Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 22/07/19 in Posts

  1. السلام علیکم۔ کیسے ہیں سب دوست۔ یارو سب ٹھیک ٹھاک ہے میں بھی فٹ فاٹ ہوں۔ میں سمجھ رہا ہوں کہ اپڈیٹ کافی لیٹ ہو رہی۔۔۔لیکن کیا کروں یار۔ آفس میں ایک کافی بڑا پراجیکٹ چل رہا ہے۔۔۔ مجھے پچھلے کئی دنوں سے ایک بھی لفظ لکھنے کا موقع نہیں ملا۔۔۔ دن کی ڈیوٹی ہے تو کبھی سگریٹ پیتے وقت دو چار لفظ سوچتا ہوں لیکن بارآور نہیں ہوتے۔۔۔ میرے ساتھ تو یہ ہو رہا کہ الفاظ یاد آتے تو لکھنے کو ٹائم نہیں ۔۔۔اور اگر دس منٹ مل جائیں تو کچھ ذہن میں نہیں آتا۔۔۔ ایک اپڈیٹ جلدی جلدی لکھی بھی تھی لیکن اس میں مجھے خود ہی مزہ نہیں آیا تو ڈیلیٹ مار دی۔ بہرحال اتنا انتظار کیا وہاں چار دن اور دے دیں۔۔۔پھر میری نائٹ ڈیوٹی شروع ہو جانی۔۔۔اس وقت میں تھوڑا ریلکس ہوں گا تو چار لفظ لکھ بھی پاؤں گا۔۔۔ امید ہے کہ میں چار دن بعد اپڈیٹ دے دوں گا۔ شکریہ۔
  2. 2 likes
    اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں ایک کہانی لکھنے کی کوشش کی ہے امید ہے آپکو پہلی اپڈیٹ پسند آئے گی. وقتاً فوقتاً اپڈیٹ کرتا رہوں گا. اپنی رائے کا اظہار ضرور کیجئیے گا. لیپ ٹاپ کی سکرین ایک جھٹکے سے بند ہوئی تو میں بھی جو نجانے کتنی دیر سے ماضی کے سمندر میں غوطہ زن تھا حال کی زمین پر قدم جما چکا تھا. آنسو میری پلکوں سے آبِ بے قابو کی طرح نکلے اور رخساروں پر بہہ گئے. میری آنکھوں کے سامنے گزرے ہوئے آٹھ سالوں کے واقعات کسی فلم کی طرح چلنے شروع ہو گئے اور مجھے محسوس ہوا کہ جیسے میرا دل مجھے ملامت کر رہا ہو کہ کاش اس وقت تم نے اپنے غصے کو قابو میں رکھا ہوتا تو آج اپنوں کے ساتھ ہوتے. کبھی کبھی انسان غصے میں اتنا پاگل ہو جاتا ہے کہ اس کا خود پر قابو نہیں رہتا اور جب وہ قابو میں آتا ہے تب تک حالات کا دھارا اپنا منہ کسی اور جانب موڑ چکا ہوتا ہے. میں مہر سکندر حیات ایک جاگیردار گھرانے کا چشم و چراغ، تین بھائیوں میں سب سے چھوٹا اور والدین کا لاڈلا. شروع سے ہی والد صاحب کے ساتھ رہا چونکہ والد صاحب ایک جاگیردار تھے علاقے کی جانی پہنچانی شخصیت، ضلع ملتان کے ضلعی ناظم اور ایک سیاسی جماعت کے ضلعی صدر بھی. وہ بچپن سے ہی مجھے اپنے ساتھ رکھا کرتے تھے اور اکثر کہا کرتے تھے کہ سکندر حیات میرے بعد میری گدی سنبھالے گا.والد صاحب کے ساتھ رہنے کی وجہ سے تقریباً ان کے سب ملنے والے مجھے پہچانتے تھے جس کی وجہ سے میں اپنا ایک الگ سماجی حلقہ بنا چکا تھا. اسکول سے چھٹی کے بعد ڈیرے پر جاتا اور وہاں کے تمام معاملات کو دیکھتا تھا یہاں تک کہ ہوٹل سے جو کھانا آتا تھا وہ تب تک نہیں آتا جب تک میرے یا والد صاحب کے دستخط چٹھی پر نا ہوتے. کیونکہ والد صاحب مجھے اپنا جانشین منتخب کر چکے تھے اس لیے بڑے بھائیوں نے کبھی سیاسی معاملات میں کوئی مداخلت نا کی گویا میں اپنے والد کی چھوٹی سی سلطنت کا اکلوتا وارث تھا. وقت اپنی ڈگر پر چلتا رہا اور میں عمر کے انیسویں سال میں داخل ہو گیا تھا. میں اپنی عمر سے بڑا نظر آتا تھا باڈی بلڈنگ کے شوق نے میرا جسم بہت مضبوط بنا دیا تھا. پڑھائی، سیاست اور جم یہی میرے مشاغل تھے. میں ملتان کے ایک نامور کالج میں زیر تعلیم تھا. وقت اچھا گزر رہا تھا کہ ایک دن مجھے اپنے بھائی کی کال موصول ہوئی کہ بابا کی طبیعت بہت خراب ہے تم جلدی نشتر ہسپتال پہنچو. یہ خبر گویا میرے سر پر کسی بم کی طرح گری اور میں فوراً کالج سے نکل پڑا. چند لمحوں بعد میری کار سڑک کے وسط میں فراٹے بھرتی نشتر ہسپتال کی طرف گامزن تھی. داخلی دروازے پر میرا کزن(چچا کا بیٹا) میرے ہی انتظار میں کھڑا نظر آیا. اس کے کچھ بولنے سے پہلے ہی میں نے سوال داغا میں: عمر! ابا جان کو کیا ہوا؟ مجھے اپنی آواز کھوکھلی محسوس ہوئی. عمر: صبح ناشتہ کر رہے تھے کہ اچانک دل کی طرف درد اٹھی مجھے کہنے لگے کہ میری دوا لے کے آؤ کمرے سے جب میں واپس آیا تو وہ زمین پر ڈھے چکے تھے. نوکرانی رامو کاکا کو آوازیں دے رہی تھی اور تائی اماں رو رہی تھیں. میں نے حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے گاڑی نکالی اور انہیں ہسپتال لے آیا. ڈاکٹر کہہ رہے ہیں کہ تایا ابا کو دل کا دورہ پڑا تھا بروقت علاج کی وجہ سے جان بچ گئی تھوڑی دیر اور ہو جاتی تو شاید...... میں نے خدا کا شکر ادا کیا. ہم باتیں کرتے کرتے آئی سی یو تک پہنچ گئے تھے. جہاں اندر والد صاحب کا علاج چل رہا تھا. باہر میرے بڑے بھائی مہر زبیر حیات، منجھلے بھائی مہر حسن حیات اور ان کے ساتھ چچا مہر بدر حیات کھڑے تھے. ساتھ ہی اماں جی اور چچی جان مصلے پہ بیٹھی دعائیں مانگ رہی تھیں. ان کے قریب پہنچ کے میں نے پوچھا میں: بھائی ابا کی طبیعت کیسی ہے اب؟ زبیر: اب وہ ٹھیک ہیں. کچھ دیر بعد انہیں کمرے میں شفٹ کر دیں گے. میں: گاؤں میں کسی کو بتایا تو نہیں؟ زبیر: نہیں اب تک تو نہیں میں نے رامو کاکا کو بول دیا تھا کہ جب تک چھوٹے مہر صاحب حکم نا دیں تب تک کسی کو نا بتایا جائے. میں: اچھا! تو کیا خیال ہے چچا جان اب بتا دیا جائے کیونکہ یہ بات چھپنے والی تو ہے نہیں. چچا بدر! ہاں پتر میرا وی خیال اے ہن دس دینا چاہیے نہیں تو پنڈ میں سو گلیں ہو گی کہ مہر صاحب ہمیں اپنا نہیں سمجھتے. میں : تو ٹھیک ہے چچا آپ راموکاکا سے کہو کے وہ گاؤں میں خبر کر دے اور ساتھ یہ بھی بتا دے کہ اب بڑے مہر جی کی طبیعت ٹھیک ہے. حسن بھائی جو کافی دیر سے خاموش کھڑے تھے بولے حسن: چھوٹے مہر میرا خیال ہے کہ آپ خود حویلی جائیں اور ڈیرے پر گاؤں کے معززین کو بلا کر خود اطلاع کر دیں. کیونکہ ابا جی کی غیر موجودگی میں آپ ہی انکی نشست سنبھالتے ہیں اور اس طرح یہ خبر زیادہ عام بھی نہیں ہو گی. ٹھیک ہے میں بولا. میں گاؤں جا رہا ہوں شام تک واپس آ جاؤں گا تب تک آپ یہیں رہیں. اماں اور چچی کو میں ساتھ لے جاتا ہوں شام کو لے آؤں گا. میں آگے بڑھا اور اماں کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور انہیں تسلی دے کر بولا کہ آپ اور چچی میرے ساتھ گھر چلیں شام کو واپس آجائیں گے. اماں نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ نہیں میں مہر صاحب کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گی. میرے سمجھانے پر وہ جانے کے لیے راضی ہو گئیں. ہمارا گاؤں ملتان سے پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے. تھوڑی دیر میں ہی ہم حویلی پہنچ گئے گاڑی کھڑی کر کے اماں جی کو ان کے کمرے میں پہنچایا اور چچی سے کھانے کا بول کر میں ڈیرے پر پہنچا. راموکاکا کو پہلے ہی بول دیا تھا کے اردگرد کے علاقوں کے معززین کو خبر کر دیں. میں ڈیرے پر پہنچا تو علاقے کے معززین چہروں پر حیرت لیے وہاں موجود تھے. میں نے سب سے مصافحہ کیا اور اپنی نشست پر جا کر بیٹھ گیا جو کہ باقی نشستوں سے ذرا اونچی تھی. چند لمحوں کی خاموشی کے بعد میں نے بات شروع کی. میں: صاحبان! آپ کو تکلیف دینے کا مقصد صرف یہ ہے کہ کچھ دنوں کے لیے بڑے مہر صاحب کی جگہ میں اس کرسی پر بیٹھوں گا. آج صبح انہیں دل کی تکلیف کی وجہ سے ہسپتال لے جایا گیا. صحت یابی کے بعد وہ دوبارہ اپنی گدی سنبھالیں گے. میں بات کرتے وقت ان سب کے چہرے پڑھ رہا تھا. سب کے چہرے افسوس کی وجہ سے اترے ہوئے تھے کہ اچانک ایک چہرہ میری نظروں سے گزرا جس کے تاثرات نے مجھے چونکا دیا. میری بات ختم ہوئی تو سب نے باری باری بڑے مہر صاحب کی صحت کے متعلق پوچھنا شروع کر دیا اور میں انہیں جواب دیتا رہا لیکن میری نظریں اس شخص کا جائزہ لے رہی تھیں. تھوڑی دیر بعد ملاقات ختم کی اور انہیں تلقین کی کہ یہ خبر اپنے تک ہی رکھیں. سب لوگ اٹھ کر چلے گئے تو میں نے راموکاکا کو اندر بلایا. میں: راموکاکا! وہ شخص جو دوسری لائن کی آخری کرسی پر بیٹھا تھا وہ کون تھا. راموکاکا! پتر جی وہ اپنے ایم این اے نہیں ہیں نظر وٹو یہ ان کا بندہ تھا. وہ خود نہیں آ سکے اس لیے اسے بھیج دیا. میں راموکاکا کی بات سن کر بظاہر مطمئن ہو گیا لیکن مجھے اس بندے پر شک تھا. میں نے فوراً عُمر کو فون ملایا اور اسے اس بندے کے متعلق بول کر حویلی کی جانب ہو لیا. عمر جانتا تھا اسے کیا کرنا ہے وہ میرا چچازاد ہونے کے ساتھ ساتھ میرا دوست، جگر اور ہمراز بھی تھا. عُمر میرا ہم عمر ہی تھا اور ہم شروع سے ہی ساتھ ساتھ تھے پہلے سکول اور اب کالج میں بھی ساتھ تھے. حویلی پہنچ کر کھانا کھایا اور پھر اپنے کمرے کی جانب ہو لیا. ہماری حویلی کے دو حصے تھے ایک میں چچا کی فیملی رہتی تھی جوکہ چچا، چچی، عمر اور ان کی بیٹی عمارہ پر مشتمل تھی اور دوسرے حصے میں ہماری فیملی. میرا کمرہ دوسری منزل پر تھا تو میں سیڑھیاں چڑھ کر اپنے کمرے میں جا پہنچا. گرمی کا موسم تھا اے سی چلایا اور حسبِ عادت شرٹ اتاری اور بیڈ پر ڈھے گیا. تھکن کی وجہ سے جلد ہی نیند کی آغوش میں پہنچنے والا تھا کہ اپنے جسم پر گیلا پن محسوس کر کے واپس شعور کی وادی میں قدم رکھ دیا. کوئی وجود میرے اوپری جسم کو چوم رہا تھا. اس کے لبوں کی گرماہٹ میں اپنی کمر پر محسوس کر رہا تھا.
  3. Wah kiya damke dar update de ha waji app ne sach me maza agia thanks
  4. Nasima wali story ki bhi last update nahi aai zafar sahab
  5. سر وہ ڈاکٹر صاحب کو دی ہے ۔ جلد مکمل ہو جائے گی
  6. Dear writer g kahan gum hain apne khair khaireat say he aagaah ker dayty r kio update ka atta pata to day dayty. Wasy is dunia k ghum to kam hone ka nam he nahe lyty
  7. اگلی قسط وجی... باہر نکالو اسکو پلیز..... آہ.... اف..... اس کی تڑپ اور تکلیف اور تڑپ دیکھ کر میں رک گیا اور بولا.... انعم آیم ریلی سوری مجھے پتہ نہیں چلا.... میں اور اندر نہیں کر رھا ہو.... تم تھوڑا برداشت کر لو پلیز.... انعم.... میں نے تھوڑا سا لنڈ باہر نکالنے کی کوشش کی.... مگر پھدی اس قدر ٹائٹ تھی کہ پھدی کے اندر کا ماس لنڈ کے ساتھ باہر نکلنے لگا.... انعم کی پھر درد بھری چیغ نکل گئ اور وہ رونے لگی.... وجی..... آہ.... بہت درد ہو رہا ہے.... میں مر جاؤں گئ.... پلیز کچھ کرو نہ..... اسکی پھدی تکلیف اور درد سے خشک ہوگئی تھی.... میں نے اسکی بات کو انسنا کرتے ہوے بولا.. انو... برداشت کر لو ابھی تھوڑی دیر میں درد ختم ہو جائے گی..... میں نیچے جھک کر دیکھا تو ابھی بس لنڈ کے رنگ تک پھدی میں لنڈ گھسا تھا.... لنڈ کی موٹائی نے پھدی کے لبوں کو چیرا ہوا تھا ایسے لگا جیسے لنڈ نے پھدی کو ڈھانپ لیا ہو.... خون اور پھدی کے رس سے لنڈ بھیگا ہوا تھا.... میں نے انعم کا زھن بدلنے کے لیے اسکے ہونٹوں کو چومنے لگا.... اور اسکے مموں کو آہستہ آہستہ دبانا سہلانے لگا.... اور انعم اب ہونٹ چومنے میں ساتھ دینے لگی.... میں نے اپنی زبان کو اسکے شہد جیسے منہ میں چلانے لگا اور ساتھ میں مموں کو کبھی مسل اور سہلانے لگا.... کچھ ہی دیر میں انعم کی حالت بدلنے لگی جس کا اظہار اب وہ میرے بالوں میں انگلی پھرنےلگی.... اور اور اسکی زبان میرے منہ میں تباہی مچا رہی تھی.... اسکے شہد جیسے تھوک کو امرت سمجھ کر پی رہا تھا.... انعم... کی سسکیاں اور مزہ میں ڈوبی آوازیں... میری کانوں اور دل پر پڑ رہی تھی جنہوں کو میں بہت مشکل سے برداشت کر رھا تھا کیونکہ لنڈ اور اندر گھس کر انعم کی ناف اور بچہ دانی میں گھسنے کے چکر میں تھا...... میری برداشت ختم ہو چکی تھی... اور اسکا رسپانس دیکھ کر میری ہمت بنی.... اور میں نے پورے جوش اور طاقت کے ساتھ لنڈ کو ایڑھ لگائی...... لنڈ آدھا اندر گھسا میرے دھکے کے ساتھ ہی... انعم ایک تیز چیغ کے ساتھ... اچھلی... اسکی کمر بیڈ سے اوپر اوٹھی..... آہ....... اف ای..... مار ڈالو گے کیا..... وجی..... تم تو باہر نکلنے لگے تھے آہ.... لگتا ہے جیسے پیٹ میں گھس گیا ھے...... آئی.... مر گئ میں.....آہ.... وجی.... پھر درد شروع ہوگیا ھے..... یہ سنتے ہی مجھے جنون سا آیا... اور ایک بھرپور دھکہ دیا اور میرا 7 انچ لمبا لنڈ اسکی نازک سی پھدی کو پھول بنا تا ہوا... اندر جا گھسا اور کسی چیز سے کراتا محسوس ہوا..... میں مزہ سے سرشار اور وہ درد سے بے حال.. جونہی لنڈ اسکی پھدی سے ٹکرایا... تو اسکی آنکھیں اوپر کو اور سانس نیچے سا ہوا اور میرا نام اسکے حلق میں پھنسا رھ گیا کیو نکی اب میں رکا نہیں کیونکہ مجھے پتہ تھا اسکی گیلی بےچین پھدی کے گیلے پن نے میرے لنڈ کو خوش آمدید بول دیا تھا میرا پورا لنڈ اسکی نازک کلی جیسی پھدی کو پھول بناتا ہوااندر باھر ہو رھا تھا.... اب اسکے منہ سے سسکیاں اور چیغ ایک ساتھ آرھی تھی.... لیکن مجھے پرواہ ہرگز نہ تھی.... تھوڑی ڈائریکشن تبدیل کی مگر اسکے اوپر سے ہٹا نہیں... کیونکہ وہ نیچے سے اپنے بچاؤ کے لیے مجھے خود سے پرے دھکیل رہی تھی... میں اگر اسکے اوپر سے ہٹ گیا تو وہ کبھی پھر میرے لنڈ کو اندر لینے کے لیے راضی نہیں ہوگی... اسکا دھیان خود پر سے ہٹانے کے لیے میں نے اب لنڈ کی موٹائی سے پھدی کو ناپنے کا فیصلہ کیا... کیونکہ میں چاہتا تھا کہ لنڈ اب میرا اسکی پھدی کے دانے کو رگڑتا ہوا اندر اسکی بچہ دانی کے منہ پر لگے... جس میں کامیاب ہوا.. اور اسکا دھیان میرے لنڈ کی دی تکلیف سے مزہ کی طرف آنے لگا... انعم... وجی... اٹھو..... پرے ہٹو آہ.... میرے سے.... با ہر نکالو.... اسے کیا بلا گھسا دی ہے آہ..... مر گئ..... اف..... بہت اندر جا کر لگتا ھے.... تھوڑا رک جاؤ نا پلیز....... آہ... وجی.... اف.... اب درد کچھ کم ہونے لگا ہے...... اہ.... مزہ کی شدت سے اسکی آنکھیں بند ہونے لگی اور وہ خاموش ہو گئ.... مجھے تو جیسے عید ہوگی اور میں نے سپیڈ بڑھا دی.... لنڈ کی موٹائی... سے پھدی کو دانے اور اسکی اندرونی دیوار کو رگڑ لگتی تو انعم مزہ کی شدت سے منہ کھولنے کی کوشش کرتی تو اسی لمحے میں لنڈ کی لمبائی پھدی کی گہرائیوں سے ہوتا اسکی بچہ دانی کے منہ پر لگتا تو اسکی درد کی سسکیاں نکل پڑتی.... آہ... وجی.... اف میری جان... کبھی مجھے دھوکہ مت دینا... میرا سسسسببب تمہارے حوالے کر چکی ہو.... اور ساتھ ہی... میرے ہونٹوں کو ہونٹوں میں لیکر چوسنے لگی.... میرے بھی گھوڑے نے ہانپنا شروع کر دیا تھا.... وہ لنڈ کی ٹایٹ دیواروں کی رگڑ برداشت نہ کر سکا اور میں نے لاشعوری میں انعم کے کندھوں کو جکڑتے ہوے اسکی پھدی کو اپنے لنڈ سے پورا جوڑتے ہوے..... لنڈ کے اندر سے منی بوچھاڑ اسکی بچہ دانی کہ منہ پر نکلنے لگی اسکا اور میرا جسم کانپ اٹھا اور ہم دونوں نے اپنے ہونٹوں کو ایک دوسرے سے ملاتے ہوے مدہوشی میں جانے لگے... اسکی اور میری پہلی چودائ مکمل تو ہو چکی تھی لیکن... دروازے پر ہوئی دستک... سے ہم دونوں گھبرا اٹھے اور....
  8. امید ہے کہ آپ کو میری کوشش پسند آئے گی پارٹ 1.pdf
  9. Javaid Shab kamal ki Update di Ha.. Such m Maza Agya Aisa lagta Ha Jasy ankho ky Samny sab kuch ho raha Ha.. Bas is Updated m sex ki Kami Mahsos hoye... Thanks for Amazing Update.

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.