Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 15/05/16 in all areas

  1. کہتے ہیں محنت کبھی ضائع نہیں ہوتی ۔اس بات سے کسی کو انکار نہیں ۔مگر محنت کے ساتھ ساتھ مستقل مزاجی کی بھی بڑی ضرورت ہوتی ہے۔ایسی ہی کچھ کمپنیوں اور انسانوں کی داستاں اس تھریڈ میں شیئر کی جائے گی۔جنہوں نے ہر قسم کی مشکلات کے باوجود محنت سے کامیابی کا سفر طے کیا۔
  2. اس نوجوان نے ایک مسافر کو ریلوے اسٹیشن پر دیکھا جو بنچ پر بیٹھا تھا۔ اس کے چہرے پر پریشانی کے آثار صاف پڑھے جا سکتے تھے۔ کافی وقت گزر گیا تھا لیکن وہ ایک حالت پر بے حس وحرکت بیٹھا رہا جیسے اس میں جان نہ ہو۔ اس کی یہ حالت اس نوجوان سے برداشت نہ ہوئی۔ اس نے مسافر کے پاس جا کر پریشانی کی وجہ پوچھی۔ وہ اس کے چہرے کو سرخ اور سوجھی آنکھوں سے تکنے لگا۔ وہ اسے اپنی پریشانی اور تکلیف بتانے سے گریز کر رہا تھا لیکن اس کے بار بار اصرار پر وہ اپنی بپتا سنانے لگا۔ وہ اپنے شہر سے یہاں گھڑیاں (Watches) فروخت کرنے لایا تھا لیکن وہ بِک نہ پائیں اور اب اس کے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ ان کو بیچ کر جائے۔ اگر ان کو واپس گھر لے جاتا ہے تو اس کا نقصان ہو گا۔ اس لیے پریشان اور غمگین بیٹھا تھا۔ اس نوجوان نے لمحہ بھر کے لیے تاخیر نہ کی اور اس غمزدہ مسافر سے ہمدردی کے طور پر وہ گھڑیاں وغیرہ خرید لیں۔ یہ ’’ہمدردی‘‘ اس نوجوان کی زندگی بدلنے کے لیے کافی ہوگئی۔ یہ نوجوان رچرڈ ویرن سیئرز تھا، جو بعد میں ایک بہترین منیجر، بزنس مین اور سیئرز کمپنی کا بانی بنا۔ یہ امریکا کی چوتھی بڑی ڈیپارٹمنٹ اسٹور کمپنی ہے، جو ریٹیل سیلز کا کام کرتی ہے۔ 2013ء میں اس نے اپنے سب سے بڑیحریف کمپنی کو آمدنی کے میدان میں مات دی۔ 1973ء میں اس کمپنی نے ایک نیا ہیڈ کوارٹر میں کھولا۔ یہ ٹاور 108 اسٹوری پر مشتمل ہے، جس کی بلندی 1451 فٹ ہے۔ 1998ء تک یہ دنیا کی بلند ترین عمارت تھی۔ رچرڈ ویرین سیئرز 7 دسمبر 1863ء میں منسوٹا میں پیدا ہوا۔ اس کا والد جیمر ویرن ایک لوہار تھا، جو چھکڑے اور وینگنیں بناتا تھا۔ رچرڈ کو اپنے باپ کے کام سے لگاؤ نہ تھا۔ اس نے اپنی پڑھائی کی طرف توجہ دی اور یہ پڑھائی کو ترجیح اور اہمیت دیتا تھا۔ اس کے باپ نے کئی بار کوشش بھی کی کہ وہ اس کا پیشہ سیکھے، تاکہ وہ اپنی روزی کمانے کے قابل ہو، لیکن اس کی ساری تگ ودو رچرڈ میں کوئی تبدیلی نہ لا سکی۔ 1870ء میں رچرڈ کا والد جیمز نے اپنی فیملی کے ساتھ اسپرنگ ویلی منسوٹا میں رہائش اختیار کرلی۔ بڑھتی مصروفیت اور بیٹے کی بزنس میں عدم دلچسپی نے 1975ء میں جیمز کو مجبور کیا اور اس نے اپنی دکان بیچ ڈالی۔ کچھ عرصہ تو ان پیسوں سے گھر کا چولھا جلتا رہا، لیکن وہ اس سے کب تک ٹھنڈا نہ ہوتا۔ گھر میں فاقے ہونے لگے۔ رچرڈ بھی پریشان اور فکرمند رہنے لگا کہ اس کی وجہ سے ابو نے دکان فروخت کردی ہے۔ اس نے گھر کا چولھا جلتے رکھنے کے لیے روزگار کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ اس عرصے میں یہ اپنی تعلیم مکمل کر چکا تھا۔ اس نے روزی کے لیے ہاتھ پاؤں مارے تو آخر کار اسے ایک ریلوے دفتر میں بطور ٹیلی گراف آپریٹر کے ملازمت مل گئی۔ یہ 1880ء کی بات ہے جب رچرڈ کی عمر صرف 17 تھی اور اس پر ذمے داری کا بار ڈال دیا گیا۔ جب آپ کے ناتواں کندھوں پر ذمہ داری کا بوجھ لاد دیا جاتا ہے تو آپ کے چودہ طبق روشن ہو جاتے ہیں۔ آپ کی سوئی ہوئی صلاحیتیں جاگ اٹھتی ہیں۔ لڑکپن کی شرارتیں اور بے فکری چھوٹ جاتی ہے۔ ایک دم انسان بڑوں کی طرح سمجھدار اور عقل مند نظر آنے لگتا ہے۔ چہرے پر سنجیدگی آجاتی ہے۔ گفتار اور کردار دونوں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ سوچنے کا زاویہ مختلف ہو جاتا ہے۔ 1986ء میں ایسا واقعہ پیش آیا جس نے ہمیشہ کے لیے رچرڈ کا راستہ بدل کے رکھ دیا۔ ایسا ہوا کہ ایک گھڑیوں کی شپمنٹ جو شکاگو سے آئی تھی۔ اسے ایک مقامی ریٹیلر ایڈوارڈ نے لینے سے انکار کر دیا، جس کی وجہ سے وہ تا جر مسافر پریشان تھا۔ رچرڈ نے اس کی پریشانی دور کرنے کی ٹھان لی تھی۔ اتنی بڑی شپمنٹ خریدنا دل گردے کا کام تھا، کیونکہ رچرڈ کو اس کا ذرا برابر تجربہ نہ تھا۔ رچرڈ نے اس شپمنٹ کو خرید کر ایک دوسرے ریلوے ملازم کو بیچ دیا۔ اس سے معقول نفع حاصل ہوا۔ یہ کام رچرڈ کو بہت اچھا لگا۔ اس نے ریلوے ملازمت کے ساتھ ساتھ اپنا بزنس شروع کر دیا۔ گھڑیوں کا کاروبار خوب چل نکلا۔ رچرڈ نے دوسرے ریلوے ملازمین کو بھی اپنے اس بزنس میں شامل کر لیا۔ ریلوے کا مزید جال بچھنے سے مسافر بھی بڑھتے گئے۔ اب انہیں سفر کرتے ہوئے وقت کے بارے میں مشکل ہوتی تھی۔ انہوں نے اس کے حل کے لیے گھڑیاں خریدنی شروع کر دیں۔ اس طرح دیہات سے آنے والے کسان بھی اسے شوق سے خریدتے۔ اس طرح ریلوے ملازمین کو راہ گیروں اور مسافروں کا گھڑیاں بیچنے میں کوئی مشکل پیش نہ آتی تھی۔ صرف چھ ماہ میں رچرڈ 5 ہزار ڈالر کمانے میں کامیا ب ہوا۔ اس سے اس کا اعتماد مزید بڑھا اور اس نے آر ڈبلیو سیئرز واچ کمپنی کی بنیاد رکھی۔ اس نے اپنے بزنس کی ایڈورٹائزنگ شروع کر دی۔ اس نے ایسے گاہکوں کو ہدف بنایا جو اس کی گھڑیاں خرید سکتے تھے۔ انہیں یہ خط لکھتا۔ اس کے ساتھ مختلف دیہاتوں میں جاکر لوگوں کو اس کے فوائد گنواتا اور انہیں گھڑیاں خریدنے کا کہتا۔ رچرڈ ایک اچھا لکھنے والا اور بولنے والا تھا۔ یہ خود اشتہار کے لیے الفاظ کا چناؤ کرتا۔ بھرے مجمع میں تقریریں کرتا اور انہیں ڈاک کے ذریعے گھڑیاں منگوانے کا کہتا۔ 1887ء میں رچرڈ نے شکاگو کا رخ کیا اور یہیں اپنی کمپنی لے آیا۔ یہاں آکر اس نے ایک شخص ملازم رکھا جو گھڑیوں وغیرہ کی رپیئرنگ کرتا تھا۔ رچرڈ کا کہنا ہے کہ جب آپ اپنی پروڈکٹ بیچتے ہیں تو کسٹمر کو پروڈکٹ میں کسی خرابی یا مشکل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اس کے حل کا انتظام ہونا چاہیے۔ میں نے اس لیے ملازم رکھا کہ میرے گاہک کو جب میری پروڈکٹ میں کوئی مسئلہ پیش آتا ہے تو وہ مجھ سے رابطہ کرتا ہے۔ میں اس کا مسئلہ حل کرنے کی کوشش کر تا ہوں۔ اس طرح وہ کسٹمر میرا گرویدہ ہو جاتا ہے۔
  3. یونیورسٹی کی فیس ادا نہ کرسکنے والا فریڈ ڈیلوکا سب وے کمپنی کا بانی کیسے بنا مقررہ تاریخ پر فیس جمع نہ کرانے والوں کو کلاس میں بیٹھنے کی اجازت نہ ہو گی۔‘‘ یہ اعلان ہونے کے بعد میری پریشانی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔ کافی دنوں سے میں اپنی یونیورسٹی فیس کے بارے میں بہت پریشان تھا۔ گھر کے حالات کچھ ایسے نہ تھے کہ میں اپنی بھاری بھر کم فیس کا بوجھ اپنے والدین کے کاندھوں پر ڈال دیتا۔ادھر میرے پاس بھی اس کا بظاہر کوئی ذریعہ نہیں تھا کہ اسے مقررہ دن پر ادا کرپاتا۔مجھے ڈاکٹر بننے کا بہت زیادہ شوق تھا، لیکن اب مجھے خطرہ محسوس ہورہا تھا کہ کہیں میرا ڈاکٹری کا خواب چکنا چور نہ ہو جائے۔ میں ایک دن پریشانی کے عالم میں اسکول پہنچا تو نوٹس بورڈ پر آویزاں اعلان پڑھ کر مجھے شدید خطرہ لاحق ہو گیا۔ فیس ادا کرنے کا دن قریب آ چکا تھا اور میری جیب میں دھیلا تک نہ تھا۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کروں۔ میرا ضمیر بھی کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی اجازت نہیں دیتا تھا۔گھر میں غربت کا ڈیرہ تھا۔ اس لیے میں اپنا تعلیمی خرچ پورا کرنے کے لیے ایک اسٹور پر کام کرتا تھا۔ وہاں سے ملنے والی مزدوری سے بمشکل گزارا ہو رہا تھا۔ یونیورسٹی کی فیس زیادہ تھی، جو میری استطاعت سے باہر تھی۔ میں پارٹ ٹائم کی جاب سے اسے پورا نہیں کر سکتا تھا۔ اپنی پریشانی کو کم کرنے کے لیے اپنے ایک پرانے اور دیرینہ دوست کے پاس چلا گیا کہ اس سے کوئی مشورہ یا بات وغیرہ کر وں، جو میری پریشانی کو ہلکا کر دے اور اس مشکل سے نکلنے کی کوئی سبیل پیدا ہو۔ وہ منظر آج بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے۔ اس دن گرم لُوچل رہی تھی۔ چلچلاتی دھوپ اور دوپہر کا وقت۔ میں اپنے دوست کے گھر میں موجود تھا۔ میرے چہرے پر پریشانی کے آثار نمایاں تھے۔ میرے دوست پیٹربک نے مجھے دیکھا تو میری پریشانی بھانپ گیا۔ میں نے ساری صورت حال بتادی۔ اس کے بعد اس نے مجھے مشورہ دیا کہ ’’آپ ایک سینڈوچ شاپ کھول لیں۔‘‘ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا،یہ جواب میری توقع سے بہت مختلف تھا۔ میں گہری سوچ میں پڑ گیا۔ پیٹر نے میری ہمت یوں بندھائی کہ اگر میں یہ بزنس شروع کروں تو وہ بھی میرا پارٹنر ہو گا۔ میرے لیے یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل تھا، میرے پاس تو یونیورسٹی کی فیس دینے کے لیے کچھ نہ تھا۔ بزنس کے لیے تو سرمایہ چاہیے، وہ میں کہاں سے لاتا؟ یہ مسئلہ صرف میرے ساتھ نہ تھا، بلکہ دنیا میں جو شخص بھی بزنس کا ارادہ کرتا ہے اسے مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دوسروں کی نوکری چاکری کرتے کرتے میں بھی تھک چکا تھا۔ اب اپنا بزنس شروع کرنے کی خواہش انگڑائی لینے لگی۔ اس تمنا کو آخر پیٹر ہی نے پورا کر دیا۔ اس نے بزنس شروع کرنے کے لیے ایک ہزار ڈالر بطورِ قرض دیے۔میں نے اس کا شکریہ ادا کیا۔ اندھے کوکیا چاہیے دو آنکھوں کے سوا۔ ہم دونوں نے مل کر 1965 ء کو برج پورٹ میں ایک سب وے سینڈ وچ شاپ کھول لی۔یہی آگے چل کر دنیا کی نمبر ون کمپنی بنی۔ پہلے سال جہاں سیکھنے کو بہت کچھ ملا، وہاں مشکل حالات کا بھی خوب سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران مجھے احساس ہوا کہ بزنس کے پھیلاؤ کے لیے ایڈورٹائزنگ اور پبلسٹی کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ویزیبلٹی بہت ضروری ہے۔یعنی دکان ایسی جگہ پر ہو، جو دور سے نظر آئے۔ اگلے ہی سال ہم دونوں دوستوں نے دوسرا اسٹور بھی کھول لیا۔ ہم نے ابتدا ہی سے اپنی پروڈکٹ ’’سینڈوچ‘‘ کی کوالٹی پر کوئی سمجھوتہ قبول نہ کیا۔ عمدہ معیار کی وجہ سے دِنوں میں ہمارے گاہک بڑھتے گئے۔ ہماری پروڈکٹ کا شہرہ ہونے لگا۔ اس بڑھتی ہوئی مقبولیت اورہر دلعزیزی کو دیکھ کر میں نے عزم کیا کہ آئندہ 10 سالوں میں 32 اسٹور مزید کھولوں گا۔ اس خواب کو پورا کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ یہاں ایک بات قابلِ غور ہے کہ میں اسی ایک اسٹور کو بھی بڑا کر سکتا تھا، لیکن اس میں کاہگوں کے لیے مسائل تھے۔ وہ ہمارے سینڈ وچ کو پسند کرتے تھے اور اس کے لیے انہیں سفر کی صعوبت بھی اٹھانی پڑتی تھی۔ مجھے یہ بات گوارا نہ تھی۔ اگر آپ بزنس کو ترقی دینا چاہتے ہیں تو اس کے لیے فرنچائزیں کھولیں۔ جب آپ کی ساکھ بن چکی ہوتی ہے تو کسٹمرز اپنے قریبی اسٹور سے آپ کی پروڈکٹ خریدنا پسند کرتے ہیں۔ فاسٹ فوڈز کے بزنس میں ضروری ہے کہ آپ مختلف جگہوں اور شہروں میں اپنی فرنچائز اور اسٹورز کھولیں۔ اتنی بات ضرور یاد رکھیں کہ اپنی پروڈکٹ اور کسٹمر سروس کی کوالٹی اور معیار میں رتی برابر فرق نہ آنے دیں، ورنہ آپ کا بزنس پانی کا بُلبُلہ ثابت ہو گا۔ کون جانتا تھا کہ فریڈ ڈیلوکا ڈاکٹر بن کر لوگوں کا علاج کرنے کے بجائے ان کی غذا کا سامان کرے گا۔ آج میری سب وےکمپنی 106 ممالک میں 41 ہزار 827 ریسٹورنٹ کے ساتھ موجود ہے۔ یہ دنیا میں فاسٹ فوڈز کی نمبر ون کمپنی ہے۔
  4. خطروں سے کھیلنے والا شیلڈن جو مسلسل ناکامیوں کے بعد 51ویں بزنس میں کامیاب ہوگیا جمعرات کا دن تھا۔ یونیورسٹی میں صبح سے ہی چہل پہل شروع ہو چکی تھی۔ ایک لان میں اسٹیج سجا ہوا تھا۔ خوبصورت شامیانے لگے ہوئے تھے۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ طلبہ کی ٹولیاں جگہ جگہ نظر آ رہی تھیں۔ وہ گپ شپ میں مصروف تھے اور بات بات پر قہقہے لگا رہے تھے۔ ان کے چہروں سے خوشی کے آثار صاف دکھائی دے رہے تھے۔وہ خوش اس لیے تھے کہ آج ان سے دنیا کے دسویں امیر ترین شخص نے خطاب کرنا تھا۔ اپنی کامیابی کے راز سے پردہ اٹھانا تھا کہ بارہ سالہ اخبار فروش بچہ کیسے دنیا کا امیر ترین آدمی بن گیا۔ وہ آدمی شیلڈن تھا اور شیلڈن کی کہانی کچھ اس طرح ہے۔ شیلڈن ایڈلسن ایک امریکی بزنس مین ہے۔ جولائی 2014ء فوربس میگزین کے مطابق اس کے اثاثہ جات 36.4 ارب ڈالرز پر مشتمل ہے۔ اس مالیت کے ساتھ یہ دنیا کا دسواں امیر ترین شخص ہے۔ یہ ایک اسرائیلی اخبار کا مالک بھی ہے بہرحال! صبح 10 بجے وہ لمحہ آن پہنچا، جس کے لیے یہ سارے انتظامات کیے گئے تھے۔ شیلڈن مائیک پر آئے اور یونیورسٹی کے طلبہ اور پروفیسر سے خطاب کرنے لگے۔ 90 منٹ کی تقریر تھی۔ آخر پر سوالات کی نشست ہوئی۔ ایک طالب نے سوال کیا: ’’آپ کی کامیابی کا راز کیا ہے؟‘‘ ’’میں اس کے بارے میں کبھی جان نہ سکا‘‘ شیلڈن نے کہا۔ اس کا یہ جواب طلبہ کے لیے انوکھا اور حیران کن تھا۔ ایک اور طالب علم نے ہمت کرتے ہوئے کہا: ’’یہ تو ہو نہیں سکتا کہ آپ ترقی کی منزلیں طے کرتے چلے جائیں، اور آپ کو کامیابی کے اسباب کا علم تک نہ ہو۔‘‘ اس تبصرے پر شیلڈن ہنس پڑا اور کہنے لگا کہ میری کامیابی کے راز اور اسباب بہت ہو سکتے ہیں لیکن جس کو میں اپنی ترقی کا راز سمجھتا ہوں وہ چار حرف پر مشتمل ایک لفظ ہے۔ رسک یعنی خطرات میں کود جانا۔ شیلڈن 14 اگست 1933 ء کو ایک غریب خاندان میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ ایک ٹیکسی ڈرائیور تھا۔ شیلڈن کا بچپن ہی والدین کے لیے حیران کن تھا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک ایسا بچہ عطا کیا تھا جو بہت ساری خصوصیات کا مالک تھا۔ حوصلہ مندی، بہادری اور خطرات میں کود جانا اس میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ اس سے بڑھ کر یہ خوبی تھی کہ ناکامی سے گھبرانے کے بجائے اس سے مزید سیکھتا اور آگے بڑھتا چلا جاتا۔ 12 سال کی عمر میں شیلڈن نے اپنا بزنس کیرئیر شروع کیا۔ اس کے پاس اتنے پیسے نہ تھے کہ وہ کوئی کاروبار کر سکتا۔ اس مشکل سے نکلنے کے لیے اس نے اپنے چچا سے دو سو ڈالر قرض لیے اور اس سے اخبار فروشی کا لائسنس خریدا۔ یہ صبح سویرے اٹھتا اور سائیکل پر اخبار لاد کر مختلف گھروں تک پہنچاتا اور پھر اسکول جاتا۔ یہ کام چار سال باقاعدگی سے چلتا رہا،لیکن اس کام میں ترقی کے آثار نظر نہیں آ رہے تھے۔ اس وجہ سے ٹافیاں بنانے والی مشین کی خرید و فروخت کا بزنس شروع کر لیا۔ اس دوران شیلڈن کو احساس ہوا کہ بزنس سے متعلق تعلیم حاصل کرنی چاہیے، کیونکہ رسمی تعلیم عملی زندگی میں زیادہ ساتھ نہیں دے پاتی۔ شیلڈن ایک ٹریڈ اسکول میں بڑھنے لگا۔ ابھی تعلیم مکمل نہیں ہو پائی تھی کہ فوج میں بھرتی ہو گیا۔ کسی وجہ سے یہ فوج سے ڈسچارج کر دیا گیا۔ اس کے بعد سٹی کالج آف نیو یارک میں پڑھنے لگا۔ بزنس ’’شیلڈن‘‘ کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا تھا۔ اس لیے یہ تعلیم کے ساتھ پرس اور بیگ وغیرہ فروخت کرنے لگا۔ شیلڈن کے ساتھ ایک مسئلہ تھا جسے آپ اس کی خوبی یا عیب کہہ سکتے ہیں۔ یہ جس چیز میں نفع دیکھتا تو پہلے کام کو چھوڑ کر اس کی طرف لپک پڑتا۔ اس کے بعد یہ کیمیکل اسپرے فروخت کرنے لگا۔ ۔1960 ء میں اس نے ایک چارٹر ٹورز بزنس شروع کیا۔ بہت سارے خیر خواہوں اور دوستوں نے اسے اس بزنس میں کودنے سے منع کیا لیکن یہ ہمیشہ رسک لیتا اور روکنے کے باوجود رکا نہیں کرتا تھا۔ ٹورزم (سیاحت) کے بزنس سے پہلے ہر کام میں اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا، لیکن شیلڈن اس کو ناکامی نہیں کہتا تھا۔ اس کے مطابق یہ ایک رکاوٹ تھی جو اس کے راستے میں آئی اور ہٹ گئی۔ یہ بزنس اس کے لیے ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔ اب اس کی کاروباری زندگی ایک نئے ڈگر پر چل پڑی۔ یہ جلد ہی لاکھوں مالیت کا مالک بن گیا۔ اگر شیلڈن کی 30 سالہ زندگی کا جائزہ لیا جائے تو اس میں بے شمار اتار چڑھاؤ دکھائی دیتے ہیں۔ قدم قدم پر ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا، لیکن اس نے ہمت نہ ہاری۔ شیلڈن نے اپنی کاروباری زندگی میں خود سے 50 بزنس کیے۔ اگر آپ بھی بزنس کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو رسک لینا پڑے گا۔ کاروباری سفر خطرات سے پُر ہوتا ہے۔اس میں کامیابی صرف ان کے قدم چومتی ہے جو رسک لیتے ہیں۔ جتنا آپ گُڑ ڈالیں، اتنا میٹھا ہوگا۔
  5. موچی سے کمپنی مالک تک ٹامس باٹا کی کامیابی کا سفر باٹا کمپنی اس وقت دنیا کا سب سے بڑا جفت ساز ادارہ ہے۔ اس کے براہ راست ملازمین کی تعداد تقریبا 90 ہزار اور بالواسطہ اس کے علاوہ ہے۔ ٹامس باٹا کی کامیابی کا سفر ایک مزدور کے ایک فقرے سے شروع ہوا اور اس کے بعد وہ کسی جگہ رکا نہیں۔ وہ مزدور اب بوڑھا ہو چکا تھا۔ واجبی سی تعلیم تھی، لیکن تجربات سے مالامال تھا۔ وہ زندگی کے پُرپیچ راستوں سے خوب واقف تھا۔ یہ اسی بوڑھے مزدور کے تجربات سے بھرپور فقرہ تھا جس نے اسے عام موچی سے ملٹی نیشنل کمپنی کا مالک بنا دیا، جس کا آج بھی شہرہ ہے۔ ٹامس نے موچی کا کام شروع کیا۔ اس کے لیے ایک دکان کھول لی اور ساتھ مزدور بھی رکھ لیے۔ یہ چند مہینے دکان چلا پایا تھا، لیکن اسے ہر قدم پر ناکامی ہو رہی تھی۔ لوگ اس کے بنائے ہوئے جوتے نہیں خریدتے تھے اور ملازمین بھی اس سے خوش نہ تھے۔ ٹامس ہمت ہار کے گھر بیٹھ گیا۔ دکان پر جانا چھوڑ دیا اور پریشان سا رہنے لگا۔ انہی دنوں ایک شناسا بوڑھے مزدور سے ملاقات ہوئی۔ اس نے اس کے چہرے سے پریشانی بھانپ لی اور وجہ پوچھی تو ٹامس نے ساری صورت حال بتا دی۔ بوڑھے مزدور نے کہا: ’’بیٹا! ہمیشہ تم یہ خیال کیا کرو کہ میری پروڈکٹ مہنگی ہے اور مزدوروں کو ان کی محنت سے کم تنخواہ دے رہا ہوں، اس طرح آپ یہ کوشش کرتے رہیں گے کہ کس طرح میری پروڈکٹ سستی ہو اور میرے مزدوروں کو زیادہ تنخواہ ملے۔‘‘ یہ بات تیر کی طرح ٹامس کے دل کو لگی اور اس نے ہمیشہ کے لیے اس پر عمل کرنے کی ٹھان لی۔ ٹامس باٹا ’’باٹا شوز کمپنی‘‘ کا بانی ہے۔ اس نے کمپنی اپنے خاندان کے نام پر بنائی۔ اس کا خاندان ابتداء میں چیکوسلواکیا میں رہتا تھا۔ جفت سازی ان کا آبائی پیشہ ہے جو 1620ء سے ان کے ہاں چلا آ رہا ہے۔ ٹامس نے 24 اگست 1894ء میں پہلی بار جوتے کا کارخانہ لگایا۔ یہی کارخانہ بڑھتے بڑھتے ایک ملٹی نیشنل کمپنی کی صورت اختیار کر گیا۔ جس کا کاروبار 114 ممالک میں پھیلا ہوا ہے۔ باٹا کمپنی اس وقت دنیا کا سب سے بڑا جفت ساز ادارہ ہے۔ اس کے براہ راست ملازمین کی تعداد تقریبا 90 ہزار اور بالواسطہ اس کے علاوہ ہے۔ جفت سازی آبائی پیشہ ہونے کی وجہ سے ٹامس کے لیے آسان تھا۔ جس کی وجہ سے اس نے اسی کو اپنایا۔ تقریباً 3 سو سال سے یہ کام ان کے خاندان میں چلا آ رہا تھا لیکن کسی نے اس میں ترقی کی طرف توجہ نہ دی اور اس کاروبار کو پھیلانے کی کوشش بھی نہ کی جیسا کہ ہمارے ہاں ہوتا ہے۔ باپ دادا سے ایک دکان چلی آ رہی ہے۔ اولاد میں وراثت کے طور پر تقسیم ہو جاتی ہے۔ وہ دکان بڑی ہونے کے بجائے مزید ٹکڑوں میں بٹ جاتی ہے، لیکن کسی کو یہ خیال نہیں آتا کہ اس کاروبار کو پھیلایا اور بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔ ٹامس نے خاندانی روایت کو توڑنے کے لیے کارخانے کی بنیاد رکھی اور اپنے ساتھ 10ملازمین بھی رکھ لیے۔ ایک سال یہ کام چلا ہو گا کہ ٹامس قرض کے بوجھ تلے دبنے لگا اور مالی پریشانیوں نے اسے آگھیرا۔ اس دوران ایک شناسا بوڑھے مزدور سے ملاقات ہوئی، جس نے اس کی مشکل ہمیشہ کے لیے حل کر دی۔ ٹامس نے چمڑے کے جوتے بنانے کے ساتھ موٹے کپڑے سے جوتے تیار کرنے لگا جو سستے پڑتے تھے اور لوگوں نے بھی انہیں بہت پسند کیا۔ ان جوتوں کی مقبولیت اور مانگ بڑھنے سے ملازمین کی تعداد 10 سے 50 ہو گئی۔ ٹامس نے اپنی پروڈکٹ کے سستے ہونے کی طرف توجہ دی۔ اس طرح ملازمین کی بھی اجرت کا خیال رکھا۔ٹامس نے باٹا پرائس بھی متعارف کروائی۔ ان کی پروڈکٹ کی قیمت 9 کے ہندسے پر ختم ہوتی ہے۔ کسی چیز کی قیمت 99 یا 19.99 روپے ہو گی، جو دیکھنے میں 100 اور 20 سے اچھی لگتی ہے حالانکہ ایک عدد کا فرق پڑتا ہے۔ چار سال میں باٹا شوز کمپنی کا کام اس حد تک بڑھ گیا کہ اب مشینوں کی ضرورت پڑ گئی کیونکہ اس کے علاوہ ڈیمانڈ پوری نہیں کی جا سکتی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ اب آٹومیشن کا دور آگیا ہے۔ مشینوں اور ٹیکنالوجی سے آپ کم وقت اور قلیل خرچ سے زیادہ پروڈکٹ بنا سکتے اور منافع کما سکتے ہیں۔ ٹامس باٹا ہمیشہ ایک تاجر کی طرح سوچتا رہتا تھا کہ اپنے کاروبار کو بڑھانے کے لیے وہ کیا کر سکتا ہے۔ وہ کاروباری حضرات سے مشاورت بھی کرتا۔ 1904ء میں اس نے اپنی کمپنی میں مکینکل پروڈکٹ تکنیک متعارف کروائی۔ اس طرح جلد ہی باٹا شوز کمپنی یورپ کی پہلی بڑی جفت ساز کمپنی بن گئی۔ 1912ء میں اس کی کمپنی کے ملازمین 600 ہو چکے تھے جو اس کی ترقی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ 1914ء میں پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی۔یہ ٹامس کے لیے قرعہ فال ثابت ہوئی۔ اس کے پاس جرمن فوج کے جوتے بنانے کے آرڈر آنے لگے۔ 1914ء سے لے کر 1918ء تک اسے پہلے سے دس گنا زیادہ ملازمین رکھنے پڑگئے۔ کاروباری دنیا میں کامیابی کے ساتھ پریشانی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ جنگ کے بعد اس کا کاروبار بہت مندا ہو گیا، لیکن اس نے ہمت نہ ہاری۔ 1925ء میں پھر سے بزنس عروج کی طرف بڑھنے لگا۔ ٹامس کی باٹا کمپنی زلین میں تھی۔ اب یہ ایک شہر کی صورت اختیار کر گیا ۔ کمپنی بھی کئی ایکڑ زمین پر پھیل چکی تھی۔ ٹامس باٹا 1932 ء میں 56 سال کی عمر میں جہاز کے ایک حادثے میں فوت ہو گیا۔ وہ خود تو اس دنیا سے چلا گیا، لیکن آج بھی اس کے لگائے ہوئے درخت سے دنیا بھر کے لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔
  6. جھانٹ پھیلائے کیر بیٹھا ہے بوریے پر فقیر بیٹھا ہے پہلے سینے پہ شست باندھی ہے تب نشانے پہ تیر بیٹھا ہے لنڈ تنہا کھڑا ہے محفل میں ہر صغیر و کبیر بیٹھا ہے کیر زاہد ہے یا کوئی مردہ پیش منکر نکیر بیٹھا ہے حلقۂ پشم میں ہے خامۂ مست بیڑیوں میں اسیر بیٹھا ہے
  7. صبح دم ان کو سر بام مسلتے دیکھا گویا کشتی میں سے دریا کو نکلتے دیکھا
  8. میر حسن مرانے کو مرتا رہا مگر مخدوم نے مزے سے مرائی تمام رات

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.