Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 28/11/15 in all areas

  1. جب وہ ہسپتال سے باہر نکلا تو اس کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں اور اس کا سارا جسم بھیگی ہوئی روئی کا بنا معلوم ہوتا تھا اور اس کا جی چلنے کو نہیں چاہتا تھا وہیں فٹ پاتھ پر بیٹھ جانے کو چاہتا تھا۔ قاعدے سے اسے ابھی تک ایک ماہ اور ہسپتال میں رہنا چاہئیے تھا مگر ہسپتال والوں نے اس کی چھٹی کر دی تھی، ساڑھے چار ماہ تک وہ ہسپتال کے پرائیوٹ وارڈ میں رہا تھا اور ڈیڑھ ماہ تک جنرل وارڈ میں اس اثنا میں اس کا گردہ نکال دیا گیا تھا اور اس کی آنتوں کا ایک حصہ کاٹ کے آنتوں کے فعل کو درست کیا گیا تھا، ابھی تک اس کے کلیجے کا فعل راست نہیں ہوا تھا اسے ہسپتال سے نکل جانا پڑا، کیونکہ دوسرے لوگ انتظار کر رہے تھے، جن کی حالت اس سے بھی ابتر تھی۔ ڈاکٹر نے اس سے کے ہاتھ میں ایک لمبا سے نسخہ دے دیا اور کہا یہ ٹانک پیو اور مقوی غذا کھاؤ، بالکل تندرست ہو جاؤ گے، اب ہسپتال میں رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ مگر مجھ سے چلا نہیں جاتا، ڈاکٹر صاحب؟ اس نے کمزور آواز میں احتجاج کیا، گھر جاؤ چند دن بیوی خدمت کرے گی بالکل ٹھیک ہو جاؤ گے، بہت ہی دھیرے دھیرے لڑکھڑاتے ہوئے قدموں سے فٹ پاتھ پر چلتے اس نے سوچا گھر؟ میرا گھر کہاں ہے ؟ چند ماہ پہلے ایک گھر ضرور تھا، ایک بیوی بھی تھی،جس کے ایک بچہ ہونے والا تھا، وہ دونوں اس آنے والے بچے کے تصور سے کس قدر خوش تھے، ہو گی دنیا میں زیادہ آبادی، مگر وہ تو ان دونوں کا پہلا بچہ تھا۔ دلاری نے اپنے بچے کے لئے بڑے خوبصورت کپڑے سئیے تھے اور ہسپتال میں لا کر اسے دکھائے تھے اور ان کپڑوں کی نرم سطح پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس ایسا محسوس ہوا جیسے وہ اپنے بچے کو بانہوں میں لے کر اسے پیار کر رہا ہوں ، مگر پھر اگلے چند مہینوں میں بہت کچھ لٹ گیا، جب اس کے گرد کا پہلا آپریشن ہوا تو دلاری نے اپنے زیور بیچ دئیے کہ ایسے ہی موقعوں کے لئے ہوتے ہیں ، لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ زیور عورت کے جسن کی افزائش کے لئے ہوتے ہیں ، وہ تو کسی دوسرے درد کا مداوا ہوتے ہیں ، شوہر کا آپریشن، بچے کی تعلیم، لڑکی کی شادی، یہ بینک ایسے ہی موقعوں کے لئے کھلتا ہے اور خالی کر دیا جاتا ہے، عورت تو اس زیور کی تحویل دار ہوتی ہے اور زندگی میں مشکل سے پانچ چھ بار اسے اس زیور کو پہننے کی توفیق حاصل ہوتی ہے۔ گردے کے دوسرے آپریشن سے پہلے دلاری کا بچہ ضائع ہو گیا، وہ تو ہو تو ہی دلاری کو دن رات جو کڑی مشقت کرنا پڑ رہی تھی، اس میں یہ خطرہ سب سے پہلے موجود تھا، ایسے لگتا جیسے دلاری کا یہ چھریرا سنہرا بدن اس قدر کڑی مشقت کے لئے نہیں بنایا گیا، اس لئے وہ دانا فرزانہ بچہ ہی میں سے کہیں لٹک گیا تھا، ناسازگار ماحول دیکھ کر اور ماں باپ کی پتلی حالت بھان کر اس نے خود ہی پیدا ہونے سے انکار کر دیا، بعض بچے ایسے ہی عقلمند ہوتے ہیں ، دلاری کئی دنوں تک ہسپتال نہیں آ سکی، اور جب اس نے آ کے خبر دی تو وہ کس قدر رویا تھا، اگر اسے معلوم ہوتا کہ آگے چل کر اسے اس سے کہیں زیادہ رونا پڑے گا، تو وہ اس حادثے پر رونے کے بجائے خوشی کا اظہار کرتا۔ گردے کے دوسرے آپریشن کے بعد اس کی نوکری جاتی رہی، طویل علالت میں یہی ہوتا ہے، کوئی کہاں تک انتظار کر سکتا ہے، بیماری انسان کا اپنا ذاتی معاملہ ہے،اس لئے اگر وہ چاہتا کہ اس کی نوکری قائم رہے تو اسے زیادہ دیر تک بیمار نہ پڑنا چاہئیے، انسان مشین کی طرح ہے، اگر ایک مشین طویل عرصے کے لئے بگڑی رہتی ہے تو اسے اٹھا کے ایک طرف رکھ دیا جاتا ہے اور اس کی جگہ نئی مشین آ جاتی ہے- کیونکہ کام رک نہیں سکتا، بزنس بند نہیں ہو سکتا اور وقت تھم نہیں سکتا، اس لئے جس سے معلوم ہو کہ اس کی نوکری بھی جاتی رہی ہے تو اسے شدید دھچکا سا لگا، جسیے اس کا دوسرا گردہ بھی نکال لیا گیا، اس دھچکے سے اس کے آنسو بھی خشک ہو گئے، اصلی اور بڑیمصیبت میں آنسو نہیں آتے، اس نے محسوس کیا صرف دل کے اندر ایک خلا محسوس ہوتا ہے، زمین قدموں کے نیچے سے کھسکتی معلوم ہوتی اور رگوں میں خون کے بجائے خوف دوڑتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ کئی دنوں تک وہ آنے والی زنگی کے خوف اور دہشت سے سو نہیں سکا تھا، طویل علالت کے خرچے بھی طویل ہوتے ہیں ، اور زیر بار کرنے والے ہولے ہولے گھر کی سب قیمتی چیزیں چلی گئیں ، مگر دلاری نے ہمت نہیں ہاری، اس نے ساڑہے چار ماہ تک ایک ایک چیز بیچ دی اور آخر میں نوکری بھی کر لی، وہ ایک فرم میں ملازم ہو گئی تھی، اور روز اپنی فرم کے مالک کو لے کر ہسپتال بھی آئی تھی، وہ ایک دبلا پتلا، کوتاہ قد، ادھیڑ عمر کا شرمیلا آدمی دکھائی دیتا تھا، کم گو اور میٹھی مسکڑاہٹ والا، صورت شکل سے وہ کسی بڑی فرم کا مالک ہونے کے بجائے کتابوں کی کسی دکان کا مالک معلوم ہوتا تھا،دلاری اس کی فرم میں سو روپے مہینے پر نوکر ہو گئی تھی، چونکہ وہ زیادہ پڑھی لکھی نہیں تھی، اس لئے اس کا کام لفافوں پر ٹیکٹس لگانا تھا۔ یہ تو بہت آسان کام ہے ؟ دلاری کے شوہر نے کہا۔ فرم کا باس بولا کام تو آسان ہے، مگر جب دن میں پانچ چھ سو خطوں پر ٹیکٹس لگان پڑیں تو اسی طرح کا کام بہت آسان کام کے بجائے بہت مشکل کام ہو جات ہے۔ اور وہ اس منزل سے گز چکا تھا جس وہ کسی کو قصور وار نہیں ٹھہرا سکتا تھا، اتنی چوٹیں پے در پے اس پڑی تھیں کہ وہ بالکل بولا گیا، بالکل سناٹے میں آگیا وہ باطل دم بخور تھا، اب اس کی مصیبت اور تکالیف میں کسی طرح کا کوئی جذبہ یا آنسو نہیں رہ گیا تھا، بار بار ہتھوڑے کی ضربیں کھا کھا کراس کا دل دہات کے ایک پترے کی طرح بے جس ہو گیا، اس لئے آج جب اسے ہسپتال سے نکال گیا تو اس نے ڈاکٹر سے کسی ذہنی تکلیف کی دور کرنے کی شکایات نہیں کی تھی، اس نے اس سے یہ نہیں کہا تھا کہ اب وہ اس ہسپتال سے نکل کر کہاں جائے گا؟اب اس کا کوئی گھر نہیں تھا،کوئی بیوی نہیں تھی،کوئی بچہ نہیں ،کوئی نوکری نہیں ، اس کا دل خالی تھا، اس کی جیب خالی تھی، اور اس کے سامنے ایک خالی اور سپاٹ مستقبل تھا۔ مگر اس نے یہ سب کچھ نہیں کہا تھا،اس نے صرف یہ کہا تھا؟ ڈاکٹر صاحب مجھ سے چلا نہیں جا رہا ہے، بس یہی ایک حقیقت تھی جو اسے اس وقت یاد تھی، باقی ہر بات اس کے دل سے مجو ہو سکتی ہے، اس وقت چلتے چلتے وہ صرف یہ محسوس کر سکتا تھا کہ اس کا جسم گیلی روئی کا بنا ہوا ہے،اس کی ریڑھ کی ہڈی کسی پرانی شکستہ چارپائی کی طرح چٹخ رہی ہے، دھوپ بہت تیز ہے، روشنی نشتر کی طرح چبھتی ہے، آسمان پر ایک میلے اور پیلے رنگ کا وارنش پھرا ہوا اور فضا میں تاریک تر کرتے اور چستیاں سی غلیظ مکھیوں کی طرح بھنبھنا رہی ہیں اور لوگوں کی نگاہیں بھی گندے لہو اور پی کی طرح اس کے جسم سے چسپا کر رہ جاتیں ، اسے بھاگ جانا چاہئیے، کہیں ان لمبے الجھے بجلی کے تاروں والے کھمبوں اور ان کے درمیان گڈ مڈ ہونے والے راستوں سے کہیں دور تھا، اپنا بھائی بھی یاد آیا جو افریقہ میں تھا، سن سن سن ایک ٹرام اس کے قریب سے اندر گھستی چلی جار رہی تھی اور پوری ٹرام کو اپنے جسم کے اندر چلتا ہوا محسوس کر سکتا تھا، اسے ایسا محسوس ہوا جیسے وہ کوئی انسان نہیں ہے ایک گھسا پٹہ راستہ ہے۔ دیر تک وہ چلتا رہا، ہانپتا رہا اور چلتا رہا، اندازے سے ایک موہوم سمت کی طرف چلتا رہا، جدھر کبھی اس کا گھر تھا، حالانکہ اسے معلوم تھا کہ اب ا س کا کوئی گھر نہیں ہے، مگر وہ جانتے ہوئے بھی ادھر ہی چلتا رہا، گھر جانے کی عادت سے مجبور ہو کر مگر دھوپ بہت تیز تھی، اس کے سارے جسم میں چیونٹیاں سی رینگ رہی تھیں ، اور وہ کسی مسافر سے راستہ ہی پوچھ کے،معلوم کر لے یہ شہر کا کونسا حصہ ہے، ہولے ہولے اس کے کانوں میں ٹراموں اور بسوں کا شور بڑھنے لگا، نگاہوں میں دیواریں ٹیڑھی ہونے لگیں ، عمارتیں گرنے لگیں ، بجلی کے کھمبے گڈ مڈ کرنے لگے، پھر اس کی آنکھوں تلے اندھیرا اور قدموں تلے بھونچال سا آیا اور وہ یکا یک زمین پر گر پڑا۔ جب ہوش میں آیا تو رات ہو چکی تھی، ایک نیم خنک سا اندھیرا چاروں طرف چھایا ہوا تھا، اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا کہ جس جگہ پر گرا تھا اب تک وہیں پڑا ہے، یہ فٹ پاتھ ایک ایسا تھا جس کے عقب میں دو طرفہ دو دیواریں تھی دوسری شمال سے مغرب کو، اور وہ دونوں دیوروں کے اتصال پر لیٹا ہوا تھا، یہ دونوں دیواریں کوئی چار فٹ کے قریب بلند تھیں ، یہاں پر امرود اور جامن کے پیڑ تھے اور ان پیڑوں کے پیچھے کیا تھا وہ اسے اس وقت تک نہیں نظر نہیں آیا تھا،دوسری طرف مغربی دیوار کے سامنے پچیس تیس فٹ کا فاصلہ چھوڑ کر ایک پرانی عمارت کا عقب تھا، سہ منزلہ عمارت تھی اور منزل میں پیچھے کی طرف صرف ایک کھڑکی تھی جو چہ بڑے عقبی پائ تھے، عقبی پائ اور مغربی دیوار کے بیچ میں پچیس تیس فٹ چوڑی ایک اندھی گلی بن گئی تھی، جس کے تین طرف دیوار تھی اور چوتھی طرف سڑک تھی، کہنیوں پر زور دے کر ذرا سا اوپر اٹھا کر اور ادھر ادھر دیکھنے لگا، سڑک بالکل خالی تھی، سامنے کی دکانیں بند تھیں اور فٹ پاتھ کے اندھے سالوں میں کہیں کہیں بجلی کے کمزور بلب جھلملا رہے تھی، چند لمحوں کے لئے اسے یہ ٹھنڈی تاریکی بہت بھلی معلوم ہوئی چند لمحوں کے لئے اس نے اپنی آنکھیں بند کر کے سوچا شاید وہ کسی مہربان سمندر کے پانیوں میں ڈوب رہا ہے۔ مگر اس احساس سے وہ اپنے آپ کو صرف چند لمحوں تک دہو دے کیونکہ اب اس نے محسوس کر لیا کہ اس پر شدید بھوک طاری ہو چکی ہے، چند لمحوں کی خوشگوار خنکی کے بعد اس نے محسوس کر لیا کہ وہ شدید طور پر بھوکا ہے، جس سے کی آنتوں کے فعل کو بیدار کر کے اس کے ساتھ کسی طرح کی بھلائی نہیں کی، اس کے معدے کے اندر عجیب اینٹھن سی ہو رہی تھی اور آنتیں اندر ہی اندر تڑپ تڑپ کر روٹی کا سوال کر رہی تھیں اور اس وقت اس کے نتھنے کسی شہری انسان کے نتھنوں کی طرح نہیں کسی جنگلی جانور کے نتھنوں کی طرح کام کر رہے تھے، عجیب عجیب سی بوئیں اس کی ناک میں آ رہی تھیں، بوؤں کی ایک سمفنی تھی جو اس کے احساس پر پھیلی ہوئی تھی اور حیرت کی بات یہ تھی کہ وہ اس سمفنی کے ایک ایک سر کا الگ الگ وجود پہچان سکتا تھا، یہ جامن کی خوشبو ہے، یہ امرود کی، یہ رات کی رانی کے پھولوں کی، یہ تیل میں تلی ہوئی پوریوں کی، یہ پیاز اور لہسن میں بگھارے ہوئے آلوؤں کی، یہ مولی کی، یہ ٹماٹر کی، یہ کسی سڑے گلے پھل کی، یہ پیشاب کی، یہ پانی میں بھیگی ہوئی مٹی کی جو غالباً بانسوں میں کے جھنڈ سے آ رہی ہے۔ وہ ہر بو کی نوعیت، شدت، سمت اور فاصلے تک کا اندازہ کر سکتا ہے، یکایک اسے یہ احساس بھی ہوا اور وہ اس بات پر چونکا بھی کہ کس طرح سے بھوک نے اس منفی قوتوں کو بیدار کر دیا۔ مگر اس امر پر زیادہ غور کئے بغیر اس نے اس طرف گھسٹنا شروع کر دیا، جدھر سے اسے تیل میں تلی ہوئی پوریوں اور لہسن سے بگھارے ہوئے آلوؤں کی بو آئی تھی، وہ دھیرے دھیرے اندھی گلی کے اندر گھسٹنے لگا، کیونکہ وہ اپنے جسم میں چلنے کی سکت بالکل نہیں پاتا تھا، پھر اسے ایسا محسوس ہوتا جیسے کوئی دھوبی اس کی آنتوں کو پکڑ کر مروڑ رہا ہے، پھر اس کے نتھنے میں پوریوں اور آلو کی اشتہا انگیز بو آئی اور وہ بے قرار ہو کر ادھ مندھی آنکھوں سے اپنے تقریباً بے جان سے جسم کو ادھر گھسیٹنے کی کوشش کرتا،جدھر سے آلو، پوری کی بو آ رہی تھی، کچھ عرصے کے بعد جب وہ اس جگہ پر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ مغربی دیوار اور اس کے سامنے کی پچھواڑے کے پائیوں کے درمیان پچیس تیس فٹ کے فاصلے میں مستطیل نما کچرے کا ایک بہت بڑا کھلا آہنی ٹب رکھا ہے۔ یہ ٹب کوئی پندرہ فٹ چوڑا ہو گا اور تیس فٹ لمبا اور اس میں طرح طرح کا کوڑا کرکٹ بھرا ہے گلے سٹرے پھلوں کے چھلکوں اور ڈبل روٹیوں کے غلیظ ٹکڑے اور چائے کی پتیاں اور ایک پرانی جیکٹ اور بچوں کے گندے پوتڑے اور انڈے کے چھلکے اور اخبار کے ٹکڑ اور رسالوں کے پھٹے اوراق اور روٹی کے ٹکڑے اور لوہے کی لونیاں اور پلاسٹک کے ٹوٹے ہوئے کھلونے اور مٹر کے چھلکے اور پودینے کے پتے اور کیلے کی پتّل پر چند ادھ کھائی پوریاں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور آلو کی بھاجی، پوریوں اور آلو کی بھاجی کو دیکھ کر گویا اس کی آنتیں ابل پڑیں ، اس نے چند لمحوں کے لئے اپنے بے قرار ہاتھ روک لئے، مگر دوسری بدبوؤں کے مقابلے میں اس کے نتھنوں میں اگلے چند ثانیوں تک پوری اور بھاجی کو دیکھ کی اشتہار آمیز خوشبو اسی طرح تیز تر ہو گئی جیسے کسی سمفنی میں یکایک کوئی خاص سر ایک دم اونچے ہو جاتے ہیں اور یکا یک تہذیب کی آخری دیواریں ڈھے گئیں اور اس کے کانپتے ہوئے بے قرار ہاتھوں نے کیلے کے اس پتل کو دبوچ لیا اور وہ اک وحشیانہ گرسنگی سے متاثر ہو کر ان پوریاں پر ٹوٹ پڑا۔ پوری بھاجی کھا کے اس نے کیلے کے پتے کو بار بار چاٹا اور اسے شفاف کر کے چھوڑ دیا، جیسے قدرت نے اسے بنایا تھا، پتل چاٹنے کے بعد اس نے اپنی انگلیاں چاٹیں اور لمبے لمبے ناخنوں میں بھری ہوئی آلو کی بھاجی زبان کی نوک سے نکال کے دکھائی اور جب اس سے بھی اس کی تسلی نہ ہوئی تو اس نے ہاتھ بڑھا کر کوڑے کے ڈھیر کو کھنگھولتے ہوئے اس میں سے پودینے کے پتے نکال کر کھائے اور مولی کے دو ٹکڑے اور ایک آدھا ٹماٹر اپنے منہ میں ڈال کر مزے سے اس کا رس پیا اور وہ سب کچھ کھا چکا تو اس تو اس کے سارے جسم میں نیم گرم غنودگی کی اک لہر اٹھی اور وہ ہیں ٹب کے کنارے گر کر سوگیا۔ آٹھ دس روز اسی نیم غنودگی اور نیم بے ہوشی کے عالم میں گزرے، وہ گھسٹ گھسٹ کر ٹب کے قریب جاتا اور جو کھانے کو ملتا کھا لیتا اور جب اشتہا آمیز بوؤں کی تسکین ہو جاتی اور وہ دوسری گندی بوئیں ابھرنے لگتیں تو وہ گھسٹ گھسٹ کر ٹب سے فٹ پاتھ کے ٹکڑ پر چلا جاتا، اور عقبی دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ جاتا یا سو جاتا۔ پندرہ بیس روز کے بعد ہولے ہولے اس کے جسم میں طاقت ابھرنے لگی، ہولے ہولے وہ اپنے ماحول سے مانوس ہونے لگا، یہ جگہ کتنی اچھی ہے، یہاں دھوپ نہیں تھی، یہاں درختوں کا سایہ تھا، اندھی گلی سنان اور ویران تھی یہاں کوئی نہیں آتا تھا، کبھی کبھی عقبی عمارت سے کوئی کھڑکی کھلتی تھی اور کوئی ہاتھ پھیلا کر نیچے کے ٹب میں روز مرہ کا کوڑا پھینک دیتا تھا، یہ کوڑا جو اس کا روزی رساں تھا، اس کے شب و روز کا رازق تھا، اس کی زندگی کا محافظ تھا، دن میں سڑک چلتی تھی، دکانیں کھلتی تھیں ، لوگ باگ گھومتے تھے، بچے ابابیلوں کی طرح چہکتے ہوئے سڑک سے گزر جاتے تھیں ، عورتیں رنگین پتنگوں کی طرح ڈولتی ہوئی گزر جاتی تھیں ، لیکن یہ ایک دوسری دنیا تھی، اس دنیا میں اس کو کوئی علاقہ نہ تھا، اس دنیا میں اب اس کا کوئی نہ تھا، اور وہ اس کے لئے موہوم سائے بن گئے اور اس سے باہر میدان اور کھیت اور کھلا آسمان ایک بے معنی تصور، گھر، کام کاج،زندگی سماج،جدوجہد بے معنی الفاظ جو گل سٹ کر اس کوڑے کچرے کے ڈھیر میں مل کر غتر بود ہو گئے، اس دنیا سے اس نے منہ موڑ لیا تھا اور اب یہی اس کی دنیا تھی، پندرہ فٹ لمبی اور تیس فٹ چوڑی۔ ماہ و سال گزرتے گئے اور اس نکڑ پر بیٹھا بیٹھا ایک پرانے ٹھنٹھہ کی طرح اور کسی پرانی یاد گار کی طرح سب کی نظروں میں مانوس ہوتا چلا گیا وہ کسی سے بات نہیں کرتا تھا کسی کو فیض نہیں پہنچاتا تھا، کسی سے بھیک نہیں مانگتا تھا، لیکن اگر وہ کسی دن وہاں سے اٹھ کر چلا جاتا تو اس علاقے کے ہر فرد کو اس امر پر حیرت ہوتی اور شاید کسی قدر تکلیف بھی ہوتی۔ سب لوگ اسے کچرا بابا کہتے تھے، کیونکہ یہ سب کو معلوم تھا کہ وہ صرف کچرے کے ٹب میں سے اپنی خوراک نکال کر کھاتا ہے اور جس دن اسے وہاں سے کچھ نہ ملتا وہ بھوکا ہی سو جاتا، برسوں سے راہ گیر اور ایرانی رسٹوران والے اس کی عادت کو پہچان گئے تھے، اور اکثر عمارت کی عقبی کھڑکیوں سے اب کوڑے کے علاوہ خوردہ نوش کی دوسری چیزیں بھی پھینکی جاتیں ، صحیح و سالم پوریاں اور بہت سی بھاجی اور گوشت کے ٹکڑے اور ادھ چوسے آم اور چٹنی اور کباب کے ٹکڑے اور کھیر میں لتھڑے ہوئے پتل، ناؤ نوش کی ہر نعمت کچرا بابا کو اس ٹب میں سے مل جاتی ہیں ، کبھی کبھی کوئی پھٹا ہوا پاجامہ، کوئی ادھڑی ہوئی نیکر، کوئی تار تار شکستہ قمیض پلاسٹک کا گلاس، یہ کچرے کا ٹب کیا تھا، اس کے لئے ایک کھلا بازار تھا، جہاں وہ دن دہاڑے سب کی آنکھوں کے سامنے مڑ گشت کیا کرتا تھا، جس دکان سے جو سودا چاہتا مفت لیتا تھا، وہ اس بازار کا اس نعمت غیر مترقبہ کا واجد مالک تھا، شروع شروع میں چند گرسنہ بلیوں اور خارش زدہ کتوں نے شدید مزاحمت کی تھی، مگر اس نے مار مار کر سب کو باہر نکال دیا، اور اب اس کچرے کے ٹب کا واجد مالک تھا اور اس کے جق کو سب نے تسلیم کر لیا تھا، مہینے میں ایک بار میونسپلٹی والے آتے ہیں ، اور اس ٹب کو خالی کر کے چلے جاتے تھے اور کچرا بابا ان سے کسی طرح کی مزاحمت نہیں کرتا تھا، کیونکہ اسے معلوم تھا کہ دوسرے دن ٹب پھر اسی طرح بھرنا شروع ہو جائے گا اور اس کو اعتقاد تھا کہ اس دنیا سے نیکی ختم ہو سکتی ہے لیکن غلاظت ختم نہیں ہو سکتی رفاقت ختم ہو سکتی ہے، لیکن غلاظت اور گندگی کبھی ختم نہیں ہو سکتی، ساری دنیا سے منہ توڑ کر اس نے جینے کا آخری طریقہ سیکہ لیا تھا۔ مگر یہ بات نہیں ہے کہ اسے باہر کی دنیا کی خبر نہ تھی، جب شہر میں چینی مہنگی ہو جاتی تو مہینوں کچرے کے ٹب میں مٹھائی کے ٹکڑے کی صورت نظر نہیں آتی، جب گندم مہنگی ہو جاتی تو ڈبل روٹی کا ایک ٹکڑا تک نہ ملتا، جب سگریٹ مہنگے ہو تو تو سگریٹ کے جلے ہوئے ٹکڑے اتنے چھوٹے ملتے کہ انہیں سلگا کر پیا بھی نہیں جا سکتا۔ جب بھینگوں نے ہڑتال کی تھی تو مہینے تک اس کے ٹب کی کسی نے صفائی نہیں کی تھی،اور کسی روز اس کو ٹب میں اتنا گوشت نہیں ملتا تھا، جتنا بقر عید کے روز اور دیوالی کے دن تو ٹب کے مختلف کونوں سے مٹھائی کے بہت سے ٹکڑے مل جاتے تھے۔ باہر کی دنیا کا کوئی حادثہ یا واقعہ ایسا نہ تھا جس کا سراغ وہ کچرے کے ٹب سے دریافت نہ کر سکتا تھا، دوسری جنگ عظیم سے لے کر عورتوں کے خفیہ امراض تک، مگر باہر کی دنیا سے اب اسے کسی طرح کی کوئی دلچسپی نہ رہی تھی، پچیس سال تک وہ اس کچرے کے ٹب کے کنارے بیٹھا بیٹھا اپنی عمر گزار رہا تھا، شب و روز، ماہ و سال، اس کے سر سے ہوا کی لہروں کی طرح گزرتے گئے، اور اس کے سر کے بال سوکھ سوکھ کر ربٹر کی شاخوں کی طرح لٹکنے لگے، اس کی کالی داڑھی کھچڑی ہو گئی، اس کے جسم کا رنگ ملگجاہٹ ملا اور سبزی مائل ہوتا گیا، وہ اپنے مضبوط بالوں ، پھٹے چیتھڑوں اور بدبو دار جسم سے راہ چلتے لوگوں کو خود بھی کچرے کا ایک ڈھیر دکھائی دیتا تھا جو کبھی کبھی حرکت کرتا تھا اور بولتا تھا، کسی دوسرے سے نہیں صرف اپنے آپ سے زیادہ سے زیادہ کچرے کے ٹب سے۔ کچرا بابا ان لوگوں سے کچھ کہتا نہیں تھا، مگر انکی حیرت کو دیکھ کر دل میں ضرور سوچتا ہو گا کہ اس دنیا میں کون ہے جو کسی دوسرے سے گفتگو کرتا ہے اس دنیا میں جتنی گفتگو ہوتی ہے انسانوں کے درمیان نہیں ہوتی بلکہ صرف اپنی ذاتی اور اس کی کسی غرض کے درمیان ہوتی ہے، دوسروں کے درمیان جو بھی گفتگو ہوتی ہے وہ دراصل ایک طرح کی خود کلامی ہوتی ہے، یہ دنیا ایک بہت بڑا کچرے کا ڈھیر ہے جس میں سے ہر شخص اپنی غرض کا کوئی ٹکڑا، فائدے کا کوئی ٹکڑا، فائدے کا کوئی چھلکا یا منافع کا کوئی چیتھرا دبوچنے کے لئے ہر وقت تیار رہتا ہے اور کہتا ہو گا یہ لوگ جو مجھے حقیر، فقیر یا ذلیل سمجھتے ہیں ، ذرا اپنی روح کے پچھواڑے میں تو جھانک کر دیکھیں ، وہاں اتنی غلاظت بھری ہے کہ جسے صرف موت کا فرشتہ ہی اٹھا کر لے جائے گا۔ اسی طرح دن پر دن گزرتے گئے ملک آزاد ہوئے، ملک غلام ہوئے حکومتیں آئیں ، حکومتیں چلی گئیں ، مگر یہ کچرے کا ڈب وہیں رہا اور اس کے کنارے بیٹھنے والا کچرا بابا اسی طرح نیم غنودگی میں بے ہوشی کے عالم میں دنیا سے منہ موڑے ہوئے زیر لب کچھ بدبداتا رہا کچرے کے ٹب کو گھنگھولتا رہا۔ تب ایک رات اندھی گلی میں جب وہ ٹب سے چند فٹ کے فاصلے پر دیوار سے پیٹھ لگائے اپنے پھٹے چیتھڑوں میں دبکا سورہا تھا، اس نے رات کے سناٹے میں ایک خوف ناک چیخ سنی اور وہ ہڑبڑا کر نیند سے جاگا، پھر اس نے ایک زور کی تیز چیخ سنی اور گھبرا کر کچرے کے ٹب کی طرف بھاگا، جدھر سے یہ چیخیں سنائی دے رہی تھیں ۔ کچرے کے ٹب کے پاس جا کر اس نے ٹٹولا، تو اس کا ہاتھ کسی نرم نرم لوتھڑے سے جا ٹکرایا اور پھر ایک زور کی چیخ بلند ہوئی، کچرا بابا نے دیکھا کہ ٹب کے اندر ڈبل روٹ کے ٹکڑوں ، چچوڑی ہوئی ہڈیوں ، پرانے جوتوں ، کانچ کے ٹکڑوں ، آم کے چھلکوں ، باسی دونوں اور ٹھرے کی ٹوٹی ہوئی بوتلوں کے درمیان ایک نوزائیدہ بچہ ننگا پڑا ہے اور اپنے ہاتھ پاؤں ہلا ہلا کر زور زور سے چیخ رہا ہے۔ چند لمحوں تک کچرا بابا حیرت میں ڈوبا ہوا جامد و ساکت اس ننھے انسان کو دیکھتا رہا جو اپنے چھوٹے سے سینے کی پوری قوت سے اپنی آمد کا اعلان کر رہا تھا، چند لمحوں تک وہاچپاچاپ، پریشان، پھٹی پھٹ آنکھوں سے اس منظر کو دیکھتا رہا پھر اس نے تیزی سے آگے جھک کر کچرے کے ٹب سے اس بچے کو اٹھا کر اپنے سینے سے لگا لیا۔ مگر بچہ اس کی گود میں جا کر بھی کسی طرحانہ رہا، وہ اس زندگی میں نیا نیا آیا تھا اور بلک بلک کر اپنی بھوک کا اعلان کر رہا تھا، ابھی اسے معلوم نہ تھا کہ غریبی کیا ہوتی ہے، مامتا کس طرح بزدل ہو جاتی ہے، زندگی کسیے حرام بن جاتی ہے، وہ کس طرح ملیے پیکٹ اور غلیظ بنا کچرے کے ٹب میں ڈال دی جاتی ہے، ابھی اسے یہ سب کچھ معلوم نہ تھا ابھی وہ صرف بھوکا تھا اور رو رو کر اپنے پیٹ پر ہاتھ مار رہا تھا۔ کچرا باب کی سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ وہ کیسے اس بچے کو کرائے اس کے پاس کچھ نہ تھا، نہ دودھ نہ چسنی، اسے تو کوئی لوری بھی یاد نہیں تھی، وہ بے قرار ہو کر بچے کو گود میں لے کر دیکھنے لگا اور تھپتھپانے لگا اور گہری نیند سے رات کے اندھیرے میں چاروں طرف دیکھنے لگا، کہ اس وقت بچے کے لئے دودھ کہاں سے مل سکتا ہے، لیکن جب ا سکی سمجھ میں کچھ نہیں آیا تو اس نے جلدی سے کچرے کے ٹب سے آم کی ایک گٹھلی نکالی اور اس کا دوسرا سرا بچے کے منہ میں دے دیا۔ ادھ کھائے ہوئے آم کا میٹھا میٹھا رس جب بچے کے منہ میں جانے لگا تو وہ روتا روتا ہو گیا اور ہوتے ہوتے کچرا بابا کی بانہوں میں سو گیا، آم کی گٹھلی کھسک کر زمین پر جا گری اور اب بچہ اس کی بانہوں میں بے خبر سو رہا تھا، آم کا پیلا پیلا رس ابھی تک اس کے نازک لبوں پر تھا اور اس کے ننھے سے ہاتھ نے کچرا بابا کا انگوٹھا بڑے زور سے پکڑ رکھا تھا۔ ایک لمحے کے لئے کچرا بابا کے دل میں خیال آیا کہ وہ بچے کو یہیں پھینک کر کہیں بھاگ جائے، دھیرے سے کچرا باب نے اس بچے کے ہاتھ سے اپنے انگوٹھے کو چھڑانے کی کوشش کی،مگر بچے کی گرفت بڑی مضبوط تھی اور کچرا بابا کا ایسے محسوس ہوا جیسے زندگی نے اسے پھر سے پکڑ لیا ہے، اور دھیرے دھیرے جھٹکوں سے اسے اپنے پاس بلا رہی ہے، یکایک اسے دلاری کی یاد آ جاتی ہے، اور وہ بچہ جو اس کی کوکھ میں کہیں ضائع ہو گیا تھا اور یکا یک کچرا بابا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا، آج سمندر کے پانیوں میں اتنے قطرے نہ تھے جتنے آنسو اس کی آنکھوں میں تھے، گزشتہ پچیس برسوں میں جتنی میل اور غلاظت اس کی روح پر جم چکی ہے وہ اس طوفان کے ایک ہی ریلے میں صاف ہو گئی۔ رات بھر کچرا بابا اس نوزائیدہ بچے کو اپنی گود میں لئے بے چین اور بے قرار ہو کرفت پاتھ پر ٹہلتا رہا اور جب صبح ہوئی اور سورج نکلا تو لوگوں نے دیکھا کہ کچرا بابا آج کچے کے ٹب کے پاس نہیں ہے، بلکہ سڑک پار نئی تعمیر ہونے والی عمات کے نیچے کھڑا ہو کر اینٹیں ڈھو رہا ہے اور اس عمارت کے قریب گل مہر کے ایک پیٹ کی چھاؤں میں ایک پھولدار کپڑے میں لپتا اک ننھا بچہ منہ میں دودھ کی چسنی لئے مسکرا رہا ہے
  2. خبر - تاریخ - 21 نومبر 2015
  3. نوجوان لڑکے اور لڑکی کا اپنے والدین کی آنکھوں میں دھول جھونک کر تنہائی میں ملناآج کی جدید اصطلاح میں Dating اور ''ڈیٹ مارنا''کہلاتا ہے۔ ڈیٹنگ کا یہ رُجحان سب سے زیادہ ہمارے تعلیمی اداروں(یونیورسٹی' کالج'حتیٰ کہ سکول)کے نوجوان اور نوعمر لڑکے لڑکیوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ لڑکے اورلڑکیاں گھروں سے اپنے تعلیمی اداروں کے لیے نکلتے ہیں لیکن وہاں جانے کے بجائے اپنے نام نہاد عاشقوں اور محبوباؤں کے ساتھ ڈیٹ مارنے چلے جاتے ہیں اور گھر والوں کو کسی قسم کا کوئی شک تک نہیں ہوتا۔ ڈیٹنگ کے ابتدائی چند دن کسی پارک میں درختوں یاجھاڑیوں کی اوٹ میں گزرتے ہیں جہاں یہ نوجوان جوڑے سرعام بوس وکنارکرتے اور بہت ہی نازیبا حرکات کرتے ہیں۔لاہور میں ڈیٹنگ کے لیے تین پارک سرفہرست ہیں ۱)باغِ جناح' (۲)ماڈل ٹاؤن سنٹرل پارک'اور (۳) ریس کورس پارک۔ جب میں ماڈل ٹاؤن پارک گیا تووہاں سینکڑوں کی تعداد میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ڈیٹ مارنے آئے ہوئے تھے 'جبکہ اُن میں سے بعض تو کالج اور سکول کے یونیفارم میں موجودتھے جو اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ یہ لوگ گھروں سے تعلیم حاصل کرنے کے لیے آئے ہیں۔ پارک میں موجود سیکیورٹی گارڈز سے جب میں نے اس بارے میں پوچھا تو اُن میں سے ایک نے بتایا کہ اس پارک کے ٹکٹ کا ٹھیکہ ایک کروڑ سالانہ میں ہوا ہے اور ہمیں سختی سے منع کیا گیا ہے کہ کسی کو بری سے بری حرکات پر بھی نہ روکا جائے۔اس لیے کہ اگر ان جوڑوں کو روکا گیا تو پھر یہاں کون آئے گا۔ایک مالی نے بتایا کہ یہاں ہر روز سینکڑوں کی تعداد میں سکول 'کالج اور یونیورسٹی کے سٹوڈنٹ آتے ہیں اور ایسی ایسی گندی حرکتیں کرتے ہیں کہ ہمیں شرم آجاتی ہے مگر وہ بے شرم سر عام اپنے ''پیار'' میں مصروف رہتے ہیں۔اُس کا کہنا تھا کہ یہاں جھاڑیوں کی اوٹ میں ہم نے بہت سے جوڑوں کو زنا تک کرتے دیکھا ہے۔ میں نے پوچھا: کیا لڑکیاں منع نہیں کرتیں۔ اُس نے کہا کہ بعض لڑکیاں تو خودلڑکوں کو گندی حرکات پر اُکساتی ہیں'جبکہ بعض نوعمر لڑکیاں پہلے پہل شرم دکھاتی ہیں اور لڑکوں کو ایسی حرکات سے منع کرتی ہیں 'مگر جولڑکا اُسے اتنی دور سے لے کر آیا اور اس نے اسے کھلایا پلایا ہوتا ہے تو وہ اپنی ہوس پوری کیے بغیر نہیں رہتا۔ ایسا ہی حال باغِ جناح اور ریس کورس پارک میں بھی دیکھنے کوملتاہے۔باغِ جناح میں تو چند ایک پہاڑیاں بھی موجود ہیں جو ڈیٹ پرآئے جوڑوں کے لیے کسی فائیوسٹار ہوٹل کے کمرے سے کم نہیں ہے اس لیے کہ یہاں انہیں مکمل تنہائی میسر آتی ہے اور انہیں کسی کا ڈر نہیں ہوتا۔ ڈیٹنگ کا دوسرا مرحلہ دل دہلا دینے والاہے۔غریب جوڑے اپنے کسی دوست کے گھر کا انتخاب کرتے ہیں جس کے گھر والے کسی تقریب وغیرہ میں گئے ہوتے ہیں'جبکہ امیر زیادہ تر ہوٹلوں اورجابجا موجود پرائیویٹ گیسٹ ہاؤس کا انتخاب کرتے ہیں۔اس طرح ان جوڑوں کو مکمل تنہائی میسر آتی ہے اور پھر یہ جوڑے وہ تعلق قائم کرلیتے ہیں جو میاں بیوی شادی کے بعد قائم کرتے ہیں۔شادی سے پہلے ایسے تعلق قائم کرنے کو ''زنا''سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اسلام میں اس کی سزاسو کوڑے ہیں۔ پاکستانی قانون میں بھی یہ ایک قابل سزا جرم ہے۔ ڈیٹنگ کے ظاہری نقصانات تو سب کے سامنے ہیں'جبکہ اس کا ایک بہت بھیانک نقصان ''بلیک میلنگ ''ہے۔یہ جوڑے جہاں ڈیٹ مارنے جاتے ہیں وہاں کی انتظامیہ خفیہ کیمروں سے اُن کی ویڈیو بنا لیتے ہیں۔اس سے وہ ان کو بلیک میل کرتے ہیں۔لڑکوں سے تو وہ رقم کا مطالبہ کرتے ہیں جبکہ لڑکیوں سے رقم کے ساتھ جنسی تعلقات کی خواہش کا اظہارکرتے ہیں۔اب یہ دونوں پولیس اور اپنے گھر والوں کے ڈر سے ان کے مطالبات ماننے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ابھی چند سال پہلے اسلام آباد ' کراچی او رپاکستان کے چند ایک اور بڑے شہروں میں انٹر نیٹ کلب کے کیبنوں میں ڈیٹنگ پر آئے ایسے ہی ہزاروں جوڑوں کی غیر اخلاقی ویڈیوز کے منظر عام پر آنے نے ایک تہلکہ مچا دیاتھا۔کئی لڑکیوں نے اس پر خودکشیاں کیں اور بہت سو کے گھر اُجڑے۔ اسی طرح ابھی پچھلے سال ویلنٹائن ڈے کے موقع پر کراچی کے آئس کریم پارلر پر ڈیٹ پرگئے سینکڑوں کی تعداد میں جوڑوں کی ویڈیوانتظامیہ نے بنا کر انتہائی مہنگے داموں گندی سائٹس کو نہ صرف بیچیں بلکہ اُن جوڑوں کو بلیک میل بھی کیا۔ بلیک میلنگ کادوسرا رخ یہ ہے کہ لڑکے خود سے اپنی محبوبہ کی ویڈیوبنالیتے ہیں۔بعض لڑکے تو یہ ویڈیو گندی سائٹس کو اچھی خاصی رقم کے بدلے بیچ دیتے ہیں اور اس طرح یہ اس لڑکی کی عزت پلک جھپکتے ساری دنیا میں نیلام ہوجاتی ہے۔جبکہ بعض لڑکے ان ویڈیوز سے لڑکیوں کو بلیک میل کرکے رقم بھی بٹورتے ہیں اور اپنی ہوس بھی پوری کرتے رہتے ہیں۔ایسے سینکڑوں واقعات اب تک میڈیا میں رپورٹ ہوچکے ہیں اور رپورٹ نہ ہونے والے واقعات کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ اس حوالے سے صرف ایک واقعہ ملاحظ ہو جس کو پڑھ کر شاید آپ کے بھی رونگٹھے کھڑے ہوجائیں گے۔ملتان کے ایک سکول کی نویں جماعت کی طالبہ کی موبائل پر ایک لڑکے سے دوستی ہوگئی۔انہوں نے ڈیٹ پرجانے کا پروگرام بنایا اور ایک پارک میں ملے۔جہاں لڑکے کے دوستوں نے اُن کی ویڈیو بنا لی۔چند دن بعد لڑکے نے ویڈیو دکھا کر اُسے اپنے دوست کے گھر بلاکر اپنی ہوس کا نشانہ بنایا اور اس کی ویڈیوبھی بنا لی۔ کچھ دن بعد لڑکے کا دل جب اُس لڑکی سے بھر گیا تو اُس نے وہ ویڈیو اپنے دوستوں کو دے دی۔پھر اس کے دوستوں نے باری باری اس معصوم لڑکی کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔درندگی کی انتہا دیکھئے کہ پندرہ سالہ بچی مسلسل چھ ماہ تک بیس لوگوں کے ہوس کا نشانہ بنتی رہی'لیکن اپنی او راپنے والدین کی عزت کی خاطر چپ چاپ سب سہتی رہی۔ اس کے بعد اُن درندوں نے وہ ویڈیولڑکی کے باپ کو دکھا کر تین لاکھ کا مطالبہ کیا ۔باپ نے پولیس کو اطلاع دی تو اُن میں سے تین ملزمان گرفتارہوگئے۔آپ سوچئے کہ یہ سب صرف ایک بار ڈیٹ مارنے کا نتیجہ ہے اور اب اُس لڑکی اور اس کے گھر والوں کے پاس جینے کا کون سا بہانا باقی ہے۔ ڈیٹنگ کے بے شمار نقصانات ہیں کہ کوئی بھی عقل وفہم رکھنے والا اور دوسروں کی بہن بیٹیوں کو اپنی بہن بیٹی سمجھنے والا انسان سوچ کر بھی کانپ اُٹھتا ہے۔ میری والدین اور بھائیوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنی بہن بیٹیوں پر نظر رکھیں' او رگاہے بگاہے ان کے موبائل کو چیک کرتے رہیں اس لیے کہ ڈیٹنگ کا یہ سارا کھیل موبائل کے سر پر ہی کھیلا جاتا ہے۔ لڑکیوں سے گزارش ہے کہ لڑکوں کی دوستی اور عشق کے چکروں میں آکر ڈیٹنگ پہ جانے کا خیال اپنے دل سے نکال دیں اور ملتان کی لڑکی کے واقعہ کو یاد رکھیں جو ایک ڈیٹ کی وجہ سے بیس لوگوں کے ہوس کا نشانہ بنی۔خدانخواستہ ایسا آپ کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔پھر یہ ضرور یاد رکھیں کہ ڈیٹ مارنے میں سب سے زیادہ نقصان لڑکی کا ہی ہوتا ہے اس لیے کہ اگر بلیک میلنگ نہ بھی ہو تب بھی لڑکی کی عزت اس ڈیٹنگ میں چلی جاتی ہے۔ آخر میں'میری تمام نوجوانوں سے گزارش ہے کہ کسی لڑکی کو اپنے جھوٹے پیار میں پھنسانے'اُسے اپنی ہوس کا نشانہ بنانے' بلیک میل کرنے یا اُس کی ویڈیو بنا کر انٹرنیٹ پر اَپ لوڈ کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچ لیں کہ کل کوآپ کی بہن'بیٹی کے ساتھ بھی ایسا ہوسکتا ہے۔اس بارے میں ہر ایک کو ضرور سوچنا چاہئے
  4. ریپ اور ریپسٹ تحریر: وسعت اللہ خان جولائی 22، 2014 انگریزی میں ریپ کی اصطلاح موجودہ معنوں میں پندرھویں صدی سے استعمال ہونی شروع ہوئی۔اس سے قبل ریپ سے مراد لوٹ مار اور استحصال وغیرہ ہوتا تھا۔لیکن آج ریپ کا ایک ہی مطلب ہے یعنی کسی کے جسم پر طاقت و تشدد کے ذریعے جنسی قبضہ۔ضروری نہیں کہ یہ طاقت جسمانی ہی ہو۔نفسیاتی طور پر شکار کا ذہنی کنٹرول حاصل کرکے اس کی رضامندی کے بغیر یا اس کی وقتی بے بسی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جنسی مقاصد پورے کرنا بھی ریپ ہی کے زمرے میں آتا ہے۔جیسے کسی ہم جنس یا جنسِ مخالف سے دوستی کرنا اور پھر نشے کی حالت میں یا سوتے ہوئے یا بہلا پھسلا کر دھونس، دھمکی اور تصاویر سمیت بلیک میلنگ کا کوئی بھی طریقہ استعمال کرتے ہوئے اس کا جسمانی کنٹرول جنسی مقاصد کے لیے حاصل کرلینا۔ ریپ کے شکار اور شکاری کے لیے عمر کی قید نہیں۔لیکن عام طور سے ریپ کا شکار کم سن بچے یا بچی سے لے کر پچاس برس تک عمر کی خواتین ہوتی ہیں۔جب کہ شکاری پرائمری اسکول کے جسمانی طور پر طاقتور بچے سے لے کر ساٹھ پینسٹھ برس تک کا آدمی کوئی بھی ہوسکتا ہے۔ضروری نہیں کہ ریپ کا شکاری مرد ہی ہو اور شکار عورت ہی۔ایک ہی جنس کے لوگ بھی شکار اور شکاری ہوسکتے ہیں اور مرد بھی عورت کے ہاتھوں ریپ ہوسکتا ہے۔ زیادہ تر وارداتوں کے مطالعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کم ریپسٹ یا ریپ کے شکار ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہوتے ہیں۔زیادہ تر جاننے والے ہی شکار اور شکاری بنتے ہیں۔ان میں قریبی رشتے داروں سے لے کر محلے اور شہر داروں تک کوئی بھی ہوسکتا ہے۔اس طرح کی وارداتوں میں سے زیادہ تر پوشیدہ رہ جاتی ہیں یا رکھی جاتی ہیں اور بعض معاشروں میں تو ان وارداتوں کو چھپانے کا تناسب اسی سے نوے فیصد تک پایا جاتا ہے۔ گویا بہت کم وارداتیں سامنے آنے کے سبب بہت کم سزا ملتی ہے اور بہت کم زخم خوردگان کی جسمانی و نفسیاتی بحالی ممکن ہوتی ہے۔مگر دیکھا گیا ہے کہ وارداتیں چھپانے یا نظر انداز کرنے یا بھول جانے سے ریپ کم نہیں ہوتے بلکہ اور بڑھ جاتے ہیں۔لیکن چھپانے اور ظاہر کرنے کا دار و مدار بھی اس پر ہے کہ معاشرے کی ثقافتی ، مذہبی ، سیاسی و اقتصادی ساخت کیا ہے اور قانون کی عمومی عمل داری کتنی ہے یا نہیں ہے۔عموماً ریپسٹ تین طرح کے ہوتے ہیں۔وہ جو کسی غصے یا انتقام کے جذبے کے تحت یہ کام کرتے ہیں۔ان کی وارادت انفرادی و اجتماعی دونوں طرح سے ہوسکتی ہے۔پاکستان اور ہندوستان جیسے ممالک میں ریپ کی زیادہ تر وارداتوں کے پیچھے یہی محرک دیکھا گیا ہے۔ دوسری قسم کے ریپسٹ کو آپ چاہیں تو پاور ریپسٹ کہہ سکتے ہیں۔ان میں بیوی ، گرل فرینڈ ، گھریلو ملازمہ یا ملازم یا کسی ماتحت یا بے بس نظر آنے والے اجنبی وغیرہ کو اپنی جسمانی ، مالی و سماجی قوت سے زیر کرنے والوں سے لے کر بچوں اور عورتوں کی رکھوالی کے ذمے دار فلاحی رضاکاروں ، اساتذہ ، جیل کے قیدیوں ، باوردی سرکاری اہلکاروں اور کارپوریٹ و دفتری باسز سمیت کوئی بھی ہوسکتا ہے۔تھانوں اور عسکری اداروں کی تحویل میں ملزموں کے ریپ کے لیے قانون کی کتابوں میں کسٹوڈیل ریپ کی اصطلاح موجود ہے۔ ریپسٹ کی تیسری قسم سیڈسٹک یا شکار کی اذیت ناکی سے لطف اٹھانے والوں پر مشتمل ہوتی ہے۔آدمی اذیت پسند کیوں بنتا ہے ؟ اس کے انفرادی و اجتماعی محرکات ایک علیحدہ نفسیاتی و سماجی بحث کے متقاضی ہیں۔اس طرح کے ریپسٹ اپنے شکار کو طرح طرح کی من پسند جسمانی و ذہنی اذیت ناکی سے گذار کر جنسی تلذز حاصل کرتے ہیں۔وہ مار پیٹ سے لے کر شکار کے حساس و نازک اعضا اور چہرے تک کو مسخ کرسکتے ہیں اور قتل بھی کرسکتے ہیں اور بعد از قتل بھی جسم کو مسخ کرسکتے ہیں۔ان سب حرکتوں سے انھیں ایک طرح کا سکون حاصل ہوتا ہے اور اگر وہ کسی کی نظروں میں نہ آئیں تو اگلے شکار کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔عموماً سیڈسٹ ریپسٹ اپنا کام انفرادی طور پر کرتے ہیں لیکن ایسی بھی مثالیں ہیں کہ ایک سے زائد اذیت پسند ریپسٹ گروپ کی شکل میں واردات کرتے ہیں حالانکہ ایسی مثالیں کم کم ہیں۔ ریپ کسی دشمن گروہ کے خلاف بطور ہتھیار بھی استعمال ہوتا ہے۔اور آج سے نہیں پرانے زمانے سے ایسا ہورہا ہے۔عورتیں اور نو عمر بچے ہمیشہ سے مالِ غنیمت کے زمرے میں شامل رہے ہیں۔ریپ بطور ہتھیار حریف کو علاقے سے نکالنے یا اسے ذلیل و رسوا کرکے مسلسل زیر رکھنے کی کوشش کے طور پر استعمال ہوتا آیا ہے۔خانہ جنگی ہو کہ کھلی جنگ ریپ کا ہتھیار ہر ایسی صورتِ حال میں آزمایا جاتا ہے۔میری یا مجھ سے بڑی عمر کے لوگوں کی یادداشت میں جو بڑے بڑے واقعات ہیں، ان میں سن سینتالیس کی تقسیم کی خونریزی ، مشرقی پاکستان ، بوسنیا اور روانڈا کی خانہ جنگی اور کشمیر کا قضیہ شامل ہیں۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد سے بیسویں صدی کے تقریباً ہر بحران میں ریپ بطور ہتھیار استعمال ہوا۔جاپان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے پچھلی صدی کے پہلے نصف میں منظم طریقے سے کوریا اور چین کے علاقے منچوریا اور نانجنگ پر نوآبادیاتی قبضے کے دوران لاکھوں مقامی عورتوں کو حملہ آور فوج کی جنسی تسکین کے لیے قحبہ خانوں میں بٹھا دیا۔ان عورتوں کے لیے ’’ کمفرٹ ویمن ’’ کی اصطلاح وضع کی گئی۔ عجیب بات ہے کہ انیس سو انچاس کے جنیوا کنونشن سے پہلے ریپ جنگی جرائم کے فہرست میں شامل نہیں تھا۔اسی لیے نازیوں کے خلاف نورمبرگ ٹرائل اور جاپانی جنگی مجرموں کے خلاف ٹوکیو ٹرائل میں ریپ کی فردِ جرم عائد نہیں ہوسکی۔ البتہ جنگی جرائم کی بین الاقوامی عدالت نے روانڈا میں نسل کشی کے مقدمے کی سماعت کے دوران انیس سو اٹھانوے میں یہ تاریخی رولنگ دی کہ دورانِ جنگ ریپ بھی انسانیت کے خلاف جرائم کی فہرست میں شامل ہے۔ عام طور سے ریپ کے شکار کے ساتھ وقتی ہمدردی تو کی جاتی ہے لیکن پھر اسے اپنے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔حالانکہ جتنی نفسیاتی مدد کی اسے ضرورت ہوتی ہے شائد ہی کسی کو ہو۔ریپ کے تجربے سے گذرنے والا نفسیاتی و جسمانی طور پر بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتا ہے۔اس پر کبھی غصہ غالب آجاتا ہے ، کبھی دشمنی کا جذبہ عود کر آتا ہے اور کبھی کنفیوژن تو کبھی خوف کی کیفیت میں مبتلا ہوجاتا ہے۔وہ اچانک چیخ اور دھاڑ بھی سکتا ہے اور سکتے کی کیفیت میں بھی مبتلا ہو سکتا ہے۔اسے نہ تو اپنے جذبات پر قابو رہتا ہے نہ ہی اعصابی نظام پر۔اس کی بھوک اور نیند بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ اگر اسے بروقت نفسیاتی مدد اور قریبی لوگوں کی توجہ نہ ملے تو خود کو زندگی سے الگ تھلگ کرتا چلا جاتا ہے اور انتہائی قدم کے طور پر اپنی جان بھی لے سکتا ہے۔یہ تمام مسائل ریپ کے شکار کی نفسیاتی و جسمانی بے بسی سے جنم لیتے ہیں۔اور یہی وہ وقت ہے جب اس کے پیارے اسے گلے لگا کر اور اپنے قریب رکھ کے بتائیں کہ جو کچھ بھی ہوا اس میں وہ بے قصور ہے اور ان حالات میں جو بھی ہوتا اس کے ساتھ یہی ہوتا۔ اسے اشد ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی ہو جو زندگی پر اس کا اعتماد پھر سے بحال کرے۔ان حالات میں اسے معنی خیز نگاہوں سے دیکھنا ، رویہ بدل لینا ، اسی کو بار بار قصور وار ٹھہرانا اور پھر کٹہرے میں کھڑا کرکے مزے لے لے کر سوال و جواب کرنا اور اس کے نام کی تشہیر کرنا۔یہ سب حرکتیں دراصل ایک اور ریپ کے مترادف ہیں۔ ریپ ختم تو نہیں ہوسکتا البتہ کم ضرور کیا جاسکتا ہے۔اس کے لیے قوانین کو کاغذ پر سخت کرنے سے زیادہ ان پر واقعی عمل درآمد کی ضرورت ہے۔اپنے بچوں اور بچیوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ وہ گھر کے اندر اور باہر کس سے کس حد تک تعلق رکھ سکتے ہیں اور حد عبور ہونے کی صورت میں کون کون سے خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔انھیں عمر کے ساتھ ساتھ بدلتی جسمانی و جذباتی تبدیلیوں کے اسباب کے بارے میں بااعتماد بنانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ لاعلمی و تاریکی میں کسی اپنے یا پرائے کا شکار نہ بن جائیں۔ انھیں ان لالچی ترغیبات کے بارے میں کھل کے بتانے کی ضرورت ہے جو ان کے لیے پھندہ ثابت ہو سکتی ہیں۔انھیں یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ زندگی نہ تو بالکل تاریک ہے نہ ہی مکمل روشن۔دنیا نامی اس جنگل میں محتاط بھی رہنا ہے ، خونخوار جانوروں کی بھی پہچان رکھنی ہے اور زندگی کا لطف بھی اٹھانا ہے۔انھیں یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ ناگہانی مصیبت کبھی بھی کسی بھی وقت آسکتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم حوصلہ ہار جاؤ۔ہم ہیں نا…
  5. یہ واقعہ کافی عرصے سے زیر بحث ہے۔ لڑکی کے ریپ کی ویڈیو کے متعلق تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا۔ نہ ہی سائبر کرائم کا کوئی قانون بن سکا ہے۔
  6. پاکستان میں لڑکی کے ریپ کی فلم بنانے اورشیئر ہونے کی کہانی پاکستان کے ایک دیہاتی علاقے میں نوجوان لڑکی سے جنسی درندگی اور اس کی ویڈیو بنائے جانے پر لڑکی خاموش رہی لیکن جب موبائل فون اور انٹرنیٹ پر ویڈیو کی بڑی تعداد میں شیئرنگ ہوئی تو انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کو مذکورہ ویڈیو شیئرنگ سے روکنے کیلئے کچھ کوشش کی گئی ۔ برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘نے پاکستان میں ایک ریپ کے کیس کو اجاگر کیا گیا جس کی ویڈیو عام کردی گئی تھی جس کے بعد انگریزی کہانی کاقارئین کی آسانی کیلئے اردومیں ترجمہ کیاجارہاہے۔ رپورٹ کے مطابق23سالہ سعدیہ (اصل نام نہیں )کاخیال تھاکہ اگر وہ خاموش رہی تواس سے اُس کی بدنامی نہیں ہوگی اور لوگ ریپ کا شکار ہونیوالی کے حوالے سے شناخت نہیں بنائیں گے لیکن کچھ دنوں یا ہفتوں بعد بدفعلی کی دوویڈیوز شیئرہوناشروع ہوگئیں ،ایک کا دورانیہ پانچ منٹ اور دوسری کا چالیس منٹ تھا۔ ویڈیو میں دکھایاگیاکہ چارافراد لڑکی کاباری باری ریپ کرتے ہیں اور جب وہ رحم کی اپیل کرتی ہے توجلدہی پنجاب کے قصبوں اور دیہاتوں میں ویڈیو پھیلناشروع ہوجاتی ہے ۔ سعدیہ کے والد نے بتایاکہ ’خاندان میں ویڈیو دیکھنے والا پہلا شخص بڑا بھائی تھاجس نے ویڈیو دیکھ کر سعدیہ کو پہچانا اور پھر اُن کے پاس آیا، سعدیہ بہت شرمند ہ تھی اور باپ ہونے کی وجہ سے اُس نے مجھے نہیں بتایا، اگرا ُس کی والدہ زندہ ہوتیں تو یقین ہے کہ وہ اُنہیں لازمی بتاتی ‘۔معاملہ علم میں آنے کے بعد رپورٹ درج کرائی اور چھوٹے سے علاقے میں ملزمان کو شناخت کرنا مشکل نہیں تھااور چاروں کو گرفتارکرلیاگیا۔ لڑکی کی عمر ابھی 23سال ہے لیکن وہ اس سے کہیں کم عمر دکھائی دیتی ہے ، والدہ کی وفات کے بعد اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی وہ ماں کی طرح پرورش کررہی ہے ۔ سعدیہ نے بتایاکہ’ وہ اپنی چھوٹی بہن کا سکول یونیفارم خریدنے دکان پر جارہی تھی کہ اسلحہ کے زور پر چارافراد نے اُسے کارمیں ڈال لیاگیا، ایک ویران گھر میں لے جاکر جنسی زیادتی کی جبکہ ایک موبائل فون سے ویڈیو بناتے رہے ، رحم کی اپیل کرنے پر ملزموں نے مزید تشددکا نشانہ بناناشروع کردیا،ملزمان کاکہناتھاکہ اگر اُن کی بات نہ مانی گئی تو وہ ویڈیو انٹرنیٹ پر ڈال کر پھیلادیں گے اور اُس کے بہن بھائیوں کو بھی نقصان پہنچائیں گے “۔ سعدیہ کاکہناتھاکہ اُسے اپنی فکر نہیں لیکن وہ نہیں چاہتیں کہ اُس کی وجہ سے اُس کے بہن بھائیوں کو نقصان پہنچے اوریہی وجہ تھی کہ کسی سے ذکر نہیں کیا، وہ بڑے پیمانے پر ویڈیو پھیلنے سے باخبرہے،بہت سے لوگ صرف تفریح کیلئے یہ ویڈیو دیکھ رہے ہیں ‘۔ بی بی سی کے مطابق فیس بک سمیت سوشل میڈیا اور بلوٹوتھ کے ذریعے موبائل فون پر بڑی تعداد میں شیئرہوئیں اور تاحال شیئرنگ ہورہی ہے کیونکہ اِسے روکنے کیلئے پاکستان میں قانون ہی موجود نہیں ۔ سعدیہ پنجاب کے ایک روایتی گاﺅں میں رہتی ہے جس کے کچے گھر کے اردگرد گنے کے کھیت ہیں ۔ بی بی سی کی نمائندہ نے لکھاکہ جب وہ تھانے میں ریمانڈ پر موجود ملزموں سے ملنے گئی تواُنہوں نے خبر عام کرنے سے روکنے کے لیے ہاتھ جوڑ لیے ، اُن کا مقدمہ تاحال زیرسماعت ہے ۔ ملزموں پر اغواء، گینگ ریپ او رفحاشی پھیلانے کا الزام عائد کیاگیاہے جبکہ ویڈیو تاحال آن لائن موجود ہے لیکن پولیس کا موقف ہے کہ وہ ویڈیو کوہٹانے کیلئے کوشش کررہے ہیں ، جہاں تک گینگ ریپ کا تعلق ہے تو ویڈیو کی موجودگی کی وجہ سے سعدیہ کا کیس کافی مضبوط ہے ۔ ویڈیو کی موجودگی کی وجہ سے سعدیہ اپنے ہی گھر میں قیدی بن کر رہ گئی ہیں۔ سائبرکرائم سے متعلق ماہروکلاءکا کہناہے کہ پاکستان میں ایساکوئی مخصوص قانون موجود نہیں جس کے تحت ویب سائیٹس کو حکم دیاجائے کہ ویڈیو ہٹائی جائے ، سیاسی عدم دلچسپی کی وجہ سے مستقبل قریب میں بھی ایسی کوئی پیش رفت دکھائی دیتی نظر نہیں آرہی ۔ بی بی سی نے لکھاکہ یہ معاملہ عالمی نشریاتی ادارے کے علم میں اس وقت آیا جب ایک شہری نے فیس بک پیج پر ویڈیو کے ساتھ اپیل کی تھی ، دلخراش مناظر دیکھنے کے بعد معاملے کی تحقیقات کا فیصلہ کیا۔
  7. واقعی بہت دلخراش ہوتی ہیں ایسی خبریں مگر لوگ ہیں کہ پھر بھی باز نہیں آتے۔ بس اب انھیں ہدایت کی ہی ضرورت ہے۔

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.