میں بھی آپ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ حالات خاصے بدل چکے ہیں۔ اب یہ ممکن نہیں رہا کہ کسی کو بھی اٹھا لیں اور زیادتی کر دیں۔ مگر یہ ضرور ہے کہ طاقتور کی طرف سے کمزور کے ساتھ ایسی ناانصافی ہر جگہ ہوتی ہے۔ اس کا شہر یا گاؤں ،سندھ یا پنجاب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
میں نے کہانی کو سندھ کے پس منظر میں بہت پرانے وقت میں دکھایا ہے جب تعلیم شعور اور آگاہی نہیں تھی۔ وڈیرہ نظام عروج پہ تھا،کہانی کے اختتام پہ آپ وڈیرہ شاہی نظام میں دراڑیں محسوس کریں گے۔
انسانی حقوق کی پامالی ہمارے ہاں بہت کامن سا معاملہ ہے اور اس کی پامالی پڑھے لکھے سلجھے لوگوں سے بھی سرزد ہوتی ہے کیونکہ ہم شاید حقوق کو سمجھتے بھی ٹھیک سے نہیں ہیں۔
کہانی میں ہم نے کئی چیزیں بڑھا چڑھا اور غیرمعمولی بھی ظاہر کی ہوتی ہیں کیونکہ چھوٹے کینوس پہ سب کچھ پینٹ کرنا مقصود ہوتا ہے۔ اسی لیے اگر برا ہو رہا ہے تو ایک ہی انسان کے ساتھ اور اگر ہو رہا ہے تو بھی ایک ہی انسان کے ساتھ لگاتار اور لمبی قطار در قطار واقعات رونما ہو رہے ہوتے ہیں۔
یہ مشکل کہانی ہے اور چونکہ کردار مختلف ہیں تو ان کو ایک جگہ یکجا کرنا اور ان سب کا آپس میں کوئی تعلق نہ ہوتے ہوئے بھی تعلق کی گنجائش بنا کر لکھنا مشکل کام ہے۔ مگر ہم کوشش کر رہے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ جس معیار کا ہم نے سوچا ہے وہ بنا بھی پائیں۔