جاوید بانڈ صاحب! آج ایک ہی نشست میں مکمل کہانی پڑھ ڈالی۔ دراصل وقت کی کمی کی وجہ سے میں کہانی تفصیل سے پڑھ نہیں پا رہا تھا، جو وقت ملتا وہ پڑھنے کی بجائے لکھنے میں صرف ہو جاتا تھا۔
خیر، دیرآید درست آید۔
کہانی میں سب سے پہلی چیز اس کا پلاٹ ہے، دیہاتی پس منظر میں لکھی گئی کہانی کا پلاٹ واقعی عمدہ ہے۔ ہیرو کا رول بھی اچھا ہے، اس کا ہر لحاظ سے مضبوط ہونا بھی ایک مثبت پہلو ہے۔
کہانی کے ثانوی کردار جیسے کہ وہ لڑکیاں جو سیالوں کے ظلم کا شکار ہوئیں ان کا کردار روایتی ہے،اس میں مزید جدت لائی جا سکتی ہے کہ اگلے جو بھی کردار ہوں ان کا ہیرو کا ماضی یکساں نہ ہو۔
ایکشن اچھا ہے اور حقیقی ہے۔ایک جگہ مجھے ہیرو کی طرف سے حالات کی سنگینی کو بھانپنے میں غلطی محسوس ہوئی۔ اس نے سیالوں کا ایک بندہ قتل کر دیا اور اسے یہ احساس نہ ہوا کہ اس کا خمیازہ اس کے خاندان کو بھگتنا پڑے گا۔ اس نے اس کو قدرے لاپروائی سے لیا۔ قتل کا معلوم ہوتے ہی وہ اس کے گھر جائیں گے اور انتقامی کاروائیاں کریں گے۔
اس کی نسبت ایسا ہوتا کہ وہ روپوش ہونے کی بجائے ان کا دلیری سے استقبال کرتا،تصادم ہوتا،ماں باپ بہن کو بچانے کی کوشش کرتا مگر ناکام ہوتا اور ان کے ساتھ ظلم وہ ہوتے دیکھتا تو بہت بہتر منظرنگاری ہو سکتی ہے۔کہانی میں ایک دردناک موڑ آ جاتا اور قارئین بھی ویسا ہی غصہ محسوس کرتے جیسا ہمارا ہیرو محسوس کر رہا ہے۔ بہرحال یہ بھی مناسب طریقہ تھا۔
اب آخری مرحلہ جو شائع ہوا ہے کہ اب نئی شناخت کے ساتھ ہیرو کیسے آگے بڑھتا ہے تو یہ سسپنس ہو گا۔ بہتر یہ ہو گا کہ وہ اس بار جوش کی بجائے چالبازی اور ہوش سے کام لے کر دشمنوں کا خاتمہ کرے۔ کیونکہ شناخت بار بار نہیں مل سکتی۔
کہانی لکھنے کے لیے بہت بہت شکریہ اور ہم اس کے لیے آپ کے مشکور ہیں۔
ساتھ ہی ایک اعلان بھی میں یہاں کر دوں کہ جو رائیٹر صرف ہمارے لیے لکھے گا اس کا الگ سیکشن بنایا جائے گا اور اس سیکشن کی جو بھی آمدن ہو گی وہ اسے ملے گی۔