Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 25/08/16 in all areas

  1. مجھے تم سے محبت ہے میں جب بھی اس سے کہتا ہوں مجھے تم سے محبت ہے وہ مجھ سے پوچھتی ہے کہ بتاؤ نا! کہ کتنی ہے؟ میں بازو کھول کر کہتا ہوں کہ زمیں سے آسماں تک ہے فلک کی کہکشاں تک ہے میرے دل سے تیرے دل تک مکاں سے لا مکاں تک ہے وہ کہتی ھے، کہ بس اتنی!!! میں کہتا ھوں یہ بہتی ھے لہو کی تیز حدت میں میرے جذبوں کی شدت میں تیرے امکاں کی حسرت میں میرے وجداں کی جدت میں وہ کہتی ہے نہیں کافی ابھی تک یہ میں کہتا ہوں ہوا کی سرسراہٹ ہے تیرے قدموں کی آھٹ ہے کسی شب کے کسی پل میں مجسم کھنکھناہٹ ہے وہ کہتی ہے یہ کیسے فیل (محسوس) ہوتی ھے؟؟ میں کہتا ہوں چمکتی دھوپ کی مانند بلوریں سوت کی مانند صبح کی شبنمی رت میں لہکتی کوک کی مانند وہ کہتی ہے مجھے بہکاوے دیتے ہو؟ مجھے سچ سچ بتاؤ نا مجھے تم چاہتے بھی ہو یا بس بہلاوے دیتے ہو؟ میں کہتا ہوں مجھے تم سے محبت ہے کہ جیسے پنچھی پر کھولے ہوا کے دوش پر جھولے کہ جیسے برف پگھلے اور جیسے موتیا پھولے وہ کہتی ھے مجھے الو بناتے ہو!! مجھے اتنا کیوں چاہتے ھو؟ میں اس سے پوچھتا ہوں اب تمھیں مجھ سے محبت ہے؟ بتاؤ نا کہ، کتنی ہے وہ بازو کھول کے مجھ سے لپٹ کے جھوم جاتی ہے میری آنکھوں کو کر کے بند مجھ کو چوم جاتی ھے دکھا کے مجھ کو وہ چٹکی دھیرے سے مسکراتی ھے میرے کانوں میں کہتی ھے فقط اتنی بس اتنی سی۔۔۔۔!!
  2. بہت ہی زبردست شاعری ہے جناب
  3. عشق ہو تیری زات ہو پھر عشق حسن کی بات ہو کبھی میں ملوں کبھی تو ملے کبھی ہم دونوں چپ چاپ ہوں کبھی گفتگو کبھی تزکرے کبھی زکر ہو کوئی بات ہو کبھی میں تیری کبھی تو میرا کبھی ایک دوجے کے ہم رہیں کبھی رنجشیں کبھی دوریاں کبھی قربتیں کبھی الفتیں کبھی جیت ہو کبھی ہار ہو نا نشیب ہوں نا اداس ہوں صرف تیرا عشق ہو میری زات
  4. تمہیں کیسے بتائیں ہم محبت اور کہانی میں کوئی رشتہ نہیں ہوتا کہانی میں تو ہم واپس بھی آتے ہیں محبت میں پلٹنے کا کوئی رستہ نہیں ہوتا ذرا سوچو! کہیں دل میں خراشیں ڈالتی یادوں کی سفاکی کہیں دامن سے لپٹی ہے کسی بھولی ہوئی ساعت کی نم ناکی کہیں آنکھوں کے خیموں میں خراغِ خواب گل کرنے کی سازش کو ہوادیتی ہوئی راتوں کی چالاکی مگر میں بندہ خاکی نہ جانے کتنے فرعونوں سے اُلجھی ہے مرے لہجے کی بے باکی مجھے دیکھو مرے چہرے پہ کتنے موسوں کی گرد اور اس گرد کی تہہ میں سمے ی دھوپ میں رکھا اک آئینہ اور آئینے میں تاحد نظر پھیلے محبت کے ستارے عکس بن کر جھلملاتے ہیں نئی دنیاؤں کا رستہ بتاتے ہیں اسی منظر میں آئینے سے الجھی کچھ لکیریں ہیں لکیروں میں کہانی ہے کہانی اور محبت میں ازل سے جنگ جاری ہے محبت میں اک ایسا موڑ آتا ہے جہاں آکر کہانی ہار جاتی ہے کہانی میں کچھ کردار ہم خود فرض کرتے ہیں محبت میں کوئی کردار بھی فرضی نہیں ہوتا کہانی میں کئی کردار زندہ ہی نہیں رہتے محبت اپنے کرداروں کو مرنے ہی نہیں دیتی کہانی کے سفر میں منظروں کی دھول اڑتی ہے محبت کی مسافر راہ گیروں کو بکھرنے ہی نہیں دیتی محبت اک شجر ہے اور شجر کو اس سے کیا مطلب کہ اس کے سائے میں جو بھی تھکا ہارا مسافر آکے بیٹھا ہے اب اس کی نسل کیا ہے دنگ کیسا ہے کہاں سے آیا ہے کس سمت جانا ہے شجر کا کام تو بس چھاؤں دینا ہے دھوپ سہنا ہے اسے اس سے غرض کیا ہے پڑاؤ ڈالنے والوں میں کس نے چھاؤں کی تقسیم کا جھگڑا اُٹھا یا ہے کہاں کس عہد کو توڑا کہاں وعدہ نبھایا ہے مگر ہم جانتے ہیں چھاؤں جب تقسیم ہوجائے تو اکثر دھوپ کے نیزے رگ و پے میں اترتے ہیں اور اس کے زخم خوردہ لوگ جیتے ہیں نہ مرتے ہیں۔۔۔ ۔۔
  5. کہنے کو محبت ہے لیکن ، اب ایسی محبت کیا کرنی،؟ جو نیند چُرا لے آنکھوں سے، جو خواب دکھا کر آنکھوں کو، تعبیر میں کانٹے دے جاۓ، جو غم کی کالی راتوں سے، ہر آس کا جگنو لے جائے، جو خواب سجاتی آنکھوں کو، آنسو ہی آنسو دے جائے، جو مشکل کر دے جینے کو، جو مرنے کو آسان کرے، وہ دل جو پیار کا مندر ہو، اس مندر کو برباد کرے، اور یادوں کو مہمان کرے، اب ایسی محبت کیا کرنی،؟ جو عمر کی نقدی لے جائے، اور پھر بھی جھولی خالی ہو، وہ صورت دل كا روگ بنے، جو صورت دیکھی بھالی ہو، جو قیس بنا دے انساں کو، جو رانجھا اور فرہاد کرے، جو خوشیوں کو برباد کرے، اب ایسی محبت کیا کرنی،؟ دیکھو تو محبت بارے میں، ہر شخص یہی کچھ کہتا ہے، سوچو تو محبت کے اندر، اک درد ہمیشہ رہتا ہے، پھر بھی جو چیز محبت ہوتی ہے، کب ان باتوں سے ڈرتی ہے، کب انکے باندھے رکتی ہے، جس دل میں اسنے بسنا ہو، بس چپکے سے بس جاتی ہے، اک بار محبت ہو جائے، پھر چاہے جینا مشکل ہو، یا جھولی خالی رہ جائے، یا آنکھیں آنسو بن جائیں، پھر اسکی حکومت ہوتی ہے، آباد کرے، برباد کرے، اک بار محبت ہو جائے، کب ان باتوں سے ڈرتی ہے، کب کسی کے روکے رکتی ہے، اب ایسی محبت کیا کرنی،؟؟ :-)
  6. ساحل ریت سمندر لہریں بستی جنگل صحرا دریا خوشبو بارش بادل موسم پھول دریچے سورج چاند اور ستارے آج یہ سب کچھ نام تمہارے خواب کی باتیں یاد کے قصے سوچ کے پہلو درد کے آنسو چین کے نغمے اترتے وقت کے بہتے دھارے آج یہ سب کچھ نام تمہارے روح کی آھٹ جسم کی جنبش خون کی حدت سانس کی لرزش آنکھ کا آنسو ہونٹ کی رنگت چاہت کے عنوان یہ سارے آج یہ سب کچھ نام تمہارے
  7. بہت عمدہ جناب ۔۔زبردست شاعری ہے۔
  8. وہ کہتی ہے سنو جاناں محبت موم کا گھر ہے میں کہتا ہوں کہ جس دل میں ذرا بھی بدگمانی ہو وہاں کچھ اور ہو تو ہو محبت ہو نہیں سکتی وہ کہتی ہے سدا ایسے ہی کیا تم مجھ کو چاہو گے کہ میں اس میں کمی بالکل گوارا کر نہیں سکتی میں کہتا ہوں محبت کیا ہے یہ تم نے سکھایا ہے مجھے تم سے محبت کے سوا کچھ بھی نہیں آتا وہ کہتی ہے جدائی سے بہت ڈرتا ہے میرا دل کہ خود کو تم سے ہٹ کر دیکھنا ممکن نہیں ہے اب میں کہتا ہوں کہ یہی خدشے بہت مجھ کو ستاتے ہیں مگر سچ ہے محبت میں جدائی ساتھ چلتی ہے وہ کہتی ہے بتاؤ کیا میرے بن جی سکو گے تم میری یادیں، میری آنکھیں، میری باتیں بھلا دو گے میں کہتا ہوں کبھی اس بات پر سوچا نہیں میں نے اگر اک پل کو بھی سوچوں تو سانسیں رکنے لگتی ہیں وہ کہتی ہےتمہیں مجھ سے محبت اس قدر کیوں ہے کہ میں اک عام سی لڑکی ہوں تمہیں کیوں خاص لگتی ہوں میں کہتا ہوں کبھی خود کو میری آنکھوں سے تم دیکھو میری دیوانگی کیوں ہے یہ خود ہی جان جاؤ گی وہ کہتی ہے مجھے وارفتگی سے دیکھتے کیوں ہو کہ میں خود کو بہت ہی قیمتی محسوس کرتی ہوں میں کہتا ہوں متاع جاں بہت انمول ہوتی ہے تمہیں جب دیکھتا ہوں زندگی محسوس ہوتی ہے وہ کہتی ہے بتاؤ نا کسے کھونے سے ڈرتے ہو بتاؤ کون ہے وہ جسکو یہ موسم بلاتے ہیں میں کہتا ہوں یہ میری شاعری ہے آئینہ دل کا ذرا دیکھو بتاؤ کیا تمہیں اس میں نظر آیا وہ کہتی ہے کہ آتش جی بہت باتیں بناتے ہو مگر سچ ہے کہ یہ باتیں بہت ہی شاد رکھتی ہیں میں کہتا ہوں یہ سب باتیں، فسانے اک بہانہ ہیں کہ پل کچھ زندگانی کے تمہارے ساتھ کٹ جائیں پھر اس کے بعد خاموشی کا دلکش رقص ہوتا ہے یہ آنکھیں بولتی ہیں اور لب خاموش رہتے ہیں

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.