October 6, 201114 yr Author آج تقریباً ایک ماہ بعد تحریم کچھ بہتر حالت میں تھی۔ رات کا کھانا کھاکر وہ اور آذر وہیں ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے تھے۔ تایا ابو اور چھوٹے تایا سونے چلے گئے تھے، تائی امی نماز پڑھنے اور چھوٹی تائی علی کو لے کر ٹی وی کے سامنے جا بیٹھی تھیں۔ "آذر۔ اسد نے ایسا کیوں کیا؟ میں نے کتنا روکا تھا انہیں مگر انہوں نے میری ایک نہیں سنی۔ آپ اس کے ساتھ تھے نا؟ آپ نے اسے بچایا کیوں نہیں؟" وہ ٹیبل پر انگلیاں پھیرتے ہوئے اس سے پوچھنے لگی تھی۔ "کاش میں اسے بچاسکتا تحریم۔ ہم زندگی کے ہر موقع پر ساتھ رہے تھے۔ ہر کام دونوں مل کر کرنے کے عادی۔ مگر اس بار۔ ۔ ۔ اس بار وہ مجھ سے بہت بلند مقام پر پہنچ گیا۔ شہادت کی خواہش تو ہم دونوں کی تھی۔ مگر اسد۔ ۔ ۔ وہ ہمیشہ کہتا تھا کہ اس میں، میں اس سے نہیں جیت سکتا۔ جیسے یہ کسی کھیل کی بازی ہو اور وہ ہمیشہ کی طرح مجھے چیلنج کررہا ہو۔" آذر تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہوگیا تھا اور تحریم بہتی آنکھوں کے ساتھ اسے اتنے غور سے سن رہی تھی کہ وہ پھر گویا ہوا۔ "وہ بہت خوش تھا تحریم۔ بلکہ اتنا خوش تو میں نے اسے کبھی نہیں دیکھا۔ جس وقت اس کے شدید زخمی ہونے کی خبر مجھ تک پہنچی میں قریب ہی تھا، فوراً پہنچ گیا تھا۔ اور وہ شاید میرا ہی انتظار کررہا تھا۔ اس نے۔ ۔ تحریم اس نے میرا ہاتھ تھام کر مجھ سے ایک وعدہ لیا تھا۔ ۔ ۔اور اس نے کہا، دیکھا آذر میں تم سے جیت گیا۔ میں سبز پرچم میں گھر لوٹوں تو کسی کی آنکھ سے آنسو نہ بہیں۔ شہیدوں کے گھر والے رویا نہیں کرتے۔ اس کے بعد اکھڑتی سانسوں کے درمیان سب کا خیال رکھنے کی ذمہ داری مجھ اکیلے پر سونپ کر اس نے کلمہ پڑھا، پھر اتنے سکون سے آنکھیں موند لیں جیسے۔ ۔ ۔ جیسے اسے اب کسی چیز کی خواہش نہ ہو۔ اس کے چہرے پر اتنی خوبصورت مسکراہٹ تھی کہ لگ ہی نہیں رہا تھا کہ وہ اس وقت شدید زخمی حالت میں اپنی زندگی کی آخری سانسیں لے رہا تھا۔" آذر دکھ سے کہتے ہوئے خاموش ہوگیا تھا۔ تحریم کے پاس بھی بولنے کے لیے شاید کچھ نہیں تھا۔ وہ اسی طرح بہتی آنکھوں کے ساتھ آذر سے اسد کے بارے میں مزید سننا چاہ رہی تھی۔ "اب تمہیں اپنے آپ کو سنبھالنا ہے۔ اسد بہت بہادر تھا تحریم اور وہ ہمیشہ کہتا تھا کہ تم سے شادی اس نے اس لیے بھی کی تھی کہ وہ جانتا تھا اسے ایک دن شہادت نصیب ہوگی اور اسے تم جیسی بہادر لڑکی ہی سہہ سکتی ہے۔ اگر تم اپنے آپ کو نہیں سنبھالو گی تو سوچو تایا ابو اور تائی امی کا کیا ہوگا؟ ان کا بھی تو ایک ہی بیٹا تھا۔ اور علی۔ علی کو بھی تمہاری توجہ کی ضرورت ہے۔" آذر نے اسے کتنے دن بعد کچھ نارمل پاکر سمجھانے کی کوشش کی تھی۔ ورنہ تو وہ دواؤں کے زیرِ اثر سوتی جاگتی کیفیت میں رہتی تھی۔ "میں ذرا علی کو دیکھ لوں۔" تحریم اس کی اتنی باتوں کے جواب میں بہ دقت اتنا ہی بول سکی تھی۔ اور اٹھ کر کمرے کی طرف چلی گئی۔ "بہت مشکل کام سونپا ہے اسد۔" اس نے تاسف بھری نظروں سے تحریم کو جاتے دیکھا اور خود بھی اٹھ گیا تھا۔ جاری ہے*----------*----------*----------*
October 6, 201114 yr گرو جی بہت ہی عمدہ اور اعلٰی تحریر ہے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ میں اس تحریر پہ کیا کہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ سپیچ لیس
October 6, 201114 yr Buhat Buhat Buhat Khoob Guru G Very Nice Update Janb Story Ko Buhat Khoobsorat Andazz Ke Sath Likh Rahe Ho Ap Many Thanks Janb Keeep IT Upp Waiting For Update
October 6, 201114 yr Guru g ap ne ek buhat hi hassas topic per Qalam uthaya ha Story ki baat karain to buhat hi achay andaz me or haqeeqat per mabni story ko ap ne Forum k Paper per Likha ha Mager jab is story k peechay moujood in halaat ki wajah ko daikhain to shayed mujhay forum k rules ejazat nahi dain gy k me kuch keh sakoon Bas itna hi kahoon ga k Ek baar phir aap ne ek Bemisaal tehreer likhi ha mazeed update ka intezar rahay ga
Create an account or sign in to comment