کی پھدی کی دیواروں کو رگڑتا ہوا پھدی کی گہرائیوں تک اتر گیا۔۔۔شمسہ کے منہ سے ایک تیز سسکاری نکلی۔۔۔آہ۔ہ۔ہ۔ہ۔ شمسہ کی پھدی کی گرِپ کافی ٹائٹ تھی۔۔۔اس کا چہرہ شہوت ملی تکلیف سے ٹماٹر کی طرح سرخ ہو چکا تھا۔۔۔لیکن ساتھ ہی خوشی کی ایک جھلک اس کے چہرے پر نظر آ رہی تھی۔۔۔میں نے آہستہ آہستہ سے اس کی پھدی میں لن اندر باہر کرنا شروع کر دیا۔۔۔میں چار انچ تک لن کو باہر نکالتا اور پھر سے شمسہ کی پھدی میں جڑ تک گھسا دیتا۔۔۔اسی دوران شمسہ کی ہمت جواب دے گئی اور اس کا جسم اکڑنا شروع ہوا تو میں نے اپنے گھسوں کی رفتار بڑھا دی۔۔۔لیکن لن ابھی بھی میں نے پورا باہر نہیں نکالا تھا۔۔۔بلکہ کسی پسٹن کی طرح اس کی پھدی میں اندر باہر کرتا گیا۔۔۔شمسہ نے اپنی ٹانگیں اٹھا کر میری کمر پر باندھ لیں اور اپنے ناخنوں سے میرے کندھوں کو ادھیڑنے لگی۔ میں سمجھ گیا کہ شمسہ چھوٹنے لگی ہے تو میں نے اس کی زبان کو چوستے ہوئے گھسے مارنے چالو رکھے۔۔۔اچانک شمسہ کے جسم کو جھٹکے لگنے شروع ہو گئے اور اس کی پھدی سے پانی ایک پریشر کے ساتھ میرے لن سے ہوتا ہوا میرے ٹٹوں کو بھگو گیا۔۔۔اب میرا لن پوری آسانی سے اس کی پھدی کے اندر باہر ہو رہا تھا۔۔۔شمسہ میرے ہونٹوں کو چوم رہی تھی۔۔۔ہر طرف کیف تھا، مستی تھی ، مزہ تھا،، میرے گھسے مسلسل جاری تھے اور کمرہ پچک۔پچک کی آوازوں سے گونج رہا تھا۔ یہ آوازیں ہم دونوں کے ہیجان میں اضافہ کر رہی تھیں۔۔۔میرا لن شمسہ کی پھدی کی گہرائیوں کی سیر کرنے میں مصروف تھا۔۔۔اب میرے دھکوں میں تیزی آتی جا رہی تھی۔۔۔ساتھ ساتھ ہی پچک۔پچک کی آوازوں میں بھی۔۔۔ نیچے سے شمسہ بھی گانڈ اٹھا اٹھا کر لن کو اپنی پھدی کی آخری سرحد تک لینے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔میں اب پورا لن باہر نکال کر اتنی زور سے گھسہ مارتا کہ میرا لن سیدھا اس کی بچہ دانی سے جا ٹکراتا۔۔۔دس منٹ تک اسی طرح گھسے مارنے کے بعد مجھے لگنے لگا کہ اب میں چھوٹنے لگا ہوں۔۔۔میں کپکپاتے ہوئے بولا: شمسہ میں چھوٹنے لگا ہوں تو وہ بھی مزے سے سرشار بولی۔۔۔اندر ہی چھوٹ میری جان میں بھی نکلنے والی ہوں۔۔۔تبھی میرے لن سے منی کا سیلاب نکلا اور شمسہ کی پھدی کو سیراب کرتا گیا۔۔۔شمسہ بھی کانپتے ہوئے پانی چھوڑ گئی۔۔۔اس کے چہرے پر ایک اطمینان تھا،، سکون تھا۔۔۔وہ میرے سینے پر سر رکھ کر لیٹ گئی۔ ************************ (65) کچھ دیر بعد اچانک بولی۔۔۔جمیل تم کچھ بدل گئے ہو۔۔۔میں اندر سے تو تھوڑا پریشان ہوا لیکن بظاہر ہنستے ہوئے پوچھا۔۔۔شمسہ ایسا تمہیں کیوں محسوس ہوا۔۔۔وہ کہنے لگی: جمیل تمہارا پیار کرنے کا انداز بدل گیا ہے اور پہلے تم سیکس میں اتنا ٹائم نہیں نکالتے تھے۔۔۔اب ٹائمنگ بہت بڑھ گئی ہے اوپر سے تمہارا لن بھی تو کتنا موٹا اور لمبا لگتا ہے نا۔۔۔میں نے اس کے سر پر چپت لگاتے ہوئے کہا: نہیں پگلی ایسی کوئی بات نہیں یہ سب تمہارا وہم ہے۔ اتنی دیر بعد ملی ہو نا تو اس لیے ایسا محسوس ہو رہا ہے۔۔۔ویسے جب سعودی میں میرے ساتھ حادثہ ہوا تو میرے پورے جسم پر چوٹیں لگی تھیں۔۔۔بیرونی چوٹوں کے ساتھ ساتھ اندرونی طور پر بھی بہت ٹوٹ پھوٹ ہوئی تھی۔۔۔پورا جسم درد کرتا تھا۔۔۔شاید یہ ان دوائیوں کا ہی اثر ہو کہ پہلے جو کمی یا کمزوری تھی وہ دور ہو گئی اور اب میں پہلے سے ذیادہ فٹ ہوں۔ شمسہ کو اچانک کچھ یاد آیا تو وہ اٹھ کر بیٹھ گئی اور میرے سینے سے ناف تک ہاتھ پھیرتے ہوئے سوالیہ لہجے میں بولی۔۔۔جمیل تمہارے جسم پر تو کسی چوٹ کا نشان نہیں؟ میں نے کہا یار وہ لوگ بہت اعلیٰ قسم کی دوائیاں استعمال کرتے ہیں۔۔۔روزانہ تین ٹائم میرے جسم پر موجود نشانات پر کچھ خاص جڑی بوٹیوں کا لیپ کرتے تھے۔۔۔یہ اسی لیپ کا کمال ہے کہ سارے نشانات مٹ گئے۔۔۔وہ پیار بھرے انداز میں میرے سینے پر سر رکھتے ہوئے بولی: اب میں تمہیں کہیں نہیں جانے دوں گی۔۔۔میں بھی پیار سے اس کے سر کے بالوں میں انگلیاں پھیرتا رہا۔۔۔پھر ہم نے سیکس کا ایک اور دور چلایا اور کافی دیر بعد تھک کر سو گئے۔ اگلے دن صبح نادر گھر آ گیا تو شمسہ اسے دیکھتے ہی بولی: نادر اب تم یہ وڈے چوہدری کی نوکری چھوڑ دو۔۔۔جمیل گھر آ گیا ہے نا تو اس کے ساتھ مل کر کھیتی باڑی کیا کرو۔۔۔اس سادہ لوح،، معصوم کو کیا پتہ تھا کہ ہم لوگ کس گرداب میں پھنسے ہوئے ہیں۔۔۔اگلے دن نادر نے مجھے بتایا کہ سندھی مارواڑی کا ایک آدمی سٹین گنیں اور سارا ایمونیشن پہنچا گیا ہے۔۔۔نادر نے یہ سامان پتہ نہیں کس وقت رسیو کیا اور کیسے گھر کے اوپر والے کمرے میں پہنچا دیا۔۔۔میں نے نادر کے ساتھ اوپر جا کر گنیں چیک کیں تو بلکل ورکنگ آرڈر میں تھیں۔1 like
-
مجرِم یا۔۔۔
1 like(61) ٹھیک گیارہ بجے گاڑی لاہور کیلئے روانہ ہو گئی۔۔۔ٹرین کو رات دو بجے لاہور پہنچنا تھا۔۔۔مجھے ایک بات یاد آئی تو میں نے نادر سے پوچھا لیا کہ نادر تم تو وڈے چوہدری کی ملازمت میں تھے۔۔۔اتنے دنوں سے غائب ہو تو اب کیسے اس غیر حاضری کو سنبھالو گے۔۔۔تو نادر بولا: میری جان فکر کیوں کرتا ہے۔۔۔جب تک تم ڈاکٹر کی کوٹھی میں رہے میں ساتھ ساتھ چوہدری کے کام بھی نبٹاتا رہا ہوں۔۔۔پھر وہ مجھے آنکھ مار کر بولا: سمجھا کر یار میں ابھی بھی آن ڈیوٹی ہوں وہاں جا کر میں چوہدری کو بتاؤں گا کہ اب میرا بھائی جمیل واپس آ گیا ہے تو میں پچھلے چار دن سے جمیل کے ساتھ اسلام آباد میں تھا مجھے بلکل نہیں پتہ کہ کراچی کے کیا حالات ہیں۔ ویسے بھی میرا کام کی نوعیت ایسی ہے کہ میرا صفدر کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں تھا۔ پھر موقع محل دیکھ کر چوہدری سے بات کر لوں گا کہ چونکہ اب جمیل آ گیا ہے تو میں اس کے ساتھ ہی کچھ کام دھندہ کر لوں گا۔۔۔تم فکر مت کرو کوئی نہ کوئی بات بن ہی جائے گی۔۔۔سفر کا زیادہ تر حصہ میں اور نادر نے سوتے ہوئے گزار دیا۔۔۔پروگرام کے مطابق سردار اور حنیف کو تین دن بعد بھیس بدل کر کسانوں کے روپ میں گاؤں پہنچنا تھا۔۔۔ضرورت کی چند چیزیں لانا بھی ان کے ذمہ لگائی تھیں۔۔۔قصہ مختصر لاہور پہنچنے کے بعد صبح چار بجے ہم لوگ گاؤں میں نادر کے گھر میں موجود تھے۔۔۔نادر مجھے گھر میں رہنے اور پوری طرح تیار ہونے کا کہہ کر اسی وقت شمسہ کے گاؤں کی طرف نکل گیا۔ شمسہ نے جب میرے آنے کی خبر سنی تو اس پہ شادی مرگ کی کیفیت طاری ہو گئی۔۔۔وہ اسی وقت نادر کے ساتھ وہاں سے واپس گھر آنے کیلئے مچل گئی۔۔۔دوپہر کے وقت گھر میں داخل ہوتے ہی شمسہ بھاگ کر میرے گلے لگ کر رونے لگی۔۔۔یہ منظر دیکھ کر نادر چپکے سے باہر نکل گیا۔۔۔میں کافی دیر تک شمسہ کو سمجھاتا اور سنبھالتا رہا۔۔۔آخر کافی دیر بعد جا کر وہ سنبھل گئی اور اس کو یقین ہو گیا کہ میں یعنی اس کا شوہر جمیل اس کے پاس موجود ہوں۔ باہر پاس پڑوس کے لوگوں کو بھی میرے (جمیل) کے آنے کی خبر ہو گئی تھی اس لیے آنے والوں کا تانتا بندھ گیا۔۔۔انہی لوگوں کی منہ زبانی مجھے کمال(اپنے) گھر کی بربادی کی داستان سننا پڑی۔۔۔گاؤں کے لوگوں کو بلکل بھی معلوم نہیں تھا کہ اس دشمنی میں ہم کہاں تک جا چکے ہیں۔۔۔ان کے مطابق کمال اپنی پوری فیملی سمیت ختم ہو چکا تھا۔۔۔نوشاد کے بارے نہ کسی نے ذکر کیا اور نہ ہی میں نے بات کرنا مناسب سمجھا۔ شام کو ٹونی اور ڈاکٹر امتیاز نادر کو ملنے آئے۔۔۔کافی دیر وہ لوگ باتیں کرتے رہے۔۔۔اس وقت میں اندر کمرے میں شمسہ کی دلجوئی میں مصروف تھا۔۔۔ان دونوں کے جانے کے بعد شمسہ سے چھپا کر نادر نے مجھے بتایا کہ وہ دونوں نادر سے میرے بارے میں پوچھ رہے تھے تو نادر نے آنکھوں میں جھوٹے آنسو لاتے ہوئے ایک ٹریفک حادثے میں میرے مر جانے کی جھوٹی کہانی سنا دی۔۔۔جسے سن کر وہ کافی غمگین ہو گئے تھے۔ حالانکہ ان جیسے دوستوں سے یہ بات چھپانا مناسب نہیں لگا لیکن پھر بھی یہ وقت اور حالات کا تقاضہ تھا اور ہمیں ہر وقت چوکس رہنا تھا۔۔۔اس لیے میں نے اس بارے نادر کو کچھ نہیں کہا بس سر ہلا کر چپ کر گیا۔ ************************ (62) دوستو یہاں ایک نہایت نازک موڑ آ گیا۔۔۔رات کا وقت تھا تو لازماً اتنے عرصے سے سیکس کو ترسی ہوئی شمسہ کے ساتھ مجھے خاوند کی حیثیت سے سیکس کرنا پڑتا اس لیے میں اور نادر ایک دوسرے سے نظریں چرا رہے تھے۔۔۔میں نے اشارے سے نادر کو باہر بلایا اور ایک سگریٹ سلگاتے ہوئے اسے کہا:نادر اب بھی وقت ہے میرا خیال ہے کہ شمسہ کو سب کچھ سچ سچ بتا دیتے ہیں۔۔۔نادر نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔۔۔یار جب یہ بات پہلے فائنل ہو چکی ہے تو پھر اس بات کا ذکر فضول ہے۔۔۔تم آرام سے اسے اس کے حصے کی خوشیاں دو۔۔۔اس کے آنسو پونچھو،، میں یہاں سے جا رہا ہوں۔۔۔اب کل صبح ملاقات ہو گی۔ اس سے پہلے کہ میں جواب دینے کیلئے منہ کھولتا۔۔۔نادر رخ پھیر کر وہاں سے چلا گیا۔۔۔میں چپ چاپ وہیں بیٹھا سگریٹ پہ سگریٹ پیتا رہا۔۔۔کافی دیر بعد میں نے دل میں سوچا۔۔۔چل بھئی کمال اب تو جو ہے سو ہے۔۔۔چڑھ جا شمسہ پر بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی۔۔۔میں نے واپس گھر میں داخل ہو کر دروازہ بند کیا اور چلتے ہوئے اندر شمسہ کے کمرے میں پہنچ گیا۔۔۔شمسہ کمرے میں بےتابی سے ادھر ادھر گھوم رہی تھی مجھے اندر آتے دیکھ کر وہ ایک جگہ رک گئی اور سر جھکا کر اپنی انگلیوں کو چٹخانے لگی۔۔۔میں نے اور دیر کرنا، اسے ترسانا مناسب نہ سمجھا اور اس کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے اپنے بازو کھول دیے۔ مجھے ایسے بانہیں کھولتے دیکھ کر اس نے ایک لمحے کیلئے میری آنکھوں میں دیکھا اور پھر کٹی ہوئی پتنگ کی طرح میری بانہوں میں سما گئی۔۔۔شمسہ میرے گلے لگتے ہی پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے بولی۔۔۔جمیل تم نے مجھے کہیں کا نہ چھوڑا۔۔۔بتاو مجھے چھوڑ کر کیوں چلے گئے تھے۔۔۔میں پل پل جئی اور پل پل مری ہوں۔۔۔تمہارے بغیر یہ دنیا پھیکی پھیکی لگتی تھی۔۔۔بتاؤ مجھے چھوڑ کر کیوں گئے تھے۔۔۔یہ کہتے ہی وہ روتے روتے میرے سینے پر مکے مارنے لگی۔۔۔میں اسے اپنے ایک بازو میں سمیٹے دوسرے ہاتھ کو اس کی کمر پر پھیرتے ہوئے بولا: نہ رو پگلی نہ رو،، دیکھ اب تو میں آ گیا ہوں نا۔ ہر وقت تیرے ساتھ رہوں گا۔۔۔مجھے احساس ہے کہ بھری جوانی میں یہ دن کیسے گزرے ہوں گے۔۔۔یہ راتیں تم نے کیسے تڑپ تڑپ کر گزاری ہوں گی لیکن میری جان میں بھی تو ترسا ہوں۔۔۔تیرے بغیر میری کیا حالت تھی یہ میں ہی جانتا ہوں۔۔۔بس چپ کر جا اب میں آ گیا ہوں نا تو تیری آنکھوں سے آنسو نہیں نکلنے چاہیئے۔ اس کے ساتھ ہی میں نے جھک کر اپنے ہونٹوں سے اس کی آنکھوں سے نکلنے والے آنسوؤں کو چوس کر صاف کر دیا۔۔۔میرے ہونٹ لگنے کی دیر تھی کہ جیسے اس کو کرنٹ سا لگا۔۔۔شمسہ نے نظریں اٹھا کر میری طرف دیکھنے کی کوشش کی تو میں نے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر رکھ دیے۔۔۔اتنے عرصے بعد اپنے محبوب کا پیار پاتے ہی وہ کانپ اٹھی اور پورے جوش کے ساتھ میرے ہونٹ چوسنے لگی۔۔۔شمسہ گاؤں کی پلی بڑھی لڑکی تھی۔۔۔قد کاٹھ میں وہ مجھ سے تھوڑی چھوٹی تھی۔ گاؤں کی باقی لڑکیوں کی طرح اس پر بھی رنگ روپ خوب چڑھا تھا۔۔۔اس کے بڑے بڑے ممے میرے سینے میں دھنسے جا رہے تھے۔۔۔اس کے چہرے کا رنگ گورا لیکن اس کے نین نقوش میں شیشے کی سی جاذبیت پائی جاتی تھی۔۔۔میں نے شمسہ کے نرم و نازک ہونٹوں کو ایک لمحے کیلئے خود سے جدا کیا اور اس کے چہرے کی طرف دیکھا جو اس وقت شہوانی جذبات سے سرخی مائل ہو رہا تھا شمسہ کی سانسیں تیز تیز چل رہی تھیں۔۔۔اسی وقت شمسہ نے اچک کر دوبارہ میرے ہونٹوں سے ہونٹ ملا دیے۔۔۔میں نے بھی دل سے شمسہ کا شوہر بننے کا فیصلہ کر لیا۔ ************************ (63) میں نے اس کے گلابی ہونٹ چوستے چوستے جھک کر اسے اپنی گود میں اٹھایا اور لیجا کر بیڈ پر لٹاتے ہوئے اوپر جھک گیا۔۔۔شمسہ جنونی انداز میں میرے گالوں، آنکھو، لبوں کو چوم رہی تھی۔۔۔میں اوپر اٹھا اور شمسہ کے کپڑے اتار دیے۔۔۔نیچے اس نے لال رنگ کی برا کے ساتھ میچنگ لال رنگ کا ہی انڈر وئیر پہنا ہوا تھا۔۔۔شمسہ لال رنگ کی برا، پینٹی میں بلکل پری لگ رہی تھی۔۔۔اس کا حسین و جمیل بدن اپنی پوری رعنائیوں کے ساتھ میرے سامنے آ گیا۔۔۔میں بغیر پلک جھپکائے اس کے حسین جسم کو تکے جا رہا تھا۔۔۔وہ بےتابی سے اٹھی اور میرے سارے کپڑے اتار دیے۔ اب میں فقط انڈروئیر میں اس کے سامنے کھڑا تھا۔۔۔شمسہ نے ایک ادا سے میرے نیم کھڑے لن کو انڈروئیر کے اوپر سے ہی پکڑ لیا اور دھیرے دھیرے سہلانے لگی۔۔۔وہ بیڈ پر بیٹھی ہوئی جبکہ میں بیڈ کے پاس زمین پر کھڑا ہوا تھا۔۔۔دراصل میں کسی قسم کی پیش قدمی نہیں کرنا چاہتا تھا وہ اس لیے کہ ایک عورت اپنے جیون ساتھی کی ہر رمز سے واقف ہوتی ہے۔۔۔اس کے پیار کرنے کا انداز عورت کے ذہن کی اتھاہ گہرائیوں میں موجود ہوتا ہے۔۔۔اب میں تو میں نہیں تھا بلکہ میں جمیل تھا اس لیے پیش قدمی سے کترا رہا تھا۔۔۔شمسہ مسلسل میرے لن کو سہلاتے ہوئے اپنا ایک ہاتھ میرے سینے کے بالوں میں پھیر رہی تھی جبکہ اس کے ہونٹ میری ناف کو چوم رہے تھے۔ میں نے بڑے پیار سے شمسہ کی طرف دیکھا اور مزے کی شدت سے آنکھیں بند کر لیں۔۔۔شمسہ کا چہرہ سیکس کی حدت سے گلنار ہو رہا تھا۔۔۔ہھر وہ تھوڑا نیچے جھکی اور انڈروئیر کے اوپر سے ہی میرے لن کی ٹوپی کو اپنے دانتوں سے پکڑ کر ہلکا سا کاٹ لیا۔۔۔کیف و مستی کی ایک لہر میرے بدن میں دوڑ گئی اور میں نے آنکھیں کھولتے ہوئے سوچا کہ اچھا تو جمیل صاحب چوپا لگوانے کے بھی شوقین تھے۔ شمسہ ہر چیز سے بے نیاز اپنے کام میں مگن تھی اس کی زبان مسلسل میرے اکڑے ہوئے لن کا انڈروئیر کے اوپر سے ہی مساج کر رہی تھی اور میرا انڈروئیر اس کے تھوک سے گیلا ہو چکا تھا۔۔۔میں اس کے والہانہ انداز پر فدا ہو گیا۔۔۔شمسہ نے میرے انڈروئیر کو دونوں سائیڈوں سے پکڑ کر نیچے اتار دیا تو ساتھ ہی میرا موٹا تازہ، لمبا لن شمسہ کے منہ کے سامنے لہرانے لگا۔۔۔شمسہ میرے لن کو دیکھ کر بولی کیا بات ہے جمیل تمہارا لن پہلے سے کافی موٹا اور لمبا لگ رہا ہے تو میں بات بناتے ہوئے بولا: میری جان پہلے یہ تیری جدائی میں سوجا رہا اور اب تجھے ملنے کی خوشی میں پھول گیا ہے۔1 like
-
مجرِم یا۔۔۔
1 like@udas punchipunchipunchipppunchippunchpunchi @fairi And @alone_leo82 آپ دونوں نے سہی پہچانا کمال پاشا اب جمیل کے روپ میں آئے گا اور بلکل ہی تھوڑے سے ٹھہراؤ کے بعد نت نئے ہنگامے پھر سے منتظر ہیں۔ بہت جلد ہی اپڈیٹ دینے کی کوشش کروں گا فلحال تو کام میں اتنا مصروف ہوں کہ آج اپڈیٹ دینے کے دو تین دن بعد جا کر کمنٹس دیکھنے اور جواب دینے کا ٹائم ملا۔۔ کوشش کروں گا کہ آپ لوگوں کو ذیادہ انتظار نہ کرنا پڑے۔1 like
-
Badshah
1 like
-
مجرِم یا۔۔۔
1 likeمجھ سے ٹکرانے والا بھی پھرتی سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔وہ چوہدری کا پالتو کتا شاہنواز تھا۔۔۔جیسے ہی اس کی نظر میرے چہرے پر پڑی تو وہ حیرت سے چلایا۔۔۔اوئے کمالے تو؟؟ساتھ ہی اس کا ہاتھ اپنے نیفے کی طرف بڑھا۔۔۔میرے ہاتھ میں بھی لیوگر پکڑا ہوا تھا میں نے ایک جھٹکے سے ہاتھ آگے کیا اور ٹرائیگر دبا دیا۔۔۔ارے یہ کیا۔گولی نکلنے کی بجائے ٹرچ کی آواز نکلی۔ ************************ (36) مجھ سے ایک سنگین غلطی ہو چکی تھی۔۔۔الماری سے ایمونیشن تو اٹھا لیا لیکن جلدی جلدی میں گولیاں بھرنا بھول گیا۔۔۔اب میرے پاس اتنا ٹائم بھی نہیں تھا کہ میں ڈب سے اپنا ریوالور نکالتا۔۔۔میرے پاس ایک آخری راستہ تھا جس پر میں نے فوری عمل کیا۔۔۔میں نے میکانکی انداز میں اپنے ٹانگ چلائی اور ایک ٹھوکر شاہنواز کے پیٹ میں ماری۔۔۔وہ اوغ کی آواز کے ساتھ اوندھا ہوا تو میں نے اس کی طرف چھلانگ لگائی لیکن وہ ایک دم سنبھل کر چیختے ہوئے داہنی طرف بھاگا۔۔۔اس کے چلانے کے ساتھ ہی دوسری طرف سے بھی کسی کے چیخنے کی آواز سنائی دی۔۔۔لازمی سی بات تھی کہ اس کی آواز پہرے داروں نے سن لی تھی اور اب میرے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ میں اس کے پیچھے بھاگتا۔۔۔چنانچہ میں نے اس کا خیال چھوڑا اور بھاگتے ہوئے صحن کراس کر کے باہر والی دیوار کے پاس پہنچ گیا۔۔۔ جیسے ہی میں دیوار کے پاس پہنچا تو ایک دھماکہ میرے سر پر ہوا۔۔۔میں وہیں زمین پر گر گیا۔۔۔یہ دھماکہ گولی کا تھا جو کہ نوشاد نے چلائی تھی۔۔۔وہ وہیں سے بیٹھی ہوئی آواز میں چلایا۔ بھایا جلدی کرو۔ میں دو قدم پیچھے ہوا اور پھر بھاگتے ہوئے جمپ مار کر دونوں ہاتھوں کے بل دیوار کے کنارے پر لٹک گیا۔اسی وقت نوشاد نے ایک مرتبہ پھر گولی چلائی اور چیخا بھایا نکلو۔۔۔میں نے ہاتھوں کے زور پر اپنا پورا جسم اٹھایا اور دیوار پر لیٹ کر دوسری طرف کود گیا۔۔۔اس طرف زمین ذرا نیچی تھی لیکن نرم ہونے کیوجہ سے میں کسی قسم کی چوٹ سے محفوظ رہا۔۔۔اتنی دیر میں نوشاد بھی درخت سے نیچے اتر آیا۔۔۔میں نے بھی لیوگر ڈب میں ڈالا اور اپنا ریوالور ہاتھ میں پکڑ لیا۔ حویلی میں ہر طرف ہاہاکار مچی ہوئی تھی۔۔۔ہم دونوں ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے ہوئے کماد میں داخل ہو گئے۔ہمارے پیچھے لوگوں کے چلانے اور بھاگنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔۔۔چند ایک گولیاں چلنے کی بھی آواز سنائی دی لیکن ہم لوگ رکے بغیر کھیتوں کے اندر اندر سے ہی بھاگتے ہوئے اپنے ڈیرے پر پہنچ گئے۔۔۔ڈیرے پر جا کر میں نے نوشاد کو ساری بات بتائی اور لیوگر بھی دکھایا۔۔۔ہیروں والا قصہ دانستہ گول کر گیا۔۔۔راجو کی موت کا سن کر نوشاد خوشی سے بولا:بھایا اچھا کیا جو دھرتی کے اس بوجھ کو کم کیا۔ لیکن شاہنواز والے ٹکراؤ کا سن کر وہ پہلے تھوڑا سا پریشان ہوا پھر کندھے جھٹک کر بولا جو ہو گا دیکھا جائے گا فلحال وہ لوگ کھلے عام کوئی انتقامی کاروائی کرتے وقت لاکھوں بار سوچیں گے اور ہم اتنی دیر تک کوئی نا کوئی ترکیب سوچ لیں گے۔۔۔۔فلحال آپ یہاں آرام کرو آپ کا گھر جانا ٹھیک نہیں۔۔۔ہم لوگ کافی دیر تک ایسے ہی باتیں کرتے رہے۔پھر نوشاد بولا:بھایا میں گاؤں جاتا ہوں اور وہاں کے حالات دیکھ کر تھوڑی دیر بعد واپس آؤں گا۔ میرے سر ہلانے پر وہ اٹھا اور پستول ڈب میں لگا کر وہاں سے نکل گیا۔۔۔میں کچھ دیر تو چارپائی پر لیٹا رہا۔۔۔پھر اچانک مجھے ہیروں کی یاد آئی تو میں اٹھ بیٹھا۔۔۔کافی دیر سوچنے کے بعد مجھے ایک محفوظ جگہ سوجھ گئی۔۔۔میں اپنی جگہ سے اٹھا اور کمرے سے بیلچہ اٹھا کر کھیتوں میں نکل گیا۔۔۔کھیت میں جا کر ادھر ادھر جگہ ڈھونڈے لگا۔ادھر ادھر دیکھنے کے بعد میں نہر کی طرف چل پڑا۔۔۔نہر کے ساتھ ساتھ کیکر کے درختوں کی بہتات تھی۔ یہ درخت بہت پرانے تھے میں ایک کافی پرانے لیکن نسبتاً مضبوط درخت کے پاس گیا اور بیلچے سے درخت کی جڑوں کے پاس ہی زمین کھودنے لگا۔۔۔کافی گہرا گڑھا مار کے میں نے ایک شاپر میں اچھی طرح لپیٹ کر ہیروں کی تھیلی،لیوگر اور اس کا ایمونیشن احتیاط سے گڑھے کے اندر رکھے پھر اس کے اوپر کافی سارا گھاس پھونس ڈال کر دوبارہ مٹی ڈال کے گڑھا بند کر دیا۔۔۔اس درخت کو ترتیب کے حساب سے نمبر لگا کر میں نے ذہن نشین کر لیا۔۔۔اور تازہ کھدے ہوئے گڑھے پر اس انداز میں تھوڑی پرانی مٹی اور گھاس وغیرہ ڈال دی کہ کسی کو شک نہ ہو یہاں زمین کی تازہ کھدائی ہوئی ہے۔ اس کام سے فارغ ہو کر میں دوبارہ جا کر سگریٹ سکھاتے ہوئے چارپائی پر لیٹ کر گہرے گہرے کش لینے لگا۔۔۔کافی دیر گزر گئی تقریباً دو گھنٹے گزر گئے تھے مگر نوشاد واپس نہیں آیا۔۔۔اب رات کا تقریباً ایک بج چکا تھا۔۔۔میں نے سوچا کہ ہو سکتا ہے نوشاد اپنے گھر چکر لگانے چلا گیا ہو۔۔۔آخر وہ بھی تو پوری رات سے غائب تھا نا۔۔۔سوچتے سوچتے پتہ ہی نہیں چلا کہ کب میری آنکھ لگ گئی۔ ابھی میری آنکھ لگے ہوئے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ دھپ دھپ کی آواز سے میری آنکھ کھل گئی۔۔۔میں نے فٹافٹ اپنا ریوالور چیک کیا اور گھات لگا کر بیٹھ گیا۔۔۔دھپ دھپ کی آواز سے اندازہ ہو رہا تھا کہ کوئی بھاگتا ہوا میری طرف ہی چلا آ رہا ہے۔۔۔چند لمحوں بعد ہی آنے والا میری نظروں کے سامنے تھا۔ ************************ (37) وہ نوشاد کا چھوٹا بھائی ٹونی تھا جو کہ نوشاد سے ایک سال چھوٹا تھا۔۔۔ٹونی بھاگتا ہوا ڈیرے کی طرف ہی آ رہا تھا اسے دیکھ کر میں اوٹ سے باہر نکل آیا وہ مجھے دیکھتے ہی چلاتے ہوئے بولا۔۔۔کمال بھائی وہ وہ وڈے چوہدری اور اس کے گماشتے آپ کے گھر میں گھس گئے ہیں اور توڑ پھوڑ کرتے ہوئے سب کو مار رہے ہیں۔۔۔پھر روتے ہوئے بولا ان کو روکنے کیلئے نوشاد بھائی آگے گیا لیکن انہوں نے نوشاد بھائی کو مار ڈالا۔ ٹونی کی بات سن کر میری آنکھوں کے آگے جیسے سرخ چادر سی تن گئی۔ مجھے نہیں یاد کہ میں کیسے وہاں سے بھاگتے ہوئے نکلا اور کہاں کہاں ٹھوکریں کھاتا ہوا گاؤں کی آبادی تک پہنچا۔۔۔راستے میں دو تین جگہ میں نے ٹھوکر کھائی اور زمین پر لڑھکنیاں کھاتے ہوئے گرا۔۔لیکن جیسے ہی میری آنکھوں کے سامنے گھر والوں کے چہرے آتے میں پھر سے اٹھ کر بھاگ پڑتا۔۔۔یوں ہی گرتے پڑتے پندرہ منٹ میں آبادی میں پہنچ گیا۔۔۔دور سے ہی مجھے اپنے گھر کی طرف سے آگ کی لپٹیں اٹھتی دکھائی دیں۔ میں بھاگتے ہوئے گھر کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ میرا پورا گھر آگ میں جل رہا تھا اور وڈے چوہدری کے دو بیٹے ہاشم اور کامران اپنے تین چار گماشتوں کے ساتھ جیپ میں بیٹھ کر تیزی سے نکل رہے تھے۔۔۔میں نے بھاگتے بھاگتے ریوالور نکالا لیکن اس سے پہلے کہ میں گولی چلاتا وہ میری رینج سے دور نکل گئے۔۔۔انہوں نے مجھے آتے ہوئے نہیں دیکھا تھا ورنہ وہ مجھ سے وہیں ٹکرا جاتے۔ جیسے ہی میں گھر کے دروازے پر پہنچا اور اندر جانے کی کوشش کی۔۔۔تبھی ایک سائیڈ سے چھیمو کی ماں اور نوشاد کی ماں نکلیں اور انہوں نے مجھے اپنے بازوؤں میں کس لیا۔۔۔نہیں نہیں پتر!!!ہم تمہیں اندر نہیں جانے دیں گے۔۔۔میں نے سرخ انگارہ آنکھوں سے انہیں دیکھا اور زور لگا کر ایک جھٹکے سے اپنا آپ چھڑوایا اور بھاگتے ہوئے اندر داخل ہو گیا۔۔۔ویسے تو سارے گھر کو آگ لگی ہوئی تھی لیکن امی اور بینا کا کمرہ بری طرح جل رہا تھا۔ میں نے ادھر ادھر دیکھا تو مجھے ایک کمبل نظر آیا جو کہ امی نے کل سے دھو کر دیوار پر خشک ہونے کیلئے ڈالا ہوا تھا۔۔۔میں نے پھرتی سے اپنے اوپر لپیٹا۔۔۔خاص طور پر اپنے سر چہرے اور گردن کو چھپایا اور ایک چھلانگ مار کر آگ میں سے ہوتا ہوا کمرے کے دروازے پر جا پڑا۔۔۔دروازہ پہلے ہی کافی جل چکا تھا۔۔۔میرا بوجھ برداشت نہ کر پایا اور ایک چرچراہٹ کے ساتھ ٹوٹ کر اندر گرتا چلا گیا۔۔۔اندر جاتے ہی میں نے کمبل اتار کر ادھر ادھر دیکھا تو مجھے ابو،اور بینا دونوں نظر آ گئے۔ ابو کا جسم تو بری طرح سے جل رہا تھا۔۔۔بینا کا جسم بھی جل چکا تھا۔۔۔یوں لگتا تھا کہ جیسے ان دونوں کے اوپر باقاعدہ پٹرول ڈال کر آگ لگائی گئی ہو۔۔۔وہ دونوں اپنی سانسیں پوری کر چکے تھے۔۔۔میں نے روتی انگارہ آنکھوں سے امی کی تلاش میں ادھر ادھر نظریں دوڑائیں تو امی کو کہیں نہ پا کر زور سے چیخا۔ امی جان،امی جان۔ میں جتنی شدت سے چیخا تھا اتنی شدت سے دھواں میرے پھیپھڑوں تک پہنچ گیا اور میں بری طرح سے کھانستا ہوا لڑکھڑا کر جلتے ہوئے دروازے پر گرا۔۔۔آگ کی لپٹیں میرے چہرے پر لگیں۔۔۔تکلیف سے میری چیخیں نکل گئیں۔۔۔میرے چہرے پر یوں جلن ہو رہی تھی جیسے کھلے زخموں پر مرچیں ڈال دی گئی ہوں۔۔۔میں خود کو سنبھالتے ہوئے کمرے سے چھلانگ مار کر باہر نکلا۔۔۔باہر آتے ہی کھانستے کھانستے میں حلق کی پوری شدت سے چلایا۔امییییی،تبھی اچانک مجھے جیسے ایک کمزور سی آواز سنائی دی۔ میں نے سر گھما کر دیکھا تو مجھے اپنے کمرے کی طرف سے دوبارہ آواز سنائی دی۔۔۔میں واضح طور پر امی کی آواز پہچان گیا۔۔۔میں اپنے کمرے کی طرف بھاگا تو امی راستے میں ہی دیوار کی اوٹ میں زمین پر پڑی دکھائی دیں۔۔۔میں وہیں ان کے پاس دو زانو ہو کر بیٹھ گیا۔۔۔ان کا پورا جسم بھی بری طرح سے جلا ہوا تھا۔۔۔پتہ نہیں کیسے وہ گھسٹتے ہوئے وہاں سے یہاں تک پہنچی تھیں۔۔۔شاید مجھے ہی ڈھونڈتے ہوئے ادھر گئی ہوں گی۔۔۔امی کی حالت بہت خراب تھی ان کا سانس بھی رک رک کر آ رہا تھا۔ میں نے احتیاط سے ان کا سر اپنے زانو پر رکھا اور روتے ہوئے بولا امی یہ کیا ہو گیا۔۔۔تو امی نے جیسے کچھ کہنے کی کوشش کی۔۔۔میں نے فوراً سر جھکا کر اپنے کان ان کے لبوں کے پاس کیے تو امی کی مدھم سی آواز سنائی دی۔۔۔کمال پتر!!!وڈے چوہدری کے سب لوگوں نے ہماری آنکھوں کے سامنے بینا کی بے حرمتی کی۔۔۔اس کی عز۔ز۔ز۔عزت لو۔و۔ٹ لی۔۔۔اتنا کہتے ہی امی کو ہچکی آئی اور وہ ہچکی ان کی سانس کی ڈور کاٹ گئی۔ میرا سینہ غم اور غصے سے لبریز ہو گیا۔۔۔پھر تکلیف اور غم دونوں کی شدت برداشت نہ کر پایا اور وہیں بے ہوش ہو کر امی کے ساتھ ہی گرتا چلا گیا۔ پتہ نہیں کب تک میں بیہوش پڑا رہا۔ ************************ (38) جب آنکھ کھلی تو خود کو ایک بیڈ پر موجود پایا۔۔۔میرے چہرے پر چاروں طرف پٹیاں لپٹی ہوئی تھیں۔۔۔جسم پر بھی جا بجا پٹیاں چڑھی ہوئی تھیں۔۔۔میں نے سر گھما کر دیکھا تو کوئی انجان سا کمرہ تھا لیکن سارے آلات بلکل کسی ہسپتال کی طرح لگتے تھے۔۔۔ بیڈ کے ساتھ لگا ہوا اسٹینڈ اور اس پر لٹکتی ہوئی بوتل اور کمرے کے اندر موجود سفید چادریں اس امر کا واضح اشارہ تھیں کہ میں کسی ہسپتال کے بیڈ پر ہی پڑا ہوا ہوں۔۔۔پر مجھے یہاں لیکر کون آیا۔۔۔ابھی اسی شش و پنج میں مبتلا تھا کہ دروازہ کھلا اور ایک نہایت خوبصورت لڑکی نرس کے لباس میں اندر داخل ہوئی۔۔۔مجھے ہوش میں دیکھ کر بولی اوہ تو آپ کو ہوش آ گیا میں ابھی ڈاکٹر کو بلاتی ہوں۔ میں نے کمزور سی آواز میں اسے پکارا۔۔۔رکو:میری بات سنو تو وہ پلٹ کر میری طرف آئی اور بولی:ہاں کہو تو میں نے پوچھا کہ میں کہاں ہوں؟اور مجھے یہاں کون لایا ہے؟تو اس نے جواب دیا کہ آپ اس ٹائم لاہور کے ایک پرائیویٹ کلینک میں ہیں اور میں نہیں جانتی کہ آپ کو کون لایا ہے۔۔۔مجھے بس اتنا پتہ ہے کہ آپ آج پورے چار دن بعد ہوش میں آئے ہیں۔۔۔اب ذیادہ باتیں مت کریں بولنا آپ کیلئے نقصان دہ ہے۔۔۔اتنا کہہ کر وہ باہر نکل گئی۔ امی ابو اور بینا کو یاد کر کے میری آنکھیں بھر آئیں۔۔۔چند منٹ بعد ایک ڈاکٹر اور دو نرسیں کمرے میں داخل ہوئیں۔۔۔ڈاکٹر نے اچھی طرح میرا چیک اپ کیا اور مجھ سے چند باتیں کر کے میری ذہنی حالت چیک کرنے کے بعد واپس جانے لگا تو میں نے ڈاکٹر سے پوچھا کہ ڈاکٹر مجھے یہاں کون لے کر آیا ہے تو ڈاکٹر نے بتایا کہ مجھے بیہوشی کی حالت میں ٹونی نام کا ایک جوان لایا تھا۔ ابھی وہ باہر ہی ہے میں اس کو بھیج دیتا ہوں لیکن دوست ذیادہ باتیں مت کرنا۔۔۔تمہیں ابھی ریسٹ کی ضرورت ہے۔۔۔میرے اثبات میں سر ہلانے پر ڈاکٹر نرسوں سمیت باہر چلا گیا۔۔۔صرف دو منٹ بعد ہی ٹونی اندر آ گیا۔۔۔مجھے دیکھتے ہی وہ میرے پاس بیٹھ کر بولا کمال بھائی اب کیسی طبیعت ہے۔۔۔میں نے کہا ٹونی یہ سب باتیں چھوڑو مجھے یہ بتاؤ کہ تم مجھے یہاں کیسے لے کر آئے اور وہاں کیا کیا ہوا۔۔۔ٹونی نے بتانا شروع کیا:بھائی اس دن رات کو نوشاد بھائی گھر آیا تو اس نے آتے ہی امی سے دو آدمیوں کا کھانا بنانے کو کہا۔۔۔شاید وہ کھانا اپنے اور آپ کیلئے ہی بنوا رہا تھا۔۔۔اسی وقت گھر کے باہر کچھ لوگوں کی موجودگی اور کھٹ پٹ کی آواز سن کر نوشاد بھائی بھاگتے ہوئے گھر سے باہر نکلا۔ (نوشاد میرا ہمسایہ تھا اور اس کا گھر میرے گھر کی داہنی سائیڈ پر تھا۔) باہر وڈے چوہدری کے دو بیٹے اور اس کے چند آدمی دیوار پھاند کر آپ کے گھر میں گھس رہے تھے۔۔۔جتنی دیر تک نوشاد بھائی وہاں پہنچا انہوں نے گھر میں گھس کر دروازہ اندر سے بند کر لیا۔۔۔ان لوگوں کے پاس اسلحہ اور بڑے بڑے چاقو تھے۔ نوشاد بھائی گھر کا دروازہ بند دیکھتے ہی اپنی سائیڈ سے دیوار پھلانگ کر آپ کے گھر میں کودا۔۔۔جیسے ہی اس کے پاؤں اندر لگے انہوں نے نوشاد پر حملہ کر دیا۔۔۔ان کتوں نے چاقو کے ساتھ نوشاد کی آنتیں ادھیڑ ڈالیں اور اسے مردہ سمجھ کر دیوار کے اوپر سے واپس پھینک دیا۔۔۔میں بھاگ کر نوشاد کے پاس گیا تو اس نے اٹکتے ہوئے آخری سانسوں میں بس چند الفاظ کہے۔۔۔باؤ کمال ڈیرے پر ہے۔ اتنا کہہ کر اس کی گردن ڈھلک گئی۔۔۔میں وہاں سے بھاگتا ہوا نکلا اور آپ کے پاس پہنچ گیا۔۔۔باقی کی کاروائی آپ کو معلوم ہے۔۔۔جب میں بھاگتا ہوا واپس پہنچا تو لوگ آپ کے گھر والوں کو گھر سے باہر نکال کر چارپائیوں پر ڈال رہے تھے۔۔۔نوشاد،چاچا، اور بینا کی لاشیں دیکھ کر میری اپنی حالت خراب تھی۔ میں احتیاطاً اندر جھانکنے چلا گیا دیوار کی اوٹ سے جیسے ہی میں آگے بڑھا میں نے آپ کو اور چاچی کو اس حالت میں دیکھا۔۔۔چاچی کی سانسیں پوری ہو چکی تھیں۔ پھر پتہ چلا کہ آپ زندہ ہیں تو میں چھیمو کی مدد سے آپ کو دیوار سے گزار کر چھیمو کے گھر لے گیا۔۔۔اس کے سارے گھر والے اس وقت باہر تھے۔۔۔پھر میں نے سوچا کہ چاچی کو کوئی نہ کوئی تو ڈھونڈ ہی لے گا۔۔۔اس لیے میں آپ کو فوراً آپ کی ہی گاڑی جو کے احاطے میں کھڑی تھی ڈال کر ڈسپنسری لے گیا۔۔۔وہاں سے ڈاکٹر امتیاز کو ساتھ بٹھایا اور ہم لوگ آپ کو سیدھا یہاں لے آئے۔۔۔آپ کی حالت بہت خراب تھی اس لیے آپ کو علاج کے دوران مسلسل بیہوش رکھا گیا۔ اب ڈاکٹر امتیاز سے ڈسپنسری کے نمبر پر رابطہ کرتا رہا ہوں میں اور وہاں کے حالات معلوم کرتا رہا ہوں۔۔۔میں نے نم آنکھوں کے ساتھ پوچھا کہ ٹونی میرے امی ابو،بینا اور نوشاد۔۔۔اتنا کہہ کر میں نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا تو اس نے بوجھل لہجے میں بتایا:بھائی ان کو اسی دن گاؤں کے قبرستان میں دفن کر دیا گیا تھا۔ چاہے میرا دکھ بڑا تھا لیکن بھائی تو اس کا بھی مرا تھا۔۔۔میں نے اپنی آنکھیں موند لیں اور آنکھوں کے آنسو پینے کی کوشش کرنے لگا۔ ************************* (39) اگلے بیس بائیس روز تک اسی کلینک میں رہا۔۔۔ٹونی نے دن رات میرا خیال رکھا۔۔۔اب میری جلن ختم ہو چکی تھی لیکن زخموں پر کھرنڈ ابھی باقی تھا۔۔۔ان دنوں میں ڈاکٹر امتیاز کی وساطت سے صرف اتنا پتہ چلا کہ سیالوں کے خیال میں وہ مجھے مار چکے تھے۔ وہ نوشاد کو ہی کمال سمجھ بیٹھے تھے۔۔۔میرے بارے میں صرف ڈاکٹر امتیاز کے علاوہ ٹونی،چھیمو اور ان دونوں کی مائیں جانتی تھیں۔۔۔مگر انہوں نے اس بات کا کسی سے بھی ذکر نہیں کیا۔۔ویسے گاؤں میں پولیس گئی تھی اور اس سارے کیس کو ڈاکوؤں کی کارستانی کہہ کر معاملہ نِبٹا دیا تھا۔۔۔گاؤں والے سب جانتے تھے لیکن سیالوں کے ڈر سے کسی نے اپنا منہ نہیں کھولا۔۔۔حتٰی کہ چوہدری رحمت علی کڑیال نے بھی اس معاملے میں ذیادہ سرگرمی نہیں دکھائی۔پتہ نہیں کیوں! حالانکہ وہ ابو جان کے ساتھ کافی دفعہ مل چکا تھا لیکن پھر بھی اس نے کوئی خاص سرگرمی نہیں دکھائی۔۔۔پولیس بعد میں بھی ایک دو بار وہاں گئی۔۔۔پھر کیس داخل دفتر کر دیا۔۔۔میں دل ہی دل میں قسم کھا چکا تھا کہ میری دنیا تو لٹ ہی گئی۔۔۔پر اب سیالوں کے خاندان کے کسی ایک فرد کو بھی زندہ نہیں چھوڑنا۔ چاہے مرد ہو یا عورت سب کو اذیت ناک موت ماروں گا۔۔۔میری بینا کا کیا قصور تھا۔۔۔ہر وقت ماں کی کہی ہوئی آخری بات یاد آتی کہ انہوں نے والدین کے سامنے بینا کی عزت لوٹ لی۔ کافی دن اسی اذیت کے ساتھ گزار دیے پھر ایک دن جب مجھ سے برداشت نہیں ہوا تو رات کے وقت میں چھپتے چھپاتے کلینک سے نکل آیا۔۔۔اس وقت ٹونی گاؤں گیا ہوا تھا اس نے صبح واپس آنا تھا۔۔۔آتے وقت میں نے کلینک کے ہی ایک مریض کا مفلر اٹھا کر اچھی طرح چہرے پر لپیٹا اور باہر نکل گیا۔۔۔میری جیبوں میں ایک روپیہ بھی نہیں تھا۔۔۔یہ لاہور کا ہی ایک پوش علاقہ تھا۔۔۔میں عام راستوں سے ہٹ کر چلتا ہوا رائے ونڈ روڈ کی طرف جانے لگا۔ راستے میں ایک ٹریکٹر ٹرالی والے سے لفٹ لی جو کہ اینٹیں لیکر پتوکی جا رہا تھا۔۔۔مطلب وہ میرے گاؤں کے باہر والے روڈ سے گزرتا۔۔۔ایک گھنٹے بعد میں اپنے گاؤں والے سٹاپ پر اتر گیا اور سست روی سے چلتا ہوا گاؤں کے اندر جانے والی سڑک پر چل پڑا۔۔۔میں نے ذہن میں یہ سوچا ہوا تھا کہ اگر کسی کو سڑک پہ آتے دیکھوں گا تو راستے سے ہٹ کر کھیتوں میں چھپ جاؤں گا۔ لیکن اس کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی۔۔۔کیونکہ رات اندھیری ہو چکی تھی اس لیے سارا گاؤں سو رہا تھا۔۔۔میں چلتے چلتے گاؤں کی سائیڈ سے ہوتا ہوا سیدھا اپنے ڈیرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔ڈیرے پر پہنچ کر میں سیدھا نہر کے ساتھ والے کیکر کے درختوں کی طرف گیا جہاں میں نے ہیرے اور گن چھپائی تھی۔۔۔ڈیرے کے کمرے سے میں نے بیلچہ اٹھایا اور مطلوبہ جگہ پر پہنچ کر آہستہ آہستہ زمین کھودنے لگا۔ کھدائی کے درمیان لگنے والے جھٹکوں سے میرے چہرے پر ایک دفعہ پھر سے جلن ہونا شروع ہو گئی۔۔۔لیکن میں ہمت سے لگا رہا۔۔۔پھر تھوڑی سی محنت کے بعد میں گڑھے سے وہ شاپر نکالنے میں کامیاب ہو گیا۔۔۔گن نکالنے کے بعد میں نے اچھی طرح سے اسے چیک کیا۔۔۔گولیاں بھرنے کے بعد ایک بے آواز فائر بھی کر کے دیکھا۔ لیوگر پوری طرح ورکنگ آرڈر میں تھا۔۔۔ہیروں کی تھیلی میں نے واپس گڑھے میں ڈالی اور گڑھا پر کرنے کے بعد تیز تیز قدموں سے وڈی حویلی جانب چل پڑا۔۔۔میں نہیں جانتا تھا کہ حویلی میں کتنے لوگ ہیں۔۔۔اسلحہ تو ظاہر ہے ان کے پاس خوب ہو گا۔۔۔لیکن مجھے اپنے گھر والوں کی موت اور بینا کی بے حرمتی کا بدلہ لینا تھا۔۔۔اس لیے بلا تھکان اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے حویلی کی طرف قدم اٹھاتا گیا۔ میں اپنے سلگتے ہوئے دماغ کے زیرِ اثر ہاتھ میں لیوگر لیے مرنے یا مار دینے کا عہد دل میں لیے حویلی کی طرف قدم بڑھاتا جا رہا تھا کہ تبھی ایک موڑ کراس کرتے ہی میرے بائیں پہلو کماد کی فصل سے ایک سایہ برآمد ہوا اور مجھے لیتے ہوئے کھیت میں جا پڑا۔ میں گرتے ہوئے یکدم پلٹا اور لیوگر والا ہاتھ اوپر اٹھایا ہی تھا کہ اپنے سامنے نادر کو دیکھ کر ششدد رہ گیا۔۔۔نادرے کو دیکھتے ہی میرے آنسو بہہ نکلے اور میں نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگا لیا۔۔۔سچ کہتے ہیں جب بھری دنیا میں آپ خود کو اکیلا محسوس کر رہے ہوں اور ایسے میں کوئی اپنا مہربان مل جائے تو یوں لگتا ہے کہ انسان تیز کڑک دھوپ سے ایک دم مہکتے ہوئے گلزار کے سائے میں آ گیا ہو۔ روتے روتے میری ہچکی بندھ گئی اور میں ٹوٹے ہوئے الفاظ میں نادر کو سب بتانے کی کوشش کرنے لگا تو نادر نے میری پیٹھ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔ ناں سجن ناں مرد دیاں اکھاں اچوں اتھرو نئیں وگنے چائیدے۔۔۔میں سب جان گیا آں۔۔۔تیرے اتے کی مصیبت آئی کی کی ہویا۔۔۔کنے کیتا،مینوں سب پتہ لگ گیا۔۔۔پر کمالے:ہجے اور ویلا نئیں آیا کہ اسی اوناں نال ٹکر لئیے۔۔۔مناسب وقت دا انتظار کر۔۔۔تے اونی دیر تک اپنی کھوئی ہوئی طاقت بحال کر۔۔۔ویکھ میرے سوہنے ویر توں اپنا کی حال کیتا ہویا اے۔۔۔میں نے آنسو صاف کرتے ہوئے خود کو نادر سے الگ کیا اور بولا نہیں نادرے آج مجھے مت روک۔ میں تو اپنے پیاروں کو تو دفنا نہیں سکا پر قسم کھاتا ہوں کہ ان کنجری کے بچوں کو بھی دفن ہونے کے قابل نہیں چھوڑوں گا۔۔۔نادر نے سختی سے میرا بازو پکڑ کر لیوگر چھینتے ہوئے کہا۔۔۔کمالے کی ہو گیا۔۔۔کی گل تینوں اپنے نادر تے یقین نئیں۔۔۔میرا ویر میں ہر طرح تیرے نال آں۔۔۔موت وی آؤ گی تے تیرے توں پہلے میں اونوں ٹکراں گا پر میری گل من جا۔۔۔ہجے او وقت نئیں آیا۔ چل ایتھوں کسے مناسب جگہ تے بیٹھ کے ساری گل تینوں سمجھاندا واں۔۔۔نادر کے مجبور کرنے پر میں اس کے ساتھ واپس چل پڑا۔۔۔کچھ دیر بعد ہی ہم لوگ ڈیرے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ نادر نے چارپائی پر بیٹھتے ہی مجھے بتانا شروع کیا۔۔۔کمالے مجھے تین دن پہلے یہ ساری خبریں ملیں تو میں تبھی کراچی سے واپسی کیلئے چل پڑا۔۔۔یہاں پہنچ کر سارے حالات معلوم کیے۔۔۔پتہ چلا کہ سیال اپنی سمجھ میں تجھے مار چکے ہیں۔۔۔پر ایہہ تقدیر دا ہیر پھیر اے۔۔۔توں بچ گیا۔۔۔مینوں امتیاز کولوں ہی پتہ لگیا کہ ٹونی اور امتیاز تینوں لاہور اک پرائیویٹ کلینک تے رکھ کے تیرا علاج کروا رئے نیں۔۔۔میں سیالاں دی کھوج اچ لگ گیا۔ کافی کچھ معلوم کیتا تے اوناں خبراں دے مطابق ہن اسی فلحال اوناں تے حملہ نئیں کر سکدے۔۔۔وڈے چوہدری نے سکیورٹی فل ٹیٹ کر چھڈی اے۔۔۔میں ہن گھر بیٹھا روٹی کھا ریا سی کہ مینوں امتیاز دا پیغام ملیا کہ بہت ضروری کم اے۔۔۔میں فٹافٹ ہر شے چھڈ کے اونوں ملیا تے اونے دسیا کہ کمال کلینک توں پج گیا اے۔۔۔میں فوری سمجھ گیا کہ توں کتھے جاویں گا۔۔۔اس لئی میں پچھلے دو گھنٹے توں اوتھے کماد کولے تیرا انتظار کر ریا سی۔ ہن میری گل دھیان نال سن۔۔۔فلحال سانوں موقع توں ہٹ جانا چاہیدا تے اپنی طاقت بڑھانی چائیدی۔۔۔ہجے تیرا علاج وی تے باقی ریندا ناں۔۔۔اس سارے کم واسطے سانوں ایتھوں جانا پینا۔۔۔توں اپنا علاج پوری توجہ نال کرواویں تے میں اپنی طاقت بڑھاواں گا۔۔۔فیر موقع محل ویکھ کے سیالاں دی ٹِگنی ٹیٹ کر دیواں گے۔۔۔میں نے بہت ضد کی لیکن نادر آخر نادر تھا اور بلا آخر مجھے اس کے خلوص کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑے۔ ************************ (40) اس رات میں نے چھپ کر شمسہ کی لاعلمی میں نادر کے گھر میں پناہ لی۔۔۔اگلے دن نادر مجھے گھر میں رہنے کا کہہ کر باہر جانے لگا تو میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ وہ شمسہ کو چند مہینے کیلئے کراچی میں نوکری کا عذر کر کے اس کے گاؤں چھوڑنے جا رہا ہے۔۔۔کیونکہ اپنی واپسی کا تو پتہ نہیں کب آئیں گے اس لیے اگر اسے اکیلی کو چھوڑ گئے تو بعد میں پریشانی ہوتی رہے گی۔ جانے سے پہلے میں نے نادر کو نہر والے کیکر کے نیچے موجود ہیروں کی تھیلی بارے بتایا تو میری بات سن کر نادر بولا چل کوئی گل ناں اودا وی کچھ کرنے آں۔۔۔ تو فکر نا کر بس گھروں باہر مت نکلیں۔۔۔میرے وعدہ کرنے پر نادر شمسہ کو لیکر چلا گیا اور شام ڈھلے واپس آ گیا۔۔۔آتے ہی اس نے ہیروں کی تھیلی میرے حوالے کی اور کہا فلحال اپنے پاس رکھو پھر سوچتے ہیں۔ شام کے وقت نادر نے ڈاکٹر امتیاز اور ٹونی کو گھر بلایا اور ان کو ساری بات سمجھا کر کہا کہ تم لوگ اپنی آنکھیں کھلی رکھنا۔۔۔ہم لوگ یہاں سے جا رہے ہیں لیکن کہاں جائیں گے یہ نہیں بتا سکتا۔حالات کے مطابق دیکھا جائے گا۔۔۔سچ پوچھو تو میں بھی نہیں جانتا تھا۔۔۔اور نہ ہی میں نے نادر سے کچھ پوچھا کیونکہ جتنا وہ میرے لیے کر رہا تھا مجھے اچھا نہیں لگا کہ میں اس سے اس بارے میں کچھ استفسار کروں۔ جاتے جاتے میں ڈاکٹر امتیاز اور ٹونی سے گلے ملا اور رندھے ہوئے لہجے میں ان کا شکریہ ادا کیا کہ ان دونوں نے دوستی اور لحاظ داری کا صحیح رشتہ نبھایا۔۔۔اس کے بعد میں اور نادر رات کے وقت وہاں سے چل پڑے۔ گھر سے نکلنے سے پہلے نادر نے جمیل کی چند تصاویر اپنی جیب میں رکھیں اور میں چاہتے ہوئے بھی اس سے اس بارے میں پوچھ نہیں سکا۔۔۔گاؤں سے نکلنے کیلئے ہم لوگوں نے رات کا وقت اس لیے منتخب کیا تھا تا کہ کسی کی نظروں میں آئے بغیر وہاں سے نکل سکیں۔۔۔کیونکہ میرا جلا ہوا چہرہ کسی کو بھی شک میں ڈال سکتا تھا۔ گاؤں سے نکلتے وقت میں نے مفلر چہرے پر اچھی طرح لپیٹ لیا۔۔۔گاؤں سے نکل کر ہم لوگ سیدھا لاہور پہنچے اور رات کی ٹرین سے کراچی نکل گئے۔ نادر کے مطابق ہمیں ہمارے پروگرام کے مطابق کراچی میں ہی رہنا چاہیے۔ اس کی چند وجوہات تھیں۔ وجہ نمبر1:کراچی کی اندر گراؤنڈ سرگرمیوں کے بارے میں نادر اچھی طرح جانتا تھا۔۔۔وہاں سے ہمیں اپنے مطلب کے لوگ مل سکتے تھے۔۔۔ایسے لوگ جنہیں ہم اپنے جانثاروں کی فہرست میں شامل کر لیتے اور ان پر سیالوں کا اثرورسوخ اثر انداز نہ ہوتا۔ وجہ نمبر 2:میرے جلے ہوئے چہرے کا علاج لاہور کی نسبت کراچی میں ذیادہ بہتر طریقے سے ہو سکتا تھا۔ وجہ نمبر 3:ہم ہیروں کو کراچی میں ہی ٹھکانے لگا سکتے تھے۔۔۔کیونکہ لاہور میں وڈے چوہدری کی رسائی کہاں تک ہے اس کا ہمیں کوئی اندازہ نہیں تھا۔ ************************ (41) کراچی پہنچنے کے بعد ہم نے نادر کے ایک پٹھان دوست جس کا نام نایاب خان تھا کے گھر رات گزاری۔۔۔وہ روایتی پٹھانوں کی طرح حد سے زیادہ مہمان نواز ثابت ہوا۔۔۔بے چارہ محنت کش آدمی تھا رکشہ چلا کر اپنی روزی کماتا تھا۔۔۔نایاب لالو کھیت میں رہتا تھا جبکہ اس کی فیملی صوبہ سرحد کے قریب کسی گاؤں میں رہتی تھی۔ اگلے دن صبح مجھے گھر میں ہی رہنے کی تائید کر کے نادر نایاب خان کے ساتھ گھر سے نکل گیا۔۔۔ان کی واپسی چار گھنٹوں بعد ہوئی۔۔۔آتے ہی نادر مجھے گلے لگاتے ہوئے بولا:کمالے میری جان تو بہت خوش نصیب ایں۔۔۔میں صبح دا کوئی چنگا ڈاکٹر لبھ ریا سی۔۔۔آخر ایک پرائیویٹ ڈاکٹر دا پتہ لگ گیا اے۔۔۔بہت قابل سرجن اے۔۔۔کل صبح اونوں جا کے ملاں گے۔ اگلی صبح ناشتہ کرنے کے بعد قریباً دس بجے ہم لوگ ڈیفنس کے پوش ایریا میں ایک کوٹھی میں موجود تھے۔۔۔کوٹھی کے باہر کسی سرجن ڈاکٹر کرنل رحمان کی نیم پلیٹ لگی ہوئی تھی۔۔۔یہ کوٹھی کہیں سے بھی کلینک نہیں لگتی تھی لیکن میں یہ سوچ کر چپ رہا کہ نادر کچھ سوچ سمجھ کر ہی یہاں تک پہنچا ہو گا۔ کچھ دیر بعد ہی ہم دونوں ڈاکٹر کے سامنے بیٹھے تھے۔۔۔ڈاکٹر درمیانے قد لیکن بھاری تن توش کا مالک تھا ڈاکٹر نے مجھے دیکھا تو مجھے ساتھ لیکر اندر ایک کمرے میں چلا آیا۔۔۔یہ کمرہ بلکل کلینک کی طرز پر تیار کیا گیا تھا۔۔۔ایک چھوٹا سا آپریشن ٹیبل اور ایک لانگ چئیر کے ساتھ ساتھ سرجری کے کافی آلات وہاں موجود تھے۔ ڈاکٹر نے مجھے لٹا کر محدب عدسے سے میرا تفصیلاً معائنہ کیا۔۔۔تھوڑی دیر بعد ہم لوگ واپس سٹِنگ روم میں آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ ڈاکٹر نے بولنا شروع کیا:مسٹر نادر میں نے کبھی بھی غیر قانونی کام میں ہاتھ نہیں ڈالا لیکن تمہارے بیان کو مدنظر رکھتے ہوئے اور لالہ نایاب خان کی سفارش اور یقین دہانی پر یقین کرتے ہوئے کہ یہ کوئی غیر قانونی کام نہیں میں تمہارے دوست کا علاج کروں گا۔۔۔لالہ کا مجھ پر ایک ایسا احسان ہے کہ جس کی وجہ سے میں اسے کبھی بھی انکار نہیں کر سکتا۔ بہرحال ہم موضوع سے نکل رہے ہیں۔۔۔پھر وہ ڈائریکٹ مجھ سے مخاطب ہو کر بولا کہ تمہارا کیا نام ہے؟میں نے اپنا نام بتایا تو وہ بولا:مسٹر کمال میں تمہارا علاج کرنے پر تیار ہوں۔۔۔لیکن اس کیلئے میری چند شرائط ہوں گی۔ نمبر 1:جب تک تم میرے زیرِ علاج رہو گے کوئی تمہیں یہاں ملنے نہیں آئے گا۔ نمبر 2:ٹھیک ہونے کے بعد میں تمہارا سارا ریکارڈ ضائع کر دوں گا۔۔۔یہ صرف ایک احتیاطی تدبیر ہے۔ نمبر 3:تمہیں علاج کی ساری رقم چار لاکھ روپے ایڈوانس جمع کروانی ہو گی۔ ڈاکٹر کے منہ سے چار لاکھ سن کر میں تھوڑا پریشان ہوا لیکن نادر اسی وقت بولا۔۔۔ڈاکٹر صاحب تسی بے فکر رہو سانوں تواڈیاں شرطاں منظور نیں۔۔۔تسی صرف اینا دسو کہ کب سے علاج کرنا شروع کریں گے۔ نادر کی بات سن کر ڈاکٹر بولا:اگر تم آج ہی پیسے جمع کروا دیتے ہو تو میں کل صبح ہی سارے انتظامات مکمل کرنے کے بعد کل شام سے ہی کام شروع کر دوں گا۔۔۔اور دو ہفتے بعد تم اپنے دوست کو ٹھیک چہرے کے ساتھ لیجا سکتے ہو۔ میں نے زبان کھولتے ہوئے ڈاکٹر سے پوچھا۔۔۔ڈاکٹر میرا سارا چہرہ برباد ہو چکا ہے کیا یہ بلکل پہلے کی طرح ٹھیک ہو جائے گا؟تو ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے کہا کہ دوست فکر مت کرو یہ تو کچھ بھی نہیں میں اس سے بھی ذیادہ بگڑے ہوئے چہرے ٹھیک کر چکا ہوں۔۔۔بس تم گھر جاؤ اور خود کو ذہنی طور پر سرجری کیلیئے تیار کر لو۔ ڈاکٹر کے ساتھ سارے معاملات طے کرنے اور اس کا شکریہ ادا کرنے کے بعد ہم لوگ وہاں سے نکلے اور ٹیکسی میں بیٹھ کر نایاب خان کے گھر پہنچ گئے۔۔۔تنہائی میسر آتے ہی میں نے پہلا سوال نادر کی طرف داغ دیا۔۔۔نادر مجھے ایک بات تو بتاؤ یار!!!ہمارے پاس تو بلکل بھی پیسے نہیں چار لاکھ کہاں سے دو گے؟ نادر مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔اوئے کمالے میرے یار توں وی جھلا ای ایں۔۔۔خزانہ جیب اچ پائی پھرنا ایں اور مینوں پچھنا ایں کہ پیسے کتھوں آون گے۔۔۔لیا کڈ او ہیرے اوناں نوں وی ٹھکانے لائیے۔۔۔قصہ مختصر اسی دن نادر نے وہ ہیرے ٹھکانے لگا دیے۔۔۔ہیروں کی قیمت ہماری توقع سے بھی ذیادہ موصول ہو گئی۔ ************************ (42) میں سمجھا تھا کہ چند لاکھ روپے کے ہوں گے۔۔۔لیکن جب نادر نے ایک چیک بک اور رسید میرے سامنے رکھی تو رسید پر لکھی ہوئی رقم پڑھ کر میری سٹی گم ہو گئی۔۔۔چار کروڑ اکہتر لاکھ روپے کی خطیر رقم نادر اپنے نام سے اکاؤنٹ کھول کر بینک میں جمع کروا آیا تھا۔ جبکہ سات لاکھ ایک بریف کیس میں کیش موجود تھا۔۔۔یعنی ٹوٹل ملا کر چار کروڑ اٹھہتر لاکھ میں ہیروں کا سودا ہوا تھا۔۔۔میں نے حیرانگی سے نادر سے پوچھا۔۔۔نادر یہ۔یہ اتنے پیسے؟تو وہ میرے کندھے پر ہاتھ مار کر بولا میری جان او ہیرے بہت قیمتی سن۔ وڈے چوہدری دے کم کاج دا خیال رکھدے ہوئے تیرے ویر دے وی کجھ تعلقات بن گئے نیں۔۔۔اس لئی اک بلکل نویں پارٹی نال ہیروں دا سودا کیتا۔۔۔میں ڈائیریکٹ نئیں گیا بلکہ اک درمیانی پارٹی نوں وچ پایا۔۔۔پچیس لاکھ اوناں نیں کمیشن لیا تے اپنا سودا ہو گیا۔ تے مزے دی اک ہور گل دساں۔۔۔اس پارٹی نے ہی مینوں اکاؤنٹ کھلوا کے دتا اے۔۔۔ورنہ تینوں پتہ بینک اچ کھاتہ کھولنا اتنا آسان کم نئیں۔۔۔اکاؤنٹ کھولنے واسطے ایک نام نہاد کمپنی دا بزنس شو کیتا تے باقاعدہ اودے کارڈ وی چھپوائے نیں۔۔۔یہاں ایک بات میں دوستوں کو بتاتا چلوں کہ نادر اچھی طرح اردو بول بھی سکتا تھا اور سمجھ بھی سکتا تھا۔۔۔لیکن چونکہ عادت سے مجبور تھا اس لئے کم از کم میرے ساتھ وہ ہمیشہ پنجابی میں ہی بات کرتا تھا۔ اگلے دن ہم لوگ گھر سے نکلے اور سیدھا ڈاکٹر کے پاس پہنچ گئے۔۔۔ڈاکٹر کو چار لاکھ ادا کرنے کے بعد نادر نے پوچھا!!!ہاں ڈاکٹر صاحب ہم لوگ کب آئیں؟ڈاکٹر نے جواب دیا:دوست تم لوگ آج شام کو ہی آ جاؤ اور یاد رکھنا کہ شرط کے مطابق کمال کے علاج کے دوران کوئی بھی ملاقاتی یہاں نہیں آ سکتا۔۔۔ہاں اگر تمہیں کوئی ضروری بات کرنی ہو تو یہ میرا نمبر رکھ لو اس پر کال کر لینا میں تمہاری بات کروا دوں گا۔۔۔لیکن کال بھی اہم ضرورت کے تحت کرنا۔۔۔یہ کہہ کر ڈاکٹر نے ایک کارڈ نکال کر نادر کی طرف بڑھایا جسے نادر نے پکڑ کر دیکھتے ہوئے جیب میں رکھ لیا۔ اسی شام نادر مجھے ڈاکٹر کی کوٹھی پر چھوڑ کے اپنا خیال رکھنے کا کہہ کر چلا گیا۔۔۔ڈاکٹر مجھے لیکر سیدھا اپنے آپریشن روم میں چلا آیا اور لانگ چئیر پر لٹا کر دو گھنٹے تک میرے چہرے کی مختلف ڈرائنگز بناتا رہا۔۔۔خاموشی سے تنگ آ کر میں نے ڈاکٹر سے باتیں کرنی شروع کر دیں۔ ڈاکٹر صاحب ایک بات تو بتائیں کہ آپ میرے چہرے کا علاج کیسے کریں گے؟ڈاکٹر مسکراتے ہوئے بولا یار پریشان کیوں ہوتے ہو میں ہوں نا سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ویسے تمہاری معلومات کیلئے بتا دیتا ہوں کہ میں تمہاری پلاسٹک سرجری کروں گا اس کیلئے میں نے باہر کے ملک سے سارا سازوسامان منگوا کر رکھا ہوا ہے۔ دو ہفتے میں تمہارا چہرہ ایسے ہو جائے گا کہ تم خود بھی کوئی جلے کا نشان یا داغ وغیرہ ڈھونڈ نہیں پاؤ گے۔۔۔آپریشن کے دوران ذیادہ تر میں تمہیں نیند کی دوائی دے کر رکھوں گا۔۔۔قصہ مختصر اس رات ڈاکٹر نے میرے چہرے کی مختلف اقسام کی ڈرائنگز بنائیں اور فارغ ہونے کے بعد مجھے کوٹھی کے ہی ایک آرام دہ کمرے میں شفٹ کر دیا۔۔۔اگکے دن سے باقاعدہ میرے چہرے کی مرمت شروع ہو گئی۔ چونکہ ساری تفصیل میں پہلے ہی بتا چکا ہوں اس لیے ہم علاج کا دورانیہ تھوڑا فارورڈ کرتے ہوئے آگے چلتے ہیں۔ ان دو ہفتوں میں ڈاکٹر نے مجھے ذیادہ تر نیند کی حالت میں ہی رکھا۔۔۔میرے کھانے پینے کا انتظام ڈاکٹر ہی کرتا تھا۔۔۔جب کھانے کی ضرورت محسوس ہوتی میں بتا دیتا تو تھوڑی دیر بعد ہی ایک ملازمہ آ کر کھانا دے جاتی۔۔۔وقت گزاری کیلئے مختلف اقسام کے اخبارات،ناولز موجود تھے۔۔۔اس کے علاوہ چند عدد فلموں کے کیسٹس اور وی سی آر بھی موجود تھا۔ میں جب نیند سے اکتا جاتا تو فارغ وقت میں یا تو اخبارات پڑھتا رہتا یا پھر فلمیں دیکھتے ہوئے سگریٹ پھونکتا رہتا۔۔۔یہیں سے مجھے سگریٹ کی باقاعدہ لت لگ گئی۔ میرا چہرہ ہر وقت پٹیوں میں ڈھکا رہتا۔۔۔صرف آنکھیں ناک کے دو سوراخ اور کھانے کیلئے منہ کھلا تھا۔۔۔باقی پورے چہرے پر پٹیاں لپٹی رہتی تھیں۔۔۔ان دو ہفتوں میں صرف ایک دفعہ سات دن بعد نادر کا فون آیا۔۔۔میری خیر خیریت معلوم کر کے اس نے رابطہ منقطع کر دیا۔ آج میری ڈاکٹر کے پاس آخری رات تھی کہ صبح میرے چہرے سے پٹیاں اتر جانی تھیں۔۔۔مجھے بے چینی سے صبح کا انتظار تھا۔۔۔وقت کاٹے نہیں کٹتا تھا اس لیے سگریٹ پہ سگریٹ پھونکتا رہا۔۔۔رات بارہ بجے میرے سگریٹ ختم ہو گئے تو میں بے چینی سے پہلو بدلنے لگا۔ میرے سرہانے ایک انٹرکام لگا ہوا تھا جس کے ذریعے میں ضرورت کے تحت ڈاکٹر سے رابطہ کر لیتا تھا۔۔۔میں نے انٹرکام پر کافی دفعہ کال کرنے کی کوشش کی پر شاید کسی فنی خرابی کی وجہ سے انٹرکام نہیں چل رہا تھا۔۔۔میں بیڈ سے اٹھا۔۔۔چپل پہنے اور ڈاکٹر کو ڈھونڈتے ہوئے اپنے کمرے سے باہر چل پڑا۔ ************************ (43) کمرے سے نکلتے ہی سامنے کوریڈور سے گزر کر جب میں دوسرے کنارے پر پہنچا تو میرے کانوں میں ایسی آواز آئی جیسے کسی لڑکی نے مزے سے سسکاری بھری ہو۔۔۔میں نے دھیان سے کان لگا کر سنا تو مسلسل سسکاریاں سنائی دینے لگیں۔۔۔میں ان آوازوں کا پیچھا کرتے ہوئے ایک کمرے کے دروازے پر پہنچ گیا۔ آوازیں اسی کمرے سے آ رہی تھیں۔۔۔دروازہ کھلا پا کر میں نے احتیاط سے اندر جھانکا تو میرے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔۔۔کمرے میں ڈاکٹر کے ساتھ ایک نوخیز لڑکی موجود تھی دونوں مادرذاد ننگے تھے۔۔۔لڑکی سیدھی لیٹی ہوئی تھی اور ڈاکٹر اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے اپنا لن اس کی پھدی میں ڈالے زور زور سے جھٹکے مار رہا تھا۔ مجھے لگتا تھا کہ ڈاکٹر چھوٹنے کے قریب ہے کیونکہ ڈاکٹر کے جھٹکوں میں بے قراری پائی جاتی تھی۔ مجھے دو مہینے سے ذیادہ عرصہ گزر گیا تھا کہ میں نے اپنا پانی نہیں نکالا تھا یہ صورتحال دیکھتے ہی میرا لن پوری طرح سے اکڑ گیا اور میری شلوار میں تنبو بن گیا۔۔۔میں نے ہاتھ سے اپنا لن سہلانا شروع کر دیا۔۔۔چند جھٹکوں کے بعد ڈاکٹر نے اپنا درمیانے سائز کا لن باہر نکالا اور لڑکی کے پیٹ کی طرف کر کے تیزی سے مٹھ مارتے ہوئے اس کے پیٹ پر ہی ساری منی نکال دی اور خود اس لڑکی کے اوپر ڈھیر ہو گیا۔۔۔میں وہیں کھڑا ہوا دیکھ رہا تھا کہ تبھی اچانک۔ اچانک اس لڑکی نے منہ موڑ کر دروازے کی طرف دیکھا تو مجھے وہاں کھڑے دیکھ کر پہلے تو حیرت سے اس کا منہ کھلا رہ گیا۔۔۔پھر اس نے اپنے آپ پر کمال کنٹرول کرتے ہوئے منہ پر انگلی رکھ کر مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور آنکھ مار دی۔۔۔عین اس وقت جب وہ مجھے آنکھ مار رہی تھی اس کی نظر نیچے میری شلوار میں بنے ہوئے تنبو پر پڑی تو اس کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔ اسی وقت میں وہاں سے واپس مڑ کر چلتے ہوئے کوریڈور سے واپس باہر کے گیٹ کی طرف چل پڑا۔۔۔گیٹ کے پاس پہنچ کر میں نے چوکیدار کے کیبن میں جھانکا تو چوکیدار کو موجود دیکھ کر میں نے اس سے کہا:بھائی اگر تمہیں تکلیف نہ ہو تو میرا ایک کام کر دو۔۔۔میرے سگریٹ ختم ہو گئے ہیں وہ لا دو۔ چوکیدار نے مجھے کہا صاحب آپ اپنے کمرے میں جائیں سگریٹ تھوڑی دیر میں ہی آپ تک پہنچ جائیں گے۔۔۔میں سست روی سے چلتا ہوا واپس کمرے میں آ کر لیٹ گیا۔۔۔لیٹتے ہی مجھے ڈاکٹر کی چدائی کا سین اور پھر اس لڑکی کا جسم یاد آ گیا۔۔۔جسے سوچتے ہی میرا لن دوبارہ کھڑا ہونا شروع ہو گیا۔۔۔لیکن میں اسی طرح لیٹے ہوئے میگزین دیکھ کر اپنا دھیان بٹانے لگا۔ کوئی پندرہ منٹ بعد چوکیدار آ کر مجھے دو پیکٹ سگریٹ کے دے گیا اور میں سگریٹ سلگا کر کش لگاتے ہوئے وقت گزارنے لگا۔۔۔تھوڑی دیر بعد اچانک مجھے دروازے کے باہر قدموں کی آواز سنائی دی تو میں جو کہ دروازے کی طرف ہی منہ کیے لیٹا تھا۔۔۔چونک کر دروازے کی طرف دیکھا تو اسی نوخیز حسینہ کو کمرے میں آتے ہوئے پایا۔۔۔اس کا آنا بھی قیامت خیز تھا۔ یوں لگتا تھا کہ وہ نہا کر آئی ہے۔۔۔کیونکہ اس کے گیلے جسم پر تولیہ بندھا ہوا تھا جو کہ بمشکل اس کی گانڈ تک آتا تھا۔۔۔نیچے اس کی رانیں اور ٹانگیں پوری ننگی تھیں۔۔۔اس کے بال خشک تھے۔۔۔مطلب کہ وہ گردن کے نیچے سے نہا کر آئی ہے۔۔۔اندر آتے ہی اس نے مجھے دیکھا اور بے پروائی سے میرے سامنے کرسی کر بیٹھ کر توبہ شکن انداز میں اپنی ایک ٹانگ اٹھا کر دوسری ٹانگ پر رکھی اور میری طرف دیکھنے لگی۔ اس کی ٹانگ کے نیچے کا نظارہ دیکھ کر میرا لن ایک دفعہ پھر کھڑا ہو گیا۔۔۔چند لمحے وہ میری طرف دیکھتی رہی پھر وہ کرسی سے اٹھی اور میرے پاس آ کر اس نے سائیڈ میز سے سگریٹ کی ڈبی سے ایک سگریٹ نکالا اور سگریٹ سلگا کے واپس اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ گئی۔ آخرکار میں نے ہی سکوت توڑا۔۔۔جی فرمائیے کیسے آنا ہوا۔۔۔وہ بلکل میری نقل اتارتے ہوئے بولی:کیا میں نے تم سے پوچھا تھا کہ جی فرمائیے کیسے آنا ہوا۔۔۔میں کھسیاہٹ زدہ لہجے میں بولا:وہ تو میں بس سگریٹ ڈھونڈتے ہوئے ادھر جا نکلا تھا۔۔۔وہ مجھے چڑاتے ہوئے بولی۔۔۔کیوں وہاں کیا سگریٹ کی دکان کھلی تھی۔۔۔اور جب اندر آ ہی گئے تو واپس کیوں نہیں چلے گئے؟ اب کی بار میری جھجھک ختم ہو چکی تھی تو میں رسانیت سے بولا کہ ارادہ تو یہی تھا کہ واپس لوٹ جاؤں پر جب اندر حسن کی ایک مجسم دیوی کو اپنی اداؤں کے خزانے لٹاتے دیکھا تو قدم وہیں جم گئے اور میں چاہ کر بھی واپس نہ مڑ پایا۔۔۔میری بات سن کر وہ بہکی ہوئی نگاہوں سے مجھے دیکھتے ہوئی بولی۔۔۔دیکھو یار میں کوئی روایتی عورت تو ہوں نہیں جو رسمی باتیں کروں اور گھما پھرا کر مجھے بات کرنا نہیں آتا۔۔۔میرا نام شبنم ہے اور میں ڈاکٹر کی بیوی ہوں پر وہ ابوالہوس میری ابلتی ہوئی جوانی کا مقابلہ نہیں کر پاتا۔کمینہ انسان۔ بہت جلد ہی بلکہ چند جھٹکوں میں ٹھس ہو جاتا ہے۔۔۔میں پھر گرم کی گرم مچلتی رہ جاتی ہوں۔۔۔تو مدعے پر آتے ہیں۔۔۔میرا دل تم پہ آ گیا ہے۔۔۔اس لیے میں اس وقت تمہارے سامنے اس حالت میں موجود ہوں۔۔۔بولو کیا کہتے ہو اس بارے میں؟ ************************ (44) میں کوئی"چپڑ قناطیہ"تو تھا نہیں کہ کسی لڑکی کی اتنی کھلی ڈھلی آفر نہ سمجھ پاتا۔۔۔لیکن پھر بھی میں نے ایک مبہوم سی مدافعت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے پوچھا۔۔۔لیکن وہ ڈاکٹر صاحب کہاں ہیں؟شبنم بڑے رسان سے بولی وہ گدھا دارو پی کر گانڈ اٹھائے سو رہا ہے۔۔۔اب اگلے چند گھنٹے اسے ہوش نہیں آئے گا۔۔۔اس کی بات سن کر میں نے اپنے چہرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے استہزایہ انداز میں کہا۔۔۔شبنم!!!کیا اس پٹیوں لپٹے چہرے کے ساتھ ہی؟اتنا کہہ کر میں چپ ہو گیا۔ میری بات سن کر وہ ہنستے ہوئے بولی۔۔۔او کم آن یار مجھے تمہاری شکل سے کیا لینا دینا مجھے تو تمہارا لن اپنی پھدی کے اندر چاہیے۔۔۔ویسے بھی صاف سی بات ہے کہ ہم دونوں صرف آج رات کے ساتھی ہیں۔۔۔اس کے بعد ہمارا کوئی لینا دینا نہیں۔۔۔میں اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا:اگر کل صبح میں ڈاکٹر کو بتا دوں کہ پچھلی رات میں اس کی بیوی کے ساتھ رنگ رلیاں مناتا رہا ہوں تو پھر؟ وہ بڑے تحمل سے بولی۔۔۔پھر کیا کچھ بھی نہیں بس اتنا ہو گا کہ کراچی سے گم ہو جاؤ گے یا پھر ہو سکتا کہ تمہارا کوئی ایکسیڈنٹ ہو جائے۔۔۔یا پھر راستے پہ چلتے ہوئے کوئی بے آواز آوارہ گولی تمہارا مزاج پوچھ لے گی۔۔۔میں نے گہری نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا تو وہ اٹھ کر میرے قریب آئی اور نیچے جھک کر ایک دم مجھے گلے سے دبوچتے ہوئے بولی۔۔۔اب بس کرو!!!کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ میں کب سے تمہارا لن لینے کیلئے مری جا رہی ہوں اور تم میرا انٹرویو لیے جا رہے ہو۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ یار غصہ کیوں کرتی ہو میں تو بس ایسے ہی شغل کر رہا تھا تو اس نے میرا گلا چھوڑ دیا اور اٹھ کر کھڑی ہوتے ہوئے بولی۔ کسی کی جان جا رہی ہے اور آپ کی ادا ٹھہری۔ یہ کہتے ہی ہاتھ اوپر لیجا کر اس نے اپنا تولیہ اتار پھینکا۔۔۔شبنم ایک نہایت خوبصورت لڑکی تھی۔۔۔میری ہی ہم عمر لگتی تھی لیکن اس کا جسم اس کی عمر سے کافی بڑا لگتا تھا۔۔۔کسے ہوئے پیٹ پر چھتیس سائز کے سڈول ممے ایسے شان سے سر اٹھائے کھڑے تھے جیسے کسی نے درمیانے سائز کے فٹبال درمیان سے کاٹ کر لگا دیے ہوں۔۔۔ان مموں پہ چھوٹے چھوٹے گلابی رنگ کے نپلز بڑے بھلے لگ رہے تھے۔۔۔کمر بلکل پتلی سی نہ ہونے کے برابر۔۔۔اس کی گانڈ کافی موٹی اور باہر نکلی ہوئی تھی۔۔۔یوں لگتا تھا کہ جیسے گوشت کی پہاڑیاں ہوں۔ میں نے اٹھ کر اپنی قمیض اتار دی۔۔۔اس سے پہلے کہ میں کچھ اور کرتا اس نے میرے سینے پر ہاتھ رکھ کے دباؤ ڈال کر مجھے لٹاتے ہوئے کہا۔۔۔نہیں نہیں تم کچھ نہیں کرو گے تم سکون سے لیٹ جاؤ۔۔۔میں خود ہی سب کچھ کر لوں گی۔۔۔میں کندھے اچکاتے ہوئے چِت لیٹ کر شوق طلب نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا۔ وہ آرام سے میرے ساتھ بیڈ پر ہی بیٹھ گئی اور میرے سینے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے نیچے کی طرف لیجانے لگی۔۔۔دوستو اپنی جسمانی ساخت تو میں پہلے ہی بتا چکا ہوں۔۔۔اس لیے میرے جیسا بانکا جوان دیکھ کر اس کی آنکھیں بنا کچھ کہے ہی نشیلی ہوتی جا رہی تھیں۔ چند لمحے وہ ایسے ہی میرے سینے پر ہاتھ پھیرتی رہی۔پھر اس نے اپنا ہاتھ نیچے لیجا کر میرا لن شلوار کے اوپر سے ہی پکڑ لیا اور میرے لن کو پکڑتے ہی اس کی آنکھوں میں تیز چمک ابھر آئی۔۔۔اس نے دونوں ہاتھوں سے میرے لن کو ٹٹولنا شروع کر دیا۔۔۔وہ اچھی طرح میرے لن کی لمبائی اور موٹائی ماپ رہی تھی۔ ************************ (45) وہ میرے پہلو میں بیٹھی ہوئی میرے لن کو سہلا رہی تھی۔۔۔میں نے اپنا ایک ہاتھ آگے بڑھایا اور اس کے ممے کو پکڑ کر دبا دیا۔۔۔اس کا مما میرے ہاتھ میں آتے ہی اس کے منہ سے ایک لذت بھری سسکاری نکلی۔۔۔سسسسی۔۔۔ساتھ ہی اس نے اپنا بدن ڈھیلا چھوڑ دیا۔۔۔میں نے آہستہ آہستہ اس کے گول مٹول مموں کو دبانا شروع کر دیا۔۔۔کچھ دیر میں ایسے ہی ایک ہاتھ سے باری باری اس کے ممے دباتا رہا۔۔۔شبنم میرے لن کو اپنے ہاتھ میں جھکڑے منہ چھت کی طرف کر کے آنکھیں بند کیے سیییییی سیییییی کرتی رہی۔ پھر میں نے اس کے مموں کو چھوڑ کر اپنا ہاتھ بڑھاتے ہوئے اس کی کمر میں ڈالا اور اسے اپنی طرف کیا تو شبنم نے اپنی آنکھیں کھول کر میری طرف دیکھا۔۔۔میں واضح طور پر اس کی نشیلی آنکھوں میں سرخ ڈورے تیرتے ہوئے دیکھ سکتا تھا۔ پھر وہ آہستہ سے جھکتی گئی اور اپنے ہونٹوں سے میرے ہونٹوں کو ہلکے سے چوم لیا۔۔۔چونکہ میرے چہرے پر میرے ہونٹ ہی پٹیوں سے آزاد تھے۔۔۔اور وہ بھی آس پاس کا ایریا پٹیوں میں کسے ہونے کی وجہ سے ہلکے سے سوجھے ہوئے تھے اور صاف سوجن نظر آتی تھی۔۔۔اس لیے شبنم نے انتہائی احتیاط کے ساتھ صرف ہونٹ چومنے پر اکتفا کیا۔۔۔اس کا ایک ہاتھ مسلسل میرے لن کو سہلا رہا تھا۔ میں نے اسے اپنے ساتھ پہلو میں لٹا لیا اور پہلو کے بل ہوتے ہوئے اپنا ایک ہاتھ اس کے پیٹ پر پھیرتے ہوئے اس کی ناف میں انگلی سے چھیڑخانی کرنے لگا۔۔۔میں جتنا ذیادہ اس کی ناف کو چھیڑتا شبنم اتنا ذیادہ مچلتی۔۔۔میں نے دھیرے سے اپنا ہاتھ نیچے سرکایا تو میرا ہاتھ اس کی پھدی کی نرم و ملائم جلد سے ہوتا ہوا پھدی کے ہونٹوں تک جا پہنچا۔۔۔میرے ہاتھ کی انگلیوں نے جیسے ہی اس کی پھدی کے ہونٹوں کو چھوا تو اس کے جسم کو ایک جھٹکا لگا۔ اس کی پھدی کافی زیادہ گیلی ہو چکی تھی جس سے نکلنے والی رطوبت کی چپچپاہٹ میں اپنی انگلیوں پر محسوس کر رہا تھا۔۔۔میں اس کی نازک اور بالوں سے صاف پھدی کے ہونٹ مسل رہا تھا اور وہ اپنی گانڈ اٹھا اٹھا کر ایسے میرے ہاتھ پر رگڑ رہی تھی کہ جیسے پورا ہاتھ اندر لینا چاہتی ہو۔۔۔دو منٹ بعد ہی اس کی سسکیوں میں شدت پیدا ہو گئی۔۔۔میں نے بھی اس کی پھدی کے ہونٹوں کو رگڑنے کی سپیڈ تیز کر دی۔ ساتھ ہی میں نے اپنے اسی ہاتھ کی دو انگلیاں اندر گھستے ہوئے پھدی کے دانے کو زور سے مسلا تو شبنم نے ایک دم اپنی ٹانگیں زور سے بھینچ لیں۔۔۔اس کے منہ سے ایک لذت بھری سسکی نکلی۔۔۔۔ہائےےےےےےےے امی جی۔ی۔ی۔ی۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی شبنم کی پھدی نے پانی چھوڑ دیا۔ چند سیکنڈ بعد میں نے اپنا ہاتھ باہر نکال کر بیڈ شیٹ کے ساتھ ہی صاف کیا اور اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔کیا ہوا شبنم جی۔۔۔یہ تو آپ ہی چند سیکنڈز میں ٹھس ہو گئیں۔۔۔تو وہ میرے اکڑے ہوئے لن پر ہلکا سا ہاتھ مار کر بولی۔۔۔بکواس مت کرو یار۔۔۔اس بڈھے نے مجھے پہلے ہی کافی گرم کر دیا تھا اوپر سے تمہاری انگلیوں میں جادو ہے جادو،،جو میں برداشت نہیں کر پائی۔ اسی لیے گنگا بہہ گئی۔ رکو ابھی تمہیں بتاتی ہوں۔۔۔یہ کہتے ہی اس نے میری شلوار کر ہاتھ ڈالا اور میرا ازاربند کھول کر شلوار اتار دی۔۔۔میرا لن کسی شیش ناگ کی طرح مچل کر شلوار سے باہر نکلا اور فل مستی میں سر اٹھائے جھومنے لگا۔۔۔شبنم بڑی نشیلی نگاہوں سے میرے لن کو دیکھ رہی تھی۔۔۔پھر شبنم نے آگے بڑھ کر میری ٹانگوں کے درمیان بیٹھتے ہوئے میرے لن کو اپنے ہاتھ سے پکڑتے ہوئے اپنا منہ نیچے کیا اور میرے لن کی ٹوپی کو منہ میں لیکر چوسنے لگی۔۔۔وہ اتنی لگن سے میرا لن چوس رہی تھی کہ میرا لن اپنی پوری اکڑ میں آ کر تن گیا۔ اف فف اس کا گرم گرم منہ کیا مزہ دے رہا تھا۔۔۔میں سب بدلے ودلے بھول کر سوچنے لگا کہ کاش وہ اسی طرح میرا لن اپنے منہ میں لیے بیٹھی رہے اور یہ لمحہ امر ہو جائے۔۔۔شبنم میرے لن کو منہ میں لیے آہستہ آہستہ سے اپنے منہ کو چودنا شروع ہو گئی۔۔۔میں نشے کی سی کیفیت محسوس کرنے لگا۔ شبنم بہت تیزی سے میرا لن چوس رہی تھی۔۔۔بیچ میں کبھی کبھی وہ اپنی پوری زبان نکال کر میرے ٹٹوں پر پھیرتی تھی۔۔۔میں حیران تھا کہ شبنم اس رغبت سے میرا لن چوس رہی تھی جیسے یہ اس کیلئے دنیا کی سب سے پسندیدہ شے ہو۔۔۔صرف پانچ منٹ کے اندر ہی شبنم کے جاندار چوپوں نے مجھے منزل کے قریب کر دیا۔ میرا جسم اکڑنے لگا تو میں نے کہا شب۔شب۔شبنم میرا پانی نکلنے والا ہے۔۔۔بس کرو اب لن کو منہ سے باہر نکال لو۔۔۔لیکن وہ میری بات سنی ان سنی کر کے اور تیزی سے لن کو چوسنے اور میرے لن کی ٹوپی کو اپنے حلق تک لیجانے لگی۔۔۔تبھی میرے جسم کو آخری جھٹکا لگا اور میرے لن سے منی کی دھاریں خارج ہونے لگیں۔۔۔شبنم نے اپنے ہونٹوں کو گرِپ کر کے میری ساری منی اپنے منہ میں ہی جمع کرنا شروع کر دی۔ ************************* (46) جب میرے لن سے منی کا آخری قطرہ بھی نکل گیا اور میرے لن نے جھٹکے مارنے بند کر دیے تو شبنم نے بڑے احتیاط سے میرا لن اپنے منہ سے باہر نکال لیا۔۔۔شبنم نے لن کو منہ سے باہر نکالتے وقت اس چیز کا خاص خیال رکھا کہ منی کا ایک قطرہ باہر نہ گرنے پائے۔۔۔پھر میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بڑے سیکسی انداز میں وہ منی کا گھونٹ بھرتے ہوئے اپنے حلق سے نیچے اتار گئی۔ میں ابھی حیرت زدہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا کہ اچانک شبنم نے پھر سے میرے لن کو پکڑ کر اپنی زبان باہر نکالی اور میرے لن کو اچھی طرح سے چاٹ چاٹ کر صاف کرنا شروع کر دیا۔۔۔اس کے گرم منہ کی حدت سے میرے مردہ ہوتے ہوئے لن میں ایک دفعہ پھر جان پڑنا شروع ہو گئی۔۔۔دو منٹ بعد ہی میں اس کو نیچے فرش پر بٹھائے اپنا لن اس کے منہ میں ڈالے اس کے منہ کو چود رہا تھا۔ دو منٹ تک ایسے ہی اس کے منہ کو چودنے کے بعد میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے شبنم کے چہرے کو پکڑتے ہوئے لن کو اس کے حلق کی گہرائی تک لیجا کر چودنا شروع کر دیا۔۔۔جیسے ہی میرے لن نے اس کے حلق کو چھوا تو اسے کے منہ سے اوغ۔اوغ کی آواز نکلی۔۔۔یوں لگا جیسے ابکائی لینے لگی ہو۔۔۔لیکن اس نے کمال مہارت سے اپنے آپ کو سنبھال لیا۔۔۔تقریباً پانچ منٹ کی جاندار حلق چودائی کے بعد میرا لن اپنے پورے جوبن پر آ چکا تھا۔ میں نے اپنا لن اس کے منہ سے باہر نکالا اور اسے بیڈ پر لیٹنے کو کہا۔۔۔وہ سیدھی بیڈ پر لیٹ گئی اور اپنی ٹانگیں کافی ساری کھول لیں۔۔۔میں اس کی کھلی ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گیا۔۔۔پھر اپنے لن کو پکڑ کر اس کی پھدی کے ہونٹوں پہ رکھا۔۔۔شبنم کی پھدی ایک دم مست پھدی تھی۔۔۔اس پر ایک بھی بال نہیں تھا۔۔۔کسی کنواری پھدی کی طرح اس کے ہونٹ بھی آپس میں ایک دم ٹائٹ ہو کر جڑے ہوئے تھے۔۔۔میں نے لن کو پھدی کے ہونٹوں کے درمیان رکھتے ہوئے آہستہ سے پش کیا تو لن کی ٹوپی پھدی کو چیرتی ہوئے اندر گھس گئی۔ شبنم کے چہرے پر ہلکی سی تکلیف کے آثار تھے۔۔۔میں آہستہ آہستہ دباؤ بڑھاتا گیا۔۔۔شچنم نیچے سے مچلتی گئی پر میں رکا نہیں۔۔۔نتیجتاً بیس سیکنڈ میں ہی میرا پورا لن اس کی پھدی میں غائب ہو چکا تھا۔۔۔میں نے ہلنے کی کوشش کی تو شبنم نے اپنے دونوں ہاتھ میرے پیٹ پر رکھ دیے۔۔۔جیسے مجھے روکنا چاہتی ہو۔۔۔میرے سوالیہ نظروں سے دیکھنے پر اس نے کہا۔۔۔تھوڑی دیر یہاں ہی رکو۔۔۔پہلی بار اتنا صحت مند لن اندر لیا ہے۔ تھوڑی دیر اسے محسوس تو کرنے دو۔۔۔کچھ دیر بعد جب اس کو سکون ملا تو وہ بولی اب آہستہ آہستہ سے دھکے لگانا شروع کرو۔۔۔میں نے آہستہ آہستہ پمپنگ کرنی شروع کر دی۔۔۔شبنم اب پورا لن اندر لینے کے بعد مستی بھری آوازوں سے مجھے سب اوکے ہے کا سگنل دے رہی تھی۔۔۔میں نے آہستہ آہستہ اپنی سپیڈ بڑھانی شروع کر دی۔۔۔شبنم بھی میرا ساتھ دے رہی تھی۔۔۔لن اندر جاتے ہی وہ اپنی گانڈ کو پیچھے دبا کر میرا ساتھ دیتی۔ میں جیسے ہی گھسہ مارتا۔۔۔شبنم کے ممے باؤنس ہو کر اوپر کو اچھلتے اور اس کے ڈانس کرتے مموں کو دیکھ کر مجھے اور جوش چڑھتا جاتا۔۔۔اور میں مزید زور سے گھسہ مارتا۔۔۔شبنم اف فف فف ہائےےےےےےے کی آوازیں نکال کر میرے مزے کو دوبالا کر رہی تھی۔۔۔شبنم کی پھدی اب اندر سے بلکل ہموار ہو چکی تھی جس کی وجہ سے میرا لن باآسانی اندر باہر آ جا رہا تھا۔ ************************* (47) میرے اور شبنم کے جسم آپس میں ٹکرانے کیوجہ سے کمرے میں پوچ پوچ کی آوازیں آ رہی تھیں۔۔۔اب شبنم نیچے سے گانڈ اٹھا اٹھا کر پورا لن اندر لے رہی تھی اور میرا لن اس کی بچہ دانی تک مار کر رہا تھا۔۔۔مسلسل دس منٹ تک گھسے مارنے کے بعد اچانک شبنم نے اپنی دونوں ٹانگیں اوپر اٹھا کر میری کمر پر باندھتے ہوئے پیروں کی مدد سے شکنجہ بنا کر مجھے اپنے شکنجے میں بھینچ لیا۔۔۔میں اپنی پوری طاقت کے ساتھ گھسے مار رہا تھا۔۔۔شبنم سسکیاں بھرتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ تیز۔تیز۔ہاں راجہ۔۔۔اور تیز۔ اس کی پھدی مسلسل رطوبت چھوڑ رہی تھی جس کیوجہ سے میرا لن پھسل پھسل کر اندر جا رہا تھا۔۔۔اب میرے دماغ میں ہلچل مچنا شروع ہو گئی اور میں بنڈ پھاڑ گھسے مارنے لگا۔۔۔شبنم بھی اب مزے کے ساتھ پورے فارم میں تھی۔۔۔اور پانی نکالنے کیلئے تیار ہو رہی تھی۔ اوہ میری پھدی۔۔۔آہ۔۔ممممم۔ممممم۔۔میں گئییییی۔۔۔ میں نے فل جوش میں تین چار گھسے اور مارے تو میرے جسم کو ایک جھٹکا لگا تو میں نے پوری طاقت سے لن کو جڑ تک پھدی میں گھسا دیا اور میرے لن نے اس کی پھدی کے اندر ہی پانی چھوڑنا شروع کر دیا۔۔۔میرا منی اندر گرنے کی دیر تھی کہ شبنم کی ٹانگیں بھی کانپیں اور اس نے بھی لرزتے ہوئے منی کی برسات کر دی۔ میں نڈھال ہو کر شبنم کے اوپر گر کے ہانپنے لگا جبکہ وہ بھی ہانپتے ہوئے تیز تیز سانسیں لے رہی تھی۔۔۔اس طرح کوئی دس منٹ تک اپنی سانسیں بحال کرنے کے بعد وہ اٹھی اور اپنا تولیہ اٹھا کر پھر سے باندھ کر ایک سگریٹ سلگا کر مجھے دیا اور میرے سامنے کرسی پر بیٹھ گئی۔۔۔جبکہ میں ابھی تک ننگا لیٹا ہوا تھا۔ وہ کھوئے کھوئے سے انداز میں مجھے دیکھتی رہی۔۔۔پھر وہ اچانک بولی دیکھو میں بھی کتنی بدھو ہوں۔۔۔ابھی تک تمہارا نام نہیں پوچھا۔۔۔میں نے بتایا کہ میرا نام کمال پاشا ہے۔۔۔وہ میری آنکھوں میں تکتے ہوئے بولی تمہارا یہ حال کیسے ہوا۔۔۔اس کا اشارہ میرے جلے ہوئے چہرے کی طرف تھا۔۔۔میں نے کچھ لمحے سوچا پھر نہ جانے کیوں اسے نہایت اختصار کے ساتھ ساری کہانی خود ہر بیتے سارے حالات بتاتا چکا گیا۔ صرف ہیروں کا قصہ گول کر گیا۔۔۔پیسوں کے بارے میں اسے بتایا کہ ہم لوگ زمیندار لوگ ہیں کافی زمین تھی جو اب ساری کی ساری بلا غیرے شرکت میری ہے۔۔۔میری بات سن کر وہ سرشار لہجے میں بولی"مسٹر کمال پاشا!!!تم چاہو تو فرض کر سکتے ہو کہ تمہارے ہاتھ پارس پتھر لگ گیا ہے۔۔۔کچھ استفادہ کرنا چاہو تو کر سکتے ہو۔۔۔کوئی کام کہیں اٹکا ہوا ہو تو بتا سکتے ہو۔۔۔کوئی مسئلہ درپیش ہو تو صرف اشارہ کر دو۔ پھر وہ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بولی میں تو نہ تین میں ہوں نہ تیرہ میں۔۔۔لیکن میرا جو یہ نام نہاد عاشق شوہر کرنل ہے ناں!!!۔باہر دنیا کیلئے بہت بڑی توپ قسم کی شے ہے لیکن بیڈروم میں میرا ہاتھ بندھا غلام ہے۔۔۔اس لیے اگر کوئی مسئلہ درپیش ہے اور تم سمجھتے ہو کہ اس میں ہماری ضرورت پیش آ سکتی ہے تو واضح بتا دو۔۔۔تمہارا کام باآسانی ہو جائے گا۔ ہاں ایک کام ہے جس کو کرنے کیلئے مجھے تمہاری مدد کی ضرورت پڑے۔۔۔میں نے ایک لمحہ توقف کے ساتھ تھوڑا مکھن لگانی کی کوشش کرتے ہوئے رومینٹک انداز میں کہا۔۔۔لیکن فلحال اس موضوع کو رہنے دو۔۔۔ابھی تم مجھے ملی ہو،تمہارا ساتھ مجھے ملا ہے،مجھے جی بھر کر سیراب تو ہو لینے دو۔۔۔پہلے مجھے کچھ دیر تک اس خوشی کو محسوس تو کر لینے دو۔۔۔میری روح میں پیاس کا اک صحرا پھیلا ہوا ہے۔۔۔اسے کچھ دیر تو تمہاری محبت کی شبنم جذب کرنے دو۔۔۔وہ چپ چاپ میری آنکھوں میں دیکھتی رہی لیکن جیسے ہی میں نے اپنی بات ختم کی وہ تالیاں بجانے کے انداز میں بولی"تقریر اچھی کر لیتے ہو۔ پر میری جان میں اس وقت سے بہت آگے آ چکی ہوں جب لڑکیاں اس قسم کی باتوں پر مر مٹتی تھیں۔۔۔تم کیا جانو میں کتنا بڑا صحرا پار کر کے یہاں تک پہنچی ہوں۔۔۔پھر وہ اٹھتے ہوئے بولی بہرحال میری آفر اپنی جگہ برقرار ہے جب بھی کوئی ضرورت پیش آئے مجھے کال کر لینا تمہارا کام ہو جائے گا کانٹیکٹ نمبر وہی ہے جس پر تم لوگ ڈاکٹر سے رابطہ کرتے ہو۔۔۔ اوکے اب اچھے بچوں کی طرح سو جاؤ۔۔۔صبح کا دن تمہارے لیے نئی خوشیوں کی امید لیکر آ رہا ہے۔۔۔اس کا اشارہ پھر میرے چہرے کی طرف تھا۔۔۔گڈ نائٹ کہہ کر اس نے ایک دفعہ پھر جھکتے ہوئے میرے ہونٹوں کو چوم لیا اور پھر مڑ کر کمرے سے نکلتی چلی گئی۔۔۔شبنم کے جانے کے بعد میں نے کپڑے پہنے اور واش روم میں جا کر فریش ہونے کے بعد واپس بیڈ پر آ کر لیٹ گیا۔ جاری ہے۔۔۔1 like
-
مجرِم یا۔۔۔
1 like@Kallojatt جی جناب میں دیکھ چکا ہوں یم سٹوریز پر کوئی مناہل نام سے اپلوڈ کر رہا ہے میری سٹوریاں لیکن میرے پاس اس کو روکنے کا کوئی حل نہیں بھائی۔1 like
-
مجرِم یا۔۔۔
1 likeسب دوستوں کا شکریہ جنہوں نے اپنا ٹائم نکال کر اس سٹوری کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ اپنے کمنٹس سے نوازا۔ اگلی اپڈیٹ میں سٹوری کو ایک اور نیا رخ دیا جائے گا اور باقی کرداروں کو فلحال پسِ پشت ڈال کر میں کردار کو آگے بڑھا جائے گا۔۔۔کچھ نئے کردار بھی شامل ہوں گے اور سٹوری کو ایک ترتیب سے ان کرداروں کے ساتھ لنک کرنے کی بھرپور کوشش کروں گا۔ مجھے نہیں لگتا کہ اگلی اپڈیٹ میں کوئی سیکس سین ہو گا۔بہرکیف میں کوشش کروں گا کہ سٹوری کی ڈیمانڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے اس میں کوئی سیکس سین ڈال سکوں۔۔۔1 like
-
مجرِم یا۔۔۔
1 likeدوستو پڑھ کے بتائیے گا ضرور کہ کہانی کا ٹریک کیسا جا رہا ہے۔۔۔ دراصل میں پہلی دفعہ تھوڑا روٹین سے ہٹ کر لکھ رہا ہوں۔۔۔اس سے پہلے اس طرح کی کوئی سٹوری نہیں لکھی اس لئے آپ لوگوں کی رائے کا شدت سے انتظار رہے گا۔۔۔ نوٹ:۔۔۔ آج 19 جون ہے تو اگلی اپڈیٹ 2 جولائی کو اپلوڈ کروں گا۔۔۔میری آفس میں ایک اسائنمنٹ ہے وہ بھی ساتھ ساتھ پوری کرنی لیکن دو جولائی کو ہر صورت اپڈیٹ دے دوں گا۔۔۔1 like
-
مجرِم یا۔۔۔
1 like(24) کچھ دیر ریسٹ کرنے کے بعد جب ہم نارمل ہو گئے تو میں نے راجی سے پوچھا۔۔۔راجی تم خود کو میرے ساتھ کیسا محسوس کر رہی ہو۔ میرا پیار کرنا کیسا لگا۔ میرے منہ سے یہ الفاظ نکلنے کی دیر تھی کہ راجی کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے اور وہ روتے ہوئے بولی۔ کمال باؤ۔ تم واقعی کمال ہو۔ چھیمو بڑی خوش نصیب ہے جو اسے تم جیسا پیار کرنے والا ملا۔۔۔ورنہ ہم جیسی لڑکیوں کے نصیب میں تو زبردستی چدائی اور حلق میں پھنسے لنوں کا منی پینا ہی لکھا ہوا ہے۔۔۔ابھی جب تم نے تھوڑی دیر پہلے مجھے ہونٹوں پر چوما تو مجھے یقین نہیں ہوا کہ مجھ جیسی رانڈ کو کوئی ہونٹوں پر بھی چوم سکتا ہے۔ ان ہونٹوں پر جہاں آج تک سیال زادوں کے لن رگڑے گئے۔۔۔ان گشتی کے بچوں نے کبھی بھی مجھے پیار سے کس نہیں کی۔۔۔میرے راضی خوشی چدوانے کے باوجود وہ لوگ زبردستی چدائی کو فوقیت دیتے ہیں۔ مجھے اچانک ایک بات یاد آئی تو میں بول اٹھا راجی مجھے جب چھیمو نے تم دونوں کی داستان سنائی تھی تو اس نے بتایا تھا کہ پہلی دفعہ سیال زادوں سے چدوانے کے بعد تم خود وڈے چوہدری کے آگے لیٹنے کو تیار ہو گئی تھی اور اپنی مرضی سے پھدی مروائی تھی۔ اگر تم مظلوم ہو تو وہ سب کیا تھا جو اس دن وڈے چوہدری کے کمرے میں ہوا۔ میری بات سن کر راجی کچھ دیر خاموش رہی پھر جیسے خلا میں تکتے ہوئے بولی۔ جو بات میں ابھی بتانے جا رہی ہوں وہ تو چھیمو بھی نہیں جانتی۔۔۔اس دن میں جان بوجھ کر حویلی گئی تھی۔۔۔مجھے پتہ تھا کہ یہ سب ہو گا۔ لیکن اس درندگی کے ساتھ ہو گا یہ میں نے سوچا بھی نہیں تھا۔۔۔لیکن سوال یہ ہے کہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی میں چوہدری کہ حویلی میں گئی ہی کیوں۔ تو یہ جاننے کیلئے چند سال پہلے کا قصہ سناتی ہوں۔ ہم دو بہنیں تھیں۔ میرا نام تو تم جانتے ہی ہو جبکہ مجھ سے چھوٹی کا نام نغمہ تھا۔ رنگ روپ میں اتنی خوبصورت کہ پریاں بھی دیکھ کر شرما جائیں۔ جسم کی اٹھان بھرپور تھی۔ وہ ہم سب کی لاڈلی تھی۔ گھر میں میرے امی ابو میں اور نغمہ ٹوٹل چار لوگ ہی تھے۔۔۔صرف مکان اپنا تھا زمین بلکل بھی نہیں تھی اس لیے ابا لوگوں کی زمینوں میں کھیتی باڑی کر کے گھر کی دال روٹی چلاتے تھے۔ مجھے بچپن سے ہی گانے کا بہت شوق تھا۔۔۔آس پاس کے گاؤں میں اور خود اپنے گاؤں میں اگر کوئی شادی بیاہ ہوتا تو مجھے اسپیشل بلایا جاتا تھا کہ میں وہاں رنگ جماؤں۔ اس طرح چار پیسے کی آمدنی بھی ہو جاتی۔ اور میرا گانے کا شوق بھی پورا ہو جاتا تھا۔ زندگی سکون سے گزر رہی تھی۔۔۔کہ تبھی اچانک ہماری زندگی میں ایک ایسا بھونچال آیا کہ سب کچھ تہس نہس ہو گیا۔ ہوا کچھ یوں کہ ایک دن ہمارے گاؤں کی دوسری نکڑ پر موچیوں کے گھر شادی تھی۔۔۔ان کی عورتیں گانا گانے کیلئے مجھے بلا کر لے گئیں۔ آدھی رات تک کا فنکشن تھا۔ رات کو جب فارغ ہوئے تو انہوں نے مجھے کافی پیسے دیے۔۔۔اور ایک بزرگ ملازمہ جس کا نام ماسی صغراں ہے۔۔۔مجھے اس کے ساتھ واپس گھر بھیج دیا۔۔۔ماسی صغراں ہمارے گھر کے ساتھ ہی رہتی تھی۔ **************************** (25) ماسی کی داستاں بھی عجیب تھی۔۔۔ماسی کا خاوند کافی سال پہلے نشے کی ذیادتی کی وجہ سے مر گیا۔ پھر ایک دن ماسی کا جواں سال بیٹا پیسے کمانے گھر سے نکلا تو آج تک واپس نہیں آیا۔ ماسی دائی کا کام بھی جانتی تھی مگر اس کا ذیادہ تر وقت ادھر ادھر کے گھروں میں ہی گزرتا تھا۔ جھاڑو پونچھا کر کے روٹی پانی کھا پی لیتی اور اسی طرح اس کی زندگی کی گاڑی بھی چل رہی تھی۔ میں اور ماسی شادی کی باتیں کرتے ہوئے جیسے ہی میرے گھر کے قریب پہنچے تو مجھے گھر کے سامنے ایک بڑی جیپ کھڑی دکھائی دی جس میں کچھ لوگ بیٹھ رہے تھے۔ جیپ دیکھتے ہی ماسی کے منہ سے نکلا ***** خیر۔ میں نے گھبرا کر ماسی سے کچھ پوچھنا چاہا تو ماسی نے مجھے سختی سے چپ رہنے کا اشارہ کیا اور میرا بازو پکڑ کر پاس ہی موجود درختوں کے جھنڈ میں داخل ہو گئی۔۔۔چند منٹ بعد جیپ سٹارٹ ہوئی اور غراتی ہوئی ہمارے سامنے سے گزرتی چلی گئی۔ جیپ میں چار گن مینوں کے ساتھ دو سوہنے سوہنے منڈے بھی موجود تھے۔ بعد میں پتہ چلا کہ وہ سوہنے منڈے وڈے چوہدری کا پتر صفدر سیال اور اس کا کوئی شہری دوست تھے۔ میرا دل تیزی سے دھڑکنے لگا کہ بندوق بردار آدمیوں کا میرے گھر میں کیا کام۔۔۔میں ہولتے دل کے ساتھ تیزی سے آگے بڑھی اور ماسی سے اپنا بازو چھڑا کر بھاگتے ہوئے درختوں کے جھنڈ سے باہر نکلی اور سیدھا اپنے گھر میں داخل ہو گئی۔۔۔جیسے ہی میں گھر میں پہنچی تو۔ جیسے ہی میں گھر میں پہنچی تو اندر کمرے کی طرف بھاگی۔۔۔کمرے میں داخل ہو کر جو منظر میری آنکھوں نے دیکھا۔اسے دیکھ کر میرے منہ سے چیخ نکلی۔۔۔سامنے فرش پر میرے ابا اور امی کی لاشیں خون میں لت پت پڑی ہوئی تھیں۔ امی کا جسم پورا ننگا تھا اور ان دونوں کے سینوں میں دستے تک خنجر پھنسے ہوئے تھے۔ میں پھٹی آنکھوں کے ساتھ لڑکھڑائی تو سہارا لیتے لیتے فرش پر کسی چیز کے ساتھ پاؤں الجھے اور میں گر پڑی۔۔۔میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا رہا تھا۔ چند لمحات کے بعد جب آنکھیں دیکھنے کے قابل ہوئیں تو میری نظر اس چیز پر پڑی جس سے میرے پاؤں الجھے تھے۔ اس چیز کو دیکھ کر یوں لگا آسمان سر پہ آن گرا ہو۔۔۔وہ میری بہن، چھوٹی لاڈلی بہن، نغمہ کی لاش تھی۔۔۔جس کے بدن پہ کپڑوں کے نام پر ایک تار بھی نہیں تھا۔ نغمہ کو اس حالت میں دیکھ کر اور پے در پے جھٹکوں نے مجھے تکلیف سے نجات دلائی اور میں چیخیں مارتے روتے روتے بیہوش ہو کر وہیں زمین پر گر گئی۔ پھر جب ماسی صغراں اندر آئی اور اس نے سارا ماجرہ دیکھا تو اس کی حالت بھی مجھ سے مختلف نہ تھی۔۔۔لیکن وہ بیہوش ہونے سے بچ گئی۔ جہاندیدہ تھی سارا معاملہ سمجھ گئی۔۔۔اس نے جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر مجھے اٹھایا پھر پانی کے چھینٹے میرے منہ پر ڈالے اور جب مجھے ہوش آیا تو دیکھا ماسی مجھے ہلا رہی تھی۔ چند لمحے تو میں غائب دماغ سی ماسی کی طرف دیکھتی رہی لیکن جب شعوری کیفیت میں واپس آئی تو ایک دفعہ پھر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔ماسی مجھے چپ کرواتی رہی۔ میں روتے ہوئے پوچھا رہی تھی ماسی یہ سب کیا ہو گیا۔۔۔کون لوگ تھے وہ اور ان کی ہمارے ساتھ کیا دشمنی تھی جو انہوں نے یہ کر دیا۔ اتنا کہہ کر میں نے لاشوں کی طرف اشارہ کیا تو دیکھا کہ اب امی اور نغمہ کی لاشیں ننگی نہیں تھیں۔۔۔اس وقت غم کی شدت میں اس بات پر دھیان نہیں دے کہ ان کے ننگے جسموں کو کپڑے کس نے پہنائے۔ مجھے روتی کو چپ کرواتے ہوئے اور دلاسے دیتے ہوئے ماسی نے کہا۔۔۔چپ کر جا میری دھی۔۔۔فٹا فٹ اپنے آپ نوں سانبھ لے پر کسے نوں پتہ نا چلے کہ لاشاں پہلے ننگیاں سن۔۔۔ایہہ بری گل اے لوکی طرح طرح دیاں گلاں کرن گے۔۔۔میں روتی ہوئی بولی پر ماسی وہ لوگ کون تھے تو ماسی نے جواب دیا کہ پتر مینوں کی پتہ کون سی۔ پر شکلاں توں تے ڈاکو ہی لگدے سی۔ (26) بہرحال کسی نا کسی طرح ماسی مجھے اٹھا کر چلاتے ہوئے وہاں سے باہر لائی اور شور مچا مچا کر گاؤں والوں کو گھروں سے اٹھا لیا۔ جب گاؤں والے اکٹھے ہوئے اور انہیں اس حادثے کا پتہ چلا تو ہر آنکھ اشکبار ہو گئی۔ کسی نے پولیس کو اطلاع کر دی تو پولیس بھی آ گئی اور چند گھنٹے ادھر ادھر گھوم پھر کے روٹی ٹکر کھانے کے بعد ساری کاروائی ڈاکوؤں کے سر ڈال کر لاشوں کو دفنانے کا کہہ کر چلی گئی۔ سب کو دفنا دیا گیا اور میں اس دنیا میں اکیلی رہ گئی۔۔۔ماسی نے میرے گھر کو تالا لگایا اور مجھے ساتھ اپنے گھر لے گئی۔۔۔چند دن تو میں گم صُم رہی۔ ہر وقت امی ابو اور نغمہ کے ہنستے کھلکھلاتے چہرے نظروں کے سامنے آتے رہتے اور میں گھنٹوں تک گھٹنوں میں سر دیے روتی رہتی۔ ماسی بے چاری میری اشک جوئی کرتی رہی اور حوصلہ دیتی رہی۔۔۔آہستہ آہستہ وقت گزرتا گیا۔ دستورِ دنیا بھی یہی ہے اور وقت کا تقاضا بھی کہ جانے والے کی یاد آہستہ آہستہ دماغ سے جھڑنے لگتی ہے چنانچہ میرا غم بھی کم ہوتا گیا۔ پھر میں اور ماسی اکٹھے ہی گھر سے نکلتے اور لوگوں کے گھر کام کاج کر کے سرِشام ہی گھر کو لوٹ آتے۔ زندگی آہستہ آہستہ پھر سے ٹریک پر آ گئی تھی۔۔۔پھر چار مہینے بعد ایک دن ماسی کی طبیعت بہت ذیادہ خراب ہو گئی۔۔۔ماسی کو بہت تیز بخار تھا۔ میں نے گاؤں کی اکلوتی ڈسپنسری پر موجود کمپاؤنڈر کو بلایا تو اس نے ماسی کو چیک کرنے کے بعد مجھے ایک دوائی دی کہ یہ ماسی کو ہر چار گھنٹے بعد کھلاتی رہنا اور اس کے ماتھے پر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کرتی رہنا۔۔۔کل تک بخار ٹھیک ہو جائے گا۔ میں ساری رات ماسی کے سرہانے بیٹھی رہی اور دوائی کھلانے کے ساتھ ساتھ پٹیاں کرتی رہی۔۔۔لیکن جوں جوں دوا کی مرض بڑھتا گیا!!!۔ اگلے دن ماسی کی طبیعت تھوڑا سنبھل گئی لیکن شام تک ماسی کی حالت بہت خراب ہو گئی۔۔۔میں نے ماسی سے کہا کہ میں جاتی ہوں کسی کو کہہ کر تانگے کا بندوبست کر کے آپ کو ہسپتال لیکر چلتے ہیں۔ لیکن ماسی نے مضبوطی سے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنے پاس بٹھا لیا اور بولی۔ دھیے نا کر ایتھے میرے کول رہ مینوں لگدا میرا آخری ویلا آ گیا۔۔۔تے پتہ نئیں میں کس ویلے ٹر جانا۔ میرے کول بہ جا تے دھیان لا کے میری گل سن۔۔۔اتنا کہہ کر ماسی کمزوری سے ہانپنے لگی۔ میں نے فٹافٹ دو گھونٹ پانی ماسی کو پلایا اور پھر ضد کی کہ شہر چلتے ہیں۔ ماسی غصے سے بولی بکواس نہ کر میری گل دھیان نال سن۔۔۔اک گل اے جیڑی تینوں نئیں پتہ پر ہن میں مردے مردے سینے تے بھار لے کے نئیں مرنا چاندی اس لئی اج سب کجھ تینوں دساں گی۔ پتر رضیہ!!!سب توں پہلے او ٹرنک کھول۔۔۔ماسی نے سامنے پڑے ایک پرانے ٹرنک کی طرف اشارہ کیا۔۔۔میں نے اٹھ کر کھولا تو ماسی بولی:سب توں تھلے اک خاکی رنگ دا لفافہ پیا ہونا اونوں کڈ بار۔ میں نے ڈھونڈ کر لفافہ نکالا اور ماسی کے ہاتھ پر رکھ دیا تو ماسی نے مجھے بتایا کہ پتر میں اک اک پیسہ جمع کر کے کچھ رقم جوڑی سی۔۔۔کہ منڈے دا ویاہ کر دیواں گی پر او اک دن ایسا گیا کہ مڑ واپس ای نئیں آیا۔ ************************** دنیا کیندی او مر مک گیا ہونا پر میرا یعنی ماں دا دل کیندا کہ میرا پتر زندہ اے۔ میں پیسے جوڑ جوڑ انتظار کردی رئی پر او ناں آیا۔۔۔فیر اک دن میں کسے کم لاہور گئی سی تے اوتھے مینوں میرا پھپھی دا پتر ٹکر گیا۔ اسی دونوں اک دوجے نوں مل کے تے بڑے خوش ہوئے۔۔۔اک دوجے دا حال احوال پچھیا۔ میرے پتر بارے جان کے اونوں بڑا ای افسوس ہویا۔۔۔فیر اکثر میل ملاقات ہوندی رئی۔۔۔میں اودے گھر وی آندی جاندی رئی۔۔۔اک دن میں لاہور گئی تے اونوں ملی۔۔۔گلاں باتاں اچ اونے ذکر کیتا کہ آپاں ایتھے اک موقعے دی دکان لبھ رئی اے۔ بڑی چنگی جگہ تے ہے۔۔۔تیرے کول جنے پیسے نیں لگا کے تے دکان خرید لے۔۔۔جیڑے پیسے گھٹن گے میں پا دیواں گا۔۔۔آخر توں میری بہن ایں۔ پر میری گل من جا تے دکان لے لا۔۔۔اک تے دکان دا کرایہ آندا رہو نالے اگاں اودا ریٹ وی بڑھ جاؤ۔ ہر پاسے فیدہ ای فیدہ۔ میں بڑا سوچیا فیر میں سارے پیسے اکٹھے کیتے کجھ پیسے ادھار چکے تے لاہور چلی گئی۔۔۔جیڑے پیسے کم ہوئے او میرے بھرا نیں پا دتے تے او دکان میری نام تے خرید لئی۔۔۔پکے پیپر تے انگوٹھے لگ گئے۔ (27) پتر!!!میں چند دن توں سوچ رئی سی کہ طبیعت ٹھیک نہیں ریندی تے او میرا پتر وی پتہ نئیں کدوں آوے۔ پر میرا دل کیندا آوے گا ضرور۔ بہرحال تینوں یاد اے ناں پچھلے ہفتے میں لاہور گئی سی۔۔۔میں نے ثبات میں سر ہلایا تو ماسی پھر سے بولی:میں اپنے بھرا نوں ساری گل دس کے پکے کاغذ تے تیرا نام لکھا کے دکان تیرا نام کر دتی۔ میں تے انگوٹھا لا چھڈیا تے توں میری دھی رانی۔۔۔توں وی انگوٹھا لا لے۔۔۔میں نے کچھ کہنے کیلئے منہ کھولا تو ماسی نے ایک دم کہا ناں ناں پتر ٹیم ناں ضائع کر ہجے میری گل پوری نئیں ہوئی۔ میرے مرنے توں بعد توں اس دکان دی مالک ایں۔۔۔جے کدی میرا پتر واپس آ جاوے تے اونوں ساریاں گلاں دس دویں۔۔۔نالے اونوں دسیں کہ تیری ماں دی بڑی خواہش سی کی تیری یعنی رضیہ دی تے میرے منڈے دی شادی ہو جاوے۔ اگر او من جاوے تاں اودے نال ویاہ کر لویں۔۔۔جے نا منے تے لاہور آلی دکان ویچ کے اودی رقم دے دو حصے کر لینا اک تیرا تے اک میرے پتر دا۔ جے کدرے او ناں آیا تے توں آزاد ایں۔۔۔دکان تیری ہوئی۔۔اودے واسطے جیڑے پیسے میں ادھار چکے سی او میں پورے کر دتے نیں۔ ساتھ ہی ماسی نے ایک پرچہ میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا کہ ہا میرے بھرا دے گھر دا پتہ ہے۔ دکان دے کرائے دا سارا حساب اوہی رکھدا۔۔۔اونوں مل لویں۔بڑا ایماندار اے تیرا خیال رکھے گا۔۔۔اتنی بات کہہ کر ماسی پھر کھانسنے اور ہانپنے لگی تو میں نے فٹا فٹ ماسی کو دو گھونٹ پانی کے ساتھ دوائی دی۔ اور سرہانے بیٹھ کر پھر سے پٹیاں کرتی رہی۔۔۔کچھ دیر بعد جب ماسی کی طبیعت کچھ بحال ہوئی تو وہ پھر بولنا شروع ہوئی۔ پتر رضیہ!!!سب توں اہم گل۔ تینوں یاد اے او رات جس دن تیرے ماں پیو تے پین دا قتل ہویا سی۔۔۔یاد اے نا او رات۔ ماسی کی بات سن کر میں بیٹھے بیٹھے جیسے کھو گئی۔۔۔میرے لبوں سے نکلا ماسی وہ رات میں کیسے بھول سکتی ہوں۔۔۔آج بھی میری نگاہوں کے سامنے ان کی ننگی لاشیں آتی ہیں۔ تو ماسی آہستہ سے بولی راجی اس دن میں تیرے توں اک گل چھپائی سی۔۔۔میں ایک دم خیالوں کی دنیا سے باہر آ گئی اور حیرانی سے بولی وہ کیا بات تھی ماسی۔ تو ماسی بولی پتر تینوں پتہ اے ناں کہ میں دائی آں۔۔۔تے ایداں دے معاملات میری نظر توں بچ نئیں سکدے۔ میرے دل میں اندیشوں نے گھر کرنا شروع کر دیا۔۔۔ماسی اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بولی اس رات توں نٹھ کے اپنے گھر وڑ گئی تے میں وی تیز تیز قدماں نال تیرے پیچھے آئی تے اندر لاشاں ویکھ کے میرا وی حال برا ہو گیا سی۔دماغ نوں چکر آ گیا نالے اکھاں اگے ہنیرا۔ فیر اچانک تیرا یاد آیا،،تھوڑی ہوش پھڑی تے فٹا فٹافٹ تینوں چیک کیتا تے ساہ چلدا ویکھ کے مینوں حوصلہ ہویا۔۔۔فیر میں تینوں چھڈ کے سب توں پہلے تیرے پیوں نوں ویکھیا اودے ساہ مک چکے سن۔ تیری ماں دے ساہ وی مک چکے سن۔۔۔نغمہ وی دور جا چکی سی۔۔۔پر اک چیز میں غور نال ویکھی،،چیک کیتا تے میرا دماغ سن ہو گیا۔ اتنا کہہ کر ماسی نے چند لمحے سانس لیا اور بولی کہ تیری ماں تے نغمہ دوناں دی عزت لٹی گئی۔ اوناں نال زبردستی ہوئی۔۔۔اسے واسطے میں تیرے ہوش توں آن توں پہلے کھچ دھو کے اوناں دوناں بدنصیباں نوں کپڑے پا چھڈے۔ میں کدے وی ہا گل تینوں نہ دسدی پر اج مینوں لگدا کہ میرا ویلا آ گیا تے اج ساری گل کھول چھڈی۔ ہن میں آرام نال مر سکاں گی۔۔۔میں پتھرائی ہوئی آنکھوں سے ماسی کو دکھتے ہوئے بولی۔۔۔ماسی وہ کون لوگ تھے۔پھر اچانک کچھ یاد آیا تو آنکھیں سکوڑے ماسی کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔ ماسی تم ان کو جانتی ہو نا۔۔۔تو ماسی نے ہاں میں سر ہلاتے ہوئے کہا کہ او گورا سوہنا منڈا یاد ای جیڑا جیپ دی اگلی سیٹ تے بیٹھا سی۔۔۔تو میں نے اس کی شکل دل میں یاد کرتے ہوئے کہا ہاں ماسی یاد ہے کون تھا وہ مجھے بتاؤ کون تھا وہ؟ تو ماسی بولی او منڈا نال آلے پنڈ چک اکتیس دے وڈے چوہدری دا منڈا سی۔۔۔اودا نام صفدر سیال اے۔ میں اوناں کنجراں نوں چنگی طرح جاندی آں۔پہلے وی آس پاس دے پنڈاں وچ او کنجر اپنے یاراں نال مل کے ایداں دیاں دو چار وارداتاں کر چکیا۔ لوگ سب جاندے نیں پر اوناں تو ڈردے رو دھو کے چپ وٹی رکھدے۔۔۔اس دن اوناں نیں تیری ماں تے پین دی عزت لٹی سی۔اس گل دا میں بعد اچوں پتہ وی لوایا سی۔پر میں خاموش رئی۔تینوں دسن دی ہمت نہ ہوئی۔ اس کے بعد میں ساری رات ماسی کی خدمت کرتی رہی اور اس واقعے بارے سوچتی رہی۔۔۔رات بارہ بجے کے قریب ماسی کی آنکھ کھلی اور مجھے اپنے سرہانے بیٹھے دیکھ کر بولی۔۔۔کملی نا ہووے تے۔ چل اٹھ منجی تے پے کے سو جا کل رات دی توں اکھ نئیں لائی۔۔۔میں ہن ٹھیک آں چل شاباش میری دھی رانی۔۔۔سچ پوچھو تو ساری رات سوچ سوچ کر دماغ سن ہو چکا تھا اس لیے نیند سے میری بھی آنکھیں بوجھل ہو رہی تھیں۔۔۔چنانچہ اٹھ کر ماسی کے ساتھ ہی موجود اپنی چارپائی پر لیٹ گئی۔۔۔اور اس واقعے کے بارے میں سوچتے سوچتے میری آنکھ لگ گئی۔ (28) میری آنکھ کھلی تو دیکھا کہ دن چڑھ آیا تھا۔ میں نے ماسی کی طرف دیکھا تو وہ چادر اوڑھے سو رہی تھی۔۔۔میں اٹھی اور اٹھ کر واش روم چلی گئی واپس آ کر میں نے ماسی کو دیکھنے کیلئے جیسے ہی چادر اٹھا کر ماسی کے ماتھے کو چھوا تو پتہ چلا کہ ماسی تو کب کی سانس پورے کر چکی تھی۔ اب تو اس کی لاش بھی اکڑ رہی تھی۔۔۔میں ایک دفعہ پھر یتیم ہو چکی تھی۔۔۔میں ماسی کی لاش سے لپٹتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔تھوڑی دیر تک سارے گاؤں کو پتہ چل گیا اور شام تک ماسی کو بھی دفنا دیا گیا۔ شام کو ماسی کے ہمسائے چاچی کنیز اور اس کا خاوند ملک رمضان مجھے اپنے گھر لے گئے۔۔۔ماسی کے گھر کو بھی تالا لگا دیا گیا۔ چند دن بعد جب باتوں ہی باتوں میں انہیں پتہ چلا کہ اب ماسی کا کوئی بھی نہیں اور ماسی کا مکان خالی ہے تو انہوں نے آنے بہانے مکان پر قبضہ کر لیا۔ مجھے یہ بتایا کہ ماسی نے ان سے کافی ادھار پیسے لیے تھے اس لیے اب مکان پر ان کا حق ہے ساتھ ہی انہوں نے مجھ سے دھوکے سے ایک کورے کاغذ پر انگوٹھا لگوا کر مجھے یہ کہہ کر گھر سے نکال دیا کہ رضیہ تم بڑی منحوس ہو۔۔۔پہلے اپنے پورے گھر کو کھا گئی پھر ماسی کو بھی نگل گئی۔ اب ہم تمہیں اپنے گھر نہیں رکھ سکتے اس لیے تم یہاں سے چلتی بنو۔۔۔میں نے بنا کوئی بات کیے ماسی کے گھر سے اپنا تھوڑا سا سامان اٹھایا اور اپنے گھر آن بسی۔ اب میری زندگی کا ایک ہی مقصد تھا۔ انتقام۔ انتقام۔ انتقام۔ پر کیسے؟میں ٹھہری ایک عورت ذات اور وہ ٹھہرے وڈے چوہدری۔۔۔انہی سوچوں میں دو مہینے نکل گئے۔ میں لوگوں کے گھر کام کاج کر کے اپنا پیٹ کاٹ رہی تھی۔ایک دن اچانک مجھے پتہ چلا کہ چک اکتیس کے وڈے چوہدری کے پتر کی شادی ہے اور اسے گھر میں کام کاج کیلئے ملازمائیں چاہیے۔۔۔یہ سننے کی دیر تھی کہ میں نہا دھو کر صاف ہوئی اور بنا کسی کو بتائے تانگے میں بیٹھ کر وہاں پہنچ گئی۔ آگے کہ ساری کہانی تمہیں پتہ ہے کہ کیسے سیال زادوں نے ہم دونوں کی عزت اتاری۔۔۔اور اس کے بعد ہم کیسے کامی کے ذریعے وڈے چوہدری تک پہنچے۔ جب چوہدری نے زبردستی چھیمو پر ہاتھ ڈالا تو میں نے دل میں فیصلہ کیا کہ او کمزور عورت ایک یہی ذریعہ ہے کہ تو مستقل یہاں رہ سکتی ہے۔ واپس تو میں جانا نہیں چاہتی تھی۔۔۔کیونکہ میں اس لیے تھوڑی نہ آئی تھی کہ چوہدری اور اس کے کنجروں سے پھدی مروا کر واپس چلی جاؤں۔۔۔میرے سامنے ایک مقصد تھا جس کو پورا کرنے کیلئے میرا وہاں رہنا ضروری تھا۔ اور وہ مقصد تھا صفدر سیال کا قتل!!!۔ **************************** (29) میں نے چونک کر راجی کی آنکھوں میں دیکھا تو اس کی آنکھوں میں مجھے بجلیاں لپکتی ہوئیں نظر آئیں۔ میں نے اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا نہیں راجی نہیں تم ایسا کچھ بھی نہیں کرو گی۔ ان چوہدریوں کے ظلم دیکھ دیکھ کر میرے اندر بھی ان کیلئے نفرت پیدا ہو چکی ہے۔ وہ مجھ سے بھی پنگا لے چکے ہیں۔۔۔بس موقع محل دیکھ کر ہم ان پر ہاتھ ڈالیں گے۔ راجی قطعیت سے بولی۔ نہیں کمال بابو یہ میری لڑائی ہے اور اسے میں خود ہی لڑوں گی۔۔۔چاہے مجھے اپنی جان کیوں نہ دینی پڑے۔۔۔بس تم مجھ پر ایک مہربانی کرو۔ کبھی کبھی مجھے یاد کر لیا کرنا میں آ جایا کروں گی اور تمہارا پیار مجھے سہارا دیتا رہے گا۔ میں نے اس کی نم ہوتی آنکھوں سے نکلتے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا پھر بھی راجی!میں یہی کہوں گا کہ تھوڑا تحمل سے کام لو۔۔۔ہم کچھ ایسا پلان کریں گے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ اس کے علاوہ تم جب چاہو چھیمو کے ساتھ آ سکتی ہو۔۔۔میں تمہیں بھی اتنا ہی پیار دوں گا جتنا کہ چھیمو کو۔۔۔اچھا ایک بات تو بتاؤ اتنی دیر سے تم یہاں ہو کیا تمہیں صفدر سیال نظر نہیں آیا۔ تو میری بات سن کر راجی بولی: کمال بابو!!!۔ صفدر سیال وڈے چوہدری کے چھوٹے بھائی چوہدری ظفر سیال کا چھوٹا بیٹا ہے۔۔۔چوہدری ظفر سیال کے دو بیٹے اور ایک بیٹی شبینہ سیال ہے یہ دونوں وڈے چوہدری اپنی فیملیوں کے ساتھ اسی حویلی میں رہتے ہیں۔ مگر ان کا کراچی میں ٹرانسپورٹ کا کاروبار ہے۔۔۔اور سنا ہے کہ ناجائز اسلحہ کی تجارت اور ساتھ ساتھ ڈاکوؤں سے بھی اس کے تعلقات ہیں۔ اس لیے وہ یہاں نہیں آتا اور اگر آیا بھی ہو تو وڈی حویلی تک نہیں پہنچا۔۔۔میں اسی آس پر وہاں ٹکی ہوئی ہوں کہ کبھی نہ کبھی تو اس سے سامنا ہو گا نا۔ اس کی شکل میرے دل د دماغ پر نقش ہو چکی ہے۔۔۔جس دن اس کا میرا آمنا سامنا ہوا!!!وہ دن اس کی زندگی کا آخری دن ہو گا۔ میں نے کہا راجی میں پھر کہہ رہا ہوں کوئی بے وقوفی مت کرنا اور اپنی زندگی کی حفاظت کرنا۔ ہم مل جل کر کوئی راستہ نکالیں گے کہ تمہیں اپنا انتقام لینے کا موقع مل جائے تو راجی منہ سے کچھ نہیں بولی بس مجھے گھورتی رہی۔ پھر تھوڑی دیر بعد وہ دونوں وہاں سے چلی گئیں اور میں خیالات کے تانے بانے بنتا نیند کی آغوش میں چلا گیا۔ *********************** (30) اگلے دن میرے آنکھ کھلی اور معمول کے مطابق ناشتہ کر کے میں گھر سے نکلا تو پتہ چلا کہ آج گاؤں میں ناظم کے الیکشن ہو رہے ہیں۔۔۔ابو صبح سے ہی گھر سے غائب تھے۔ دراصل ابا جان کی گاؤں میں کافی عزت تھی اس لیے الیکشن کے انتظامات میں وہ بھی پیش پیش تھے۔ معلومات حاصل کرنے پر پتہ چلا کہ سیالوں کی طرف سے وڈا چوہدری مظفر سیال الیکشن میں امیدوار ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے پر ساتھ والے گاؤں سے چوہدری رحمت علی کڑیال امیدوار تھا۔ دراصل ہمارے سسٹم میں ناظم کے تحت آس پاس کے آٹھ گاؤں آتے تھے۔۔۔تو ناظم ہونے کا مطلب آٹھ گاؤں کا سربراہ۔۔۔اس لیے دونوں پارٹیوں میں کانٹے دار مقابلہ تھا۔ پولنگ سٹیشن بن چکے تھے تمام انتظامات مکمل تھے۔۔۔صبح آٹھ بجے گاؤں کے سکول میں ووٹنگ شروع ہو گئی۔ لوگ جوق در جوق آ کر ووٹ ڈال رہے تھے۔۔۔میں بھی گیا تو ابا جان مجھے وہیں پولنگ سٹیشن کے باہر چارپائی پر بیٹھے مل گئے۔ میں نے ابا جان کو پکڑا اور ایک سائیڈ پر کھڑی گاڑیوں کے جھرمٹ میں لیجا کر پوچھا ابا جان ہمارے ووٹ کس سائیڈ پر ہیں؟ تو ابا جان مجھے حیرت سے دیکھتے ہوئے بولے:یار یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے۔۔۔ پتر! کتے کے منہ میں کھیر نہیں سجتی۔۔۔کھیر کھانے کیلئے بندہ بننا ضروری ہے۔ ہمارے گھر کے اور ہمارے سارے ہاریوں کے اور ان کے خاندانوں کے ووٹ چوہدری رحمت علی کڑیال کو جا رہے ہیں۔ کیونکہ سب جانتے ہیں کہ وڈے چوہدری مظفر سیال کی نیت کیسی ہے اگر وہ الیکشن جیت گیا تو سب پر عرصہِ حیات تنگ کر دے گا۔ اس لیے ہم سب چوہدری کڑیال کو سپورٹ کر رہے ہیں۔۔۔اور دیکھ لینا **** کی رحمت سے کڑیال ہی جیتے گا۔ اب گھر جاؤ،،اپنی ماں،بہن کو بھی لیکر آؤ اور ووٹ ڈالو۔۔۔اتنا کہہ کر ابا جان واپس جا کر گاؤں کے معززین کے ساتھ چارپائی پر بیٹھ گئے۔ میں نے بھی گھر کی طرف جانے کیلئے قدم بڑھائے۔۔۔سامنے کھڑی ایک پجیرو کے پاس سے گزرتے وقت بے ارادی طور پر میری نظر پجیرو کے شیشے میں گئی!!!تو میں نے دیکھا کہ چند منٹ پہلے جہاں میں اور ابا جان کھڑے باتیں کر رہے تھے عین اسی جگہ پر وڈے چوہدری کا ایک کارندہ کھڑا پیچھے سے مجھے گھور رہا تھا۔ اس کا نام بعد میں پتہ چلا کہ یہی چوہدری کا پالتو کتا شاہنواز ہے۔ اس وقت تو میں نے دھیان نہیں دیا اور گھر چلا گیا لیکن یہ بات لاشعور میں رہ گئی کہ میں نے وڈے چاہدری کا پالتو کتا وہاں کھڑا دیکھا تھا۔ میں گھر سے امی اور بینا کو ساتھ لے گیا اور ووٹ ڈالنے کے بعد ان کو واپس گھر پہنچا دیا۔۔۔سارا دن آرام سے گزر گیا۔شام کو نتیجہ آ گیا۔۔۔چوہدری رحمت علی کڑیال واضح برتری حاصل کرتے ہوئے جیت گیا۔ وڈے چوہدری مظفر سیال سے یہ ہار برداشت نہیں ہوئی اور اسی ہار کے غصے میں انہوں نے ایک ایسا کام کر ڈالا جس کی وجہ سے میری دنیا بھی تہہ و بالا ہو گئی۔ اگلے دن دوپہر تین بجے میں گھر سے باہر نکل رہا تھا کہ اچانک مجھے اپنی داہنی سمت سے اپنا نام سنائی دیا۔۔۔میں نے مڑ کر داہنی طرف دیکھا تو زمینوں پر کام کرنے والے دو لڑکے زور زور سے میرا نام پکارتے ہوئے بھاگتے چلے آ رہے تھے۔ میں وہیں ٹھٹھک گیا۔ قریب آتے ہی پھولی سانسوں کے ساتھ ا ہوں نے کچھ کہنے کی کوشش کی ہر ان کی سانس اس بری طرح سے پھولی ہوئی تھی کہ نہ وہ صحیح طرح سے کچھ بول پا رہے تھے اور نہ ہی میں ان کی بولی سمجھ پا رہا تھا۔ چند لمحوں بعد ان میں سے ایک سانس روک کر بولا۔ باؤ کمال۔ کھیتوں پر۔ چاچا جمال۔ سیال لڑائی۔ بس یہ تین چار الفاظ ہی مجھے ساری بات سمجھانے کیلئے کافی تھے۔میں لپک کر اندر گیا اور اپنا ریوالور جو کے چند دن پہلے ہی خریدا تھا ڈب میں لگا کر وہاں سے باہر نکلا اور ان لڑکوں کے ساتھ تیزی سے کھیتوں کی طرف بھاگا۔۔۔بھاگتے بھاگتے ان سے بھی آگے نکل گیا۔۔۔میں بھگٹٹ بھاگتا ہوا کھیتوں کی طرف جا رہا تھا کہ راستے میں ہی سامنے سے مجھے اپنے ہاری چارپائی اٹھائے آتے دکھائی دیے۔۔۔مجھے بھاگتے دیکھ کر انہوں نے چارپائی وہیں زمین پر رکھ دی پھر دو تین لوگوں نے آگے ہو کر مجھے روکا۔ میں ان کے پاس پہنچا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ سیالوں نے ابا جان کو بہت بری طرح سے پیٹا ہے۔۔۔اس لیے ان کو فوری طور پر ٹانگے میں ڈال کر ڈسپنسری بھیج دیا ہے۔جبکہ یہ ایک اور ملازم کو بڑی بری طرح سے مارا ہے اس کو بھی اب ڈسپنسری لے جا رہے ہیں۔ میں وہیں سے مڑا اور بھاگتے ہوئے ڈسپنسری جا پہنچا۔وہاں پہنچ کر دیکھا تو برآمدے میں ہی چارپائی پر ابا جان بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔ان کی حالت دیکھ کر میں غیض و غضب میں مبتلا ہو گیا۔ ابا جان کا سر پھٹا ہوا تھا جہاں سے خون بہہ کر پوری قمیض کو رنگین کر چکا تھا۔جبکہ ابا کی داہنی آنکھ بھی بری طرح مضروب ہوئی تھی۔۔۔آنکھ پھول کر سوجھی ہوئی تھی۔۔۔میں نے فوراً ڈاکٹر سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ چوٹیں تو خاصی لگی ہیں لیکن فکر کرنے کی کوئی بات نہیں۔آنکھ بھی بچ گئی ہے اور سر پر لگنے والی چوٹوں سے دماغ بھی متاثر نہیں ہوا۔۔۔بس ان کو اب سخت آرام کی ضرورت ہے۔ ابا جان کی مرہم پٹی ہونے کے دوران میں نے اپنے ایک ملازم کو گھر کی طرف دوڑایا کہ احاطے سے گاڑی لے آئے وہ ملازم بھی گاڑی چلانا جانتا تھا۔۔۔ڈاکٹر سے دوسرے لڑکے شاکر کے بارے پوچھا تو ڈاکٹر جس کا نام امتیاز اور وہ میرا دوست تھا نے بتایا کہ اس کی حالت بہت خراب ہے۔ اس کی ایک ٹانگ ٹوٹ چکی ہے۔۔۔کسی بھاری چیز سے اس کی ٹانگ پر ضرب لگائی گئی ہے۔۔۔منہ اور سر پر بھی خاصی چوٹیں آئی ہیں۔۔۔ناک سے بھی خون بہہ رہا ہے۔ ابھی تک اس کو ہوش نہیں آیا۔۔۔میں ڈاکٹر امتیاز کو اس لڑکے کا خیال رکھنے اور خود تھوڑی دیر تک واپس پہنچنے کا کہہ کر وہاں سے نکل کر اباجان کے پاس پہنچ گیا۔۔۔مجھے دیکھتے ہی اباجان نے مجھے اشارے سے اپنے پاس بلایا اور کراہتے ہوئے بولے: کمال پتر!!!میری لاعلمی میں کوئی حرکت مت کرنا۔ تمہیں اصل بات کی آگاہی نہیں ہے۔۔۔میں پریشانی سے بولا ابو یہ وقت ان باتوں کا نہیں ہے۔۔۔آپ چپ چاپ اپنی مرہم پٹی کروائیں۔۔۔پھر ہم گھر چلتے ہیں۔۔۔اس موضوع پر پھر بات کریں گے۔۔۔اباجان کچھ نہیں بولے بس مجھے دیکھتے ہوئے کراہتے رہے۔۔۔مرہم پٹی ہونے کے بعد میں نے اپنی گاڑی جو کہ اتنی دیر تک گھر سے منگوا چکا تھا کا دروازہ کھولا اور ابا جان کو بٹھایا تو ابا جان بولے:پتر!!! وہ شاکر بھی زخمی ہوا تھا۔ تو میں نے ان کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ وہ بلکل ٹھیک ہے آپ فکر مت کریں میں ابھی ڈاکٹر سے ہی مل کر آیا ہوں۔۔۔یہ کہہ کر میں نے گاڑی موڑی اور بڑے آرام سے گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔۔۔گھر پہنچ کر میں نے ابا جان کو گاڑی سے نکالا اور سہارا دیتے ہوئے گھر کے اندر لے گیا۔ ************************ (31) ابا جان کو اس حالت میں دیکھتے ہی امی اور بینا دونوں پریشان ہو گئیں۔۔۔میں نے ان کو مختصراً صورتحال بتا ہی رہا تھا کہ گھر کے باہر موٹر سائیکل رکنے کی آواز سنائی دی۔۔۔میں الٹے قدموں باہر نکلا تو کمپاؤنڈر نظر آیا۔۔مجھے دیکھتے ہی بولا۔۔۔بھایا شاکر کی حالت بہت خراب ہو رہی ہے۔اس کو شہر ہسپتال لیجانا پڑے گا۔۔۔آپ جلدی سے گاڑی لے آئیں۔۔۔میں پریشانی کی حالت میں گھر کے اندر داخل ہوا اور گاڑی کی چابی اٹھا کر باہر نکلنے لگا تو دروازے تک پہنچتے ہی امی کی آواز سنائی دی۔۔۔رکو کمال!!!میں وہیں رک گیا تو امی جان بولیں:کمال!!!کہاں جا رہے ہو تو میں نے کہا امی وہ شاکر کی حالت بہت خراب ہے میں اس کو لیکر شہر ہسپتال جا رہا ہوں۔۔۔ آپ ابوجان کا خیال رکھیں اور اگر ابو میرے بارے میں پوچھیں تو بتا دیجیے گا کہ میں کہاں گیا ہوں۔۔۔تو امی میرا ماتھا چومتے ہوئے بولیں:میرے لال جلدی واپس آنا میرا دل ہولتا رہے گا۔۔۔میں جی اچھا امی کہہ کر ان کا ماتھا چومتے ہوئے وہاں سے باہر نکلا اور گاڑی بھگاتے ہوئے ڈسپنسری پہنچا تو باہر ہی کھڑے ڈاکٹر امتیاز نے بتایا کہ شاکر کی حالت بہت خراب ہے۔۔۔اس کا سانس رک رک کر آ رہا ہے۔ اب گاؤں میں تو ایسی سہولتیں موجود نہیں کہ اس کو آکسیجن وغیرہ لگا کر باقاعدہ علاج کیا جا سکے تو اسی لیے آپ کو بلایا کہ آپ گاڑی لے آئیں تو اس کو لاہور لے چلتے ہیں۔۔۔ہم یہی باتیں کرتے ہوئے ڈسپنسری کے اندر پہنچے تو اسی وقت ایک کمرے سے رونے پیٹنے کی آواز سنائی دی۔۔۔میں نے سر گھما کر دیکھا تو شاکر کا والد روتا ہوا آ رہا تھا۔۔۔میں نے اس کا بازو تھامتے ہوئے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ چاچا انور آپ پریشان مت ہوں۔۔۔ہم شاکر کو لیکر لاہور ہسپتال جا رہے ہیں۔۔۔تو چاچا انور دھاڑیں مار مار کر روتے ہوئے بولا نہیں پتر!!!شاکر کو اس کی ضرورت نہیں رہی اب۔۔۔وہ ہمیں چھوڑ کر چلا گیا۔ یہ سنتے ہی مجھ پر سکتہ طاری ہو گیا۔ میں تیزی سے اندر کمرے میں داخل ہوا تو شاکر کی ماں اس سے لپٹ کر رو رہی تھی۔۔۔مجھے دیکھتے ہی وہ دھاڑیں مارتے ہوئے اپنا سر پٹخنے لگی۔۔۔میں نے تیزی سے ان کو تھامتے ہوئے صبر کی تلقین کی اور خود نظریں گھما کر شاکر کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھیں بند ہو چکی تھیں۔اور ناک سے نکلا ہوا خون بھی جم چکا تھا۔ سر پر لگنے والی چوٹوں نے شاکر کو جانبر نہیں ہونے دیا۔۔۔میں وہیں ان کے ساتھ رہا اور شاکر کی لاش کو لیکر اس کے گھر تک پہنچا کر خود وہاں سے نکلا اور اپنے گھر پہنچ گیا۔۔۔میری زمینوں اور احاطے پر کل ملا کر چودہ لوگ کام کرتے تھے۔۔۔چونکہ ہم اپنے سب ملازمین کے دکھ سکھ میں ان کے ساتھ کھڑے ہوتے تھے تو اس وقت ہمارے دکھ کی گھڑی میں سارے ملازمین گھر پہنچے ہوئے تھے۔۔۔اس وقت شام کے سات بج چکے تھے۔ میں سب لوگوں سے ملا۔۔۔وہ لوگ ابا جان کا حال چال پوچھنے آئے تھے۔۔۔تھوڑی دیر بعد وہ چلے گئے۔۔۔ان کے جانے کے بعد ہمارا ایک ہاری نوشاد جو کہ میری ہی عمر کا تھا لیکن مجھ سے اور ابا جان سے بہت پیار کرتا تھا وہ بھی آ گیا۔۔۔میں اسے اندر اپنے کمرے میں لے آیا اور بٹھا کر پوچھا کہ وہاں کیا بات ہوئی کیسے ہوئی۔۔۔نوشاد نے بتانا شروع کیا۔بھایا!!!ہم لوگ کھیتوں میں کام کر رہے تھے۔۔۔چونکہ آج پانی کی باری ہماری تھی اس لیے دو بندوں نے پانی کاٹ کر اپنے کھیت میں چھوڑنے کی کوشش کی تو وڈے چوہدری کے دو پاؤں والے کتے بھونکنے لگے کہ آج پانی ہماری سائیڈ پر چلے گا۔ شاکر انہیں بتانے کیلئے آگے گیا کہ آج شیڈول کے مطابق ہماری باری ہے تو انہوں نے شاکر کو بری طرح سے مارنا پیٹنا شروع کر دیا۔۔۔ہم لوگوں نے بیچ بچاؤ کروانے کی کوشش کی تبھی پچھلی طرف سے ان کے چھ رائفل بردار آدمی موقع پر پہنچ گئے اور انہوں نے ہمیں زدوکوب کرنا شروع کر دیا۔۔۔ چچا جمال نے آگے ہو کر انہیں روکنے کی کوشش کی تو وڈے چوہدری کے بیٹے راجو سیال نے چچا کے پیٹ میں ایک ٹھوکر ماری اور انہیں گرا کر لاٹھی سے مارنے لگا۔۔۔ اس کام میں اس کا ساتھ چوہدری کا خاص کتا شاہنواز بھی دے رہا تھا۔۔۔میں نے خود اپنے کانوں سے سنا کہ وہ دونوں چچا کو پیٹتے ہوئے گالیاں دیتے ہوئے کہہ رہے تھے۔ تیرے اتنے پر نکل آئے کہ تو ہمارے مخالفین کا ساتھ دے گا۔اتنا کہہ کر نوشاد چپ کر گیا۔۔۔جبکہ میری رگوں میں میرا خون کھولنے لگا تھا۔ میری مٹھیاں آپوں آپ غصے سے بھینچ گئیں۔مجھے کھڑا ہوتے دیکھ کر نوشاد بولا:بھایا میں نے بڑی کوشش کی کہ چچا جان کو بچا لوں۔۔۔لیکن وہ مجھے اٹھا اٹھا کر دور پٹخ دیتے تھے۔۔۔کافی مار پیٹ کرنے کے بعد جب انہوں نے دیکھا کہ چاچا اور شاکر دونوں کی حالت خراب ہو چکی ہے تو وہ گالیاں دیتے ہوئے چلے گئے۔۔۔میں بہت شرمندہ ہوں بھایا۔میں نے اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا نوشاد تمہیں معلوم ہے کہ میں اس وقت کہاں سے آ رہا ہوں۔۔۔ پھر میں نے اپنے دونوں ہاتھ آگے کیے اور بولا کہ میں اپنے ان ہاتھوں سے شاکر کی لاش کو اٹھا کر اس کے گھر چھوڑ کر آیا ہوں۔۔۔ابا جان کا حال بھی تم دیکھ چکے ہو۔۔۔اور کتنا برداشت کریں گے ان کنجروں کو۔۔۔آج میں ان کنجروں کو زندہ نہیں چھوڑوں گا۔ پھر میں نے نوشاد کو مختصراً یہ بھی بتایا کہ کس طرح وہ لوگ لوگوں کی لڑکیوں کو خراب کر رہے ہیں۔۔۔نوشاد جواب دیتے ہوئے بولا ہمارے لوگ بھی سب کچھ جانتے ہیں لیکن کہاں کوئی کسی پرائی آگ میں کودتا ہے۔۔۔ویسے بھی آج تک اپنے گاؤں میں انہوں نے ایسی کوئی حرکت نہیں کی پاس پڑوس کے گاؤں میں ہی ان کی سرگرمیاں سننے میں آئی ہیں۔۔وہ بھی صرف سنا ہے آنکھوں سے کبھی نہیں دیکھا اس لیے آج تک سب چپ رہے۔۔۔ میں نے بھی چھیمو کا ذکر کرنا مناسب نہ سمجھا۔ لیکن بھایا اب شاکر مر گیا۔۔۔اس کا کیا قصور تھا وہ تو صرف بات کرنے گیا تھا۔۔۔اور میرے باپ جیسے چچا کا یہ حال کیا ہے۔۔۔پھر وہ اپنی گردن نفی میں ہلتے ہوئے بولا:نہیں نہیں کم از کم میں تو یہ سب برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔بھایا اب تم بدلہ لو نہ لو کم از کم میں تو پیچھے ہٹنے والا نہیں۔۔۔ان سیالوں کو کتے کی موت ماروں گا۔۔۔نوشاد کو اتنے جوش میں دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے اور میں اسے گلے لگاتے ہوئے بولا:نوشاد میرے بھائی تم کچھ نہیں کرو گے جو بھی کرنا ہو گا میں کروں گا۔ بس جہاں مجھے تمہاری ضرورت پڑی میں پکار لوں گا فلحال تم میرے ساتھ چلو اور کوئی ہتھیار ہے تمہارے پاس؟؟۔۔۔نوشاد نے الٹا مجھ سے پوچھ لیا بھایا اسلحہ کا کیا کرو گے تمہارے پاس کیا ہے۔ میں نے اپنی ڈب سے ریوالور نکال کر اسے دکھایا تو اس کی آنکھوں میں چمک آ گئی اور وہ بولا بس ٹھیک ہے بھایا میرے پاس بھی پستول ہے میں بھی وہ لے آتا ہوں۔۔۔تو میں نے کہا نوشاد تم کھیتوں میں اپنے ڈیرے پر پہنچو میں بس تھوڑی دیر بعد وہاں ملتا ہوں۔۔۔خیال سے جانا۔ کسی کو کانوں کان بھی پتہ نہیں لگنا چاہیے کہ کیا ہو رہا ہے اور کس قسم کی کھیر پک رہی ہے۔۔۔نوشاد نے میری طرف دیکھتے ہوئے سر ہلایا اور اٹھ کر باہر کی طرف چل پڑا۔ نجانے مجھے کیوں محسوس ہوا کہ نوشاد کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی۔۔۔نوشاد کے جانے کے بعد میں اپنے کمرے سے نکلا اور امی کے کمرے میں چلا گیا۔۔۔ابو کا بستر بھی اندر کمرے میں ہی لگایا گیا تھا تا کہ ان کا خیال رکھا جا سکے۔۔۔ابو دوائی کے زیرِ اثر سو رہے تھے۔۔۔بینا اور امی بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ مجھے دیکھ کر امی سوالیہ لہجے میں بولیں:ہاں پتر!!!گاؤں والے چلے گئے؟تو میں نے سر ہلاتے ہوئے کہا کہ جی امی وہ سب لوگ چلے گئے۔۔۔اب آپ لوگ بھی سو جائیں۔۔۔میں بھی سوتا ہوں۔اتنا کہہ کر میں نے جھکتے ہوئے ابو کا ماتھا چوما اور وہاں سے باہر نکل آیا۔۔۔باہر کے دروازے کی کنڈی اندر سے لگا کر میں اپنے کمرے میں چلا آیا۔ ************************* (32) مجھے سچ میں بلکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ آج میں کیا کر جاؤں گا۔۔۔بس اتنا یاد ہے کہ بدلہ لینا ہے اور سیالوں کو سبق سکھانا ہے۔۔۔چند منٹ سوچنے کے بعد میں وہاں سے نکلا اور اپنے پلان کے تحت میں چھیمو کے گھر کی دیوار پھلانگ کر ان کے صحن میں اتر گیا۔۔۔چھیمو کے گھر والے اندر کمرے میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔۔۔میں دبے پاؤں چلتا ہوا سیدھا باہر کے دروازے کے پاس پہنچا۔ دروازہ کھلا ہوا تھا میں چپکے سے گلی میں نکل آیا۔۔۔باہر نکل کر میں نے ادھر ادھر دیکھا مباداً کوئی مجھے ایسے چوروں کی طرح نکلتے دیکھ لے تو کیا سوچے گا۔۔۔لیکن اطراف میں سناٹا تھا۔۔۔میں تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا اپنے ڈیرے پر پہنچ گیا۔۔۔ڈیرہ ہم اس جگہ کو کہتے ہیں جو ہم نے اپنے کھیتوں میں کام کرنے کے دوران آرام کرنے کے لیے ایک کمرہ سا بنایا ہوتا ہے۔ میں ڈیرے پر پہنچا تو نوشاد مجھے کمرے کے باہر چارپائی بچھائے بیٹھا سگریٹ پیتے ہوئے مل گیا۔۔۔مجھے دیکھ کر وہ اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔میں نے اس کے شانے پر وزن ڈالتے ہوئے اسے اپنے ساتھ ہی چارپائی پر بٹھایا اور اسی سے لیکر ایک سگریٹ سلگا کر سوچنے لگا کہ اب مجھے کیا کرنا چاہیے۔۔۔میں وہاں پہنچ تو جاؤں گا لیکن اندر کیسے گھسوں گا۔۔۔چند منٹ میں وہاں بیٹھا سوچتا رہا پھر میں نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا جو ہو گا دیکھا جائے گا اور ساتھ ہی اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔میرے ساتھ ہی نوشاد بھی اٹھ گیا۔ ہم دونوں کھیتوں کے بیچوں بیچ ہوتے ہوئے وڈے چوہدری کی حویلی کی طرف چل دہے۔۔۔چلتے وقت نوشاد نے چارپائی سے دو چادریں اٹھائیں جو کہ وہ ساتھ لایا تھا۔۔۔ایک چادر مجھے دینے کے بعد دوسری چادر اس نے اپنے شانوں پر ڈال لی۔۔۔میں نے پوچھا:نوشاد یہ کس لیے تو وہ بولا بھایا یہ کام آئیں گی۔۔۔میں نے اس کا مطلب سمجھتے ہوئے اپنے قدم بڑھا دیے۔ ایک عجیب طرح کی وارفتگی میری راہنما تھی۔۔۔ہمارا رخ وڈے چوہدری کی حویلی کی طرف ہی تھا۔۔۔ذہن میں واضح تصور نہیں تھا کہ مجھے وہاں جا کر کیا کرنا ہے۔۔۔بس ایک ہی سوچ میرے دماغ میں چنگاریاں بھرتی جا رہی تھی کہ انہوں نے میرے باپ کی یہ حالت کی ہے۔۔۔اب بغیر مزاحمت ان فرعونوں کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالنے۔ ان کنجروں کو ان کی اوقات یاد دلانی ہے کہ شریف آدمی سے بڑا بدمعاش کوئی نہیں ہوتا۔۔۔میں یہ بھی جانتا تھا کہ ابھی تک میں بیگناہ تھا ایک دفعہ ہتھیار اٹھا لینے کے بعد میں جرم کی راہ پر چل پڑوں گا۔۔۔لیکن اس سے پہلے کچھ تو تڑپ پھڑک لینا چاہیے۔ اگر میرے باپ کو کچھ ہو گیا تو۔۔۔یہ تصور ہی میرے لیے جان لیوا تھا۔ میں اپنے خیالوں میں گم تھا جب دور سے حویلی کی مدھم روشنیاں نظر آنے لگیں۔۔۔میں اور محتاط ہو گیا۔۔۔کماد اور مکئی کے کھیتوں سے ہوتا ہوا میں وسیع و عریض عمارت کے پچھواڑے کی جانب نکل گیا۔۔۔سامنے سے حویلی کے بے رحم اور سنگلاخ چار دیوادی نظر آنے لگی۔۔۔اس چار دیواری کے کئی حصے ٹیوب لائٹس کی روشنیوں میں چمک رہے تھے۔۔۔میں نے نوشاد کے کندھے پر ہاتھ مارا اور اسے جھک کر چلنے کو کہا۔۔۔پھر ہم محتاط قدموں سے قریب تر قریب ہوتے چلے گئے۔ کماد کے کھیت بیرونی چار دیواری سے ملے ہوئے تھے۔۔۔یہاں رک کر ہم دونوں نے چادریں اس طرح چہروں پر لپیٹ لیں کہ صرف ہماری آنکھیں کھلی تھیں۔۔۔میں نے نوشاد کو اشارے سے ریوالور دکھاتے ہوئے پوچھا کہ اس کا پستول کدھر ہے تو اس نے بھی اپنی شیروانی کی جیب سے پستول نکال کر دکھایا۔۔۔ہم دونوں نے جھکے جھکے انداز میں حویلی کی دیوار کے ساتھ آگے بڑھنا شروع کر دیا۔ آخر کار ایک جگہ جہاں سے حویلی کی دیوار مڑ کر دوسری سائیڈ پر جا رہی تھی وہاں سے مجھے چند اینٹیں اس انداز میں اکھڑی دکھائی دیں کہ اگر ہم احتیاط سے چڑھتے تو اوپر پہنچ سکتے تھے۔۔۔جیسے ہی میں نے دیوار پر ہاتھ رکھا تو نوشاد نے میرا کندھا تھپتھپایا اور دھیمی آواز میں بولا:بھایا یہاں سے نہیں آگے راستہ ہے۔۔۔میں اس کے ساتھ چلتا ہوا آگے گیا تو دیوار کے ساتھ ساتھ مڑنے کے بعد چند قدم آگے مجھے ایک قد آدم درخت نظر آیا۔ میں نوشاد کی بات سمجھ گیا تھا۔درخت اس انداز میں تھا کہ اس کی بڑی بڑی ٹہنیاں حویلی کے اندر جھکی ہوئی تھیں۔۔۔یہاں دیوار پر روشنی بھی نہیں تھی۔میں اور نوشاد باری باری اوپر چڑھ گئے۔۔۔اوپر چڑھنے کے بعد میں نے اندر کا جائزہ لیا تو مجھے ادراک ہوا حویلی کے اندر کا فرش دیوار سے کچھ آٹھ نو فٹ نیچے تھا۔۔۔میں نے نوشاد کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ نوشاد تم یہیں رک کر میرا انتظار کرو گے۔اس نے ناں میں سر ہلاتے ہوئے کچھ کہنے کی کوشش کی تو میں نے کہا سمجھا کرو یار۔۔۔اگر میں پھنس گیا تو تم میرے لیے کچھ نہ کچھ تو کر ہی سکتے ہو ناں۔۔۔اگر دونوں ایک ساتھ پھنس گئے تو بہت برا ہو گا۔ نوشاد نے نا چاہتے ہوئے بھی حامی بھر لی۔۔۔میں نے پھر کہا نوشاد میں چاہے ایک گھنٹے تک واپس نہ آؤں تم نے میرے پیچھے نہیں آنا۔۔۔ہاں اگر میں کہیں پھنس گیا تو فائر کر دوں گا یا حویلی میں کسی بھی قسم کے فائر کی آواز سنو تو اندر آ جانا۔ نوشاد کے سر ہلانے پر میں شاخ سے لپٹ کر آگے ہوا اور حویلی کی دیوار پر لیٹ کر اندر کی طرف لٹکتے ہوئے ہاتھ چھوڑ دیے۔۔۔کچے فرش پر گرنے سے ہلکی سی دھپ کی آواز سنائی دی۔میں تیزی سے اٹھ کر ساتھ موجود گملوں میں لگے ہوئے پودوں کے پیچھے ہو گیا۔۔۔وہیں بیٹھے بیٹھے میں نے چند لمحے آس پاس کی سن گن لی۔۔۔کسی قسم کی ہلچل نہ محسوس کرنے کے بعد میں اٹھا اور دبے پاؤں چلتے ہوئے اندرونی کمروں کی جانب چل پڑا۔ ************************** (33) چند وسیع و عریض کمروں سے گزر کر میں ایک نیم روشن کوریڈور میں پہنچا۔۔۔یہاں ایک زینہ نظر آ رہا تھا جو کہ اوپر کی بجائے نیچے جا رہا تھا۔۔۔مطلب میں پہلے ہی گراؤنڈ فلور پر تھا تو یہ زینہ مجھے سپردِ خاک کر دیتا مطلب نیچے تہہ خانے میں لے جاتا۔ اس سے پہلے کہ میں سوچتا مجھے کدھر کو جانا ہے کوریڈور کے دوسرے سرے سے مجھے کسی کے چلنے کی آواز سنائی دی۔میں بلا سوچے سمجھے تیزی سے دبے پاؤں زینے سے سیڑھیاں اتر کر نیچے چلا آیا۔۔۔سیڑھیوں کے اختتام پر ایک دروازہ دکھائی دیا جس کے دونوں پٹ کھلے ہوئے تھے۔۔۔اندر داخل ہونے پر پتہ چلا کہ یہ واقعی ایک تہہ خانہ تھا لیکن میرے تصورات سے بلکل مختلف۔۔۔فلمی تہہ خانوں کی طرح نہ اس میں پیٹیاں تھیں نہ گاڑیوں کے استعمال شدہ ٹائر اور ڈرم۔۔۔حتیٰ کے فرش پر جھاڑ جھنکاڑ والا کوئی مدقوق قیدی بھی نظر نہیں آیا۔ بلکہ یوں کہیے کہ فرش ہی نظر نہیں آیا۔۔۔نیچی چھت کے ایک وسیع کمرے میں دبیز قالین بچھا ہوا تھا۔۔۔اس کمرے میں تین اطراف صوفے لگے ہوئے تھے۔۔۔اور پیچھے ایک قد آدم الماری تھی۔ رنگین ٹی وی،وی سی آر۔ (جو ان دنوں عجوبہ سمجھا جاتا تھا) فریج،تمام آسائشیں اس کمرے میں موجود تھیں۔۔۔میں ابھی کھڑا ہونقوں کی طرح کمرے کی سجاوٹ ہی دیکھ رہا تھا کہ تبھی مجھے کسی کے سیڑھیاں اترنے کی آواز سنائی دی۔۔۔میں نے ادھر ادھر دیکھا تو صرف سیڑھیوں کا دروازہ ہی ایک ایسی جگہ نظر آئی جہاں میں چھپ سکتا تھا۔۔۔میں نے ایک زقند بھری اور بھاگتے ہوئے دروازے کے پیچھے چھپ گیا۔چند لمحوں بعد ہی کمرے میں دو آدمی داخل ہوئے۔ وہ باتیں کرتے ہوئے سیدھا سامنے صوفے کی طرف گئے۔۔۔اچانک میں نے سوچا کے اگر وہ سامنے صوفے پر بیٹھ گئے تو میرا دیکھ لیا جانا اظہر من الشمس تھا۔۔۔چنانچہ اس سے پہلے کے وہ صوفے پر بیٹھتے میں سرعت سے دروازے کی اوٹ سے نکلا اور دروازے کے دوسرے پٹ کی اوٹ میں چھپ گیا۔۔۔وہ دونوں واقعی سامنے صوفے پر بیٹھ گئے۔ بیٹھنے کے بعد جیسے ہی ان کا رخ میری طرف ہوا میری ساری حسیات کھچ کر آنکھوں میں چلی آئیں۔۔۔میری قسمت نے یاوری کی تھی۔۔۔سامنے صوفے پر ریاض عرف راجو سیال اور اس کا کوئی آدمی بیٹھے تھے۔۔۔ریاض کو دیکھ کر میرا دماغ غصے سے کھولنے لگا کہ یہی وہ بھین کا چھنکنا ہے جس کی خاطر میں یہاں آیا ہوں۔ ************************ (34) بیٹھتے ہی راجو نے اپنی ڈب سے ایک جرمن لیوگر نکالا اور سامنے میز پر رکھ دیا۔۔۔چونکہ مجھے اسلحے کا شوق تھا اور اکثر میں اسلحے کے بارے معلومات حاصل کرتا رہتا تھا اس لیے دیکھتے ہی لیوگر کو پہچان لیا۔گن کے آگے ایک لمبی سی نال لگی ہوئی تھی جس کے بارے میں جانتا تھا کہ اس کو سائلنسر کہتے ہیں۔ میں جو ان پر جھپٹنے کو پر تول رہا تھا راجو کے ہاتھ کی رسائی میں گن دیکھ کر وہیں رک گیا۔۔۔وہ مجھے سے تقریباً دس میٹر کی دوری پر صوفے پہ بیٹھے تھے۔۔۔اگر میں وہاں سے بھاگ کر بھی ان کی طرف جانے کی کوشش کرتا تو ناممکن سی بات تھی۔۔۔کیونکہ جیسے ہی میں دروازے کی اوٹ سے باہر نکلتا میرا دیکھ لیا جانا یقینی تھا۔۔۔اور لیوگر راجو کی رسائی میں تھا۔ ریوالور میرے پاس بھی تھا لیکن وہ میں نے انتہائی ایمرجنسی کیلئے رکھا ہوا تھا میں یہاں گولی نہیں چلانا چاہتا تھا کیونکہ جیسے ہی گولی چلتی ساری حویلی کو پتہ چل جاتا۔۔۔اس لیے میں وہیں دبکا ان کی باتیں سننے لگا۔۔۔راجو نے جیب سے ایک چھوٹی سی چرمی تھیلی نکالی اور اسے کھول کر احتیاط سے میز پر الٹ دیا۔۔۔میری آنکھیں ایک دم چندیا گئیں۔ تھیلی میں سے قمیض کے بٹن برابر شیشے کی طرح چمکتے ہوئے ہیرے باہر نکلے۔۔۔میں فلموں میں پہلے ہی ہیرے دیکھ چکا تھا۔۔۔لیکن آج پہلی مرتبہ اپنی آنکھوں کے سامنے ہیرے دیکھ رہا تھا۔۔۔راجو نے ہیرے باہر نکالے اور اٹھا اٹھا کر غور سے انہیں دیکھنے لگا۔۔۔اچھی طرح ہیرے دیکھنے اور پرکھنے کے بعد راجو نے ہیرے واپس تھیلی میں ڈالے اور تھیلی اٹھا کر اس آدمی کو دیتے ہوئے کہا کہ اسے پیچھے الماری میں رکھ دو۔۔۔ساتھ ہی راجو نے اسے چابیوں کا ایک گچھا پکڑایا تو وہ آدمی سعادت مندی سے اٹھا اور ہیروں کی تھیلی لیجا کر الماری میں رکھ کر دروازہ بند کر کے واپس مڑا تو اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ راجو نے اپنا جرمن لیوگر اس کی طرف سیدھا کیا ہوا تھا۔۔۔وہ آدمی ہکلاتے ہوئے بولا:بب۔بب۔باس یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔۔۔تو راجو قہقہ لگا کر بولا:میں اپنے پیچھے کبھی بھی کوئی ثبوت نہیں چھوڑتا۔۔۔اگر تمہیں زندہ چھوڑ دیا تو یہ راز میرے علاوہ تم بھی جانتے ہو جو کہ میں نہیں چاہتا۔۔۔تو وہ آدمی ہاتھ جوڑتے ہوئے بولا:بب۔باس میں نے آپ کا نمک کھایا ہے تو نمک حرامی کیسے کر سکتا ہوں تو راجو دانت پیستے ہوئے بولا:جب تو اپنے مالک کا نہ ہوا تو میرا کہاں سے ہو گا۔ یہ کہتے ہی راجو نے گولی چلا دی۔۔۔سائلنسر ہونے کی وجہ سے ہلکی سی ٹھک کی آواز کے ساتھ گولی نکلی جو کے سیدھا اس کی داہنی آنکھ سے تھوڑا اوپر کھوپڑی میں لگی۔اور اس کی کھوپڑی پرزوں میں تقسیم ہو گئی۔۔۔وہ آدمی گرنے سے پہلے ہی مر چکا تھا۔۔۔میرے لیے یہی موقع تھا۔۔۔راجو نے اس کو مارنے کے بعد لیوگر صوفے پر پھینکا اور آگے ہو کر الماری کو تالا لگانے لگا۔ میرے لیے یہ لمحہ انتہائی اہمیت کا حامل تھا۔۔۔میں دروازے کی اوٹ سے باہر نکلا اور دبیز قالین پر دبے قدموں تیزی سے راجو کی طرف بڑھا۔۔۔جیسے ہی میں اس کے قریب پہنچا اس کی چھٹی حِس نے اسے گڑبڑ کا احساس دلایا اور اس نے مڑنا چاہا۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ پوری طرح مڑ پاتا میں نے دو قدم بھاگ کر چھلانگ لگائی اور اسے لیتا ہوا نرم نرم روئی جیسے قالین پر گِرا۔۔۔راجو کے جسم پر ہاتھ پڑتے ہی مجھے اندازہ ہو گیا تھا وہ بھی ایک مضبوط جسم کا مالک اور کڑیل جوان ہے۔ نیچے گرتے ہی اس کے منہ سے ایک انتہائی فحش گالی نکلی۔۔۔کیڑا اوئے کسی کتی ماں دا جنیا۔۔۔ساتھ ہی اس نے بے دریغ ایک ٹکر میری پیشانی پر دے ماری۔۔۔مجھے اس سے اس حرکت کی قطعاً توقع نہیں تھی۔۔۔ٹکر اور گالی کھا کر میرا دماغ بھی گھوم گیا۔۔۔میں نے ایک ہاتھ اس کی ٹھوڑی پر جما دیا۔۔۔وہ زور لگا کر مجھے پہلو کے بل نیچے گرانے کی کوشش کرنے لگا۔اسی کوشش میں میرے چہرے سے میری چادر بھی اتر گئی۔ اسی وقت مجھے اس کے بائیں ہاتھ کی غیر موجودگی کا احساس ہوا۔۔۔بایاں ہاتھ مجھ سے پنجا آزما نہیں تھا بلکہ کسی اور کام میں مصروف تھا۔۔۔میری یہ خبرداری میری زندگی کی ضمانت بن گئی۔۔۔ورنہ جو گراری دار چاقو راجو کی قمیض کے نیچے سے اس کے ہاتھ میں برآمد ہوا وہ ایک لمحے بعد میری آنتیں قالین پر ڈھیر کر دیتا۔۔۔چاقو کے باہر آتے آتے میں نے راجو کی کلائی جکڑ لی اور دوسرے ہاتھ سے ایک طوفانی مکا اس کی ناک پر دے مارا۔۔۔اسی وقت وہ سمجھ گیا کہ اس کا واسطہ بھی کسی سخت جان سے پڑا ہے۔۔۔اس نے اچانک چاقو ہاتھ سے چھوڑ دیا اور دونوں ہاتھ اپنی ناک پر رکھ کر لوٹ پوٹ ہونے لگا۔ میں نے چاقو اٹھایا اور پھل مطلب دھار والی سائیڈ سے پکڑتے ہوئے پوری جان سے چاقو کا دستہ اس کی کھوپڑی پر جماتے ہوئے دوسرے ہاتھ سے اس کا منہ بند کر دیا۔۔۔اگلے ہی لمحے وہ ہاتھ پاؤں جھٹک کر ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گیا۔۔۔اس کے بیہوش ہوتے ہی میں اس کے اوپر سے اٹھ کر سائیڈ پر ہو گیا اور لمبی لمبی سانسیں لینے لگا۔ یہ میری زندگی کی پہلی لڑائی تھی۔۔۔دو منٹ سانس درست کرنے کے بعد میں سیدھا ہوا راجو کو ہلا کر دیکھا تو الماری کی چابیاں مجھے اس کے نیچے سے مل گئیں۔۔۔میں نے پھرتی سے الماری کو کھولا تو کھولتے ہی میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔۔۔الماری کے ایک خانے میں بڑے بڑے نوٹوں کی گڈیاں چنی ہوئی تھیں۔۔۔جبکہ دوسرے خانے میں کچھ ملبوسات پڑے تھے۔۔۔سب سے نچلے خانے میں چند رائفلیں اور ان کا ایمونیشن پڑا ہوا تھا۔ رائفلیں دیکھ کر میری آنکھیں چمک اٹھیں۔۔۔لیکن مجھے کسی اور چیز کی تلاش تھی۔۔۔میں نے پیچھے ہو کر نظر دوڑائی تو الماری کے سب سے اوپر والے خانے میں نوٹوں کی گڈیوں کے ساتھ ہی مجھے وہ چرمی تھیلی نظر آ گئی جس میں ہیرے تھے۔ میں نے تھیلی کھولی اور اس میں ہاتھ ڈال کر ایک ہیرا باہر نکال کر اپنی ہتھیلی پر رکھتے ہوئے اسے دیکھنے لگا۔۔۔روشنی میں ہیرا پورا آب و تاب سے چمک رہا تھا۔۔۔پھر کچھ سوچ کر میں نے تھیلی واپس رکھی اور مڑ کر راجو کی طرف دیکھا جو کہ ابھی تک بیہوش تھا۔۔۔میں نے ادھر ادھر نظر دوڑائی تو مجھے میرے مطلب کی چیز نظر نہیں آئی۔۔۔پھر میری نظر گھومتی ہوئی راجو پر ہی آن ٹکی۔ راجو نے بھی شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی مطلب شلوار میں نالا ضرور ہو گا۔۔۔میں نے ٹٹول کر اس کا نالا کھولا اور زور لگا کر شلوار سے باہر نکال لیا۔۔۔راجو کو پہلو کے بل لٹاتے ہوئے اس کے ہاتھ پیچھے کر کے باندھ دیے۔۔۔پھر آگے بڑھ کر میں نے تہہ خانے کا دروازے اندر سے بند کر دیا۔۔۔دروازہ بند کرنے سے امید تھی کہ اندر کی آواز باہر تک نہیں جائے گی۔۔۔پھر الماری سے ایک قمیض نکال کر اسے پٹیوں میں پھاڑ دیا۔۔۔ان پٹیوں سے میں نے راجو کی ٹانگیں بھی باندھ دیں اور باقی ماندہ پٹیوں کا گولہ بنا کر اس کے منہ میں ٹھونس دیا۔ یہ سب کرنے کے بعد میں نے دوسرے آدمی کی طرف دیکھا تو اس کی کھوپڑی سے خون بہہ بہہ کر قالین کو داغ دار کر چکا تھا۔۔۔پھر میں نے فریج کھولی اور اندر سے ٹھنڈے پانی کی بوتل نکال کر آدھی بوتل اپنے معدے میں اتاری اور باقی پانی راجو کے چہرے پر انڈھیل دیا۔۔۔چند لمحوں بعد ہی راجو ہوش میں آ گیا۔۔۔کچھ دیر تو وہ خالی نظروں سے مجھے دیکھتا رہا۔۔۔پھر جب اس کے دماغ کو صورتحال کی سمجھ آئی تو وہ اپنے ہاتھوں اور پاؤں کو جھٹکے دیتے ہوئے اوں اوں کرنے لگا۔ ************************ (35) راجو کو ہوش دلانے سے پہلے میں نے اپنی چادر واپس چہرے پر لپیٹ لی تھی۔۔۔پہلے مارا ماری میں وہ ٹھیک سے میرا چہرہ نہیں دیکھ پایا تھا۔۔۔ہوش آنے کے بعد میں نے اس کو گالی دیتے ہوئے کہا او رانی خاں کے سالے،،کسے کتی کے پتر اپنی کتی زبان ذرا قابو میں رکھنے اور شور نہ مچانے کا وعدہ کرے تو میں تیرے منہ سے کپڑا نکالتا ہوں۔۔۔اس کے ہاں میں سر ہلانے پر میں نے آگے بڑھ کر اس کے منہ سے کپڑا باہر نکال لیا۔ کون ہے تو؟؟اس نے غصیلی سرگوشی کی۔" میں نے کچھ لمحے سوچنے کے بعد اپنے چہرے سے چادر ہٹا دی۔۔۔مجھے دیکھ کر اس کی آنکھیں پھیل گئیں۔۔۔اس کی حالت دیکھ کر میں سمجھ گیا کہ وہ مجھے اچھی طرح سے جانتا ہے۔۔۔مجھے دیکھتے ہی اس نے مجھ سے ایک نازیبا رشتہ جوڑا اور اس کے منہ سے بوچھاڑ کی صورت میں گالیاں نکلنا شروع ہو گئیں۔ میں نے ایک زور کا طمانچہ اس کے گال پر مارا۔۔۔اور پھناتے ہوئے بولا کہ اب تو نے ایک بھی گالی بکی تو تیری زبان کاٹ دوں گا ساتھ ہی زمین پر پڑا گراری دار چاقو اٹھا کر اس کی آنکھوں کے سامنے لہرایا۔۔۔وہ چاقو کو نظر انداز کرتے ہوئے بولا:کیا چاہتے ہو مجھے ایسے کیوں باندھا ہوا ہے۔۔۔تم جانتے نہیں ہو کہ ہم کون ہیں۔۔۔میں نے کھڑے ہوتے ہوئے ایک ٹھوکر اس کے جبڑے پر ماری تو اس کے منہ سے ایک دھاڑ برآمد ہوئی۔۔۔کتی کے بچے ہو تم۔۔۔تو نے میرے باپ پر ہاتھ اٹھایا اور اس معصوم شاکر کا کیا قصور تھا جسے تم نے مار ڈالا۔ مرنے کی بات سن کر ایک لمحے کیلئے اس کا چہرہ تاریک ہوا پھر وہ سنبھلتے ہوئے بولا:تم نے پہلے میری کزن شبینہ کے ساتھ بدتمیزی کی میں برداشت کر گیا۔۔۔پھر کل تیرے باپ نے میرے پاپا کو گالی دی۔۔۔تم لوگوں کو کیا لگا ہم آسانی سے ہضم کر جائیں گے نہیں۔۔۔اور اب تم حویلی کے اندر گھس کر مجھ سے الجھ گئے۔۔۔ہم تمہارا نام و نشان تک مٹا دیں گے۔۔۔اور شبینہ کو چھیڑنے کے بدلے میں تیری بہن کو یہاں اٹھا لاؤں گا۔۔۔وہ سب کے سامنے ناچے گی اور پھر میں اس کی پھدی ماروں گا۔ اس کے منہ سے یہ بکواس سننا تھی کہ میرے دماغ پر جیسے چھپکلی سی رینگ گئی۔۔۔دم سمٹ کر میری آنکھوں میں آ گیا۔۔۔میں عجیب لہجے میں بولا:گشتی کے بچے تو میری بہن کو اٹھائے گا،،نچائے گا اور اور۔۔۔اس کے آگے الفاظ میرے منہ میں ہی اٹک گئے۔۔۔جب میرے منہ سے آواز نکلی تو اپنی آواز سن کر مجھے ٹھیک ٹھاک تسلی ہوئی۔۔۔اس وقت میرے لہجے میں وہ درندگی تھی جو شاید پتھر کو بھی پانی کر دیتی۔میں یکا یک اس کے پاس بیٹھا اور ایک ہاتھ سے اس کا جبڑا اتنی زور سے بھینچا کہ درد کے مارے اس کا منہ کھل گیا۔ میں نے دوسرے ہاتھ سے کپڑا پھر سے اس کے منہ میں ٹھونس دیا۔۔۔پھر صوفے سے لیوگر اٹھا کر میں اس کی ٹانگوں کے بیچ بیٹھتے ہوئے غرایا۔۔۔تجھے میں زندہ چھوڑوں گا تو ہی یہ سب کر پائے گا نا۔۔۔اس کے ساتھ ہی میں نے اس کی شلوار کھینچتے ہوئے لیوگر کے آگے لگے سائلنسر کی نال پورے زور سے اس کی گانڈ میں گھسائی اور پاگلوں کی طرح ٹرائیگر دباتا گیا۔۔۔اس کے منہ سے چیخ بھی نہ نکل سکی۔۔۔مجھے ہوش تب آئی جب گن سے ٹرچ کی آواز سنائی دی۔ میں پانچ منٹ تک وہیں صوفے پر بیٹھ کر اپنے آپ پر قابو پاتا رہا۔۔۔تھوڑی دیر بعد جب دماغ کچھ سوچنے سمجھنے کے قابل ہوا تو میں نے الماری میں سے چرمی تھیلی اٹھائی۔۔۔اچھی طرح تلاشی لینے پر مجھے الماری سے ہی لیوگر کا ایمونیشن بھی مل گیا جو کہ تین ڈبوں کی شکل میں تھا۔۔۔میں نے ایمونیشن اپنی جیبوں میں ڈالا۔۔۔لیوگر کی نال صوفے کے ساتھ رگڑ کر صاف کی اور تہہ خانے سے نکل آیا۔۔۔اب چونکہ میرا بدلہ بھی پورا ہو چکا تھا اور میں ہیروں کی شکل میں بھی سیالوں کو ایک کاری ضرب لگا چکا تھا تو اب مجھے یہاں سے نکلنے کی فکر تھی۔ میں دبے قدموں چلتا ہوا سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اوپر پہنچا اور آس پاس دیکھ کر وہاں سے باہر نکلا۔۔۔چند لمحوں بعد میں کوریڈور کراس کر کے صحن کی طرف کھلنے والے دروازے کے پاس پہنچ چکا تھا۔۔۔جیسے ہی میں دروازے سے باہر نکلنے لگا سامنے سے اچانک کوئی اندر کی طرف مڑا اور میں نا چاہتے ہوئے بھی اس سے ٹکرا گیا۔۔۔جس سے میں ٹکرایا اس نے سنبھلنے کیلئے ہوا میں ہاتھ مارے تو میری چادر کا پلو اس کے ہاتھ میں آیا جسے کھینچتے ہوئے وہ زمین پر جا پڑا۔۔۔چادر کا پلو اس کے ہاتھ میں ہونے کی وجہ سے میرے جسم کو ایک جھٹکا لگا اور چادر کھل کے نیچے گر گئی۔1 like
-
مجرِم یا۔۔۔
1 likeفائنلی رپلائی باکس میں سے ٹیگ ہٹ ہی گئے۔۔۔ کیسے ہٹے میں نہیں جانتا بس ہٹ گئے۔۔۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں اپڈیٹ کرنے کے قابل ہو گیا۔۔۔ اپڈیٹ آ رہی ہے۔۔۔1 like
-
مجرِم یا۔۔۔
1 like@waji کہانی مکمل تو لازمی ہو گی یہ بات طے ہے۔کہانی کا پلاٹ ایک انگلش مووی سے لیا گیا ہے جیسے ہی وہاں تک پہنچوں گا سب کو سمجھ آ جائے گی۔تھوڑا سنبھالنا مشکل ہو گا وہاں سٹوری کو لیکن امید ہے کہ کر جاؤں گا۔ آپ ضرور مشورہ دیں اب یہ لازمی تو نہیں کہ آپ کے مشورے پہ عمل کیا جائے یا اس کو بلکل ریجیکٹ کیا جائے۔۔۔لیکن آگے سٹوری میں چل کر آپ کو سمجھ آ جائے گی کہ بعض اوقات کیے گئے کمنٹس کتنے فائدہ مند ہوتے ہیں۔ سٹوری چلتی بلکل رائٹر کے خیال اور مزاج کے مطابق ہے کیونکہ وہ پہلے سے ہی اس کا خاکہ یا خلاصہ بنا چکا ہوتا ہے۔۔۔پھر بھی جب کسی کی کوئی رائے اچھی لگے تو کم از کم مجھے کافی محنت کرنی پڑتی ہے مگر میں اس رائے کو اہمیت ضرور دیتا ہوں۔۔۔ اگلی اپڈیٹ پر کام شروع ہے۔۔۔چند دن بعد فائنل کر کے اپلوڈ کر دوں گا۔1 like
-
مجرِم یا۔۔۔
1 like@Shah fahadfahad جی بھائی کیوں نہیں لازماً پوسٹ ہوتی رہے گی۔ اور ان سب دوستوں کا شکریہ جنہیں میری یہ کاوش پسند آئی۔1 like
-
♥ ~sarkash~ ♥
1 likepart 9a jahangir ki baat say sehri kay face pay aik arang aa raha tha aik ja raha tha ab ussy zari nay kaha ary aisi kiya bat kah di hai jahngi nay jo tum itna sharma rahi haon wo kuch na boli main samjh giya tha wo mery liye apny dil main narm gosha bana chuki hai ab main nay kaha chalo yaar choro ab kon sa program hai yeh batao tu zari nay kaha abhi tu dance ka program rehta hai phir naida nay aik song pay dance kiya uff ka jism aisy thark raha tha uss song pay k kiye kahny uss nay koi 2 song pay danca kiya phir aur bhi larkiyoo nay bhi dance kiya ab sub old loog ander chaly gay thay buss young nasal hi thi phir main nay kaha sehri suna hai app bhi dance ker leeti hao wo boli ji haan thora thora main nay kahaa ho jay phir wo boli aik shart hai app ko baad main aik song sunana pary ga main nay kaha buss ary pagli koi aisi shart rakhti jo sub say juda hoti phir wo hasn di aur ab aik panjabi song pay sehri nay dance kiya ager dostoo app issy mabalghaa araaii na samjhein tu main nay aaj tak aisa dance ahi dekha tha uss ka ang ang nach raha tha uff uss k dance karty hoye jub uss k bhary bhary mammy hilty mano mujh pay jadu chal jata phir jub wo apn gaand say koi poz deti tu buss wahan pay majood larky tu mast ho gay thy mera lun aisy khaara tha k bethny ka naam hi nahi lay raha tha main ab koshish kar raha tha yeh beth jay mery saath wali kursi pay ruzwana bethi thi achank uss k nazar mery apni god mian rakhy haath pay pari jiss say main apny lun ko neechy ki taraf kar raha tha k yeh beth jay wo yeh dekhty hi sharma gae main tu buss sehri ka dance dekhny main mast tha kafi mushkal paish aayi mujhy apna lun ko bthnay main ab sehri dance khatam kerny k baad thaki thaki si humari tarf aayei uss k sony jaisy badn say paseena abeh raha tha aur uss ka adh khily gulab jaisa chehra wahna bhi paseena chamak raha tha meri nazar ab uss k honto pay tha wahan pay aik do qatrey paseeny ky mujhy nazar aaye mera dil kiya wo apny honto say saaf karo bhari mushkal say main nay khud pay control kiya wo aaye aur mery samny hi beth gae ab us nay aik lamba saans liya jiss ki waja say uss k mammy oper ho ko hoye aur phir neechy ka safar kiya main nay yeh dekh k paghal ho giya wo meri tarf dekh k bholi ji janab ab app apna wada pora karo main nay ussy piyaaar bhari nazaron say dekha aur uth khara howa jaty jaty main nay ussy dheery say kaha mery iss song k bool buss app k naam awaz itni si thi jissy buss wo hi sun saki main ab stage pay aaya aur mic paker liya ab main nay kaha ab yeh akhri song hai iss k baad main ab sony jaon ga aur main nay apni nazaron k hisar main serish ko lay liya aur rafii ka aik old song sing kerny laga ~~~~~~~~~~~~~":":"~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~ Main nay poocha chand say k dekha hai kahein Mery yaar sa huseen chand nay kaha chandni ki qasm Nahi...........................Nahi ..........................Nahiiiiii Main nay poocha chand say k dekha hai kahein Mery yaar sa huseen chand nay kaha chandni ki qasm Nahi..........................Nahi ........................Nahiiiiiiii Main nay yeh hajab tera dhoondha Her jage shabab tera dhoondha Kaliyo,n say misaal teri poochi Phoolon main jawab tera dhuoondha Main nay poocha bagh say k falak ho ya zameen Aisa phoon hai kahein baghnay kaha Her kali ki qasm nahi nahi nahiiiiiii Main nay poocha chand say.... Chaal hai k moj ki rawani, zulf hai k raat ki kahani Hont hain k aainy kanwal kay.............. Aankh hai k meh kado,n ki rani........ Main nay pocha jaam say falak ho ya zameen Aisii mehh bhi hai kahein................ Jaam nay kaha mehhkashii ki qasm nahi ,nahi,nahiii Main nay poocha chand say.............. Khubsorti jo tu nay payi, lut gae KHUDA ki bus khudaiii Meer ki ghazal kahon tujhy main......... Ya kahon khiyaam ki rubaaiiiii.................. Main jo pochuu shairoo,n say............ Aisa dil nasheen koi shair hai kahein Shair kahein shairiii ki qasm nahi,nahi,nahiii....... Main nay poocha chand say k dekha hai kahein Mery yaar sa huseen chand nay kaha chandni ki qasm Nahi .............................Nahi ..........................Nahiiiiii ~~~~~~~~~~~":":":":":"~~~~~~~~~~~~~~~~~~ mera song khatam hoty hi sub nay zoordaar taliyoon say mujhy daad di jahangir tu mery pass dira chala aya uss nay mujhy galy say laga k kaya yaar ajj tu dil hi lout liya app nay sub ka main nay muskra k kaha sub main kon kon shamil hai mein tarchi nazaar say sehri ko dekh raha tha wo boli app nay aisi dil nasheen shinging kiss say seekhii uss ki baat sun ka tahir jo ab javeed k saath hi aaya tha uss nay bhi mera song suna wo hans k bola dr sahiba iss nay tu paata nahi kiya kiya seekha hai yeh samjh lein yeh her fun mola qasm ka banda hai kabhi yeh shair ban jata hai kabhi singer aur kabhi yeh wo ban jata hai jissy dekh kar bary bary sourmaoo k dil dehal jaein sehrish nay ab tahir ki tarf dehka aur kaha app in k bary main itna kaisy janty hain main tu app ko abhi first time dekh rahi haon wo bola app nay pahli dafa dekha hai na jiss say app nay poocha hai wo bechara tu mujhy bachpan say dekh raha hai uss ki iss baat pay sub ki hansi chhot gae main nay ab tahir ko apny seeny say laga k kaha yeh aur iss jaisy aur 3 dost hain mery samjho yeh meri parchaaiiyan hain mujhy yeh bohat azeez hain ab ki baar sehrii nay kaha acha ji sub say azeez main nay kaha yess tu ab ruzwana nay mazak say kaha un sub main main aur zari aur yeh sehriii bhi aati hai wo soch rahi thi main kahon ga nahi lekan main nay kaha ruzwana bibi un sub main sari duiya aati hai sara jahan aik tarf aur mery dost aik tarf yeh sunty hi jahangir nay mujhy galy laga liya aur kaha mujhy tum pay naaz hai mery bhaiii ab zariii nay muskra k kaha dekh lo jahangir app ko shahbaaz phir mila giya tu ab ruzwana nay kaha yaar wo hum sub ko aik tarf rakh raha hai uss nay apny dost ko chuna aur tum log ussy galy mil rahy hao mai nay kaha ruzwana bibi yeh dil aur wafa ki duniya ki baatein hain app ki samjh main nahi aayein gaein ab main nay sehrish ko dekha aur kaha app ka chehra q utra howa hai wo kuch na boli aur chup kar k aik tarf ja k beth gae ab zari aur jahngir uss ki tarf gay aur kaha kiya baat hai wo main bhi ab wahan aa giya main samjh nahi paya issy kiya howa hai ab k main nay poocha kiya baat hai sehrii tu wo boli aabii aik baat batao kiya tum ko main achi lagti haon main nay bejhaik kaha haan , wo khush hao gae aur boli mery liye kiya kar sakty hao main nay kaha kiya kuch nahi kar sakta yeh phuchoo wo boli ok meri buss aik baat maan jao abhi sub k samny kah du main tum ko apny iss dost say bhi ziyada azeez haon ab sub ussy heerangii say dekhny lagy zari nay kaha kiya tum paghal hao gae hao wo uss ka bachpan ka dost hai tu zari nay ghusy say kaha haan jo mujhy acha lagta hai wo buss mera hi hota hai buss wo aik bohay raeis khandaan say thi wo boli aabiii mery jaisy in sub main koi aik bhi nahi uss k lehjy main bohat gharoor tha hasb nasab ka apny husn ka kahny lagi na kissi ka husn merya jaisa na awaz aur na hi figure bolo hai koi aaisa jo serish aftab khan jaisa ho main hans diya wo boli q hans rahy hao tum buss meri baat mano main sari umer tumhari noakrani ban k rahon gae apny iss ghatiya dost say kaho tum uss say ziyada mujhy like kerty hao yeh sunty hai mery anderr aag si lag gae aur main itni zoor say bola k sub dar gay main nay kha oh sun tu nawabzadi hao gae duniya kliye main tery jaisy kiya tujh say barh k nawab zadiyan aur huseen lakiyan apny dost k paon pay qurban kar don tum ho kiya , yeh sunty hi wo ghusy aur insult say laal hae gaiii uss nay kaha mr aabii tumhein in sub baatoo ka nateja bughtna ho ga main hans diya aur kah jao jo hota hai kar lo wo ghusy say zari ki tarf dekh k boli zari ager tum ko meri dosti chahaye tu abhi issy apny ghar say nikalny ka kahoo jahangir say tu zari nay kaha tery jaisi gharoor ki mari larkiyan meri dost ho hi nahi sakti dafa ho jao mery ghar say abhi, ab sehriii ghussy say ruzwana ka haath pakra aur ander ki tarf chali gae phir wo dono apni gari main beth kay chali gaen, sehrish apni caar main ayei thi ruzwana k saath bus ussi waqat chali gaein tu zari nay kaha sorry bhai wo meri dost ban k aye thi uss nay jo kaha uss kliye sorry main nay kaha dafa karo ussy aur chalo sony ki tiyari karo app loog raat kafi guzar gae thi main nay ab javeed aur tahir ko saath liya aur hum wahan aa gay jahan karigar samina aur shahbaaz ka maqbra marbal ki tail say bana rahy thy wo ab bilkull tiyaar tha aur itna piyara lag raha tha wo sary qabrastaan main aik ajeeb si shan say khara tha wo wafa k tajmahal tha hum koi 3 ghanty wahan rahy ab azanein ho rahi thein hum ghar aa gay main aur tahir javeed k ghar main hi sooye aik hi kamrey main tahir nay kaha abiii hum ko kuch aur amount ki zaroorat parhy gae , main nay kaha q kiss liye uss nay bataya reena nay apni kuch japani friends say rabta kiya tha tu uss ki do friends k papa ki death ho gae hai aur wo ab wahan free hain wo dono hi bohat aalaa paye ki scientist hain tu reena nay hum say baat ki main nay uar master nay kaha un ko apny pass bhula lo aur wo kal jub main aaya tha tu ussi waqat wo wahan aayein thein main un say mila haon wo achi larkiyan main nay kaha tu koi baat nahi jani acha hi hai na ab humari tanzeem black tiger her lehaaz say mazboot ho jay gae phir hum yehi baatein karty hoye so gay agly din hum sub ready hoye aur phir wohi laan main hi jahangir aurzarina ki nikaha prhaya giya sub nay un ko mubaruk baa d di wo aur zari sub say pahly mery galy mily main nay zari ko aik piyara sa daimond ka necklis diya aur jahangir ko aik gold ki waatch di jiss main dainmond lagy thy phir jahangi nay kaha aabii main abhi samina ki qabar pay jaon ga main nay kahatum akeely hi nahi hum sub jaein gay phirr khana kha kar dada jii aur sub ghar waly mery sath hi gay wo jahan aik seemant k kamrey ki jaga qeemti marbil ka bana hoya aik maqbra dekh kar heeran reh gay ander sy bhi dekha unhon nay llekan karigaron nay kaha k abhi 24 ghanty tak koii iss k ander na jaye wo sub bohat khush thy main nay jahangi aur zari say kaha yeh sub say bara gift app dono k liye wo mery galy lag k roony lagy main nay kaha chalo ab aao ghar chalein hum wapis ghar aaye aur wo sara din hum nay khuub hansi mazak kiya phir sham ko main nay un say ijazat mangi tu wo sub kahny lagy nahi app kal jaein plz javeed ko uss k office say call aa ye thi wo city jany laga aur tahir bhi uss k saath hi chala gia ab hum nay raat ko kuch der sub baatein kerty rahy mera mod kafi off sa tha phir main ja k apny room so giya javeed k ghar aaj uss k ghar main koi bhi nahi tha main sehri k baary main soochnay laga wo kafi mast larki thi mian nay sooch liya ager kabhi wo mery rasty main aayei tu ussy choodo ka zaror , ab main apny bed pay karwatein badalny laga mujhy nend nahi aa rahi thi main nay tv on kiya aur dekhny laga koi rata k 1 bajy mery kamrey ka darwaza khool k nadia ander aa gae aur aaty hi mery oper chalang laga j mujhy jhaker liya aur mery hont chomny lagi aur kaha aabiii i love u janu kall app chaly jao gaey mujhy paata hai mery dost ko mera jism bohat passand hai lo aaj ji bhar k apna piyar mujh pay nichawar karo mujhy jiasy tumhara dil kary choodo main nay ab uss k hont choosny laga main nay uss ka nichla hont apny mun main liya aur ussy chosny laga mery haath masalsal uss ki kamer pay aur kabhi uss ki gaand pay ja rahy thy wo mery oper leeti thi phir uss nay apna mun mery paon ki tarf kar diya aur wo mery paon ki tarf jany lagi achanak mughe gudgudi hoi nadia mery paaon ko apni zuban se chat rahi thein uss ne mery taangoo ko aur mazbooti se pukar kar apni chest ke sath dabaya howa tha jub nadia ne mera angootha choosna shuru kiya so mery halat kharab ho gai mera lun full stand ho gya aur nadia ka tight pajama mughe aur maza dene lage ab main nay nadia ki taraf karwat li aur nadia ki taangon ko apne sath laga liya jin taangon ke liya main kitne din tarsa tha aj wo mery seene se lagi hoi thi nadia ny ab mery paaon ki unglian choosna shuru kar di main ne bni uss ke paaon per kiss ki aur first time apni zuban se uss ke paaon ko chatna shuru kar diya mughe pata nahi kaya ho gaya tha main us ke paaon ko aisey chat raha tha jaise sadiyoun ka bhooka hon us ki ungliyan choosni laga nadia ne bhi ab mughe sahi tarha se chatna shuru kar diya tha main maze se pagal ho raha tha phir nadia mery taraf a gae aur mughe apne seene se lage liya aur kehne lage aabii tum aram se laitey raho main ne nadia ko aik kiss ki aur nadia ne thora neechey ho kar apna face mery lun ke uper rakh diya aur apna face mery lun ke uper ragarna shuru kar diya phir nadia ne bohat aram se mer ishawaar ko neeche kiya aur mery lun bahir a gya nadia ne itne aram se mera lun pakra jaisa dark kar raha ho phir apne lips mery lun ki topi per rakh kar apni zuban se mery lun ka surakh chatna shuru kar diya jub pani ka katra nikla to uss ne apni zuban se sara mery lun ki topi per mal diya aur mery lun ki topi ko apne moo main le liya ufffffffffff itna naram aur garam mohn phir apni zuban se mera lun chatna shuru kar diya jub mera sara lun geela ho gya to nadia ne aram aram se poora lun apne moo main le liya ufffffffffff mughe lag raha tha main mar jaon ga nadia itne maze se mera lun choos rahi thein ke mera lun un ke moo main jhatke kha raha tha nadia apney hath mery tatton per phair rahi thein ================================ part 9b aur aik hath mery taangon per phair tahi thein phir uss ne mera geela lun apne face per malna shuru kar diya kabhi wo moo main laite kabhi moo per ragartein main ne kabhi kisi larki ko lun se itna paya karte howe nahi daikha kafi dair mera lun choosne ke bad uss ne meri kameez uteri aur mughe bed per ulta kar ke laitny ko kaha phir uss ne apni kameez aur shawlwar utari aur mery uper lait gaei apne sadool mammy meri kamar per malney shuru kar diye main pagal ho raha tha, main ab mazy ki wadiyoo mai uter giya ab main nay karwrt li aur seedha ho giya ab wo mery oper thi uss ko apne seeney ke sath laga kar kissing shuru kar di nadia ke mammey choosne laga nadia ne apne aap ko mugh se churah liya aur kehne lagii aj meri raat aabii janu plz mujhy apni marzi say piyaar karny du wo dubara mery lun ko choosna shuru ho gaein mery lun phatne wala how tha main ne kaha nadia pls is ko aik dafa apni choot main lay lo phir jo karna hai karti rahna nadia aram aram se mery uper a gaei aur apni choot ko mery lun per ragarna shuru kar diya main marney wala ho gya main ne aik dafa ander karne ki koshish ki lakin nadia ne apni choot uper utha li aur kaha aj meri raat hai main nay kaha nadi janu app ki yeh pahli baar hai wo boli janu haan mujhy pata hai bohat dard ho ga lekan main ajj apny aabii say aisy piyaar karon gaae app ko sari zindgi yaad rahy ga, phir nadia ne aram se apni choot ko mery lun per rakh kar dabaya to mery lun ki topi nadia ki choot ke ander chali gai aur uss ki choot kafi gili ho gae thi mera lun chut ki diwaren phartta huwa nadia ki choot main sara ka sara gus giya aur coot main apni jagah bana li nadia ki zordar chikh nikal gayi......aaaaaaah main mari oeiiiiii maaaaan aur mery seeny pay gir gae main nay uss k hontoo ko apny honto main lay liya aur chosny laga uss ki aankhon say ansoo nikal rahy thy aur wo kanp rahi thi main nay uss ki jheel si aankhon say behty motiyoo jaisy ansoo chat laye uss ki ankhoen bohar dard nazar aa raha tha , uss ka badan halky halky kanpi ja raha tha aur meri ranoo pay kuch kuch garm garm sa gir raha tha wo uss ki choot say niklta howa khoon tha phir kuch deer aisy hi raky rahy ab naida k dard main kami aayi aur wo phir say uth k beth gae aur mera lun aik dfa bahir nikala aur phir apny ander liya .....OOOOOOOOOOOOOOOOOOOOOOOOOOOOhhhhhhhhhhhhh hhhhhhhhhhhhhhuuuooooooooooohhhhhhhhhhhhhhhhhhhhoo oooooooooooonnnnnnnnnnnnnnn ki awz main siski ab wo wo lun pay bethi oper neechy ho rahi thi aaaaaaaaaah uuuum ooh ssssss aabiiii aaj mujhy apni banhoo main lay kar itna chodooo k main mar jaon aaaaaaaaah ab ussy maza aany laga tha aur main nay ab ussy apny neechy kar liya aur zoor zoor say dhaky marny laga mera lun to kunwari choot ka ras piker aur mast aour mota ho raha tha...... wo to choot ke ander mast hoker jhatkey mar raha tha.. .Lun ki akar bata rahi thi ki usne choot per jeet hashil kar li hai......main ne Lun ki akar ko bhanp kar nadia per apni pakar aur mazboot ki.......hontho ko muh main liya..... aur or zordhar dhakky lagany laga nadia ki chiekhein aabii ke muh main hi sama gayi........uski chatptaht... . meri mazboot bahoon main dab kar rah gayi........nadia ki chuchiyaa aabii ki chati ke nichey masli jaa rahi thien.......aur mery Lun ne nadia ki choot ke puri gahrai ko nap liya tha......Lun ki topi ....nadia ki bachcydani ko choo rahi thi.......nadia chatpata rahi thi...ankho se pani beh raha tha......aur main uske hontho ka ras peeney main mast tha.....issi tarah lagbhag 10-15 minuts guzar gayee.... ab nadia ka dard kuch kam ho raha tha.....uski ukhari sansein phir garam hooney lagi thien......meri bahoon ki pakar bhi kuch dheeli parhny lagi thi. naida ki dardili chikhein ab siskariyon main badalne lagi thi......uuuuuuueeeeeeeeemmmmmmm aaaaaaahhhhhhhhhhh ssssssssshhhhhhhhhhhaaaaaaaasssssssss mmmmmaaaaarrrrrrr hhhhhiiii ddddaaaaaalllllaaaaaaaaaa.....aaaaaaaaaahhhhhhhhhh hhhhh........... Ab ke main hontho ko chhor kar nadia ki chuchiyoon per aaa chukka tha..... masti main chuchiya masal masal kar doodh pee raha tha.........naida k jism se khel raha tha.....nadia ka dard meethi uttejana main badalne laga tha.....aour ab naida ki choot ne paani chorna shuru kar diya.......nadia k haath dheere dheere ab meri kamar per aane lage they........nadia ab apne chutar hila hila k .mera saath deny lagi.............nadia ki choot ki meethi payaas jagney lagi.......choot kuch hi der pehly ke dard ko bhulkar....Lun ko apni deewaro main dabane lagi......ye kaisa ehsaas......dard ki chikhein ab mazy ki meethi siskariyo main badalne lagi thi meri kamar per nadia ki bahoon ka barhta dabao.....mujhy aur maza dey raha tha.....Lun ke, ander bahar ki rafter badhane lagi thi........kamry main ab nadia ki siskaria gonjney lagi thi.........aaaaaaaaaaaahhhhhhhhhhh uuuuuuummmmmmmmmmmhhhhhhh aabii.....mere aabiiii.....aur zor se.....aaaaaaaaaahhhhhhh ha......eaise hi.......uuuuummmmmmm aaaaahhhhhh ki dhun per mery Lun ki rafter barhti hi ja rahi thi..........chudai ka sangeet room main goojney laga tha.......mery Lun ki speed ke saath nadia ke chutor uchalne ki sapeed bhi barh rahi thi....ab naida pura chudai ka maza le rahi thi bhool chuki thi us dard ko......ab to mery Lun ko aur ander tak lene lagi thi....... jaisey hi mery lun ka topa ander jakar bachydani per thokar marta naida ki meethi siskari nikal jaati....uuuuuummmmmmmmaaaaaaaaahhhhhhhhhh.......chootaur Lun ki jung mujhy aur nadia ko mazy ki wadiyoo,n ki sayyer kara rahi thi.......nadia ki bechani ab inthaa per pahunch chuki thi...uske badan main ajib sa khichaoo ...tha...sara badn.masti main choor..aur........ankhein band hoony lagi.....sikariya lambi hoone lagi......aabiiiiii...aaaaaaaahhhhhhhhh.....uuuuummmmm ye main kahan jaa rahi hoon .................................................. .............................................. aabiii.......uuuummm aaaaah main maar gaiii aaaahhhhhhhhhhhhh aur nadia apne pehley (jharne) ki aur...... eka ek nadia ne mujh ko bahoon main jakar kiya aur zoor se.....sssshhhhaaaaasssss uuuummmmmmmaaaaaaaa mmaaaiiin gaaiiieeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeee..aur uski choot se garam pani ke fouware mery Lun per girey.....thabhi mery Lun ne bhi paani chorna shuru kar diya......gram-gram pani (gum) ki kai pichakarin nadia ki choot main choor dien jo sidhey bachydani per giri.....nadia ne aur zoor se mujh ko daboch liya.........main bhi uuuuuuuuuuuuuuuuuuuuummmmmmmmmmaaaaaaaahhhhhhhhhhh hhaaaalllllllllllllllllllleeeeeeeeeeeeeeeeeee ki awaj ke saath jhad gaya... ek dusre ko bahoon main jakrey.....nadia aour main ......lambi sanse.....ankhein band......dono...dur-bahut door...mazy ki wadiyoon ki sayer per......ek dusrey ko pyaar se bhanchty huwy..........kitni hi der tak.....aisy hi.......saari duniya se bekhaber......lagbhag 15 minuts tak aisy hi...ek dosrey ki bahoon main........phir lotay issi duniya main.....nadia ne mery . honth chum liye aur apna chehra mery seeny main chupa liya....... main... ne nadia ka chehra apney haathon main liya aur upper kiya......aur nadii ke honth chum kar...dheerey se bola........ nadia tumhari choot to bahut hi tight thi....maza aa gaya......aaj pure yaqeen ke saath kah reha hoon aaj pahli dafa mazy ki wadiyo ki bharpor sayyer ki hai......aaj pehli baar entna maza aaya...??????????? kah nahi sakta......man karta hai tujhe to bas choodta hi jaoo.....mera Lun abhi tak nadia ki tight choot main hi phansa huwa tha.........nadia...to mana kisne kiya hai......????? main nay kaha...kaya matlab hai...???? nadia boli ...aap ney hi to kaha hai....ki dil karta hai tujhey to bas choodta hi joo. ..????? main nay aab phir say ussy chomna shoro kar diya wo mery oper aa gae ab aur mery honto ko chosny lagi main uss k mammy apny mun main lay ker uss ki chochiyan chosny laga aur halky halky katny laga ab wo ful garm hao gae thi aur mera lun bhi ab phir say full tarang main aa giya ab nadia nay mera lun apni choot ke ander lena shuru kar diya mughe aisa lag raha tha jaisy koi lun ko daba daba kar ander le raha ho nadia ki geeli choot main mera lun ahista ahista ja raha tha aur meri jan nikalti ja rahi thi jab nadia ne poora lun ander le kar choot ko dabaya to mughe aisa laga jaise nadia ki choot ke ander bhi aik soorakh ahi jis main mairy lun ki toopi ghus gai ho main ne jhatke khane shuru kar diy nadia mery uper lait gai apni taangain lanbi kar ke mughe apni grift main le kar hilna shuru kar diya nadia ka poora jism nhi hil raha tha sirf choot mery lun ko ander bahir kar rahi thi uffffffffffffffff itna maza mughe zindgi main kabhi nahi aya nadia mughe hilne bhi nahi de rahii thii mughe aisa lag raha tha jaise uss ki choot mery lun ko choose rahi ho ohhhhhhhhhh nadia ne mery hath pakar kar mery sar ke peeche kar diye aur apne honth mery hontoo per rakh kar apni zuban mery moo main dal di main paglon ki tarha nadia ki zuban choosne laga nadia ki choot ne mery lun ko bohat taiz taiz choosna shuru kar dia nadia ne ahista se apni taangain samaitin aur mery lun per baith gaein phir nadia ne itni zor zor se jhatkey marna shuru kar diye ke bed hilan shuru ho gya nadia out of control ho gai thiii aaaaaaaah ooooooh abiiiiiiiii jaan emand lov uuuu aaaaaaaaaah wo itni zor zor se jhatkey mar rahi thiii ke un ke mon sey betuki awazain nikal rahi thein ufffff main ap ko bata nahi sakta k nadia ki choot kitni tight ho gai thi nadia mera pura lun bahir nikal rahi thiii aur aik jhatkey se poora ander latiiii thori dair ke bad nadia ne cheekhna shuru kar diya wo itni unchi awaz main cheekh rahi thiii ke ap soch bhi nahi saktey aabiii I love you I love you nadia mugh sey iss tarha liptiii ke main bata nahi sakta unho ne apna mon meri gargan main chupa diya uss ki choot ne mery lun ko full dabaya howa tha aur wo mugh se lipti hoi thiii uss ka saans bohat taiz ho gya tha nadia ne kaha aabii mery uper a kar mughey jitney zor laga saktey ho jhatkey maro main ne nadia ki taangon ko utha kar apna lun uss ki choot main dala aur jhatkey marney shuru kiye... .aaahhhhhh hhhhh aabiii...............aaaahhhhhhh ohhhhhhh oeeeeei ssssssssssss januuuuuuuuu aaaaaaaaaaaah bohat maza aaraha hai aisy hi mujhy choodthy rahooooo aaaaaaaaaaaaaaah ooooiiiiii aabiiiii main tum kooooooobohat piyaaar kartiiiiii haon mujhy baaaari khushiiiii hai tum nay sub say ziayda mera khiyaal kiyaaa aaaaaaaaah aabiiiiiiii ssssssssss cheekhna shuru kar diya aabii pls aur zor se aur zur se main poori taqat se jhatkey mar raha tha nadia mery sath lipat gaein hum doono aik doosre ke sath lipat gay nadia ne mughey apni tango main daba liya nadia aik dafa phir farigh ho gaiii main ney nadia ko kissing shuru ki nadia kehne lagiiii tum bohat zalim ho to main ne kaha abhi to sub kuch tum ne kiya hai main ny kuch bhi nahi kiya to nadia ne dubara mery lun ko choosna shuru kar diya main ne kaha nadiawo boli janu main ab issy choos choos k fairgh kar dun gae mujhy say aur bardasht nahi hota app ka bohat bara hai lun mera sara badan dukh raha hai nadia ne mazbooti se mery lun ko pakar liya aur choosna shuru kar diya main nadia ke sar ko daba raha tha nadia mera lun apne mun main le rahii thii main ab jharny wala ho gaya lakin nadia ne mera lun nahi chorha aur us waqat tak mera lun chosti rahiii jub tak sara lun khali nahi ho gya nadia is tarha choose choose kar mera lun pe rahi thiii ke ap soch bhi nahi sakte jub mera lun un ke moo main dheela ho gya to uss ne mera lun chorha aur kaha aabii tumhara lun bohat payara hai , iss liye main nay apny aabii k pani ka aik qatra nahi neechy girny diya aur uth k wash room ki taf chali gae wo apna mun dhooo kar aayei aur mujhy aik kiss kar k kaha jany ab main jaon main nay kaha haanjanu ab app jao so jao aur wo chali gae main bhi ab utha aur achy say ghusal kar k late giya...1 like