Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 19/02/17 in all areas

  1. خدا کا شکر کہ پھیلیں نہیں زمانے میں وہ سسکیاں کہ جو گونجی ہیں غسلخانے میں مزا جو دل کو ملا مارنے مرانے میں نہ کہہ سکی یہ کہ غالب نہیں زمانے میں حریف راز محبت مگر در و دیوار
  2. کیسے کہہ دوں کہ مجھے چود دیا ہے اس نے بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
  3. بچپن اور لڑکپن میں بڑے شوق سے گندے گندے اشعار سنا کرتے تھے اس تھڑیڈ میں ادھر ادھر سے سنے سنائے گندے اشعار یا نظمیں شئر کی جائیں گی تو پہلی نظم حاضر خدمت ہے عرضِ حیات کا ہے ارمان بھوسڑی کا چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا وہ دیکھو اپنے اندر دو دو چڑھا رہی ہے ڈر ہے کہ ہو نہ جائے چالان بھوسڑی کا جب سے ہوئی ہے شادی معشوق کی کسی سے جینے کا نہیں کوئی ارمان بھوسڑی کا چوتیں بنی ربڑ کی اور پلاسٹک کے لنڈ کیا کیا بنا رہا ہے جاپان بھوسڑی کا اب چودا بھی جا رہا ہے مندروں کی جانب کیا ماں چدوا رہا ہے شیطان بھوسڑی کا وہ دیکھو چھت کے اوپر جوڑی بنا رہے ہیں اور ڈر ہے کہ آ نہ جائے بڑا بھائی بھوسڑی کا معشوق نے کہا ہے سگریٹ نہ پینا جانو گٹکا چبا رہا ہے عمران بھوسڑی کا وہ آئے ہمارے گھر میں ہمیں لنڈ خبر نہیں ہے یہ ماں چدوا رہا تھا چوکیدار بھوسڑی کا ہے رات بہت کالی گھر پہ سنبھل کے جانا رستے میں چھن نہ جائے موبائیل بھوسڑی کا گانڈ مارنے کا شوق تو ہم بھی رکھتے ہیں یہ کیا کام دیکھا رہا ہے پٹھان بھوسڑی کا لوڑے اپنے سنبھال لو میرے دوستوں ورنہ بس رہ جائے گا نام بھوسڑی کا اس نظم کی آڈیو ملاحظہ ہو
  4. پیش و پس کچھ نہ چلے گی غالب کسمسائے تو پھٹے گی غالب اب تو دینی ہی پڑے گی غالب واقعہ سخت ہے اور جان عزیز
  5. کل یہ جا دیتا تمہارے در پہ دھرنا دیکھتے جان جاتی دیکھتے یا گانڈ مرنا دیکھتے رات شہوت میں تم اس کا فیل کرنا دیکھتے میں نے روکا رات غالب کو وگرنہ دیکھتے اس کے سیل گریہ سے گردوں کف سیلاب تھا
  6. وہ پھولوں کی رانی ____بہاروں کی شہزادی دل توڑ کر چلی گئی ___کتی ، کمینی ، حرام زادی
  7. چاہتے ہیں وہ ہم سے ایسی چاہت کا وعدہ جیسے "لکس" گُھلے کم اور چلے زیادہ
  8. واہ کیا انقلاب دوراں ہے گانڈ مہنگی ہے چوت ارزاں ہے میں نے پوچھا جو کون کو یہ کون چوت بولی کہ میری گوتیاں ہے
  9. چل تری کرکے تیرا ناس گئی سب وہ چنپا کلی کی باس گئی مرتے مرتے بھی خندہ رو تھی فرج موت کے منہ میں بے ہراس گئی ہاتھ ہت پھیریوں میں رکتا ہے ہائے وہ لذت مساس گئی حالت حیض ہوگئی طاری وائے گر علت نفاس گئی غم یہ ہے فرج کیوں ترے ہمراہ غیر لوڑوں کے آس پاس گئی جبر ایام سے جو کس روئی کھپ یہاں کھیتیوں کےپاس گئی ہم نے ماری توہوگئی جاوید اورنہ ماری تو بے قیاس گئی
  10. باغ میں جا کے وہ جھاڑی میں بلاتا ہے مجھے ساےۂ شاخ میں پھر لنڈ دکھاتا ہے مجھے جوہر لنڈ مجھے یوں تو بہت تھا معلوم پر چمن میں یہی رقصی نظر آتا ہے مجھے مدعا تھا مرا لوڑے کا تماشہ کرنا گھاس پر جلدی سے لیکن وہ لٹاتا ہے مجھے لوڑا سرماےۂ عالم بنا اندر جو گیا چرخ بھی اک بڑا خایہ نظر آتا ہے مجھے چودنے کو تو سبھی مجھ کو لٹا دیتے ہیں بعد جھڑنے کے نہ پر کوئی اٹھاتا ہے مجھے
  11. پسندیدگی کا شکریہ اسی بحر میں کچھ اور شعر بھی پیش خدمت ہیں تم نے مضراب چوت میں رکھ لی میں بجاؤں ستار لوڑے سے ہم تو ڈولی میں چڑھ کے چودیں گے غل مچائیں کہار لوڑے سے
  12. واہ واہ واہ۔۔ کیا بات ہے۔ میں بھی تم کو کما کے دکھلاؤں جو چلے کاروبار لوڑے سے مزا ہی آ گیا۔ بڑی گہرائی میں کھڑی شاعری ہے۔
  13. کھودے جب کوہسار لوڑے سے کردیے میں نے غار لوڑے سے تیری فرقت میں میں نے بستر کو کردیا تار تار لوڑے سے دل تباہی کو میری کیا کم تھا کیوں کیا زیر بار لوڑے سے میں بھی تم کو کما کے دکھلاؤں جو چلے کاروبار لوڑے سے چوت ہو اور تیری صورت ہو نہ ہو فصل بہار لوڑے سے تجھ کو رسوا کرے گا اے خالد کہنا یہ بار بار لوڑے سے
  14. تمنا تھی کہ ان کے باپ کو ساحل پہ بٹھلا کر ہم ان کی مارتے کشتی میں کشتی ڈوبتی اپنی نکالا اس نے چاقو اور حملہ کردیا مجھ پر مرا کر گانڈ اس نے جب تمنا باندھ لی اپنی
  15. ہمارے ساتھ جو کاٹی تھی ٹوٹی منجھی پر اسی حسین شب مختصر کی بات کرو تمہارے پاس فقط چار انگلیوں کا ہے جو خر کو مات کرے اس ذکر کی بات کرو خر: گدھا ذکر: لن
  16. بھرا کے پھرتی ہے وہ پیٹ نو مہینے سے ذرا سی گوشت کی بوٹی نے کیا گرانی کی
  17. کبھی ان کو دے کے جو دم چودتے ہیں بہت کرکے گرما گرم چودتے ہیں یہ غلمان جنت ہمارے لیے ہیں ہٹو اے فرشتو کہ ہم چودتے ہیں گریزاں وہ کیوں ہم سے اتنے ہیں یارب عدو جب انہیں دم بدم چودتے ہیں ہیں کنگال خالد مگر فضل رب سے مہربان و اہل کرم چودتے ہیں
  18. بھلا ہم غریبوں سے وہ کیوں چدائیں انہیں آکے دارا و جم چودتے ہیں نہیں نوکری ایسی ویسی ہماری وہ دیتے ہیں تنخواہ، ہم چودتے ہیں نہ جا طمطراق عبا و قبا پر ولی چودتے ہیں، برہم چودتے ہیں
  19. تھا کل تلک تو خوشامد سے گانڈ مرواتا ہمہ شما کے اشارے پہ دوڑ کر آتا پھرے تھا بیچ کی انگلی سے گانڈ کھجلاتا ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے
  20. دکھایا جو روپیہ چمکتا ہوا وہ لالچ میں پھر سامنے جھک گیا ہوئی جبکہ تکلیف کہنے لگا کریما بہ بخشائے بر حال ما کہ ہستم اسیر کمند ہوا کہا اس سے میں نے کہ اے دلربا گھسیڑوں میں پورا کہ آدھا بتا تو شرما کے مجھ سے یہ کہنے لگا سپردم بہ تو ماےۂ خویش را تو دانی حساب کم و بیش را لٹایا انہیں اور بنایا نرس دیا ان کی مقعد پہ لوڑا جو کس وہ نیچے سے بولے کہ بس بھیا بس ندایم غیر از تو فریاد رس توعامیاں را خطا بخش و بس
  21. زمانے سے بس یہی اک گلہ ہے جو بھی ملا ہے بہن کا چڈھ ہی ملا ہے۔
  22. مانا کہ تیری چوت کے لائق نہیں ہوں میں تو میرا لنڈ دیکھ میرا اعتماد دیکھ
  23. سلسلے توڑ گیا وہ سبهی جاتے جاتے گانڈ دے دیتا تها وہ بهی ہمیں آتے جاتے
  24. زبردست جناب۔۔کیا بات ہے۔ واقعی میں نے بھی نظم اپنی نوجوانی کے اوائل میں سنی تھی۔

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.