October 8, 201114 yr Buhat Khoob Guru G ......Buhat Achi Update Ki Story Ap Ne.....Update Ka Shidat Se Intazar Rahe Ga
October 8, 201114 yr میں اکثر ماں سے کہتا تھا ماں! دعا کرنا کہ کبھی تیرا یہ بیٹا خاکی وردی پہنے سینے پہ تمغے سجائے مجاہدوں کا سا نور لیے تیرے سامنے فخر سے کھڑا ہو، اور میری ماں میری ماں یہ سن کر ہنس دیا کرتی تھی ـ ـ ـ کبھی جو تمہیں میری ماں ملے تو اُس سے کہنا وہ اب بھی ہنستی رہا کرے، کہ شہیدوں کی مائیں رویا نہیں کرتیں۔ ۔ ۔ ۔ میں اکثر ماں سے کہتا تھا اس دن کا انتظار کرنا، جب دھرتی تیرے بیٹے کو پکارے گی، اور ان عظیم پربتوں کے درمیان بہتے اشو کے دریا کا نیلا پانی، اور سوات کی گلیوں میں بارش کے قطروں کی طرح گرتی روشنی کی کرنیں پکاریں گی۔ ۔ ۔ اور پھر اس دن کے بعد، میرا انتظار نہ کرنا، کہ خاکی وردی میں جانے والے اکثر، سبز ہلالی میں لوٹ کر آتے ہیں۔ ۔ ۔ مگر میری ماں۔ ۔ ۔ آج بھی میرا انتظار کرتی ہے، گھر کی چوکھٹ پہ بیٹھی لمحے گنتی رہتی ہے، میرے لیے کھانا ڈھک رکھتی ہے۔ ۔ ۔ کبھی جو تمہیں میری ماں ملے تو اس سے کہنا، وہ گھر کی چوکھٹ پہ بیٹھ کر میرا انتظار نہ کیا کرے۔ ۔ ۔ ۔ خاکی وردی میں جانے والے لوٹ کر کب آتے ہیں؟ میں اکثر ماں سے کہتا تھا یاد رکھنا! اس دھرتی کے سینے پہ میری بہنوں کے آنسو گرے تھے، مجھے وہ آنسو انہیں لوٹانے ہیں۔ ۔ ۔ میرے ساتھیوں کے سر کاٹے گئے تھے اور ان کا لہو پاک مٹی کو سرخ کر گیا تھا۔ مجھے مٹی میں ملنے والے اس لہو کا قرض اتارنا ہے۔ ۔ ۔ اور میری ماں یہ سن کر نم آنکھوں سے مسکرا دیا کرتی تھی۔ ۔ ۔ کبھی جو تمہیں میری ماں ملے تو اس سے کہنا اس کے بیٹے نے لہو کا قرض چکا دیا تھا اور دھرتی کی بیٹیوں کے آنسو چن لیے تھے۔ ۔ ۔ میں اکثر ماں سے کہتا تھا میرا وعدہ مت بھلانا، کہ جنگ کے اس میدان میں انسانیت کے دشمن درندوں کے مقابل یہ بہادر بیٹا پیٹھ نہیں دکھائے گا اور ساری گولیاں سینے پہ کھائے گا اور میری ماں یہ سن کر تڑپ جایا کرتی تھی کبھی جو تمہیں میری ماں ملے تو اس سے کہنا، اس کا بیٹا بزدل نہیں تھا، اس نے پیٹھ نہیں دکھائی تھی، اور ساری گولیاں سینے پہ کھائیں تھی۔ ۔۔ ۔ میں اکثر ماں سے کہتا تھا، تم فوجیوں سے محبت کیوں کرتی ہو؟ ہم فوجیوں سے محبت نہ کیا کرو، ماں! ہمارے جنازے ہمیشہ جوان اٹھتے ہیں۔ ۔ ۔ اور میری ماںـ ـ ـ میری ماں یہ سن کر رو دیا کرتی تھی ـ ـ ـ کبھی جو تمہیں میری ماں ملے تو اس سے کہنا، وہ فوجیوں سے محبت نہ کیا کرے۔ ۔ ۔ اور دروازے کی چوکھٹ پہ بیٹھ کر میرا انتظار نہ کیا کرے سنو۔ ۔ ۔! تم میری ماں سے کہنا وہ رویا نہ کرے ۔ ۔ ۔ Guru g Aaj to aap ne Rula dia Buhat Mushkil se Update perh paya hoon me Khuda ap ko Khush rakhay Hamaisha
October 9, 201114 yr Author اس نے آنکھیں کھولیں تو تائی امی اس کے اوپر کچھ پڑھ کر پھونک رہی تھیں۔ اس نے اٹھ کر بیٹھنے کی کوشش کی تو ہاتھ میں ٹیسیں اٹھنے لگی تھیں۔ "یہ کیا کیا بیٹا؟" تائی نے نم آنکھوں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ پاس بیٹھے تایا ابو بھی اٹھ کر اس کی طرف آگئے تھے۔ "مجھے تم سے اس بے وقوفی کی امید نہیں تھی تحریم۔ جان سے زیادہ عزیز کیا ہوتا ہے؟ اگر خدانخواستہ تمہیں یا علی کو کچھ ہوجاتا تو ہمارے پاس بچتا ہی کیا۔ اسد پہلے ہی ۔ ۔ ۔ اب ہم میں مزید کوئی غم سہنے کی ہمت نہیں ہے۔" تایا ابو نے اس سے ناراضگی سے کہا تھا۔ اور تحریم نے شرمندگی سے نظریں جھکالی تھیں۔ "میں کیا کرتی تایا ابو! میں نے دے تو دیا تھا موبائل، پیسے سب۔ مگر۔ ۔ ۔مگر میں اسد کی دی ہوئی چوڑیاں کیسے دے دیتی۔ اور تایا ابو یہ سب اس طرح کب تک کرتے رہیں گے۔ یہ بھی تو مسلمان ہیں، یہ بھی تو پاکستانی ہیں۔ پھر اتنا فرق کیسے آگیا ان کی سوچ میں جو اپنے لیے ہر چیز قربان کرسکتے ہیں اور ان میں جو سب بچانے کے لیے اپنے آپ کو قربان کردیتے ہیں؟" تحریم کو روتے دیکھ کر انہوں نے بے بسی سے اس کی طرف دیکھا۔ "تمہاری بات ٹھیک ہے بیٹا۔ مگر اس طرح اپنی زندگی خطرے میں ڈال کر کچھ حاصل نہیں ہوسکتا۔ پتا نہیں ان جیسوں کی کیا مجبوریاں ہیں جو ان سے یہ سب کرواتی ہیں۔ شاید ان کا اللہ پر سے ایمان اٹھ گیا ہے۔ یا شاید محنت کرنے کے بجائے یہ راستہ بہت آسان لگتا ہے۔" انہوں نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا۔ اسی وقت آذر، تایا اور چھوٹی تائی کو لے آیا تھا۔ ان دونوں نے بھی تحریم کو اس کی بے وقوفی پر ڈپٹا تھا۔ "میں تمہیں بعد میں ڈانٹوں گا۔ پہلے ذرا ٹھیک ہو لو۔" آذر نے گھورتے ہوئے کہا تو وہ بھی چڑ گئی تھی۔ "سب مجھے ڈانٹے جارہے ہیں۔ جبکہ میں بہت خوش ہوں کہ میں اس سے ڈری نہیں۔ آپ سب ہی تو کہتے ہیں بہادر بنوں۔ میں بہت بہادر ہوں۔ بالکل اسد کی طرح۔ ایک شہید کی بیوہ کو ڈرنا بھی نہیں چاہیے۔" یہ کہتے کہتے اس نے آنکھیں جھپک جھپک کر اپنے آنسؤوں کو بہت مشکل سے روکا تھا۔ اتنے دن میں اس نے پہلی دفعہ ایسی بات کی تھی۔ مگر شہید کی بیوہ کہنے پر تائی امی بے ساختہ روپڑی تھیں اور باقی سب بھی بالکل خاموش ہوگئے تھے۔ "تائی امی! آپ مت روئیں۔ شہیدوں کی مائیں کب روتی ہیں؟ آپ تو بہت بہادر ہیں۔ اسد تو ہمیشہ یہی کہا کرتے تھے کہ میری ماں بہت بہادر ہے۔" اس نے اپنے پاس بیٹھی تائی امی کو چپ کراتے ہوئے کہا تھا۔ "کیسے بہادر بنوں میں۔ مجھ سے نہیں ہوتا یہ سب۔ میں ماں ہوں۔ اور ایک ماں اپنے اکلوتے بیٹے کی موت کیسے سہہ سکتی ہے۔" انہوں نے بے بسی سے کہا تھا تحریم بھی تھک کر چپ ہوگئی تھی۔ باقی سب بھی افسردگی سے انہیں دیکھ رہے تھے۔ تحریم کو اسی دن ڈسچارج کردیا گیا تھا۔ گھر آکر بھی ان سب نے بہت دیر تک اسد کی باتیں کی تھیں۔ اور یہ ایک طرح سے سب کے لیے اچھا ہی تھا۔ جس حقیقت سے وہ سب اتنے دنوں سے نظریں چرارہے تھے آج کھل کر رولیے تھے۔ *----------*----------*----------* وہ علی کو سلانے کی کوشش کررہی تھی جب دروازہ ناک ہوا تھا۔ اس نے دروازہ کھولا تو سامنے تایا کھڑے تھے۔ "تایا ابو آپ؟ آئیں۔ سب خیریت ہے نا؟" سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آنے تک تھکن کی وجہ سے وہ اس کے کمرے میں بہت ہی کم آتے تھے۔ اس لیے انہیں اس وقت وہاں دیکھ کر وہ تھوڑی پریشان ہوگئی تھی۔ "سب خیریت ہے بیٹا۔ ہم بس اپنے علی کو دیکھنے آگئے۔ مگر لگتا ہے یہ تو سورہا ہے" وہ کہتے ہوئے صوفے پر بیٹھ گئے تھے۔ اور اسے بھی اپنے پاس بٹھالیا تھا۔ "جی ابھی سویا ہے۔" اس نے کہتے ہوئے ان کی طرف دیکھا۔ جو سامنے دیکھ رہے تھے جہاں اسد کی تصویر لگی تھی۔ انہیں لگا اسد مسکراتے ہوئے ان کی طرف دیکھ رہا ہے۔ ان کے چہرے پر بھی ایک اداس مسکراہٹ ٹھہر گئی تھی۔ "بیٹا، اب تو اسد کی برسی بھی ہوچکی۔" انہوں نے بڑی دقت سے بولنا شروع کیا تھا۔ "جانے والے تو چلے جاتے ہیں مگر زندگی ان پر ختم نہیں ہوسکتی۔ میں اور تمہاری تائی نے سوچا ہے کہ اب تمہارے لیے بھی کچھ فیصلہ کیا جائے۔" انہوں نے اپنی بات ابھی ختم نہیں کی تھی کہ تحریم بیچ میں بول پڑی۔ "کیسا فیصلہ تایا ابو؟ اور جانے والے۔ شہید تو ہمیشہ زندہ رہتے ہیں تایا ابو۔ وہ ہمارے آس پاس ہیں۔ پھر آپ اس طرح کیوں کہہ رہے ہیں۔" اس نے ناراضگی سے کہا تھا۔ "شہید ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں بیٹا، مگر زندگی کا نام گزرتے رہنا ہے۔ اور اسے گزارنے کے لیے مضبوط سہاروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسد تمہارا مضبوط سہارا تھا۔ مگر اب اس حقیقت سے نظریں نہیں چرائی جاسکتیں کہ وہ ہم میں نہیں ہے۔" انہوں نے تمہید باندھی تھی۔ اور تحریم بے بسی سے انگلیاں مروڑ رہی تھی۔ وہ یہ سب سوچنا نہیں چاہتی تھی۔ اور جیسے تایا اس وقت ان ساری تکلیف دہ حقیقتوں کو اس کے سامنے کھول کر رکھ دینے کا ارادہ کرکے آئے تھے۔ وہی جانتی تھی کہ ان کے منہ سے یہ سب سن کر اس کے دل پر کیا گزر رہی تھی۔ "تایا ابو ہمیشہ میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے؟ پہلے ماں باپ اور بہن اور اب اسد۔" اس نے بے بسی سے کہا تھا۔ "بیٹا یہ اللہ کی طرف سے آزمائش ہوتی ہے۔ اور اللہ اپنے نیک بندوں کو ہی آزماتا ہے۔ اس کے فیصلوں پر کیوں کا کیا سوال؟ وہ ہم سے بہت بہتر جانتا ہے۔ اور اسد کی شہادت تو ہمارے لیے باعث فخر ہے۔" انہوں نے اس کا سر تھپتھپاتے ہوئے کہا۔ اور تحریم خاموشی سے آنسو بہاتی رہی۔ "اسد نے آذر سے ایک وعدہ لیا تھا۔" انہوں نے گلہ کھنکارتے ہوئے کہا۔ تحریم نے بے ساختہ سر اٹھاکر ان کی طرف دیکھا تھا۔ "ک۔ ۔۔ک کیسا وعدہ تایا ابو؟" اس کی آواز ہلک میں اٹکنے لگی تھی۔ "تحریم اس نے آذر سے کہا تھا کہ کچھ عرصے بعد تحریم سے پوچھنا کیا وہ اسد کی آخری خواہش پوری کرنے کو تیار ہے؟" انہوں نے اپنی پیشانی مسلتے ہوئے کہا۔ اور تحریم منہ ہاتھوں میں چھپا کر روپڑی تھی۔ انہوں نے اسے اپنے ساتھ لپٹالیا۔ "بیٹا آذر نے مجھے سب بتایا ہے۔ وہ چاہتا تھا تمہیں کچھ اور وقت دیا جائے۔ مگر آج میں اور تمہاری تائی نے تمہاری شادی کا ذکر کیا تو اس نے کہہ دیا کہ تحریم اسی گھر میں رہے گی۔ جیسے پہلے رہتی تھی، کیونکہ اسد کی بھی یہی خواہش تھی۔" انہوں نے اسے اپنے ساتھ لگائے ہوئے بتایا۔ "تایا ابو کیا میں اسد کی بیوہ، آپ کے بھائی کی بیٹی کے رشتے سے اس گھر میں نہیں رہ سکتی؟" اس نے شکایتی انداز میں کہا تھا۔ "بیٹا یہ سب تو ٹھیک ہے مگر تم خود سوچو۔ اب تمہاری ذمہ داری ہم پر ہے اور ہماری زندگیوں کا کیا بھروسہ؟ میرے دل پر بہت بوجھ ہے تحریم اور میں تمہارا اور علی کا مستقبل محفوظ دیکھنا چاہتا ہوں۔ شادی تو تمہیں کرنی ہے۔ پھر آذر سے اچھا اوپشن کہاں ملے گا؟ ہماری آنکھوں کے سامنے رہوگے تم دونوں۔ میرے اور تمہاری تائی کے لیے اس سے زیادہ اطمینان کی بات کیا ہوسکتی ہے؟" "مجھے کچھ وقت دیں تایا ابو۔ ابھی تو میں اسد کے غم کو جھیلنا سیکھی ہوں اور آپ لوگ ایک اور مشکل میں ڈال رہے ہیں۔" اس نے بے بسی سے کہا تھا۔ دروازہ کھول کر تائی بھی وہیں آگئی تھیں۔ اور اس رات ان دونوں نے بہت دیر تک تحریم کو سمجھایا تھا۔ ان کی باتیں بھی ٹھیک تھیں۔ مگر وہ اپنے دل کا کیا کرتی جو ابھی تک سنبھل نہیں پایا تھا۔ *----------*----------*----------* "تحریم مجھے مایوس مت کرنا!" ہر بار اسد کی یہ بات اسے بے بس کردیتی تھی۔ اس نے تحریم سے آخری دفعہ مانگا بھی تو کیا۔ تحریم نے تھک کر ڈائری بند کی اور اٹھ کر اسد کی تصویر کے سامنے آکھڑی ہوئی۔ "اسد میں نے آپ کو پہلے کبھی مایوس کیا تھا جو اب کرتی۔ مگر اسد اس دفعہ آپ نا انصافی کرگئے! مجھ سے اپنی یادوں کے ساتھ جینے کا حق بھی چھین لیا۔ تایا تائی نے جتنا میرے لیے کیا ہے میں صرف ان کی خاطر مانی ہوں۔ مگر اسد آپ نے میرے لیے بہت مشکل راستے کا انتخاب کیا ہے۔" تایا تائی نے اسے پورے چھ ماہ کا وقت دیا تھا اور اب چھ ماہ بعد اس کے رضا مندی ظاہر کرنے پر ان لوگوں کے چہروں پر خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔ دروازہ کھلنے کی آواز پر اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو تائی امی کھڑی تھیں۔ وہ بھی اس کے قریب آگئی تھیں۔ "بہت اچھی لگ رہی ہے ہماری بیٹی۔" پتا نہیں کتنے عرصے بعد اس نے ایسے کپڑے پہنے تھے۔ ورنہ اس نے تو اپنی طرف بالکل توجہ دینا چھوڑ دی تھی۔ یہ سوٹ بھی وہ جاکر لائی تھیں۔ انہوں نے ہلکے کام کے سوٹ میں ملبوس تحریم کو دیکھا۔ اور اس کی پیشانی چوم لی۔ پھر اسد کی تصویر کی طرف اداسی سے دیکھتے ہوئے مسکرائیں تھیں۔ "آج اسد بہت خوش ہوگا تحریم۔ وہ تم سے بہت محبت کرتا تھا۔ اور محبت کرنے والے اپنوں کو تکلیف میں دیکھ کر خود بھی سکون میں نہیں رہتے۔ تم نے اسد اور ہماری خواہش کا احترام کرکے ہمارا مان رکھ لیا۔" انہوں نے نم آنکھوں سے کہا تھا۔ اور بہت سی دعائیں دیتے ہوئے اسے باہر لے آئی تھیں جہاں چند لوگوں کی موجودگی میں اس کا اور آذر کا نکاح ہوا تھا۔ سب کے سامنے وہ بہت ضبط کرتی رہی۔ مگر کمرے میں آتے ہی وہ پھوٹ پھوٹ کر روپڑی تھی۔ آذر جانتا تھا اس وقت اسے حوصلے کی ضرورت ہے اسی لیے اس کے پیچھے آگیا تھا۔ اپنے کندھے پر دباؤ محسوس کرکے وہ پلٹی اور آذر کو وہاں دیکھ کر گھبراگئی تھی۔ جیسے اسد کی تصویر کے سامنے روتے ہوئے اس سے کوئی بہت بڑا جرم سرزد ہوگیا ہو۔ "تحریم، اسد سے صرف تمہارا رشتہ نہیں تھا۔ ہم سب کے لیے بھی اس صدمے کو برداشت کرنا بہت مشکل عمل تھا۔ مگر زندگی کا نام چلتے رہنا ہے۔ اسد نے جب مجھ سے تمہیں اپنانے کا وعدہ لیا اس وقت میرا ردعمل بھی ایسا ہی تھا۔ مگر میں ایک ایسے انسان کو کیسے نا امید جانے دیتا جس نے ساری زندگی ہر مشکل میں میرا ساتھ دیا تھا۔ میں تمہیں اور وقت دینا چاہتا تھا۔ مگر کچھ ماہ پہلے جو تم نے بازار میں بے وقوفی کہ تھی اس سے ڈر گیا۔ تمہیں کسی سہارے کی ضرورت تھی اور ان حالات میں تمہیں کوئی اپنا ہی سمیٹ سکتا تھا" آذر خاموش ہوا تو تحریم بول پڑی تھی۔ "میں جانتی ہوں آپ نے مجبوری میں دوستی کا حق نبھایا ہے مگر اس طرح آپ کی زندگی بھی تو خراب ہوگئی۔" اس نے شرمندگی سے کہتے ہوئے سرجھکا لیا تھا۔ "میری زندگی کیسے خراب ہوئی تحریم؟ شادی تو مجھے کرنی تھی۔ پھر جس کام سے اتنے لوگوں کو خوشیاں ملی ہیں اس سے میں بہت پرسکون ہوگیا ہوں۔ تمہیں یا علی کو کہیں اور جاتے دیکھنا ہم سب کیسے برداشت کرسکتے تھے؟ ہم سب ایک دوسرے کے اتنے عادی ہیں کہ یہ ایک اور بڑا صدمہ بن جاتا۔ اب ہم میں کوئی صدمہ برداشت کرنے کی ہمت نہیں ہے۔ اور نہ ہی مجھے یہ سب کرنے پر کسی نے مجبور کیا ہے۔ میں نے اسد سے وعدہ ضرور کیا تھا مگر تمہیں اپنی مرضی اور خوشی کے ساتھ اپنایا ہے۔ اور اب ہم میں سے کوئی بھی تمہیں روتا ہوا نہ دیکھے۔" اس نے کہتے ہوئے اس کے آنسو صاف کیے تھے اور تحریم ہلکی پھلی ہوکر مسکرادی تھی۔ اسی وقت علی بھی بھاگتا ہوا آیا تو آذر نے اسے گود میں اٹھالیا تھا۔ علی کے پیچھے آتے تایا نے ان تینوں کے مسکراتے چہروں کی طرف دیکھا اور ان کی دائمی خوشیوں کی دعا کی تھی۔ *----------*----------*----------* ختم شد
October 9, 201114 yr great guru g i have really no words nd mai tarif b ni kron ge qk ap ki is tehrer ki kisi b ilfaz mai farif kron ge to wo boht he kam lagay ge mere ankho nay to anso ka gay realy really great
October 9, 201114 yr Buhat Buhat Buhat Great Guru G.....Zabardast Janb ..... Buhat Acha Happy Happy End Kiya Hai Ap Ne ... Superb Awsome Janb Reallly Rula Diya Ap Ne Aj... Thanks Janb Itni Achi Kahani ke Liye
October 9, 201114 yr Ek or Buhat achi Kahani ka Ikhtetam ho giya or ek Happy Ending hoi isi baat ki Umeed thi mujhay Guru g Tussi Great ho Jis terha Kahani ko ek Haqeeqi Roop dia ha ye ap ka hi khasa ha Ek or Zaberdast Kahani ka Intezar rahay ga
October 9, 201114 yr بہت ہی عمدہ گرو جی۔۔۔۔ سپیچ لیس اور مائنڈ بلوئنگ تحریر ہے۔۔ ایڈمن سے درخواست کرتا ہوں کہ اس تحریر پر گرو جی کو دو ہزار پوائنٹ دیے جائیں۔
October 9, 201114 yr ڈیر گرو جی! جتنی تعریف کی جائے کم ہے! واقعی انسان بعض اوقات کتنا مجبور ہوتا ہے۔ اور مجبوری میں اٹھایا گیا قدم کس منزل پہ لے جاتا ہے کچھ پتہ نہیں ہوتا۔ تحریم نے بھی ممتا کی محبت سے مجبور ہو کر ایک قدم اٹھایا تھا اور اگر آذر نے وقت پر پہنچ کر تحریم کی مدد نہ کی ہوتی تو کہانی کا انجام بڑا ہولناک ہوتا۔ اتنے پیارے اختتام پر میں آپ کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ جہاں اور بہت سے سبق اس کہانی سے ملے وہاں ایک سبق یہ بھی ملا ہے کہ واقعی بعض اوقات جذبات سے نہیں بلکہ ہوش و حواس میں رہ کر فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ آخر میں میں آپ کو اتنی بہترین کہانی لکھنے پر نہ صرف یہ کہ اپنی طرف سے بلکہ پورے فورم کی طرف سے بھی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
Create an account or sign in to comment