ایک لڑکی تھی سترہ سال کی - بہت خوبصورت تھی اور سامنے ایک لڑکا رہتا تھا پچیس سال کا
جس نے بڑی کوشش کی کہ دے دے، دے دے لیکن نہیں دی - زمانہ گذرتا گیا جب لڑکا اسی سال کا ہوگیا اور لڑکی تہتّر کی ہوگئی تو ایک دن آگئی کہ بھئی لے لو تو لڑکے نے اپنی طرف دیکھا اور لڑکی کی طرف دیکھا پھر اس پر ایک نظم کہی - ملاحظہ ہو
اب جو تم مرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو
میں نے مانا کہ تم اک پیکرِ رعنائی تھیں
چوچیاں بارھویں سال ہی ابھر آئیں تھیں
ہر نظر باز کی تفریح تھیں ہرجائی تھیں
اپنے جوبن کے خریداروں پر اترائی تھیں
اس وقت نہ پوچھا تو اب کیوں آئی ہو
یہ چدی اور پٹی چوتیاں لائی ہو
اب جو تم میرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو
مجھ کو یاد ہیں وہ تمہارے نشیلے جوبن
رس بھرے رس داررسیلے جوبن
جن کی نوکیں چبھیں دل میں وہ نوکیلے جوبن
اب کیا رہا اب تو ہوگئے ڈھیلے جوبن
ہاتھ کتنے حرامیوں نے گرمائے ہیں
اتنے کھینچے ہیں کہ پیٹ پہ لٹک آئے ہیں
اب جو تم میرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو
چوتوں نے مرے لوڑے کی یوں ماری ہے
اک مدت سے بے چارے پر بے ہوشی طاری ہے
اب نہ سدھ ہے نہ احساس ہے نہ ہوشیاری ہے
یہ اک ہیرو ہے جو معذور اداکاری ہے
اب تو لہنگے کی ہوا سے بھی نہ ہوش آئے گا
کھول کے لیٹ بھی جاؤ تو نہ جوش آئے گا
اور اے دوست !!! اب تو اس کام سے بھی گھن آتی ہے
صرف سوچنے سے مری گانڈ پھٹی جاتی ہے
اب جو تم مرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو
اک زمانہ تھا جب مجھے کام مزہ دیتا تھا
رنگ اپنا میں ہر چوت پہ جما دیتا تھا
ایک اک کونے میں چوتوں کے ہلا دیتا تھا
اچھے اچھے لوڑوں کو میں نظروں سے گرا دیتا تھا
ایک ہی موقع میں وہ چبھنے کا مزہ پاتی تھی
چدھ کہ ہر چوت دعا دیتی چلی جاتی تھی
لیکن اے دوست
اب نہ وہ میں ہوں نہ لوڑے میں دم باقی ہے
پھٹ چکی گانڈ اب صرف بھرم باقی ہے
اب جو تم مرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو
یہ کہانی ہے حرف بہ حرف مرے لوڑے کی
سر نیچے رہتا ہے نیچی ہے نظر لوڑے کی
گانڈ میں گھس گئی سب اینٹھ مرے لوڑے کی
اپنی حالت پر افسوس کیا کرتا ہے
چوت کو دیکھ کے منہ موڑ لیا کرتا ہے
اب جو تم مرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو
تم ایک سفلس ہو سوزاک ہو کوئی کیا جانے
خشک ہوں چوت کے کونے کوئی کیا جانے
اب تو لوڑے کو نہ آفت میں پھنساؤں گا میں
اس گڑھیا میں تو غوطہ نہ لگاؤں گا میں
جھک کے دیکھو تو ذرا بھوسڑے کی حالت زار
یہ وہ تلیّا ہے جس پہ چھائی ہوئی ہے سوار
نام باقی نہ رہا صرف نشان باقی ہے
اب تو جھانٹیں ہی جھانٹیں ہیں چوت کہاں باقی ہے
اب جو تم مرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو
دیکھتی رہتی تھیں نظریں مرے لوڑے کی بہار
چوبیسوں گھنٹوں کھرا رہتا تھا میرا ہتھیار
موتتا تھا تو جاتی تھی گزوں دور پیشاب کی دھار
مرے لوڑے کا ہوتا تھا حسینوں میں شمار
لیکن اے دوست اب تو ایک بالشت کی بھی نہیں جا پاتی ہے
دھار پیشاب کی ٹٹوں پہ ٹپک جاتی ہے
اب جو تم مرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو
آڈیو ملاحظہ ہو