Leaderboard
Popular Content
Showing most liked content on 01/06/20 in all areas
-
اتار چڑھاو
2 likes
-
ارمان ایک طویل داستان
1 like" تُم اپنا رجسٹر لیکر ادھر آؤ . . . " سحرش میم نے مجھے سامنے بلایا . . . . دِل کی دھڑکنیں بڑھنے لگی اور یہی خیال آتا رہا کہ سحرش میم کہی کچھ پُوچھ نہ لے ، کیوںکہ ابھی تک نہ تو میں نے کچھ لکھا تھا اور نہ ہی کچھ پڑھا تھا ، ابھی تک میرا دھیان صرف اور صرف اس کی جوانی پر تھا . . . . " یہاں میں مذاق کر رہی ہوں کیا . . . . " " نو میم . . . " اپنا سَر جھکائے میں کسی بچے کی طرح سامنے کھڑا تھا ، اور اس وقت کا انتظار کر رہا تھا ، جب وہ غصے سے چلاتے ہوے میرا رجسٹر پھینک دے اور میں پھر اپنا رجسٹر اُٹھا کر واپس اپنی جگہ پر بیٹھ جاؤں . . . . . " نام کیا ہے تمہارا . . . " " ارمان . . . . " " کیا ارمان ہے تمھارے ، . . . ذرا سب کو بتاؤ . . . " " سوری میم ، دوبارہ کچھ نہیں کروں گا . . . . " یہ تو میں نے میم سے کہا ، لیکن میں اسے کچھ اور بھی بول سکتا تھا اور وہ یہ تھا " کہ میرے ارمان یہ ہے کہ تجھے پٹخ پٹخ کر چودوں ، کبھی آگے سے تو کبھی پیچھے سے . . . . " " سٹ ڈاؤن ، اور دوبارہ میری کلاس میں کوئی حرکت کرنے سے پہلے سوچ لینا . . . " اپنا منہ لٹکاے ، میں وآپس اپنی جگہ پر آیا ، جہاں اظہر بیٹھا مزے لے رہا تھا . . . . " اب چُپ ہو جا . . . " غصے میں میں نے کہا اور میری آواز ذرا تیز ہو گئی ، جسے وہ 5 ’ 8 " ہائیٹ والی پھر غصہ ہوگئی اور مجھے ایک بار پھر سے کھڑا کیا . . . . " وہ میم اس سے میں کچھ پُوچھ رہا تھا . . . " سحرش میم ، میرا گلا دباتی اس سے پہلے ہی میں نے بول دیا . . . . " تُم بھی کھڑے ہو . . . " اب کے بار اشارہ اظہر کی طرف تھا ، اور جب میم نے اسے کھڑے ہونے كے لیے کہا تو اس کے چہرے کا رنگ بھی بَدَل گیا ، . . . " کیا پُوچھ رہا تھا یہ تم سے . . . " " وہ میم ، بائنری کو کنورٹ کرنے کا میتھڈ ، پُوچھ رہا تھا . . . " جھوٹ بولتے ہوئے اظہر نے میری طرف دیکھا اور ساری کلاس نے ہم دونوں کی طرف نگاہیں ڈالی . . . " گیٹ آؤٹ . . . . " " کیا . . . " " میری کلاس سے باہر جاؤ اور آج کی تمہارا حاضری کٹ ، اور اگلی کلاس میں آؤ ، تو ذرا خیال سے ، کیونکہ نیکسٹ کلاس میں تم نے کوئی حرکت کی تو اسائنمنٹ ڈبل ہو جائیگا . . . . . اِس آس میں کہ میم کا دِل تھوڑا نرم ہو جاۓ اور وہ مجھے وآپس بیٹھا دے ، اس لئے میں تھوڑی دیر اپنی جگہ پر کھڑا رہا ، . . . لیکن وہ اِس دوران ہزاروں بار مجھے باہر جانے كے لیے بول چکی تھی ، اور پھر اس نے آخری بار پرنسپل كے پاس لے جانے کی دھمکی دی . . . پوری کلاس كے سامنے میری عزت میں چار چاند لگ چکے تھے ، لیکن جب سحرش میم نے پرنسپل کا نام لیا تو میں کسی بھیگی بلی کی طرح کلاس سے باہر آ گیا . . . . . . . مجھے اب بھی یاد ہے اس دن میں پورے چالیس منٹ کلاس كے باہر کھڑے رہا ، اور پھر جب سحرش میڈم کا پیریڈ ختم ہوا اور وہ باہر نکلی . . . لیکن میری طرف غصے سے اپنی ناک چڑاتی ہوئی وہاں سے آگے چلی گئی ، اور جب میں کلاس میں گیا تو تب سبھی کی نظریں مُجھ پر ہی ٹکی ہوئی تھی . . . . . " آؤ بیٹا ارمان ، کیا پورے ہوئے آپ کے دِل كے ارمان . . . " " چُپ ہوجا کمینے ، ورنہ یہی مار دونگا ، دماغ مت خراب کر . . . " " او تیری ، سوری یار . . . تجھے برا لگا ہو تو . . . " اظہر بولا . . . اس دن اس کلاس میں دو لوگ ایسے تھے ، جنہیں میں چاہ کر بھی نہیں بھلا سکتا ہوں ، ایک تو میرا خاص دوست بنا اور ایک لڑکا ایسا تھا، جسے دیکھ کر ہی میرے منہ سے گالیوں کی لمبی دھار نکلنے لگتی تھی . . . . " شوکت . . . " اس نے پہلے اظہر کی طرف ہاتھ بڑھایا اور پھر میری طرف . . . . شوکت مائننگ سبجیکٹ کا تھا ، اور وہ بھی تھوڑا سانولا تھا ، شوکت کو دیکھ کر ایک بار پھر میں نے خود سے کہا کہ " میں تو اس سے زیادہ ہینڈسم ہوں . . . . " " بھائی ، اگلی کلاس میں تھوڑا سنبھل کر . . . " مجھے نصیحت دینے لگا وہ . دوسری کلاس تو شروع ہو چکی تھی ، لیکن ٹیچر ابھی تک نہیں آیا تھا ، لڑکے ہو یا لڑکیاں سبھی سبزی منڈی کی طرح چیخ رہے تھے ، اور اسی دوران ایک لڑکی سامنے آئی اور ہم سب کو خاموش رہنے كے لیے کہا . . . . لیکن حالت پہلے جیسے ہی رہے . . . وہ لڑکی سامنے والے بینچ پر بیٹھے لڑکوں سے کچھ بولی ، اور سامنے بینچ پر بیٹھے لڑکیوں میں سب کو خاموش رہنے كے لیے کہا ، کچھ دیر لگا سب کو خاموش کرنے میں . . . . " گڈ مارننگ فرینڈ . . . مائی نیم اِس صائمہ . . . . " " تو کیا چوسنا ہے سب کا . . . " اظہر نے ایک پل بنا گنوائیں جواب میں بولا ، سن تو سب نے لیا تھا ، لیکن سب ری ایکشن ایسے کر رہے تھے ، جیسے کانوں میں روئی ڈال كے آئے ہو ، سامنے کھڑی اس لڑکی نے بھی سن لیا تھا ، لیکن وہ بھی ایسے ری ایکٹ کر رہی تھی ، جیسے اس نے سنا نہ ہو . . . . . " یہ تو چودے گی ، کمینی چپ . . . " " گانڈ پر لات مار کر بٹھاؤ اس کو . . . " پہلے اظہر اور پھر اس کے سر کے ساتھ سر ملاتا ہوا شوکت بولا ، میں بھی جوش میں آ گیا اور بولا " اِس انٹرودکشن دینے والی لڑکی کو ننگا کرکے پورے کالج میں بھگانا چاہیے . . . . " اُدھر صائمہ كے بَعْد باقی لڑکیوں نے بھی اپنا انٹرودکشن دیا ، یہ سلسلہ اور بھی آگے چلتا لیکن اگر بی ایم آئی كے سَر وہاں نہ آئے ہوتے تو . . . . اصل میں ہمارا سبجیکٹ تھا ، بیسک مکینیکل انجینیئرنگ ، ( بی ایم آئی ) ، لیکن جو سر ہمیں پڑھانے آئے تھے ، ان کا خود کا بی ایم آئی کلیئر نہیں تھا ، پوری کلاس كے دوران اس نے کیا پڑھایا کچھ سمجھ نہیں آیا ، پیریڈ بوا بھی کس لینگویج میں تھا ، یہ بھی سمجھ میں نہیں آیا . . . . پڑھائی کی طرف سے میں تھوڑا سنجیدہ تھا ، اور اپنا پورا دماغ بی ایم آئی كے پیریڈ میں لگانے كے باوجود بھی جب ، کچھ سمجھ نہیں آیا تو ، ایک دَر دِل میں اٹھنے لگا کہ ایگزام میں کیا ھوگا . . . . " کیا ہوا ، . . . " " یار کچھ سمجھ نہیں آ رہا . . . " " تو ٹینشن کس بات کی یہ ٹاپک ہی چھوڑ دے . . . کون سا تجھے ٹاپ مرنا ہے " " مجھے ٹاپ ہی مرنا ہے . . . " اس وَقت تو اظہر سے میں نے یہ کہہ دیا ، لیکن یہ جنون میرے سَر سے بہت جلد اترنے والا تھا ، یہ میں نہیں جانتا تھا جاری ہے . . . . اس کو دیکھ ، خود کو حور سمجھ رہی ہے . . . " اظہر نے اسی لڑکی کی طرف اشارہ کیا ، جو کچھ دیر پہلے سامنے آکر انٹرودکشن دے رہی تھی . . . . " میرا بس چلے تو اس کا ٹی۔سی ہی اس کے ہاتھ میں دے دوں . . . " صائمہ کی طرف دیکھتے ہوئے میں نے کہا ، کچھ دیر پہلے جب وہ سامنے آکر بول رہی تھی تو اس کی آواز نیچرل نہیں تھی ، وہ اپنی الگ ہی ٹون میں بات کر رہی تھی ، جو کی اکثر لڑکیاں کرتی ہے . . . . . شوکت اس وقت اسٹڈی میں لگا ہوا تھا ، اور میں اور اظہر اس لڑکی کو دیکھ کر دِل ہی دِل میں برا بھلا کہہ رہے تھے ، . . . تبھی اس کی نظر ہم پر پڑی ، اور میں نے جلدی اپنی نظریں اس کی طرف سے ہٹا کر اپنے رجسٹر کی طرف کر لی . . . . . " کہی یہ نہ سوچ لے کہ ہم دونوں اسے لائن مار رہے ہے . . . " میں نے پین پکڑا اور ٹیچر جو لکھا رہا تھا اسے لکھتے ہوئے بولا . . . . "میرا لنڈ لائن ، اتنے بڑے کالج میں یہ ایک ہی ہے کیا ، جو اسے لائن ماریں گے . . . اسے دیکھ کر تو سحرش میڈم كی کلاس میں کھڑا لنڈ بھی بیٹھ جاتا ہے . . . . " ہمارے ٹیچر کہ پریڈ ختم ہوگیا تھا " بھوک لگی ہے یار ، چل کینٹین سے آتے ہے . . . " اپنے پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوے میں نے بولا . . . " چل آجا ، کینٹین اُدھر ہے . . . " ویسے تو سینیرز کی کلاس لگی ہوئی تھی اس وقت ، لیکن کچھ ایسے بھی ہوتے ہے ، جو کلاس بند کرکے کینٹین آ جاتے ہیں ، جب ہم کینٹین كے اندر گئے تو وہاں لڑکیاں تو تھی ، لیکن ساتھ میں ہمارے سینیرز بھی تھے اور وہ ایسے بیٹھے ہوئے تھے جیسے کالج ان کے باپ کا ہو . . . . " چُپ چاپ ، ایک کرسی پکڑ لے ، ورنہ مسلہ ہو جائیگا . . . " میں اس وقت کچھ نہیں بولا ، اور ہم دونوں نے سائڈ کی کرسی پکڑ لی . . . . " اس کو دیکھ . . . " اظہر کا اشارہ کینٹین میں ایک طرف بیٹھے ہوئے سیئنر لڑکے کی طرف تھا ، جو کہ کچھ اسٹوڈنٹ كے ساتھ بیٹھا باتیں کر رہا تھا . . . . " کیا ہوا . . . " میں نے بھی اسی طرف دیکھا . . . " اسکا نام کاشف ہے ، کمینہ سات سال سے اِس کالج میں پڑھ رہا ہے ، لیکن آج تک فورتھ ایئر میں ہی لٹکا ہوا ہے . . . " جب اظہر نے مجھ سے کہا تب میں نے اس کی طرف غور سے دیکھا ، وہ اپنے ساتھ بیٹھے اسٹوڈنٹ میں سے زیادہ عمر کا لگ رہا تھا ، اور اپنے پیر سے ٹیبل كے نیچے سے دوسری طرف بیٹھی ہوئی لڑکی كے پیر کو سہلا رہا تھا . . . . " یہ لڑکیاں بھی نا جانے کیسے کیسے لڑکوں سے سیٹ ہوجاتی ہے . . . " اس لڑکی كے لیے جھوٹی اپنایت دکھاتے ہوئے میں نے اظہر سے پوچھا " یہ سات سال والا ہے کس برانچ کا . . . " " اپنی ہی برانچ کا ہے کمینہ اور کچھ لوگ کہتے ہے کہ یہ بہت ٹائٹ تنظیم سازی کرتا ہے . . . " تنظیم سازی کا سن کر گلا خشک ہو گیا ، اس وقت یہی ایک چیز تھی جو مجھ پر حاوی تھی ، جب سے میں کالج کیمپس كے اندر داخل ہوا تھا ، یہی چیز مجھے ڈرا رہی تھی . . . . " بہن چود ، یہ تنظیم سازی بند کر دینا چاہئے . . . " پانی پیتے ہوئے میں نے بولا ، پانی كے پورا ایک گلاس خالی کرنے كے بَعْد تھوڑا سکون آیا ، " بند ہے میری جان ، تنظیم سازی تو سالوں سے بند ہے لیکن یہ لوگ کر ہی لیتے ہے . . . " " یہ بہن چود کینٹین والا کہا مر گیا ہے. . . " ہائپر ہوتے ہوئے میں نے بولا اور میری آواز پوری کینٹین میں گونج اٹھی ، میرا اتنا کہنا تھا کہ سب کی نظر ایک بار پھر میری طرف ہوئی ، مجھے دیکھ کر کچھ اپنے کام میں لگ گئے ، کچھ ایسے بھی تھے ، جو میری طرف ہی دیکھ رہے تھے ، ان کی شکل سے لگ رہا تھا کہ ، وہ مجھے دل ہی دل میں گلیاں دے رہے ہے . . . . . تبھی وہ سات سال سے کالج میں پڑھنے والا اُٹھ کر ہماری طرف آیا ، اس کے ساتھ کچھ لڑکے بھی تھے اور وہ لڑکی بھی ، جو اس کے سامنے بیٹھی تھی . . . . . " کس سبجیکٹ کا ہے . . . " میرے سامنے والی کرسی کو دھکیل کر کاشف نے مجھ سے پوچھا . . . دِل کیا کہ اس کرسی کو ایک لات مارکر دور کر دو ، لیکن پھر اس کے بَعْد ہونے والے اپنے حال کا اندازہ لگا کر میں روک گیا . . . . " مکینیکل ، فرسٹ ایئر . . . " وہ میرے سامنے والی کرسی پر پورا کا پورا سماں گیا تھا ، " مجھے جانتا ہے . . . " " ہ. . ہ . . ہاں . . " گلا ایک بار پھر خشک ہونے لگا اور جیسے ہی میں نے پانی والے گلاس کی طرف ہاتھ بڑھایا اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور زور سے دبانے لگا ، دَرْد تو کر رہا تھا ، لیکن میں نے اپنے منہ سے ایک آواز تک نہیں نکالی اور نہ ہی اسے بولا کہ میرا ہاتھ چھوڑ دے ، ، . . " پانی بَعْد میں پینا ، پہلے میرے سوالوں کا جواب دے . . . " وہ میرے ہاتھوں کو اب بھی پکڑے ہوئے تھا اور اپنا پورا زور لگا کر دبائے جا رہا تھا . . . " ابے بول ، چھوڑ میرے ہاتھ کو ورنہ یہی پٹخ پٹخ کر گانڈ ماروں گا . . . . " اس کی آنکھوں میں آنکھ ڈالتے ہوئے میں نے صرف آنکھوں سے کہا. . . . " آنکھیں نیچے کر . . . " کاشف كے ساتھ جو لڑکے آئے تھے ، اُن میں سے ایک نے میرے سَر پکڑا اور نیچے جھکا دیا . . گیم شروع ہو چکا تھا ، اور مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ اب کچھ نہ کچھ برا ہی ھوگا . . . . میرے الٹے ہاتھ کی ہڈیوں کا کچومبر بنا کر اس نے میرا ہاتھ چھوڑا اور پھر میرے گریبان کو پکڑ کر بولا " بیٹا ، اوقات میں رہنا سیکھو اور سینیرز کو ریسپیکٹ دو . . . " کاشف کی بچی نے اپنے ٹیبل سے ایک سموسہ اُٹھا کر لائی اور اس کا آدھا ٹکڑا کھا کر باقی میرے چہرے پر تھوپ دیا ، اس وقت شاید میں بہت غصے میں تھا ، دِل کر رہا تھا ، کہ اس لڑکی کو کھینچ کر ایسا ٹھپر ماروں کہ اس کا سَر ہی دھڑ سے الگ ہو جائے ، لیکن غصے کو پینا پڑا ، میں انہیں دیکھنے كے سوا اور کچھ نہیں کر سکا . . . . . وہ سبھی مجھ پر کچھ دیر ہنسے اور چلے گئے . . . تبھی کاشف كے ساتھ والی لڑکی ، جس نے میرے چہرے کی یہ حالت کی تھی ، میری نظر اس کے گانڈ پر پڑی اور میں نے دل ہی دل میں یہ ارادہ کر لیا کہ ، " اس کو تو ایسا چودوں گا کہ اس کے چوت اور گانڈ كے ساتھ ساتھ منہ سے بھی خون نکل جائے . . . . " اپنا نام میری بیتی زندگی میں سن کر میرے خاص دوست کاشف نے مجھے میری کالج لائف سے باہر نکالا . . . . " یار ، یہ سات سال سے لگاتار فیل ہونے والے لڑکے کا نام کاشف کیسے ہے . . . " " اب تو یہ اس کے باپ سے پُوچھ ، کہ اس نے اس کا نام کاشف کیوں رکھا . . . " " لے یار ایک اور گلاس بنا . . . " اظہر نے اپنا خالی گلاس میری طرف بڑھایا ، اور میں نے کاشف کی طرف . . . . " رات ہو گئی کیا . . . " میں نے اٹھنے کی کوشش کی ، لیکن سَر گھوم رہا تھا ، اس لئے وآپس بیٹھ گیا . . . " ابھی دن ہے . . . دوپہر كے 12 بج رہے ہے . . . " کاشف نے پیگ بنا کر گلاس میری طرف بڑھایا اور بولا " آگے بتا ، کینٹین كے بَعْد کیا ہوا . . . " " کینٹین كے بَعْد . . . " جاری ہے . . . . . مجھ سے اس وقت کوئی کچھ اور پوچھتا تو شاید میں نہیں بتا پتہ ، لیکن میرے کالج میں بیتے لمحات مجھے اِس طرح یاد تھے کہ رات بارہ بجے بھی کوئی اٹھا كے پوچھے تو میں اسے بتا دوں . . . . اس دن کینٹین کی حرکت نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ، اظہر بھی چُپ بیٹھا ہوا تھا ، میں بری طرح غصے میں تھا ، اور جب کینٹین والا ہمارا آرڈر لیکر آیا تو میں نے بولا . . . " اب تو ہی کھا اسے . . . " میں وہاں سے غصے میں اٹھا اور کینٹین سے باہر آ گیا ، اظہر بھی پیچھے پیچھے تھا . . . " ارمان ، رک نہ یار ، . . . " اظہر بھاگ کر میرے سامنے کھڑا ہو گیا اور مجھے روک کر بولا " بھول جا . . . " " اس لڑکی کا کیا نام ہے ، بتا کمینی کو چود كر آتا ہوں . . . " " اس کا نام تو مجھے بھی نہیں معلوم . . . " یہ بولتے بولتے اظہر نے مجھے گلے لگا لیا ، پتہ نہیں کمینے میں کیا جادو تھا کہ میرا غصہ ٹھنڈہ ہونے لگا . . . . " دور ہٹ ، میں لونڈے باز نہیں ہوں . . . " جب میرا غصہ پوری طرح ٹھنڈا ہوگیا تو میں نے کہا . . . " ایک بات بتا ، تجھے کاشف كے ساتھ والی لڑکی اچھی لگی نہ . . . " مجھ سے الگ ہوتے ہوئے اظہر نے مجھ سے پوچھا . . . " اچھی تو ہے ، اس لیے تو اس کا نام پوچھا " " تو بھائی ، اسے بھول جا ، ورنہ کاشف ننگا کرکے بھگائے گا. . . " " وہ اتنی بھی خوبصورت نہیں ہے کہ میں اس کے لیے پورے کالج میں ننگا بھاگوں. . . ابھی صرف سحرش میڈم کی طرف اپنی توجہ دینی ہے " اس کے بَعْد ہم دونوں اپنی کلاس کی طرف آئے ، فرسٹ ایئر کی ساری کلاسس آس پاس ہی تھی ، اس لئے بریک ٹائم میں ہر سبجیکٹ کی لڑکیوں کو لائن مارا جا سکتا تھا . . . . ہم دونوں اپنی کلاس كے باہر کھڑے اسٹوڈنٹ كے پاس جا کر کھڑے ہو گئے ، جہاں گروپ بنا کر کچھ لڑکے باتیں کر رہے تھے اور جیسا کہ میں نے سوچا تھا ٹاپک لڑکیوں پر ہی تھا . . . . . " کہاں گئے تھے یار . . . " شوکت نے ہم دونوں سے ہاتھ ملایا اور پوچھا . . . " کینٹین . . . " اظہر نے جواب دیا . . . " کینٹین " اس کی آنکھیں نا جانے کتنی بڑی ہوگئی یہ جان کر جب اس نے سنا کہ ہم دونوں کینٹین سے ہو کر آئے ہے . . . . " کیا ہوا . . . " اس کی بڑی بڑی آنکھوں کو دیکھ کر میں نے پوچھا . . . " تنظیم سازی ہوئی ، تم دونوں کی . . . " تنظیم سازی . . . . یہ سن کر میں اور اظہر ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھاکنے لگے اور سوچنے لگے کہ اسے کیا بولا جائے . . . " نہیں . . . کسی نے تنظیم سازی نہیں کی . . . " " آج تو بچ گئے ، لیکن کل سے اُدھر مت جانا ، سینیرز ڈیرہ ڈال كے رہتے ہے اُدھر . . . . " " تو کیا ہوا ، پھٹتی ہے کیا . . . " یہ لفظ میں نے ایسے کہا ، جیسے کچھ دیر پہلے کاشف کی اس بچی نے نہیں بلکہ میں نے اس کے چہرے پر سموسہ ڈَلا ہو . . . . . " دیکھو بھائی ، مشورہ دینا میرا کام تھا . . . " شوکت بولا " ویسے اور کہاں کہاں یہ سینیرز ڈھوندتے ہے ہمیں . . . " " تِین جگہ پکی ہے ، پہلی کینٹین ، دوسری بس اسٹاپ اور تیسرا ہاسٹل . . . . " ہم اِس مسئلے پر کچھ دیر اور بھی بات کرتے لیکن اس سے پہلے ہی وہاں کھڑے لڑکوں میں سے کسی ایک نے ٹاپک کو چینج کرکے ، اپنے کالج کی حسیناؤں پر ٹاپک شروع کر دیا . . . . . اور اِس معاملے میں سب سے پہلا نام جو آیا وہ تھا سحرش میڈم ، . . . سب یہی چاہ رہے تھے کہ سحرش میڈم ان سے سیٹ ہو جائے ، کچھ ٹھرکیوں نے تو یہ تک بول دیا تھا کہ. . . " آج کالج سے جانے كے بَعْد سحرش میڈم کی نام کی مٹھ بھی ماریں گیں " تو بھی بول لے کچھ . . . " کاشف نے مجھے کونی ماری . . . . " میں تو اس وقت کاشف کی بچی کو چودونگا ، وہ بھی گھوڑی بنا کر . . . " " کاشف. . . " یہ نام سن کر سب چُپ ہوکر میری طرف دیکھنے لگے ، . . وہ سب مجھے ایسے دیکھ رہے تھے جیسے کہ میں نے کسی کا قتل کرنے کا سرعام اعلان کر دیا ہو . . . . " میں نے تو ایسے ہی بول دیا . . . " میں نے بات وہی ختم کرنی چاہی . . . " یار ، ایسے مت بولا کر ، کہی سے کاشف کو پتا چل گیا تو پھر پنگا ہو جائیگا . . . " شوکت کی باتیں سن کر میں نے چاروں طرف دیکھا اور جب کنفرم ہو گیا کہ ، ہمارے گپ شپ کو کسی نے نہیں سنا تو میں نے بولا . . . " ڈرتا ہوں کیا ، " " دیکھ ، زیادہ شیر مت بن، ورنہ پول کھل جاے گا . . . " اظہر نے میرے کان میں سرگوشی کی. . . . کچھ دیر اور کالج کی لڑکیوں كے بارے میں باتیں کرتے ہوئے ، ہم نے اپنا وقت برباد کیا اور اسی دوران مجھے اور بھی بہت ساری باتیں معلوم ہوئی جو کہ ہمارے کالج میں برسوں سے چلی آ رہی تھی . . . . 1 . جب تم فرسٹ ایئر میں ہو ، تب ہی کوئی بچی پٹا لو ، ورنہ پورے چار سال خالی ہاتھ سے کام چلانا پڑیگا اور ہونٹ پر لڑکی كے ہونٹ کی جگہ ٹیپ سولیشن لگا کر رہنا پڑیگا . . . . " 2 . ہمارا کالج گورنمنٹ تھا ، اس لئے کالج كے پِرِنْسِپل اور ٹیچرز کو بھلے ہی ریسپیکٹ نہ دو ، لیکن وہاں کام کرنے والے ورکر اور پوئن کو سر کہہ کر بُلانا پڑیگا ، تاکہ وقت آنے پر وہ ہمیں لمبی لائن سے بچا سکے . . . . اس دن ایک اور ضروری بات جو پتا چلی وہ یہ تھی کہ . . . . . جب بھی کوئی لڑکی پٹاؤ تو اسے جلدی چود دو ، ہمارے کالج میں پڑھنے والوں کو منع تھا کہ گرل فرینڈ کو چودنے كے بَعْد لڑکیاں ، لڑکوں سے کسی لمبے عرصے کے لئے باندھ جاتی ہے ویسے ہرگز نہیں کرنا . . . . اس دن اور بھی کچھ پتا چلتا لیکن میتھ میٹکس والی میم نہ آتی تو . . . . " کتنی باتیں کرتے ہو تم لوگ ، پورے ہال میں تم لوگوں کی آوازیں آ رہی ہے . . . " سامنے والی بینچ پر اپنا بیگ رکھ کر میتھس والی میم نے بولا. . . . میتھس والی میم کا نام راحیلہ تھا ، جو بَعْد میں ہمارے یہاں " راحیلہ رانی " كے نام سے مشہور ہوئی کالج کا پہلا دن کسی بھی حساب سے میرے لیے ٹھیک نہیں رہا ، پہلے پہل تو سی ایس والی سحرش میڈم نے مجھے باہر بھاگا دیا اور بَعْد میں کینٹین والا مسلہ . . . . . کالج كے پورے پیریڈز اٹینڈ کرنے كے بَعْد ایسا لگ رہا تھا ، جیسے کسی نے ساری طاقت چوس لی ہو ، . . . " تھک گیا یار . . . " روم میں گھوستے ہی میں نے اپنا بیگ ایک طرف پھیکا اور بستر پر لیٹ گیا ، " چل گراؤنڈ چلتے ہے ، شام كے وقت ہاسٹل میں رہنے والی گرلز آتی ہے اُدھر . . . . . " گانڈ مروائے لڑکیاں . . . مجھے تو نیند آ رہی ہے . . . " " ٹھیک ہے تو سو ، میں آتا ہوں . . . " میں زیادہ تھکا ہوا تھا ، اس لئے جلدی نیند آ گئی ، اور جب میری آنکھ کھلی تو اظہر مجھے اٹھا رہا تھا . . . . " کیا ہوا بے . . . " " یار رات كے آٹھ بج گئے . . . " " تو . . . " میں نے سوچا کچھ کام ھوگا . " تو کیا . . . . . رات كے آٹھ بجے کوئی سوتا ہے کیا . . . " " اب تو یہ فیصلہ کرے گا کہ مجھے کتنے بجے کیا کرنا ہے . . . " " ٹائم پاس نہیں ہو رہا تھا ، تو سوچا تجھے اُٹھا کر گپ شپ مار لوں . . . ." " ٹائم پاس نہیں ہو رہا ہے تو جا کر مٹھ مار لے . . . " اور میں پھر سے چادر اورھے گہری نیند میں چلا گیا . . . . . پرانی عادت اتنی جلدی نہیں بدلتی ، جب میں اسکول میں تھا تب اکثر صبح چار بجے اُٹھ کر پڑھائی شروع کر دیتا تھا ، اور اسی کی بدولت مجھے بہت ہی اچھا کالج ملا تھا . . . اس دن بھی میں نے چار بجے کا آلارم سیٹ کیا اور جیسا کہ پہلے ہوتا تھا ، دوسرے دن میری آنکھ آلارم کی وجہ سے صبح چار بجے کھل گئی ، لائٹ آن کی اور کاشف کی طرف دیکھا . . . کاشف آدھا بستر پر تھا اور آدھا بستر كے باہر ہی جھول رہا تھا . . . . " کیا خاک پڑھوں . . . کل تو سب سَر كے اوپر سے گزر گیا تھا . . . " بکس اور نوٹ بک کھول کر میں نے ڈھیر ساری گالیاں دی . . . . کچھ دیر تک ٹرائی کرنے كے بَعْد بھی جب کوئی فائدہ نہیں ہوا تو ، میں نے لائٹس اوف کی اور چادر اوڑھ کر لیٹ گیا . . . . میری پرانی عادت كے بدولت نیند تو آنے سے رہی ، اس لئے میں کچھ سوچنے لگا . . . جیسے کہ کس ٹائم پر کس سبجیکٹ کو پڑھنا ہے تاکہ دماغ میں سہی طرح سے بیٹھ جاۓ ، پھر جیسے ہی میرے دماغ میں سی ایس سبجیکٹ کا خیال آیا تو سب سے پہلے میری بند آنکھوں كے سامنے سحرش میڈم کا حَسِین چہرہ اور اس کا حَسِین جسم لہرا گیا . . . . وہ میرے سامنے نہیں تھی ، لیکن میں انہیں پورا دیکھ سکتا تھا ، . . . اور اِسی خیالات میں ڈوبتے ہوئے میرا ہاتھ میرے پینٹ کی طرف بڑھا اور پینٹ کی زپ کھول کر میرا ہاتھ نہ چاہتے ہوے بھی میرے کھڑے لنڈ پر چلنا شروع ہوگیا صبح صبح ہی کام ہو گیا ، اس کے بَعْد جو آنکھ لگی تو وہ سیدھے صبح كےآٹھ بجے کھلی . . . . آج كے دن کالج میں کوئی ایسی آنے والی تھی ، جسے نہیں آنا چاہئے تھا ، اس دن بھی میں اور اظہر کالج كے پیچھے والے گیٹ سے اندر گئے اور سیدھے اپنی کلاس كے اندر دستک دی . . . . شوکت پہلے سے ہی آ چکا تھا . . . " چل باہر سے آتے ہے . . . " میں اپنی سیٹ پر بیٹھا ہی تھا کہ شوکت نے اپنے بیگ میں کچھ ڈھونڈتے ہوئے مجھ سے بولا . . . . " کیوں . . . . کیا ہوا ؟ " " لگتا ہے ، بائیک کی چابی بائیک میں ہی لگی رہ گئی ہے . . . " اس نے گھبراہٹ میں جواب دیا . . . میں نے سوچا ، اظہر کو اس کے ساتھ بھیج دوں، لیکن اظہر تو پیچھے کسی سے جان پہچان بنا رہا تھا اس لئے مجھے ہی اس کے ساتھ جانا پڑا . . . . " بائیک میں لگی ہے چابی . . . " بائیک میں چابی لگی دیکھ کر شوکت نے سکھ کا سانس لیا. . . ہم دونوں ابھی بائیک اسٹینڈ پر ہی کھڑے تھے کہ تیز رفتاری سے آتی ہوئی ایک کار نے وہاں کھڑے سبھی لوگوں کا دھیان اپنی طرف متوجہ کیا. . . . کار دیکھ کر ہی اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ اندر بیٹھا ہوا شخص کی حیثیت کتنی زیادہ ہے . . . . " کوئی وڈیرے کا لڑکا ھوگا. . . " میں نے سوچا ، لیکن میری سوچ مجھے تب دھوکہ دے گئی ، جب اس چم چماتی کار سے لڑکے کی جگہ ایک لڑکی باہر آئی ، . . . لڑکی کیا پوری ماڈرن قسم کی ہیروئن تھی وہ ، سر سے لیکر اس کے سینڈل تک اس کی دولت اور اس کی ماڈرن زمانے كے رنگ میں رنگی اس کی شخصیت کی پہچان کرا رہی تھی . . . . پہلے تو میں نے اس لڑکی کو پورا اوپر سے لیکر نیچے تک دیکھا اور بَعْد میں میرے نظر اپنے آپ اس جگہ پر اٹک سی گئی ، جو ایک لڑکی میں مجھے سب سے زیادہ پسند تھا ، . . . اور ایسی حَرْکَت کرنے والا میں وہاں اکیلا نہیں تھا ، وہاں کھڑے تقریباً سبھی لڑکوں کا یہی حال تھا ، سب اپنی پسندیدہ جگہ دیکھ کر لالچا رہے تھے . . . . . " یہ کون ہے . . . " میں نے شوکت سے پوچھا تو اس نے جواب میں کاندھے اچکا کر نہ کر دیا . . . . ویسے تو اس کالج میں بہت ساری خوبصورت لڑکیاں تھی ، لیکن وہ لڑکی جو ابھی ابھی کار سے باہر آئی تھی ، وہ اُن میں سے سب سے الگ لگی مجھے . . . ایسا مجھے کیوں لگا اس کا وجہ آج تک میں نہیں جان پایا . . . . . . اسے دیکھ کر میں اور شوکت وہی کھڑے رہ گئے ، ہمارے قدم زمین پر اور آنکھیں اس لڑکی پر ہی جمی ہوئی تھی . . . . اس کے ساتھ کار سے ایک اور بھی لڑکی باہر نکلی ، جو اس کی قریبی فرینڈ ھوگی ، ایسا میں نے سوچا . . . . " سارہ. . . . " اس لڑکی کی فرینڈ نے پہلی بار اس ماڈرن لڑکی کا نام پکارا . . . . . " سارہ . . . . " میں نے بھی دِل ہی دِل میں یہ نام لیا ، اور بہت خوش بھی ہوا اور میرے ارمان اسے دیکھ کر باہر آئے " اس کو تو پٹانا پڑیگا . . . " " کیا . . . ؟ " شوکت بولا . . . " کچھ نہیں ، چل کلاس شروع ہوگئی ھوگی . . . " برسوں سے کچھ لفظ ، کچھ الفاظ بڑی مشکل اور شدت سے لکھ رکھے تھے میں نے کسی كے لیے ، جو میرے لیے خاص ہو اور آج سارہ کو دیکھ کر وہ الفاظ میرے دِل سے باہر آنے كے لیے مچل رہے تھے . . . . . . "میں اکثر کبھی اپنی آنکھیں بند کرتا ہوں ، بہت سے چہرے مجھے دکھائی دیتے ہے لیکن ایک چہرہ ہمیشہ میری آنکھوں کے سامنے رہتا ہے ، میرے دل میں رہتا ہے. . . . . . " وہ چہرہ میری محبّت ہے . . . . . . . . جاری ہے . . . . " باہر . . . باہر ، بلکل باہر . . . " راحیلہ میڈم نے مجھ سے کہا ، جب میں نے ان سے اندر آنے کی اجازت مانگی تو " یہ کیا تمہارا گھر ہے . . . " " سوری میم . . . " نظریں جھکا کر معصوم بننے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے میں نے بولا . . . لیکن میری اس معصومیت کا راحیلہ رانی پر کوئی اثر نہیں ہوا ، اور اوپر سے اس نے دھمکی بھی دے دی کہ میں نے اسے بحث کی تو وہ آنے والے تین دن تک حاضری نہیں لگاۓ گی . . . کل سے یہ سب کچھ میرے ساتھ پہلی بار ہو رہا تھا ، پہلے کبھی بھی کسی نے کلاس سے باہر نہیں بھیجا تھا ، اس لئے مجھے معلوم تک نہیں تھا کہ ، ٹائم پاس کیسے کروں ، اس وقت کالج میں گھوم بھی نہیں سکتا تھا ، کیا پتہ کوئی سینیر پکڑ کر تنظیم سازی نہ کر لے . . . . دِل کر رہا تھا کہ راحیلہ میم کے بال پکڑوں اور گھسیٹ کر اسے کلاس سے باہر کر دوں. . . . " اندر آ جاؤ ، اور اگلی بار وقت کا خیال رکھنا . . . " راحیلہ رانی نے میری طرف دیکھا ، شاید میری جھوٹی معصومیت اور بھولے پن کو انہوں نے اصلی سمجھ لیا تھا . . . . جب کلاس كے اندر آیا تو ایک بار پھر پوری کلاس مجھے گھور رہی تھی ، کچھ مجھ پر ہنس بھی رہے تھے اور کلیجہ تب جل گیا تب دیکھا کہ اظہر بھی ہنس رہا ہے . . . . " اور بیٹا ، کہاں گھوم رہا تھے تم دونوں . . . " میں اظہر كے لیفٹ سائڈ میں بیٹھا اور شوکت رائٹ سائڈ میں بیٹھ گیا . . . " کہی نہیں یار ، بائیک اسٹینڈ تک گئے تھے . . . " شوکت بولا " ٹائم سے واپس بھی آ جاتے اگر وہ لڑکی نہیں دکھی ہوتی تو . . . . " " کون سی لڑکی ، جلدی بتا . . . " میم کو شک نہ ہو اس لئے ہم تینوں اپنے رجسٹر میں سامنے بورڈ پر لکھا ہوا سب کچھ چھاپ رہے تھے ، اور دھیمی آواز میں گپیں بھی لڑا رہے تھے . . . . . " پتا نہیں کون ہے ، لیکن ہے ایکدم پٹاخہ . . . . اس کے سامنے تو سحرش میڈم بھی کچھ نہیں ہے . . . " سامنے بورڈ کی طرف دیکھ کر میں نے بولا ، . . . ایک دو بار راحیلہ رانی سے میری نظر بھی ملی ، تب میں نے اپنا سَر اوپر نیچے کرکے اسے احساس کروایا کہ مجھے سب کچھ سمجھ آ رہا ہے ، جب کہ ایسا کچھ بھی نہیں تھا ، میں تو اس وقت صرف اور صرف سارہ كے بارے میں سوچ رہا تھا ، اس وقت میں صرف اور صرف سارہ كے بارے میں بات کرنا چاہتا تھا . . . . " کتنا اچھا ہوتا ، یار اِس راحیلہ کی جگہ وہ سارہ ہمیں میتھس پڑھاتی . . . . " دِل كے ارمانوں نے اک بار پھر گھنٹیاں بجانا شروع کر دی ، اور ان گھنٹیوں کو کسی نے بہت زور سے بجایا . . . . " میم . . . " کلاس كے دروازے کی طرف سے کسی کی آواز آئی . . . . اور جب نظریں اس طرف گھومائی تو بس وہی جم کر رہ گئی ، دروازے پر سارہ کھڑی تھی . . . " یس . . . " میتھ والی میم نے سارہ سے کہا . . . " یہ بھی اسی کلاس میں پڑھے گی ، " خوش تو بہت ہوا تھا ، بینچ پر کود کود کر ڈانس کرنا چاہتا تھا ، اظہر اور شوکت سے کہنا چاہتا تھا کہ " تم لوگ یہاں سے اَٹھ جاؤ کمینوں ، وہ یہاں بیٹھے گی . . . " لیکن افسوس تب ہوا جب وہ بولی کہ . . . . " میم سی ایس سبجیکٹ کی کلاس کون سی ہے . . . " کوری ڈور میں سب سے پہلی کلاس ہماری ہی تھی ، اس لئے وہ شاید ہمارے کلاس میں اپنی کلاس پوچھنے آئی تھی ، سوچا کے رَو رَو کر اسے اِس بات کا احساس ڈالاؤں کہ میں کتنا دُکھی ہوں ، اس کے یوں جانے سے ، اظہر میرے اندر کی بے چینی کو سمجھ گیا اور بولا . . . " اوئے ، یہ ڈرامہ بند کر ، اور اپنی توجہ کا مرکز صرف سحرش میڈم کو بنا " سارہ تو اپنی کلاس میں چلی گئی ، لیکن اس کا عکس میرے دِل پر رہ گیا تھا ، اور سارہ کا عکس صرف مجھ پر ہی نہیں پڑا تھا ، اور بہت سے لوگ تھے ، جن کا دِل سارہ كے اِس طرح سے جانے كی وجہ سے اُداس تھا . . . . اظہر اور شوکت بھی اسی لسٹ میں تھے . . . . . " وہ میری بچی ہے ، اس کو دیکھنا بھی مت . . . " سارہ كے جانے كے بَعْد میں نے پھر سے بورڈ پر نظریں گاڑ دی اور جو کچھ بھی راحیلہ رانی لکھ رہی تھی ، میں اسے اپنی نوٹ بک میں چھاپتے ہوئے ان دونوں سے بولا . . . . " سیٹ تو مجھ سے ہی ھوگی . . . " شوکت نے کہا . . . " گانڈ مروا لو سب لڑکیوں سے ، سحرش کو دیکھو گے تب بھی یہی بولو گے کہ یہ میری بچی ہے ، سارہ کو دیکھو گے تب بھی یہی بولو گے کہ یہ میری بچی ہے ، کسی اور لڑکی کو بھی دیکھو گے تو وہ بھی تم دونوں کی ہی بچی ہوگی ، میں یہاں صرف ہلانے آیا ہوں ہے نہ " میں اور شوکت ہنس پڑے ، اور ایک بار پھر راحیلہ میم نے اپنی ظالمانہ نظروں سے ہم دونوں کو گھورنے لگی ، راحیلہ میم كے اِس طرح سے دیکھنے كی وجہ سے میں اور شوکت چُپ ہو گئے اور ایکدم سریس اسٹوڈنٹ بن کر سامنے ڈیسک پر رکھی بکس كے صفحات الٹنے لگے . . . . . " چل آجا کینٹین سے آتے ہے . . . " بریک میں اظہر نے مجھ سے کینٹین چلنے كے لیے کہا ، اور میری آنکھوں كے سامنے وہ نظارہ چاہ گیا جب کاشف کی بچی نے میرے چہرے سے پیار کر رہی تھی . . . . میں نے اظہر کو صاف منع کر دیا کہ میں کینٹین کی طرف نہیں جاؤنگا ، اور پھر میں اپنے ہی کلاس كے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا ، جہاں کچھ لڑکے کھڑے ہوکر بات کر رہے تھے ، میں کھڑا تو اپنے کلاس میں تھا لیکن آنکھیں سی ایس سبجیکٹ کی کلاس کی طرف ٹکی ہوئی تھی ، . . . میں اس وقت وہاں کھڑا اس وقت کا انتظار کر رہا تھا کہ کب وہ خوبصورت سارہ اپنی کلاس سے باہر نکل کر آئے اور میری آنکھوں کو سکون ملے . . . . خدا نے جیسے میری دل کی بات سن لی ہو ، سارہ اپنے اسی فرینڈ كے ساتھ کلاس سے باہر نکلی اور باہر کھڑے سب لوگ مچل اٹھے ، سب لوگ سارہ کو دیکھ رہے تھے . . . . . ہماری کلاسز فرسٹ فلور پہ تھی اور کوری ڈور كے دونوں طرف سے نیچے جانے كے لیے سیڑھیاں بنی ہوئی تھی . . . . سارہ اپنے فرینڈ كے ساتھ ہماری طرف آنے لگی ، . . . میں یہ جانتا تھا کہ وہ میرے لیے تو اِس طرف نہیں آ رہی ہے ، لیکن پھر بھی دھڑکنیں تیز ہو گئی ، اور وہ جب میرے سامنے سے گزری تو میری زبان لڑکھڑائی " آئی . . . . . " بس اتنا ہی بول سکا میں سارہ کو دیکھ کر ، اور آواز بھی اتنی دھیمی تھی کہ میرے ساتھ کھڑے میری کلاس والے بھی اس آواز کا نہ سن سکے . . . . میں پہلے بھی حیران ہوا کرتا تھا اور اب بھی حیران ہوا کرتا ہوں ، کہ اظہر کیسے جان جاتا ہے کہ دوسرا شخص کیا سوچ رہا ہے . . . . " مطلب . . . . " زمین پر لیٹے کاشف نے سگریٹ كا دھواں اڑاتے ہوئے مجھ سے پوچھا . . . " مطلب کہ. . " میں نے اظہر کی طرف دیکھا ، کمینہ شراب کی بوتل لیے باتھ روم سے باہر آ رہا تھا " اظہر کی ایک خاصیت ہے ، وہ کسی کی بھی شکل دیکھ کر یہ بتا دیتا ہے کہ اس کے اندر کیا چل رہا ہے ، وہ شخص کس سوچ میں ڈوبا ہوا ہے . . . . " " ایسا ہے کیا . . . " جاری ہے . . . . . " ہاں یار ، . . " " پھر تو . . . " یہ بولتے ہوئے کاشف زمین پر بیٹھ گیا اور اظہر کی طرف دیکھا . . . . " یہ کمینہ باتھ روم میں بوتل لے کر کیوں گیا تھا ؟ " " میری عادت ہے . . . " میرے پاس بیٹھتے ہوئے کاشف کی طرف دیکھ کر اظہر نے جواب دیا . . . " بڑی عجیب عادت ہے یار ، اچھا ہوا کھانے کی پلیٹ لیکر باتھ روم جانے کی عادت نہیں ہے ، ورنہ ایک طرف سے مٹیریل باہر نکلتا تو دوسری طرف سے اندر جاتا . . . . " کاشف زور زور سے ہنسنے لگانے لگا اور مجھ سے بولا " تو کیوں روک گیا بے ، آگے بتا کیا ہوا . . . . " اُس دن بریک ٹائم میں جب میں نے دھیمی آواز میں " آئی " بولا تھا ، تب اظہر میرے برابر میں ہی کھڑا تھا ، اور جب سارہ ہماری آنکھوں كے سامنے سے گزری تو وہاں ایک اظہر ہی ایسا لڑکا تھا جو سارہ کی جگہ مجھے دیکھ رہا تھا اور میرے چہرے كے بدلتے رنگ کو دیکھ کر وہ سمجھ گیا تھا کہ میرے اندر ابھی کیا چل رہا ہے . . . . . . " چل آجا . . . " میرا ہاتھ پکڑ کر اظہر بولا . . . " کہاں آجا یار. . . " " چل سارہ سے تیری بات کراتا ہوں . . . " یہ سنتے ہی میں نے جلدی اس کا ہاتھ دور کیا اور بولا " تجھے ایسا کیوں لگا کہ میں سارہ سے بات کرنا چاہتا ہوں ؟ " " اب بیٹا ہم کو گنتی گننا نہ سکھاؤ . . . جب سے تو نے اسے دیکھا ہے ، تیرے چہرے پر لالی چھائی ہوئی ہے . . . " " ہٹ یار . . . . ایسی درجنوں لڑکیوں کو میں روز دیکھتا ہوں ، تو اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ میں ان سے بات کروں . . . . " " ابھی ان درجنوں لڑکیوں کو چھوڑ اور اس طرف دیکھ . . . " دوسری طرف سے سارہ اپنی زلف لہراتی ہوئے وآپس آ رہی تھی ، اُس وقت دِل میں ارمان اٹھا کہ کاش سارہ سیدھے میرے پاس آئے اور مجھے بولے کہ " ہیلو ہینڈسم ، تمہارا نام کیا ہے . . . " دِل میں ارمان جاگے کہ وہ مجھے دیکھے اور مجھے دیکھتے ہی اسے مجھ سے محبّت ہو جائے ، وہ قریب آتی گئی اور میرے منہ سے " آئی . . . . . . " لفظ اک بار پھر باہر آیا ، لیکن جب وہ اپنے کلاس کی طرف گئی تو یہ " آئی . . . . " لفظ وآپس اندر چلا گیا . . . . " دِل توڑ دیا اس نے اُس طرف جا کر . . . " اپنے سینے میں ہاتھ رکھ کر سہلاتے ہوئے مزاخیہ اندازِ میں میں نے بولا . . . . " یار ، اظہر کچھ جوگار کرنا . . . . اسے ایک بار دل بھر کر دیکھنا چاہتا ہوں . . . . " " چل آجا پھر . . . " اظہر نے ایک بار پھر میرا ہاتھ پکڑا . . . " کمینے ہاتھ چھوڑ ، چھوٹا بچہ ہوں کیا ، جو بات بات پر ہاتھ پکڑ لیتا ہے . . . " " پیار ہے پگلے . . . " " اِس پیار کو تھوڑا کم کر " سی ایس سبجیکٹ میں اظہر کا ایک دوست تھا ، جس کے پاس جا کر میں اور اظہر بیٹھ گئے . . . . جہاں اظہر اپنے دوست سے بات کرنے لگا وہی میں چپکے سے سارہ کو تکنے لگا . . . . ایسا نہیں تھا کہ میں نے سارہ سے پہلے کوئی خوبصورت لڑکی نہیں دیکھی تھی ، لیکن جو کشش اس میں تھی وہ آج تک مجھے کسی بھی لڑکی میں محسوس نہیں ہوئی تھی ، اُس وقت اس کی مقناطیسی کشش مجھ پر غالب آ رہی تھی ، جو مجھے مدہوش کرنے کے لئے کافی تھی. . . . . اسی دوران پہلی بار اس نے مجھے دیکھا لیکن میری نظری یکایک دوسری طرف ہو گئی ، دِل کی دھڑکنوں نے اک بار پھر سے بھرنے لگی . . . . . " کیا ہوا بے . . . " مجھے دوسری طرف دیکھتے ہوئے دیکھ کر اظہر نے پوچھا . . . " کچھ نہیں ، بس اس نے مجھے دیکھ لیا . . . . " " تو ، یہی تو موقع تھا ، آنْکھ مار دیتا اسے اسی وقت . . . " " پھٹتی ہے میری ان سب کاموں سے . . . " " لو تب تو وہ سیٹ ہوگئی تیرے سے . . . . " اظہر نے سارہ کی طرف دیکھا . . . " سن ارمان ، سارہ تجھے ہی دیکھ رہی ہے . . . . " " کیا . . . . " دِل ایک بار پھر زور سے دھڑکا . . . اور میں نے سارہ کی طرف دیکھا ، اظہر سچ بول رہا تھا وہ میرے طرف ہی دیکھ رہی تھی . . . اُس وقت مجھے ایسا لگا جیسے کہ وقت ٹھہر گیا ہو ، اُس وقت مجھے ایسا لگا کہ وہاں اُس کلاس روم میں میرے اور اس کے سوا کوئی نہیں ہے . . . . " تم دونوں تو ایک دوسرے آنکھیں چار کر رہے ہو لیکن . . . . . " اظہر بولا اور بولنے كے فوراً بَعْد میرے کاندھے کو پکڑ کر زور سے ہلایا " بریک ٹائم ختم ہوا میرے لال ، اب اپنی کلاس کی طرف چلے یا اِس بار بھی یہی ارادہ ہے کہ اگلا پیریڈ کا ٹیچر تجھے باہر نکال دے . . . . " "بریک ختم ہو گیا . . . " " بلکل اور تو پچھلے بیس منٹ سے اس کو گھورے جا رہا ہے بنا پلکیں جھپکائے. . . . " اظہر اور میں سارہ کی کلاس سے باہر آئے ، کلاس تو شروع ہوچکی تھی لیکن ٹیچر ابھی تک لاپتا تھا . . . . . اپنی سیٹ پر بیٹھ کر میں کچھ دیر پہلے جو کچھ بھی ہوا ، اس کو یاد کرنے لگا اور ہاتھوں میں پین پکڑ کر ڈیسک پر اسکا نام لکھنے لگا . . . . . " سارہ . . . . . " اِس نام کو سامنے والی ڈیسک پر پین سے لکھنے كے بَعْد میں اسے اپنے ہاتھوں سے سہلانے لگا ، وہ نام میں نے نارمل پین سے لکھا تھا ، اُس نارمل پین كے نارمل سیاحی سے لکھا تھا ، لیکن جو چار الفاظ وہاں ابھرے تھے ، وہ میرے لیے نارمل نہیں تھا ، . . . ان چار الفاظوں سے ایک لگائو سا ہوگیا تھا . . . . لیکن اُس وقت میں یہ بھول گیا تھا کہ میری ساتھ میرا سب سے کمینہ اور خاص دوست اظہر بیٹھا ہے ، جو مجھے ایک پل كے لیے بھی چین سے سانس لینے نہیں دیگا . . . . میری اِس حرکت وہ مجھ پر چلایا . . . " ابے یہ کیا کر رہا ہے . . . " اس کے اِس طرح سے اچانک بولنے سے میرا دھیان ٹوٹا اور جن چار الفاظوں سے مجھے لگاؤ تھا ، انہیں میں مٹانے کی کوشش کرنے لگا . . . . لیکن سیاحی سُوکھ چکی تھی ، اس لئے نام مٹنا تھوڑا مشکل تھا . . . . . . " ہاتھ ہٹا . . . " " نہیں . . . " میں نے سارہ كے نام كے آگے ایسے ہاتھ رکھ کر کھڑا تھا جیسے کی میرا ہاتھ ہٹاتے ہی میری عزت لٹنے والی ہو . . . . " دیکھ ارمان ، مجھے دیکھا دے کہ کیا لکھا ہے ڈیسک پر تو نے ، ورنہ پوری کلاس کو بتا دوں گا . . . . " " تیری تو " کیا کرتا ، مجبوری مجھے ہاتھ ہٹانا ہی پڑا . . . " تیری رائٹنگ تو بہت اچھی ہے . . . " یہ بول کر اظہر پیچھے موڑا تو میں نے وآپس سارہ كے نام کو اپنے ہاتھوں سے ڈھک لیا . . . " بوتل ہے . . . " اظہر نے پیچھے بیٹھے کسی لڑکے سے بولا . . . جاری ہے . . . . " پانی کی بوتل" نہیں شراب کی بوتل . . . . یار کلاس میں ہو تو پانی کی بوتل ہی مانگوں گا نہ. . . . " " تو سہی سے بول نہ . . . . " اظہر نے جس سے پانی کا بوتل مانگا تھا وہ بولا . . . " ابے گھونچو اس طرح تو کیا خاک انجینئر بنے گا ، کمینے نے میٹرک کا ایگزام پکا نقل سے پاس کیا ھوگا . . . اب لا دے بوتل " اس کے ہاتھ سے بوتل لیکر اظہر نے پانی کی کچھ بوندے ڈیسک پر ڈالی اور سارہ کا نام مٹا کر مجھ سے بولا . . . " یہ عاشقی کا جو بھوت سوار ہے نہ، اس کو سنبھل کر رکھ ورنہ لینے كے دینے پڑ جائینگے . . . . " " کمینے تو مجھے ڈرا رہا ہے . . . " " یہی تو پیار ہے پگلے " ہفتے میں تین دن ہمارا لیب کا ہوتا تھا ، اور ہر ایک لیب دو دو پیریڈز كے برابر تھا ، ہم سب اپنے باقی كے کام لیب کلاس میں ہی نپٹا لیتے تھے ، شروع كے آدھے گھنٹے میں لیب والے سر آ کر ہمیں ایکسپیریمینٹ اور اکوپمنٹ کو کیسے یوز کرنا ہے ، یہ بتا کر اپنی سیٹ پر برجمان ہو جاتے اور اس کے بَعْد کا پورا وقت ہم ایس ایم ایس بھیجنے میں ، اسائنمنٹ کمپلیٹ کرنے میں استمعال کرتے تھے ، ہمارے کالج كے ٹیچرز کی ایک بہت ہی خراب عادت یہ تھی کہ وہ چھوٹی سی چھوٹی بات پر یا تو حاضری کٹ کر دیتے تھے ، یا پھر سیدھے کلاس سے باہر ہی بھاگا دیتے تھے . . . اس دن فیزکس کا لیب تھا اور لیب میں، میں سی ایس کا اسائنمنٹ کر رہا تھا اور اِس کام میں اظہر بھی باخوبی میرا ساتھ دے رہا تھا کہ اچانک صدیقی سر کی آواز پوری لیبارٹری میں گونجی . . . . " جو اسٹوڈنٹ ریڈنگ اور فائنل رزلٹ دکھائیں گا ، میں اسی کو آج کا حاضری دوں گا . . . . " " لگ گئے لوڑے . . . . " ایک دَرْد بھری غصے سے بھرپور آواز میں اظہر نے دھیمی سی آواز میں بولا . . . . " اب کیا کرے . . . " " پتا نہیں . . . " اس وقت مجھے اپنے اسکول كے دنوں کی یاد آ گئی ، جب میں لیب سے اکثر پاس آؤٹ ہوچکے اسٹوڈنٹ کی کاپی چھپا کر چھاپ دیا کرتا تھا . . . . . " ہم دونوں کو پریکٹیکل کا مینول نہیں ملا ہے نہ . . . " میں نے اظہر سے پوچھا . . . . ہم دونوں کا رول نمبر آگے پیچھے تھا ، اس لئے ایکسپیریمینٹ بھی سیم تھا . . . . " صدیقی دے رہا تھا ، لیکن میں نے لیا ہی نہیں . . . . اور ویسے بھی اس کو ریڈنگ دکھانی ہے . . . ." " تو روک میں کچھ کرتا ہوں . . . " یہ کام میں پہلے بھی بہت بار کر چکا تھا ، اس لئے دَر تو نہیں لگ رہا تھا لیکن پھر بھی تھوڑی سی گھبراہٹ ہو رہی تھی . . . . " سر ، ہمارے پاس مینول نہیں ہے . . . " لیب والے سر كے پاس کھڑے ہوکر میں نے معصومیت سے بولا . . . اس کے بَعْد صدیقی نے کئی باتیں کی ، ہمارا رول نمبر پوچھا ، اور اس کے بَعْد اس نے ایکسپیریمنٹس كے بارے میں مجھ سے پوچھا . . . . اس وقت تو ایکسپیریمینٹ کا اوبجیکٹ کیا ہے مجھے یہ تک نہیں معلوم تھا تو پھر اسکا پرنسپل کیسے بتاتا . . . . . . " سر ، یہاں کوئی پرانا رجسٹر مل جاتا تو تھوڑا آئیڈیا مل جاتا . . . . " اپنے منصوبے کے تحت میں نے سر سے کہا. . . جہاں صدیقی بیٹھا ہوا تھا ، وہاں سے بائیں طرف ایک چھوٹا سا روم تھا . . . اس نے پہلے پانچ منٹ تک میری شکل دیکھی اور پھر مجھے اندر جانے كے لیے کہا . . . . " وہ اندر بیٹھی ہوئی ہے ، ان سے مانگ لو . . . . " " تھینک یو سر . . . . " آدھا کام تو کر لیا تھا ، بس آدھا کام اور باقی تھا ، پہلے میں نے سوچا کہ اندر جس روم میں میں جا رہا تھا وہاں کوئی صدیقی کی عمر کا ہی ٹیچر ھوگا ، یعنی کہ 40 سے 45 تک کی عمر کا ، لیکن جیسے ہی میں نے اندر قدم رکھا میری آنکھیں باہر آ گئی یہ دیکھ کر کہ اندر سحرش میڈم بیٹھی ہوئی ہے . . . . . . " میم ، وہ پرانے پریکٹیکل رجسٹر چاہئے تھے . . . . " اس روم كو چاروں طرف سے دیکھتے ہوئے میں نے بولا . . . . " سر سے پوچھا ہے . . . " وہ ٹیبل پر ایسے بیٹھی تھی ، جیسے کہ وہ اِس کالج کی پرنسپل ہو . . . . " جی میم ، انہوں نے ہی کہا ہے کہ میں اندر جا کر اپنا کام کر سکتا ہوں . . . " میں نے جان بوجھ کر ایسا کہا . . . . " کیسا کام . . . " کرسی پر سیدھے ہوتے ہوئے انہوں نے میری طرف نگاہ ڈالی . . . . " وہی والا . . . . . " میں نے بولا ، فلرٹ کرنا میرے لیے کوئی نئی بات نہیں تھی ، میں اکثر موقع ملنے پر یہ سب کر دیا کرتا تھا پر افسوس کہ آج تک کسی لڑکی نے میرے ارمانوں کو ٹھنڈا نہیں کیا تھا . . . . . . " میکنیکل فرسٹ ایئر رائٹ . . . . " میں نے ہاں میں سَر ہلایا تو سحرش میڈم نے ایک طرف اشارہ کر دیا . . . جہاں پاس آؤٹ اسٹوڈنٹ کے پریکٹیکل رجسٹر جمع کیے ہوئے تھے ، میں وہاں پہنچھا ایک دو رجسٹرز کو کھول کر پڑھنے کا ڈرامہ کرنے لگا ، لیکن اِس دوران میرا دھیان صرف اور صرف سحرش میم پر تھا کہ وہ مجھے دیکھ تو نہیں رہی ہے . . . . سحرش میم اِس وقت اپنے موبائل میں مصروف تھی ، اور یہی میرے لیے سنہری موقع تھا . . . میں نے چپکے سے ایک پریکٹیکل رجسٹر کو اپنے شرٹ كے نیچے پیٹ كے پاس پھنسا لیا اور اس کے بعد کچھ دیر تک میں وہی کھڑا رہا . . . . " ٹھیک ہے میم ، میں چلتا ہوں . . . . " مجھے پوری امید تھی کہ سحرش میڈم نے مجھے نہیں دیکھا تھا ، اور میں اپنے اس کارنامے پر خود کو داد دیتا ہوا وہاں سے جا ہی رہا تھا کہ سحرش میڈم نے پیچھی سے آواز دی . . . " رکو . . . " " جی میم . . . " دِل میں گھبراہٹ ایک بار پھر پیدا ہونا شروع ہوگئی . . . . " تم کیا سمجھتے ہو کہ کالج کا اسٹاف بیوقوف ہے . . . " " مطلب . . . ؟ " " مطلب یہ کہ . . . " وہ اپنی کرسی سے اُٹھ کر میرے پاس آئی اور سیدھا میرے پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی " یہ تمھارے سکس پیکس اتنے مضبوط ہے یا لیب کا رجسٹر چوڑی کرکے لے جا رہے ہو . . . ." اس کے بعد بولنے کی میری ہمت نہیں ہوئی ، میں کسی مجرم کی طرح وہاں کھڑا سحرش میڈم كے اگلے ایکشن کا انتظار کر رہا تھا . . . . " تمہاری اطلاع كے لیے عرض کر دوں کہ میں یہی سے پاس آؤٹ ہوں اور مجھے معلوم ہے یہ معملات . . . اس لئے میرے سامنے ہوشیار بننے کی کوشش مت کرنا . . . " یہ بولتے ہوئے انہوں نے پریکٹیکل رجسٹر نکال لیا اور بولی " تمھارے جانے كے بَعْد صدیقی سر یہاں آئینگے اور وہ مجھ سے پوچھے گے کہ اس لڑکے نے کہی کچھ اٹھا تو نہیں لیا ، اور پھر جب تم باہر جاؤ گے تو تمہاری چیکنگ بھی ھوگی . . . . " " بہن چودوں نے ہیرا چھپا رکھا ہے کیا یہاں . . . " " تم نے کچھ بولا . . . " " سوری میم ، . . . " " اب جاؤ . . . " اس کے بعد چند ہی لمحوں میں سحرش میڈم نے وہ حرکت کی جس کی وجہ سے میرا دِل لیفٹ سائڈ سے رائٹ سائڈ میں شفٹ ہونے لگا تھا ، ہزار واٹ کا جھٹکا لگا جب سحرش میڈم نے مجھے . . . . انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور سیدھا اپنی پھدی سے ٹچ کر دیا اور بولی " پسند آیا ہو تو دوبارہ بتانا . . . . . جاری ہے . . . . میں ، اس روم سے باہر نکلا ، وہاں سے آنے كے بَعْد میری سیٹی گم ہوگئی تھی ، ایسا لگنے لگا تھا جیسے کہ کسی نے میرے ہاتھ میں کچھ دیر پہلے بجلی کا ننگا تار پکڑا دیا ہو . . . . . . . " کیا ہوا ؟ لے آیا پریکٹیکل رجسٹر ؟ " مجھے اپنے ساتھ چپ چاپ بیٹھا دیکھ کر اظہر نے مجھ سے پوچھا . . . . " ابھی کچھ دیر بات مت کر ، صدمے میں ہوں . . . . " " کیا ہوا . . . . کسی نے چوڑی کرتے ہوئے دیکھ لیا کیا ؟ " " میری چوڑی پکڑی بھی گئی اور اس کی سزا بھی دے دی گئی . . . " میں اب بھی صدمے میں تھا . . . . . " آخر ہوا کیا . . . " " کچھ نہیں ، اب میں ٹھیک ہوں . . . " میرے دِل دماغ میں ، میرے خیالوں میں جی ہاں صرف وہی نظارہ گھوم رہا تھا ، جب سحرش میم نے میرا ہاتھ پکڑا اور میرے ہاتھ کو اپنی چوت سے ٹچ کر دیا تھا . . . . " کاش میں وہاں کچھ دیر مزید روک جاتا . . ." میں بڑبڑایا . . . " ایسا کیا دیکھ لیا تو نے . . . " " کچھ نہیں . . . " سحرش میڈم نے جو کیا اس پر مجھے یقین نہیں ہو رہا تھا ، کوئی بھی عورت بنا جان پہچان كے ایسے کیسے کر سکتی ہے ، یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں اس کی شکایت کر سکتا ہوں ، شاید میں نے ہی سحرش میڈم کو حوصلہ دیا تھا ایسا کرنے كے لیے . . . نہ میں ڈبل میننگ میں ان سے بات کرتا اور نہ ہی وہ میرا ہاتھ پکڑتی اور نہ ہی . . . ابھی تک جو کچھ بھی میرے ساتھ ہوا تھا وہ سب ناقابل یقین تھا ، میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں ایک عورت كے پیچھے پاگل ہو جاؤںگا اور نہ ہی میں نے یہ سوچا تھا کہ شروعات كے کچھ دنوں میں ہی مجھے وہ چودنے کو مل جائیگی . . . . . . اس دن كے بَعْد سحرش میڈم سے جیسے میں نظر ہی نہیں ملا پا رہا تھا ، وہ جب تک کلاس میں رہتی میں اپنا سَر جھکائے رہتا اور چپکے سے ان کی طرف دیکھتا تو وہ دھیمی دھیمی مسکراتی نظر آتی . . . . " میں کتنا شرمیلا ہوں . . . " مجھے زندگی كے اٹھارہ سال بیت جانے كے بَعْد یہ پتہ چلا کہ ، میں بھی ان لڑکوں میں سے ہوں ، جن کی لڑکیوں کو دیکھ کر کچھ بولنے کی ہمت نہیں ہوتی . . . . . سارہ کچھ دنوں سے کالج نہیں آئی تھی ، میں جب بھی اس کے کلاس میں جا کر اظہر كے دوست سے پوچھتا تو وہ نہ میں سَر ہلا دیتا ، . . . دِل بےچین رہتا تھا اس کے بغیر ، روزانہ بریک ٹائم میں میں اظہر کو لیکر اس کی کلاس میں اس کے دوست كے پاس جاتا تھا اور جہاں وہ بیٹھا کرتی تھی ، اس جگہ کو اِس آس میں دیکھتا تھا کہ شاید وہ لیٹ آئی ہو ، لیکن ہر دن اس کی جگہ کوئی اور لڑکی ہی وہاں بیٹھی ہوئی ملتی اور ہر دن میں اس کے کلاس سے اداس ہی چلا آتا تھا . . . . ابھی تک تو میں بہت سی ناقابل یقین واقعیات کو برداشت کر چکا تھا ، لیکن ان سب کے علاوہ بھی کچھ اور تھا جو کہ میری زندگی میں پہلی بار ہونے والا تھا اور سب سے بڑی بات تو یہ تھی کہ مجھے اِس بات کی بھنک تک نہیں تھی . . . . کچھ دن گزرنے كے بَعْد میری کچھ اور لڑکوں سے دوستی ہوگئی اور روزانہ کی طرح ہم آج بھی بریک کے اوقات میں اپنی کلاس كے باہر کھڑے آس پاس سے گزرنے والی لڑکیوں کا مزہ لے رہے تھے . . . . . سارہ كے لیے میری دلچسپی کم ہوتی جا رہی تھی، میں اب ہر خوبصورت لڑکی کو دیکھ کر اسی خیال میں ڈوب جاتا کہ میں اسے اپنے ہاسٹل كے روم میں چود رہا ہوں ، ایک عجیب سی تبدیلی آ رہی تھی مجھ میں سحرش میڈم کی اس حرکت سے . . . . " سب لائن میں کھڑے ہو . . . " کسی نے گلا پھاڑ کر کہا ، اور جب میری نظر اس طرف پڑی تو دیکھا کہ دو سینیرز ہمیں لائن میں کھڑے ہونے كے لیے کہہ رہے تھے . . . . . ان کا کہنا تھا کہ ہم سب لائن میں کھڑے ہو گیں . . . . " آنکھ نیچے کر بھڑوے. . . اپنے باپ سے آنکھ ملاتا ہے . . . " کسی ایک کو اس نے تھپر مارا . . . . " کیا ہے بیٹا ، سلام نہیں کرتے تم لوگ سینیرز کو . . . گانڈ میں ڈنڈا ڈال كے یاد دلانا پڑیگا کیا . . . ." ان دونوں میں سے ایک نے بیگ تانگ رکھا تھا ایسا لگ رہا تھا کہ بریک كے بَعْد وہ بینک لوٹنے كے پروگرام میں تھے اور دوسرا اپنے ہتھلیوں کو رگڑ رہا تھا . . . . " چلو ادھر آ جاؤ اور کلاس میں جتنے لڑکے ہے انہیں بھی بلاؤ . . . " جس نے بیگ تانگ رکھا تھا وہ بولا . . . کلاس میں جتنے لڑکے تھے ان سب کو بلا لیا گیا ، میں دِل ہی دِل میں یہ دعا کر رہا تھا کہ کہی سے کوئی ٹیچر آ جائے . . . . لیکن کوئی نہیں آیا ، سب اپنا پیٹ پوجا کرنے میں لگے ہوئے تھے . . . . . " تیرا نام کیا ہے . . . . " مجھے اوپر سے نیچے تک دیکھتے ہوئے وہ بولا . . . . " جی . . جی . . جی . . . " میں ہکلایا . . . سچ تو یہ تھا کہ وہاں کھڑے ہر لڑکے کی بری طرح سے پھٹ چکی تھی . . . " نام کیا ہے انجینئر صاحب آپ کا . . . " " ارمان . . . " میں نے ایک پل كے لیے اس کی طرف دیکھا اور جواب دے کر وآپس اپنی گردن نیچے کر لی . . . . " دِل كے ارمان آنسوں میں بہہ گئے . . . . " وہ گانا گاتے ہوئے میرے پاس آیا اور بیلٹ كے قریب سے پینٹ کو پکڑ کر زور سے ہلاتا ہوا بولا " یہاں کیا کرنے آتا ہے . . . " " پڑھنے . . . " " تو پھر کل سے فورمل ڈریس میں آیا کر ، ورنہ یہی سے نیچے پھینک دوں گا . . . سمجھا " " جی . . . جی . . . جی سر . . . " ( تیرا باپ دیگا پیسہ فورمل ڈریس خریدنے کا ، سالے چوتیے . . . ) " چل ریلکس ہو جا . . . " بیلٹ چھوڑ کر میرا کندھا سہلاتے ہوئے وہ بولا " میرا نام جانتا ہے . . . . " " نہیں . . . . " " میں ہوں سلطان میرانی. . . . سمجھا ، کل سے اسٹوڈنٹ کی طرح دیکھنا . . . " ان دو چوتیوں کو میں اکیلا ہی نظر آیا تھا کیا جو میری عزت کی ماں بہن ایک کر کے چلے گئے ، ان کے جانے كے بَعْد پتہ چلا کہ وہ دونوں مائننگ سبجیکٹ كے تھے . . . . . " یہ تو مائننگ كے تھے ، اس کا مطلب مکینیکل والے بھی کچھ دنوں میں اپنا دیدار کا شرف دینگے . . . " ہر کالج میں الگ الگ قانون چلتا ہے ، ہمارے یہاں تنظیم سازی تب ہوتی تھی ، جب کچھ ہفتے نکل جاتے تھے . . . شہر میں رہنے والے تو پھر بھی بچ جاتے تھے ، لیکن ہاسٹل والوں کی ایسی تیسی ہو جاتی تھی . . . . اس دن بریک كے بَعْد ہم سب کے من میں یہی سوال گھوم رہا تھا کہ ان سب سے کیسے بچا جائے ، اور اس دن كے باقی كے پیریڈز اسی خوف میں نکل گئے ، . . . میں اور اظہر کالج کی چُھٹّی كے بَعْد ہاسٹل کی طرف ہی جا رہے تھے کہ ہاسٹل سے تھوڑی دور پر ایک ہجوم دیکھائی دیا . . . . . " سن وہ دیکھ ، وہی لوگ ہوں گے . . . " اظہر وہی روک گیا اور مجھ سے بولا " اِس رستے سے مت جا ، سامنے سینیرز کھڑے ہے . . . . " ہم دونوں دوسرے رستے سے جانے كے لیے پیچھے مڑے ہی تھے کہ کسی سینیر نے ہمیں دیکھ لیا اور اُدھر آنے كے لیے کہا ، جہاں ہجوم جمع تھا . . . . " واپس کہاں جا رہے تھے سر . . . " میرے کاندھے پر ہاتھ رکھا کر ایک نے بولا . . . " وہ موبائل رہ گیا ہے ، کلاس میں . . . " " اچھا . . . " اس نے میرا بیگ ایک جھٹکے سے کھینچا اور بیگ کی چین کھول کر پورا سامان راستے میں ہی الٹا کر بیگ میرے ہاتھ میں تھما دیا . . . . " اپنا سامان اٹھا اور دفع ہوجا یہاں سے . . . " میں نے ایک ہاتھ میں اپنا بیگ پکڑ کر اپنی بکس اور رجسٹر کو اٹھانے كے لیے جھکا ہی تھا کی اس سینیر نے میری گانڈ پر زور سے ایک لات ماری اور میں وہی منہ كے بَل گرا . . . . " بیوقوف سمجھ كر رکھا ہے . . . " پیچھے سے اس کی آواز آئی ، میری ہاتھوں کی مٹھیاں بند ہوچکی تھی ، اور اس وقت وہ وہاں اکیلے ہوتا تو اس کو اتنا مارتا کہ تنظیم کا نام لکھنا تک بھول جاتا وہ ، لیکن میں اٹھتا اس سے پہلے ہی اس کے کچھ اور دوست آ گئے ، اور اس کو پکڑ کر بولے کہ . . . " ابھی نہیں ، بَعْد میں دیکھ لینگے ان دونوں کو . . . " جس کے جواب میں وہ چلایا کہ " کمینہ جھوٹ بولتا ہے ، تو روک آج رات تیری دھولائی کرتے ہے ، بھاگ کمینے. . . "1 like
-
کھپرو کی ملکہ از ڈاکٹر فیصل خان ۔۔۔ تعارفی ایڈیشن
1 like