Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 26/02/16 in all areas

  1. ہم میں سے اکثر لوگ سوچتے ہیں کہ مردوں کو جب ضرورت ہی نہیں ہوتی تو ان کے Nipples آخر کیوں ہوتے ہیں___؟ ڈی این اے: DNA ہر جاندار خلیے میں موجود ایک زپ نما مالیکیول ہے، تخلیق کا پورا عمل اسی میں چھپا ہے، ویسے تو DNA میں ایک پوری کائنات چھپی ہے، لیکن اس وقت ہمارا موضوع DNA نہیں بلکہ Chromosome ہے- کروموسوم: Chromosomes تخلیق کے مرکزی کردار ہیں- ڈی این اے کے اندر 46 کروموسومز ہوتے ہیں اور مرد کا آدھا ڈی این اے یعنی 23 کروموسومز اور اسی طرح عورت کا آدھا ڈی این اے یعنی 23 کروموسومز مل کر بچے کی خصوصیات کا تعین کرتے ہیں، دوسرے لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایک مردانہ سپرم میں 23 کروموسومز ہوتے ہیں جبکہ ایک زنانہ بیضے میں بھی 23 کروموسومز ہوتے ہیں اور تخلیق کے عمل میں کروموسومز کے یہی 23 جوڑے حصہ ڈالتے ہیں، ہر جوڑا مختلف خصوصیات کا حامل ہوتا ہے، خصوصیات: مثلاً بچے کی فیزیک ،نیچر یعنی طبیعت، رنگ، ہاتھوں پیروں کی بناوٹ، قد، نین نقوش، ذہانت یہاں تک کے آنکھوں اور بالوں کے رنگ اور ہر ہر خصوصیت کا تعین کروموسومز کے یہی 23 جوڑے کرتے ہیں اور انہی 23 میں سے 1 جوڑا جنس کا تعین بھی کرتا ہے، جنس کا تعین کرنے والے کروموسومز کی شکل انگریزی کے حروف ایکس X اور وائے Y سے مشابہت رکھتی ہے تبھی انہیں ایکس اور وائے کروموسومز کہا جاتا ہے- (تصویری مثالیں کمنٹس میں) ؛ X+X = Female Baby ؛ X+Y = Male Baby ماں کے ڈی این اے میں جنس کا تعین کرنے والے دونوں کروموسومز ہمیشہ XX ہوتے ہیں اس لیے ماں ڈی این اے کا جو بھی آدھا حصہ ٹرانسفر کرے ہر دو صورتوں میں ایکس کروموسومز ہی ٹرانسفر ہوگا، جبکہ باپ کے ڈی این اے میں جنس کا تعین کرنے والے دو کروموسومز میں سے ایک ہمیشہ X اور دوسرا یا تو X ہوگا یا Y، اس لیے باپ کی طرف سے ڈی این اے کا آدھا ٹرانسفر کیا جانے والا حصہ کبھی تو وائے کروموسوم ٹرانسفر کر دیتا ہے کبھی ایکس، آسان لفظوں میں یہ سسٹم "ٹاس" کی ہی طرح کام کرتا ہے، یعنی بائے چانس، ہیڈ یا ٹیل، "مرد کی پیدائش کے عمل کی شروعات میں ہمیشہ ایکس کروموسوم ہی نشوونما پاتا ہے اور پہلے پانچ سے چھ ہفتے ہر شخص، جی ہاں ہر شخص عورت ہی کی طرح بنتا ہے اور پھر پینتیس سے چالیس دن کے بعد وائے کروموسوم ایکٹو ہوتا ہے، یوں زنانہ آرگنز کی تخلیق رک جاتی ہے اور مردانہ آرگنز کی تخلیق شروع ہوتی ہے- مردوں کے سینے پر نظر آنے والے یہ نپلز اسی پیچیدہ تخلیقی عمل کی چغلی کھاتے ہیں-" اس سب سے یہ بھی ثابت ہوا کہ پیدا ہونے والے بچے کی جنس کا انحصار سو فیصد مرد پر ہوتا ہے لیکن علم و تحقیق سے نا آشنا معاشرے میں طعنے عورت کو دیئے جاتے ہیں- یہاں جب ایک عورت مسلسل لڑکیاں پیدا کرتی ہے تو مرد دوسری عورت تلاش کرتا ہے، حالانکہ سائنسی اصول کے تحت تو عورت کو دوسرا مرد تلاش کرنا چاہئیے : ) اور ہاں.... اب یہ سب کچھ جان لینے کے بعد "آپکو" عورت کو خود سے کمتر سمجھنے سے باز آ ہی جانا چاہیے- پاکستان کا میڈیا ہمیں سائنس اور ٹیکنالوجی سے دور لے کر جا رہا ہے، ہمارے سو سے زائد ٹیلی ویژن چینلز سائنس اور ٹیکنالوجی کے متعلق کوئی ایک پروگرام دکھانے سے بھی قاصر ہیں، البتہ میڈیا پر فضولیات اور لغویات پےشمار، ایسے میں ہمیں بحیثیت فرد اور بحیثیتِ کمیونٹی سائنس کو سمجھنے اور اس کے متعلق جاننے اور کائنات پر غور فکر کرنے کی ازخود کوشش کرنی ہے
  2. ................نادان چوہا ...................... کسی جنگل میں ایک بھیڑیا رہتا تھا- ایک دن وہ بھیڑیا ایک شکاری کے جال میں پھنس گیا- بہت زور لگایا مگر جال سے نکل نہ پایا، بلکہ مذید اُلجھ گیا- اِسی تگ و دو میں جال کی ڈوریاں اُس کے جسم میں گڑ گئیں اور جسم سےخون رسنے لگا- اتنے میں قریب سے ایک چوہے کا گزر ہوا- بھیڑیا اُسے دیکھتے ہی انتہائی لجاجت سےبولا: "بھائی چوہے! میری مدد کرو، میں اس جال میں بری طرح پھنس گیا ہوں، تم مہربانی کرو اور اپنے تیز دانتوں سے اس جال کو کاٹ دو تا کہ میں آزاد ہو جاؤں۔" چوہا بولا: "نہ بابا نہ! اگر میں نے تمہیں آزاد ی دلا دی تو تم سب سے پہلے مجھے ہی ہڑپ کر جاؤ گے۔" بھیڑیا بولا: "تم ٹھیک کہتے ہو ۔ میری فطرت کچھ ایسی ہی ہے، مگر تمہارے اس احسان کے بدلے میں وعدہ کرتا ہوں کہ نہ صرف میں اپنے آپ پر قابو رکھوں بلکہ جب تمہیں کسی اور درندے نے تنگ کیا تو میں تمہاری مدد کروں گا-" قصہ مختصر کافی دیر تک منت سماجت کرنے کے بعد بھیڑیے نے چوہے کو راضی کر ہی لیا اور یوں چوہے نے اس جال کو اپنے تیز دانتوں سے کتر ڈالا۔ بھیڑیے نے آزاد ہوتے ہی چوہے کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آج سے تم میرے ساتھ رہو گے اور مجال ہے کہ جنگل کا کوئی دوسرا جانور تمھاری طرف میلی آنکھ سے دیکھ سکے- چوہا بہت ہی خوش ہو گیا اور ننھا سا سینہ پھلا کر جنگل میں گھومنے لگا- جب بھی کوئی لگڑبھگا، جنگلی بلی، گیدڑ، لومڑی، وغیرہ اس کی طرف حملہ کرنے کے لیے بڑھتے وہ فوراً بھیڑیے کو بلا لیتا اور بھیڑیا بھی فوراً ہی لبیک کہتا ہوا چوہے کی مدد کو آن پہنچتا اور حملہ آور کو مار بھگاتا- یہ دیکھ کر چوہے کی ہمت اتنی بڑھ گئی کے راہ چلتے ہر چھوٹے بڑے جانور کی بے عزتی کرنے لگا اور یوں جنگل کے تمام جانور چوہے سے نفرت کرنے لگے- ایک دن کچھ شکاری دوبارہ جنگل میں آئے اور انہوں نے بھیڑیے پر گولی چلائی- گولی بھیڑیے کی ٹانگ پر لگی پر جان بچ گئی- لنگڑا بھیڑیا اب شکار کرنے کے قابل نہ رہا- معذوری کی حالت میں بھوک کی شدت بڑھتی گئی مگر کوئی بھی جانور شکار نہ کر سکا- دوسری طرف بھیڑیے کی پشت پناہی کے زعم میں چوہے نے سرے راہ ایک لومڑی کی بے عزتی کر دی- لومڑی غصہ میں آ کر چوہے کو پکڑنے کے لیے لپکی تو چوہا فوراً بھاگ کر بھیڑیے کے پاس آ گیا- لومڑی یہ دیکھ کر دور ہی رُک گئی مگر موٹے تازے چوہے کو دیکھ کربھیڑیے کی نیت میں فتور آ گیا اور بھوک چمک اُٹھی- اُس نے ایک ہی پنجہ مار کر چوہے کو دبوچ لیا ۔ چوہے نے جو بھڑیے کے خطرناک تیور دیکھے تو خوفزدہ ہو کر بولا: "بھائی بھیڑیے یہ کیا کر رہے ہو؟ میرے احسان کا یہ بدلہ دے رہے ہو؟" بھیڑیا بولا: "کمبخت تو نے بھی تو اُس دن کے بعد سے جنگل کے تمام جانوروں کو بے عزت کر کے اپنی اوقات سے زیادہ مزے کیے ہیں اور کسی خوف کے نہ ہونے کے سبب کھا کھا کر خوب موٹا ہو گیا ہے- چل اب میرا خالی شکم سیر کر-" بھیڑیے نے یہ کہا اور ایک ہی بار میں سالم چوہے کو ہڑپ کر گیا- سبق: - عادت کو تبدیل کیا جا سکتا ہے مگر فطرت پر قابو پانا ممکن نہیں- سانپ کو لاکھ دودھ پلاؤ مگر وہ کاٹےگا ضرور! - بے جوڑ دوستی اکثر اوقات دیرپا نہیں ہوتی اور کبھی نہ کبھی نقصان پہنچاتی ہے- - کسی پر کیے گئے احسان کی قیمت کبھی نہیں وصول کرنی چاہیے- اس سے نیکی بھی ضائع ہوتی ہے اور انسان کا وقار بھی مٹی میں مل جاتا ہے- - طاقتور کے مزاج اور وعدے کا کوئی بھروسا نہیں- وہ جب چاہے اسے بدل دیتا ہے- - انسان کو ہمیشہ اپنی اوقات میں رہنا چاہیے اور اللہ کے بعد صرف اپنے ہی قوت بازو پر بھروسا کرنا چاہیے- - زرا سی طاقت ملتے ہی کم ظرف کی طرح بے جا اچھل کود اور اکڑفوں نفرت کو پھیلانے کا سبب بنتی ہے جس سے آخر کارنقصان ہی ہوتا ہے-
  3. ظاہر میں دوستی ہے تو باطن میں دشمنی ماری ہے اس طرح سے بشر نے بشر کی گانڈ
  4. تجھ پہ الفاظ نہیں واریں گے اب تیری خاموشی سے ماریں گے
  5. Buhat zaberdast sabaq aamoz tehreer ha
  6. بہت ہی زبردست شئرنگ ہے اور آخر میں جو نتائج نکالے گئے ہیں بہترین ہیں
  7. ابھی تو جوان ہوں ابھی تو میں جوان ہوں بہار کا سمان ہوں اٹھاؤ بوتل تیل کی سرحدوں کے میل کی اپنی مٹھی اپنا لن ڈزن ڈزن ڈزن ڈزن گاؤں کی یہ چھوکریاں چدی چدائی رنڈیاں کھلے ہوئے ہیں بھوسڑے ان سے تو کنارہ کر مٹھ پہ گذارہ کر کالج کی یہ لڑکیاں ہلاتی ہیں جب چھاتیاں کھلے ہوئے ہیں بھوسڑے ان سے تو کنارہ کر مٹھ پہ گذارہ کر لڑکی کی آواز میں ویڈیو ملاحظہ ہو

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.