Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 31/05/16 in Posts

  1. تمام وی آئی ممبرز سے ایک مشورہ درکار ہے جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہے۔کہ ہر سال ماہ رمضان میں ہم اپنے فورم کے تمام سیکس سیکشن کو مکمل طور پر آف کر دیا کرتے ہیں۔تاکہ ماہ رمضان مکمل عقیدت اور احترام سے گزارا جا سکے۔ اس بار صورت حال تھوڑی سی محتلف ہے۔گزشتہ کچھ ماہ پہلے فورم سے تمام سیکس کلپ اور سیکس امیج کو ختم کر دیا گیا تھا۔مگر اب بھی کچھ تھریڈز میں تصاویر پوسٹ ہوتی رہتی ہیں۔اور پھر سیکس سٹوریز تو ویسے ہی موجود ہیں ایسے میں فورم انتظامیہ یہ جاننا چاہتی ہے ٭ کیا اس بار بھی فورم کے تمام سیکس سیکشن کو بند کر دیاجائے یا ایسے ہی سب کو آن رہنے دیا جائے؟ ٭ اور اگر تمام سیکس سیکشن کو بند کر دیا جائے تو کیا پردیس اور ہوس کی اپڈیٹ کو بھی سٹاپ کر دیا جائے یا پردیس کو ماہ رمضان ایڈیشن کی صورت میں جاری رکھا جائے؟ ٭ ہمارے پاس ایک ناول مٹھو میاں کے نام سے موجود ہے۔ہمارا ارادہ اس ناول کو رمضان میں اپڈیٹ کر کے مکمل کرنے کا ہے ۔اس بارے میں آپ سب ممبرز کی کیا رائے ہے؟ ٭ آپ سب ممبرز رمضان میں "پردیس" اور "مٹھو میاں" میں سے کس کی اپڈیٹس پڑھنا چاہتے ہیں؟ ٭رمضان ایڈیشن کو تمام ممبرز کے لیئے فری کیا جائے یا ضرف وی آئی پی ممبرز تک محدود رکھا جائے؟ صرف ؤی آئی پی ممبرز کی رائے درکار ہے۔اپنی رائے اسی تھریڈ میں پوسٹ کریں۔شکریہ
  2. سمندرکِنارےایک درخت تھا جس پہ چڑیا کا گھونسلا تھا ایک دن تیز ہوا چلی تو چڑیا کا بچہ سمندر میں گرگیا چڑیا بچے کو نکالنے لگی تو اُسکے اپنے پر گیلے ہوگئے اور وہ لڑکھڑا گئی اُس نے سمندر سے کہا اپنی لہر سے میرا بچہ باہر پھنک دے مگر سمندر نہ مانا تو چڑیابولی دیکھ میں تیرا سارا پانی پی جاوُں گی تجھے ریگستان بنا دونگی... سمندراپنے غرور میں گرجا کہ اے چڑیا میں چاہوں تو ساری دنیا کو غرق کردوں تو تو میرا کیا بگاڑ سکتی ہے؟ چڑیا نے اتنا سُنا تو بولی چل پھرخشک ہونے کو تیار ہوجا اسی کےساتھ اُس نےایک گھونٹ بھرا اُوراڑ کےدرخت پہ بیٹھی پھرآئی گھونٹ بھراپھردرخت پہ بیٹھی یہی عمل اُس نے7-8 بار دُھرایا تو سمندر گھبرا کے بولا: پاگل ہوگئی ہےکیا کیوں مجھےختم کرنےلگی ہے ؟ مگرچڑیااپنی دھن میں یہ عمل بار بار کر رہی تھی سمندرنےایک زور کی لہرماری اورچڑیا کے بچے کو باہر پھینک دیا درخت جو کافی دیر سے یہ سب دیکھ رہا تھا سمندرسےبولا اے طاقت کےبادشاہ تو جو ساری دُنیا کو پل بھر میں غرق کر سکتا ہےاس کمزور سی چڑیا سےڈرگیا یہ سمجھ نہیں آئی ؟ سمندربولا تو کیا سجھا میں جو تجھےایک پل میں اُکھاڑ سکتاہوں اک پل میں دُنیا تباہ کرسکتا ہوں اس چڑیاسے ڈرونگا؟ نہیں میں تواس ایک ماں سےڈرا ہوں ماں کےجذبے سے ڈرا ہوں اک ماں کے سامنے توعرش ہل جاتا ہے تو میری کیا مجال جس طرح وہ مجھےپی رہی تھی مجھےلگا کہ وہ مجھےریگستان بنا ہی دےگی ماں " اللہ پاک " کی سب سے عظیم نعمت ہے .. اس کی قدر کریں .. اللہ پاک سے دعاء ہے کہ وہ ھمیں اپنے والدین کی خدمت کی توفیق عطاء فرمائے ( آمین )
  3. ................نادان چوہا ...................... کسی جنگل میں ایک بھیڑیا رہتا تھا- ایک دن وہ بھیڑیا ایک شکاری کے جال میں پھنس گیا- بہت زور لگایا مگر جال سے نکل نہ پایا، بلکہ مذید اُلجھ گیا- اِسی تگ و دو میں جال کی ڈوریاں اُس کے جسم میں گڑ گئیں اور جسم سےخون رسنے لگا- اتنے میں قریب سے ایک چوہے کا گزر ہوا- بھیڑیا اُسے دیکھتے ہی انتہائی لجاجت سےبولا: "بھائی چوہے! میری مدد کرو، میں اس جال میں بری طرح پھنس گیا ہوں، تم مہربانی کرو اور اپنے تیز دانتوں سے اس جال کو کاٹ دو تا کہ میں آزاد ہو جاؤں۔" چوہا بولا: "نہ بابا نہ! اگر میں نے تمہیں آزاد ی دلا دی تو تم سب سے پہلے مجھے ہی ہڑپ کر جاؤ گے۔" بھیڑیا بولا: "تم ٹھیک کہتے ہو ۔ میری فطرت کچھ ایسی ہی ہے، مگر تمہارے اس احسان کے بدلے میں وعدہ کرتا ہوں کہ نہ صرف میں اپنے آپ پر قابو رکھوں بلکہ جب تمہیں کسی اور درندے نے تنگ کیا تو میں تمہاری مدد کروں گا-" قصہ مختصر کافی دیر تک منت سماجت کرنے کے بعد بھیڑیے نے چوہے کو راضی کر ہی لیا اور یوں چوہے نے اس جال کو اپنے تیز دانتوں سے کتر ڈالا۔ بھیڑیے نے آزاد ہوتے ہی چوہے کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آج سے تم میرے ساتھ رہو گے اور مجال ہے کہ جنگل کا کوئی دوسرا جانور تمھاری طرف میلی آنکھ سے دیکھ سکے- چوہا بہت ہی خوش ہو گیا اور ننھا سا سینہ پھلا کر جنگل میں گھومنے لگا- جب بھی کوئی لگڑبھگا، جنگلی بلی، گیدڑ، لومڑی، وغیرہ اس کی طرف حملہ کرنے کے لیے بڑھتے وہ فوراً بھیڑیے کو بلا لیتا اور بھیڑیا بھی فوراً ہی لبیک کہتا ہوا چوہے کی مدد کو آن پہنچتا اور حملہ آور کو مار بھگاتا- یہ دیکھ کر چوہے کی ہمت اتنی بڑھ گئی کے راہ چلتے ہر چھوٹے بڑے جانور کی بے عزتی کرنے لگا اور یوں جنگل کے تمام جانور چوہے سے نفرت کرنے لگے- ایک دن کچھ شکاری دوبارہ جنگل میں آئے اور انہوں نے بھیڑیے پر گولی چلائی- گولی بھیڑیے کی ٹانگ پر لگی پر جان بچ گئی- لنگڑا بھیڑیا اب شکار کرنے کے قابل نہ رہا- معذوری کی حالت میں بھوک کی شدت بڑھتی گئی مگر کوئی بھی جانور شکار نہ کر سکا- دوسری طرف بھیڑیے کی پشت پناہی کے زعم میں چوہے نے سرے راہ ایک لومڑی کی بے عزتی کر دی- لومڑی غصہ میں آ کر چوہے کو پکڑنے کے لیے لپکی تو چوہا فوراً بھاگ کر بھیڑیے کے پاس آ گیا- لومڑی یہ دیکھ کر دور ہی رُک گئی مگر موٹے تازے چوہے کو دیکھ کربھیڑیے کی نیت میں فتور آ گیا اور بھوک چمک اُٹھی- اُس نے ایک ہی پنجہ مار کر چوہے کو دبوچ لیا ۔ چوہے نے جو بھڑیے کے خطرناک تیور دیکھے تو خوفزدہ ہو کر بولا: "بھائی بھیڑیے یہ کیا کر رہے ہو؟ میرے احسان کا یہ بدلہ دے رہے ہو؟" بھیڑیا بولا: "کمبخت تو نے بھی تو اُس دن کے بعد سے جنگل کے تمام جانوروں کو بے عزت کر کے اپنی اوقات سے زیادہ مزے کیے ہیں اور کسی خوف کے نہ ہونے کے سبب کھا کھا کر خوب موٹا ہو گیا ہے- چل اب میرا خالی شکم سیر کر-" بھیڑیے نے یہ کہا اور ایک ہی بار میں سالم چوہے کو ہڑپ کر گیا- سبق: - عادت کو تبدیل کیا جا سکتا ہے مگر فطرت پر قابو پانا ممکن نہیں- سانپ کو لاکھ دودھ پلاؤ مگر وہ کاٹےگا ضرور! - بے جوڑ دوستی اکثر اوقات دیرپا نہیں ہوتی اور کبھی نہ کبھی نقصان پہنچاتی ہے- - کسی پر کیے گئے احسان کی قیمت کبھی نہیں وصول کرنی چاہیے- اس سے نیکی بھی ضائع ہوتی ہے اور انسان کا وقار بھی مٹی میں مل جاتا ہے- - طاقتور کے مزاج اور وعدے کا کوئی بھروسا نہیں- وہ جب چاہے اسے بدل دیتا ہے- - انسان کو ہمیشہ اپنی اوقات میں رہنا چاہیے اور اللہ کے بعد صرف اپنے ہی قوت بازو پر بھروسا کرنا چاہیے- - زرا سی طاقت ملتے ہی کم ظرف کی طرح بے جا اچھل کود اور اکڑفوں نفرت کو پھیلانے کا سبب بنتی ہے جس سے آخر کارنقصان ہی ہوتا ہے-
  4. sex section band kiye ja sakte hey lakin pardes ko continue rehna chahye aur tumam members k liye open rakhna chahe ta ke forum ko paid members mil sake
  5. وہ نوکرانی نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری ماں تھی کبھی یوں ہوتا ہے کہ وقت اور آدمی چلتے چلتے بہت آگے نکل جاتے ہیں مگر زندگی اور احساسِ زندگی بہت پیچھے رہ جاتے ہیں اور ایسا عموماً کسی اپنے کے کھو جانے پر ہوتا ہے۔۔۔ ایک دن میں اور زاہد صاحب آفس کینٹین پر بیٹھے چائے پی رہے تھے کہ میں نے ان کے ہمہ وقت کے بجھے بجھے سے رویے کی وجہ پوچھی۔ وہ کہنے لگے ’’مجھے آج مرے ہوئے تین سال ہو گئے‘‘میں نے نظریں اٹھا کر ان کی آنکھوں میں دیکھا جہاں اس جملے کے ساتھ ہی دنیا بھر کی نقاہت اتر آئی تھی۔۔۔ پھر کہنے لگے ’’میں ہمیشہ سے بد تمیز رہا ہوں۔ بچپن میں سکول جاتے ہوئے ضد، کھانا کھاتے ہوئے نخرے، وہ نہیں یہ کھانا ہے، یہ نہیں وہ کھانا ہے۔۔۔ مجھے نہیں یاد کہ پانچویں کلاس تک میں نے اپنے ہاتھ سے نہایا، کھانا کھایا، کپڑے پہنے یا جوتوں کے تسمے بند کیے ہوں۔ باپ کا تو مجھے صرف نام ہی ملا۔ نہ کبھی اس کی صورت دیکھی اور نہ پیار۔ بھائی کا سہارا کیا ہوتا ہے اور بہن کی محبت کیا ہوتی ہے کچھ معلوم نہیں۔ پرائمری، مڈل اور پھر میٹرک تک یہی عادت رہی کہ رات کو سونے سے پہلے کتابیں، کاپیاں، بستہ غرض تمام چیزیں ادھر ادھر بکھری چھوڑ کر سو جاتا تھا مگر صبح آنکھ کھلتے ہی دیکھتا کہ تمام چیزیں بہت سلیقے سے بستے میں پڑی ہیں اور بستہ بڑی نفاست سے میز پر پڑا ہے۔ مجھے لاکھ بار کہا جاتا کہ دودھ پی کر سونا مگر میں نہیں پیتا تھا۔ لیکن جب صبح اٹھتا تولب شیریں اور منھ کا ذائقہ بدلا ہوتا۔ پہلے پہل تو پتہ نہیں چلتا تھا مگر آہستہ آہستہ پتہ چل گیا کہ رات کو نیند میں ہی دودھ پلا دیا جاتا ہے۔ رات کو کبھی آنکھ کھلتی تو دیکھتا کہ بارش ہو رہی ہے اور مجھ پر کمبل ڈال دیا گیا ہے کہ سردی نہ لگے۔ مجھے ہمیشہ گھر میں دو ہی چیزوں سے چڑ رہی۔۔۔ ایک 11 سے 13 گھنٹے تک ہاتھ سے چلائی جانے والی سلائی مشین سےاور دوسری روٹی کے کناروں سے کہ ان پر اکثر گھی لگنے سے رہ جاتا تھا مگر روٹی کے وہ سوکھے ٹکڑے جو میں اتار دیتا تھا نہ تو کبھی گھر سے باہر فروخت ہوتے دیکھے اور نہ ہی کوڑا دان میں کبھی نظر آئے۔ اور جب بھی مجھے پیسے چاہیے ہوتے تو میں اسی سلائی مشین کا رخ کرتا جس سے مجھے چڑ تھی۔ جب بھی مجھے کبھی معمول سے ہٹ کر زیادہ پیسوں کی ضرورت ہوتی تو دیکھتا کہ گھر میں سلائی مشین کے چلنے دورانیہ 16 گھنٹے تک جا پہنچا ہے۔ مجھے یاد ہے کالج میں داخلہ کے وقت مجھے 1500 روپیہ چاہیے تھا، میں نے گھر آ کر بتا دیا۔ اُسی رات 2 بجے کے قریب میری آنکھ کھلی تو گھر کے برآمدے میں کچھ کھٹ پٹ ہوتی محسوس ہوئی ذرا مزید غور کرنے پر یہ بھی محسوس ہوا کہ جیسے کوئی گھٹی گھٹی سسکیوں کے ساتھ رو رہا ہو۔ چپکے سے برآمدے میں جا کر دیکھا تو موٹے شیشے کا چشمہ لگائے میری ماں جانے کب مشین میں دھاگہ ڈالنے کی مسلسل کوشش کر رہی ہے اور ساتھ ساتھ آنسو بھی گر رہے ہیں۔ میں نے پوچھا: کیا کر رہی ہے ماں؟؟؟ ماں نے چونک کر میری طرف دیکھا اور جلدی سے آنسو صاف کرتے ہوئےاور چہرے پر مسکراہٹ سجاتے ہوئے بالکل صاف آواز میں کہنے لگی۔۔۔ وہ سامنے والی ثریا کے بھائی کی شادی ہے تو اس نے کہا کہ صبح تک دو سوٹ سلائی کردو اس لئے بیٹھی ہوں لیکن دھاگا سوئی میں نہیں ڈل رہا۔۔۔ اس دن مجھے ماں کی حالت اور آنسو دیکھ کر احساس ہوا کہ مجھے کوئی چھوٹا موٹا کام کرنا چاہیے۔۔۔ میں مناسب کام بھی ڈھونڈتا رہا اور پڑھتا بھی رہا۔ اُدھر ایف۔اے مکمل ہوا اور ادھر آفس میں کام مل گیا۔ میں نے گھر جا کر ماں کو بتایا تو وہ خوشی سے نہال ہوگئی۔ فوری شکر پارے لا کر محلے میں بانٹے۔ ایک دن میں کام سے گھر آ کر لیٹ گیا۔ تھوڑی تھکاوٹ ہو رہی تھی۔ پاؤں چارپائی سے لٹکائے ہی سو گیا۔ جب اٹھا تو دیکھا کہ خلاف معمول آج نہ جوتے میرے پاؤں سے اترے تھے اور نہ ہی کھانا بنا تھا۔ ماں کو آواز دی: ’’ماں، ماں ، ماں اٹھ بھوک لگی ہے، ماں ں ں ں‘‘ چیخ چیخ کر رویا، ہزار منتیں او ر ترلے کیے مگر شاید ماں اب کی بار اٹھنے کے لئے نہیں سوئی تھی۔ ماں کے بعد وہ گھر چھوڑ دیا۔ قبرستان لگتا تھا۔ ادھر دیارِ غیر میں آ کر میں اپنا سارا کام خود کرتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ میں نے کبھی جس کی خدمت نہ کی اور نہ کبھی آسائش و سکوں دیا ’’وہ میری ماں تھی نوکرانی نہیں تھی‘‘ یہ کہتے ہوئے زاہد کے دو موٹے موٹے آنسو رخساروں پر بہہ گئے۔ اللہ تعالیٰ میرے اور جس کے بھی والدین حیات ہیں سب کے والدین کو ایمان و صحت کے ساتھ خوش رکھے۔ اور جن کے والدین وفات پا گئے اللہ تعالی ان کو صبر دے اور ان کے والدین کی مغفرت فرمائے۔ آمین نوٹ ! یہ مضمون انٹر نیٹ سے لیا گیا ہے۔
  6. اب ایسی بھی بات نہیں ہے Welcom back k liye thanks
  7. جن کی مائیں ہیں خوش نصیب ہیں وہ لوگ
  8. Pardes only My favorite story is Pardes and i want to read it in ramzan other forum should be closed as per our past routine
  9. زبردست۔ کیا حسین داستان عروج ہیں۔ نہایت ہی ولولہ انگیز اور جوش دلا دینے والی۔
  10. ٹائی ٹینک بنانے والے تھامس اینڈیو نے ایک صحافی سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا تھا کہ اس جہاز کو تو خدا بھی نہیں ڈبو سکتا ۔ پھر اس جہاز کا جو حشر ہوا وہ سب کو معلوم ہے برازيل کے علاقے Campina ۔ (سن 2005 ء) ميں کچھ شرابی دوستوں کا گروپ سير كو جار ہا تهاتب ان ميں سے ايك لڑکی کى ماں نے فكر مند ہوتے ہوئےبيٹی كاہاتھ پکڑكرکہا ("جاؤ ، خدا تمہارے ساتھ ہے تمہاري حفاظت کرے ) لڑکی نے جواب ديا ( اگر خدا ہمارے ساتھ سفر کرنا چاہتا ھے تو اس كيلئے گاڑی کے اندر كوئى جگہ نہيں رہى صرف گاڑی کی ڈگي ميں جگہ مل سکتی ہے..) ان کے جانےکے كچھ ہى گھنٹے بعد خبرملى كہ ایک خوفناك حادثے میں وہ سب کے سب لوگ ہلاك ہو گئے ۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ گاڑی کے پچھلے حصے کو نقصان نہیں پہنچا تھا مارلين (ڈاؤن مونرو) كى ايک پارٹی ميں جب ايک عملی كام کے لئے مبلغين ميں سے ايک نے کہا (کہ خدا مجھے تمہارے پاس بھيجا ہے) تب اس نے جواب ديا اور خدا سے يہی کہو کہ (مجهے اس ہفتے اس كى ضرورت نہيں ہے) اس بات کے کہنے کے ايک ہفتے بعد ہی وہ اسی گھر میں مر گئی برازیل کےالیکشن میں ایک امید وار نے ایک انٹرویو میں کہا اگر مجھے پچاس ہزار ووٹ مل جائیں تو مجھے خدا بھی نہیں ہرا سکتا اسے پچاس ہزار ووٹ مل گئے لیکن حلف اٹھانے سے پہلے ہی اس کی موت ہوگئی بے شک خدا بہت رحیم اور کریم ہے لیکن کبھی کبھی کسی کے تکبر پر اسکی پکڑ کرکے اسے دنیا کے لیے عبرت کا نشان بھی بنا دیتا ہے ۔ کبھی تکبر کے بول نہ بولیں کیونکہ یہ ایسا گناہ ہے جس پر کبھی کبھی فوراََ بھی سزا مل جاتی ہے ۔
  11. بہت زبردست شئیرنگ ہے - حقیقت میں انسان بہت ہی غلط فہمی کا شکار ہے نہ بس میں زندگی اس کے نہ قابو موت پر اس کا مگر انسان پھر بھی کب خدا ہونے سے ڈرتا ہے --------------------- یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.