Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 06/01/20 in all areas

  1. اسلام و علیکم تمام دوستوں کا شکریہ میں خیریت سے ہوں ابھی اس جگہ آیا ہوں جہاں انٹرنیٹ ملا ۔ امید ہے کہ جمعرات سے میری 5 دن کی چھٹی شروع ہو گی ۔ اور پھر اس دوران کچھ آپ ڈیٹس دے سکوں گا آپ سب سے دعاؤں کی درخواست ہے
  2. salam Dr sahib meray pass alfaaz nahi hay k may kuch tahrir kar sako waqai ek writer aur aam aadmi may farq hay hamri soch jaha khatum hoti hay waha say writer ki shoro hoti hay is qist may her line may shock per shock daitay gay wah kya kehnay aap k her jumla hamaray lia bilkul naya hota hay jo khabi bhi na suunay may aur na hi kahi tehrer howa bus isi tara lagay rehyay
  3. واہ ڈاکٹر صاحب میرے سوال کا جواب مل گیا ماروی کے متعلق. ڈاکٹر صاحب براوو, آپ ہر چیز کا خیال رکھتے ہیں. غلام سمیجو کی طرف آپ نے توجہ دلائ. مجھے تو دھیان ہی نہیں تھا
  4. یہ ایک راز ہے کہ ماروی کا کیا ہوا؟ وہ کہاں گئی اور اس کا کیا ردعمل ہو گا۔ اس کا ذکر اگلی قسط میں ہو گا اور ایک جملہ جو کبھی رجو نے کہا تھا اس کی بنا پہ آپ جان سکتے ہیں کہ ماروی کے کہاں ہونے کے امکانات ہیں۔ جس وقت زمان سمیجو اور سلام سمیجو یہ کام کر رہے تھے،غلام سمیجو منظر عام سے غائب تھا اور تب آیا جب ملکہ فرار ہوئی۔ ان سوالوں کے جواب مل جائیں گے۔
  5. کیونکہ وہ بہرام کو قتل کر چکے تھے اور اگر بہرام کے ساتھ ماروی کا نام جوڑتے تو بدنام ہوتے،اگر نوشاد کا نام جوڑتے تو کھوڑو دشمن ہو جاتے اور بہرام کا قتل ناحق ہو جاتا۔ اس لیے بہرام کے قتل کا جواز ملکہ اور بہرام کا جھوٹا معاشقہ بنایا گیا
  6. ارے جناب اگر میں اتنا آگے کا نہیں سوچوں گا تو آپ کیوں میری کہانی پڑھنا چاہیں گے۔ اس لیے کہانی کو قاری کی سوچ سے بالکل مختلف ہونا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کم از کم دس سے بارہ اقساط آگے تک سوچنے کے بعد لکھنا ہوتا ہے۔ اب کہانی لکھنے سے پہلے ہی کل کی قسط میری ذہن میں تھی۔ بس واقعات اور کرداروں کو یکجا کرنا تھا اور ان کو اس نہج پر لانا تھا۔
  7. اگر سب ہی فری کردیا جائے تو فورم کیسے چلے گا. ڈاکٹر صاحب کا شوق ہے تو وہ لکھ رہے ہیں. ہونا تو یہ چاہیے کہ اچھا بھلا معاوضہ دیا جائے. حالاں کہ ڈاکٹر صاحب جو شاہکار لکھ رہے ہیں معاوضہ اس کی تلافی کر ہی نہیں سکتا. کھپرو کی ملکہ تو بہت ہی پایہ کی کہانی ہے جو فری میں نہیں چلنی چاہیے. ایک کہانی یاسر والی پہلے ہی چل رہی ہے. اب یہی دیکھ لیں کہ ڈاکٹر صاحب نے مجھے کچھ لکھنے کی کوشش کرنےکا کہا ہےلیکن اب تک ایک لائن نہیں لکھی ہے . ٹھیک ہے مصروف ہوں لیکن ڈاکٹر صاحب کیا کم مصروف ہیں. یہ ان ہی کی ہمت ہے یہ نہ ہو کہ قارئین مجھ پر بیچ وتاب کھارہے ہوں تو ان سے معذرت. لیکن دوستوں بات یہ ہے کہ آج کل جس کی تنخواہ بیس ہزار ہے تو اس نے بھی پندرہ بیس ہزار کا موبائل رکھا ہوا ہے. موٹر سائیکل رکھا ہوا ہے تو اس کا بھی پندرہ سو دو ہزار کا خرچہ ہے... جب اتنا کچھ کرلیتے ہیں تو اب تو فورم انتظامیہ نے قیمت بھی بہت کم کردی ہے , اب اتنا مسئلہ نہیں ہونا چاہیے. ایڈمن آپ نے یہ تو طریقہ کار رکھا ہے کہ 100پیجز کی قسط کی قیمت تو یہ بہت ہی بہترین ہے. قارئین کو 100 پیجز یکمشت پڑھنے کو ملیں گے. پھر ہر کہانی کی اپڈیٹ اپنے وقت پر ہوگی جو کہ پہلے بھی ہورہی ہے...... ڈاکٹر صاحب آپ نے ایک جگہ پوچھا تھا کہ کون سی نئ کہانی سلسلہ شروع کیا جائے تو آج کل کے جو حالات چل رہے ہیں کالج یونیورسٹیز. پارک میں بوائے فرینڈ گرل فرینڈ. کالج یونیو رسٹی میں جو کچھ ہوتا ہے . اس پر کوئ سبق آموز کہانی لکھی جائے....
  8. نئے سسٹم کو اسی لیئے بنایا گیا ہے کہ ممبر کو پے منٹ ہی تب کرنا ہو گی جب قسط اپلوڈ ہو کر آپ کے سامنے ہو گی۔اور اگر ممبر کو انتظار کرنا بھی پڑتا ہے تو ممبر کا ممبرشپ کا دورانیہ اور پے منٹ کا ضیاع نہیں ہو گا۔یہاں ایک سہولت یہ بھی ہے ۔کہ اگر کسی وجہ سے ممبر فورم قسط نہیں پڑھنا چاہتا تو جب اس کا دل چاہے تب وہ خرید کر پڑھ سکتا ہے۔دوسری سہولت یہ بھی کہ ممبرشپ کی قیمت انتہائی کم کر دی گئی ہے۔جس کی ایک مثال یوں لے لیں کہ اب تک کی فری کہانی کی 200 صفحات کی قیمت 4 ڈالر بنتی ہے۔ جبکہ پہلے یہ 20 ڈالر میں دستیاب تھی۔
  9. کھپرو کی ملکہ جیسا کہ سلسلے کے سٹارٹ میں بتایا گیا تھا کہ اس کہانی کے 200 صفحات فری سیکشن میں پوسٹ کیئے جائیں گے۔ ایک خوبصورت کہانی کا تعارفی ایڈیشن یہاں ختم ہوا۔ اب اس سے آگے کی یہ کہانی پریمیم سیریز سیکشن میں قسط وار اپلوڈ ہو گی۔ ہر قسط قریبا 100 صفحات کی ہو گی۔جسے ممبرز نئے سسٹم کی مطابق قسط کی پے منٹ کر کے پڑھ سکیں گے۔ ایک نیا سلسلہ بھی بہت جلد سٹارٹ کیا جائے گا۔
  10. دراصل کئی بار کہانی اس قدر تیزی سے ٹائپ کی ہوتی ہے کہ ٹائپنگ کی کافی غلطیاں رہ جاتی ہیں۔ کوشش تو ہوتی ہے کہ لکھنے کے بعد پڑھ لی جائے مگر اکثر اس کا وقت نہیں ملتا کہ بغور پڑھا جا سکے۔ باقی بہرام کا کردار ایسا ہی تھا اور اتنا ہی تھا۔ کوئی بھی ایسا بندہ جس کو یہ معلوم ہو کہ فلاں لڑکی جس نے مجھے صرف بات کرنے پہ ذلیل کر کے رکھ دیا اور دوسری طرف وہ کسی کے ساتھ رنگ رلیاں مناتی ہے تو اس کا ردعمل ایسا ہی ہو سکتا ہے جیسا بہرام کا تھا۔ اس کے بلیک میلنگ یا زیادتی کی کوشش۔ بڑا باریک سا نقطہ ہے کہ سلام کو ملکہ کی لینے کی جلدی تھی اور اسے بیچ میں ڈسٹرب ہونے کا ڈر تھا۔ اس لیے وہ ماروی کو نیگ دے کر جان چھڑانا چاہتا تھا کہ تاکہ صبح تک پھر اس کے اور ملکہ کے بیچ کوئی رکاوٹ نہ ہو۔اس لیے وہ ماروی کو ڈھونڈنے نکلا،ایسے ہی باریک نقاط سے پوری پلاننگ سے کیا گیا کام بھی ناکام ہو جاتا ہے۔
  11. آہ ڈاکٹر صاحب!! آپ کے قلم کی کاٹ کا کوئ جواب نہیں. ماروی کا دردناک ریپ آپ نے جس انداز سے تحریر کیا داد کے مستحق ہیں. خاص طور پر آخری لائن کہ ماروی کے ننگے جسم پر وار کرنے کے لیے ہاتھ بلند کیا ایسا لگا کہ ماروی میرے سامنے موجود ہے. ماروی بہرام کو گھاس نہیں ڈال رہی تھی تو بہرام طیش میں تھا کہ مزہ چکھاؤں گا میں سوچ رہا تھا کہ بہرام ماروی کے ریپ کے وقت موجود ہوگا بعد میں اِسی بات کو لے کر وہ ماروی کے جسم سے کھیلے گا بلیک میل کرے گا لیکن یہاں تو سوچ کے برعکس ہوا. سلام سمیحو شک میں پڑ کر ڈھونڈنے نکل پڑا. اف. ڈاکٹر صاحب جہاں ہماری سوچ ختم ہوتی ہے وہاں سے آپ سوچنا شروع کرتے ہیں. ماروی کا جسم کا جو نقشہ کھینچا ہے وہ بلاشبہ کمال ہے. جس باریک بینی سے ہمارے احساسات کو کاغذ پر لاتے ہیں میں آپ کا تہہ دل سے مشکور ہوں. ایک دو جگہ املا کی غلطی تھی بھوسے کو بوسا لکھا گیا بعد میں دیکھ لیجیے گا کراچی کے ٹھنڈے موسم میں درد بھرا مزہ آیا......
  12. Incest or pehle yahan post na ho, to allowed

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.