September 13, 201114 yr آنسو اسمان روتا ھے تو خوبصورت سبزہ اگاتا ھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔قلم روتا ھے تو آسمان کے کاغذ پر الفاظ کے ستارے چمکتے ھیں ۔ ۔ ۔بچہ روتا ھے تو اسے غذا ملتی ھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔بیوی روتی ھے تو تنخواہ ملتی ھے ۔ ۔ ۔ ۔۔ باد نسیم روتی ھے تو کلیاں کھلتی ھیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔وقت سحر گنہگار روتا ھے تو دوزخ کی آگ بجھتی ھے۔ ۔ ۔ سارے سمندر ، سب دریا ، تام ندیاں دوزخ کی آگ بجھانا چاہیں تو نہیں بجھا سکتے ۔ ۔ ۔ ۔اور بندہ خدا کی آنکھ سے نکلا ھوا ایک قطرہ اسے بجھا دیتا ھے ۔ ۔ ۔ آنسو کا کتنا وزن ھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔آدمی بیس سیر وزن اٹھا لیتا ھے ۔ ۔ مگر آنسو نہیں اٹھا سکتا ۔ ۔ ۔وہ گر پڑتے ھیں
September 14, 201114 yr Kamal ker diye guru ap ne.. kisam se meri ankoun mein ansoo agya ya per ker tu.. beautiful.
Create an account or sign in to comment