Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 31/08/15 in Posts

  1. یوں تو صدائے زخم بہت دور تک گئی اک چارہ گر کے شہر میں جا کر بھٹک گئی خوشبو گرفتِ عکس میں لایا اور اُس کے بعد میں دیکھتا رہا تری تصویر تھک گئی گُل کو برہنہ دیکھ کر جھونکا نسیم کا جگنو بجھا رہا تھا کہ تتلی چمک گئی میں نے پڑھا تھا چاند کو انجیل کی طرح اور چاندنی صلیب پر آکر لٹک گئی روتی رہی لپٹ کے ہر اک سنگِ میل سے مجبور ہو کہ شہر کے اندر سڑک گئی قاتل کو آج صاحبِ اعجاز مان کر دیوارِ عدل اپنی جگہ سے سرک گئی (غلام محمد قاصر)
  2. مرے روگ کا نہ ملال کر ، مرے چارہ گر میں بڑا ہوا اسے پال کر ، مرے چارہ گر سبھی درد چُن مرے جسم سے ، کسی اسم سے مرا انگ انگ بحال کر ، مرے چارہ گر مجھے سی دے سوزن ِ درد ، رشتہ ء زرد سے مجھے ضبط ِ غم سے بحال کر ، مرے چارہ گر مجھے چیر نشتر ِعشق ، سوز ِ سرِشک سے مرا اندمال بحال کر ، مرے چارہ گر یہ بدن کے عارضی گھاؤ ہیں ، انہیں چھوڑ دے مرے زخم ِ دل کا خیال کر ، مرے چارہ گر فقط ایک قطرہ ء اشک میرا علاج ھے مجھے مُبتلائے ملال کر ، مرے چارہ گر مجھے اپنے زخم کی خود بھی کوئی خبر نہیں سو نہ مجھ سے کوئی سوال کر ، مرے چارہ گر میں جہان ِ درد میں کھو گیا ، تجھے کیا ملا مجھے امتحان میں ڈال کر مرے چارہ گر ترا حال دیکھ کے روئے گا ، ترا چارہ گر مرا دل نہ دیکھ نکال کر ، مرے چارہ گر (شہزاد نیر)
  3. اسے کیا خبر کے پلک پلک روش ستارہ گری رہی اسے کیا خبر کے تمام شب کوئی آنکھ دل سے بھری رہی کوئی تار تار نگاہ بھی تھی پسِ آئنہ ، اسے کیا خبر کسی زخم زخم وجود میں بھی ادائے چارہ گری رہی میں اسیر شام قفس رہا مگر اے ہوائے دیار دل سر طاق مطلع آفتاب مِری نگاہ دھری رہی سفر ایک ایسا ہوا تو تھا کوئی ساتھ اپنے چلا تو تھا مگر اس کے بعد تو یوں ہوا نہ سفر نہ ہم سفری رہی وہ جو حرفِ بخت تھا لوحِ جاں پہ لکھا ہوا ، نہ مٹا سکے کف ممکنات پہ لمحہ لمحہ ازل کی نقش گری رہی وہی خواب خواب حکایتیں وہی خالد اپنی روایتیں وہی تم رہے وہی ہم رہے وہی دل کی بے ہنری رہی
  4. شعر کسی کے ہِجر میں کہنا، حرفِ وصال کسی سے ہم بھی کیا ہیں دھیان کسی کا اور سوال کسی سے ساری متاعِ ہستی اپنی خواب و خیال تو ہیں وہ بھی خواب کسی سے مانگے اور خیال کسی سے ایسے سادہ دل لوگوں کی چارہ گری کیسے ہو درد کا درماں اور کوئی ہو، کہنا حال کسی سے دیکھو اِک صُورت نے دل میں کیسی جوت جگائی کیسا سجا سجا لگتا ہے شہرِ ملال کسی سے تم کو زُعم فرازؔ اگر ہے تم بھی جتن کر دیکھو آج تلک تو ٹُوٹ نہ پایا، درد کا جال کسی سے (احمد فرازؔ)
  5. چارہ گر ہار گیا ہو جیسے اب تو مرنا ہی دوا ہو جیسے مجھ سے بچھڑا تھا وہ پہلے ہی مگر اب کے یہ زخم نیا ہو جیسے میرے ماتھے پہ تیرے پیار کا ہاتھ روح پر دست صبا ہو جیسے یوں بہت ہنس کر ملا تھا لیکن دل ہی دل میں وہ خفا ہو جیسے سر چھپائیں تو بدن کھلتا ہے زیست مفلس کی ردا ہو جیسے (پروین شاکر)
  6. شاعری کے انتخاب کی پذیرائی کا بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب لیکن یہ یقین کرنا خاصا مشکل ہے کہ لکھاری ہو اور شاعری سے دلچسپی پنکچر ہو
  7. واہ جی واہ۔ چارہ گر آج ستاروں کی قسم کھا کے بتا کس نے انساں کو تبسم کے لیے ترسایا کیا بات ہے جی۔۔ بہترین ۔۔ اپنی شاعری تو جناب پنکچر ہے۔کوئی شعر برسوں سے یاد ہی نہیں کیا۔

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.