Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 20/08/19 in Posts

  1. جاوید صاحب ! بہت افسوس ہوا یہ جان کر۔ ہماری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں اور آپ مکمل طور پہ اپنی مصروفیات سے فارغ ہو کر پھر تشریف لائیں، ہم منتظر ہیں۔
  2. یہ سب زندگی کا حصہ ہے ۔ میں اللہ سے دعا کروں گا کہ وہ آپ سب کو صبر و جمیل عطا فرمائے اور چلے جانے والے کو جنت میں بلند مقام عطا فرمائے اور صخیرہ و کبیرا گناہ معاف فرمائے
  3. 1 like
    Bhai kaam pahle hai baqi sab baad main bussy tha kaam main Or wese bhi main ne promise kiya tha ye story complete karne ka ab jald hi ye story khatam kar du ga
  4. السلام علیکم!۔ سب دوست کیسے ہیں۔ امید ہیں کہ ٹھیک ٹھاک ہوں گے۔۔۔ دوستو میرے انتہائی قریبی رشتہ داروں میں ایک حادثاتی موت ہو گئی جس کی وجہ سے مجھے پاکستان آنا پڑا۔۔۔ صرف اتنا کہوں گا اچانک حادثے کی اطلاع ملی تو سب کچھ چھوڑ کر ایک دم سے ٹکٹ کروائی اور چھ گھنٹوں میں پاکستان پہنچ گیا۔۔۔ اس کے بعد کسی چیز کا ہوش نہیں تھا۔۔ اتنے دن سے میں انٹرنیٹ سے بلکل دور ہوں۔۔۔یہ تو آج ایک دوست نے یہاں سے کنمٹس کا اسکرین شاٹ لیکر مجھے بھیجا تو میں تھوڑا ٹائم نکال کر آ گیا۔۔۔ ایک تو سوگواری کا ماحول اوپر سے کچھ طبیعت کی گرانی۔۔۔۔بہرحال 30 اگست کو میری واپسی ہے اس کے بعد ہی کچھ لکھ پاؤں گا۔۔۔اور بتا کر نہ جانے کی معذرت۔۔۔
  5. 2 din pehle forum version upgrade Kia gya hai jis waja see wo autosaveshow nhn ho rahi , app Ms word main likha Karo autosave is ka selution nhn
  6. (22) میں نے اسے ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس کھینچا اور ساتھ لپٹاتے ہوئے بولا:راجی تم بلکل بے فکر رہو اطمینان سے ان لمحات کا مزہ لو یہ کہتے ہوئے میں نے اس کے ہونٹوں پر جھکتے ہوئے اس کے ہونٹوں کو چوسنا شروع کر دیا۔ جبکہ چھیمو نیچے سے میرا لن منہ میں لیکر چوپے لگانے لگی۔۔۔میرے ہونٹوں کا لمس محسوس کرتے ہی راجی کے جسم کو ایک جھٹکا سا لگا اور اس نے بھی بھرپور انداز میں میرا ساتھ دیتے ہوئے اپنے منہ کو کھول کر میری زبان کو ویلکم کیا اور میری زبان چوسنے لگی۔ ادھر نیچے سے چھیمو بڑے سٹائل سے میرا لن چوس رہی تھی۔۔۔راجی نے آہستہ سے اپنے ہونٹ چھڑائے اور اٹھ کر بیٹھتے ہوئے چھیمو کے چوپے دیکھنے لگی۔ اس کی آنکھیں پوری طرح کھلی ہوئی تھیں۔۔۔اور وہ بڑی حیرانگی سے یہ سب دیکھ رہی تھی۔۔۔میں بھی اٹھ کر بیٹھ گیا اور دونوں ہاتھوں سے چھیمو کا منہ پکڑ کے اپنا لن اندر ڈال کر اس کے منہ کو بڑے پیار سے چودنے لگا۔ راجی کا منہ بھی تھوڑا سا کھل گیا اور اس کا دل چاہنے لگا کہ کاش یہ لن اس کے منہ میں آ جائے اور دھیرے دھیرے پیار سے اس کے منہ کو چودتا رہے۔ میں نے جیسے اس کے من کی بات پڑھ لی۔۔۔کیونکہ مجھے راجی کی آنکھوں میں لن کی بھوک واضح محسوس ہو رہی تھی۔۔۔میں نے چھیمو کے منہ سے لن نکالا اور ہلکا سا رخ موڑتے ہوئے لن راجی کی طرف کیا تو لن اس کے ہونٹوں کے بلکل پاس آ گیا۔ اس کی خواہش پوری ہو رہی تھی۔۔۔اس نے بڑے پیار سے ہونٹوں سے میرے لن کی ٹوپی پر کِس کیا اور اپنا منہ کھول کر لن کو منہ میں لینے لگی۔ میرا موٹا لن اس کے منہ کو کھولتے ہوئے اس کے منہ میں گھستا چلا جا رہا تھا۔۔۔تب میں نے راجی کے سر کو اور بالوں کو پیچھے سے پکڑ لیا اور بڑے پیار سے اس کے منہ کو چودنا شروع کر دیا۔ پھر جب میں نے لن باہر نکالا تو اس نے اپنے ہونٹوں کے ساتھ گرِپ کرتے ہوئے میرے لن کی ٹوپی کو جھکڑ لیا اور اپنی زبان کی نوک سے میرے لن کے سوراخ پر چھیڑخانی کرنے لگی۔۔۔لن کے سوراخ میں زبان کی نوک محسوس کرتے ہی میرے منہ سے سسکاری برآمد ہوئی۔ میں نے چھیمو کو دیکھتے ہوئے لن کی طرف اشارہ کیا تو وہ آگے بڑھ کر میرے لن کو سائیڈوں سے چاٹنے لگی۔۔۔پھر میں نے اپنے لن کو راجی کے منہ سے باہر نکالا اور دونوں کو ایک دوسرے کے آمنے سامنے بٹھا کر ان کے منہ آپس میں ایسے جوڑ دیے۔ یوں لگتا تھا کہ وہ آپس میں کس کر رہی ہیں۔۔۔پھر میں نے اپنا لن دونوں کے ہونٹوں کے درمیان میں رکھا اور آگے پیچھے ہلتے ہوئے ان کے ہونٹوں کو چودنا شروع کر دیا۔۔۔پھر میں نے باری باری لن دونوں کے منہ میں ڈال کر دو دو گھسے لگانے شروع کر دیے۔ ایک بار جب میں نے لن چھیمو کے منہ سے باہر نکال کر راجی کے منہ میں ڈالا تو وہ اتنی بری طرح خوار ہو چکی تھی کہ لن کو منہ میں لیتے ہی وہ ماہر رنڈی کی طرح چوپے لگانے لگی۔ میں نے بھی زور لگا کر لن کو راجی کے حلق تک پہنچانا شروع کر دیا۔۔۔جیسے ہی میرے لن کی ٹوپی نے راجی کے حلق میں ڈبکی لگائی ایسا لگا کہ میں کسی اور ہی جہان میں آ گیا۔۔۔اس کا حلق اتنا نرم اور ملائم تھا کہ مانو جیسے لن کسی نرم،ملائم اور گرم پائپ میں پھنس گیا ہو۔ میں نے چار پانچ دفعہ راجی کے حلق تک لن پہنچایا اور پھر لن اس کے منہ سے باہر نکال لیا۔ دل میں سوچا کہ بس اتنا بہت ہے کہیں اس کے حلق میں ہی نہ چھوٹ جاؤں اور باقی کا پروگرام دھرے کا دھرا رہ جائے۔۔۔اس لیے اب اصل کام پھدی اور گانڈ کی چدائی کی طرف آنا چاہیے۔ یہ سوچ کر میں نے چھیمو کی طرف دیکھا تو وہ اپنے مموں کو دباتے ہوئے ٹانگیں کھول کر اپنی پھدی کو مسل رہی تھی۔۔۔اور ساتھ ساتھ میری طرف ہوس بھری نگاہوں سے دیکھتی جا رہی تھی۔ میں نے ٹانگیں کھول کر بیڈ پر نیم دراز ہوتے ہوئے تکیے سے ٹیک لگا لی اور چھیمو کو اپنی طرف کھینچا۔ چھیمو اٹھی اور الٹی طرف منہ کر کے دھیرے دھیرے میرے لن پر بیٹھ گئی۔۔۔جبکہ راجی میری ٹانگوں کے درمیان الٹی لیٹ گئی۔ جیسے ہی چھیمو نے لن پھدی کے اندر لیکر اوپر نیچے ہونا شروع کیا تو راجی میرے لن کے ساتھ ساتھ چھیمو کی پھدی کو بھی چاٹنے لگی۔ میں بھی نیچے سے جھٹکے مار رہا تھا۔۔۔کچھ دیر بعد چھیمو میرے اوپر سے اٹھی اور راجی کو اٹھا کر میرے لن پر بٹھا دیا۔۔۔اور خود راجی کی جگہ آ کر میرے لن کے ساتھ ساتھ راجی کی پھدی کو چاٹنا شروع کر دیا۔ (23) میں اب نیچے سے زور زور سے دھکے مار رہا تھا جبکہ راجی کے اچھلنے کی رفتار بھی بڑھتی گئی۔ کچھ دیر بعد ہی راجی کا جسم اکڑنا شروع ہوا ساتھ ہی اس کی آنکھیں نیم بیہوشی کی کیفیت میں بند ہونے لگیں۔۔۔اس نے آگے ہو کر چھیمو کو پیچھے ہٹایا اور اپنے ہاتھوں سے میری ٹانگوں اور پھدی سے میرے لن کو جھکڑتے ہوئے گانڈ اٹھا اٹھا کر زور زور سے میرے لن کو چودنا شروع کر دیا۔ پھر چند لمحوں بعد ہی اس کی پھدی سے گرم گرم منی میرے لن پر گرنا شروع ہو گئی۔ راجی کا جسم جھٹکے کھا رہا تھا اور اس کی ٹانگیں بری طرح سے کانپ رہی تھیں۔۔۔اچانک اس کا جسم ڈھیلا ہوا اور وہ نڈھال ہو کر وہیں اوندھی ہوتی چلی گئی۔ میں بھی لن کو پڑنے والے کھچاؤ کے سبب اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔۔جب چھیمو نے دیکھا کہ راجی پوری طرح سے فارغ ہو گئی ہے!!!تو اس نے اپنی جگہ چھوڑی اور اٹھ کر سامنے موجود میز کے ساتھ جھک گئی اور اپنی گانڈ ہلا ہلا کر مجھے بلانے لگی۔ ساتھ ہی اس نے اپنی گانڈ کی دونوں پھاڑیوں کو پکڑ کر مخالف سمتوں میں پوری طرح سے کھول دیا۔ میں نے چھیمو کا بلاوہ دیکھا تو اپنا لن راجی کی چپچپاتی پھدی سے باہر نکالا اور اٹھ کر چھیمو کے پیچھے جا کر اپنا لن اس کی گانڈ کے درمیان رکھ کر اس کی کمر کر پکڑ لیا۔۔۔چھیمو کو جب میرا لن اپنی گانڈ کی دراڑ میں محسوس ہوا تو بے اختیار مزے کی آہہہہہ اس کے منہ سے نکل گئی۔ میں تھوڑی دیر تک اپنا لن ہلا ہلا کر اس کی گانڈ کی دراڑ میں رگڑتا رہا۔۔۔تو چھیمو نے اپنی گانڈ تھوڑی سی اور باہر نکال دی۔ میں نے اپنا لن اس کی پھدی کے ہونٹوں پہ رکھتے ہوئے ایک زور کا گھسہ مارا تو میرا لن پھک کی آواز کے ساتھ اس کی پھدی میں گھس گیا۔ میں نے چھیمو کی کمر پکڑ کر گھسے مارنے شروع کر دیے۔۔۔چھیمو پہلے ہی بہت گرم ہو چکی تھی۔ میرے سٹارٹ لیتے ہی اس نے منہ سے سیییییی کی آواز نکالی اور بڑی تیزی سے اپنی گانڈ کو پیچھے دھکیلنے لگی۔۔۔میں نے دو منٹ تک اس کو اسی پوزیشن میں چودا۔۔۔وہ پہلے ہی اتنی گرم ہو چکی تھی کہ دو منٹ بعد ہی اس کا جسم اکڑنا شروع ہو گیا۔ اور وہ پوری جان سے اپنی گانڈ کو میرے لن پر دباتے ہوئے بولی۔۔۔ہائےےےےے کمال ل ل میں گئییییییہی۔ ساتھ ہی اس کے جسم کو جھٹکے لگنے لگے اور اس کی پھدی سے نکلنے والی پھوار میں واضح اپنے لن پر گرتی ہوئی محسوس کر رہا تھا۔ میں وہیں رک گیا چند سیکنڈ بعد جب وہ ٹھندی ہو گئی تو اس نے آگے ہو کر میرا لن باہر نکالا اور میرے پاؤں میں بیٹھتے ہی میرا لن جو کہ اس کی منی سے لتھڑا ہوا تھا اس کو اپنی زبان سے چاٹ چاٹ کر صاف کرنے لگی۔ میں ابھی تک نہیں چھوٹا تھا جبکہ دونوں لڑکیاں اپنا پانی نکال چکی تھیں۔ اچانک جیسے میرے دماغ میں کلک سا ہوا تو مجھے کچھ یاد آ گیا۔ میں نے چھیمو کو پکڑ کر اٹھایا اور بازو سے کھینچے ہوئے بیڈ پر راجی کے پاس لے آیا جو کہ بیڈ پر لیٹی دو انگلیاں اپنی پھدی کے اندر باہر کر رہی تھی۔ میں نے چھیمو کو بیڈ پر لٹا کر راجی کو اس کے اوپر گھوڑی بننے کر کہا تو راجی اٹھ کر گھوڑی بن گئی۔ چھیمو نیچے سے تھوڑا کھسک کر اپنا منہ اس کی پھدی کے عین نیچے لے آئی اور اس کی پھدی کے دانے کو منہ میں لیکر چوسنا شروع کر دیا۔ راجی کے منہ سے سیییییی کہ آواز نکلی اور وہ اپنی گانڈ دبا دبا کر پھدی چٹوانے لگی۔ میں نے ایک تکیہ اٹھا کر چھیمو کے سر کے نیچے رکھا اور راجی کو کمر سے پکڑ کر تھوڑا گانڈ اوپر اٹھانے کو کہا۔۔۔اس نے اپنی گانڈ اوپر اٹھائی تو اس پوزیشن میں راجی کی گانڈ چِر کر باہر کی طرف کھل گئی۔ راجی کی گانڈ کا سوراخ ڈارک براؤن رنگ کا تھا۔۔۔سوراخ کافی کھلا ہوا لگ رہا تھا۔ میں نے کافی سارا تھوک راجی کی گانڈ کے سوراخ پر پھینکا اور اچھی طرح انگلی سے اس کی گانڈ کے سوراخ کو نرم کرنا شروع کر دیا۔ گانڈ کے سوراخ پر انگلی لگتے ہی راجی نے سر گھما کر میری طرف دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آمادگی کے آثار نظر آئے۔۔۔اچھی طرح سے سوراخ نرم کرنے کے بعد میں نے اپنا ایک گھٹنا چھیمو کے کندھے کے پاس بیڈ پر ٹکایا اور دوسرے پاؤں پر وزن سنبھالتے ہوئے اپنا لن راجی کی گانڈ کے سوراخ پر رکھ کر ہلکا سا دباؤ ڈالا تو لن کی ٹوپی گانڈ کے اندر اترتی چلی گئی۔ آگے سے راجی کے منہ سے ہلکی سی اوں۔۔۔اوں۔ کی آواز نکلی۔میں آہستہ آہستہ دباؤ بڑھاتا گیا۔ اب راجی کی گانڈ کوئی کنواری تو تھی نہیں جہاں ٹائم لگتا۔۔۔اس لیے چند لمحوں کے بعد ہی پورا لن راجی کی گانڈ میں اتر چکا تھا۔ حیرت کی بات تھی کہ ابھی بھی راجی کی گانڈ اندر سے ایسے ٹائٹ لگ رہی تھی کہ جیسے پہلے کبھی گانڈ کے اندر کچھ نہیں گیا۔ نیچے سے چھیمو نے راجی کی پھدی کو چومتے چاٹتے ہوئے اپنی تین انگلیاں اندر گھسائیں اور تیزی سے انگلیاں اندر باہر کرنے لگی۔ چار منٹ کی بے درد چدائی کے بعد راجی مزے سے فل مدہوش آوازیں نکال رہی تھی۔۔۔اگلے ہی منٹ میں راجی کی پھدی نے ہار مان لی اور پانی چھوڑنا شروع کر دیا تو اس کی گانڈ اور ٹائٹ ہوتی چلی گئی۔ جس سے مجھے اتنا مزہ آیا کہ چند سیکنڈ بعد ہی میرے منہ سے اوہ افففففف نکلا اور میرے جسم کو جھٹکا لگا۔ یہ محسوس کرتے ہی راجی ایک دم آگے ہوئی اور میرا لن باہر نکل گیا۔ راجی بجلی کی سی تیزی سے مڑی اور میرے لن کو اپنے منہ میں لے کر چوستے ہوئے چوپا لگانے لگی۔ اگلے سیکنڈ میں ہی میرے لن کی نسیں پھولنا شروع ہوئیں اور میں راجی کے منہ میں ہی فارغ ہو گیا۔ *************************
  7. dr sb momal k sath kuch meran sab k sath b kuch hanke banke ho jay to maza aye meran to jameel ke madad karte ha jameel ka b haq ha meran ke sawa kare
  8. buhat hot or zabardast story ha jutt shab keep it uppp AND up date PLz
  9. 1 like
    سب دوسترں کے کمنٹس کا ینتظار ھے۔
  10. Shukria jut sahab jaisa socha tha ub raw waisa hi hai or intezar m ziada hi maza hai.

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.