Leaderboard
-
shahg
Email Invalid Accounts20Likes253Posts -
Anaam123
Cloud Basic9Likes536Posts -
Story Maker
Funds Transfer Agent9Likes1,755Posts -
S.KHAN
Active Members5Likes129Posts
Popular Content
Showing most liked content on 15/08/22 in all areas
-
خفیہ کیمرہ
1 likeشادی ہال یا ہوٹل میں ایک چھوٹا سا خفیہ کیمرہ لگادیا جاتا ہے ۔۔ اور خواتین کی انتہائی پرائیویسی کی حالت کو ریکارڈ کرلیا جاتا ہے ۔۔ بعد ازاں یہ ویڈیوز بھاری قیمت پر مارکیٹ میں فروخت کردی جاتی ہیں ۔۔ حد تو یہ ہے کہ بڑے شاپنگ سینٹر اور سینما ہالز کے باتھ رومز بھی جدید دور کی اس لعنتی عفریت سے محفوظ نہیں ۔۔ ضرورت ہے اس وقت تدبر کی ۔۔ اور بہترین حکمت کے ساتھ اپنے گھر کی خواتین کو تربیت دینے کی ۔۔ ہمارے ہاں شعور خواتین میں ابھی اس درجہ بلند نہیں ہے ۔۔ جدید دور کے تقاضوں کو سمجھنے کیلئے ۔۔ کہ وہ خود سے ان باتوں کو سمجھ کر احتیاط کا مظاہرہ کریں ۔۔ لوگوں میں اس حوالے سے شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے احتیاطی تدابیر : ایک سادہ سی تدبیر یہ ہے ۔۔ کہ کسی بھی ٹائلٹ / شاور روم / فٹنگ روم وغیرہ میں داخل ہونے سے پہلے اپنے موبائیل کے سگنل چیک کرلیں ۔۔ اگر پھر اندر جاکر بھی چیک کرلیں ۔۔ اگر اچانک آپ کے موبائیل نے سگنل کم کردیئے ہیں ۔۔ یا ختم کردیئے ہیں ۔۔ تو وہاں پر خُفیہ کیمرہ ہونے کے نوے فی صد چانسز ہیں ۔۔ کوشش کریں ۔۔ کہ آپ وہ جگہ استعمال کئے بغیر چھوڑ دیں ۔۔ کیونکہ بہرحال احتیاط افسوس سے بہتر ہے .... شکریہ1 like
-
کالج کلز ، تعارفی ایڈیشن از ڈاکٹر فیصل خان
hum ghareeb log hy kuch hunare liye b chor dia kre vip ni hy hum1 like
-
(چھوٹو گینگ (ظلم کی سچی داستان
اپڈیٹ نمبر 4 چھوٹو گینگ کے ظلم کی داستاں انسپیکٹر آصف گھر پہنچا ملازم جس کا نام بختو اور عمر تقریباً 50 سال کا تھا کو آواز دی بابا کھانا لگاؤ خود واش روم گھس گیا کچھ ہی دیر میں فریش ہو کر نائٹ ڈریس پہن کر واش روم سے باہر نکلا اتنی دیر میں بختو بابا کھانا لے کر آ گیا اور انسپیکٹر آصف نے کھانا کھایا کھانا کھانے کے بعد بابا بختو چاۓ کا کپ دیتے ہوے انسپیکٹر آصف سے کہا بیٹابڑی بی بی کا فون آیا تھا آپ کا پوچھ رہی تھی آپ کے بارے میں کافی فکر مند تھی تو میں نے ان کو تسلی دی کہ آپ ٹھیک ہیں پر وہ کافی دل برداشتہ تھی اور بار بار بول رہی تھی کہ تمہیں سمجھاؤں کہ تم اپنی پوسٹنگ یہاں سے کسی دوسری جگہ کروا لو بختو بابا نے کہا اماں کو میری فکر ہے مجھے پتہ ہے ان کو جب میری یہاں پوسٹنگ کا پتہ چلا وہ کافی ڈر گئی تھی کیونکہ ان کے خیال میں یہاں ڈاکو راج ہے اور ان ڈکووں کی دہشت کی وجہ سے وہ کافی خوفزدہ تھی پر بابا میری سرکاری نوکری ہے میں یہاں جرائم کی روک تھام کے لیے آیا ہوں افسران کو پورا اعتماد ہے کہ میں ان درندوں کا مقابلہ کر کے کرار واقع سزاہ دیلواؤنگا آپ تو سمجھتے ہیں انسپیکٹر آصف نے کہا بیٹا مجھے پورا یقین ہے تم پہ کہ تم ان درندوں کو کیفر کردار تک پہنچاؤں گے میری دعائیں تمہارے ساتھ ہیں چلو بیٹا آرام کرو کافی تھک گئے ہو گے ادھی رات گزر چکی ہے بختو بابا نے پر خلوص لہجہ میں کہا انسپیکٹر آصف نے سر ہلا کر اپنے بیڈ پر سونے کیلیے لیٹ گیا ابھی کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ اچانک موبائل بج اٹھا آصف نے ناگواری سے موبائل اٹھا کر بات کی اور ایک دم سے چونک آٹھا اور جلدی سے کہا میں آتا ہوں تم وہاں باقی کے کام نپٹاؤ انسپیکٹر آصف ٹراوزر اور شرٹ پہنے باہر موجود گاڑی کی طرف گیا اور گھر سے روانہ ہو گیا کچھ ہی دیر بعد وہ جب متعلقہ جگہ پہنچا تو وہاں پولیس کی نفری اور ایمبولینس کی گاڑیاں موجود تھی انسپیکٹر آصف کو دیکھ کر ایک نوجوان فوری اس جانب آیا اور انسپیکٹر آصف کو سلیوٹ کیا مسافربس اور وین پر چھوٹو گینگ کی ڈکیتی اور قتل کے بارے میں رپورٹ دینے لگا انسپیکٹر آصف اس نوجوان کو کچھ کہنے ہی والا تھا کہ موبائل بجا موبائل نکال کر بات سنی اور جی سر میں موقع پر موجود ہوں جلد رپورٹ تیار کر کے آپ کو صبح تک پیش کرونگا جی سر آپ بے فکر رہیں ہم ان کو نہیں چھوڑیں گے اوکے سر دوسری طرف سے سن کر آصف نے گہراہ سانس لیتے ہوئے موبائل بند کیا اور کہا کہ ارسلان یہ کاروئی پولیس کو چیلنج دینے کے مطرادف ہے میں اس گینگ کو نہیں چھوڑوں گا انھوں نے ظلم کی انتہا کر دی ہے ڈی پی او صاحب بہت غصہ میں ہیں اور وہ اس گینگ کے خلاف کاروائی کا حکم دہے ہیں اب جلد ہی ہمیں عملی اقدامات کرنے ہونگے انسپیکٹر آصف نے جوشیلے انداز میں کہا اور جواب میں ارسلان نے کہا جی سر ان مسافروں خصوصا خواتین اور بچے کافی خوف زدہ ہیں ان بے رحم لوگوں نے جس طرح گارڈ کا قتل اور لوٹاہے لوگ کو بہت خوفزدہ کر دیا ہے آپ بے فکر رہیں ہم جلد ہی ان ظالموں کو کیفریکردار تک پہنچائیں گے خواتین سے تو انہوں نے کوئی بدسلوکی نہیں کی انسپیکٹر صدف نے کہا سب انسپیکٹر ارسلان نے نہ میں سر ہلایا اوکے ان لوگوں کا بیان ریکارڈ کر لو اور ان سب کے ایڈریس لے کر قانونی کاروائی مکمل کرو اور پولیس پروٹیکشن میں یہاں سے روانہ کرو اور نعش کو پوستمارٹم کے لیے ہسپتال بھیجو اور رات کو پولیس کا گشت اور موثر کرو اور اس جیسا گھنونہ واقع دوبارہ نہ ہونے پائے اس کے بارے میں انتظام کرو اور تم خود اب اس کی نگرانی کرو گے انسپیکٹر آصف نے کہا اور واپس گاڑی کی جانب آ کر گھر کی جانب روانہ ہو گیا سردار چھوٹو لیٹا ہوا چھمیہ سے بہت پیار سے بولا کہ آج مزاج آ گیا کیا کمال کا چدی ہے تو گانڈ بھی تیری سیل بند تھی سردار میرا تو تکلیف سے برا حال ہو گیا ہے گانڈ میں ایسا لگ رہا ہے کہ لال مرچ ڈال دی ہو اور تیری ضد کی وجہ سے ادھ منہ کر دیا ہے میری گانڈ کو تھوڑہ بھی رحم نہیں آیا سردار تجھے تو چھمیہ نے تکلیف دہ آواز میں کرہاتے ہوے جواب دیا سردار نے قہقہ لگا کر کر کہا چھو ڑ او چھمیہ تو توخوش قسمت ہے کہ تیری پھدی اور گانڈ سردار چھوٹو نے کھولی ہے وہ بھی پیار سے ابھی تو تو نے سردار چھوٹو کا غصہ دیکھا نہیں چل اب اٹھ اور جا کل پھر آ جانا تہمکانا لہجہ میں کہا اور سردار چھوٹو کپڑے پہن کر کمرے سے باہر آگیا اور آواز دی بگو کہا گیا ہے اس کو بلا لا باہر کھڑے مسلح شخص سے کہا تو اس نے جواب دیا سردار وہ بندوں کے ساتھ کہی گیا ہے اچھا چل میں سونے جارہا ہوں تو اس چھمیہ کو گھر چھوڑ آ اور سن کوئی حرکت نہ کرنا جی سردار جو حکم مسلح شخص نے کہا (ریڈرز کی پرزور ریکوسٹ پر سرائیکی کے الفاظ کا استعمال نہیں کیا جائے گا ) کمرے میں پہنچ کر اب سائیں نے نیلی سے کہا جانو آؤ نہ میرے پاس کیوں غصہ کرتی رہتی ہو تم جیسی حسینہ تو بس صرف مسکراتی ہوئی ہی پیاری لگتی ہے تمہیں پتہ ہے نہ کہ میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا تم تو میری جان ہو ابا سئیں نے اپنی باہوں میں لے کر نیلی سے کہا اور اپنے ہونٹ نیلی کے ہونٹوں پر رکھ دیے اور آرام آرام سے چوسنا شروع کر دیے پہلے اوپر والا ہونٹ چوسا اور مدہوش ہو کر کہا تمہارے ہونٹوں کا رس جب تک نہ پیؤں مجھے سکون ہی نہیں آتا کیا لزت ہے ان میں اور پھر نیچے والے ہونٹ کو چوسنا شروع کیا جی سائیں مجھے پتہ ہے کہ مجھے تڑپانے میں آپ کو مزہ آتا ہے میں بھی اپ کے بغیر نہی رہ سکتی اس بات کا اپ کو تو پتہ ہی ہے اور آپ اسی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں نا نیلی نے ابا سائیں کا چہرے کو پکڑ کر ایک سائڈ پر کرتے ہوئے کہا نیلی میری جان تو میں کوئی ناجائز فائدہ نہیں اٹھاتا بس کام بھی تو کرنا ہوتا ہے تو سمجھا کر آخر تو نہیں سمجھے گی تو اور کون سمجھے گا بس تو منہ نہ بنایا کر میرے دل کو کچھ ہوتا ہے جب میں تمہیں غصہ میں دیکھتا ہوں اب سئیں نے کہا اور پھر ہونٹوں پر حملہ کرنے کی کوشش کی پر نیلی بھی تڑپانا خوب جانتی تھی اس نے منہ پھیر لیا اور کہا میں سب سمجھتی ہوں سائیں اپ کے مسکوں کو میں اگر آپ آیندہ سے وقت پر نہ ایے تو آپ نیلی کو چھو بھی نہ سکو گے یہ آپ کی سزا ہو گی اب سائیں نے ڈرنے کی ایکٹنگ کرتے ہوے کہا نہ میری جان ایسا نہ کہوں میں وعدہ کرتا ہوں کہ آیندہ میں جلد آیا کروں گا اب جلدی سے اپنے ہونٹوں کا جام پینے دو بس کرو نہ تڑپا و ابا سائیں نے التجائیا لہجہ میں کہا نیلی ہنس پڑی حاضر میرے راج کمار اور اپنے ہونٹ ابا سائیں کے ہونٹوں پر رکھ دیا کافی دیر کسنگ کے بعد ابا سائیں نے اپنی قمیض اتاری اور اور نیلی کی بھی قمیض اتار دی جس سے اس کا دودھیا خوبصورت بدن اور بلیک برا میں قید ممے ابا سئیں کو دعوت پیار دے رہے تھے واقعی نیلی کا جسم ایک دوشیزہ کے جسم کی طرح خوبصورت اور کمال کا کسہ ہوا تھا پیٹ اندر کو اور مموں کا سائز 38 پتلی کمر اور گانڈ کافی باہر کو نکلی ہوئی تھی جو کسی بھی کو بھی بے قابو کرنے کے لیے کافی تھی ابا سائیں نے جب حوس زدہ نگاہوں سے نیلی کے خوبصورت بدن کو دیکھا تو دیکھاتا ہی رہ گیا اور کہا آج بھی تم پہلی رات کی دلہن کی طرح حسین و جمیل اور کچی کلی لگ رہی ہو ایسا لگ رہا ہے کہ میں تمہارے حسن کے سہر میں جکڑ سا گیا ہوں نیلی میری جان واقع ہی تم بہت ہی خوبصورت ہو نیلی نے شرما کر کہا سائیں اپ ہر بار یہی کہتے ہیں میں نہیں آپ کی نگاہیں خوبصورت ہیں جن کو ہر چیز خوبصورت لگتی ہے ابا سئیں نے ایک قہقہ لگایا اور اپنے ہونٹوں کو نیلی کی گردن پر رکھا اور پوری گردن پر اپنی زبان پھیرنے لگا نیلی مزے سے سسکیاں لیتے ہوئے بولی سائیں آپ کے پیار کرنے کا انداز مجھے بے قرار کر دیتا ہے اور اپنے حاتھوں کی انگلیوں سے ابا سئیں کے سینے کی نپلز کو مسلنے لگی جس سے ابا سئیں کے منہ سے ایک سسکاری سی نکلی اور اسی دوران نیلی نے اپنی زبان سے سینے پر موجود نپلز پر پھیرنا شروع کیا ابا سئی کپکپا اٹھے نیلی ابا سئیں کے نپلز چوستی جا رہی تھی اور ابا سئیں آنکھیں بند کیے مزے سے آوازیں نکال رہے تھے ابا سئیں اپنے ہاتھوں 38 سائز کےنیلی کے گول مٹول مموں کو دبا رہے تھے اباسئیں نے اپنے نپلز چوستی نیلی کے چہرے کو اپنی انگلی سے اپ کیا اور ہونٹوں کو چوسنے لگا کمر پر موجود برا کا ہک کھولنے لگا اور مموں کو برا سے آزاد کر دیا ہونٹوں کو چھوڑ کر اباسئیں آزاد مموں پر ایسے ٹوٹا جیسے دیر ہو گئی تو ان کا رس چوسنے سے محروم نہ ہو جائے جہاں جہاں مموں پر ابا سائیں چوستہ وہاں وہاں پیار کے سرخ نشان پڑتے جا رہے تھے جو اس کی پتلی اور نرم و ملائم جلد کی نشان دہی کر رہے تھے اباسئیں نے مموں کا نپل چوستااور انگلی پھودی کی لکیر پر پھیر رہا تھا جس سے نیلی گانڈ اٹھا آٹھا کر انگلی کو اندر لینے کی کوشش کر رہی تھی پر ابا سئیں تو انگلی شلوار کے اوپر اوپر سے ہی پھیر کر تڑپا رہا تھا نیلی اچانک سے ابا سائیں کو دھکیلا اور اب سائیں کی شلوار اتار کر لن کو دونوں ھاتھوں سے مٹھ مارنے کے انداز میں ہلانے لگی اس وقت اباسئیں کا لن پورے جوبن پر تھا لمبا اور موٹا لن نیلی کے دونوں ہاتھوں میں پورہ نہیں آ رہا تھا پھر نیلی نے لن پر اپنے گرم ہونٹ رکھے تو ابا سائیں کے منہ آہ آہ آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ کی مداحوش آواز آنے لگی نیلی لن کو ایسے چوس رہی تھی جیسے بچے لولی پاپ مزے سے چوستے ہیں چوپہ لگاتے لگاتے ابا سئیں نے اچانک ہی نیلی کو روکا اور نیلی کی شلوار اتار کر اس کی پھودی میں اپنی انگلی ڈال کر دانے کو چھیڑتا رہا اور اپنی زبان کو نیلی کے مموں اور پھر پیٹ پر پھیرنا شروع کر دیتا جس سے نیلی کی سرور سے بھری آوازیں کمرے میں گونج رہی تھی جب بھی انگلی پھدی کے دانہ سے رگڑ کھاتی جس سے نیلی کے جسم میں سرور کی سی کیفیت ہوتی اور سیکسی آوازنکلتی اباسئیں نے نیلی کو نیچے لٹا کر اپنا لن اس کی پھدی پر ایڈجسٹ کیا اور آہستہ آہستہ لن کو اندر ڈالنا شروع کیا لن نیلی کی ٹائٹ پھودی میں مشکل سے جا رہا تھا نیلی کمال کی سیکسی جسم کی مالک تھی لگ رہا تھا کہ وہ اپنے جسم کا خاص خیال رکھتی ہے ابا سائیں نے ایک ہلکا سا جھٹکا لگایا جس سے لن پدھی کی دیوروں کو مسلتا ہو آدھا اندر چلا گیا جس سے نیلی کے گلے سے ایک مسحورکن آہ ہ ہ ہ ہ کی آواز نکلی جان من تمہیں پتا نہیں میں کتنا بےتاب ہوتا ہوں تمہاری پھدی میں لن ڈالنے کیلیے سئیں نے ایک زور دار جھٹکا لگایا جس سے پورہ لن جڑہ تک پھدی کے اندر چلا گیا اور مزے سے نیلی کی چیخ نکل گئی اور کہا سئیں آرام سے ڈالو اس کی آوازمیں سرور تھا لگ رہا تھا کہ وہ سیکس کو انجوائے کر کے کرنا چاہتی ہے ابا سئیں نے کہا حا ضر سائیں جو میری رانی کا حکم میں آرام سے ہی ڈالوں گا اگلی بار اور ہنسنا شروع کر دیا اس وقت ابا سئیں لن کو اندر باہر کرنے میں مشغول اور ساتھ ساتھ ہی وہ دونوں مزے سے بھرپور سیکسی آوازیں نکال رہے تھے اور گھپ گھپ کو آوازوں اس بات کی گوئی دے رہی تھی کہ پھودی مزے سے پوری طرح گیلی ہو چکی ہے دونوں کے مسرور کن اوازیں نکل رہی تھی اندر باہر کرتے ابا سئیں ایک دم رک گیا لن کو باہر نکال کر نیلی کو کہا کہا جانو! ڈاگی سٹائل میں کرتے ہیں نیلی مسکرائی اور ابا سئیں کے ہونٹوں کو چوسنا شروع کیا اور لن پر انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا جو حکم میری سرکار لن کو دیکھتے اور ہلاتے ہوئے کہا اور اگے کو جھک گی ابا سئیں نے جب باہر کو ابھری ہوئی گانڈ کو دیکھا اور اس پر انگلیاں پھیرنے لگا تو نیلی نے فورا کہا سئیں پھدی نہیں ہے یہ جلدی ڈالو پدھی میں گانڈ کو کچھ مت کرو حاضر سئیں جو میری رانی کہے میں تابع دار اور اپنا لن حاتھوں سے پکڑ کر ڈوگی سٹائل بنی نیلی کی پھودی کے سراخ پر رکھا اور آہستہ آہستہ اندر کی طرف دباؤں دینے لگا اور اپنے ہاتھوں سے مموں کو پکڑ لیا اور جھٹکے مارنے لگا جھٹکوں سے نیلی کے ممے اگے پیچھے ہورہے تھے نیلی نے مزے سے کہا سئیں اور زور سے زور سے زور سے جھٹکوں کی رفتار میں تیزی آ رہی تھی ہر جھٹکے پر دونوں کی ایک الگ سی مدہوش آواز نکلتی آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ نیلی کا جسم اکڑا اور ساتھ ہی پدھی کے اندر سیلاب سا آ گیا ابا سئیں نے بھی جھٹکوں کی رفتار کو بڑھایا اور تھوڑی ہی دیر بعد وہ بھی پھدی کے اندر ہی ریلیز ہو گیا اور اس کی سانس پھولی ہوئی تھی پدھی سے لن نکال کر ایک سائیڈ پر لیٹ گیا جبکہ نیلی الٹی ہی لیٹ گی اب سائیں نے کہا میری جان آج تو تو نے مجھے تھکا دیا ہے تیری پدھی کمال کی ہے میرے جسم کا سارہ پانی نچوڑ لیتی ہے سائیں اپ کا ہتھیار بھی کمال کا ہے میری جان نکال لیتا ہے پر مزہ بہت آتا ہے نیلی نے بند آنکھوں سے ہی پر سرور لہجہ میں جواب دیا یونیورسٹی کے احاطہ میں ایک نوجوان پینٹ شرٹ میں ملبوس تیزی سے سیڑھیاں اتر رہا تھا کہ اچانک سے وہ لڑکھڑیا اور اور زمین پر گرا وہاں ایک سائڈ پر موجود لڑکی جو کہ موبائل پر چیٹ کر رہی تھی اچانک سے اس لڑکے کو گرتے دیکھ کر گھبرا گئی بھائی چوٹ تو نہیں لگی اس لڑکی نے کہا چوٹ تو نہیں لگی بچ گیا ہوں ویسے میں گرتا تو نہیں ہوں آج پتہ نہیں کیسے لوڑک گیا ڈاکٹر ٹھیک کہتا تھا آج مجھے اس کی بات کی سمجھ آئی ہے اس نوجوان للڑکے نے کہا ڈاکٹر کیا کہتا تھا بھائی اس لڑکی نے تجسس بھرے انداز میں پوچھا جی ڈاکٹر کہتا تھا کہ تم کافی کمزور ہو گئے ہو اپنی جان بناؤ ٹھیک ہو جاؤ گے پہلے تو مجھے اس کی بات پر یقین نہیں آیا پر آج مجھے پتہ چلا ہے کہ وہ ٹھیک بول رہا تھا لڑکے نے کہا لڑکی نے کہا بھائی ڈاکٹر کی ہدایت پر عمل کریں تاکہ اس طرح دوبارہ نہ گر پڑیں اور چوٹ لگ جائے جی وہ نا دراصل مجھے شرم آتی ہے لڑکے نے کہا لڑکی حیران ہو کر بولی کہ بھائی اس میں شرم کی کیا بات ہے تو لڑکے نے جھٹ سے کہا کہ جی وہ نہ آپ میری جان بنیں گی لڑکی یہ بات سن کر ایک دم شاک ہوئی بھائی کیا مطلب اس کا جی وہ میں ڈاکٹر کی ہدایت پر ہی تو عمل کر رہا ہوں تاکہ میں دوبارہ نہ گر سکوں لڑکے نے کہا بھائی ڈاکٹر نے آپ کو اپنی جان مطلب کھانے پینے کا بولا ہے اور اپ یہ کیا بات کر رہے ہیں لڑکی نے غصیلے لہجہ میں کہا جی جی میں تو سمجھا تھا کہ وہ مجھے کسی کو اپنی جان بنانے کو بول رہے تھے جو باوجود کوشش کے مجھ سے نہیں بن سکی ویسے اپ سے ایک سوال پوچھوں اگر اپ ناراض نہ ہوں لڑکے نے ہکلاتے ہوے کہا جی بھائی پوچھیں لڑکی نے بے چارگی کے انداز میں کہا کیا میں خوبصورت نہیں ہو کیا مجھے اپنی جان بنانے کا کوئی حق نہیں ہے کیا میں اس طرح اکیلا ہی رہوں گا لڑکے نے افسردہ سے لہجہ میں کہا کیوں نہیں ہے حق اپ خوبصورت اور اچھی پرسنیلٹی کے حامل لڑکے ہوں ایسی تو بظاہر آپ میں کوئی برائی نظر نہیں آتی لڑکی نے جواب دیا تو پھر آپ کیوں نہیں میری جان بن رہی ہیں اگر اپ کو مجھ میں یہ سب کچھ اچھا نظر آ رہا ہے تو لڑکے نے معصومانہ لحجہ میں کہا بھائی میں آپ کو جانتی تک نہیں اور آج پہلی بار اپ کو دیکھا ہے یہ کچھ زیادہ نہیں ہو رہا اتنا سٹیٹ فارورڈ آپ نے کہ دیا ایسا کیسے ممکن ہے بھائی لڑکی نے گھبرائے ہوے جواب دیا اور جانے کیلے اٹھ کھڑی ہوئی لڑکے نے ایک دم لڑکی کو اٹھتے دیکھا تو فورا ہی کہا جی میں آپ کو ٹائم دیتا ہوں آپ سے اس بارے میں کل بات کرونگا ٹھیک ہے آپ باقی دن اور پوری رات اس بارے میں زرور سوچیں لڑکے نے معصومانہ انداز میں کہا اور جواب سنے بغیر ایک جانب چل پڑا1 like
-
(چھوٹو گینگ (ظلم کی سچی داستان
Update no 3 ابا سئیں غصہ سے تلملا کر بولا وے عطی ڈیڈھی اے پولیسے مکوں کمزور سمجھدے ہین ہناں نا مرادا کو کیا پتہ کہنی میڈی طاقت دا اے سمجھدے ہین کہ میں ہتھاں وچ چوڑیاں پاتی بیٹھاںمیں اپنڈے دشمن دا مقابلہ نہیں کر سکدا وے انہاں عقل دے اندھایاں کوںمیں کیویں سمجھاواں اے لوگ جانڑ بجھ کے میڈا بلڈ ہائی کیرندے ہین عطی دیکھا ہے یہ پولیس والے مجھے کمزور سمجھتے ہیں نا مردوں کو نہیں میری طاقتدا پتہ یہ سمجھتے ہیں کہ میں نے ہاتھوں میں چوڑیا پہنی ہوئی ہیں میں اپنے دشمن کامقابلہ نہیں کر سکتا ان عقل کے اندھوں کو کیسے سمجھاؤں یہ لوگ جان بوجھ کرمیرا بی پی آپ کرتے ہیں ابا سائیں جی ویلے ہوں نامراد چھوٹوں دا سر تھاڈے ہاتھ ایچ ہوسی ول ہنا کوںیقین اسی کہ تسان کیا چیز ہوے تساں کیوں ہنا دی گالہیں دی وجہ تو بلڈ ہائیکرندے ہوے دفعہ کرو تہ سکون کرو عطی نے خوشامدانہ لہجہ میں کہا ابا سئیں جس وقت نامراد چھوٹو کا سر اپ کے ھاتھ میں ہو گا تب ان لوگوں کوپتہ چلے گا آپ ان کی باتوں کی وجہ سے کیوں بلڈ ہائی کرتے ہیں دفع کریں اورسکون کریں گال تے توں ٹھیک کریندا پائی چل ول میں گھر وین دا تو ڈرائیور کو الھ کےمیڈی گڈی کڈھوا ابا سائیں نے پر سکوں لہجہ میں کہا بات تو تم ٹھیک کر رہے ہو جاؤ اور ڈرائیور کو بول کر میری گاڑی نکلواو عطی ابا سائیں کی بات سن کر باہر جا کر گاڑی نکلوائ پیچھے سے ابا سائیں آ کرگاڑی میں بیٹھ کر گھر کی طرف روانہ ہوئے 15 منٹ کی ڈرائیو کے بعد ایک جدید طرز کی بنی خوبصورت کوٹھی کے گیٹ کےسامنے جا کر ڈرائیور نے گاڑی کی گھنٹی دی تو ایک مسلحہ چوکیدار نے دروازےکے باہر جھانکہ اور دروازہ کھول دیا اور ڈرائیور گاڑی اندر پورچ میں کھڑی کر کےابا سائیں والی سائڈ کا ڈرائیور نے دروازہ کھولا ابا سائیں شان بے نیازی سے چل کر کر گھر کے اندر مین حال میں داخل ہوئےجہاں سلیقے سے ایک سائڈ پر لگے فرنیچر خوبصورت پنٹنگ اور بڑا سا فانوس جو اپنیخوب صورتی کی مثال آپ تھا کمال لگ رہا تھا ہال میں لگے برقی قمقمے جو سنہریروشنی دے رہے تھے قابل تعریف منظر پیش کر رہے تھے ایک جانب صوفے پرخوبصورت خاتون جس کی عمر تقریباً اڑھتیس سال کےقریب ہوگی خوبصورت لباس زیب تن کیے اور سونے کا ہار گلے میں اور ہاتھوںمیں بڑے بڑے سونے کے خوبصورت کڑے پہنے بیٹھی ہوئی تھی اس کا رنگدودھیا سفیدی مائل تھا آنکھیں بڑی بڑی بے مثال حسن اور پر کشش جسم سےمالا مال کسی اپسرا ء سے کم نہ تھی جیسے ہی ابا سائیں کو دیکھا تو بولی آگئے ہوئے ٹائم ڈیٹھے وے کیا ٹائم تھی گے تھاکوں فکر ہی کینی کہ کوئی انتظارکریندا پیا ہوسی غوصیلے لہجہ میں اس عورت نے کہا آگئے ہیں ٹائم دیکھا ہے کیا ٹائم ہو گیا ہے آپ کو فکر ہی نہیں ہے کہ کوئی انتظارکر رہا ہے بیگم میڈی جان میں کوں پتا ہے کہ جناب انتظار کریندے پیے ہین بس کم ایچایتنا مصروف تھیاں کہ ٹائم دا پتہ ہی نہیں چلایا تے فوری کم نپٹا تے میں اپنیجان کینے بھج پیاں توکوں پتا تا ہے کہ میں تھاڈے بغیر نہیں رہ سکدا جڈا تک تہاڈاچندر جیا مکھڑہ نہ ڈیکھاں میکوں چین نہں امدا ابا سائیں نے خوشامدانہ اور مودبانہلہجہ میں کہا (بیگم میری جان مجھے پتا ہے کہ آپ انتظار کر رہی ہوں گی بس کام میں اتنامصروف تھا کہ ٹائم کا پتہ ہی نہی چلا کام نپٹا کر میں بھاگ کر اپنی جان کے پاسآ گیا اپ کو تو پتہ ہے کہ میں اپ کہ جب تک آپکا چاند سا چہرہ نہ دیکھوں مجھےچین نہیں آتا ) دل کش خاتون پڑھی لکھی جس کا نام نبیلہ تھا اور گھر میں سب پیار سے نیلیبلاتے تھے ابا سائیں کی دوسری گھر والی تھی اور ایک با اثر سیاسی خاندان سےتعلق رکھتی تھی پہلی گھر والی ایک ایکسیڈنٹ میں فوت ہو گئی تھی اس کا ایکبیٹا تھا دوسری بیوی اور لاڈلی ہونے کی وجہ سے ابا سائیں پر ہمیشہ رعب اور دبدبہ رکھتیتھی ( اگے جا کر آپ کو ان کے بارے میں علم مزید باتوں کا علم ہو گا اب آتےہیں سٹوری کی جانب ) جیا میڈے کنوں زیادہ تہاکوں کم عزیز ہین تہاکوں کیا پروۂ ہے نیلی نے مزیدبڑھکتے ہوے کہا مجھ سے زیادہ آپ کو کام عزیز ہیں آپ کو کیا میری پرواہ ہے ابا سائیں نے جب غصہ دیکھا تو معافی مانگنے کے انداز میں اس کے قریب آ کرکہا میڈی جند ناراض نہ تھیا کر غصہ دی وجہ تو تیڈا خون گھٹ تھی ویسی میں آیندہدھان رکھیسا کہ ٹائم تے تیڈے کینے اواں بس تو ناراض نہ تھیا کر چل ہنڑ کھلتے ڈیکھا میڈی جان التجائیاں لہجہ میں کہا (میری جان تم ناراض نہ ہوا کرو غصہ سے تمہارا خون کم نہ ہو جائے گا میں آیندہٹائم پر آیا کروں گا چلو اب ہنس کے دیکھاو ) نیلی نے نخرے دیکھاتے ہوئے کہا چلو ڈیکھ گھینساں کہ تسا آیندہ اپنی گال تےکیوے عمل کریندے ہوے روٹی کھا اے وے یا میڈے نال کھاسو طنز یہ انداز میں کہا چلو دیکھ لیں گے کہ اپ اپنی بات پر کیسے عمل کرتے ہیں کھانا کھا کر آئے ہیں یامیرے ساتھ کھائیں گے میں اپنڑی جان دے بغیر کیویں کھا سکدا چلوں جلدی نال کھانڑاں لواو رل تےکھاسوں جھوٹ بولتے ہوے نیلی کے ساتھ صوفہ پر بیٹھتے ہوئے کہا نیلی اٹھ کر کچن کی طرف گئی اور وہاں موجود ملازمہ کو کھانا لگانے کا بول کر ایکسائڈ پر بنے واش روم کی طرف چل دی کچھ دیر بعد باہر نکل کر ابا سائیں کوساتھ لے کر بڑی سی ٹیبل رکھا کھانا کھایا اور فارغ ہو کر کمرے کی طرف دونوںچل دیے سردار چھوٹو کا لن مردہ حالت میں چھمیا کی پھودی کے اندر ہی تھا اور سرداراسکے سینے پر سر رکھ کر لیٹا ہوا تھا خیر تو ہے آج تو تو نے مجھے ہلا کر رکھ دیا ہے اندر تک محسوس ہو رہا ہے کہ آجمیں ٹھیک سے چدی ہوں ورنہ تو پچھلی بار تو نے جلدی میں ہی چودہ تھا پر ایکبات ہے مزہ تو بہت آیا تھا پر جو آج مزہ آیا ہے اس کا تو جواب نہیں چھمیاں سردار کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے بولی چھمیاں ابھی تو مزہ شروع ہوا ہے ابھی اور اس سے بھی زیادہ مزہ انا ابھی باقیہے میری جان سردار چھوٹو نے کہا میری جان لینے کا پروگرام ہے چھمیہ نے کہا جان نہیں تیری آج گانڈ لینی ہے سردار نے آنکھ مار کر کہا نہ بابا نہ تیرا موٹے اور لمبے لن نے تو میری پدھی کا ستیا ناس کر دیا ہے گانڈ لیتےوقت تو میں نے مر جانا ہے خوفزدہ ہوتے ہوے چھمیا نے کہا کچھ نہیں ہوتا تو فکر نہ کر میں آرام سے کروںگا تجھے پتہ بھی نہیں چلے گا چل اباس چارپائی کے اگے جھک جا سردار نے اسرار کرتے ہے کہا دیکھوں اگلی بار کر لینا میں تمہیں نہیں روکوں گی آج نہیں مہربانی کر اج پھدیایک بار اور مار لے پر گانڈ نہیں التجائیا لہجہ میں چھمیا نے کہا نہیں بس تو اب کھڑی ہو میں نے تجھے جیسا کہا ہے ویسا کر ورنہ اچھا نہیں ہو گاسردار نے غوصیلے لہجہ میں کہا چھمیاں سہم کر چارپائی کے اگے جھک گئی سردار کی آواز آئی چھمیہ میری جان میرے لن کو تو دیکھوں مرجھایا ہوا ہے پہلےاسے گانڈ مارنے کے قابل تو بنا ھنستے ہوئے کہا چھمیہ نے مرجھائے ہوے لن کو پکڑا اور منہ میں ڈال کر چوسنے لگی لن منہ کیگرمائش ملنے کی دیر تھی لن نے انگڑائی لی اور کھڑا ہونا شروع ہو گیا سردار مزےسے آوازیں نکالنے لگا آہ آہ آہ آہ آہ چھمیہ تیرے چوسنے کا جواب نہیں کیا مزے کا چوستی ہے اس طرح کی باتیںکرتے کرتے سردار کا موٹا تازہ لن ایک دم لوہے کے ڈنڈے کی طرح سخت ہوگیا اور پورے کمرے میں سردار کی مزے سے لبریز آوازیں گونجنے لگی بس چیمہ نکالو منہ سے مزے بھری آواز میں سردار نے کہا چھمیہ نے منہ سے لن نکالا اور التجایا نظروں سے سردار کی طرف دیکھا پر بولنےکی ہمت نہیں کی اور بے بسی سے الٹی جھک کر کھڑی ہو گئی سردار نے التجائیاں نگاہوں کو نظر انداز کر کے لن کو ہاتھوں میں لیا اور منہ سےتھوک کا گولا نکال کر اسے گیلا کیا اور پھر لن کی ٹوپی کو گانڈ کے سوراخ پر رکھااور اپر نیچے ہاتھوں سے پکڑ کر پھیرتا رہا چھمیہ آنکھیں بند کر کے بے بسی سےجھکی ہوئی تھی سردار نے لن کی ٹوپی کو گانڈ کے سوراخ پر رکھا اور ایک جھٹکا لگایا جس سےکمرے میں ایک زور دار چیخ سنائی دی یہ چیخ کسی اور کی نہیں بلکہ چھمیہ کی تھیجس کی گانڈ میں صرف لن کا ٹوپا ہی اندر گیا تھا سردار اب اگے میری پدھی میں کر لو مجھے بہت تکلیف ہو رہی ہے تکلیف سےکانپتے اور گھبرائے ہوئے لہجے میں چھمیہ نے کہا سردار نے کہا ہو صلہ رکھ کچھ نہیں ہوتا یہ کہ کر ایک اور زور دار جھٹکہ لگایا آدھالن گانڈ کے اندر چلا گیا اور چھمیہ بلبلا اٹھی اور لن کو نکالنے کی کوشش کرنےلگی پر سردار کے مضبوط ہاتھوں کی گرفت اور طاقت کے اگے چھمیہ تڑپتی رہیایک اور زور دار جھٹکہ سے سردار نے اس کی گانڈ میں پورا لن اتار دیا اور اس کوچارپائی پر گرا دیا اس زور دار جھٹکہ کے بعد ایک فلگ شفاک چیخ نے پورےکمرے کو ہیبت ناک بنا دیا پر سردار پر اس کی چیخوں کا کوئی اثر نہ ہوا اور تڑپتیہوئی چھمیاں کو بے بس کر کے پہلے آہستہ اۂستہ جھٹکوں سے لن کو اندر باہرکرنے لگا تنگ سوراخ کی وجہ سے لن با مشکل اندر باہر ہو رہا تھا اور سردار کوبھی لن میں درد ہونے لگا پر کچھ ہی دیر بعد سردا نے طوفانی چودائی شروع کر دیاور کہا چھمیہ دیکھ آج تیری گانڈ کا افتتاح کر دیا ہے اب کچھ ہی دیر میں مزےسے تو کہے گی سردار اور ڈال دیکھ تجھے شروع میں تکلیف ہوئی ہے پر اس کے بعد مزہ آ رہا ہے نا سردار نے مزے میں ڈبی ہوئی آواز میں کہا چھمیہ کا جسم اس طوفانی چودائی میں کچھ دیر کانپتا رہا پر کچھ ہی دیر بعد جب گانڈ کاپانی نکلا تو مزے میں سردار کو کہا سردار آج تو تو نے میری جان نکال دی ہےاتنا درد مجھے پدھی میں نہیں ہوا جو گانڈ میں ہوا ہے پر اب مزا آ رہا ہے مزےمیں ڈوبی آواز میں چھمیا نے کہا اور ساتھ ساتھ مزے سے آوازیں بھی نکالے جارہی تھی سردار بھی طوفانی چودائی کا لطف لیے آوازیں مزے سے نکال رہا تھا کچھ ہی دیر میں طوفانی جھٹکوں کے ساتھ ہی سردار کا جسم اکڑہ اور ساتھ ہی لننے گانڈ کے اندر پانی چھوڑ دیا اور چھمیہ نڈھال ہو کر لن نکال کر ایک سائڈ پرلیٹ گئے اور دونوں زور زور سے سانسیں لینا شروع ہو گئے جیسے ہی فائر کی آواز سنائی دی بگو اپنے اپ کو بچانے کیلیے ایک سائڈ پر زمین پرگرا گولی اس سے چند انچ کے فاصلے سے ہوتی ہوئ درخت پر لگی کلاشن کوسیدھا کر کے پلک چھپکتے ہی برسٹ کھولا جس سے بس کا شیشہ ایک دھماکےسے ٹوٹا اور چیخوں کی ایک ہیبت ناک آواز گونجی برسٹ ڈرایور کو چہرے پر اور سینے پر لگا اور ساتھ ہی جو بس کا گن مین تھا اسکے بازوں کو چھلنی کر گیا جس سے اس کی رائفل دور جا گری اور بس میں سوارسواریوں کی چیخو پکار سے ماحول کو خوفناک بنا دیا تھا بگو نے چیخ کر اپنےساتھیوں کو بس کے قریب جانے کا کہا اور خود بھی محتاط انداز میں گن کو اگےکی طرف کر کے پیش قدمی کرنے لگا بس کے قریب پہنچ کر چیخ کر سبسواریوں کو نیچے اترنے کو کہا جبکہ اسکے ساتھی پوری بس کو گھیر کر اور گنیں تانکر کھڑے ہو گئے بس میں سوار جوان مرد اور بچے خوف زدہ ہو کر بس سے نیچےاترنے لگے جبکہ بس کا گارڈ ایک سائیڈ پر خوف زدہ نگاہوں سے اپنے زخمی بازوںجن میں سے خون نکل رہا تھا کو دیکھ کر کرہا رہا تھا اور ڈرائیور بے حس و حرکتاگے کی طرف سر ڈھلکائے ہوئے تھا بگو بس میں سوار ہوا اور دور پڑی گن کواٹھایا پھر ڈرائیور کو چیک کیا تو مرا ہوا پایا اطمنان سے گارڈ کی طرف موڑا ہاں بے گانڈو تو نے مجھ پر فائرنگ کیوں کی تو کل کا لونڈہ مجھے مارنے کی کوششکرنا چاہتا تھا آج میں تیری ہیرو گیری نکالتا ہوں گارڈ خوف زدہ ہو کر بگو کے پاؤں پڑ گیا اور معافیاں مانگنے لگا کہ مجھے معاف کر دوغلطی ہو گئی مجھ سے بس بدحواسی سے مجھ سے فائر ہو گیا @@@کے لیے مجھےمعاف کر دو معافی اور تجھے کبھی نہیں آج میں تیرا وہ حشر کروںگا دنیا یاد رکھے گی کہ مجھ پر گولیچلانے کا انجام صرف موت ہوتا ہے اور گن کو اس کے سینے پر رکھ کر ٹریگر دبادیا گولیوں سے اس کا سینہ چھلنی کر دیا گولیوں کی ترتراہٹ سے پورا علاقہ گونجاٹھا اور چیخو پکار کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا خاموش زور دار آواز میں بگو نے کہا اور گن سے ہوائی فائر کیا تم لوگوں کے پاس جو کچھ ہے میرے ساتھیوں کے حوالے کر دو اور اپنے اپنےموبائل بھی اگر کسی نے ہوشیاری دیکھانے کی کوشش کی تو انجام وہ دیکھ چکاہے مردہ گارڈ کی طرف غضبناک نگاہوں سے دیکھتے ہوے کہا مردو خواتین سب کے سب سہمے ہوے خوف زدہ ہو کر ایک ایک کر کے سبطلائی اور موبائل ،پیسے مسلح افراد کو دینے لگے اور ایک سائیڈ پر ہوتے چلے گئے جو بگو کے ساتھییوں میں سے ایک نے بڑا سا کپڑہ جو اس نے اپنے کندھے پر تھااسے اتار کر اس میں اکٹھا کیا اور موٹر سائیکل کی جانب چل پڑا بگو نے سب کو مخاطب ہو کر کہا دیکھوں پولیس اگر آئے تو بولنا کہ چھوٹوںگینگ کے بندے آئے اور اسے مار کر اور ہمیں لوٹ کر چلے گئے کوئی بھیہمارے راستہ میں آتا ہے اس کا انجام اس جیسا ہوگا اور ہوائی فائر کر کے موٹرسائیکلوں پر سوار ہو کر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ وہاں سے روانہ ہو گئے1 like
-
(چھوٹو گینگ (ظلم کی سچی داستان
چھوٹو گینگ (ظلم کی سچی داستان Update 2 انسپیکٹر آصف نے فون اٹھایا اور کال ملا دی کچھ ہی دیر میں کال رسیو ہوی اور انسپیکٹر آصف بولا سر آپ سے ایک ضروری بات کرنی تھی اگر آپ کی اجازت ہو مودبانہ لہجہ میں کہا دوسری طرف سے کہا گیا جی بتائیں سر بات دراصل یہ ہے کہ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ چھوٹو گینگ جس نے اس پورے علاقہ میں خوف اور دہشت پھیلارکھی ہے “آباسائیں “پر حملہ کرنے کا پروگرام بنا رہے ہیں باوثوق ذرائع سے یہ بھی خبر ملی ہے کہ ایسا کر کے وہ ظلماور بربریت کی ایک نئی مثال قائم کرنا چاہتے ہیں اور اس علاقے میں اپنی دھاک بیٹھا نا چاہتے ہیں تاکہ لوگ ان سےڈریں اور وہ آسانی سے اپنا بھتہ وصول کر سکیں میں نے “ابا سئیں “ سے بات کی اور ان کو پولیس تعینات کرنے کا کہا پرانہوں نے صاف انکار کر دیا وہ کوئی بھی بات ماننے سے انکاری ہیں آپ کو بتانے کا مقصد کہ جیسے اب آپ حکم دیںویسے ہم بندوبست کریں گے اوکے میں بات کر کے بتاتا ہوں دوسری طرف سے کہا گیا کال بند کر دی انسپیکٹر آصف نے گہرا سانس لیا سب انسپیکٹر ارسلان جو یہ سب بات سن رہا تھا نے کہا سر بہت ہی اچھا ہو گیا ہے آپ نے ڈی پی او صاحب کو بتا کر اپنا پوائنٹ رکھا ہے اب ہمارے زمہ کوئی بھی بات نہیںآئے گی خوشامدانہ لہجہ میں کہا تمہاری تجویز ہی کی وجہ سے ایسا ممکن ہوا انسپیکٹر آصف نے ہنستے ہوے کہا سب انسپیکٹر ارسلان کہا کہ سر اپ کی مہربانی ہے ورنہ میں اس قابل کہا ہوں سر کہ کر کرسی سے اٹھ اجازت طلب کرکے آفس سے باہر چلا گیا سردار چھوٹو کمرے کی جانب روانہ ہوا اور دروازے پر روکا وہاں دو مسلح افراد ٹہرے تھے جن کو دیکھ کر سردار نے کہاچھمییہ کہا ہے ہے ان میں سے ایک مسلح شخص نے کہا کہ سردار وہ اندر اپ کا انتظار کر رہی ہے بڑی للچائے ہوے لحجے میں کہا سردار نے جو اس ہی کے کندھے پر پڑا کپڑا کھینچا اور چہرے پر لگے خون کے چھینٹوں کو اس کپڑے سے صاف کر کےواپس اس شخص کے کندھے پر رکھ دیا اور اپنے ہاتھ سے لن کو مسل کر مسکراتا ہوا اندر داخل ہو گیا کمرے میں دونوں سائڈوں سے آگ جل رہی تھی جس کی وجہ سے پورے کمرے میں روشنی پھیلی ہوئی تھی سردار نے انچی آواز میں کہا میری چھمیہ کتنا انتظار کروایا ہے میرا لن تیری پھدی میں جانے کے لیے بے تاب ہے اپنےلن کو مسلسل مسلتے ہوئے کہا کمرے کے ایک سائڈ پر چٹائی پر تقریباً نو عمر بھرے بھرے جسم والی خوب صورت لڑکی بیٹھی تھی سردار کو دیکھ کر ایکدم اٹھی اور سردار کے قریب آ کر لن کو اپنے ہاتھوں میں لے کر مسلتے ہوئے بولی سردار ان تین دنوں میں مجھے تو خود سکون نہیں آیا جو تیرے لن کے بغیر گزرے ایک تڑپ تھی تیرے لن کو اپنی پھدی میںلینے کے لیے تو تو سمجھ ہی نہیں سکتا یہ کہہ کر شلوار کا ازاربند کھولا لمبے اور موٹے لن کو باہر نکال کر اپنے منہ میں لے کر چوسنا شروع کر دیا تمہاری یہی ادا تو مجھے تیرا دیوانہ بنائے ہوے ہے سردار چھوٹو نے مزے سے سسکیاں لیتے ہوئے کہا چھمیہ نے لن کی ٹوپی منہ میں سے نکالی اور کہا کہ سردار تیرا لن کا سواد کمال ہے اور پھر سے لن منہ میں ڈال کر چوسنےلگ جاتی لن اتنا موٹا تھا کہ صرف اسکا ٹوپہ ہی منہ میں مشکل سے جا رہا تھا وہ بڑے انہماک سے چوس چوس کر منہ سے ہی پٹاخہ بجاتی اور سردار زور زور سے ہنسنا شروع کر دیتا ہے اور اپنے ہاتھوں کو اس کے بوبز کے پاس لے جاتا ہے اور کہتا ہے چھمیہمیرے لن کو چھوڑ پہلے اپنی قمیض اتار اور میں بھی تیرے گیندوں سے کھیلوں چل چھوڑ لن کو چھمیا نے لن کو چھوڑ کر اپنی قمیض اتاری جس سے اس کے چھتیس سائز کے سانولے خوبصورت بوبز باہر کو چھلکے اور کساہوا جسم جو کہ ایک دیہاتی عورت کا خاصا ہوتا ہے اس کا جسم جو کافی حد تک سانولہ پر جازب نظر اور کمال نظر آ رہا تھا سردار جو بوبز کو بڑی للچائی ہوی نظروں سے دیکھ رہا تھا نے چھپٹ کر اس کے بوبز کو ہاتھوں میں لیا اور کہا کیا کمال کیگیندیں ہیں واہ اور یہ کہ کر بوبز کو چوسنا شروع کر دیا سردار چھتیس سائز کے بوبز کو چوستا رہا یہاں تک کہ چھمیاں کو درد محسوس ہونے لگا اور کہا سردار آرام سے میں کہی بھاگیتو نہں جا رہی ہوں سردار نے کہا چھمیہ تیری یہ گیندیں ہیں ہی کمال کے ان کو کھا جانے کو دل کرتا ہے سردار ایک سائڈ پر ہوا اور اپنے سارے کپڑے اتار دئیے اور چھمیہ کو بھی شلوار اتارنے کو کہا دونوں اس وقت بغیر کپڑوں کے ایک دوسرے کو حوس بھری نگاہوں سے دیکھتے رہے اور پھر چھمیہ نے سردار کےہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے ملایا اور چوسنا شروع کردیا سردار بھی جوش خروش سے اس کا ساتھ دے رہا تھا تھوڑی ہی دیر بعد چھمیا نے سردار کے سینے پر موجود بالوں پر ہاتھ پھیرنے لگی اور سردار کے سینے پر کالے نپلز کو منہ میںلے لیا مزے سے سردار کی آواز نکلی آہ آہ آہ اور پھر چھمیاں نے ایک بار پھر لن کی ٹوپی کو منہ میں ڈال لیا اور لن کے نیچے بالز کو ہاتھوں سے پکڑ کر دبانے لگیپوزیشن یہ تھی کہ سردار نیچے اور چھمیہ اوپر تھی کہ اچانک ہی سردار نے چھمیاں کو نیچے کیا اور خود اوپر آ کر اس کے بوبز کوچوسنا شروع کر دیا پھر اس کے جسم کے ہر حصے کو چومنا شروع کیا اور نیچے پھدی کے لبوں پر اپنا موٹا لن رکھا اور ایکزوردار جھٹکا مارا اور چھمیا کی چیخ نکلی اور وہ بلبلا اٹھی اس کے چہرے پر تکلیف کے تاثرات عیاں تھے اور سردار کو کہا ظالم آرام سے اندر ڈال اس جھٹکے میں صرف لن کی ٹوپی ہی گئی سردار رکا پھر سردار نے اپنا لن باہر نکالا اور پھر آہستہ اندر ڈالا تنگ پھدی اسبات کی گواہی دے رہی تھی کہ زیادہ اس کو استعمال نہیں کیا گیا پھر پھدی میں لن ڈال کر آہستہ آہستہ اندر باہر کرنے لگاجس سے چھمیا کی مزے سے آنکھیں بند ہو گئی اور اس کے منہ سے آوازیں نکلنا شروع ہو گی آہ آہ آہ سردار کے لن کی ٹوپی کے مزے سے پھدی میں لیس دار پانی کی وجہ سے لن قدرے بہتر اندر باہر ہو رہا تھا کہ اچانک طاقت ور جھٹکا دیا سردار نے ساتھ ہی چھمیہ کی چیخ نکلی اور آدھا موٹا اور لمبا لن سخت پھدی کے اندر جا سکاایک اور طاقت ور جھٹکے کے ساتھ پورا لن اندر چلا گیا اور سردار پھر رکا اور آہستہ آہستہ لن کو ہلانے لگا چھمیاں کا اسآخری جھٹکہ کے ساتھ پورہ جسم لرز اٹھا تھا راڈ کی طرح سخت لن موٹا ہونے کی وجہ سے پھدی کے پڑخچے اڑانے کیصلاحیت رکھتا تھا سردار اپنے جھٹکوں کو آہستہ آہستہ اضافہ کرتا گیا اور پورے کمرے میں دونوں کی آواز سرور سے بھریمست آوازیں گونجنے لگی ایسا لگ رہا تھا کہ اس چدائی کا دونوں ہی مزا لے رہے ہوں اب لن کافی حد تک اندر باہر آسانی سے ہو رہا تھا اور سردار کے طوفانی جھٹکوں کی شدت میں بھی تیزی آ رہی تھی کہاچانک ہی چھمیہ کا جسم اکڑا اور پھودی نے پانی چھوڑ دیا جب کہ سردار کے جھٹکے با دستور لگتے رہیں کچھ ہی پل میں سرداربھی پھدی میں اپنا پانی چھوڑ کر ریلیز ہو گیا اور چھمیہ کے اوپر لیٹ کر ہونٹوں کو چوسنے لگا لن پھدی کے اندر ہی رہنےدیا ابا سائیں چودائی کے بعد دھوتی پہن کر جیسے ہی کمرے سے باہر نکلا تو آواز دی “بلا “کتھاں مر گئی (کہا مر گیا ہے) ایک جانب سے وہی بلی سی آنکھوں والا بھاگتا ہوا آیا حکم کرو سائیں اندر ونج ڈیکھ او چھوکری اگر جیندی ہے تا ہوکو کتھائی سٹ آ مر گی ہے تا جنگل وچ پور آ (اندر جا کر دیکھو کہ لڑکی زندہ ہے تو کس جگہ اسے پھینک او جبکہ مر گئی ہو تو جنگل میں جا کر اسے دفن کر دو ) جو حکم “ابا سئیں “ بلا نے سن کر جواب دیا ابا سئیں یہ کہ کر ایک سائڈ پر بنے کمرے کی جانب گیا اور بیٹھ گیا یہ وہی کمرہ تھا جہاں پر اس ایچ او سے فون پر بات ہویتھی وہاں موجود ملازم جس کا نام عطی تھا کو کہا ونج میڈے واسطے کھاونڑ دا بندو بسط کر میں دھاں کے امدا پیاں (جاؤ میرے لیے کھانے کا بندوبست کرو میں نہا کر آ رہا ہوں ) ابا سئیں نہانے سے فارغ ہو کر کھانا کھایا اور ڈیکار مار کر بولا عطی ! اے ڈس بلا نے کیا کیا انتظام کیتے ہوں کنجر گانڈو واسطے ابھی عطی بتانے ہی والا تھا کہ فون کی گھنٹی بجی عطی نے فون جو ایک سائڈ ٹیبل پر پڑا تھا کو اٹھا کر ابا سائیں کو دیا ابا سئیں کال اٹھا کر بولا جی کونڑ بولیندا پائیں کون بول رہا ہے دوسری طرف سے باوقار لہجہ میں کہا گیا ڈی پی او عارف نواز خان میں صدقے تھیواں آج کیوے صاحب بہادر بھول پیے ہین شکر ہے ساڈی یاد تا آئیں (میں صدقے جا آج کیسے ڈی پی او صاحب بھول کر یاد کر بیٹھے ہیں شکر ہے میری یاد تو آئی ) ابا سائیں آپ کو تو پتہ ہے کہ میں بہت مصروف رہ جاتا ہوں اس ضلع میں کام کا برڈن بہت زیادہ ہے ورنہ آپ کو تو میںضرور کال کرتا ڈی پی او عارف نواز نے کہا جیا سائیں جیا میکوں پتہ ہے کہ صاحب بہادر مصروف رہندے پر سجنڑاں واسطے ٹائم کڈھ گنیدے قبلہ ہنڑ حکم کرو یادکیویں کیتا ہوے (جی مجھے پتا ہے کہ آپ مصروف ہوتے ہیں پر سجن دوستوں کیلئے ٹائم نکالنا پڑتا ہے اب حکم کریں کیسے یاد کیا ) ضرور جناب ضرور میں وقت نکال کر آونگا آپ کے پاس اج مجھے ایس ایچ او کی کال آئی تھی بتا رہا تھا چھوٹو گینگ کےبارے میں کہ وہ آپ پر حملہ کرنے کا پروگرام بنارہے ہیں آپ سے ایس ایچ او نے پولیس تعینات کرنے کا کہا پر آپنے انکار کر دیا ابا سائیں بولا صاحب بہادر اے ٹھیک ہے کہ میں تہاڈی عزت کریندا پر ہندا اے مطلب نہیں کہ تسا میڈی توہیں کرومیں نا مرد نہیں ہاں جو پولیس دا سہارا گہنا میں اپنے دشمنا نال نبڑن جانڑدا میں خود ہوکو ایسا سبق ڈیسا کہ کہ او مر کے ویمیکوں کینا بھل سکسی تسا پریشان نہ تھیوں غصے سے ابا سائیں نے فون بند کر دیا (ابا سائیں نے کہا کہ ڈی پی او صاحب یہ بات ٹھیک ہے کہ میں آپ کی عزت کرتا ہوں پر اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپمیری توہین کریں میں نامرد نہیں ہوں جو پولیس کا سہارا لوں میں اپنے دشمنوں سے نپٹنا جانتا ہوں میں خود اس کو ایسا سبقدونگا کہ وہ مر کر بھی یاد رکھے گا ) انسپیکٹر آصف اپنے آفس میں موجود فائلوں کو پڑھ رہا تھا کہ فون کی گھنٹی بجی آفس کے باہر شور شرابہ سنائی دیا جو انسپیکٹر کو ڈسٹرب کر رہا تھا تو اس نے بیل دی باہر موجود سپاہی اندر داخل ہواسلیوٹ کیا تو انسپیکٹر آصف نے کہا کہ یہ کیا باہر شور ہے کیا مسلۂ ہے تو اس سپاہی نے کہا کہ سر باہر ایک بڑھا آیا ہوا ہے جو اپنی بیٹی کو گمشدگی کی رپٹ لکھوانا چاہتا ہے اور زاروقطار رو رہاہے ایک دم سے اس کو یاد آیا کہ جب وہ تھانے آ رہا تھا تب ایک بوڑھا اس کی گاڑی سے ٹکراتے ٹکراتے بچا تھا یہ خیال آتےہی وہ اٹھا اور باہر آ کر دیکھا تو تھانہ کے منشی کے روم سے رونے کی آوازیں آ رہی تھی وہ اس جانب چلا گیا ہولدار اورتھانہ کا منشی ایس ایچ او آصف کو دیکھ کر کھڑا ہو کر سلیوٹ کیا انسپیکٹر آصف نے اس بوڑھے کو دیکھا جو وہی بوڑھا تھا جو راستے میں ملا اس نے بوڑھے کو مخاطب کر کے کہا میرےآفس میں آؤ مجھے بتاؤ کیا مسئلہ ہے وہاں ٹھرے سپاہی کو کہا کہ ان کو میرے آفس لے آؤ یہ کہ کر انسپیکٹر آصف اپنےآفس کی جانب روانہ ہوا بوڑھے نے جب انسپیکٹر کو دیکھا ایک دم سے چونک گیا اور خاموش ہو کر آہستہ آہستہ چلتا ہوا آفس کی جانب چل پڑا انسپیکٹر آصف نے جب بوڑھے کو اپنے آفس کے دروازے پر دیکھا تو کھڑے ہو کر ایک جانب آفس میں موجود کرسی پر بیٹھایا اور پھر اپنی کرسی پر بیٹھ گیا بزرگ کے ساتھ آیا ہوئے سپاہی کو کہا بابے کے لیے پانی لے آؤ سپاہی باہر گیا پانی لے آیا بابے کو دیا بابے نے پانی پیا اور انسپیکٹر نے سپاہی کو واپس جانے کا اشارہ کیا اور وہ باہر چلاگیا انسپیکٹر آصف نے کہا کہ سب سے پہلے میں معافی چاہتا ہوں کہ راستے میں آپ سے جو غیر مناسب رویہ رکھا امید ہے کہآپ مجھے معاف کر دیں گے میں بہت شرمندہ ہوں شرمندہ سے لہجہ میں انسپیکٹر آصف نے کہا بابے نے کہا بیٹا معافی مانگ کر مجھے شرمندہ مت کرو میں سمجھتا ہوں آج کل کے نوجوان غصیلے ہیں میں بہتر جانتا ہوںکیونکہ میں سرکاری سکول میں ہیڈماسٹر رہا ہوں بیٹا بس میں صرف اپنی بیٹی کی گمشدگی کے بارے میں رپٹ لکھوانا چاہتا ہوں جو دو دنوں سے غائب ہے میں نے اسے ہرجگہ ڈھونڈا پر کہی بھی اس کا کہی بھی آتا پتہ نہیں ملا بیٹا بس میری بیٹی کو ڈھونڈنے میں میری مدد کرو میرا اس کے علاوہکوئی نہیں بوڑھے نے ابدیدہ ہو کر کہا انسپیکٹر آصف نے کہا آپ پریشان نہ ہوں آپکی بیٹی کو ڈھونڈنے میں آپ کی بھرپور مدد کرونگا اور بیل بجائی باہر ٹھہرہ ہوا سپاہی اندر آ کر سلیوٹ کیا انسپیکٹر نے تہمکانہ لہجہ میں کہا کہ ارسلان کو بلاؤ جی سر سپاہی کہہ کر باہر بلانے چلہ گیا تھوڑی ہی دیر میں سب انسپیکٹر ارسلان آفس میں داخل ہوا اور ایک جانب بیٹھ گیا بزرگو آپ کا نام تو میں پوچھنا ہی بھول گیا انسپیکٹر آصف نے کہا میرا نام کرم دین ہے بوڑھے نے اپنا نام بتایا ارسلان یہ کرم دین ہیں ان کا کہنا یہ ہے کہ دو دن سے ان کی بیٹی غائب ہے ہر جگہ تلاش کر چکے ہیں پر کہی بھی اس کا پتہنہیں چل سکا ان کو لے جاؤ پوری ڈیٹیل لے کر سب سے پہلے ان کی بیٹی کی تلاش کرو اور مجھے رپورٹ کرو انسپیکٹر آصفنے کہا سب انسپیکٹر ارسلان نے جوابا کہا جی سر جو آپ کا حکم کرم دین ٹھا اور انسپیکٹر آصف سے مخاطب ہو کر کہا میں آپکا شکر گزار ہوں اپ کی مہربانی مجھ جیسے غریب پر مہربانی کر رہے ہیں میں آپ کا احسان مند رہونگا ہمیشہ اوردعائیں دینے لگا انسپیکٹر نے کہا بابا جی اپ کیوں شرمندہ کر رہے ہیں میں تو پہلے ہی شرمندہ ہو جو شام کا واقعہ ہوا بس اپ مجھے اپنا بیٹاسمجھیں میری تمام تر ہمدردیاں آپ کے ساتھ ہیں اٹھ کر انسپیکٹر نے کرم دین کو گلے لگایا اور کرم دین پر نُم انکھوں ارسلان کے ساتھ افس سے باہر نکل گیا بل بجائی اور سپاہی کو بولا منشی کو بلا لاؤ منشی نے آتے ہی سلیوٹ کیا انسپیکٹر آصف نے کہا جاؤ چھوٹو گینگ کے جرائم کی مکمل فائل میری گاڑی میں رکھوا دو میںگھر جا رہا ہوں کوئی مسئلہ درپیش ہو تو مجھے سے موبائل پر رابطہ کر لینا یہ کہہ کر انسپیکٹر آصف باہر جانے کیلے اٹھ کھڑاہواگاڑی میں بیٹھا اور منشی سے فائل لی اور گھر کی جانب روانہ ہو گیا بگو سردار چھوٹو کی بات سن کر ایک طرف جہاں گھنہ اور تاریک جنگل کی طرف روانہ ہوا وہاں چھ مسلح افراد تھے ان کوجا کر کہا چلوں شہر کی طرف چلو موٹر سائیکلیں لے آؤ اور ساتھ میں کلہاڑیاں بھی لے انا یہ سن ان میں سے تین بندے گیے اور تین موٹر سائیکلیں 125 سی سی لے آئے اور وہ چھ مسلح افراد تین موٹر سائیکلوں پرسوار ہو کر شہر کی جانب نا ہموار سے راستوں سے شہر کی جانب توانا روانہ ہوئے راستہ میں ایک مسلح شخص نے پوچھا کہ بگو خیر تو ہے آج کہاں واردات کرنے کا ارادہ ہے بگو مسکرایا اور کہا تو بس دیکھتا جا آج کافی مال اکٹھا کرنا ہے باتیں کرتے کرتے وہ لوگ مین روڈ پر جہاں چھوٹے اوربڑے درخت سڑک کے کنارے پر لگے ہوئے تھے پہنچ گئے بگو مین روڈ کے ایک سائڈ پر رکنے کا اشارہ کیا موٹر سائیکل سوار رک گئے چلو اس درخت کو کاٹو بگو نے ایک جانب درخت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا دو مسلح افراد نے اپنی اپنی کلاشنیں ایک شخص کو دے کر درخت کو کاٹنے لگے کچھ ہی دیر بعد درخت کٹ کر زمین بوسہوا اس کو سڑک کے درمیان ڈال کر سائڈوں پر لگے درختوں کے پیچھے چھپ جاؤ بگو نے کہا اب منظر یہ تھا کہ کہ سڑک درخت کی وجہ سے بلاق ہو گئی تھی کچھ ہی دیر بعد ایک اے پی وی وین دور سے آتی دیکھائی دی بگو زیر لب مسکرایا اور کہا پہلا شکار آ رہا ہے وین ڈرائیور نے گرے درخت کو دیکھ کر زور دار بریک لگائی پر پھر بھی درخت سے چند انچ کی دوری سے ٹکراتے بچییں اے پی وی کے رکتے ہی مسلح افراد نے اس کا گھیراو کر لیا اور گنیں تان کر ڈرائیور کو نیچے اتارنے کا اشارہ کیا بگو گےبڑہااور ایک زور دار تھپڑ ڈرائیور کو دے مارا تھپڑ کھا کر خوف زدہ ہو کر اپنا گال مسلنے لگا جبکہ اے پی وی میں موجود سواریاں جن بچے اور عورتیں بھی شامل تھی اسناگہانی صورت حال میں خوفزدہ دیکھائی دے رہے تھے بگو نےسب کو نیچے آنے کا کہا سب کے سب لوگ وین سے نیچے اتر کر ایک سائڈ پر ہو لیے میں آب سب کو کچھ نہیں کہونگا جو جو کچھ ہے سب کا دے دو اگر کسی نے کوئی چالاکی کرنے کی کوشش کی تو انجام کا وہخود زمہ دار ہو گا سب نے چپ چاپ جو کچھ بھی تھا نکال کر دے دیا چوں چراں کیے بغیر نکال کر دے دیا اتنے میں ایک بس آتی دیکھائی دی تو بگو نے سب کو چیخ کر کہا سائڈ پر ہو جاؤ بس کو لوٹنا ہے بس بھی حسب توقع گرےدرخت کے پاس آ کر رکی بگو جونہی درخت کی آوٹ سے باہر نکلا فائر کی آواز آئی اور بگو زمین پر جا گرا1 like
-
(چھوٹو گینگ (ظلم کی سچی داستان
update 1 چھوٹو گینگ (ظلم کی ایک سچی داستان) جہازی سائز بیڈ پر20 سالہ خوبصورت لڑکی شلوار قمیض میں ملبوس تھی جس کے دونوں ہاتھ اوپر کی طرف رسی سے بندھے ہوئے تھےبکھرے بال خوفزدہ پر نم اور سہمی نگاہوں سے ارد گرد کا جائزہ لے رہی تھی کمرہ کشادہ اور نفاست سے سجا ہوا تھا جگہ جگہ دیواروں پر لگی خوبصورت پنٹنگز کمرہ کی خوبصورتی کو چار چاند لگا رہی تھیں اعلی فرنیچر کامعیار مکین کے دولت مند ہونے کی گواہی دے رہا تھااچانک ہی سائڈ سے کمرے کا دروازہ کھلا اور اور ایک لمبا ترنگا تقریباً 45 سال کا مضبوط جسامت والا اور بڑی بڑی مونچھوں والا دھوتی اور قمیض میں ملبوس شیطانی مسکراہٹ لیے لڑکی کی جانب گھورتا ہوا اس خوبصورت کمرہ میں داخل ہوا اس کی آنکھوں میں بلاکی حوس اور درندگی عیاں تھی - مونچھوں کو تاؤ دیتے کینہ طور نگاھوں سے لڑکی کی جانب بڑھا- معصوم لڑکی نے جب اس کو دیکھا تو دہشت زدہ ہو کر اور روہانسی سی صورت بنا کر گڑ گڑاناشروع کر دیا مجھے چھوڑ دو — کے لیے پلیز میرے ساتھ غلط مت کرو -میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں میرے بابا پریشان ہو رہے ہوں گےزاروقطار روتے ہوئےآپنے ہاتھوں کو چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی پر مضبوط رسی سے بندھا ھونے کی وجہ سے آزاد ہونےکوشش میں کامیاب نہ ہو پا رہی تھی زور لگانے اور اور آزاد ہونے کی کوشش میں اس کی نازک کلائیوں سے لال سرخ نشان اورکہی کہی سے خون رستا صاف دیکھائی دے رہا تھا پر اس شیطان صفت شخص پر کسی بھی آہو بقا کا کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا - شیطانی مسکراہٹ لیےلوفرانہ نگاہ اس کے بھرے بھرے جسم پر ڈالی اور کہا نوٹ (سرائیکی بیلٹ کے وڈرے آپنی مادری زبان سرائیکی کو کافی اہمیت دیتے ہیں اور وہ ہمیشہ ہی آپنی مادری زبان میں بات کرنےمیں فخر محسوس کرتے ہیں اس لیے اس سٹوری کے کرکٹر “آبا سائیں “ بھی ہر کسی سے سرائیکی میں بات کرتا ہے قارئین کی سہولتاور بات کو سمجھنے کے لیے اردو میں ترجمہ موجود ہے اب آتے ہیں سٹوری کی طرف ) کہ تو وڈی سوہنڑی ہیں (تم بہت خوبصورت ہو )آج واقعی مزا آئ ویسی تیڈی پھدی وچ لن ڈے کے (تمہاری پھدی میں لن دے کریہ کہ کر اس نے اپنی انگلیوں سے چہرے سے بالوں کی ایک لٹھ کو سائڈ کیا اور زخمی کلائیوں کو دیکھتے ہوئےلوفرانہ انداز میں بولا میڈی جان کیوں ہناں نازک کلائیاں کو درد ڈیندی پئی ہئیں میں جیویں اکھاں اوے کر وڈا مزا آ سی آج تک ایہو جی مزا کہی نے نہڈتا ہوسی تو میکوان زندگی بھر نوی بھل سکدی میڈی گال من چا یہواوڑا تے تو ہے زبردستی یہوہیسے تاں درد بہوں تھی سی اگو تیڈیمرزی (جان من کیوں ان نازک کلایئیوں کو اذیت دےرہی ہوں میں جو کہتا ہوں ویسے کرو بہت مزا آئے گا آج سے پہلے کبھی بھی ایسامزہ کسی نے نہ دیا ہو گا اور نہ ہی دے سکتا ہے تم مجھے زندگی بھر نہ بھول پاؤ گی میری بات مان لو ابھی میں پیار سے سمجھا رہا ہوںچودنا تو تمہیں ہے زبردستی چدواو گی تو تکلیف تمہیں ہی ہو گی آگے تمہاری مرضی کہ کر ) اس نے قمیض کو پکڑکر پھاڑ دیا جس سے اس کے 34سائز کے براءمیں قید سفید ممے عیاں ہوگئے لڑکی زارو قطار روئے جا رہی تھی اور اپنی برہنگی چھپانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی اور منت سماجت کر ہی تھی اور چیخ چیخ کر رحم کی بھیک مانگ رہی تھی پر اس شخص کو اس پر رحم نہیں آ رہا تھا اس نے شیطانی قہقہ لگایا اور ایک ہی جھٹکہ میں اس نے مموں کو براہ سے آزاد کر دیا پھر اپنی انگلیوں سے نپلز کو مسلنا شروع کیادیا لڑکی زارو قطار چیخ رہی تھی مجھے بچاو کوئی ہے مجھے بچاؤ ——-کے لیے اس سے بچاؤ کہتے ہوۓاپنے برہنہ مموں کو چھڑانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی جب کہ وہ شخص اس کی چیخوں سے خوش ہو رہا تھا کہ اچانک زور زور سے دروازہ بجنے کی آواز آئی شام کا ٹائم تھا تھری پیس سوٹ میں ملبوس ایک خوبصورت نوجوان چشمہ لگائے تیز میوزک کی میں انگلشدھنوں کی آواز پر تیز رفتاری سے گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا اچانک سے وہ چونکا اور زور دار بریک لگائی گاڑی لڑکھڑائی۔ پر اس نے بڑی مہارت سے گاڑی کو کنٹرول کیا اور گالیاں بکتا ہوا گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکلا آگے ایک بوڑھا موٹا چشمہ لگائے لاٹھی کے سہارے سڑک کے بیچ و بیچ گاڑی سے چندانچ کی دوری پر ٹھہراہوا ٹکٹکی باندھے گاڑی کودیکھ رہا تھا اس کے چہرے پر دنیا بھر کا درد اور تکلیف عیاں تھی اگر بروقت بریک نہ لگتی تو بڑھے کی موت یقینی تھی اندھے ہو کیا مرنے کا ارادہ ہے تمہیں اتنی بڑی گاڑی نظر نہیں آ تی اگر لگ جاتی تو تمہاری ہڈی پسلی ٹوٹ جاتی نوجوان نے شدید غصہ سے اور تکبر سے چیخ کر کہا بیٹا کاش کہ میں مر جاتا آج کیوں بچایا ہے مار ہی ڈالتے ایسی ذلت اور رسوا زندگی سے تو مو ت ہی اچھی بوڑھے نے بے چار گیسےکہا اور زارو قطار رونا شروع کر دیا نوجوان نے بے زاری سے بوڑھے کی بے چارگی کی پرواہ کیے بغیر ایک جانب دھکیلا اور کہا کسی اور گاڑی کے نیچے مرو جاؤ بڑبڑاتےہوئے گاڑی میں سوار ہوا کہ اچانک موبائل کی گھنٹی بجی کال رسیو کرکے غوصیلے لہجے میں بولا کیا مسلۂ ہے دوسری طرف سے جواب سن کر چہرے کے تاثرات بدلے اور بولا اچھا تم وہیں رکو اور پوری تیاری کرو میں آ رہا ہوں کال کاٹ دی اورغصہ سے بوڑھے کی جانب دیکھا اور تیز رفتاری سے گاڑی اگے کی طرف بڑھا دی پولیس سٹیشن میں اس وقت بھونچال سا آیا ہوا لگ رہا تھا پوری فورس میں اس وقت ایک خوف اور ڈر نظر آ رہا تھا ایسا لگ رہاتھا کہ کسی خطرناک بندے کے خلاف پوری فورس سے کاروائی کا ارادہ ہے اچانک سے باہر سے کانسٹیبل کی آواز آئی صاحب آ گئے باہر سے وہی کار والا نوجوان نمودار ہوا باروعب انداز میں ایک سائڈ پر بنے کمرے کی جانب بڑھا یہ نوجوان جس کا نام انسپکٹر آصف تھا جو ڈیرہ غازی خان کے تھانے میں حال ہی میں ایس ایچ او تعینات ہوا تھا فطرط بدماغ اورمغرور سمجھا جاتا تھا آ کر کرسی پر شان بے نیازی سے بیٹھا باہر سے ایک پولیس کا جوان اندر داخل ہوا سلیوٹ کیا اور کمرہ میں موجود کرسی پر بیٹھ گیا ہاں بتاؤ کیا خبر ملی ہے انسپکٹر آصف نے پوچھا پولیس کے جوانوں نے کہا کہ سر خبر یہ ہے چھوٹو گینگ نے “آبا سائیں “کے گھر حملہ کرنے کا پروگرام بنارہا ہے کسی بھی وقتانہوں نے حملہ کرنا ہے اگر ہم نے ان کو زندہ پکڑنا ہے تو یہ موقع بہترین ہے انسپکٹر آصف نے کہا کہ تم لوگوں نے کیا پلان بنایا ہے اسے پکڑنے کا اور کیا “ابا سائیں “کو پتا ہے اس حملے کا ؟؟؟ پولیس کے جوان جس کا نام سب انسپیکٹر ارسلان تھا نے پر جوشیلےانداز میں کہا سر ہم پولیس کو تین لیرز میں تقسیم کریں گے تاکہ چھوٹو گینگ کسی بھی صورت بچ کر نکلنے میں کامیاب نہ ہو جایےاگر ہم سادہ کپڑوںمیں پوری حویلی میں پولیس کے جوانوں کو تعینات کر دیں گے اور کچھ حویلی کے باہر اور کچھ جوان مین روڈ پر تو ہم ان کو پکڑنے میںکامیاب ہو جائیں گے یہ لوگ کچھ دن وہاں رہیں گے آبا سائیں کے ملازموں کی جگہ سادہ لباس میں پولیس اہلکار موجود ہونگے جب حملہ ہو گا تو یہ لوگ چھوٹو گینگ مقابلہ کر کے کو پکڑنے میں کامیاب ہو جائے گے اور سر جہاں تک “ابا سائیں “ کو بتانے کی بات ہے آپ کو تو پتہ ہے کہ وہ کسی کی بات بھی نہیں مانیں گے تو سر اپ ان کو ساری بات بتا دیں اور کوٹھی کو خالی کرا کر پولیس اہلکار تعینات کروا دیں مجھے امید ہے “ابا سائیں “ اپ کی بات کو نہیں ٹائلیں گے انسپکٹر آصف نے ان کا پلان اور باقی باتیں سن کر سر ہلایا اور کہا کہ آپ لوگ تیاری کرو میں “ابا سائیں “ سے بات کرتا ہوں انکو منانے کی کوشش کرتا ہوں سب انسپیکٹر ارسلان سلیوٹ کر کے کمرہ سے باہر چلے گیا انسپیکٹر آصف نے موبائل اٹھایا “ابا سائیں “ سے بات کرنے کیلیے نمبر ڈائل کیا فون اٹینڈ نہ ہونے پر پھر ڈائل کیا تو وہاں سے کالرسیو کی اور بولا جی سئی کون بولیندے پیئے ہوئے (کون بول رہا ہے) ابا سائیں کہا ہیں ان سے بات کرواؤ۔ انسپکٹر آصف نے تہمکانا لہجے میں کہا دوسری جانب سے کہا گیا سائیں ابا سائیں مصروف ہین گال نہیں کر سکڈے۔ (ابا سائیں مصروف ہیں بات نہیں کر سکتے) تم میری بات کرواو کہو کہ انسپیکٹر آصف بات کرنا چاہتا ہے اباسائیں کی زندگی اور مو ت کا سوال ہے جلدی کرو انسپیکٹر آصفنے غصیلے لحجے میں کہا ——نہ کرے۔ کہیوں جی گالہیں کریندے پیہیوے ایوے تھانیدار صاحب نہ اکھو سائیں میں گال کروینداں ملازم نے گھبراکر کہا (کیسی باتیں کر رہیں ہیں ایسی بات مت کریں میں بات کرواتا ہوں ) دروازہ زور زور سے بجنے کی آواز سن کر لمبا ترنگا شخص جو دراصل “ابا سائیں” تھا غصہ سے چیخ کر بو لا کون ہے؟ باہر سے جواب آیا سائیں میں تہاڈا خادم ہاں (سائیں میں آپ کا خادم ہوں ) کیا مرنا تھی گئ زور زور دی دروازہ وجیندہ پائیں نامراد گڈو دماغ ہا “ابا سائیں” نے غوصیلے لحجے میں دروازہ کھولتے ہوئےکہا (کیا مسلا ہو گیا ہے جو دروازہ بجا رہا ہے تو گدھے کے دماغ والے نامراد ) سائیں اوھ تھانیدار دا فون آیا ہے آدھا پیا ہائی تھاڈی زندگی تے موت دا مثلا ہے گال کرواو جلدی ملازم نے ڈرتے ڈرتے کہا (سائیں وہ انسپیکٹر کا فون آیا ہے بول رھا تھا کہ آپ کی زندگی اور موت کا مثلا ہے بات کرواوں ) ابا سائیں نے چونکتے ہی دوسرے روم میں موجود فون کی جانب بڑھا اور فون اٹھا کر بات کی ہاں وے تھانیدار کی تھی گے کوئی نشہ تا نہیں کیتی ودہ کندھے وچ اتنی ہمت ہے جو میڈی زندگی او موت دی گال کرے میں ہندیماں بھیںڑ تے کتے نا چڑہا ڈیسا ڈس میکوں (ہاں انسپکٹر کیا ہو گیا ہے کوی نشہ تو نہیں کیا کس ہمت ہے جو میری زندگی اور موت کی بات کرے میں اس کی ماں اور بہن پرکتے نہ چڑھا دونگا ابا سائیں دراصل بات یہ ہے انسپکٹر آصف نے پوری حملہ کی تفصیل اور پکڑنے کا پلان بتا دی جسے سن کر آبا سائی نے کہا وے کنجرا تیکو کینی پتا کہ میں آپڑنی حفاظت خود کر سکدا آہ جو سانڈ پالے ہوئے ہین آہ جت مرواونڑ دے کم اسن میکوں تیڈی پولیستے بھروسا کینی میں ھوں گانڈو کو آپ منٹ گھنسہ تیکو فکر کرنڑ دی ضرورتکینی (آوے کنجر تمہیں نہیں پتا کہ میں اپنی حفاظت خود کر سکتا ہوں یہ جو میں نے سانڈھ نما بندے رکھے ہوے ہیں وہ کیا گانڈ مروانے کےکام آیے گے اس گانڈو کی سے میں خود نپٹ لونگاتو فکر نہ کر یہ کہ کر غصہ سے فون پٹکھ دیا) جنگل میں ایک کچے کمرےمیں ایک طرف آگ جل رہی تھی جس سے تاریک کمرہ روشن تھا کمرے میں تین مسلح افراد ایکزنجیروں میں جکڑہ ہوا اور گلے میں پٹہ بندھا ہوئےایک شخص کو بری طرح لاتوں اور گھوسوں کی مدد سے پیٹ رہے تھےنوجوان کیچیخوں کی آواز پورے کمی میں گونج رہی تھی ہماری مخبری کرتا ہے ابھی بتاتا ہوں تجھے ان تینوں میں سے ایک شخص نے کہا جو ان کا سردار لگ رہا تھا نے مارتے ہوے کہا بگو جاؤ چھرا لے آ جی سردار بگو باہر کے دروازے کی طرف گیا اور کچھ ہی دیر بعد ایک بڑا پھل والا چھرا لے آیا جسے دیکھ کر نوجوان خوف زدہ ہو کر چلانے لگا ——— کے لیے مجھے چھوڑ دو جیسا تم کہو گے میں ویسے کرنے کیلیے تیار ہوں مجھے معاف کر دو مجھ سے غلطی ہو گئی ————- کے لیے مجھے چھوڑ دو آئندہ میںایسی حرکت نہیں کرونگا میں ہمیشہ تمہارا وفادار بن کے رہو گا مجھے چھوڑ دو وہ شخص گڑگڑا کے دوھایاں دیتا رہا پر سردار کو اس پر تھوڑہ بھی رحم نہ آیا بلکہ اس نے کہا تو آیندہ کی بات کرتا ہے آیندہ تو اس قابل ہو گا تو کچھ کرے گا پکڑو اس کے ہاتھ دو مسلح افراد نے اس کے ہاتھ پکڑے سردار نے لمبے پھل والی تیز دھارچھری لے کر اس کے بائیں بازو پر چلانا شروع کر دیا جیسے وہ انسان کی بجائی کسی بھیڑ بکری کوکاٹ رہا ہو اور سفاکانہ لہجہ میں کہا کہ میں پہلے تیرے بازوں کو کاٹوں گا پھر تیری زبان پھر تیرے کان اور پھر تیری ٹانگیں وہ نوجوان درد کی شدت سے بے حال ہو کر چیختا چلاتا رہا یہاں تک کہ اس کا داہنا بازو بھی کاٹ کر جسم سے الگ کر دیا درد کی شدت سے وہ شخص بے حوش ہو گیا خون کے فواروں سے سردار کا حاتھ خون سے سرخ ہو گیا اور خون کے چھینٹوں سے اس کا چہرہ انتہائی حیبت ناک لگ رہا تھا چھوٹے قد کا مضبوط جسامت والا اور سفاک ہیبت ناک شکل والایہ سردار کوئی اور نہیں چھوٹو گینگ کا سردار چھوٹو تھا جو اپنےچھوٹے قد کی وجہ سے چھوٹو بلایا جاتا تھا انتہائی حد درجہ سفاق اور فطرط کمینہ شخص تھا ارد گر کے گاؤں کے لوگ اس سے بہت خوف زدہ رہتے کیوں کہ یہ درندہ صفتانسان تھا انسانوں کو اذیت دے کر قتل کرنا اس کا محبوب مشغلہ تھا اس کے ساتھی ڈاکو تک اس کی درندگی کی وجہ سے اس سےخوف زدہ رہتے تھے اس کی دہشت کوسوں دور تک پھیلی ہوئی تھی دونوں ہاتھوں کو جسم سے الگ کر کے اس نے اپنی زبان نکالی اور الگ ہوئے ہاتھ سے خون نکل رہا تھا چوسنے لگا اور قہقہ لگا کر کہتا ہے اس نا مراد کے خون کا زایقہ تو کمال ہے چلو باقی کل اس کی زبان کاٹیں گے اج کیلیے اتنا کافی ہے سفاکانہ لہجے میں کہا یہ کہہ کر سردار اس کمرہ سے باہر نکلا اور اور چلا کر بولا بگو۔ جو کمرہ میں موجود تھا باہر آیا اور کہا کہ جی سردار وہ آج چھمیاں نے انا تھا وہ کہا ہے میرا لن اس کی پھدی میں جانے کیلئے بے تاب ہے اپنے لن کو شلوار کے اندر سے ہی مسلتےہوئے کہا سردار وہ یہاں آ گئی ہے آپ مصروف تھے تو نہیں بتایا آپ ہی کا انتظار کر رہی ہے بگو نے خوشامدانا لہجے میں کہا سردار چھوٹو نے خوش ہوتے ہوئے کہا چلو پھر آج کی رات چھمیاں کا رس پیتا ہوں ارے ہاں رکو خبر ملی تھی پولیس ہمیں پکڑنے کی تیاری کر رہی ہے اس کے بارے میں مکمل معلومات اکٹھی کرو ایسا کاری وار کریںگے کہ آیندہ ہمارے بارے میں سوچ کر بھی ان کو خوف آئے گا یہ کہہ کر ایک سائڈ پر بنے کچے مکان کی جانب چل پڑا انسپیکٹر آصف کیلے جس لہجہ میں “آبا سائیں” نے بات کی اور کال کاٹی شدید ناقابل قبول تھا جس کی وجہ غصہ سے اس کا چہرہ لالسرخ ہو گیا تھا اپنے ہی آفس میں ٹہلتے ہوئے اس نے بیل بجائی اور سب انسپیکٹر ارسلان کو بلانے کیے سپاہی کو بھیجا تھوڑی ہی دیر میں سبانسپیکٹر ارسلان آفس میں داخل ہوا اور انسپیکٹر آصف کو یوں غصہ میں دیکھ کر سمجھ گیا کہ کیا وجہ ہے آتے ہی سلیوٹ کیا اور کہا سر آپ غصہ نہ کریں “آبا سائیں “ کی طبیعت ہی ایسی ہے اور ایسا ہی مزاج ہے کہ وہ کبھی کسی کی باتنہیں سنتے اور اپنی ہی من مانی کرتے ہیں آخر وہ ایک باآثر سیاسی شخصیت ہیں جس کہ وجہ سے ہم ان کے اگے مجبور ہو جاتے ہیںآپ دھیریج سے کام لیں سب انسپیکٹر ارسلان نے باہر ٹھہرے سپاہی کو آواز دی اور کہا صاحب کے لیے ٹھنڈا پانی لے آؤ انسپیکٹر آصف جو ارسلان کے آتے ہی کرسی پر بیٹھ گیا تھا اور غور سے بات سن رہا تھا ارسلان سے مخاطب ہوا دیکھو ارسلان میں یہاں نیا ضرور آیا ہوں پر جیسا لہجہ “ابا سئیں “ کا تھا وہ میرے لیے نا قابل برداشت ہے آخر ہم ان کی جان ہیتو بچانا چاہتے تھے اس میں ان کی ہی بھلائی تھی اگر چھوٹو گینگ نے حملہ کیا اور کوئی جانی نقصان ہوا تو یہ لوگ تو اس کا موردالزامپولیس کو ہی ٹھہرائیں گے اسی دوران سپاہی پانی کا گلاس لے کر آ گیا تو انسپیکٹر آصف خاموش ہو گیا سپاہی نے گلاس رکھا اور چلا گیا جاتے ہی ارسلان نے کہا سر آپ فکر نہ کریں آپ ڈی پی او صاحب سے رابطہ کر کے انہیں خبر کریں اگر وہ ضروری سمجھیں گے تو ابا سائیں سے خود رابطہ کرلیں گے اور آپ بھی بعد میں بری الزمہ ہو جائیں گے سب انسپیکٹر ارسلان ایک زہین اور تجربہ کار جوان تھا اس تھانے میں آئے ہوئےاسے تین سال ہو گیے تھے اس لیے وہ یہاںکے ہر بااثر بندے کے بارے میں جانتا تھا اس لیے انسپیکٹر آصف نے آتے ہی اس کو اپنے ساتھ ملا لیا انسپیکٹر آصف نے بات سن کر تحسین آمیز تاثر کے ساتھ کہا ویری گڈ ارسلان تم نے تو پورہ مسلۂ ہی حل کر دیا میں تو بھول ہی گیا تھا کہ ڈی پی او صاحب کے “ابا سائیں “ سے گہرے مراسمہیں وہ یقینا بات کریں گے آگے ہمیں جو وہ ہدایت دیں گی ہم اسی اندا ز میں پولیس ریڈ کریں گے اور اس سفاق گینگ کو پکڑنے کیکوشش کریں گے اپنی ٹیبل سے موبائل اٹھا کرنمبر ملانا شروع کیا فون پٹخ کر آبا سائیں نے اونچی اوز میں کہا “بلا” کتھا مر گیا ہیں تو (بلا کہا مر گیا ہے ) بھاگتا ہوا ایک بھوری آنکھوں والا چھوٹے قد کا پہلوان ُنما شخص کمرے میں داخل ہوا اور بولا حکم کرو ابا سائیں آج میکوں اطلاع میلی ہے کہ اوہ کتے دا پتر چھوٹو اپنڑے ٹٹواں نال اتھا حملہ کرنڑ دا پروگرام بڑی ندا پے ونج تو تیاری کر سارےکنجرا کو اکٹھا کر کے اکھ کہ میں کو حندی لاش چاہی دی ہے (آج مجھے اطلاع ملی ہے (گالی دی ) چھوٹو اپنے ساتھیوں کے ساتھ حملہ کرنے کا پلان بنا رہا ہے سارے لوگوں کو اکٹھا کرو مجھے اسکی لاش چاہیے ) بلا نے کہا آبا سائیں ہندی اتنی جرات میں ہندی لاش کو کتیاں کو کہویساں توسا سائیں پریشان نہ تھیوو میں سب کوں اکھیںنداسارے کاٹھے تھی تے ہندو بندو بست کریندا (آبا سائیں اس کی اتنی جرات میں اس کی لاش کو کتوں کے کھیلاوں گا اپ پریشان نہ ہوں میں سب کو اکٹھا کر کے اس کابندوبست کرتا ہوں ) میکوں کوئی پریشانی کینی تو ہوکو ماہ ماری میں اپنڑے حتھاں نال ہوکو قپیساں (مجھے پریشانی نہیں ہے میں خود اس کو اپنے ہاتھوں سے مارونگا ) یہ کہ کر “ابا سائیں دوبارہ کمرے کی طرف چلا گیا دروازہ کھول کر بندھی ہوی لڑکی سے مخاطب ہوا میڈا چندر ہن میکوں غصہ نہ ڈیواوی میں آ گیا چپ چاپ میکوں اپنی پدھی ڈے چا بندھی ہوی لڑکی کی جانب بڑھا جو پھر (میری چاند مجھے غصہ نہ دلانا اب میں آگیا ہوں چپ چاپ مجھے اپنی پھودی دے دو) یہ کہ کر اس نے پھر سے بوبز کی نپل کو مسلنا شروع کیا لڑکی گڑگڑانے لگی مجھے چھوڑ دو ——— بندھی ہوی ہونے اور تکلیف کی شدت سے جو کلائیوں زخمی تھی اس کی آواز میں درد تھاالتجا تھی پر ابا سائیں کسی بھی صورت اس کو چھوڑنے کے موڈ میں نہیں تھا ابا سائیں نے دھوتی اتاری جس سے اسکا لمبا اور موٹا نیم مردہ لن ہاتھوں میں جب لڑکی کو نظر آیا تو اس نے خوف زدہ ہو کر زورزور سے چلانا شروع کر دیا بچاو بچاو بچاو کوئی ہے دہایاں دے رہی تھی جب کہ ابا سائی کے دماغ پر اس وقت شیطان سوار تھا کسی بھی قسم کی دہائی کا کوئی اثر اس پر نہیں پڑتا دیکھائی دے رہا تھا پھر اسنے ہاتھوں سے شلوار کو کھینچا لاسٹک کی وجہ سے آسانی سے اترتی چلی گی جس سے لڑکی کی سفید پھدی عیاں ہوگئی لڑکی سٹپٹائی اور اپنے اپ کو بچانے کی کوشش میں تیزی لانے لگی اس وقت لڑکی کا بے داغ جسم بوبز اور پھدی ابا سائی کو دعوت گناہ کی شدت میں اضافہ کیے جا رہی تھی آہستہ آہستہ اس کے نیم مردہ لن میں جان دکھائی دینے لگی ابا سائیں نے پھر اس کے بے داغ جسم کے ہر حصہ کو کاٹنا شروع کیا جس سے لڑکی کی چیخوں میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا اور کمرہ جونہایت کشادہ ہونے کی وجہ سے گونج رہا تھا اچانک ہی زور دار چیخ کے ساتھ لڑکی نیم بے ہوشی میں چلی گئی ابا سائی نے بوبز پر زور دار کاٹا جس سے وہاں سے خون رسنا شروع ہو گیا اس پر ہی اکتفا نہ کیا اپنے لن کو ھاتھوں میں لے کر ٹانگوں کو اٹھایا اور لن کو پدھی کے لبوں پر رکھ کر ایک زور دار جھٹکا لگایا لیکن تنگ اور خشک پھودی اور موٹا اور لمبا لن ہونے کی وجہ سے صرف ٹوپی ہی اندر جا سکی لڑکی کی نیم بے ہوشی کی حالت میںدرد کی شدت سے ایک بار پھر حیبت ناک چیخ بلند ہوئی اور بیڈ کی شیٹ خون سے تر ہو گئی بے پرواہ ابا سائیں نے پھر ایک جھٹکا لگایا آدھا لن ہی اندر جا سکا پھر آہستہ آہستہ اندر باہر کرنا شروع کر دیا ابا سائیں مزے سےآوازیں نکال رہا تھا اچانک ہی ایک اور جھٹکے سے پورہ لن اندر تھا پھدی بھی اب چکنی ہو گئی تھی جس کی وجہ سے لن قدرےاسانی سے اندر باہر ہو رہا تھا اب کوئی بھی آواز لڑکی کی جانب سے نہیں آئی مگر ابا سائیں کو اس سے غرض نہیں تھی وہ اپنے لن کواندر باہر کر کے کنواری پدھی کی چدائی کے مزے لے رہا تھا اور ابا سائیں کی مزے سے بھرپور آوازیں پورے کمرے میں گونج رہیتھی کچھ ہی دیر بعد “آبا سائی “نے زور زور سے جھٹکے مارنے شروع کیے اس کی سانس پھولی اور آخری طاقتور جھٹکے کے ساتھ ہی اندرہی فارغ ہوگیا لڑکی کے جسم کو کاٹنے سے جگہ جگہ خون رس رہا تھا اور پورے جسم پر کاٹنے کے نشان واضح نظر آ رہے تھے جس سے لگ رہا تھاکہ ابا سائیں ازیت پسند سیکس کو پسند کرتا ہے ابا سائیں نے ہقارت کی نظر سے لڑکی کو دیکھا اور نیم مردہ لن کو لڑکی کے ہی کپڑوں سے صاف کیا اور لڑکی کو اسی حالت میں چھوڑکر کمرے سے باہر چلا گیا1 like
-
پہلی چودائی
1 like
-
پردیس ۔۔۔ اردو ادب کی لازوال سیکس کہانی
dear faisal maza aya gaya kahani bahut zabardast more ley rehe hai1 like
-
complete keemat wasool
1 like
-
پردیس ۔۔۔ اردو ادب کی لازوال سیکس کہانی
1 like
-
پردیس ۔۔۔ اردو ادب کی لازوال سیکس کہانی
1 like
- پردیس ۔۔۔ اردو ادب کی لازوال سیکس کہانی
1 like- پردیس ۔۔۔ اردو ادب کی لازوال سیکس کہانی
تمام چاہنے والے دوستو سے معذرت خواہ ہوں کہ دو دن سے اپ ڈیٹ ٹائپ کرنے کا موقع نہ جتا سکا۔ میری پوری کوشش ہو گی کہ کل کسی بھی صورت اپ ڈیٹ لکھوں۔۔۔۔دعا کیجیے کہ کام میں سے فرصت مل جائے اور کچھ ایسے فارغ وقت میسر آئے جس میں کہانی کو اپڈیٹ کروں۔ فی الحال سب دوستوں کے لیے بس پرامید رہنے اور مزید مہلت کی درخواست ہے۔ شکریہ۔1 like - پردیس ۔۔۔ اردو ادب کی لازوال سیکس کہانی