Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 12/03/23 in Posts

  1. توجہ فرمائیں!۔ کہاوت ہے کہ ایک مچھلی سارے تالاب کو گندہ کرتی ہے ۔ اور یہ کہاوت فورم کے موجودہ حالات پر فٹ ہوتی ہے ۔اردو فن کلب 2008 سے 2023 تقریبا 15 سال سے اپنے ممبرز کو بلا تعطل اپنی سروس فراہم کرتا آیا ہے ۔ اور مزید بھی پر عزم ہے۔ ہماری اب تک کی فورم پالیسی میں ہماری اولین ترجیع ممبر کی پرائیویسی کو محفوظ رکھنا تھا ۔ جس وجہ سے ہم نے آج تک کسی بھی ممبر کا ریکارڈ نہیں رکھا تھا ۔ یہاں تک کہ ممبرز کے لاگ ان لاگز اور آئی پیز بھی ایک مخصوص وقت کے بعد سسٹم سے آٹو ختم کر دیئے جاتے تھے ۔ تاکہ فورم ممبرز کو فول پروف پرائیویسی میسر رہے ۔ اس بات کا فائیدہ بہت سی گندی مچھلیوں نے اٹھایا ۔ اور اب تک وہ اسی بات کا فائیدہ اٹھاتے آ رہے ہیں ۔ کیونکہ ہم نے خود ہی ہر قسم کے لاگز وغیرہ کو سسٹم سے ڈیلیٹ کرنے کا سسٹم رکھا تھا ۔ جس وجہ سے یہ چور ممبرز بچتے رہے ۔ اور اگر ان کو کسی طر ح ٹریک کر کے بین کر دیا جاتا ۔تو یہ نیو آئی ڈی سے دوبارہ رجسٹرڈ ہوتے ۔ اور ہماری پرائیویسی فیور کا پھر سے فائیدہ اٹھانے لگتے ۔ کسی بھی سائیٹ کا ایندھن اس کا ڈیٹا ہوتا ہے ۔ جس وجہ سے وہ چلتی ہے ۔ اور ہمارے فورم کا ایندھن رائٹرز ہیں ۔ وہ جتنا کچھ یہاں لکھتے ہیں اس سے ہم اس سائیٹ کو بھی مینج کرتے ہیں اور آپ ممبران کی تفریح بھی ہوتی ہے ۔ اور سابقہ کچھ سالوں سے مسلسل اس سائیٹ کا ڈیٹا مختلف گروپس میں سیل ہونے لگا ہے ۔ جس پر کافی رائٹرز دل برداشتہ ہو کر لکھنا ہی چھوڑ گئے ۔ رائٹرز کی مسلسل یہی شکایت رہی کہ ہم صرف اس سائیٹ پر لکھتے ہیں اور ہمارا ڈیٹا مختلف گروپس اور فیس بک پر دوسرے ممبرز کے نام سے پوسٹ ہوتا رہتا ہے ۔ محنت ہم کرتے ہیں نام کسی اور کا ہوتا ہے ۔ وہ یہاں فری لکھتے ہیں اور یہاں کے ممبرز ان کی کہانیوں کو چوری کر کے پیسے کما رہے ہیں ۔ الہذا وہ اب مزید نہیں لکھیں گے ۔ اور اس طرح ایک کے بعد ایک رائٹرز ہمارا فورم چھوڑتے گئے ۔ یا پھر انہوں نے لکھنا ہی چھوڑ دیا۔ ہم نے وقت کے ساتھ ساتھ کچھ سختیاں بھی کیں ۔ ممبرشپ سسٹم میں بھی تبدیلی کی ۔ کچھ رولز بھی تبدیل کیئے ۔ اور بہت سے پریمیم ڈیٹا چور ممبرز کو بین بھی کیا ۔ جس سے پریمیم ڈیٹا کی چوری میں کافی حد تک کمی واقع ہوئی ۔ مگرجو رائٹرز اپنے ناولز فری سیکشن میں پوسٹ کرتے ہیں اور ہمارے جتنے بھی ناولز فری سیکشن میں پوسٹ ہیں اس کی چوری مسلسل جاری ہے ۔اور کچھ ممبرز نے تو یہاں سے ڈیٹا چوری کر کے فورمز تک بنا لیئے ہیں ۔ جن پر موجود تمام ڈیٹا یہاں سے کاپی شدہ ہے۔ اس وقت ہمارے فورم پر 4 سے 5 رائٹرز موجود ہیں ۔ جن میں مرزا صاحب اور دوسرے کچھ رائٹرز دوست شامل ہیں ۔ کچھ دن پہلے مرزا صاحب نے بھی لکھنے سے معذرت کر لی ۔ اور اس کی مین وجہ بھی یہی تھی جو کہ اوپر بیان کی جا چکی ہے ۔ جیسے سائیٹ کا ایندھن رائٹرز ہیں۔ ویسے ہی رائٹرز کا ایندھن تعریف اور کمنٹس ہیں ۔ کوئی بھی رائٹر یا تو پیسوں کے لیئے یا پھر تعریف اور ستائش کے لیئے لکھتا ہے۔اور ابھی تک یہ سب رائٹرز بلا معاوضہ اپنی خدمات فورم پر ادا کر رہے ہیں ۔ اور ان کی شکایت بالکل جائز ہے ۔ نہ ان کو یہاں سراہا جا رہا ہے ۔ بلکہ ان کی محنت کو چوری کر کے مختلف گروپس پیسے کما رہے ہیں ۔ جس سے ان رائٹر زکی حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے ۔اور سائیٹ کو نقصان کے ساتھ ساتھ فورم کے ممبرز کو بھی ان رائٹرز سے محروم کیا جا رہا ہے ۔ ان سب معاملات کو دیکھتے ہوئے ہمیں اپنے رولز مزید سخت کرنے پڑ رہے ہیں ۔ ہم جانتے ہیں کہ چند ممبران کی وجہ سے ہمارے ہزاروں ممبرز مشکل کا شکار ہیں اور ان کو ان سخت رولز سے بہت مشکلات کا سامنا ہے ۔ اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ کسی بھی قسم کے ڈیٹا کو سو فیصد چوری سے محفوظ نہیں کیا جا سکتا ۔ مگر اس کے لیئے کوشش ضرور کی جا سکتی ہے ۔اور اس کے لیئے ہم اپنی پرائیویسی پالیسی میں مزید چند تبدیلیاں کر رہے ہیں ۔ یہاں یہ بات واضح ہے کہ ان تبدیلیوں کے باوجود بھی تمام ممبرز کی انفارمیشن صرف اور صرف ایڈمن تک محدود رہے گی ۔ اور فورم پر صرف اسی ممبر کو شو ہو گی جس نے اسے درج کیا ہو گا ۔اس بات کا تجربہ اس طرح سے کیا جا سکتا ہے کہ کوئی بھی ممبر کسی بھی دوسرے ممبر کی پروفائل وزٹ کر کے دیکھ سکتا ہے ۔ جو انفارمیشن اس ممبر کی اسے شو ہو گی ۔ اس کی پروفائل کی بھی وہی انفارمیشن دوسرے ممبرز دیکھ سکیں گے۔ فی الحال ہم نے تمام اکاؤنٹس پر درست موبائل نمبر ، وٹس اپ نمبر اور درست فیس بک لنک کی پابندی لگائی ہے ۔اگر ہمیں مزید کسی انفارمیشن کی ضرورت محسوس ہوئی تو ہم وہ بھی ضرور ایڈ کروائیں گے ۔ اور اس رولز کے لاگو کرنے پر تقریبا 80 پرسنٹ ممبرز نے اپنی انفارمیشن ایڈ کر دی ہے ۔ جس کو ویری فائی بھی کیا جائے گا ۔ 15 پرسنٹ ممبرز ابھی فورم وزٹ نہیں کر سکے ۔ اور 5 پرسنٹ ممبرز نے اس بات پر اعتراض اٹھایا ہے ۔اور مختلف بہانے شو کیئے ہیں ۔ ہم نے ان 5 پرسنٹ ممبرز کو نوٹ کر لیا ہے ۔ جو اپنی انفارمیشن ایڈ کرنے میں حیل حجت کر رہے ہیں ۔ کچھ نے آج تک فیس بک اکاؤنٹ رکھا ہی نہیں اور کچھ کو فیس بک اکاؤنٹ بنانا ہی نہیں آتا ۔ کچھ ایسے ہی گھسےپٹے بہانے ہمیں سننے کو مل رہے ہیں۔1 مارچ تک سب ممبرز اپنی انفارمیشن ایڈ کر سکیں گے اس کے بعدکسی بھی ممبرکے پاس یہ آپشن نہ ہو گی۔ کچھ ممبرز پرائیویسی کو لے کر بہت ایموشنل بحث کرتے ہیں ۔ میرا ان سے سوال ہے کہ ان کے موبائل میں موجود کون سی ایپ ہے جو اس ممبر کی لوکیشن ،سرچ ہسٹری ،فون بک، اور گیلری ، کو دیکھنے کی اجازت نہیں رکھتی ۔ اور بہت سی ایپ ان ممبرز کا ڈیٹا اسکین بھی کرتی ہیں اور ان کو استعمال بھی کرتی ہیں ۔ اور اس بات کی اجازت ان کو ڈاؤنلوڈ کرنے والے ممبرز خود دیتے ہیں ۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس کے بغیر ان کے پاس کوئی چارہ نہیں ۔ اور ایسے ممبرز صرف تجربات اور نئی غیرمعروف ایپ کی ٹیسٹنگ میں ہی اپنا بہت سا قیمتی ڈیٹا ان ایپ سرور کے حوالے کر دیتے ہیں ۔ جبکہ یہاں ایسا کچھ بھی نہیں کیا جا رہا ۔ اور صرف اور صرف فورم کے ڈیٹا اور ماحول کی حفاظت کے لیئے کچھ انفارمیشن کو ضروری کیا گیا ہے۔ بہت سے ممبرز کا یہ سوال ہو گا کہ اس سے کیا فائیدہ ہو سکتا ہے ۔یا کچھ ممبرز اب بھی غلط انفارمیشن یا کسی بھی دوسرے ممبر کی فیس بک پروفائل کا لنک ایڈ کر سکتے ہیں ۔وغیرہ وغیرہ۔ ہم فورم کے تمام اکاؤنٹس کو موبائل نمبر سے لنک کرنے جا رہے ہیں ۔ ممبر کے موبائل نمبر کی تصدیق ۔او ٹی پی۔میسج سے کی جائے گی ۔ اور ممبرز کی فیس بک پروفائل کی تصدیق ان کے تصدیقی موبائل نمبر کو ان کی پروفائل میں چیک کر کے کی جائے گی۔اورتصدیقی موبائل نمبر کو بھی دوبارہ رینڈملی کچھ عرصہ میں چیک کیا جاتا رہے گا ۔پاسورڈ بھولنے پر صرف اسی نمبر پر پاسورڈ مہیا کیا جائے گا۔اور مزید بھی کچھ سسٹم کے معاملات ممبرز کے موبائل نمبر سے لنک ہوں گے۔ جوجو ممبرز ابھی بھی درست انفارمیشن درج نہیں کریں گے ۔ یا پروفائل بائے پاس کریں گے۔ان کے اکاؤنٹ کو لمیٹڈ کر دیا جائے گا ۔ ہم ویری فائیڈ ممبرز کے لیئے ایک اسپیشل سیکشن بھی بنا رہے ہیں ۔ جس میں کوالٹی ان پیج کی سٹوریز ہوں گی ۔ اور اس کی کوئی فیس نہیں ہو گی ۔اور صرف ویری فائیڈ ممبرز اس سیکشن کو وزٹ کر سکیں گے ۔جو پریمیم ممبرز اپنی پروفائل ویری فائیڈ نہیں کروائیں گے ۔ ہم ان کی ممبرشپ کی ایکسپائری ڈیٹ تک ان کے اکاؤنٹ کو بحال رکھیں گے ۔ اور ممبرشپ ایکسپائری کے بعد ان کی ممبرشپ کی تجدید اپروول نہیں کی جائے گی۔ بہت سے ممبرز اکثر اس بات کا شکوہ کرتے رہتے ہیں کہ کوئی کہانی مکمل نہیں کی جاتی ۔اور لکھنے والے اسے بیچ میں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں ۔ اس بارے میں ہم کچھ ورکنگ کر رہے ہیں جس کے بعد ہر مکمل کہانی لکھنے والے رائٹر کو کہانی مکمل ہونے پر فورم کی طرف سے باقاعدہ ادائیگی بھی کی جائے گی ۔ اور اسے ایوارڈز اور پوائنٹس بھی دیئے جائیں گے ۔ جو فورم پر اس کے بہت کام آئیں گے۔اور نئے لکھنے والوں کو بھی لکھنے کا حوصلہ ہو گا۔اور مالی فائیدہ بھی حاصل ہو گا۔ مزید انفارمیشن اسی تھریڈ میں اپڈیٹ کی جاتی رہیں گی ۔کسی بھی تجویز کے لیئے رپلائی کریں اور تھریڈ لائک ضرور کریں ۔ شکریہ
  2. Moderator means ???
  3. وہ نوکرانی نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری ماں تھی کبھی یوں ہوتا ہے کہ وقت اور آدمی چلتے چلتے بہت آگے نکل جاتے ہیں مگر زندگی اور احساسِ زندگی بہت پیچھے رہ جاتے ہیں اور ایسا عموماً کسی اپنے کے کھو جانے پر ہوتا ہے۔۔۔ ایک دن میں اور زاہد صاحب آفس کینٹین پر بیٹھے چائے پی رہے تھے کہ میں نے ان کے ہمہ وقت کے بجھے بجھے سے رویے کی وجہ پوچھی۔ وہ کہنے لگے ’’مجھے آج مرے ہوئے تین سال ہو گئے‘‘میں نے نظریں اٹھا کر ان کی آنکھوں میں دیکھا جہاں اس جملے کے ساتھ ہی دنیا بھر کی نقاہت اتر آئی تھی۔۔۔ پھر کہنے لگے ’’میں ہمیشہ سے بد تمیز رہا ہوں۔ بچپن میں سکول جاتے ہوئے ضد، کھانا کھاتے ہوئے نخرے، وہ نہیں یہ کھانا ہے، یہ نہیں وہ کھانا ہے۔۔۔ مجھے نہیں یاد کہ پانچویں کلاس تک میں نے اپنے ہاتھ سے نہایا، کھانا کھایا، کپڑے پہنے یا جوتوں کے تسمے بند کیے ہوں۔ باپ کا تو مجھے صرف نام ہی ملا۔ نہ کبھی اس کی صورت دیکھی اور نہ پیار۔ بھائی کا سہارا کیا ہوتا ہے اور بہن کی محبت کیا ہوتی ہے کچھ معلوم نہیں۔ پرائمری، مڈل اور پھر میٹرک تک یہی عادت رہی کہ رات کو سونے سے پہلے کتابیں، کاپیاں، بستہ غرض تمام چیزیں ادھر ادھر بکھری چھوڑ کر سو جاتا تھا مگر صبح آنکھ کھلتے ہی دیکھتا کہ تمام چیزیں بہت سلیقے سے بستے میں پڑی ہیں اور بستہ بڑی نفاست سے میز پر پڑا ہے۔ مجھے لاکھ بار کہا جاتا کہ دودھ پی کر سونا مگر میں نہیں پیتا تھا۔ لیکن جب صبح اٹھتا تولب شیریں اور منھ کا ذائقہ بدلا ہوتا۔ پہلے پہل تو پتہ نہیں چلتا تھا مگر آہستہ آہستہ پتہ چل گیا کہ رات کو نیند میں ہی دودھ پلا دیا جاتا ہے۔ رات کو کبھی آنکھ کھلتی تو دیکھتا کہ بارش ہو رہی ہے اور مجھ پر کمبل ڈال دیا گیا ہے کہ سردی نہ لگے۔ مجھے ہمیشہ گھر میں دو ہی چیزوں سے چڑ رہی۔۔۔ ایک 11 سے 13 گھنٹے تک ہاتھ سے چلائی جانے والی سلائی مشین سےاور دوسری روٹی کے کناروں سے کہ ان پر اکثر گھی لگنے سے رہ جاتا تھا مگر روٹی کے وہ سوکھے ٹکڑے جو میں اتار دیتا تھا نہ تو کبھی گھر سے باہر فروخت ہوتے دیکھے اور نہ ہی کوڑا دان میں کبھی نظر آئے۔ اور جب بھی مجھے پیسے چاہیے ہوتے تو میں اسی سلائی مشین کا رخ کرتا جس سے مجھے چڑ تھی۔ جب بھی مجھے کبھی معمول سے ہٹ کر زیادہ پیسوں کی ضرورت ہوتی تو دیکھتا کہ گھر میں سلائی مشین کے چلنے دورانیہ 16 گھنٹے تک جا پہنچا ہے۔ مجھے یاد ہے کالج میں داخلہ کے وقت مجھے 1500 روپیہ چاہیے تھا، میں نے گھر آ کر بتا دیا۔ اُسی رات 2 بجے کے قریب میری آنکھ کھلی تو گھر کے برآمدے میں کچھ کھٹ پٹ ہوتی محسوس ہوئی ذرا مزید غور کرنے پر یہ بھی محسوس ہوا کہ جیسے کوئی گھٹی گھٹی سسکیوں کے ساتھ رو رہا ہو۔ چپکے سے برآمدے میں جا کر دیکھا تو موٹے شیشے کا چشمہ لگائے میری ماں جانے کب مشین میں دھاگہ ڈالنے کی مسلسل کوشش کر رہی ہے اور ساتھ ساتھ آنسو بھی گر رہے ہیں۔ میں نے پوچھا: کیا کر رہی ہے ماں؟؟؟ ماں نے چونک کر میری طرف دیکھا اور جلدی سے آنسو صاف کرتے ہوئےاور چہرے پر مسکراہٹ سجاتے ہوئے بالکل صاف آواز میں کہنے لگی۔۔۔ وہ سامنے والی ثریا کے بھائی کی شادی ہے تو اس نے کہا کہ صبح تک دو سوٹ سلائی کردو اس لئے بیٹھی ہوں لیکن دھاگا سوئی میں نہیں ڈل رہا۔۔۔ اس دن مجھے ماں کی حالت اور آنسو دیکھ کر احساس ہوا کہ مجھے کوئی چھوٹا موٹا کام کرنا چاہیے۔۔۔ میں مناسب کام بھی ڈھونڈتا رہا اور پڑھتا بھی رہا۔ اُدھر ایف۔اے مکمل ہوا اور ادھر آفس میں کام مل گیا۔ میں نے گھر جا کر ماں کو بتایا تو وہ خوشی سے نہال ہوگئی۔ فوری شکر پارے لا کر محلے میں بانٹے۔ ایک دن میں کام سے گھر آ کر لیٹ گیا۔ تھوڑی تھکاوٹ ہو رہی تھی۔ پاؤں چارپائی سے لٹکائے ہی سو گیا۔ جب اٹھا تو دیکھا کہ خلاف معمول آج نہ جوتے میرے پاؤں سے اترے تھے اور نہ ہی کھانا بنا تھا۔ ماں کو آواز دی: ’’ماں، ماں ، ماں اٹھ بھوک لگی ہے، ماں ں ں ں‘‘ چیخ چیخ کر رویا، ہزار منتیں او ر ترلے کیے مگر شاید ماں اب کی بار اٹھنے کے لئے نہیں سوئی تھی۔ ماں کے بعد وہ گھر چھوڑ دیا۔ قبرستان لگتا تھا۔ ادھر دیارِ غیر میں آ کر میں اپنا سارا کام خود کرتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ میں نے کبھی جس کی خدمت نہ کی اور نہ کبھی آسائش و سکوں دیا ’’وہ میری ماں تھی نوکرانی نہیں تھی‘‘ یہ کہتے ہوئے زاہد کے دو موٹے موٹے آنسو رخساروں پر بہہ گئے۔ اللہ تعالیٰ میرے اور جس کے بھی والدین حیات ہیں سب کے والدین کو ایمان و صحت کے ساتھ خوش رکھے۔ اور جن کے والدین وفات پا گئے اللہ تعالی ان کو صبر دے اور ان کے والدین کی مغفرت فرمائے۔ آمین نوٹ ! یہ مضمون انٹر نیٹ سے لیا گیا ہے۔
  4. سمندرکِنارےایک درخت تھا جس پہ چڑیا کا گھونسلا تھا ایک دن تیز ہوا چلی تو چڑیا کا بچہ سمندر میں گرگیا چڑیا بچے کو نکالنے لگی تو اُسکے اپنے پر گیلے ہوگئے اور وہ لڑکھڑا گئی اُس نے سمندر سے کہا اپنی لہر سے میرا بچہ باہر پھنک دے مگر سمندر نہ مانا تو چڑیابولی دیکھ میں تیرا سارا پانی پی جاوُں گی تجھے ریگستان بنا دونگی... سمندراپنے غرور میں گرجا کہ اے چڑیا میں چاہوں تو ساری دنیا کو غرق کردوں تو تو میرا کیا بگاڑ سکتی ہے؟ چڑیا نے اتنا سُنا تو بولی چل پھرخشک ہونے کو تیار ہوجا اسی کےساتھ اُس نےایک گھونٹ بھرا اُوراڑ کےدرخت پہ بیٹھی پھرآئی گھونٹ بھراپھردرخت پہ بیٹھی یہی عمل اُس نے7-8 بار دُھرایا تو سمندر گھبرا کے بولا: پاگل ہوگئی ہےکیا کیوں مجھےختم کرنےلگی ہے ؟ مگرچڑیااپنی دھن میں یہ عمل بار بار کر رہی تھی سمندرنےایک زور کی لہرماری اورچڑیا کے بچے کو باہر پھینک دیا درخت جو کافی دیر سے یہ سب دیکھ رہا تھا سمندرسےبولا اے طاقت کےبادشاہ تو جو ساری دُنیا کو پل بھر میں غرق کر سکتا ہےاس کمزور سی چڑیا سےڈرگیا یہ سمجھ نہیں آئی ؟ سمندربولا تو کیا سجھا میں جو تجھےایک پل میں اُکھاڑ سکتاہوں اک پل میں دُنیا تباہ کرسکتا ہوں اس چڑیاسے ڈرونگا؟ نہیں میں تواس ایک ماں سےڈرا ہوں ماں کےجذبے سے ڈرا ہوں اک ماں کے سامنے توعرش ہل جاتا ہے تو میری کیا مجال جس طرح وہ مجھےپی رہی تھی مجھےلگا کہ وہ مجھےریگستان بنا ہی دےگی ماں " اللہ پاک " کی سب سے عظیم نعمت ہے .. اس کی قدر کریں .. اللہ پاک سے دعاء ہے کہ وہ ھمیں اپنے والدین کی خدمت کی توفیق عطاء فرمائے ( آمین )
  5. نوجوان لڑکے اور لڑکی کا اپنے والدین کی آنکھوں میں دھول جھونک کر تنہائی میں ملناآج کی جدید اصطلاح میں Dating اور ''ڈیٹ مارنا''کہلاتا ہے۔ ڈیٹنگ کا یہ رُجحان سب سے زیادہ ہمارے تعلیمی اداروں(یونیورسٹی' کالج'حتیٰ کہ سکول)کے نوجوان اور نوعمر لڑکے لڑکیوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ لڑکے اورلڑکیاں گھروں سے اپنے تعلیمی اداروں کے لیے نکلتے ہیں لیکن وہاں جانے کے بجائے اپنے نام نہاد عاشقوں اور محبوباؤں کے ساتھ ڈیٹ مارنے چلے جاتے ہیں اور گھر والوں کو کسی قسم کا کوئی شک تک نہیں ہوتا۔ ڈیٹنگ کے ابتدائی چند دن کسی پارک میں درختوں یاجھاڑیوں کی اوٹ میں گزرتے ہیں جہاں یہ نوجوان جوڑے سرعام بوس وکنارکرتے اور بہت ہی نازیبا حرکات کرتے ہیں۔لاہور میں ڈیٹنگ کے لیے تین پارک سرفہرست ہیں ۱)باغِ جناح' (۲)ماڈل ٹاؤن سنٹرل پارک'اور (۳) ریس کورس پارک۔ جب میں ماڈل ٹاؤن پارک گیا تووہاں سینکڑوں کی تعداد میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ڈیٹ مارنے آئے ہوئے تھے 'جبکہ اُن میں سے بعض تو کالج اور سکول کے یونیفارم میں موجودتھے جو اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ یہ لوگ گھروں سے تعلیم حاصل کرنے کے لیے آئے ہیں۔ پارک میں موجود سیکیورٹی گارڈز سے جب میں نے اس بارے میں پوچھا تو اُن میں سے ایک نے بتایا کہ اس پارک کے ٹکٹ کا ٹھیکہ ایک کروڑ سالانہ میں ہوا ہے اور ہمیں سختی سے منع کیا گیا ہے کہ کسی کو بری سے بری حرکات پر بھی نہ روکا جائے۔اس لیے کہ اگر ان جوڑوں کو روکا گیا تو پھر یہاں کون آئے گا۔ایک مالی نے بتایا کہ یہاں ہر روز سینکڑوں کی تعداد میں سکول 'کالج اور یونیورسٹی کے سٹوڈنٹ آتے ہیں اور ایسی ایسی گندی حرکتیں کرتے ہیں کہ ہمیں شرم آجاتی ہے مگر وہ بے شرم سر عام اپنے ''پیار'' میں مصروف رہتے ہیں۔اُس کا کہنا تھا کہ یہاں جھاڑیوں کی اوٹ میں ہم نے بہت سے جوڑوں کو زنا تک کرتے دیکھا ہے۔ میں نے پوچھا: کیا لڑکیاں منع نہیں کرتیں۔ اُس نے کہا کہ بعض لڑکیاں تو خودلڑکوں کو گندی حرکات پر اُکساتی ہیں'جبکہ بعض نوعمر لڑکیاں پہلے پہل شرم دکھاتی ہیں اور لڑکوں کو ایسی حرکات سے منع کرتی ہیں 'مگر جولڑکا اُسے اتنی دور سے لے کر آیا اور اس نے اسے کھلایا پلایا ہوتا ہے تو وہ اپنی ہوس پوری کیے بغیر نہیں رہتا۔ ایسا ہی حال باغِ جناح اور ریس کورس پارک میں بھی دیکھنے کوملتاہے۔باغِ جناح میں تو چند ایک پہاڑیاں بھی موجود ہیں جو ڈیٹ پرآئے جوڑوں کے لیے کسی فائیوسٹار ہوٹل کے کمرے سے کم نہیں ہے اس لیے کہ یہاں انہیں مکمل تنہائی میسر آتی ہے اور انہیں کسی کا ڈر نہیں ہوتا۔ ڈیٹنگ کا دوسرا مرحلہ دل دہلا دینے والاہے۔غریب جوڑے اپنے کسی دوست کے گھر کا انتخاب کرتے ہیں جس کے گھر والے کسی تقریب وغیرہ میں گئے ہوتے ہیں'جبکہ امیر زیادہ تر ہوٹلوں اورجابجا موجود پرائیویٹ گیسٹ ہاؤس کا انتخاب کرتے ہیں۔اس طرح ان جوڑوں کو مکمل تنہائی میسر آتی ہے اور پھر یہ جوڑے وہ تعلق قائم کرلیتے ہیں جو میاں بیوی شادی کے بعد قائم کرتے ہیں۔شادی سے پہلے ایسے تعلق قائم کرنے کو ''زنا''سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اسلام میں اس کی سزاسو کوڑے ہیں۔ پاکستانی قانون میں بھی یہ ایک قابل سزا جرم ہے۔ ڈیٹنگ کے ظاہری نقصانات تو سب کے سامنے ہیں'جبکہ اس کا ایک بہت بھیانک نقصان ''بلیک میلنگ ''ہے۔یہ جوڑے جہاں ڈیٹ مارنے جاتے ہیں وہاں کی انتظامیہ خفیہ کیمروں سے اُن کی ویڈیو بنا لیتے ہیں۔اس سے وہ ان کو بلیک میل کرتے ہیں۔لڑکوں سے تو وہ رقم کا مطالبہ کرتے ہیں جبکہ لڑکیوں سے رقم کے ساتھ جنسی تعلقات کی خواہش کا اظہارکرتے ہیں۔اب یہ دونوں پولیس اور اپنے گھر والوں کے ڈر سے ان کے مطالبات ماننے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ابھی چند سال پہلے اسلام آباد ' کراچی او رپاکستان کے چند ایک اور بڑے شہروں میں انٹر نیٹ کلب کے کیبنوں میں ڈیٹنگ پر آئے ایسے ہی ہزاروں جوڑوں کی غیر اخلاقی ویڈیوز کے منظر عام پر آنے نے ایک تہلکہ مچا دیاتھا۔کئی لڑکیوں نے اس پر خودکشیاں کیں اور بہت سو کے گھر اُجڑے۔ اسی طرح ابھی پچھلے سال ویلنٹائن ڈے کے موقع پر کراچی کے آئس کریم پارلر پر ڈیٹ پرگئے سینکڑوں کی تعداد میں جوڑوں کی ویڈیوانتظامیہ نے بنا کر انتہائی مہنگے داموں گندی سائٹس کو نہ صرف بیچیں بلکہ اُن جوڑوں کو بلیک میل بھی کیا۔ بلیک میلنگ کادوسرا رخ یہ ہے کہ لڑکے خود سے اپنی محبوبہ کی ویڈیوبنالیتے ہیں۔بعض لڑکے تو یہ ویڈیو گندی سائٹس کو اچھی خاصی رقم کے بدلے بیچ دیتے ہیں اور اس طرح یہ اس لڑکی کی عزت پلک جھپکتے ساری دنیا میں نیلام ہوجاتی ہے۔جبکہ بعض لڑکے ان ویڈیوز سے لڑکیوں کو بلیک میل کرکے رقم بھی بٹورتے ہیں اور اپنی ہوس بھی پوری کرتے رہتے ہیں۔ایسے سینکڑوں واقعات اب تک میڈیا میں رپورٹ ہوچکے ہیں اور رپورٹ نہ ہونے والے واقعات کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ اس حوالے سے صرف ایک واقعہ ملاحظ ہو جس کو پڑھ کر شاید آپ کے بھی رونگٹھے کھڑے ہوجائیں گے۔ملتان کے ایک سکول کی نویں جماعت کی طالبہ کی موبائل پر ایک لڑکے سے دوستی ہوگئی۔انہوں نے ڈیٹ پرجانے کا پروگرام بنایا اور ایک پارک میں ملے۔جہاں لڑکے کے دوستوں نے اُن کی ویڈیو بنا لی۔چند دن بعد لڑکے نے ویڈیو دکھا کر اُسے اپنے دوست کے گھر بلاکر اپنی ہوس کا نشانہ بنایا اور اس کی ویڈیوبھی بنا لی۔ کچھ دن بعد لڑکے کا دل جب اُس لڑکی سے بھر گیا تو اُس نے وہ ویڈیو اپنے دوستوں کو دے دی۔پھر اس کے دوستوں نے باری باری اس معصوم لڑکی کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔درندگی کی انتہا دیکھئے کہ پندرہ سالہ بچی مسلسل چھ ماہ تک بیس لوگوں کے ہوس کا نشانہ بنتی رہی'لیکن اپنی او راپنے والدین کی عزت کی خاطر چپ چاپ سب سہتی رہی۔ اس کے بعد اُن درندوں نے وہ ویڈیولڑکی کے باپ کو دکھا کر تین لاکھ کا مطالبہ کیا ۔باپ نے پولیس کو اطلاع دی تو اُن میں سے تین ملزمان گرفتارہوگئے۔آپ سوچئے کہ یہ سب صرف ایک بار ڈیٹ مارنے کا نتیجہ ہے اور اب اُس لڑکی اور اس کے گھر والوں کے پاس جینے کا کون سا بہانا باقی ہے۔ ڈیٹنگ کے بے شمار نقصانات ہیں کہ کوئی بھی عقل وفہم رکھنے والا اور دوسروں کی بہن بیٹیوں کو اپنی بہن بیٹی سمجھنے والا انسان سوچ کر بھی کانپ اُٹھتا ہے۔ میری والدین اور بھائیوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنی بہن بیٹیوں پر نظر رکھیں' او رگاہے بگاہے ان کے موبائل کو چیک کرتے رہیں اس لیے کہ ڈیٹنگ کا یہ سارا کھیل موبائل کے سر پر ہی کھیلا جاتا ہے۔ لڑکیوں سے گزارش ہے کہ لڑکوں کی دوستی اور عشق کے چکروں میں آکر ڈیٹنگ پہ جانے کا خیال اپنے دل سے نکال دیں اور ملتان کی لڑکی کے واقعہ کو یاد رکھیں جو ایک ڈیٹ کی وجہ سے بیس لوگوں کے ہوس کا نشانہ بنی۔خدانخواستہ ایسا آپ کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔پھر یہ ضرور یاد رکھیں کہ ڈیٹ مارنے میں سب سے زیادہ نقصان لڑکی کا ہی ہوتا ہے اس لیے کہ اگر بلیک میلنگ نہ بھی ہو تب بھی لڑکی کی عزت اس ڈیٹنگ میں چلی جاتی ہے۔ آخر میں'میری تمام نوجوانوں سے گزارش ہے کہ کسی لڑکی کو اپنے جھوٹے پیار میں پھنسانے'اُسے اپنی ہوس کا نشانہ بنانے' بلیک میل کرنے یا اُس کی ویڈیو بنا کر انٹرنیٹ پر اَپ لوڈ کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچ لیں کہ کل کوآپ کی بہن'بیٹی کے ساتھ بھی ایسا ہوسکتا ہے۔اس بارے میں ہر ایک کو ضرور سوچنا چاہئے
  6. ایک عرض ایک حقیقت -------------------------------: اگر قارون کو بتا دیا جائے کہ آپکی جیب میں رکھا اے ٹی ایم کارڈ اس کے خزانوں کی ان چابیوں سے زیادہ مفید ہے جنہیں اس کے وقت کے طاقتور ترین انسان بھی اٹھانے سے عاجز تھے تو قارون پر کیا بیتے گی؟ اگر کسریٰ کو بتا دیا جائے کہ آپ کے گھر کی بیٹھک میں رکھا صوفہ اس کے تخت سے کہیں زیادہ آرام دہ ہے تو اس کے دل پر کیا گزرے گی؟ اور اگر قیصر روم کو بتا دیا جائے کہ اس کے غلام شتر مرغ کے پروں سے بنے جن پنکھوں سے اسے جیسی اور جتنی ہوا پہنچایا کرتے تھے آپ کے گھر کے درمیانہ سے سپلٹ اے سی کے ہزارویں حصے کے برابر بھی نہیں تھی تو اسے کیسا لگے گا؟ آپ اپنے پرانی سی کرولا کار لیکر ہلاکو خاں کے سامنے فراٹے بھرتے ہوئے گزر جائیے، کیا اب بھی اس کی اپنے گھوڑوں پر سواری کا تکبر اور نخوت برقرار رہی ہوگی؟ ہرقل خاص مٹی سے بنی صراحی سے ٹھنڈا پانی لیکر پیتا تھا تو دنیا اس کی اِس آسائش پر حسد کیا کرتی تھی۔ تو اگر اسے اپنے گھر کا کولر دکھا دے تو وہ کیا سوچے گا؟ خلیفہ منصور کے غلام اس کیلئے ٹھنڈے اور گرم پانی کو ملا کر غسل کا اہتمام کرتے تھے اور وہ اپنے آپ میں پھولا نہیں سمایا کرتا تھا، کیسا لگے گا اسے اگر وہ تیرے گھر میں بنی جاکوزی دیکھ لے تو؟ اونٹوں پر سوار ہو کر حج کیلئے گھر سے نکلتے تھے اور مہینوں میں پہنچتے تھے اور آج تو چاہے تو جہاز میں سوار چند گھنٹوں میں مکہ پہنچ سکتا ہے۔ مان لیجیئے کہ آپ بادشاہوں کی سی راحت میں ہی نہیں رہ رہے، مگر سچ یہ ہے کہ بادشاہ آپ جیسی راحت کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ کیا کیجیئے کہ آپ سے تو جب بھی ملیں آپ اپنے نصیب سے نالاں ہی نظر آتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے کہ آپ کی جتنی راحتیں اور وسعتیں بڑھ رہی ہیں آپ کا سینہ اتنا ہی تنگ ہوتا جا رہا ہے؟ شکر ادا کیجیئے خالق کی ان نعمتوں کا جن کا شمار بھی نہیں کیا جا سکتا، بقولہ تعالیٰ: ﴿اور کئی طرح کے لوگوں کو جو ہم نے دنیا کی زندگی میں آرائش کی چیزوں سے بہرہ مند کیا ہے تاکہ ان کی آزمائش کریں ان پر نگاہ نہ کرنا۔ اور تمہاری پروردگار کی (عطا فرمائی ہوئی) روزی بہت بہتر اور باقی رہنے والی ہے﴾طه: 131 * * ایک یاد دہانی جو سب سے پہلے میرے اپنے لیئے ہے۔ہم سب کو سمجھنے کی توفیق عطا ہو:آمین
  7. خواہشات سے بنا ہوا کشکول بادشاہ نے ایک درویش سے کہا۔۔ ” مانگو کیا مانگتے ہو؟" درویش نے اپنا کشکول آگے کردیا اور عاجزی سے بولا۔۔ ” حضور! صرف میرا کشکول بھر دیں۔۔" بادشاہ نے فوراً اپنے گلے کے ہار اتارے انگوٹھیاں اتاریں جیب سے سونے چاندی کی اشرفیاں نکالیں اور درویش کے کشکول میں ڈال دیں لیکن کشکول بڑا تھا اور مال و متاع کم ۔۔ لہٰزا اس نے فوراً خزانے کے انچارج کو بلایا۔۔ انچارج نے ہیرے جواہرات کی بوری لے کر حاضر ہوا‘ بادشاہ نے پوری بوری الٹ دی لیکن جوں جوں جواہرات کشکول میں گرتے گئے کشکول بڑا ہوتا گیا۔۔ یہاں تک کہ تمام جواہرات غائب ہوگئے۔۔ بادشاہ کو بے عزتی کا احساس ہوا اس نے خزانے کہ منہ کھول دیئے لیکن کشکول بھرنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔۔ خزانے کے بعد وزراء کی باری‘ اس کے بعد درباریوں اور تجوریوں کی باری آئی‘ لیکن کشکول خالی کا خالی رہا۔۔ ایک ایک کے کے سارا شہر خالی ہوگیا لیکن کشکول خالی رہا۔۔ آخر بادشاہ ہار گیا درویش جیت گیا۔ درویش نے کشکول بادشاہ کے سامنے الٹا‘ مسکرایا‘ سلام کیا اور واپس مڑ گیا‘ بادشاہ‘ درویش کے پیچھے بھاگا اور ہاتھ باندھ کر عرض کیا۔۔ ” حضور ! مجھے صرف اتنا بتادیں یہ کشکول کس چیز کا بنا ہوا ہے ؟" درویش مسکرایا۔۔ ” اے نادان ! یہ خواہشات سے بنا ہوا کشکول ہے‘ جسے صرف قبر کی مٹی بھر سکتی ہے۔
  8. بہت عمدہ --- ایک کھلی حقیقت جسے ہم سمجھنے کو تیا ر نہیں ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
  9. لیکن اس آرٹیکل میں انفارمیشن کی ان بنیادوں پر سوال اٹھایا گیا ہے جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ پاکستانی پورن سرچ کرنے میں نمبر ون ہیں میں نے خود گوگل ٹرینڈ میں جاکر مختلف کی ورڈ ٹرائی کیے ہیں --- ان تمام نتائج کو مضحکہ خیز ہی کہا جاسکتا ہے یہ تو بالکل نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا کہ پورن سرچ میں نمبر ون پاکستانی ہیں شاید برڈ سیکس سرچ کرنے میں ہیں ؟؟؟؟؟ اس سے زیادہ مضحکہ خیز بات کیا ہوگی یہاں ثابت یہ نہیں کرنا کہ پاکستانی پورن سرچ میں نمبر ون ہیں یا نہیں بلکہ دیکھنا یہ ہے کہ اگر نتائج اخذ کرنے والی بنیادیں ہی غلط ہیں --- تو اس پراپیگنڈا کو پھیلانے میں ہمارے میڈیا نے کتنی آسانی سے بغیر تحقیق کے بڑا حصہ ڈالا ہے ہم لوگ دنیا بھر میں اپنے آپ کو خود ہی بدنام کرنا اور دیکھنا چاہتے ہیں -- بحثیت قوم اسے قابل رحم حالت ہی کہا جاسکتا ہے

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.