Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 06/09/19 in all areas

  1. ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﺍﮔﺮ ﻟﮍﮐﻮﮞ ﺳﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﮐﭽﮫ ﯾﻮﮞ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﻠﯿﮟ ﮔﮯ ، ٭ ﻣﯿﮟ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﭘﻦ/ ﮐﻨﻮﺍﺭﮮ ﭘﻦ ﺳﮯ ﺗﻨﮓ ﺁﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ۔ ٭ ﺍﮔﻼ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﻨﺴﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮐﺎ ﺭﻭﻧﺎ ﺭﻭﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﻧﻈﺮ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ۔ ٭ ﺗﯿﺴﺮﺍ ﮐﮩﮯ ﮔﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﻣﯿﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﺍﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ٭ ﺍﻭﺭ ﭼﻮﺗﮭﺎ ﮐﮩﮯ ﮔﺎ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﯿﮟ ﺑﮍﺍ ﮨﻮﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﺭﺍ ﻣﺮﺩ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﮯ ﺩﯾﮕﺮ ﺟﻤﻠﮯ ﺁﭖ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺳﻨﯿﮟ ﮔﮯ۔ ﺍﺏ ﺫﺭﺍ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺑﺎﺕ ﺑﮭﯽ ﺳﻦ ﻟﯿﺠﯿﮯ : ٭ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﺎﺭﯼ ﺳﮩﻠﯿﺎﮞ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮ ﭼﮑﯽ ﮨﯿﮟ۔ ٭ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﻮ ﮨﺮ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﻧﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ۔ ٭ ﻣﯿﺮﯼ ﻋﻤﺮ ﺍﺏ ﮈﮬﻞ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺭﯾﻞ ﮔﺎﮌﯼ ﻓﻮﺕ ﮨﯽ ﻧﮧ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ۔ ٭ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﭽﮯ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺑﻌﺾ ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﺷﺎﺩﯼ ﻣﯿﮟ ﺭﻏﺒﺖ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﯾﮧ ﺑﺘﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﯽ ﺳﻔﺮ ﮐﺮﻧﺎ / ﮔﮭﻮﻣﻨﺎ ﭘﮭﺮﻧﺎ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﺑﻌﺾ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﭼﮭﭩﮑﺎﺭﺍ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﯽ۔ ﺍﻥ ﺳﺎﺭﮮ ﺟﻮﺍﺑﺎﺕ ﮐﮯ ﯾﮧ ﻭﺍﺿﺢ ﻃﻮﺭ ﭘﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁﭼﮑﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﺴﻞ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﯼ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﮯ ﻣﻔﮩﻮﻡ ﺳﮯ ﮨﯽ ﻧﺎﺑﻠﺪ ﮨﯿﮟ۔ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﯾﮧ ﻧﮑﻠﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﻥ ﻏﻠﻂ ﻣﻔﺎﮨﯿﻢ ﻭ ﻣﺼﻨﻮﻋﯽ ﺗﺼﻮﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﺯﺩﻭﺍﺟﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺁﻏﺎﺯ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺳﻠﺒﯽ ﻧﺘﺎﺋﺞ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺷﺎﺩﯼ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﯿﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﯿﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﮐﮧ ﺍﺯﺩﻭﺍﺟﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﯾﮏ ﻧﺌﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻗﺒﻞ ﺍﺯ ﻧﮑﺎﺡ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﯾﮑﺴﺮ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﺎﮞ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺎ ﺣﻖ ﺍﺳﯽ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﺗﺎ ﺣﯿﺎﺕ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮ۔ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻭﮦ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﺧﺮﯾﺪ ﺭﮨﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺍﺳﮯ ﭘﺴﻨﺪ ﺁﺋﯽ ﺗﻮ ﺧﺮﯾﺪﻟﯽ ﻭﺭﻧﮧ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻟﮯ ﻟﯽ۔ ﺷﺎﺩﯼ ﺍﯾﮏ ﺑﮭﺎﺭﯼ ﺫﻣﮯ ﺩﺍﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﮈﯾﻮﭨﯽ ﮨﮯ۔ ﯾﮩﺎﮞ ﭘﮯ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺳﺮﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﮩﺎﺑﮭﯽ ) ﻡ۔ ﻣﮩﻢ ( ﺟﺐ ﮨﻢ ﺷﺎﺩﯼ ﯾﺎ ﺯﻭﺍﺝ ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﺘﺐ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺭﺟﻮﻉ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺯﻭﺍﺝ ﯾﺎ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﯾﻮﮞ ﻣﻠﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﻣﺮﺩ ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺑﺎﮨﻤﯽ ﺭﺿﺎ ﻣﻨﺪﯼ ﺍﻭﺭ ﺷﺮﻋﯽ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺭﮨﻨﮯ ﮐﺎ ﻣﻌﺎﮨﺪﮦ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﻋﻔﺖ ﻭ ﭘﺎﮐﯿﺰﮔﯽ ﮐﺎ ﺣﺼﻮﻝ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﻭ ﭘﺎﺋﯿﺪﺍﺭ ﻓﯿﻤﻠﯽ ﻗﯿﺎﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻣﯿﺎﮞ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﮯ ﺑﺎﮨﻤﯽ ﺗﻌﺎﻭﻥ ﻭ ﭘﯿﺎﺭ ﻭ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺗﻮ ﭘﺘﮧ ﭼﻼ ﮐﮧ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﻣﺤﺾ ﺟﻨﺴﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮐﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﻓﮩﻤﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﺍﯾﮏ ﺭﺳﻢ ﮐﻮ ﭘﻮﺭﺍ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ۔ ﺟﻮ ﺑﺮﺳﻮﮞ ﺳﮯ ﭼﻠﯽ ﺁﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﺑﻠﮑﮧ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﺍﯾﮏ ﻧﯿﮏ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﺋﯿﺪﺍﺭ ﻓﯿﻤﻠﯽ ﮐﺎ ﻗﯿﺎﻡ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻓﯿﻤﻠﯽ ﺍﺗﻨﯽ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﯽ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻓﯽ ﻭﻗﺖ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﻨﺖ ﺻﺮﻑ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻓﯽ ﻣﺎﻝ، ﺣﮑﻤﺖ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﭺ ﻭ ﻓﮑﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺧﺮﭺ ﮐﺮﻧﯽ ﭘﮍﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺟﺲ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﮯ ﺍﺱ ﻣﻔﮩﻮﻡ ﮐﯽ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺳﻤﺠﮫ ﻣﯿﮟ ﺁﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮﮐﮯ ﮨﺮ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻟﺬﺕ ﻭ ﺭﺍﺣﺖ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔
  2. اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں ایک کہانی لکھنے کی کوشش کی ہے امید ہے آپکو پہلی اپڈیٹ پسند آئے گی. وقتاً فوقتاً اپڈیٹ کرتا رہوں گا. اپنی رائے کا اظہار ضرور کیجئیے گا. لیپ ٹاپ کی سکرین ایک جھٹکے سے بند ہوئی تو میں بھی جو نجانے کتنی دیر سے ماضی کے سمندر میں غوطہ زن تھا حال کی زمین پر قدم جما چکا تھا. آنسو میری پلکوں سے آبِ بے قابو کی طرح نکلے اور رخساروں پر بہہ گئے. میری آنکھوں کے سامنے گزرے ہوئے آٹھ سالوں کے واقعات کسی فلم کی طرح چلنے شروع ہو گئے اور مجھے محسوس ہوا کہ جیسے میرا دل مجھے ملامت کر رہا ہو کہ کاش اس وقت تم نے اپنے غصے کو قابو میں رکھا ہوتا تو آج اپنوں کے ساتھ ہوتے. کبھی کبھی انسان غصے میں اتنا پاگل ہو جاتا ہے کہ اس کا خود پر قابو نہیں رہتا اور جب وہ قابو میں آتا ہے تب تک حالات کا دھارا اپنا منہ کسی اور جانب موڑ چکا ہوتا ہے. میں مہر سکندر حیات ایک جاگیردار گھرانے کا چشم و چراغ، تین بھائیوں میں سب سے چھوٹا اور والدین کا لاڈلا. شروع سے ہی والد صاحب کے ساتھ رہا چونکہ والد صاحب ایک جاگیردار تھے علاقے کی جانی پہنچانی شخصیت، ضلع ملتان کے ضلعی ناظم اور ایک سیاسی جماعت کے ضلعی صدر بھی. وہ بچپن سے ہی مجھے اپنے ساتھ رکھا کرتے تھے اور اکثر کہا کرتے تھے کہ سکندر حیات میرے بعد میری گدی سنبھالے گا.والد صاحب کے ساتھ رہنے کی وجہ سے تقریباً ان کے سب ملنے والے مجھے پہچانتے تھے جس کی وجہ سے میں اپنا ایک الگ سماجی حلقہ بنا چکا تھا. اسکول سے چھٹی کے بعد ڈیرے پر جاتا اور وہاں کے تمام معاملات کو دیکھتا تھا یہاں تک کہ ہوٹل سے جو کھانا آتا تھا وہ تب تک نہیں آتا جب تک میرے یا والد صاحب کے دستخط چٹھی پر نا ہوتے. کیونکہ والد صاحب مجھے اپنا جانشین منتخب کر چکے تھے اس لیے بڑے بھائیوں نے کبھی سیاسی معاملات میں کوئی مداخلت نا کی گویا میں اپنے والد کی چھوٹی سی سلطنت کا اکلوتا وارث تھا. وقت اپنی ڈگر پر چلتا رہا اور میں عمر کے انیسویں سال میں داخل ہو گیا تھا. میں اپنی عمر سے بڑا نظر آتا تھا باڈی بلڈنگ کے شوق نے میرا جسم بہت مضبوط بنا دیا تھا. پڑھائی، سیاست اور جم یہی میرے مشاغل تھے. میں ملتان کے ایک نامور کالج میں زیر تعلیم تھا. وقت اچھا گزر رہا تھا کہ ایک دن مجھے اپنے بھائی کی کال موصول ہوئی کہ بابا کی طبیعت بہت خراب ہے تم جلدی نشتر ہسپتال پہنچو. یہ خبر گویا میرے سر پر کسی بم کی طرح گری اور میں فوراً کالج سے نکل پڑا. چند لمحوں بعد میری کار سڑک کے وسط میں فراٹے بھرتی نشتر ہسپتال کی طرف گامزن تھی. داخلی دروازے پر میرا کزن(چچا کا بیٹا) میرے ہی انتظار میں کھڑا نظر آیا. اس کے کچھ بولنے سے پہلے ہی میں نے سوال داغا میں: عمر! ابا جان کو کیا ہوا؟ مجھے اپنی آواز کھوکھلی محسوس ہوئی. عمر: صبح ناشتہ کر رہے تھے کہ اچانک دل کی طرف درد اٹھی مجھے کہنے لگے کہ میری دوا لے کے آؤ کمرے سے جب میں واپس آیا تو وہ زمین پر ڈھے چکے تھے. نوکرانی رامو کاکا کو آوازیں دے رہی تھی اور تائی اماں رو رہی تھیں. میں نے حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے گاڑی نکالی اور انہیں ہسپتال لے آیا. ڈاکٹر کہہ رہے ہیں کہ تایا ابا کو دل کا دورہ پڑا تھا بروقت علاج کی وجہ سے جان بچ گئی تھوڑی دیر اور ہو جاتی تو شاید...... میں نے خدا کا شکر ادا کیا. ہم باتیں کرتے کرتے آئی سی یو تک پہنچ گئے تھے. جہاں اندر والد صاحب کا علاج چل رہا تھا. باہر میرے بڑے بھائی مہر زبیر حیات، منجھلے بھائی مہر حسن حیات اور ان کے ساتھ چچا مہر بدر حیات کھڑے تھے. ساتھ ہی اماں جی اور چچی جان مصلے پہ بیٹھی دعائیں مانگ رہی تھیں. ان کے قریب پہنچ کے میں نے پوچھا میں: بھائی ابا کی طبیعت کیسی ہے اب؟ زبیر: اب وہ ٹھیک ہیں. کچھ دیر بعد انہیں کمرے میں شفٹ کر دیں گے. میں: گاؤں میں کسی کو بتایا تو نہیں؟ زبیر: نہیں اب تک تو نہیں میں نے رامو کاکا کو بول دیا تھا کہ جب تک چھوٹے مہر صاحب حکم نا دیں تب تک کسی کو نا بتایا جائے. میں: اچھا! تو کیا خیال ہے چچا جان اب بتا دیا جائے کیونکہ یہ بات چھپنے والی تو ہے نہیں. چچا بدر! ہاں پتر میرا وی خیال اے ہن دس دینا چاہیے نہیں تو پنڈ میں سو گلیں ہو گی کہ مہر صاحب ہمیں اپنا نہیں سمجھتے. میں : تو ٹھیک ہے چچا آپ راموکاکا سے کہو کے وہ گاؤں میں خبر کر دے اور ساتھ یہ بھی بتا دے کہ اب بڑے مہر جی کی طبیعت ٹھیک ہے. حسن بھائی جو کافی دیر سے خاموش کھڑے تھے بولے حسن: چھوٹے مہر میرا خیال ہے کہ آپ خود حویلی جائیں اور ڈیرے پر گاؤں کے معززین کو بلا کر خود اطلاع کر دیں. کیونکہ ابا جی کی غیر موجودگی میں آپ ہی انکی نشست سنبھالتے ہیں اور اس طرح یہ خبر زیادہ عام بھی نہیں ہو گی. ٹھیک ہے میں بولا. میں گاؤں جا رہا ہوں شام تک واپس آ جاؤں گا تب تک آپ یہیں رہیں. اماں اور چچی کو میں ساتھ لے جاتا ہوں شام کو لے آؤں گا. میں آگے بڑھا اور اماں کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور انہیں تسلی دے کر بولا کہ آپ اور چچی میرے ساتھ گھر چلیں شام کو واپس آجائیں گے. اماں نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ نہیں میں مہر صاحب کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گی. میرے سمجھانے پر وہ جانے کے لیے راضی ہو گئیں. ہمارا گاؤں ملتان سے پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے. تھوڑی دیر میں ہی ہم حویلی پہنچ گئے گاڑی کھڑی کر کے اماں جی کو ان کے کمرے میں پہنچایا اور چچی سے کھانے کا بول کر میں ڈیرے پر پہنچا. راموکاکا کو پہلے ہی بول دیا تھا کے اردگرد کے علاقوں کے معززین کو خبر کر دیں. میں ڈیرے پر پہنچا تو علاقے کے معززین چہروں پر حیرت لیے وہاں موجود تھے. میں نے سب سے مصافحہ کیا اور اپنی نشست پر جا کر بیٹھ گیا جو کہ باقی نشستوں سے ذرا اونچی تھی. چند لمحوں کی خاموشی کے بعد میں نے بات شروع کی. میں: صاحبان! آپ کو تکلیف دینے کا مقصد صرف یہ ہے کہ کچھ دنوں کے لیے بڑے مہر صاحب کی جگہ میں اس کرسی پر بیٹھوں گا. آج صبح انہیں دل کی تکلیف کی وجہ سے ہسپتال لے جایا گیا. صحت یابی کے بعد وہ دوبارہ اپنی گدی سنبھالیں گے. میں بات کرتے وقت ان سب کے چہرے پڑھ رہا تھا. سب کے چہرے افسوس کی وجہ سے اترے ہوئے تھے کہ اچانک ایک چہرہ میری نظروں سے گزرا جس کے تاثرات نے مجھے چونکا دیا. میری بات ختم ہوئی تو سب نے باری باری بڑے مہر صاحب کی صحت کے متعلق پوچھنا شروع کر دیا اور میں انہیں جواب دیتا رہا لیکن میری نظریں اس شخص کا جائزہ لے رہی تھیں. تھوڑی دیر بعد ملاقات ختم کی اور انہیں تلقین کی کہ یہ خبر اپنے تک ہی رکھیں. سب لوگ اٹھ کر چلے گئے تو میں نے راموکاکا کو اندر بلایا. میں: راموکاکا! وہ شخص جو دوسری لائن کی آخری کرسی پر بیٹھا تھا وہ کون تھا. راموکاکا! پتر جی وہ اپنے ایم این اے نہیں ہیں نظر وٹو یہ ان کا بندہ تھا. وہ خود نہیں آ سکے اس لیے اسے بھیج دیا. میں راموکاکا کی بات سن کر بظاہر مطمئن ہو گیا لیکن مجھے اس بندے پر شک تھا. میں نے فوراً عُمر کو فون ملایا اور اسے اس بندے کے متعلق بول کر حویلی کی جانب ہو لیا. عمر جانتا تھا اسے کیا کرنا ہے وہ میرا چچازاد ہونے کے ساتھ ساتھ میرا دوست، جگر اور ہمراز بھی تھا. عُمر میرا ہم عمر ہی تھا اور ہم شروع سے ہی ساتھ ساتھ تھے پہلے سکول اور اب کالج میں بھی ساتھ تھے. حویلی پہنچ کر کھانا کھایا اور پھر اپنے کمرے کی جانب ہو لیا. ہماری حویلی کے دو حصے تھے ایک میں چچا کی فیملی رہتی تھی جوکہ چچا، چچی، عمر اور ان کی بیٹی عمارہ پر مشتمل تھی اور دوسرے حصے میں ہماری فیملی. میرا کمرہ دوسری منزل پر تھا تو میں سیڑھیاں چڑھ کر اپنے کمرے میں جا پہنچا. گرمی کا موسم تھا اے سی چلایا اور حسبِ عادت شرٹ اتاری اور بیڈ پر ڈھے گیا. تھکن کی وجہ سے جلد ہی نیند کی آغوش میں پہنچنے والا تھا کہ اپنے جسم پر گیلا پن محسوس کر کے واپس شعور کی وادی میں قدم رکھ دیا. کوئی وجود میرے اوپری جسم کو چوم رہا تھا. اس کے لبوں کی گرماہٹ میں اپنی کمر پر محسوس کر رہا تھا.
  3. محرم کے بعد مطلب 16ستمبر تک
  4. 1 like
    Update 2 سارہ مجھے ایک ہال میں لے کر گی جس میں کافی امیر لوگ موجود تھے جیسے ہی میں اندر داخل ہوا ایک نوجوان لڑکی جس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی میری طرف بھاگی اور آتے ہی مجھے گلے لگا لیا جیکسن تم آ گئے !!تمہیں اندازہ بھی نہں ہے کہ میں نے تمہیں کتنا مس کیا کیٹ میں نے بھی تمہیں کافی مس کیا؛ میں نے کہا ۔ مجھے خوشی ہے کہ تم آ گئے اب سب پرانے وقت کی طرح ہو گا ۔ سوائے اس کے کہ ہم ڈرنک کم کریں گے ہے نا ؟؟ میں نے مسکراتے ہوئے کہا شاید نہں اگر تم نے میری بات مانی تو ایسا کبھی نہں ہونے والا ۔ کیا تمہیں یقین آ رہا ہے کہ میں شادی کرنے والی ہوں؟؟ سچ پوچھو تو مجھے یقین نہں آ رہا کہ کسی کو تمہیں شادی کیلئے پرپوز کرنے میں اتنا وقت لگ گیا۔ کس نے کہا کہ کسی اور نے مجھے پرپوز نہں کیا اس نے میری بات کا جواب دیتے ہوئے کہا ۔ اچھا تو پھر اس لڑکے نے تو کامیاب ہونے کیلئے بہت محنت کی ہو گی ۔ کچھ ایسا ہی سمجھ لو اس نے مجھے اپنی منگنی کی انگوٹھی دکھاتے ہوئے کہا وہ کافی خوبصورت انگوٹھی تھی جس پر ایک بڑا ہیرا لگا ہوا تھا اتنے میں ایک وجیہ دکھنے والا شخص ہمارے پاس آیا جس کے چہرے پر ہلکی سی سمائل تھی اور اس نے مہنگا سوٹ پہنا ہوا تھا ۔ واہ اچھا ہوا کیٹ نے اسکا تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ یہ ہے جون سٹرلنگ میرا منگیتر اور جون یہ ہے جیکسن ہم دونوں کالج میں بیسٹ فرینڈز تھے جون نے مجھ سے کہا تم سے مل کر بہت خوشی ہوئی کیٹ تمہاری اچھی باتیں کرتی ہے اور اکثر کرتی ہے ۔ شکریہ جون میں نے کہا اور کیٹ سے کہا کہ تم نے مجھے بتایا نہں کہ جون اتنا ہاٹ ہے !! میں چاہتی ہوں کہ اس کی وجاہت خود اپنے بارے میں بولے کیٹ بھی مذاک کے موڈ میں تھی اہ شکریہ جیکسن جون نے کہا کیٹ نے پھر مجھ سے کہا کہ میں نے تو تمہیں کالج میں ہی کہا تھا کہ میں اس سے شادی کروں گی جو وجیہ ہو ؛ سوٹ میں اچھا لگے اور گٹار بجانا جانتا ہو ۔ میں گٹار نہں بجاتا جون نے کہا کوئی بات نہں جان سیکھنے کیلئے ہمیشہ وقت ہوتا ہے اتنے میں خوبصورت لباس میں ملبوس مغرور سی لڑکی ہمارے پاس آئی اور کہنے لگی جون اور کیٹ ایک دوسرے کے ساتھ کتنے اچھے لگتے ہیں خاص طور پہ اب جب وہ سٹرلنگ خاندان کے پیسوں سے لئے ہوئے کپڑے پہنے ہوئے ہے سکارلٹ جون نے غصّے سے اسکی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو وہ اچانک اپنا مزاج خوشگوار بناتے ہوئے بولی کہ میں تو مذاک کر رہی ہوں کیٹ جانتی ہے کہ میں اسے کتنا پسند کرتی ہوں بلکل کیٹ نے افسردگی سے کہا پھر وہ لڑکی میری طرف دیکھتے ہوئے بولی کہ اگر ہم پہلے مل چکے ہیں تو مجھے تم بلکل بھی یاد نہں ہو کیٹ نے کہا سکارلٹ یہ ہے جیکسن میرا کالج کا دوست اور جیکسن یہ ہے سکارلٹ سٹرلنگ میری ہونے والی بھابی ۔ اہ ہاں مجھے پتا چل جانا چاہیے تھا کہ تم کیٹ کے دوست ہو آخر کار تم دونو ایک ہی جیسے غریب لگتے ہو ۔سکارلیٹ نے کہا اور پھر پوچھنے لگی کہ تم ایک صحافی ہو ہے نا ؟؟ میں نے کہا ہاں مگر تمہیں کیسے پتا تو اسنے جواب دیا کہ میں تمہیں پہلے سارہ سے بات کرتے ہوئے سنا تھا میں حیران ہوں کہ سارہ تم سے اتنی باتیں کر رہی تھی غریبوں سے گھلنا ملنا اسے اتنا پسند نہں اسکی باتیں سن کر مجھے غصّہ آ گیا اور میں نے کہا ذرا تمیز سے بات کرو تو وہ کہنے لگی کہ میں تو بس اتنا کہ رہی ہوں کہ اتنی اچھی ڈگریز کے ساتھ سارہ کو یہ تو پتا ہو کہ کون بات کرنے کا قابل ہے اس کی یہ بات سے مجھے کافی غصّہ اور میں نے اس سبق سکھانے کا فیصلہ کر لیا بات کو آگے بڑھاتے ہوئے میں نے سکارلٹ سے کہا معافی چاہتا ہوں مگر مجھے لگتا ہے کہ ہمارا تعارف سہی سے نہں ہوا کیا میں یہ کہ سکتا ہوں کہ تم بہت خوبصورت لگ رہی ہو ؟؟ میرے اس طرح جواب دینے سے وہ سٹپٹا سی گئی اور اسی لہجے میں کہا شکریہ میں نے کہا دیکھو یہ نا سوچو کہ یہ باقی سب کیا کہ رہے ہیں تمہارا ڈریس بہت ہی پیارا ہے اور خاص طور پی تم پہ تو اور بھی پیارا لگ رہا ہے باقی سب ۔۔۔کیا کہ رہے ہیں اس نے پوچھا مگر میں نے اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا دیکھو اگر مجھ سے پوچھو تو تمہارا یہ بغیر میک اپ کے آنا کہ میں جیسی ہی ہن ویسی ہی رہوں گی یہ بہت اچھی بات ہے (حالانکہ اس نے اچھے سے میک اپ کیا ہوا تھا ) اور اسی طرح مزے سے رہو بغیر میک اپ کے اس بات سے کوئی فرق نہں پڑتا کہ لوگ اس بارے میں کیا سرگوشیاں کر رہے ہیں میرے اس طرح اسے لاجواب کرنے سے وہ اور بھی جھینپ سی گئی اور کہنے لگی دیکھو مجھے دوسرے لوگوں سے بھی ملنا ہے اور میری طرف ایک نظر ڈال کر اپنا سر ہلاتے ہوئے وہاں سے چلی گئی جون نے کہا وہ کیا بات ہے میں آج تک کسی کو سکارلٹ کو اس طرح لاجواب کرتے ہوئے نہں دیکھا تو میں نے اپنا سر شکریہ کے انداز میں ہلا دیا جون نے کیٹ سے کہا کہ ڈارلنگ میرے خیال میں ہمیں دوسرے مہمانوں سے بات کرنی۔ چاہیے تو کیٹ مجھے دوبارہ ملنے کا کہ کر وہاں سے چلی گی تھوڑی دیر میں سب کھانا کھنے کیلئے دوسرے روم میں گئے تو میں نے ایک لڑکے کے پاس جا کے پوچھا کہ کیا آپ کے ساتھ والی کرسی خالی ہے تو وہ میری طرف دیکھ کر کہنے لگا کہ میرا خیال تھا جب تھک جاؤں گا تو اس پر پاؤں رکھ کر آرام کر لوں گا مگر تم بیٹھنا چاہو تو بیٹھ سکتے ہو تو میں نے اس سے مسکراتے ہوئے کہا لگتا ہے تمہیں بھی امیر لوگوں کے ساتھ ڈنر کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں تو اس نے کہا ہے تو ایسا ہی مگر جب میری بہن کی شادی ان امیر لوگوں میں سے ایک کے ساتھ ہو رہی ہے تو یہ سب کرنا پڑتا ہے اچھا تو تم کیٹ کے بھائی ہو میں نے حیران ہوتے ہوئے کہا اور پھر اسے اپنا تعارف کروایا اچھا تو تم جیکسن ہو کیٹ ہمیشہ تمہاری باتیں کرتی رہتی ہے اور یہ کہ کر ہی اپنا ہاتھ میری طرف بڑھایا تو میں نے اس سے اپنا ہاتھ ملایا اور کہا کیٹ نے کبھی تمہارا ذکر نہں کیا تو اس نے تھوڑا غصّے سے کہا کہ باقی خاندان کی طرح میرا ذکر کرنے پر اسے بھی شرم آتی ہو گی نہیں ایسا نہں ہے کیٹ بھلا ایسا کیوں کرے گی تو اس نے کہا چلو پھر شاید کیٹ کو پتا چل گیا ہو گا کہ میں ایک لیجنڈ ہوں جس کے بارے میں کچھ بتانے کی ضرورت نہں پڑتی یہ سن کر میں مسکرا دیا اتنے میں ایک بوڑھا سا دکھنے سالہ شخص جس کے ہاتھ میں ڈائمنڈ کی چین تھی اپنے ہاتھ میں شیمپین کا گلاس لئے کھڑا ہوا اور کہا کہ جسے ابھی تک مجھے ملنے کی خوشی نہں ملی تو میں پیئرس سٹرلنگ ہوں جس نوجوان کی شادی ہونے والی ہے اسکا والد۔ سٹرلنگ خاندان کی روایت برک پورٹ میں برسوں سے چلی آ رہی ہے اور کل بھی ایک ایسا ہی دن ہو گا جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ کیٹ ایک دوسرے خاندان سے ہے مگر اس کی معصومیت اور سوچ ایسی ہے کہ میں اسے بھی سٹرلنگ کہ سکتا ہوں تو سب لوگ کیٹ کو ہماری فیملی جوائن کرنے پر مبارک باد دینے میں میرا ساتھ دیں اس سب سے کیٹ کے چہرے پر مسکراہٹ آ گے مگر اس سے پہلے کہ کوئی کچھ کہتا ایک آدمی غصّے سے کھڑا ہوا اور کہنا لگا کہ دوسرے خاندان سے ؟؟وہ ایک مزدور کی بیٹی ہے ۔ پیئرس نے غصّے سے اسے خاموش ہونے کا کہا تو وہ کہنے لگا کہ باتیں بنانا بند کر کے آپ وہ سب کیوں نہں کہتے جو ہم سب سوچ رہے ہیں پیئر س نے غصّے سے کہا کہ خاموش ہو جاؤ مگر اس آدمی نے جس کا نام فیلکس تھا کہا کہ وہ محض پیسوں کیلئے جون سے شادی کر رہی ہے میں جو پہلے ہی سکارلٹ کی باتوں سے غصّے میں تھا کھڑا ہوا اور کہا کہ اوئے میں نہں جانتا کہ تم کون ہو مگر اتنا ضرور جانتا ہوں کہ تم ضرورت سے زیادہ شراب پی چکے ہو مگر کیٹ تم سے ہزار گنا زیادہ اچھی ہے ۔ فیلکس کچھ اور بھی کہنا چاہتا تھا مگر پیئرس نے اسٹاف کو اشارہ کیا اور وہ اسے پکڑ کر دوسرے کمرے میں لے گئے اس کے بعد پیئرس نے کہا چلو کھانا شروع کرتے ہیں میں وعدہ کرتا ہوں کہ اب کوئی مداخلت نہں ہو گی تو سب کھانا کھانے لگ گئے کیٹ کے بھائی نے میرا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ فیلکس اگر کچھ اور کہتا تو میں اس کا منہ توڑ دیتا تو میں نے مسکراتے ہوئے کہا اگر مجھے پہلے پتا ہوتا تو میں خاموش ہی رہتا تو وہ خاموش ہوگیا میں نے اس سے پوچھا کہ کیا یہ سب ہمیشہ ایسا ہی کرتے ہیں تو اس نے کہا مجھے نہں پتا میں تو پہلی دفع آیا ہوں میں نے کہا کیٹ ہمیشہ سے ڈرامہ اپنی طرف کھینچ لیتی تھی مگر یہ تو کچھ زیادہ ہی ہو رہا ہے ۔ تو وہ کہنے لگا دیکھو کیٹ میری چھوٹی بہن ہے اور میں اسکی حفاظت کرنا چاہتا ہوں مگر جون کے ساتھ اسے بہت خوشی ملتی ہے؛ اتنا خوش میں نے اسے کبھی نہں دیکھا تو میں نے کیٹ کی طرف دیکھا جو جون کے ساتھ بیٹھی تھی اور اسی کی طرف دیکھ رہی تھی ڈنر ختم ہونے کے بعد میں ایسے ہی ایک کونے میں کھڑا تھا کہ کیٹ میرے پاس آئی اور کہنے لگی جیکسن مجھے خوشی ہے کہ تم ادھر مل گئے تو میں نے پوچھا تمہیں کیسا لگ رہا ہے تو وہ کہنے لگی کل میری شادی ہے تو تھوڑا نروس فیل کر رہی ہوں پھر کہنے لگی مجھے پتا ہے کہ ہم نے کافی وقت سے بات نہں کی مگر میں تمہارے بارے میں کافی سوچتی رہتی ہوں تو میں نے کہا میں بھی تمہیں مس کرتا ہوں اس سے پہلے کہ ہم کوئی اور بات کرتے سارہ اور سکارلٹ ہمارے پاس آئیں اور سارہ کہنے لگی پرانے وقت کی یاد تازہ کر رہے ہو کیا ؟؟ سکارلٹ نے کہا مجھے فیلکس کے ساتھ تمہاری بحث دیکھ کر بہت مزہ آیا تو میں نے کہا چلو اچھا ہے تمہیں مزہ تو آیا تو سارہ کہنے لگی کہ مجھے خوشی ہے کہ کسی نے اس کمینے کو اسکی اوقات دکھائی تو میں نے کہا کہ تم لوگ کیٹ اور جون کی سائیڈ پر ہو کیا ؟ تو سکارلٹ نے کہا میرا خیال ہے پھر سارہ نے کہا کیوں کہ کل کیٹ کی شادی ہے تو کیوں نا آج رات ہم سب پارٹی کریں کیٹ نے مجھ سے پوچھا تو میں نے ہاں کر دی تو ہم سب نے جانے کے پلان بنایا اور تھوڑی ہی دیر میں سارہ کی نیلے رنگ کی سپورٹس کار میں ہم سب جانے کیلئے بیٹھ گئے سکارلٹ گاڑی چلا رہی تھی اور کیٹ فرنٹ سیٹ پر بیٹھی تھی جب کہ میں اور سارہ پیچھے بیٹھے تھے ہم راستے میں تھے کہ ایک گاڑی نے اچانک ہمیں اور ٹیک کرنے کی کوشش کی تو سکارلٹ کو کار اچانک سائیڈ پر کرنی پڑی اسکے ایسا کرنے سے سارہ جھٹکے سے مجھ میں آ لگی اسکے روئی کی طرح نرم ممے میرے کندھے سے لگے تو مجھ میں مزے کی ایک لہر دوڑ گی میں نے اپنا چہرہ اس کی طرف کر کے اپنی باہیں اسکی قمر کر گرد کر دیں اور اسے زور سے اپنے سینے سے لگا لیا جب اسے پتا چلا کیا ہوا ہے تو وہ جلدی سے پیچھے ہو گئی اور ایک سائیڈ پر ہو کر بیٹھ گی میں نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اس کے قریب ہو کر اپنی ران کو اسکی ران کے ساتھ ملا دیا تو وہ شرما کر باہر کی طرف دیکھنے لگ گئی اسی طرح شرارتیں کرتے ہوئے سفر گزر گیا اور مجھے پتا بھی چل گیا کہ سارہ مجھے پسند کرنے لگ گئی ہے ہم کوئی گھنٹے بھر کی ڈرائیو کے بعد ایک پوش علاقے میں بنے ریسٹورنٹ میں پہنچ گئے۔
  5. نیلی وہیل مچھلی کی زبان کا سائز اور وزن ایک بھرپور جوان ،تندرست و توانا افریقن ہاتھی کے وزن اور سائز کے برابر ہوتا ہے
  6. ہومر اور سقراط کا شمار دنیا کے عظیم ترین فلسفیوں میں ہوتا تھا لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ ان دونوں عظیم فلفسیوں نے اپنی پوری زندگی میں ایک لائن تک نہیں لکھی کیوں کہ یہ لکھنا نہیں جانتے تھے۔
  7. 1 like
    Me koshah kro gi ki k aap ko mere stories passand aay... Balky sab ko ay

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.