Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 26/04/16 in all areas

  1. یہ ایک اہم موضوع ہے اور اس کے دونوں ہی پہلو ہیں اس میں کیا شک ہے اکہ اچھا برا استعمال ہر چیز کا ہی ہوتا ہے یہی حال سوشل میڈیا کا بھی ہے لیکن جب معاشرہ ہمارے معاشرے کی طرح انحطاط پذیر ہو جاتا ہے تو اس طرح کی چیزوں کا استعمال زیادہ تر منفی ہی ہوتا ہے اوپر دیا گیا نقطۃ نظر یقینا ایک پہلو کی حد تک ٹھیک ہے لیکن کیا کیا جائے جہاں سوشل میڈیا کو لوگوں کی پرائیویٹ لائف برباد کرنے، شریف یا سفید پوش گھرانوں کی لڑکیوں کی پرائیویٹ تصویریں، ویڈیوز ان کی مرضی کے بغیر یا بلیک میلنگ کی مقصد کے لیے اپ لوڈ کرنے کے استعمال کیا جائے جس کے ذریعے کوئی بھی کسی کی بھی عزت اتنی آسانی سے اچھال سکتا ہو اور محفوظ رہ سکتا ہو کہیں تو کوئی قانون یا چیک ہونا چاہیے کیا انٹرنیٹ پر موجود ننگی دیسی ویڈیوز اور سیلفیوں کا سارا مواد لڑکیوں اور لڑکیوں کے خاندانوں کی رضامندگی سے اپ لوڈڈ ہے جو لوگ ایسا مواد اپ لوڈ کرتے ہیں کیسا محسوس کریں گے جب ان کی اپنی خاندان کی لڑکیوں کا مواد کوئی اور اپ لوڈ کرے باقی سائبر کرائم اس کے علاوہ ہیں تو میرے خیال میں اس بات یا قانوں کا یک رخا پہلو نہیں ہے - ریاست میں کوئی بھی چیز شتر بے مہار نہیں ہونی چاہیے
  2. اس تھریڈ میں مختصر ترین حقائق اور قصے پوسٹ کیئے جائیں گے ۔ ایسے حقائق جو حیران کر دینے والے ہوں۔تمام ممبرز بھی اس تھریڈ میں اپنی پوسٹ کر سکتے ہیں۔لیکن پوسٹ صرف اردو میں کی جائے گی۔
  3. ایسی سرگرمی جس میں کمپیوٹرز یا نیٹ ورکس کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے کسی کو ہدف یا مجرمانہ سرگرمیاں کی جائیں یا کمپیوٹر کی دنیا سے جڑی ایسی سرگرمیاں جو یا تو غیرقانونی ہوں یا انہیں مخصوص فریقین کی جانب سے خلاف قانون سمجھا جائے اور ان میں عالمی الیکٹرونک نیٹ ورکس کو استعمال کیا جائے انہیں سائبر کرائم سمجھا جاتا ہے۔ عام لحاظ سے بات کی جائے تو مختلف سطحوں پر سائبر کرائمز کے ذریعے لوگوں کی پرائیویسی کی خلاف ورزی، ہیکنگ، سوشل نیٹ ورکس میں استحصال، معلومات انفراسٹرکچر پر سائبر حملے، سائبر دہشتگردی، مجرمانہ رسائی، فحش پیغامات، ای میلز، دھمکی آمیز پیغامات و ای میلز، ڈیٹا تک غیرقانونی رسائی وغیرہ وغیرہ۔ پاکستان میں کافی تنقید، تجاویز اور ترامیم کے بعد بالاآخر قومی اسمبلی نے پاکستان الیکٹرانک کرائمز بل منظور کر لیا ہے۔مجوزہ قانون کی منظوری کس قدر شفاف تھی اور اس میں قانون سازوں کی کتنی دلچسپی تھی، اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایاجا سکتا ہے کہ 342 ممبران کے ایوان میں سے صرف 30 ممبران حاضر تھے۔اب جبکہ یہ پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں سے منظور ہو چکا ہے، تب بھی یہ تنازعات سے پاک نہیں ہے۔تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر تجویز کی گئی چند سخت ترین سزاؤں اور شقوں میں ردوبدل کی گئی ہے، مگر اب بھی ایسا بہت کچھ ہے جس کا غلط فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، آزادی اظہار اور اختلافِ رائے کو دبانے، اور آگہی کی کمی کی وجہ سے سرزد ہونے والے اقدامات کو طویل قید اور بھاری جرمانے عائد کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔مختلف مراحل میں اس بل پرجو تنقید سب سے زیادہ ہوئی ہے، اس میں یہ بھی ہے کہ بل ان افراد نے تحریر کیا ہے، جو کہ ڈیجیٹل دنیا کی اونچ نیچ اور حقائق سے لاعلم ہیں۔ صرف ایک ٹیکسٹ میسج بھیجنے کی سزا 3 ماہ قید تک قرار پا سکتی ہے۔منفی مقاصد کے لیے ویب سائٹ قائم کرنے پر" تین سال قید اور بھاری جرمانہ۔ منفی مقاصد میں کیا کیا چیزیں شامل ہیں؟اس بات میں کوئی شک نہیں کہ نفرت انگیز تقاریر و بیانات کی اجازت ہرگز نہیں ہونی چاہئے۔لیکن کوئی بھی شخص جو یہ جانتا ہے کہ پاکستان کے ابتدائی سالوں میں اختلافِ رائے کا گلا کس طرح گھونٹا گیا تھا، وہ یہ بھی جانتا ہے کہ مذہب یا فرقے کی بنیاد پر تنازعات پیدا کرنے اور نفرت پھیلانے کا دائرہ کار اتنا وسیع ہے کہ کسی چیز کے نفرت انگیز ہونے یا نہ ہونے کی غلط تشریح بھی آسانی سے کی جا سکتی ہے۔اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ ملک کو سائبر سرگرمیوں کو ضوابط میں لانے کے لیے ایک فریم ورک درکار ہے کیونکہ ہم ایسے ملک میں ہیں جہاں ٹیکنالوجی کا غلط استعمال عسکریت پسندی اور دہشتگردی سے لے کر افراد کی نجی زندگی میں مداخلت، یعنی ذاتی معلومات کی چوری، بلیک میلنگ اور اکاؤنٹ ہیکنگ تک میں کیا جاتا ہے۔یہ قانون ابھی سینیٹ میں جائے گا۔ اس میں موجود مسائل کو ٹھیک کرنے کے لیے ہمارے پاس اب بھی وقت ہے۔ سوشل میڈیا ایک ہی پلیٹ فارم تھا جہاں اپنی رائے کا اظہار کرسکتے تھے مگر اس پر بھی پابندی لگا کر حکومت نے کیا ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ کیونکہ فیس بک اور ٹویٹر ہی ایسا چینل تھا جہاں آپ اپنی مرضی سے کسی پارٹی، گروپ اور نظریے کی حمایت کر سکتے تھے۔ مگر بدقسمتی سے نام انہاد حکمرانوں نے عام لوگوں سے یہ حق چھین لیا ہے۔ عوام کی سوچ، ذہن اور خیالات کے اظہار پر پابندی کی بجائے اس قانون میں مزید ترامیم کرنی چاہئے۔
  4. ہیکنگ اور بلیک میلنگ کے متاثرین کے لیے 7 رہنما نکات پورے خطے میں برقی مواصلات استعمال کرنے میں پاکستان سب سے آگے ہے اور اس کے علاوہ پاکستان میں موبائل انٹرنیٹ سستے ترین داموں دستیاب ہے (تھری جی، فور جی کے نرخ 5 ڈالر فی 10 گیگا بائٹ تک گر چکے ہیں)۔ پاکستان میں 4 کروڑ اسمارٹ فون صارفین میں سے اکثریت انٹرنیٹ کا استعمال کرتی ہے۔ ایک طرف تو یہ اچھی بات ہے مگر دوسری جانب ہمارے درمیان موجود غلط لوگوں کو تیز ترین انٹرنیٹ تک آسان رسائی بھی حاصل ہے، جس سے وہ اپنی کارروائیاں آسانی سے اور بلا خوف و خطر کر سکتے ہیں۔ اور ہمیشہ کی طرح خواتین ہی ان کارروائیوں کا سب سے زیادہ نشانہ بنتی ہیں۔ پہلے کم معاشرتی پابندیاں تھیں کہ اب پاکستانی خواتین کے لیے آن لائن دنیا بھی ایک علاقہ ممنوعہ بنتی جا رہی ہے؟ ویسے کچھ حد تک تو یہ بن بھی چکی ہے۔ غلط لوگوں کا طریقہء واردات بہت سادہ ہوتا ہے۔ وہ کئی ناموں سے آئی ڈیز بناتے ہیں جس سے وہ خواتین کی ذاتی معلومات اکٹھی کر سکیں، تاکہ انہیں انٹرنیٹ پر اور حقیقی زندگی میں ہراساں کیا جا سکے۔ کالے بازاروں کے ذریعے سستے سوفٹ ویئر اور ہارڈویئر تک بڑھتی ہوئی رسائی کسی بھی شخص کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے موبائل یا کمپیوٹر ہیک کرنا آسان بناتی ہے۔ سات اقدام جو آپ خود کو محفوظ رکھنے کے لیے کر سکتے ہیں۔ یہاں پر ان سات سب سے مؤثر اقدامات کا ذکر کیا جا رہا ہے جو ایک انٹرنیٹ صارف کو استعمال کرنے چاہیئں تاکہ 1: ذاتی معلومات کے ذریعے بلیک میلنگ سے بچا جا سکے۔ 2: اگر انٹرنیٹ پر ہراساں کیا جا رہا ہو تو مناسب اقدامات کر سکیں۔ 1: مضبوط پاس ورڈ منتخب کریں اور انہیں باقاعدگی سے تبدیل کریں پاس ورڈز کی مضبوطی اہمیت رکھتی ہے، اسے کبھی نظرانداز نہ کریں۔ اس کے علاوہ اپنے تمام آن لائن پلیٹ فارمز پر دوہری ویریفکیشن آن کر دیں (فیس بک، جی میل اور ٹوئٹر پر یہ فیچر موجود ہے)۔ یہ ایک اہم حفاظتی اقدام ہے اور اگر کسی ہیکر کو آپ کا پاس ورڈ مل بھی گیا، تب بھی وہ آپ کا اکاؤنٹ نہیں کھول سکے گا کیونکہ پاس ورڈ ڈالنے پر ایک حفاظتی کوڈ آپ کے موبائل پر بھیجا جائے گا جو ہیکر کو معلوم نہیں ہوگا۔ جیسے ہی آپ کو محسوس ہو کہ آپ کا اکاؤنٹ کسی نے استعمال کیا ہے، فوراً اپنے تمام اکاؤنٹس کے پاس ورڈ تبدیل کر دیں، نہ کہ صرف ایک کے۔ ورنہ کسی ہیکر کے لیے ایک پاس ورڈ معلوم ہونے کی صورت میں دوسرے اکاؤنٹس کے پاس ورڈ کا اندازہ لگانا بہت آسان ہے۔ آپ اسے تمام اکاؤنٹس کے پاس ورڈ ایک دوسرے سے مختلف رکھ کر بھی یقینی بنا سکتے ہیں۔ 2: فوراً حکام کو آگاہ کریں ایک بار جب آپ پاس ورڈ تبدیل کر چکیں، تو اپنے اکاؤنٹ کے ہیک ہونے کی اطلاع متعلقہ ویب سائٹ کو دیں۔ اگر آپ اپنے اکاؤنٹ کا کنٹرول واپس حاصل کرنے میں ناکام ہیں، تو یہ اور بھی زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ تمام بڑی ویب سائٹس عام طور پر فوراً جواب دیتی ہیں۔ 3: اپنے خاندان اور دوستوں کو آگاہ کریں رپورٹ کرنے کے بعد اس ویب سائٹ کو آپ سے رابطہ کرنے میں کچھ وقت لگے گا۔ اس وقت تک آپ اپنے دوستوں اور گھر والوں سے رابطہ کریں اور انہیں اس کی اطلاع دیں، تاکہ وہ آپ کے ہیک شدہ اکاؤنٹ سے کوئی رابطہ نہ کریں۔ اپنے گھر والوں، والدین اور سرپرستوں کو آگاہ کرنا بہت ضروری ہے، خاص طور پر اگر آپ محسوس کرتے ہوں کہ بعد میں معاملہ خراب ہو سکتا ہے۔ اس سے پہلے کہ چیزیں غلط موڑ لیں، اپنے گھر والوں کا اعتماد حاصل کر لینا چاہیے۔ 4: بلیک میلرز کے مطالبات نہ مانیں اگر کوئی شخص ہراساں کرنے کے بعد بلیک میلنگ پر اتر آئے، اور آپ کی ذاتی معلومات ڈیلیٹ کرنے کے بدلے آپ سے رقم کا تقاضہ کرے، تو اس کے مطالبات تسلیم نہ کریں۔ اس کے آگے مت جھکیں، کیونکہ اس بات کا کافی امکان ہے کہ وہ آپ کو ایک بار پھر بلیک میل کرنے کی کوشش کرے گا اور آپ کبھی بھی اس بات کو یقینی نہیں بنا سکتے کہ آپ سے رقم لے کر وہ آپ کا ڈیٹا ڈیلیٹ کرے گا بھی یا نہیں۔ 5: ہراساں کیے جانے کی اطلاع ایف آئی اے کو دیں — وہ انتہائی فعال ہیں اگر آپ کو کوئی انٹرنیٹ پر ہراساں یا بلیک میل کر رہا ہو، تو وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے نیشنل رسپانس سینٹر فار سائبر کرائمکو اطلاع دیں۔ آپ کو انہیں اپنی تفصیلات فراہم کرنی ہوں گی کیونکہ NR3C واضح وجوہات کی بناء پر گمنام شکایتوں پر کارروائی نہیں کرتا۔ مجرم کے خلاف باقاعدہ درخواست کا اندراج انتہائی ضروری ہے۔ ایف آئی اے کا یہ NR3C ڈپارٹمنٹ بہت فعال ہے اور سائبر کرائمز کی شکایتوں پر فوری کارروائی کرتا ہے، اور آپ کی مدد کے لیے سب سے کارگر ادارہ یہی ثابت ہوگا۔ [ایف آئی اے کی ہیلپ لائن: 9911] 5.1: اگر آپ بچے ہیں، تو آپ اپنے سرپرست سے کہہ کر شکایت درج کروا سکتے ہیں۔ اور اگر آپ اپنے گھر والوں کو بیچ میں نہیں لانا چاہتے، تو اپنے دوستوں یا اساتذہ سے کہیں کہ وہ اس سلسلے میں آپ کی مدد کریں۔ 5.2: یاد رکھیں کہ جرم کی اطلاع دینا نہ صرف مستقبل میں آپ کو مزید ہراساں کیے جانے سے بچائے گا، بلکہ یہ اس بات کو بھی یقینی بنائے گا کہ دوسرے بھی اس تلخ تجربے سے نہ گزریں جس سے آپ گزرے ہیں۔ 5.3: آپ سائبر کرائم کی اطلاع یا تو ان کا آن لائن فارم پر کر کے دے سکتے ہیں، یا تمام ضروری معلومات بمعہ ثبوت (بلیک میلر کے پیغامات کے اسکرین شاٹس) اس ای میل ایڈریس پر بھیج سکتے ہیں: helpdesk@nr3c.gov.pk 5.4: یہ یاد رکھنا بھی اہم ہے کہ دھمکی آمیز فون کالز NR3C کے دائرہ کار میں نہیں آتیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے آپ کو اپنے قریبی پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروانی ہوگی۔ 6: اگر آپ کا کوئی دوست شکار ہے، تو اس کی مدد کریں بلیک میلنگ کا نشانہ بننے والوں کے قریبی لوگوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسے شخص کی مدد کریں، کیونکہ زیادہ تر لوگوں کو آن لائن ہراساں کیے جانے کے تکلیف دہ مرحلے کے دوران اپنے گھر سے مدد نہیں ملتی۔ متاثرہ شخص کے لیے: اگر آپ بلیک میلنگ کے بارے میں اپنے گھر والوں کو اعتماد میں نہیں لے سکتے، تو اپنے دوستوں یا کسی بھی قریبی شخص سے رابطہ کریں۔ آپ کو کوئی نہ کوئی ایسا ضرور ملے گا جو آپ کی درست رہنمائی کرے گا اور آپ کو مدد فراہم کرے گا۔ 7: کوشش کریں کہ مجرم کا اتا پتہ معلوم ہو سکے گھر والوں اور دوستوں کو کوشش کرنی چاہیے کہ متاثرہ شخص ایسے کسی بھی یونیورسٹی، کالج، دفتر یا کسی اور ادارے کی مدد حاصل کر سکے، جہاں سے مجرم کا تعلق ہونے کا شبہ ہے۔ کیونکہ متاثرہ شخص ایسی صورتحال میں عام طور پر خوفزدہ ہوتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ دوست اور گھر والے قدم بڑھائیں اور سرکاری اداروں اور ان اداروں کو اطلاع دیں جہاں ہیکر کام کرتا ہے، اگر معلوم ہو تو۔ اگر آپ کو مزید کسی رہنمائی کی ضرورت ہو، تو آپ کبھی بھی 'ہمارا انٹرنیٹ' نامی ویب سائٹ وزٹ کر سکتے ہیں۔ اس میں انٹرنیٹ پر ہراساں کیے جانے سے نمٹنے کے لیے تفصیلی ہدایات موجود ہیں۔ ہمارا انٹرنیٹ ایک پاکستانی غیر سرکاری ادارے ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کا حصہ ہے جس کا مقصد پاکستانی خواتین کو آن لائن بلیک میلنگ سے بچانا اور محفوظ انٹرنیٹ اور موبائل ٹیکنالوجیز کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔ پاکستان میں پہلے ہی بہت کم خواتین انٹرنیٹ پر موجود ہیں، اور اس طرح کے معاملات رپورٹ ہونے پر امکان رہتا ہے کہ ان کے گھر والے ان کی انٹرنیٹ تک رسائی پر مزید پابندیاں عائد کر دیں گے۔ انٹرنیٹ تک رسائی خواتین کے لیے نہایت اہم ہے، نہ صرف پاکستان میں، بلکہ دنیا بھر میں، تاکہ وہ اپنے خیالات کا اظہار کر سکیں، اور تعلیمی اور معاشی مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔ اس لیے اگر ہم آن لائن جرائم اور ہراساں کیے جانے یا بلیک میلنگ کو آغاز میں ہی ختم کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں مضبوط بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
  5. ملک میں خصوصی سائبر کرائم الرٹ ایس ایم ایس سروس شروع اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارےایف آئی اے نے ملکی تاریخ میں پہلی بار سائبر کرائمز کے حوالے سے خصوصی سائبر کرائم الرٹ ایس ایم ایس سروس شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے ملکی تاریخ میں پہلی بار سائبر کرائمز کے حوالے سے خصوصی سائبر کرائم الرٹ ایس ایم ایس سروس شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا ملک بھر میں باقاعدہ آغاز کل سے ہو گا۔ سائبر کرائم ایس ایم ایس الرٹ سروس کا افتتاح کل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے اکبر خان ہوتی کریں گے۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق سائبر کرائم کے ذریعے متاثرہ شخص ویب سائٹ یا متعلقہ ادارے کی مکمل معلومات ایک ایس ایم ایس کے ذریعے سائبر کرائم الرٹ سروس کے نمبر پرکرے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سروس سے سوشل میڈیا پر بلیک میلنگ اور دیگر جرائم کا جہاں خاتمہ ہوگا وہیں سائبر کرائم کے بڑے گروہ قانون کے شکنجے میں آئیں گے۔
  6. پاکستان میں سائبر کرائم بڑھنے لگے ہمارے یہاں اس بات کا خیال نہیں رکھا جاتا کہ کوئی نئی ٹیکنالوجی آنے کے کیا کیا نقصانات ہوسکتے ہیں اور ان سے بچنے کے لیے کیا تدبیر کی جانی چاہیے۔ تھری جی ٹیکنالوجی کی پاکستان آمد کے حوالے سے بھی یہی صورت حال سامنے آئی ہے۔ اس جدید ٹیکنالوجی کے پاکستان آنے پر بہت خوشیاں منائی گئیں، بہت شور ہوا، لیکن متعلقہ اداروں نے اس امر پر غور نہیں کیا کہ یہ ٹیکنالوجی اپنے ساتھ کچھ خطرات بھی لارہی ہے، جن کا تیکنیکی بنیادوں پر سدباب کیا جانا ضروری ہے۔ سو وہی ہوا۔ ایک رپورٹ کے مطابق تھری جی ٹیکنالوجی آنے کے بعد پاکستان میں سائبر کرائم کی وارداتوں میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ ملک بھر میں تیزی سے بڑھتے سائبر کرائمز کی نوعیت مختلف قسم کی ہے، جن میں سے ایک بلیک میلنگ بھی ہے۔ منفی ذہنیت کے حامل افراد کی جانب سے وڈیوکالنگ کے ذریعے نوجوان لڑکیوں اور خواتین سے بات چیت کرکے اس بات چیت کو ریکارڈ کرلیا جاتا ہے، پھر یا تو اس مکالمے کو کسی سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ پر اپ لوڈ کردیا جاتا ہے یا ایسا کرنے کی دھمکی دے کر ان لڑکیوں اور خواتین کو بلیک میل کیا جاتا ہے۔ اس گھناؤنے فعل کے حامل جرائم کے بڑھنے کے ساتھ تھری جی ٹیکنالوجی کی آمد کے بعد دھوکہ دہی کی وارداتوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ واضح رہے کہ اس وقت پورے ملک میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد تین کروڑ تک پہنچ چکی ہے، جو کہ ملک کی مجموعی آبادی کا سولہ فی صد سے زاید ہے، جب پاکستان میں فیس بک استعمال کرنے والوں کی تعداد رواں سال کے ستمبر تک ایک کروڑ چون لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے اور ہر بارہ سیکنڈ بعد ایک نیا صارف فیس بک سے وابستہ ہورہا ہے۔ یہ مجموعی آبادی کا آٹھ فی صد بنتا ہے، جس سے بہ خوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں آن لائن سرگرمیاں کس تیزی سے فروغ پارہی ہیں اور پاکستانی ان سے وابستہ ہورہے ہیں۔ ان سرگرمیوں میں سماجی کے ساتھ تجارتی اور مالی سرگرمیاں بھی شامل ہیں۔ چناں چہ ہمارے ملک میں اسی رفتار سے سائبر کرائم کی تعداد اور رفتار بڑھ رہی ہے۔ اس ضمن میں ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں صورت حال مزید خراب ہوجائے گی، کیوں کہ موبائل فون صارفین کی بہت بڑی تعداد مختلف کمپنیوں کی جانب سے فراہم کیے جانے والے تیز ترین تھری جی انٹرنیٹ پیکیجز حاصل کررہی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے بعد اسمارٹ فونز کے ذریعے وڈیو بنانا اور اس کو کسی سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ پر اپ لوڈ کرنا آسان اور سستا ہوگیا ہے۔ اس کے لیے کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ اسی طرح تھری جی ٹیکنالوجی کے ذریعے وڈیوکالنگ بہت آسان ہوگئی ہے اور صارفین کی بہت بڑی تعداد ٹینگو، اسکائپ اور واٹس اپ کے ذریعے وڈیو کالنگ کی سہولت استعمال کررہی ہے، جب کہ مجرمانہ ذہنیت کے حامل افراد اس سہولت کے اپنے ناپاک مقاصد کے لیے استعمال کررہے ہیں اور ان کے جرائم میں بلیک میلنگ سرفہرست ہے۔ مختلف ممالک میں فیس بک سمیت دیگر سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر کسی کو بدنام کرنے یا بلیک میل کرنے پر ایسا کرنے والوں کے خلاف سخت اور فوری ایکشن لیا جاتا ہے اور اس جرم کے مرتکب افراد سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن پاکستان میں ایسی شکایات کو سردخانے کی نذر کردیا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق صرف لاہور میں اب تک ایسی کئی لڑکیاں اور خواتین خودکشی کرچکی ہیں جن کی نامناسب وڈیوز اور تصاویر فیس بک سمیت دیگر سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر اپ لوڈ کردی گئی تھیں اور انھیں بدنام کیا جارہا تھا۔یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ انٹرنیٹ کے ذریعے نوجوان لڑکیوں اور خواتین کو بلیک میل کرنے کے واقعات تو طویل عرصے سے جاری ہیں لیکن تھری جی ٹیکنالوجی آنے کے بعد ان میں تیزی آگئی ہے۔ تھری جی ٹیکنالوجی آنے سے پہلے سائبر کرائم کی وارداتیں کرنے والے افراد عمومی طور پر کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ کا سہارا لیتے تھے، اور انٹرنیٹ کمپنیوں کی جانب سے فراہم کیے جانے والے کنکشن استعمال کرتے تھے۔ انھیں ان کے کمپیوٹر کی آئی پی اور انٹرنیٹ کنکشن کی رجسٹریشن کی مدد سے ٹریس کرلیا جاتا تھا، جب کہ موبائل سے اس نوعیت کی واردات کرنا بہت مشکل کام تھا، لیکن پاکستان میں تھری جی ٹیکنالوجی آنے کے بعد ہر موبائل کمپنی نے اپنے صارفین کو ان کی موبائل سِموں کے ذریعے تیزترین انٹرنیٹ سروس فراہم کرنی شروع کردی ہے، جس کی وجہ سے صارفین اپنے موبائل فون پر انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے علاوہ سماجی رابطوں کے دیگر نیٹ ورکس اسکائپ، ٹینگو، واٹس اپ اور وائبر وغیرہ آسانی سے چلاسکتے ہیں، بل کہ ان کے ذریعے وڈیو کالنگ بھی بہت آسان ہوگئی ہے۔ یہ آسانی جہاں عام صارفین کے لیے سہولت لائی ہے، وہیں مجرمانہ ذہنیت کے حامل افراد کے لیے بھی اس کی وجہ سے ان کا کام آسان ہوگیا ہے۔ یہ امر افسوس ناک ہے کہ بلیک میلنگ اور سائبر کرائم کی دیگر وارداتوں کے انسداد کے لیے کوئی سنجیدہ اور مؤثر اقدامات نہیں کیے جارہے۔ حکومت کی جانب سے موبائل کمپنیوں کو تھری جی ٹیکنالوجی کی نیلامی میں شرکت کی دعوت دی گئی تو یہ نہیں سوچا گیا کہ عوام کو تیز ترین انٹرنیٹ کی سہولت دینے کے ساتھ ہی اس کے منفی استعمال کو روکنے کے لیے کوئی نظام وضع کیا جانا چاہیے، اس بے پرواہی کی وجہ سے آج کتنی ہی زندگیاں متاثر ہورہی ہیں۔ یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ سائبر کرائم کی وارداتوں پر کام کرنے والے ایک افسر کے مطابق اس وقت سب سے بڑا مسئلہ موبائل فون کی غیرقانونی سموں کا پھیلاؤ ہے۔ انٹرنیٹ کے ذریعے جرم کرنے والا شخص اگر اپنے نام کی رجسٹرڈ سِم کے ذریعے جرم کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کا سراغ لگانا مشکل کام نہیں، لیکن اگر کوئی شخص کسی دوسرے کے نام کی سم یا غیرقانونی طور پر حاصل کی گئی سم پر تھری جی ٹیکنالوجی حاصل کرکے کوئی مجرمانہ حرکت کرتا ہے تو اس کا سراغ لگانا بہت مشکل ہے۔ اگر حکومت اور اس کے متعلقہ اداروں نے اس صورت حال پر توجہ نہ دی تو ملک میں سائبر کرائم کی وارداتیں خوف ناک حد تک بڑھ جائیں گی۔ دوسری طرف اس حوالے سے خواتین کو بھی پوری طرح محتاط رہنا چاہیے اور نوجوان لڑکیوں کے والدین کو بھی اس حوالے سے پوری طرح چوکنّا رہنے کی ضرورت ہے۔ ہماری اس تحریر کا مقصد یہی ہے کہ ایک طرف حکومت اور اس کے متعلقہ اداروں کی اس خوف ناک صورت حال کی طرف متوجہ کیا جائے اور دوسری طرف لڑکیوں اور خواتین کو اس خطرے سے آگاہ کیا جائے۔
  7. اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ-2 ستمبر 2015) اسلام آباد راولپنڈی میں سوشل میڈیا کے ذریعے لڑکیوں کو بلیک میل کرنے والے 3 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔ ایف آئی اے کے مطابق بلیک میلرز کے لیپ ٹاپ، ٹیبلٹس اور موبائل فونز تحویل میں لے لئے۔ بلیک میلرز لڑکیوں سے دوستی کرکے تصاویر اور ویڈیوز بناتے تھے۔ سائبر کرائم ونگ کو 6 ماہ میں بلیک میلنگ کی 100 سے زائد شکایات موصول ہوئیں۔ والدین کی شکایات پر تینوں بلیک میلرز کو گرفتار کیا گیا۔ آئندہ چند روز میں مزید بلیک میلرز کی گرفتاری کا امکان ہے۔
  8. تحریر: واصف شکیل پاکستان میں خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات بدقسمتی سے سالوں پرانے ہیں ۔ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ جیسے جیسے دور جدید ہورہا ہے خواتین کو ہراساں اور بلیک میل کرنے کے طریقوں میں بھی جدیدیت آتی جارہی ہے مثلاً انٹرنیٹ استعمال کرنے والی خواتین خصوصاً کالج اوریونیورسٹیز میں پڑھنے والی لڑکیوں کو” آن لائن بلیک میلنگ “کا طریقہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے پہلے مقدمے میں ایک مجرم کو فیس بک پر جعلی اکاوٴنٹ بنا کر ایک لڑکی کو بلیک میل کرنے پر تین سال قید اور25ہزار روپے جرمانہ ہوچکا ہے۔ مجرم عامر جنجوعہ کی ایک بین الاقوامی تعلیمی ادارے میں زیر تعلیم لڑکی سے دوستی ہوگئی، مگر یہ جاننے کے بعد کہ عامر ایک بس کنڈیکٹر ہے لڑکی نے شادی سے انکار کردیا اس انکار پر مجرم نے اسے دھمکیاں دینا شروع کردیں اور آخر کار اس کی قابل اعتراض تصویر فیس بک پر شائع کردی جس پر لڑکی کے گھر والوں نے اس کی تعلیم کا سلسلہ منقطع کردیا اور ایف آئی اے میں اس کے خلاف درخواست دے دی پچھلے ایک سال کے دوران وفاقی تحقیقاتی ادارے کو3027 سائبر کرائمز کی شکایات موصول ہوئی تھیں جن میں سے تقریباً 45فیصد خواتین کے خلاف ہراسمنٹ کے حوالے سے تھیں نگہت داد جو آن لائن حقوق اور ان کے تحفظ کیلئے کام کرنے والی این جی او ڈیجیٹل رائٹس فاوٴنڈیشن کی ڈائریکٹر ہیں ، ان کا اس بارے میں کہنا ہے کہ بلیک میلنگ، دھمکیاں، آن لائن ہراساں کرنے، لڑکیوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک کرنے کے واقعات میں ہر سال اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ یہ اضافہ معاشرے میں بڑھتی لاقانونیت اور خواتین کیلئے غیر موزوں ماحول کا عکاس ہے گز شتہ ماہ ایف آئی اے راولپنڈی سائبر کرائم ونگ نے ایک 3 رکنی گینگ کو گرفتار کیا جو لڑکیوں کے فیس بک اکاؤنٹس ہیک کر کے ان کو ہراساں کرتا تھا۔ ملزم بلال حسین نے 80فیس بک اکاؤنٹس کو ہیک کرنے کا اعتراف کیا۔ تفتیش کے دوران اس نے بتایا کہ وہ یہ کام گزشتہ کچھ مہینوں سے کر رہا ہے اور وہ فیس بک پیج کے ذریعے ہیکنگ کرنا جانتا ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ فیس بک اکاؤنٹس کو ہیک کرلیا جائے اور پھر بلیک میل کیا جائے؟ کیا یہ اتنا آسان ہے؟ اس کا جواب دیتے ہوئے نگہت داد کا کہنا تھا” ہیکرز انٹرنیٹ یوزرز کی آن لائن سیکورٹی میں موجود کمزوریوں اور خامیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسا کرپاتے ہیں۔ آسان پاس ورڈ، کمزور سیکورٹی سیٹنگز یوزرز کو ایکسپوز کردیتی ہیں اور ان کا اکاؤنٹ آسانی سے چوری ہوجاتا ہے، اس لئے انٹرنیٹ یوزرز کو اس بات کی آگاہی ہونی چاہیے کہ کس طرح وہ اپنے آپ کو سائبر ورلڈ میں محفوظ کرسکتے ہیں پاکستان میں ہزاروں ایسے جرائم ہیں جو مختلف وجوہات کی بنا پر رپورٹ نہیں کروائے جاتے۔ اسی طرح آن لائن ہراساں اور بلیک میلنگ کا بھی رپورٹنگ تناسب بہت کم ہے۔ اس کی ایک وجوہ عام لو گ تھانہ کچہری کے چکر لگانے سے کتراتے ہیں اور ایسے معاملات جو خواتین سے متعلق ہوں اسے چھپا کے رکھنے میں عافیت جانتے ہیں اگست میں ایف آئی اے نے ایک اورگینگ کو پکڑا جو لڑکیوں کے فیس بک اکاؤ نٹس ہیک کرکے ان کی پرائیویٹ کمیونیکیشن کو آن لائن کردیتا تھا اور پھر انہیں بلیک میل کرتا تھا، بیچاری لڑکیا ں کافی عرصے تک ان کے ہاتھوں پریشان ہوتی رہیں صرف اس وجہ سے کہ اس کا منظر عام پر آجانا رسوائی کا سبب بن سکتا تھا جہاں تک موجودہ قواتین کا تعلق ہے تو ایف آئی اے فی الحال الیکٹرانک ٹرانزیکشن آرڈیننس 2002اور پاکستان پینل کوڈ کا سہار ا لے کر کارروائی کرتی ہے مگر اس میں خامیاں اور کمزوریاں ہونے کی بنا پراکثر ملزم بچ نکلتا ہے نگہت داد کا اس بارے میں کہنا تھا ” اس بڑھتے رجحان کو روکنے کے لئے سخت قانون کی ضرورت ہے مگر جو قانون بنائے جا رہے ہیں ان میں ایسے لوپ ہولز چھوڑے گئے ہیں جس سے اس کے غلط استعمال کا خطرہ ہے۔ اس سوال پر کہ اگر سوشل میڈیا کے استعمال کو ایک خاص تعلیمی معیار کا پابند کردیا جائے تو کیا یہ حل ممکن ہے، ان کا کہنا تھا کہ ایسا کرنا امتیازی ہوگا اور لوگ معلومات کے ایک اہم ذریعے سے محروم رہ جائیں گے اور اس طرح کردنے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا آن لائن ہراسمنٹ کے خلاف درخواست جمع کرانا قدرے آسان ہے اور اس حوالے سے ایف آئی اے کافی متحرک ہے۔شکایت درج کرانے کے تین طریقے ہیں، ایک یہ کہ ہیلپ لائن نمبرپر کال کی جاسکتی ہے۔ دوسرے طریقے کے مطابق نیشنل ریسپانس سینٹر فار سائبر کرائم کی ویب سائٹ پر آن لائن دستیاب فارم پْر کیا جاسکتا ہے۔ تیسرا یہ کہ تمام معلومات اور شواہد جمع کر کے ہیلپ ڈیسک پر ای میل کردی جائے جس کا ایڈریس سائٹ پر موجود ہے۔ نگہت داد کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ خاص طور پر سوشل میڈیا کے استعمال کو محفوظ بنانے کیلئے ضروری ہے کہ آپ کو اس بارے میں مکمل آگاہی ہو تبھی آپ بلیک میلنگ اور دوسرے ہتھکنڈوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سائبر کرائم کا شکار ہونے والے بالخصوص خواتین ان جرائم کی پردہ پوشی کرنے کے بجائے ان کی شکایت کریں تاکہ ایسے مجرم عبرت کا نشان بن سکیں۔سائبرکرائم پر خاموشی بھی مجرمانہ فعل ہے۔
  9. سائبر کرائم : آپ کو کیا معلوم ہونا چاہئے جب دنیا کی ممتاز ترین کمپنیوں کے 580 سنیئر ایگزیکٹوز اور سی ای اوز سے ایک سروے میں بین الاقوامی کاروباری سرگرمیوں کو لاحق خطرات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب میں سرفہرست تین مسائل کی اس ترتیب میں درجہ بندی کی ، زیادہ ٹیکسز، صارفین کی کمی اور سائبر کرائم۔ جون 2014 میں جارج ٹاﺅن یونیورسٹی کے سینٹر فار اسٹرٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹیڈیز کی سامنے آنے والی ایک تحقیق میں تخمینہ لگایا گیا تھا کہ سائبر کرائم کے نتیجے میں دنیا کو ہونے والا سالانہ نقصان 375 سے 575 ارب ڈالرز کے درمیان ہے۔ یہ اعدادوشمار انٹرنیٹ پر ہونے والے کاروبار کے پندرہ سے بیس فیصد حصے کے برابر ہیں۔ اسی طرح انٹرنیٹ سیکیورٹی فرم میکافی نے بھی جون 2014 میں سالانہ نقصانات کی رپورٹ مرتب کی جس کے مطابق سائبر کرائم کے نتیجے میں عالمی معیشت کو چار سو ارب ڈالرز سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔ سائبر کرائم کی ایک عام تعریف یہ بیان کی جاتی ہے کہ ہر ایسی سرگرمی جس میں کمپیوٹرز یا نیٹ ورکس کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے کسی کو ہدف یا مجرمانہ سرگرمیاں کی جائیں یا کمپیوٹر کی دنیا سے جڑی ایسی سرگرمیاں جو یا تو غیرقانونی ہو یا انہیں مخصوص فریقین کی جانب سے خلاف قانون سمجھا جائے اور ان میں عالمی الیکٹرونک نیٹ ورکس کو استعمال کیا جائے انہیں سائبر کرائم سمجھا جائے گا۔ عام فہم انداز میں بات کی جائے تو مختلف سطحوں پر سائبر کرائمز کے ذریعے لوگوں کی پرائیویسی کی خلاف ورزی، ہیکنگ، سوشل نیٹ ورکس میں استحصال، معلومات انفراسٹرکچر پر سائبر حملے، سائبر دہشتگردی، مجرمانہ رسائی، فحش پیغامات، ای میلز، دھمکی آمیز پیغامات و ای میلز، ڈیٹا تک غیرقانونی رسائی وغیرہ وغیرہ۔ ہماری قومی قانونی ڈھانچے میں سائبر کرائمز کی روک تھام کے حوالے سے الیکٹرونک ٹرانزیکشن آرڈنینس 2002 اور پاکستانی ٹیلی کمیونیکشن ری آرگنائزیشن ایکٹ 1996 جیسے قوانین نافذ ہیں، جبکہ 2009 میں پریوینٹیشن آف الیکٹرونک کرائمز آرڈنینس بھی سامنا آیا مگر وہ نافذ نہیں کیونکہ وہ تاحال فعال نہیں ہوسکا ہے۔ ان قوانین کے تحت ہیکنگ، غیر قانونی رسائی (کسی ای میل اکاﺅنٹ کی ہیکنگ)، مداخلت، پرائیویسی کی خلاف ورزی، الیکٹرونک و ٹیلی کام انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچان اور گرے ٹریفک سمیت دیگر کو اہم جرائم قرار دیا گیا ہے، تاہم ان میں کئی اہم سائبر کرائمز کو شامل تو نہیں کیا جنھیں 2009 کے قانون کا حصہ بنایا گیا جیسے فحش پیغامات و ای میلز، دھمکی آمیز پیغامات و ای میلز، سائبر اسٹاکنگ، اسپامنگ، الیکٹرونک فراڈ، سائبر دہشت گردی اور اینکرپشن کا غلط استعمال وغیرہ۔ تو اگر آپ سائبر کرائم کا ہدف بن جانے کی صورت میں کیا کریں گے؟ سائبر کرائمز کی شکایت نیشنل ریسپانس سینٹر فار سائبرکرائمز (این آر تھری سی) کے پاس اس ای میل ایڈریس helpdesk@nr3c.gov.pk پر تمام دستاویزات کے ساتھ درج کرائی جاسکتی ہے۔ شکایت درج کرانے کے طریقہ کار کے حوالے سے سوالات کے لیے http://www.nr3c.gov.pk/faq.html سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔ یہ ادارہ 2007 میں اپنے قیام کے بعد سے سائبر کرائمز کے تمام درجوں کی شکایات کو موصول کررہا ہے۔ اب تک این آر تھری سی کو جو تین سب سے بڑی شکایات موصول ہوئی وہ اس ترتیب سے ہیں، ڈیٹا تک مجرمانہ رسائی، دھمکی آمیز کالز اور الیکٹرونک فراڈ۔ اس ادارے میں ایک شکایت کو درج کرانے کا عمل ایک شکایت جمع کرانے سے شروع ہوتا ہے چاہے تحریری ہو یا آن لائن شکل میں۔ نامکمل اور نامعلوم افراد کی شاکایت کو یہ ادارہ زیرغور نہیں لاتا اور یہ ضروری ہے کہ اپنا کیس درج کراتے وقت مدعی تمام پہلوﺅں کو مکمل کرے تاکہ اسے ابتدائی سطح پر مسترد نہ کیا جاسکے۔ اگلے مرحلے میں این آر تھری سی کی جانب سے قانونی جانچ پڑتال کی جاتی ہے تاکہ جانا جاسکے جمع کرائی گئی درخواست اس حوالے سے نافذ قوانین کی کسی شق پر پورا ترتی ہے یا نہیں اور ایسا ہونے کی صورت میں فیلڈ آفس کی جانب سے شکایت کی تصدیق کاعمل شروع کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی شکایت نافذ قوانین کی شقوں سے میل نہ کھاتی ہو اس کو مسترد کرنے کے احکامات جاری ہوجاتے ہیں جبکہ تصدیق عمرحلے کے دوران شکایت کنندہ سے مختلف ذرائع کے ذریعے رابطہ کیا جاسکتا ہے جیسے تحریری سمن، ای میل یا ٹیلیفون وغیرہ۔ اس مرحلے میں شکایت کنندہ سے اس کے پاس معلومات یا اطلاعات کے حوالے سے پوچھا جاتا ہے تاکہ شکایت کے مستند ہونے کے بارے میں جانچا جاسکے۔ اس مرحلے میں ناکامی کی صورت میں بھی شکایت کی فائل بند ہونے کے احکامات جاری ہوجاتے ہیں تاہم تصدیقی عمل کامیاب ہوجائے تو پھر تحقیقاتی مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ اس مرحلے میں ایک تفتیشی افسر عام طور پر تحقیقات کے عمل کو آگے بڑھاتا ہے اور تصدیق شدہ معلومات کو تفتیشی اصولوں کے پیمانے میں پرکھتا ہے۔ عام طور پر اس مرحلے میں ملزمان کی شناخت اور ان کا محل وقوع تلاش کرلیا جاتا ہے۔ مگر یہ تحقیقاتی مرحلہ بھی متعدد وجوہات کی بناءپر روکا جاسکتا جیسے شواہد کی عدم دستیابی یا شکایت کنندہ کا اپنی شکایت کو آگے بڑھانے میں دلچسپی نہ رکھنا وغیرہ، تاہم کسی تحقیقات کا کامیاب اختتام ایک ایف آئی آر درج ہونے کی صورت میں نکلتا ہے۔ تیکنیکی اور ڈیجیٹل فارنسک رپورٹس تحقیقاتی مرحلے میں عام طور پر اور ایف آئی آر رجسٹر ہونے کے بعد بھی درکار ہوتی ہے۔ بنیادی طور پر ایک شکایت درج کرانے سے شروع ہونے والا سفر تصدیق، تحقیقات اور ایف آئی آر کی شکل میں مکمل ہوتا ہے۔
  10. Nice Updates ..... Har traf selfie selfie.... awam ko or koi kam kaj koi nai?
  11. سڈنی میں ایک سٹی ٹو سرف نامی ریس کے دوران ایک کھلاڑی دوڑنے کی بجائے سیلفی لینے کا شوق پورا کررہا ہے
  12. دنیا کے سب سے بڑے درخت کا نام "جنرل شرمن " ہے اسے دنیا کا سب سے بڑا جاندار بھی سمجھا جاتا ہے۔یہ امریکی ریاست کیلیفورنیا کے نیشنل پارک میں ہے۔یہ قریبا تین سو ستر فٹ بلند ہے اس کی بلندی مینار پاکستان سے بھی زیادہ ہے۔
  13. اٹھاوریں صدی میں لندن میں موجود ایک چڑیا گھر میں داخلے کی فیس ایک کتا یا بلی کی صورت ادا کی جاتی تھی اس کے بعد یہ کتا یا بلی شیر کو کھلا دی جاتی تھی۔ حوالے کے لیے دیکھیں
  14. ایک عام عورت کسی بھی راز کو زیادہ سے زیادہ سینتالیس گھنٹے راز رکھ سکتی ہے اسی حوالے سے برطانوی ٹیلی گراف کی رپورٹ پڑھیں
  15. ہانگ کانگ میں عورت اپنے دھوکے باز شوہر کو قتل کر سکتی ہے لیکن یہ قتل خالی ہاتھ ہونا چاہیے۔ ملائشیا میں صرف ایک شادی کی اجازت ہے اس کے بعد دوسری تیسری اور چوتھی بیوی رکھنے کی صورت میں حکومت کو ٹیکس دینا ہو گا۔ سائنس دانوں نے بالآخر یہ یہ پتا چلا لیا ہے کہ دنیا میں پہلے مرغی آئی ہے کیوں کہ انڈے کا چھلکا جس پروٹین سے بنتاہے وہ مرغی سے پیدا ہوتا ہے۔ سردرد کی صورت اپنے ناک کا بایاں نتھنا بند کریں اور دائیں نتھنے سے سانس لیں ایسا پانچ منٹ تک کریں۔درد جاتے رہے گا ۔ ڈولفن پانی نہیں پیتی سمندری پانی انھیں بیمار کر سکتا اور ان کی جان بھی لے سکتا ہے لہذا اپنی آبی ضروریات وہ اپنی خوراک سے ہی حاصل کرتیں ہیں یہ ایک آنکھ کھول کر سوتی ہیں۔ گھونگا ایک ہی جگہ کھڑے ہو کر، بغیر چلے تین سال تک سو سکتا ہے زرافے کی زبان اتنی لمبی ہوتی ہے کہ وہ اپنی زبان سے اپنے کان بھی صاف کر سکتاہے۔ نر مچھر نہیں کاٹتے کاٹنے کا کام مادہ مچھر کرتی ہیں رچرڈ چارلس ڈریو، امریکہ میں خون جمع کرنے والے بینک یعنی فرسٹ امریکن بلڈ ڈونیشن بنک کے بانی۔۔ انھیں خود خون دینے یا جمع کروانے کی اجازت نہیں تھی کیوں کہ وہ سیاہ فام تھے
  16. کینگرو سب سے نے دیکھے ہوں گے کتنے بڑے بڑے لگتے ہیں۔۔ہیں نا؟چلیں آپ کو کینگروز کے بارے دل چسپ حقائق بتاتے ہیں ایک نیا پیدا ہوا کینگرو سائز میں ایک لوبیے جتنا ہوتا ہے یعنی ایک انچ سے بھی کم سائز ہوتا ہے۔ بے بی کینگرو کا وزن آدھے گرام سے بھی کم ہوتا ہے۔ بے بی کینگرو جب پیدا ہوتا ہے یہ نابینا ہوتا ہے۔
  17. سرخ و سفید رنگ کی اڑنے والی دیو ہیکل گلہری گلہری کی یہ قسم صرف چائنہ اور تائیوان میں پائی جاتی ہے ان کی آنکھیں نیلی ہوتی ہیں حوالے کے لیئے وکی پیڈیا لنک
  18. دنیا کے پہلے پانچ ورچوئل یعنی خیالی شاپنگ اسٹورز کوریا میں کھل گئے ہیں جہاں اب شیلف یعنی الماریوں میں سامان نہیں بڑی بڑی ٹچ اسکرین ایل سی ڈی لگی ہیں آپ کو جو چیز چاہیے ایل سی ڈی پر دیکھ کر چیز پر کلک کرتے جائیں اور کاونٹر پر چلے جائیں آپ کا سامان کاونٹر پر پلاسٹک بیگ میں پڑا مل جائے گا۔
  19. کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ آپ جہاز میں بیٹھے ہیں اور آپ کی منزل تک آپ کا سفر محض سینتالیس سیکنڈز کا ہو؟ جی ہاں۔۔۔۔یہ اسی صورت ممکن ہے جب آپ اسکاٹ لینڈ کے مقام ویسٹ ٹرے اور پاپا ویسٹ ٹرے کے بیچ سفر کریں ایسی صورت میں آپ کی فلائٹ کا دورانیہ محض سینتالیس سیکنڈ ہو گا۔۔یہ دنیا کی سب سے چھوٹی کمرشل فلائٹ ہے جس کی ٹکٹ محض تیس ڈالرز ہے۔ ویسے اتنا سفر تو جہاز زمین پر طے کر کے بھی پہنچا سکتا تھا لیکن اڑنامجبوری ہے کیوں کہ راستے میں سمندر آتا ہے۔
  20. جب آپ کار کے ذریعے کوئی سامان کہیں بھیجتے ہیں اس عمل کو شپمنٹ کہا جاتا ہے اور جب آپ شپ(بحری جہاز) کے ذریعے سامان کہیں بھیجتے ہیں اسے کارگو کہا جاتا ہے۔
  21. کیا آپ جانتے ہیں کہ Louis Antoine فرانس کا ایسا بادشاہ تھا جو محض پندرہ منٹ بادشاہ رہا
  22. تصویر دیکھنے سے تو یہ احساس ہو گا جیسے ڈاکٹرز کسی عام سی لڑکی کو طبی امداد دے رہے ہیں لیکن یہ عام لڑکی نہیں بلکہ یہ زندہ ہی نہیں یہ لڑکی پانچ سو سال پہلے مر چکی ہے۔۔انیس سو ننانوے میں اس لڑکی کی لاش ملی جو کہ اس وقت بھی درست حالت میں تھی اس وقت اس لڑکی کو مرے ہوئے قریبا پونے پانچ سو سال گزر چکے تھے۔اس لڑکی کی تاریخ یہ ہے کہ اسے مذہب کے نام پر قتل کیا گیا تھا اس کی عمر پندرہ سال تھی اسے اس لیے قتل کیا گیا تھا کہ تم خدا کے پاس جا کر رہو۔
  23. جزیرہ ہوائی میں موجود ایک ساحل جس کی ریت سبز ہے
  24. ایسا شہر جو پندرہ سو سال زیر آب یعنی پانی کی تہہ میں رہا
  25. دنیا کا سب سے بڑا قلعہ سندھ کے ضلع جامشورو میں ہے جس کا نام رنی کوٹ فورٹ ہے. اسکا محیط 26 کلومیٹر ہے
  26. تاریخ میں ایک دن ایسا بھی گزرا ہے جس دن ایک بادشاہ مرا دوسرا تخت نشیں ہوا اور تیسرا پیدا ہوا. یہ 13 اور 14 ستمبر 786 عیسوی کی درمیانی رات تھی. ہادی مرا ہارون الرشید تخت نشیں ہوا مامون الرشید پیدا ہوا
  27. عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ کمپیوٹر کی دنیا میں کسی عورت کا کوئی خاص کارنامہ نہیں چلیں آج آپ کی یہ غلط فہمی بھی دور کر دیتے ہیں کمپیوٹر پروگرامنگ آئی ٹی کی دنیا میں ایک مشکل ترین فیلڈ ہے اور کمپیوٹر پروگرامنگ کی موجد ایک عورت ہی تھیں جی ہاں سب سے پہلے کمپیوٹر پرامنگ ایک عورت نے شروع کی ان کا نام Ada Lovelace تھا جنھوں نے اٹھارو سو باون میں محض چھتیس سال کی عمر میں وفات پائی اور اس وقت برطانیہ میں مدفون ہیں
  28. جن لوگوں کا آئی کیو لیول ہائی ہوتا ہے یعنی جوبہت زیادہ ذہین ہوتے ہیں اکثر اوقات انھیں رات کو سونے میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے ایسا صرف اور صرف دماغ کی ایکٹویٹی یعنی سرگرمی بڑھ جانے کی وجہ سے ہوتا ہے
  29. جرمنی میں جیل توڑنے کی کوشش کرنا قانونی ہے اس حرکت پر کوئی سزا نہیں کیوں کہ ان کے مطابق آزادی کی کوشش کرنا انسان کا بنیادی حق ہے۔
  30. آپ خواب مین صرف ان چہروں کو دیکھتے ہیں جنھیں آپ جانتے ہیں۔ سونے کی جتنی زیادہ کوشش کریں نیند آنے کے چانس اتنے ہی کم ہیں۔ کی بورڈ کی آخری لائن میں موجود بٹنوں سے آپ انگلش کا کوئی لفظ نہیں لکھ سکتے ۔ انسانی دماغ ستر فیصد وقت پرانی یادوں یا مستقبل کی سنہری یادوں کے خاکے بنانے میں گزارتا ہے۔ پندرہ منٹ ہنسنا جسم کے لیے اتنا ہی فائدہ مند ہے جتنا دو گھنٹے سونا۔ کسی بھی بحث کے بعد پچاسی فیصد لوگ ان تیزیوں اور اپنے تیز جملوں کو سوچتے ہیں جو انھوں نے اس بحث میں کہے ہوتے ہیں۔ A nut for a jar of tuna ایسا جملہ ہے جس میں اسے دائیں سے پڑھ لیں یا بائیں سے ایک ہی بات ہے۔ ایک لمحے کا مطلب ہوتا ہے نوے سیکنڈ سردی کی کھانسی میں چاکلیٹ کھانسی کے سیرپ سے پانچ گنا زیادہ بہتر اثر دکھاتی ہے۔ جتنی مرضی کوشش کر لیں جو مرضی کر لیں آپ یہ یاد نہیں کر سکتے آپ کا خواب کہاں سے شروع ہو اتھا۔ کوئی بھی جذباتی دھچکا پندرہ یا بیس منٹ سے زیادہ نہیں ہوتا اس کے بعد کا جذباتی وقت آپ کی اوور تھنکنگ کی وجہ سے ہوتا ہے جس سے آپ خود کو زخم لگاتے ہیں۔۔ آپ اپنے آپ کو آئینے میں حقیقت سے پانچ گنا زیادہ حسین دیکھتے ہیں۔۔۔تھینکس ٹو یو یور برین۔۔۔ Thankx to your brain نوے فیصد لوگ اس وقت ڈر جاتے ہیں جب انھیں یہ میسج آتا ہے "کچھ پوچھوں آپ سے" Can I Ask you a question
  31. نیلی وہیل مچھلی کی زبان کا سائز اور وزن ایک بھرپور جوان ،تندرست و توانا افریقن ہاتھی کے وزن اور سائز کے برابر ہوتا ہے
  32. ہومر اور سقراط کا شمار دنیا کے عظیم ترین فلسفیوں میں ہوتا تھا لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ ان دونوں عظیم فلفسیوں نے اپنی پوری زندگی میں ایک لائن تک نہیں لکھی کیوں کہ یہ لکھنا نہیں جانتے تھے۔
  33. مارچ انیس سو ترانوے میں کیون کارٹر نے یہ تصویر کھینچی اس تصویر نے انعام بھی جیتا تھا۔۔ یہ تصویر سوڈان میں لی گئی جب وہاں خوراک کا قحط تھا اور اقوام متحدہ کے تحت وہاں وہاں خوراک کے مراکز قائم کیے گئے تھے۔ فوٹو گرافر کیون کارٹر کے مطابق وہ ان خوراک کے مراکز کی فوٹو گرافی کرنے جا رہا تھا جب راستے میں اس لڑکے کو دیکھا جو کہ انہی مراکز کی جانب جانے کی کوشش میں تھا لیکن بھوک کمزوری فاقوں کی وجہ سے اس کا یہ حال تھا کہ اس سے ایک قدم اٹھانا دوبھر تھا آخر یہ لڑکا تھک ہار کر گر گیا اور زمین سے سر لگا دیا۔۔ تصویر میں دیکھیں پیچھے ایک گدھ موجود ہے جو کہ اس انتظار میں ہے کب یہ لڑکا مرے کب میں اسے کھاوں بس اسی منظر نے اس تصویر کی تاریخ کو آنسووں سے بھر دیا کیون کارٹر نے یہ تصویر نیو یارک ٹائمز کو بیچی اور نیویارک ٹائمز کے مطابق جب انھوں نے یہ تصویر شائع کی تو ایک دن میں ان سے ہزاروں لوگوں نے رابطہ کیا اور اس لڑکے کا انجام جاننا چاہا کہ کیایہ بچ گیا تھا؟ لیکن نیو یارک ٹائمز والے خود اس کے انجام سے بے خبر تھے بات یہیں ختم نہیں ہوتی فوٹوگرافر کیون کارٹر جس نے یہ سارا منظر کیمرے میں قید کیا وہ اس تصویر کے بعد اکثر اداس رہنے لگا اور ڈپریشن کا مریض بن گیا آخر اس میں موجود منظر نے اس فوٹو گرافر کو اپنی جان لینے پر مجبور کر دیا کیون نے تینتیس سال کی عمر میں خود کشی کر لی اس کی خود کشی کا طریقہ بھی بہت عجیب تھا وہ اپنے گھر کے پاس والے اس میدان میں گیا جہاں وہ بچپن میں کھیلتا تھا اس نے اپنے کار کے سائلنسرمیں ایک ٹیوب فکس کی اور اس ٹیوب کو ڈرائیورنگ سیٹ والی کھڑکی سے کار کے اندر لے آیا تمام کھڑکیاں تمام دروزے لاک کر دیے اور گاڑی اسٹارٹ کر دی۔۔گاڑی میں سائلنسر سے نکلتا ہوا دھواں بھرنا شروع ہوا دھویں میں کاربن مونو آکسائیڈ ہوتی ہے جو کہ جان لیوا ہوتی ہے اسی کاربن مونو آکسائیڈ نے کیون کی جان لے لی اس نے جو تحریر چھوڑی اس کا ایک حصہ یہ بھی تھا " درد،بھوک ،اور فاقوں سے مرتے بچوں کی لاشوں کا مجھ پر سایہ ہے."
  34. جون دو ہزار ایک میں سٹین فورڈشائر برطانیہ میں لورا بک سٹون نامی ایک لڑکی نے ہیلیم گیس سے بھرا ایک غبارہ فضا میں چھوڑا جس پر اس نے اپنا نام اور پتا درج کیا ساتھ یہ بھی لکھا کہ غبارہ جس کو ملے وہ مجھے جواب دے اور آ کر ضرور ملے۔۔ یہ غبارہ اس لڑکی کے گھر سے ایک سو چالیس میل دور پیوسے نامی گاؤں میں ایک اور لڑکی کے گھر کے پچھلے لان میں جا گرا اب یہاں سے کچھ حیرت انگیز اتفاقات کا سلسلہ شروع ہوتا ہے جس لڑکی کے گھر یہ غبارہ گرا اس کا نام بھی لورا بک سٹون تھا وہ بھی دس سال کی تھی۔ ان دونوں کے صرف نام ایک جیسے نہیں تھے ان کے قد بھی ایک جیسے تھے ان کے بالوں کا رنگ بھی ایک جیسا تھا۔ جس دن یہ دونوں ملیں دونوں نے گلابی رنگ کی فراک پہن رکھی تھی۔ دونوں لڑکیوں نے گھروں پر پالتو کتے رکھے تھے جو کہ لیبرو ڈاگ کی نسل سے تھے اور دونوں کتوں کا رنگ بھی سیاہ تھا دونوں کتوں کی عمر بھی تین تین سال تھی۔ دونوں لڑکیوں نے سرمئی رنگ کے خرگوش بھی پال رکھے تھے۔
  35. انیس سو ننانوے میں ایک ماہی گیر کو ایک بند بوتل میں ایک لو لیٹر ملا یہ لو لیٹر پہلی جنگ عظیم (جو کہ انیس سو چودہ سے انیس سو اٹھارہ تک جاری رہی )کے دوران ایک فوجی نے اپنی بیوی کو لکھا تھا۔۔ماہی گیر نے وہ لو لیٹر اس فوجی کی بیٹی تک پہنچا دیا تھا کیوں کہ فوجی کی بیوی انتقال کر چکی تھی

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.