Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 24/10/15 in Posts

  1. 1 like
    جب پطرس بخاری سے پوچھا گیا کیا آپ کبھی لاجواب ہوے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا ایک بار ہو گیا تھا. " ہوا یوں کہ میری گھڑی خراب ہو گئی. بازار میں گھڑیوں کی دکان نظر آئی میں دکان میں گیا انھیں گھڑی دی کہ یہ ٹھیک کرانی ہے. وہ کہنے لگے ہم تو گھڑیاں ٹھیک ہی نہیں کرتے" میں نے پوچھا تو "آپ کیا کرتے ہیں؟" جواب آیا "جی ہم ختنے کرتے ہیں " پطرس بخاری: " تو پھر یہ گھڑیاں کیوں لٹکائی ہوئی ہیں؟" دکاندار: : تو آپ ہی بتا دیں کہ ہم کیا لٹکائیں؟"
  2. نوجوان لڑکے اور لڑکی کا اپنے والدین کی آنکھوں میں دھول جھونک کر تنہائی میں ملناآج کی جدید اصطلاح میں Dating اور ''ڈیٹ مارنا''کہلاتا ہے۔ ڈیٹنگ کا یہ رُجحان سب سے زیادہ ہمارے تعلیمی اداروں(یونیورسٹی' کالج'حتیٰ کہ سکول)کے نوجوان اور نوعمر لڑکے لڑکیوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ لڑکے اورلڑکیاں گھروں سے اپنے تعلیمی اداروں کے لیے نکلتے ہیں لیکن وہاں جانے کے بجائے اپنے نام نہاد عاشقوں اور محبوباؤں کے ساتھ ڈیٹ مارنے چلے جاتے ہیں اور گھر والوں کو کسی قسم کا کوئی شک تک نہیں ہوتا۔ ڈیٹنگ کے ابتدائی چند دن کسی پارک میں درختوں یاجھاڑیوں کی اوٹ میں گزرتے ہیں جہاں یہ نوجوان جوڑے سرعام بوس وکنارکرتے اور بہت ہی نازیبا حرکات کرتے ہیں۔لاہور میں ڈیٹنگ کے لیے تین پارک سرفہرست ہیں ۱)باغِ جناح' (۲)ماڈل ٹاؤن سنٹرل پارک'اور (۳) ریس کورس پارک۔ جب میں ماڈل ٹاؤن پارک گیا تووہاں سینکڑوں کی تعداد میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ڈیٹ مارنے آئے ہوئے تھے 'جبکہ اُن میں سے بعض تو کالج اور سکول کے یونیفارم میں موجودتھے جو اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ یہ لوگ گھروں سے تعلیم حاصل کرنے کے لیے آئے ہیں۔ پارک میں موجود سیکیورٹی گارڈز سے جب میں نے اس بارے میں پوچھا تو اُن میں سے ایک نے بتایا کہ اس پارک کے ٹکٹ کا ٹھیکہ ایک کروڑ سالانہ میں ہوا ہے اور ہمیں سختی سے منع کیا گیا ہے کہ کسی کو بری سے بری حرکات پر بھی نہ روکا جائے۔اس لیے کہ اگر ان جوڑوں کو روکا گیا تو پھر یہاں کون آئے گا۔ایک مالی نے بتایا کہ یہاں ہر روز سینکڑوں کی تعداد میں سکول 'کالج اور یونیورسٹی کے سٹوڈنٹ آتے ہیں اور ایسی ایسی گندی حرکتیں کرتے ہیں کہ ہمیں شرم آجاتی ہے مگر وہ بے شرم سر عام اپنے ''پیار'' میں مصروف رہتے ہیں۔اُس کا کہنا تھا کہ یہاں جھاڑیوں کی اوٹ میں ہم نے بہت سے جوڑوں کو زنا تک کرتے دیکھا ہے۔ میں نے پوچھا: کیا لڑکیاں منع نہیں کرتیں۔ اُس نے کہا کہ بعض لڑکیاں تو خودلڑکوں کو گندی حرکات پر اُکساتی ہیں'جبکہ بعض نوعمر لڑکیاں پہلے پہل شرم دکھاتی ہیں اور لڑکوں کو ایسی حرکات سے منع کرتی ہیں 'مگر جولڑکا اُسے اتنی دور سے لے کر آیا اور اس نے اسے کھلایا پلایا ہوتا ہے تو وہ اپنی ہوس پوری کیے بغیر نہیں رہتا۔ ایسا ہی حال باغِ جناح اور ریس کورس پارک میں بھی دیکھنے کوملتاہے۔باغِ جناح میں تو چند ایک پہاڑیاں بھی موجود ہیں جو ڈیٹ پرآئے جوڑوں کے لیے کسی فائیوسٹار ہوٹل کے کمرے سے کم نہیں ہے اس لیے کہ یہاں انہیں مکمل تنہائی میسر آتی ہے اور انہیں کسی کا ڈر نہیں ہوتا۔ ڈیٹنگ کا دوسرا مرحلہ دل دہلا دینے والاہے۔غریب جوڑے اپنے کسی دوست کے گھر کا انتخاب کرتے ہیں جس کے گھر والے کسی تقریب وغیرہ میں گئے ہوتے ہیں'جبکہ امیر زیادہ تر ہوٹلوں اورجابجا موجود پرائیویٹ گیسٹ ہاؤس کا انتخاب کرتے ہیں۔اس طرح ان جوڑوں کو مکمل تنہائی میسر آتی ہے اور پھر یہ جوڑے وہ تعلق قائم کرلیتے ہیں جو میاں بیوی شادی کے بعد قائم کرتے ہیں۔شادی سے پہلے ایسے تعلق قائم کرنے کو ''زنا''سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اسلام میں اس کی سزاسو کوڑے ہیں۔ پاکستانی قانون میں بھی یہ ایک قابل سزا جرم ہے۔ ڈیٹنگ کے ظاہری نقصانات تو سب کے سامنے ہیں'جبکہ اس کا ایک بہت بھیانک نقصان ''بلیک میلنگ ''ہے۔یہ جوڑے جہاں ڈیٹ مارنے جاتے ہیں وہاں کی انتظامیہ خفیہ کیمروں سے اُن کی ویڈیو بنا لیتے ہیں۔اس سے وہ ان کو بلیک میل کرتے ہیں۔لڑکوں سے تو وہ رقم کا مطالبہ کرتے ہیں جبکہ لڑکیوں سے رقم کے ساتھ جنسی تعلقات کی خواہش کا اظہارکرتے ہیں۔اب یہ دونوں پولیس اور اپنے گھر والوں کے ڈر سے ان کے مطالبات ماننے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ابھی چند سال پہلے اسلام آباد ' کراچی او رپاکستان کے چند ایک اور بڑے شہروں میں انٹر نیٹ کلب کے کیبنوں میں ڈیٹنگ پر آئے ایسے ہی ہزاروں جوڑوں کی غیر اخلاقی ویڈیوز کے منظر عام پر آنے نے ایک تہلکہ مچا دیاتھا۔کئی لڑکیوں نے اس پر خودکشیاں کیں اور بہت سو کے گھر اُجڑے۔ اسی طرح ابھی پچھلے سال ویلنٹائن ڈے کے موقع پر کراچی کے آئس کریم پارلر پر ڈیٹ پرگئے سینکڑوں کی تعداد میں جوڑوں کی ویڈیوانتظامیہ نے بنا کر انتہائی مہنگے داموں گندی سائٹس کو نہ صرف بیچیں بلکہ اُن جوڑوں کو بلیک میل بھی کیا۔ بلیک میلنگ کادوسرا رخ یہ ہے کہ لڑکے خود سے اپنی محبوبہ کی ویڈیوبنالیتے ہیں۔بعض لڑکے تو یہ ویڈیو گندی سائٹس کو اچھی خاصی رقم کے بدلے بیچ دیتے ہیں اور اس طرح یہ اس لڑکی کی عزت پلک جھپکتے ساری دنیا میں نیلام ہوجاتی ہے۔جبکہ بعض لڑکے ان ویڈیوز سے لڑکیوں کو بلیک میل کرکے رقم بھی بٹورتے ہیں اور اپنی ہوس بھی پوری کرتے رہتے ہیں۔ایسے سینکڑوں واقعات اب تک میڈیا میں رپورٹ ہوچکے ہیں اور رپورٹ نہ ہونے والے واقعات کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ اس حوالے سے صرف ایک واقعہ ملاحظ ہو جس کو پڑھ کر شاید آپ کے بھی رونگٹھے کھڑے ہوجائیں گے۔ملتان کے ایک سکول کی نویں جماعت کی طالبہ کی موبائل پر ایک لڑکے سے دوستی ہوگئی۔انہوں نے ڈیٹ پرجانے کا پروگرام بنایا اور ایک پارک میں ملے۔جہاں لڑکے کے دوستوں نے اُن کی ویڈیو بنا لی۔چند دن بعد لڑکے نے ویڈیو دکھا کر اُسے اپنے دوست کے گھر بلاکر اپنی ہوس کا نشانہ بنایا اور اس کی ویڈیوبھی بنا لی۔ کچھ دن بعد لڑکے کا دل جب اُس لڑکی سے بھر گیا تو اُس نے وہ ویڈیو اپنے دوستوں کو دے دی۔پھر اس کے دوستوں نے باری باری اس معصوم لڑکی کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔درندگی کی انتہا دیکھئے کہ پندرہ سالہ بچی مسلسل چھ ماہ تک بیس لوگوں کے ہوس کا نشانہ بنتی رہی'لیکن اپنی او راپنے والدین کی عزت کی خاطر چپ چاپ سب سہتی رہی۔ اس کے بعد اُن درندوں نے وہ ویڈیولڑکی کے باپ کو دکھا کر تین لاکھ کا مطالبہ کیا ۔باپ نے پولیس کو اطلاع دی تو اُن میں سے تین ملزمان گرفتارہوگئے۔آپ سوچئے کہ یہ سب صرف ایک بار ڈیٹ مارنے کا نتیجہ ہے اور اب اُس لڑکی اور اس کے گھر والوں کے پاس جینے کا کون سا بہانا باقی ہے۔ ڈیٹنگ کے بے شمار نقصانات ہیں کہ کوئی بھی عقل وفہم رکھنے والا اور دوسروں کی بہن بیٹیوں کو اپنی بہن بیٹی سمجھنے والا انسان سوچ کر بھی کانپ اُٹھتا ہے۔ میری والدین اور بھائیوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنی بہن بیٹیوں پر نظر رکھیں' او رگاہے بگاہے ان کے موبائل کو چیک کرتے رہیں اس لیے کہ ڈیٹنگ کا یہ سارا کھیل موبائل کے سر پر ہی کھیلا جاتا ہے۔ لڑکیوں سے گزارش ہے کہ لڑکوں کی دوستی اور عشق کے چکروں میں آکر ڈیٹنگ پہ جانے کا خیال اپنے دل سے نکال دیں اور ملتان کی لڑکی کے واقعہ کو یاد رکھیں جو ایک ڈیٹ کی وجہ سے بیس لوگوں کے ہوس کا نشانہ بنی۔خدانخواستہ ایسا آپ کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔پھر یہ ضرور یاد رکھیں کہ ڈیٹ مارنے میں سب سے زیادہ نقصان لڑکی کا ہی ہوتا ہے اس لیے کہ اگر بلیک میلنگ نہ بھی ہو تب بھی لڑکی کی عزت اس ڈیٹنگ میں چلی جاتی ہے۔ آخر میں'میری تمام نوجوانوں سے گزارش ہے کہ کسی لڑکی کو اپنے جھوٹے پیار میں پھنسانے'اُسے اپنی ہوس کا نشانہ بنانے' بلیک میل کرنے یا اُس کی ویڈیو بنا کر انٹرنیٹ پر اَپ لوڈ کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچ لیں کہ کل کوآپ کی بہن'بیٹی کے ساتھ بھی ایسا ہوسکتا ہے۔اس بارے میں ہر ایک کو ضرور سوچنا چاہئے
  3. آدھی رات کو اچانک بیوی کی آنکھ کھلی، اس نے دیکھا کہ اس کا شوہر بستر میں نہیں ہے۔ وہ تشو یش کے مارے اٹھی اور سیڑھیوں سے اتر کر کچن میں آئی۔ تو شوہر کو کافی کا مگ ہاتھ میں پکڑ کر گہری سوچوں میں گم دیوار کو گھورتے پایا۔ بیوی نے جب شوہر کو آنسو پوچھ کر کافی کا سپ لیتے دیکھا تو بولی: کیا مسئلہ ہے ڈئیر؟ تم رات گئے اس وقت یہاں کیا کر رہے ہو۔ شوہر: (کافی سے سر اٹھایا اور بولا) تمھیں یاد ہے بیس سال پہلے جب تم اٹھارہ سال کی تھی تو ہم چوری چوری ملنے گئے۔ (شوہر نے آہ بھری، الفاظ آسانی سے نہیں نکل رہے تھے) اور کیا تمھیں یاد ہے جب تمہارے باپ نے ہمیں پکڑ لیا تھا۔ بیوی: (شوہر کے ساتھ کرسی پر بیٹھتے ہوئے) ہاں ڈئیر مجھے اچھی طرح یاد ہے شوہر: تمھیں یاد ہے جب تمہارے باپ نے شاٹ گن مجھ پر تان کر کہا تھا، یا تو میری بیٹی سے شادی کر لو یا میں تمھیں بیس سال کے لئے جیل بجھوا دوں گا بیوی: ہاں ڈئیر یہ بھی مجھے اچھی طرح یاد ہے شوہر: (آنسو پونچھتے ہوئے) آج میں رہا ہو گیا ہوتا ۔ ۔ ۔
  4. بازار میں اک نئی دکان کھلی جہاں شوہر فروخت کیے جاتے تھے۔ اس دکان کے کھلتے ہی لڑکیوں اور عورتوں کا اژدہام بازار کی طرف چل پڑا ۔ سبھی دکان میں داخل ہونے کے لیے بے چین تھیں۔ دکان کے داخلہ پر ایک بورڈ رکھا تھا جس پر لکھا تھا ۔ “اس دکان میں کوئی بھی عورت یا لڑکی صرف ایک وقت ہی داخل ہو سکتی ہے “ پھر نیچے ھدایات دی گئی تھیں ۔۔۔ ” اس دکان کی چھ منزلیں ہیں ہر منزل پر اس منزل کے شوہروں کے بارے میں لکھا ہو گا ، جیسے جیسے منزل بڑھتی جائے گی شوہر کے اوصاف میں اضافہ ہوتا جائے گا خریدار لڑکی یا عورت کسی بھی منزل سے شوہر کا انتخاب کر سکتی ہے اور اگر اسمنزل پر کوئی پسند نہ آے تو اوپر کی منزل کو جا سکتی ہے ۔مگر ایک بار اوپر جانےکے بعد پھر سے نیچے نہیں آ سکتی سواے باھر نکل جانے کے “ ایک خوبصورت لڑکی کو سب سے پہلے دکان میں داخل ہونے کا موقع ملا، پہلی منزل کے دروازے پر لکھا تھا ۔ ” اس منزل کے شوہر برسر روزگار ہیں اور الله والے ہیں” لڑکی آگے بڑھ گئی۔دوسری منزل کے دروازہ پر لکھا تھا۔ ” اس منزل کے شوہر برسر روزگار ہیں ‘ الله والے ہیں اور بچوں کو پسند کرتے ہیں “ لڑکی پھر آگے بڑھ گئی۔تیسری منزل کے دروازہ پر لکھا تھا ۔ ” اس منزل کے شوہر برسر روزگار ہیں ‘ الله والے ہیں بچوں کو پسند کرتے ہیں اور خوبصورت بھی ہیں “ یہ پڑھ کر لڑکی کچھ دیر کے لئے رک گئی ‘ مگر پھریہ سونچ کر کہ چلو ایک منزل اور جا کر دیکھتے ہیں وہ اوپر چلی گئی۔چوتھی منزل کے دروازہ پر لکھا تھا - ” اس منزل کے شوہر برسر روزگار ہیں ‘ الله والے ہیں بچوں کو پسند کرتے ہیں ‘ خوبصورت ہیں اور گھر کےکاموں میں مدد بھی کرتے ہیں “ یہ پڑھ کر اس کو غش سا آنے لگا ‘ کیا ایسے بھی مردہیں دنیا میں ؟ وہ سونچنے لگی کہ شوہرخرید لے اور گھر چلی جائے ، مگر دل نہ مانا وہ ایک منزل اوراوپر چلی دی۔وہاں دروازہ پر لکھا تھا ۔ ” اس منزل کے شوہر برسر روزگار ہیں ‘ الله والے ہیں بچوں کو پسند کرتے ہیں ‘ بیحد خوبصورت ہیں ‘ گھر کےکاموں میں مدد کرتے ہیں اور رومانٹک بھی ہیں “ اب اس عورت کے اوسان جواب دینے لگے – وہ خیال کرنے لگی کہ ایسے مرد سے بہتر بھلا اور کیا ہو سکتاہے مگر اس کا دل پھر بھی نہ مانا وہ اگلی منزل پر چلی آئی۔یہاں بورڈ پر لکھا تھا ” آپ اس منزل پر آنے والی ٣٤٤٨ ویں خاتوں ہیں – اس منزل پر کوئی بھی شوہر نہیں ہے – یہ منزل صرف اس لئے بنائی گئی ہے تا کہ اس بات کا ثبوت دیا جا سکے کہ”عورت کو مطمئن کرنا نا ممکن ہے” ہمارے سٹور پر آنے کا شکریہ، سیڑھیاں باھر کی طرف جاتی ہیں۔
  5. بہت ہی عمدہ اور بامقصد تحریر ہے ہر نوجوان لڑکے اور لڑکی کو چاہیے اور اس تحریر کو پڑھے اور ڈیٹنگ یا محبت کے جھانسوں سے ہر ممکن احتراز کرے خصوصاََ اس بات کا خیال رکھیں کہ کہیں کو ئی ویڈیو تو نہیں بنا رہا آجکل کے حقائق بے حد خوفناک ہیں - موبائیل، انٹرنیٹ اور کیمرہ ٹیکنالوجی نے ہر کسی کی عزت کو چوراہے پر لا کھڑا کیا ہے
  6. بیوی سے پنگا مہنگا پڑا..
  7. فوجی یونٹ میں ایک سپاہی شرطیں لگانے اور حیرت انگیز طور پرجیت جانے میں بڑی شہرت رکھتا تھا ۔ ایک یونٹ سے دوسرے یونٹ میں اس کا تبادلہ ہوا تو اس کی سابقہ یونٹ کے کما نڈر آفیسر نے اس کے نئے یونٹ کے کمانڈر آفیسرکو ٹیلی فون پر بتا یا کہ ہماری یونٹ سے آپ کے ہاں ایک پوسٹ ہو کر ٓانے والا فالاں سپاہی شر طیں لگانے اور ہر بار جیت جانے میں بڑا ما ہر ہے ،تم احتیاط کرنا ۔ . احتیاط کی تلقین پانے والے کمانڈر آفیسر کو نئے آنے والے سپاہی کے باتے میں تجسس بڑھا اور اس نے اپنے پرسنل اسسٹنٹ سے کہا... یہ باکمال سپاہئ جونہی یو نٹ پہنچے مجھے اس سے ملوا دینا ۔ . اگلے دن نئی کلف شدہ وردی پہنے یہ سپاہی کما نڈر آفیسر کے سامنے کھڑا تھا ۔ صاحب کے استفسار پر اس نے کہا... سر ایسی کوئی بات نہیں ، میں یونہی بات بات پر شرط نہیں لگاتا ۔ بس جب بات ہی ایسی ہو تو شرط لگا نا پڑتی ہے اور ہار جیت تو مقدر کی بات ہے۔ جیسے اب مجھے معلوم ہے کہ آ پ کی پیٹھ پر تل ہے آپ اگر پانچ سو روپے کی شرط لگاتے ہیں تو میں اس کیلئے تیار ہوں۔ . کما نڈر آفیسر کو بھی کبھی نہ ہارنے والے کو ہرانے کا اشتیاق تھا ، اس نے فورا اپنی شرٹ کے بٹن کھولے اور پیٹھ دکھا دی۔ . سپا ہی نے اپنی جیب سے فورا پانچ سو روپے نکال کر میز پر رکھے اور کہا... سر میں یہ شرط ہار گیا ہوں ، یہ پانچ سو روپے آپ کے ہوئے۔ . کما نڈر آفیسر نے فاتحانہ انداز سے فون پر اس کے سا بقہ کمانڈر آفیسر سے کہا... تم تو کہتے تھے کہ وہ کبھی شرط نہیں ہارتا ، اور پھر تمام واقعہ سنایا۔ . سپاہی کے سابقہ کما نڈر آفیسر نے کہا ... جناب آپ نے مجھے مروا دیا اس نے جاتے ہوئے مجھ سے ہزار روپے کی شرط لگا ئی تھی کہ میں نئی یونٹ میں جاتے ہی کمانڈنگ آفیسر کی شرٹ اتروا دوں گا
  8. جدید تعلیم سے فارغ ہونے والے دو نوجوان دوستوں کو ایک ہی ملٹی نیشنل کمپنی میں اچھی ملازمت مل گئی۔ . ایک بار باس نے کمپنی کے ملازمین کو دعوت دی۔ دعوت کے دوران باس نے ان میں سے ایک نوجوان کے ادبی ذوق کا اندازہ کرنے کیلئے پوچھا... "عمر خیام کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟" . نوجوان نے جواب دیا... "اچھی جگہ ہے سر۔ لیکن ذاتی طور پر میں کے ایف سی میں جانا زیادہ پسند کرتا ہوں۔" . با س نے ناگواری سے منہ بنایا اور دوسرے مہمانوں سے باتیں کرنے لگا... دعوت سے واپسی پر راستے میں دوسرے دوست نے پہلے کو ڈانٹا... "بے وقوف آدمی...! اگر تمہیں معلوم نہیں تھا کہ عمر خیام کیا ہے تو بات بدل دیتے۔ احمقانہ جواب تو نہ دیتے۔ گدھے کہیں کے ...! تمہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ عمر خیام کسی ریسٹورنٹ کا نہیں بلکہ پرفیوم کا نام ہے۔ .
  9. پاکستانیوں کے چند اہم سوالات جن کے حقیقی جوابات صرف دِل میں ہی دیے جا سکتے ہیں ۔۔۔ جب بس میں ایک موٹے انکل آپ کے پاوٗں پر چڑھ جائیں انکل : بیٹا زیادہ تو نھیں لگی ؟ جواب : نہیں انکل بہت مزہ آیا ، ایک بار پھر چڑھیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب آدھی رات کو نیند سے اٹھ کر کال ریسیو کریں کالر : یار سو تو نہیں رہے تھے جواب : نہیں تو ، لیٹ کر مرنے کی پریکٹس کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب آپ کو گھر یا آفس کے لینڈ لائن پر کال آئے کالر : کہاں ہو ؟ جواب : مارکیٹ آیا ہوں ، فون بھی گلے میں لٹکا کر لایا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب آپ بال چھوٹے کروا کر جائیں موصوف : تم نے بال کٹوائے ہیں ؟ جواب : نہیں ، شاید خود ہی اندر چلے گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب آپ کسی جگہ پہنچیں میزبان : آپ آ گئے؟ جواب : نہیں ابھی راستے میں ہوں۔
  10. 1 like
    سوندھا سنگھ اپنے علاقے کا حکمران تھا، اسے ایک لڑائی پر جانا پڑ گیا۔ اس نے اپنی بیویوں، لونڈیوں او رمال و دولت کو ایک حویلی میں بند کیا اور باہر سے تالا لگا دیا، پھر اس نے اپنے سب سے قریبی دوست کو بلایا، چابی اس کے حوالے کرتے ہوئے کہنے لگا”یار میں جنگ تے جا رہیا وہاں… پتہ نئیں بچ کے آؤناں ہندا اے کے نئیں… میں اپنی حویلی دی چابی تیرے حوالے کر کے جارھیا واں… اگر میں جنگ وچ مر گیا تے فیرتوں میری حویلی داتا لاکھولیں… میری بیویاں نال ویاں کر لئیں … سار امال وی توں ای رکھ لئیں“ دوست بہت جذباتی ہو گیا، مگر سوندھا سنگھ کے اصرار پر اس نے چابی رکھ لی۔ اگلے روز سوندھا سنگھ میدان جنگ کو روانہ ہوا، ابھی وہ اپنی راجدھانی سے چند میل دور ہی گیا تھا کہ اس کا دوست گھوڑا دوڑاتا ہوا اس سے آملا، گھوڑے سے اتر کر ہانپتے ہوئے بولا، ”یارتوں مینوں غلط چابی دے کے آگیا ویں… ایہہ تالے وچ لگ ای نئی رہی
  11. وارث سے آپ کا کیا مطلب ہے ؟ جہاں تک میں آپ کی بات کو سمجھا ہوں ۔اس کے بارے میں یہی کہوں گا۔کوئی بھی فورم کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتا۔فورم بنانے کا مقصد ایک مشترکہ پلیٹ فارم بنانا ہے ۔جہاں ہر کوئی اپنی رائے پوسٹ کر سکتا ہے۔یہاں ہر ممبر ہی فورم کا وارث ہے۔بس وہ خود کو وارث ثابت کرے اور گدی نشین ہو جائے۔جو کچھ آپ چاہ رہے ہیں۔وہی شکایت سب ممبرز کو آپ سے بھی ہے۔آپ ہر روز یہاں ان ممبرز کی اپڈیٹ پڑھنا چاہتے ہیں۔کیا کبھی آپ نے سوچا ۔کہ آج آپ نے اپنی طرف سے ان سب ممبرز کے لیئے کیا پوسٹ کیا۔ظاہر ہے۔وہ بھی فورم میں صرف لکھنے تو نہیں آتے ہوں گے۔کچھ تفریح تو ان کو بھی چاہیئے ہو گی۔مگر نہیں۔آپ کی طرح ہر ممبر صرف سوچتا ہے۔کرتا کچھ نہیں اور تو اور ان کی محنت پر ان کو شکریہ کے لیئے رپلائی تک نہیں کرتے۔جو کہ ان کا حق ہے۔تو اس سے پھر فورم میں یہی نتائج ہی نکل سکتے ہیں۔ایک بات اور کہوں گا ۔فری سیکشن کی بات نہیں کروں گا۔اردو فن کلب نے ہمیشہ مقدار سے پہلے معیار کو ترجیح دی ہے۔اور آپ کیونکہ پیڈ ممبر ہیں یہ بخوبی دیکھ سکتے ہیں۔کہ پیڈ سیکشن میں ہر تھریڈ اپنی مثال آپ ہے۔اردو فن کلب میں پیڈ سیکشن کے کچھ سلسلے جو کہ فری ممبرز کے لیئے چل رہے ہیں۔جن میں رنگین مشن اور پردیس شامل ہیں۔ میں دعویٰ سے چلینج کرتا ہوں کہ ایسی پکچرز سٹوری کہیں پوسٹ نہیں ہوتیں ۔ ایسے کلپ اتنی تواتر سے کہیں پوسٹ نہیں ہوتے،پردیس جیسا سیریل اردوادب میں سیکس کی سب سے اولین بنیاد ہے۔یہ اس فورم کی ملکیت ہے۔

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.