Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

لڑکی لڑکے اور ہیجڑے کی محبت

Featured Replies

لگتا ہے اس سٹوری میں آگے بہت سے انوکھے موڑ آنے والے ہیں 

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Replies 93
  • Views 270k
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Most Popular Posts

  • قسط نمبر 2 میں نے راحت سے کہا اب تم سے کیا چھپانا تم سب کچھ دیکھ بھی چکے ہو اور جان بھی چکے ہو مگر یہ بات بس اپنے تک رکھنا بتانا کسی کو نہیں سمجھ گئے راحت نے کہا مجھے پاگل سمجھا ہے کیا میں کسی ک

  • قسط نمبر1 ‮‬طوفانی ہواؤں کے شور میں ، جب میں نے اس سے پوچھا کہ کیا اسے کبھی کسی سے محبت ہوئی ؟ وہ ہنس پڑا، کہنے لگا ، محبتوں کے جلو میں ، میں پیدا ہوا تھا اور انہی کے درمیان مروں گا۔‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬

  • قسط نمبر3 اگلے دن راحت سکول میں ملا اور کہنے لگا یار میں بھی اب عروسہ کی گانڈ مارنا چاہتا ہوں کیا وہ مجھے مارنے دے گی میں نے کہا کیوں نہیں کل دیکھا نہیں تھا کہ وہ تیرا لن ہاتھ میں لے کر خوش تھی

سپر جناب اپ بہت اچھے سٹوری میکر ہیں سٹوری کو ادورہ نہ چھوڑیا گا

میجر صاحب ایک بہت زبردست کہانی تھی

اس کہانی کے آغاز سے لگتا ہے کے یہ میجر صاحب کو بھِی کراس كرے گی

مزہ تو آییگا جب راحت اپنا لنڈ جنید اور عروسہ کو چودے گا

بہت خوب جناب

کہانی ٹریک پر چڑھ گئی ہے

امید ہے اپڈیٹ وقت سے ملتی رہے گی

📢 Post Your Ad Here

لڑکپن اور نوجوانی کی گرم کہانی لگتی ھے اور یہی عمر ھوتی ھے گرنے کی سنبھلنے کی اور آگے بڑھنے کی چلو اب دیکھتے ھیں کون کون گرتاھے گرکر سنبھلتا ھے

کچھ کہانیاں بہت اچھی ہیں آپ کی کہانی ان میں سے ایک ہے امید ہے ہم مزید لطف اندوز ہوں گے۔

  • Author

السلام علیکم! تمام دوستوں کا بہت بہت شکریہ

 توقع سے بھی بڑھ کر رسپانس مل رہا ہے ،یہی رائٹر کو لکھنے کا حوصلہ دیتا ہے اور مزید لکھنے اور اچھا لکھنے پر مجبور کرتا ہے، سب دوستوں کا کہانی کو پسند کرنے کا بہت بہت شکریہ یہ کسی بھی فورم پر میری اپنی پہلی کہانی ہےمیجر صاحب میری اپنی کہانی نہیں تھی وہ رومن اردو سے اردو میں ٹائپ کی تھی۔میری پہلی ہی کہانی پر اس طرح کا رسپانس ملنا میرے لیے حوصلہ افزا ہے۔

باقی میں کچھ سلو چل رہا ہوں اس بات کا ادراک ہے مجھے مگر مجھے امید ہے آپ لوگ اس بات کو درگزر کر دیں گے اس کی کچھ وجوہات ہیں ایک تو میں بالکل نیا لکھنے والا ہوں جیسے آپکو بتایا ہے یہ میری پہلی کہانی ہے اب اندازہ ہوا ہے کہانی تخلیق کرنا اور اسے انجام تک پہنچانا بہت ہی مشکل کام ہے۔

دوسری بات یہ کی بہت ہی زیادہ مصروفیات ہوتی ہیں ایک مڈل کلاس بندے کی مصروفیات اور سٹرگل کا تو آپ سب کو ہی اندازہ ہو گاپھر بھی وقت نکال کر کوشش کر لیتا ہوں باقی فیصلہ آپکی عدالت میں ہے۔

  • Author

قسط نمبر3

اگلے دن راحت سکول میں ملا اور کہنے لگا یار میں بھی اب عروسہ کی گانڈ مارنا چاہتا ہوں کیا وہ مجھے مارنے دے گی میں نے کہا کیوں نہیں کل دیکھا نہیں تھا کہ وہ تیرا لن ہاتھ میں لے کر خوش تھی تو اپنی گانڈ میں کیوں نہیں لے گی بس تو ہمت کر کل میں دیر سے آؤں گا سٹڈی روم میں تیرے پاس موقع ہوگا ۔

ویسے میں نے کہہ تو دیا تھا راحت کو عروسہ کی گانڈ مارنے کا مگر مجھے اچھا نہیں لگ رہا تھا میں نہیں چاہتا تھا کہ میرے علاوہ کوئی اور عروسہ کی گانڈ مارے لیکن جتنا پیار میں عروسہ سے کرتا تھا اتنا ہی راحت سے بھی کرتا تھا اس لیے یہ سب سہہ لیا تھا کیونکہ پیار محبت قربانی مانگتے ہیں اور راحت بھی تو عروسہ سے میرے جتنا ہی پیار کرتا تھا وہ الگ بات تھی کہ وہ ایک ہیجڑا تھا جذبات جنس یا عیب تو نہیں دیکھتے نہ میں نے سوچ لیا تھا کہ ہم ایک دوسرے سے ہمیشہ پیار کریں گے اور ایک دوسرے سے کبھی الگ نہیں ہوں گے۔

اگلے دن راحت سٹڈی روم میں سب سے پہلے پہنچا تھا میں جان بوجھ کر دیر سے گیا تھا راحت کے بعد عروسہ روم میں آئی تھی کچھ دیر بعد میں بھی رام میں چلا گیا تھا جب میں وہاں پہنچا تو روم لاک تھامیں نے کھڑکی سے دیکھنے کی کوشش کی مگر کچھ نظر نا آیا تو میں روم کی دوسری طرف والی کھڑکی کی طرف چلا گیا اور وہاں سے اندر جھانکنے کی کوشش کرنے لگا کچھ دیر کی کوشش کے بعد مجھے ایک جگہ مل گئی تھی جہاں سے میں اندر جھانک سکتا تھا جب میں نے اندر دیکھا تو وہاں کا منظر میرا ہوش اڑانے والا تھا کھڑکی کی طرف راحت کی پیٹھ تھی اور عروسہ کی گانڈ بھی اسی طرف تھی راحت کا اور عروسہ کا نیچے والا دھڑ بالکل ننگا تھا اور راحت کا لن ٹٹوں تک عروسی کی گانڈ میں تھا اورراحت اندر باہر کر رہا تھا جس سے اس کا لن باہر اندر ہوتا مجھے صاف نظرآرہا تھا اور راحت کے ٹٹے عروسہ کی چوت سے ٹکرا رہے تھے راحت فل گہرائی تک لن اتار رہا تھا یا مجھ سے مروائی گانڈ کا بدلہ وہ عروسہ سے لے رہا تھا ۔

یہ منظر دیکھ کر میرا لن بھی پھٹنے والا ہو رہا تھا اور مجھے پینٹ میں تکلیف محسوس ہونے لگی تھی تو میں نے بھی زپ کھول کر سے باہر نکال لیا تھا اور ایک ہاتھ سے مٹھ لگانے لگا تھا جیسے جیسے راحت کی سپیڈ بڑھ رہی تھی میرے ہاتھ کی حرکت بھی تیز ہوتی جا رہی تھی مجھے ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے عروسہ کی گانڈ راحت نہیں میں مار رہا ہوں مجھے اپنا لن عروسہ کی گانڈ میں آتا جاتا محسوس ہو رہا تھا ادھر راحت کا وقت قریب آرہا تھا اور ادھر میرا بھی ہم دونوں کی حرکت تیز ہو گئی تھی ہم دونوں ایک ہی وقت میں عروسہ کی گانڈ مار رہے تھے راحت حقیقت میں اور میں خیالوں میں اور پھر میرا لاوا پھٹ پڑا اور میرا لن جھٹکے کھاتے ہوئے لمبی دھاریں چھوڑنے لگا اور ادھر راحت اپنا لن عروسہ کی گانڈ میں خالی کر رہا تھا اور رک چکا تھا اور میں اب پیچھے ہٹ کر کھڑا تھا اور اپنا لن صاف کر کے پینٹ میں ڈال رہا تھا اور پھر کچھ دیر بعد جب دروازہ کھلا تو میں میں بھی کمرے کے سامنے آیا اور اندر چلا گیا۔جب اندر پہنچا تو دونوں فریش ہو چکے تھے اور آرام سے بیٹھے پڑھ رہے تھے راحت نے میری طرف دیکھا تو میں نے آنکھ کے اشارے سے پوچھا کیسا رہا اس نے آگے سے اپنے ہونٹوں پر زبان پھر کر بہت مزہ آنے والا اشارہ دیا۔

اور پھر کیا تھا اگلے دن اسی جگہ کھڑا میں راحت کی گانڈ میں جھٹکے مار رہا تھا اور اسے کہہ رہا تھا کہ ایسے ہی گہرائی تک ڈال رہے تھے نا تم عروسہ کی گانڈ میں راحت نے کراہتے ہوئے کہا مطلب تم سب دیکھ رہے تھے میں نے کہا ہاں اور صرف دیکھ ہی نہیں رہا تھافل انجوائے کرتے ہوئے اپنی مٹھ بھی لگا رہا تھا ایسامنظر تھا کہ میں خود پر قابو ہی نہیں رکھ سکا تھااور تمہارے ساتھ میں نے بھی اپنا لاوا نکال دیا تھا یہ کہتے ہوئے میں پھر سے راحت کی گانڈ میں راحت پہنچا رہا تھا اور میرا لن راحت کی گانڈ کو ایک بار پھر سے کل والے سین کو یاد کرتے ہوئے اپنی منی سے بھر رہا تھا اور نیچے سے میرے ہاتھ نے راحت کے لن کو بھی منی چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا اور ہم دونوں ایک ساتھ مدہوشی کے عالم میں جاچکے تھے۔

اس کے بعد میں کبھی راحت کو چود رہا ہوتا اور کبھی عروسہ کو اور کبھی راحت عروسہ کی گانڈ مار رہا ہوتا۔ایک دن یوں ہواکہ جب راحت عروسہ کی گانڈ مار رہا تھا تو میں نے جب روم میں دروازے سے اندر جھانکنے کیلئے دروازے پر ہاتھ رکھا تو وہ کھلتا چلا گیا وہ بند نہیں تھا آج وہ دروازہ بند کرنا بھول گئے تھے میں نے تھوڑا سا دروازہ کھولا اور اندر کا منظر دیکھنے لگا عروسہ اندر بیڈ پر اوندھے منہ پڑی تھی اور راحت پیچھے کھڑا اسے چود رہا تھا میری طرف اسکی پیٹھ تھی اور اسکی ہلتی ہوئی گانڈ مجھے بغاوت کرنے پر اکسا رہی تھی یہ منظر دیکھ کر میرا لن کسی ڈنڈے کی طرح سخت ہو چکا تھا جب مجھ سے نہ رہا گیا تو میں نے اندر جانے کا فیصلہ کیا اور آہستہ سے دروازہ کھول کر اندر گھس گیا اور پھر دروازے کو کنڈی کر دیااور پھر اپنے کپڑے اتارنے لگا اور ننگا ہو کر ان لوگوں کی طرف بڑھنے لگا اور جاتے ہوئے میں اپنے لن کو تھوک سے تر کر چکا تھا اور جب میں ان کے قریب پہنچا تو راحت چونک کر رک گیا اور مڑ کر پیچھے دیکھنے لگا میں نے اسے آنکھ ماری اور کہا لگے رہو یہ میں ہوں ابھی وہ سوچ ہی رہا تھا کہ میں نے اس کے پیچھے جا کر تھوک اپنے ہاتھ پر گرایا اور اس کی گانڈ کے سوراخ پر مل دیا اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھتا یا کچھ بولتا میں نے لن اسکی گانڈ کے سوراخ پر رکھا اور ایک ہی جھٹکے میں آدھا اندر کر دیا اس جھٹکے سے عروسہ بھی ہل کر رہ گئی تھی کہنے لگی یہ کیا کر رہے ہو تم دونوں میں نے کہا کچھ نہیں یار بس راحت کو پیار کر رہا ہوں زراسا اور اس کے ساتھ ہی ایک اور جھٹکا دیا اور اپنا پورا لن راحت کی گرم گرم گانڈ میں اتار دیا اس جھٹکے سے عروسہ کی گانڈ میں بھی جھٹکا لگا اور وہ آگے گرتے گرتے بچی ۔

اب پوزیشن یہ تھی کہ عروسہ بیڈ پر اوندھے منہ پڑی تھی جس کی ٹانگیں بیڈ سے نیچے لٹک رہی تھیں اس کے پیچھے راحت کھڑا تھا جس کا لن عروسہ کی گانڈ میں تھا اور اس کے پیچھے میں اپنا لن روحت کی گانڈ میں ڈالے کھڑا تھااس سب میں راحت ڈبل مزہ لے رہا تھا اب راحت اندر باہر کرنا بھول چکا تھا میں راحت کی گانڈ میں فل زور کے جھٹکے دے رہا تھا جب میں راحت کی گانڈ میں جھٹکا مارتا تو راحت کا لن عروسہ کی گانڈ میں جھٹکا کھاتا اس طرح سے آج پہلی بار ہمارا گروپ سیکس یا تھری سم شروع ہوچکا تھا ۔

راحت چونکہ پہلے سے عروسہ کی گانڈ مارنے کو لگا ہوا تھا اور پیچھے سے میں بھی اسکی گانڈ کو راحت پہنچا رہا تھا اس لیے وہ ڈبل مزے میں تھا اور وہ یہ مزہ زیادہ دیر تک برداشت نہ کر سکا اور پانچ منٹ بعد ہی چنگھاڑتے ہوئے تیز تیز سانس لینے لگا میں سمجھ چکا تھا کہ راحت چھوٹنے لگا ہے اس لیے میں نے اور زور سے جھٹکے اسکی گانڈ میں دینے شروع کر دے اور وہ ہانپتے ہوئے عروسہ پر گرنے لگا تو پیچھے سے میں نے اسے اسے اپنی بانہوں میں جکڑ لیا اور دھنا دھن اسکی گانڈ میں جھٹکے دینے لگا اسکا لن ابھی تک عروسی کی گاند میں میرے جھٹکوں کی وجہ سے ہل رہا تھااور سکڑتا بھی جا رہا تھا جسکی وجہ سے سارا مواد عروسہ کی گاند سے بہہ کر بار آنے لگا تھا کچھ راحت کے لن کو لگا ہوا تھا اور کچھ بہہ کر نیچے عروسہ کی چوت کی طرف جا رہا تھا یہ منظر دیکھ کر میں بھی زیادہ دیر تک برداشت نہ کر پایا اور میری جان لگا لن سے نکلنے لگی ہے اور میں اور تیز ہو گیا اور چنگھاڑتے ہوئے اپنا لاوا راحت کی پیاری سی گانڈ میں بھرنے لگا میری سانسیں بے ترتیب ہو چکی تھیں اور میں اور راحت عروسہ کے اوپر گر پڑے تھے اتنا وزن اس نازک کلی پر آنے کی وجہ سے وہ روندی جانے لگی اور کہنے لگی مجھے اٹھنے دو نکلنے دو مجھے تو راحت نے مجھے اپنے اوپر سے ہٹایا اور اس کے اوپر سے اٹھ گیا میں ابھی تک بیڈ پر ویسے پڑا تھا سروسہ نے جلدی سے اپنی گانڈ اور چوت صاف کی اور کپڑے پہنتے ہوئے واشروم کی طرف چلی گئی جب وہ واپس آئی تو میں اور راحت بھی باری باری جا کر صاف کر آئے تھے آج ہمارا سٹڈی ٹائم سارا چودائی میں گزر گیا تھا راحت دبل مزہ لے کر بہت پرسکون لگ رہا تھا اور بہت خوش بھی مگر عروسہ زیادہ خوش نظر نہیں آرہی تھی کیونکہ وہ اس سب سے ڈسٹرب ہو گئی تھی اور جب ہم سکے اوپر گرے تھے تو وہ بیچاری ہم دونوں کے نیچے روندی گئی تھی بہر حال مجھے آج بہت زیادہ مزہ آیا تھا اور آج ایک نیا تجربہ بھی ہوا تھا۔

اگلے دن ہم سکول کے بعد واپس آتے ہوئے وہاں زیرِتعمیر عمارت میں چلے گئے تھے جہاں میں نے پہلی بار عروسہ کی گانڈ ماری تھی وہاں جانے کے بعد میں نے راحت کو پکڑ لیا میں اسکی گانڈ مارنا چاہتا تھا لیکن عروسہ نے مجھے پکڑ لیا کہنے لگی آج میرے ساتھ کرو میں نے کہا ٹھیک ہے اپنی شلوار اسنے پہلے ہی اتار دی تھی میں نے اسکی قمیض بھی اوپر کر دی تھی اور برا تو وہ ابھی تک پہنتی ہی نہیں تھی میں اسکے بوبز چوسنے لگا اور ساتھ ہی ہاتھ میں اسکے جسم اور پیٹھ پر پھیر رہا تھا راحت کو پتا نہیں کیا ہوا اس نے اپنی زپ کھولی اور لن باہر نکال کر عروسہ کے پیچھے آگیا اور تھوک لگا کر عروسہ کی گانڈ میں ڈالنے لگااب حالت یہ تھی کہ آگے سے میں عروسہ کے بوبر چوس رہا تھا اور پیچھے سے راحت نے اپنا لن عروسہ کی گانڈ میں ڈالا ہوا تھا میں نے بھی اپنی زپ کھولی اور اپنا لن باہر نکال لیا اور عروسہ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے لن پر رکھ دیا اور عروسہ میری مٹھ لگانے لگی میں اسکے بوبر چوس رہا تھا اور اسکے جسم پر ہاتھ بھی پھیر رہا تھا اور ساتھ راحت اسکی گانڈ بھی بجا رہا تھا ہم تینوں ہی مزے سے چور ہو رہے تھے مگر اب کی بار ڈبل مزہ عروسہ لے رہی تھی کچھ دیر عروسہ کے بوبز چوسنے کے بعد میں بھی بے قابو ہو گیا اور راحت کے پیچھے چلا گیا لن کو تھوک سے لتھیڑا اور راحت کی گانڈ پر بھی تھوکا اور لن کو اندر کا راستہ دکھایا ٹوپا اندر جاتے ہی میرے لن پر گانڈ کی تنگی اور اندر گی گرمی گا احساس ہوا میں رکا نہیں اور آرام آرام سے دباؤ ڈالتے پورالن تنگ گانڈ میں اتار دیا اور رک کر گانڈ کی تنگی کا مزہ لینے لگا راحت چونکہ سیدھا کھڑا تھا اس لیے آج اسکی گانڈ پہلے کی نسبت زیادہ تنگ لگ رہی تھی اور اسکے حرکت میں ہونے کی وجہ سے میرے لن کو بار بار بھینچ رہی تھی دبا رہی تھی اور مجھے ایسامزہ مل رہا تھا جو میں بتا نہیں سکتا اور لن کو حرکت دینے کا میرا دل بالکل بھی نہیں کر رہا تھا اور میں اس مزے کو اپنی روح تک محسوس کرنا چاہتا تھا اور کر بھی رہا تھا ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ راحت کی سپیڈ بڑھنے لگی اور وہ چنگھاڑنے لگا اور اسکی سانسیں تیز ہونے لگیں۔یہ اشارہ تھا کہ راحت آنے والا تھا میں نے لن اسکی گانڈ سے نکال لیا یہ الگ بات تھی کہ میرا نکالنے کا بالکل بھی دل نہیں کر رہا تھا مگر میں راحت کو آرام سے فارغ ہونے کا موقع دینا چاہتا تھا اور پھر وہ سارا عروسہ کے اندر ڈال کر رک گیا اور اپنا لاوا عروسہ کی گانڈ میں بھرتے ہوئے مزے کی انتہا کو چھونے لگااور نڈھال ہو کر عروسہ پر گر گیا اور پھر کچھ دیر بعد جب حواس بحال ہوئے تو لن نکال کر پیچھے ہٹ گیا عروسہ اٹھنے ہی لگی تھی کہ میں نے کہا ایسے رہو ابھی اور آگے بڑھ کر اپنا ٹوپا اسکی گانڈ کے سوراخ پر رکھا اور ایک زوردار جھٹکا دیا اسکی گانڈ چونکہ راحت کے مال سے بھری ہوئی تھی اس لیے بنا گیلا کیے ہی لن ڈال دیا تھا اور ایک ہی جھٹکے میں جڑ تک گانڈ میں چلا گیا تھا اندر زیادہ پھسلن ہونے کی وجہ سے مزہ بھی زیادہ آرہا تھا ۔

دوستو تنگ اور خشک جگہ کا اپنا مزہ ہوتا ہے مگر زیادہ پھسلن اور گیلی چوت اور گانڈ کا اپنا ہی مزہ ہوتا ہے بالکل وہی مزہ میں محسوس کر رہا تھا اور مل جھٹکے دے رہا تھا آج ٹوپے تک باہر لاتا اور پھر ایک زور کا جھٹکا دیتا اور جڑ تک اندر پہنچا دیتا آج جس گہرائی تک میرا لن جا رہا تھا مجھے لگ رہا تھا آج سے پہلے کبھی وہاں تک نہیں پہنچا تھا۔میرے جھٹکے اتنی شدت اختیار کر گئے تھے کی عروسہ آگے کو گرنے لگتی اور ساتھ تھپ تھپ کی مخصوص جسم ٹکرانے کی آواز بھی پیدا ہو رہی تھی اور ساتھ عروسہ بھی کہتی کہ آرام سے کرو ، میں نے عروسہ کع گرنے سے بچانے کیلئے اپنے ہاتھ مضبوطی سے اسکی کمر پر جما لیے اور اسے کمر سے مضبوطی سے پکر کر جھٹکوں کی مشین چلا دی راحت آنکھیں پھاڑ کر دیکھ رہا تھا کہ یہ آج مجھے کیا ہو گیا ہے تقریباًپانچ منٹ تک نان سٹپ جھٹکوں کے بعد میں اپنی منزل کی طرف روانہ تھا میری غراہٹ کے ساتھ ساتھ میری سانسیں بھی اکھڑنے لگیں مگر میں رکا نہیں اور اسی سپیڈ سے جھٹکے جاری رکھے اور میرے لن سے فوارے چھوٹنے لگے مگر میں پھر بھی اسی سپیڈ سے لگا رہا اور جب تک لن ڈھیلا نہیں ہو گیا میں رکا نہیں عروسہ گی گانڈ اور چوت میری اور راحت کی منی سے پھر گئے تھے اور میرا لن اور آس پاس ٹانگوں تک چھینٹے اڑ کر لگ گئے تھے جب میں لن باہر نکالا تو عروسہ کی سفید گانڈ لال سرخ ہو رہی تھی اور اسکے سوراخ سے اب تک گاڑھا مواد بہہ کر باہر آرہا تھا ۔بالکل سفید سفید بہت ہی گاڑھا مواد۔

اسکے بعد ہم نے اپنے آپ کو صاف کیا کپڑے درست کیے بال ٹھیک کیے اپنا حلیہ درست کیا اور گھر کی طرف چل پڑے ۔

اسکے بعد دوتین منتھ تک ہم ایک ساتھ سیکس نہ کر سکے وجہ تھی ہمارے امتحان ہمارے نہم جماعت کے پیپر نزدیک آچکے تھے اور ہم بہت مصروف ہو گئے تھے مگر پھر بھی ہفتہ میں ایک آدھ بار میں عروسہ کی یا راحت کی جو بھی میسر ہوتا گانڈ مار لیا کرتا تھا اور راحت بھی کبھی کبھار عروسہ کے ساتھ سیکس کر لیتا تھا مگر ہمارے درمیان گرپ سیکس نہیں ہو پایا تھا اور ہم نہم جماعت میں اچھے نمبر لینے کیلئے بھرپور محنت کر رہے تھے ۔اگر ہم اچھے نمبروں سے پاس ہو جاتے تو ہمارے گھروالوں نے ہمیں سمارٹ فون دلانے کا وعدہ کر رکھا تھا جس کا مطلب تھا دہم کلاس کے آغاز سے ہمارے پاس اپنا اپنا سمارٹ فون ہونا تھا جس کی ہمیں بہت خواہش تھی۔

اور پھر وہ دو ماہ گزرتے پتا ہی نہ چلا اور پھر ہمارے امتحانات شروع ہو گئے اور ہم سب کچھ بھول کر امتحانات میں مصروف ہوگئے اور پھر کچھ دن بعد ہمارے امتحانات بھی ختم ہوگئے اور ہمارا رزلٹ آنے میں ابھی ایک مہینہ تھا اور تب تک ہمیں بہت انجوائے کرنا تھا ۔

امتحانات ختم ہونے کے اگلے دن ہی ہم نے خوشی منانے اور انجوائے کرنے کا پروگرام بنا لیا تھا جو کچھ یوں تھا کہ ہم رات کو عروسہ کے گھر چھت والے کمرے میں جائیں گے اور عروسہ بھی وہیں آجائے گی پراگرام رات دس بجے کے بعد کا بنا تھا مطلب جب سب سو جائیں گے اور پھر ہم رات دس بجنے کا انتظار کرنے لگے۔

اور پھر جیسے ہی دس بجے میں اپنی چھت سے راحت کے گھر کی چھت پر پہنچ گیا وہاں راحت پہلے سے موجود تھا اور میرا انتظار کر رہا تھا اور پھر ہم دونوں وہاں سے عروسہ کے گھر کی چھت پر جا پہنچے عروسہ ابھی تک نہیں آئی تھی ہم اسکا انتظار کرنے لگے کیونکہ وہ کمرہ لاک ہوتا تھا اور وہ عروسہ نے آکر کھولنا تھا ابھی راحت کہنے ہی لگا تھا کہ عروسہ ابھی تک نہیں آئی کہ اتنے میں ہمیں سیڑھیوں سے قدموں کی آواز سنائی دی ہم جلدی سے کمرے کی آڑ لے کر کھڑے ہو گئے اور اتنے میں ہمیں ایک سایا سا اوپر آتا دکھائی دیا جب قریب آیا تو وہ تو عروسہ ہی تھی اسے دیکھتے ہی ہم جلدی سے نکل کر اس کے سامنے آگے اس نے ہمیں دیکھا اور پوچھا تم لوگ آگئے راحت نے کہا ہاں کب کے تمہارا انتظار کر رہے تھے جلدی سے کمرے کا لاک کھولوعروسہ نے جلدی سے کمرے کا لاک کھول دیا اور ہم اندر چلے گئے۔

دوستو میں آپکو بتاتا چلوں کہ اس کمرے میں عروسہ کے گھر کا پرانا فرنیچر اور کاٹھ کباڑ پڑا ہوتا تھا اس لیے اس کمرے میں کوئی نہیں آتا تھا کمرے کو تین اطراف سے ونڈو تھے جن میں شیشے لگے تھے اور اوپر روشن دان بھی تھے جن سے چاند کی اور باہر کی لائٹس کی کافی روشنی آتی رہتی تھی اس کمرے میں ایک پرانا سنگل بیڈ بھی پڑا ہوا تھا ۔اندر آنے کے بعد ہم نے اندر سے کنڈی کر دی اور ایک پرانی چادر بیڈ پر بچھا دی وہ اس لیے کہ آج کی رات ہمارا یہ پروگرام لمبا چلنے والا تھا ۔ میں نے عروسہ کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور اپنے اپنے سینے سے لگا لیا اور اسے چومنے لگا میرے ساتھ اسکے ننھے پستانوں پر گشت کرنے لگے میں نے چومتے ہوئے منہ اسکے کان کے پاس لا کر کہا آج اپنی پیاری سی گانڈ کے ساتھ اپنی چوت بھی چودنے دینا ۔تو وہ کہنے لگی نہیں آج نہیں پھر کبھی سہی سنا ہے پہلی بار چوت میں بہت درد ہوتا ہے اور خون بھی آتا ہے میں آج درد نہیں انجوائے کرنا چاہتی ہوں میں نے کہا اچھا جیسے تمہاری مرضی۔ اتنی دیر میں دیکھا تو راحت اپنے پورے کپڑے اتار چکا تھا اور اب عروسہ کی شلوار اتارنے کو لگا تھا اسکی شلوار اتارنے کے بعد وہ عروسہ کی قمیض بھی اتارنے لگا میں نے عروسہ کو اسکے پاس جانے دیا اور میں الگ ہو کر خود کو بے لباس کرنے لگا جب تک میں نے خود کو بے لباس کیا اتنی دیر میں عروسہ بھی لباس سے آزاد ہو چکی تھی اب ہم تینوں لباس فطرت میں آچکے تھے راحت آج عروسہ کا دودھ پینے جسم کو چومنے میں لگا تھا اور اسکے ہاتھ عروسہ کی گانڈ کی دراڑ میں تھے اور وہ باری باری عروسہ کے نرم چوتڑوں کو اپنے ہاتھ میں بھر رہا تھا اور میں کھڑا سوچ رہا تھا پہلے میں کس کے پیچھے جاؤں راحت کے یا عروسہ کے عروسہ آج قیامت لگ رہی تھی دودھ جیسا سفید شفاف بدن گلابی درمیانے لپس درمیانہ قد اور اس پر تیس یا بتیس کے بوبز نیچے چونتیس کی گانڈ جو میں نے مار مار کر اتنی بڑی کر دی تھی پتلی کمر گالوں پر جوانی کی لالی اور جسم پر کوئی بھی بال نہیں تھا ایسی لڑکی تو صرف سوچی ہی جا سکتی ہے اس کے سامنے راحت بھی کم نہیں لگ رہا تھا راحت کا قد تھوڑا بڑا تھا یعنی میرے جتنا اسکے بوبز اور گانڈ عروسہ سے کچھ کم تھی یا قد لمبا ہونے اور کمر عروسہ سے کچھ زیادہ ہونے کی وجہ سے ایسا لگ رہا تھا مگر میں فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا کہ پہل عروسہ سے کروں یا راحت سے اور پھر میرا دل پہلے عروسہ پر مہربان ہوا اور میں اس کے پیچھے چلا گیا اور اسکی پیٹھ کو چومنے لگا اور گردن سے چومتے ہوئے نیچے کی طرف آنے لگا اور پھر اسکے موٹے نرم اور پیارے کولہوں پر آگیا راحت آگے سے اسکے بوبز چوسنے میں لگا تھا اور میں پیچھے سے اسکے چوتڑ چومنے اور چاٹنے میں لگا تھا جب میں نے اسکے چوتڑوں کا ایک ایک انچ چوم لیا تو اپنا منہ اسکے گلابی پیارے سوراخ کے قریب لے گیا اتنا قریب کہ میری گرم سانسیں اسکے چھوٹے سے سوراخ پر پڑنے لگیں اور عروسہ کو اس سے کرنٹ سا لگنے لگا اور وہ مچلنے لگی میں نے دونوں ہاتھوں سے اسکے چوتڑوں کو کھولا ہوا تھا اور پھر منہ قریب کر کے سوراخ پر آرام سے تھوک دیا اور اسے سوراخ کے سرکل پر ملنے لگا اور پھر باہر سے اچھی طرح لگا کر انگلی سے اندر بھی ڈل دیا اور کچھ اندر سے بھی چکنا کر دیا اور پھر باری تھی اپنا لن چکنا کرنے کی اس پر بھی اچھے سے کافی سارا تھک مل کر جڑ تک تھوک سے لتھیڑ دیا اور پھر اپنا ٹوپا سوراخ پر رکھا اور تھوڑا دباؤ ڈالا تو سوراخ کا تنگ دائرہ پھیلنے لگا اور ٹوپا اندر جانے لگا صرف ٹوپا اسکے تنگ سوراخ میں پھنسا کر میں ٹھہر گیا اور اسکی گانڈ کی اپنے ٹوپے پر گرپ محسوس کرنے لگا میرا باقی کا آدھا لن سکے چوتڑوں میں چھپ گیا تھا کچھ دیر یہیں رکنے کے بعد میں لن کو آرام آرام سے پھر سے آگے بڑھانے لگا اسکے تنگ سوراخ کی گرفت اپنے لن پر محسوس کرتے ہوئے لیکن سارا اندر نہیں جا پا رہا تھا کیونکہ اس طرح سیدھا کھڑے ہوئے اسکے چوٹر بیچ میں آرہے تھے میں نے راحت سے کہا اب بس کر دو اور ہٹ جاؤ عروسہ کو تھوڑا جھکنے دو وہ اسے چھوڑ کر میری طرف آگیا تو میں نے عروسہ کا اگلا دھڑ بیڈ پر جھکا کر لٹا دیا اب اسکے چوتڑ کھل گئے تھے اور پورا لن گھسانا آسان ہو گیا تھا جب میں نے سارا اندر پہنچا دیاتو وہیں ٹھہر گیا اور اسکی گانڈ کے تنگ دائرے گی گرفت اپنے لن پر محسوس کرنے لگا اور عروسہ سے کہا اور دباؤ اس نے دبایا تو ایسے لگا میرا لن جڑ والی جگہ سے کسی شکنجے میں ہے اور وہ شکنجہ میرے لن کو اس جگہ سے کاٹ ڈالے گااور پھر کچھ دیر ایسے مزہ لینے اور محسوس کرنے کے بعد میں حرکت دینے لگا راحت میرے قریب کھڑا یہ سب دیکھ رہا تھا اور پھر اس نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور میرے پیچھے سے میری گانڈ کے نیچے سے گزار کر میرے ٹٹوں کو ہاتھ میں لے لیا اور سہلانے لگا جس سے مجھے ایک میٹھی سی گدگدی سی ہونے لگی اور ڈبل مزہ آنے لگا اس لیے میں زیادہ دیر تک برداشت نہ کر پایا ابھی مجھے دوتین منٹ ہی ہوئے تھے کی لن سے میری جان نکلنے لگی اور میں تیز سانسیں لیتے ہوئے چنگھاڑنے لگا اور میرا لن اس تنگ شکنجے میں پچکاریاں مارنے لگا اور چار پانچ پچکاریاں مارنے کے بعد خالی ہو کر ڈھیلا ہونے لگا اورپھر سکڑ کر خود ہی باہر آگیا اور میں بیڈ پر بیٹھ کر اپنے حواس بحال کرنے لگا ۔

اب راحت جو کب سے تیار کھڑا تھا اور انتظار میں تھا کہ کب اسے موقع ملے وہ آگے بڑھا اور اپنا ٹوپا میری منی سے تر سوراخ پر رکھا اور دباؤ ڈل دیا لن اندر جانے لگا اور جب پورا اندر چلا گیا تو وہ رکا نہیں بلکہ دھنا دھن جھٹکے شروع کر دیے وہ شاید کافی دیر سے کنٹرول کر رہا تھا مگر اب اس کیلئے مشکل تھا خود کو کنٹرول کرنا پانچ منٹ لگا تار جھٹکے مارنے کے بعد وہ سپیڈ بڑھانے لگا اور اب فل سپیڈ سے جھٹکے دے رہا تھا جس سے اسکے چھوٹے چھوٹے ممے بھی بانس کر رہے تھے مجھے یہ منظر پھر سے گرما رہا تھا اور میرے لن میں زندگی بھر رہا تھا اورویسے بھی ہمیں کچھ کیے ہوئے بہت دن ہوگئے تھے کچھ دیر مزید جھٹکے مارنے کے بعد اسکی سانسیں اکھڑنے لگیں اور جھٹکے کھاتے ہوئے فارغ ہونے لگا اس نے عروسہ کی گانڈ اپنے گرم لاوے سے بھر دی تھی اور اسکے اوپر گر پڑا تھا ۔

کچھ دیر بعد اسکے حوس بحال ہوئے تو وہ سیدھا ہو کر بیڈ پر لیٹ گیا عروسہ اٹھی اور اپنی گانڈ کو بیڈ کی چادر سے صاف کرنے لگی ۔میرا لن تب تک کسی ڈنڈے کی طرح سخت ہو چکا تھا میں اٹھا اور جا کر راحت کی ٹانگوں کے درمیان گھس گیا اور اسکے چھوٹے چھوٹے بوبز چوسنے لگا کچھ دیر اسکے بوبز چوسنے کے بعد میں اسکی گانڈ کی طرف آیا اور اسے اچھی طرح سے چکنا کرنے لگا اچھی طرح سے اسے گیلا اور نرم کرنے کے بعد اپنے ٹوپے پر تھوک لگایا اور اسکی ٹانگیں اٹھا کر اپنے کندھوں پر رکھیں اور لن کو اسکے ہول پر سیٹ کیا اور ایک زور کا دھکا لگایا آدھا لن تنگ سوراخ میں جا چکا تھا اور پھر میں رکا نہیں جب تک اپنے لن کو سکی منزل تک پہنچا نہیں لیا مجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے میرا لن کسی گرم تنگ بھٹی میں جا پڑا ہو جو ابھی جل جائے گا ۔

اور پھر آرام سے حرکت دینے لگا ٹوپے تک باہر کھینچتا اور پھر آرام سے سارا تنگ سوراخ میں بھر دیتا عروسہ جو ہمارے ساتھ بیٹھی یہ سب دیکھ رہی تھی میں نے اسے کہا کہ وہ راحت کے ممے چوسے اس نے اپنا رخ راحت کے مموں کی طرف کیا اور ان کو چوسنے لگی دوسری طرف رخ کرنے سے اسکی گانڈ میرے بالکل سےمنے آگئی تھی اور میں راحت کی گانڈ مارتے ہوئے عروسہ کی گانڈ پر ہاتھ پھیرنے لگا اور پھر اپنا انگوٹھا اسکی گانڈ کے سوراخ پھر پھیرنے اسکا مساج کرنے لگا اور راحت کی گانڈ بالکل نارمل انداز میں چود رہا تھا عروسہ اسکے ممے چوس رہی تھی کیا منظر تھا راحت تو ڈبل مزے میں تھا اس وقت اور پھر میں نے لن راحت کی گانڈ سے نکالا اور عروسہ کی گانڈ میں ڈال دیا اور دھکوں کی مشین چلا دی چونکہ میں ابھی کچھ دیر پہلے فارغ ہوا تھا اس لے میرے فارغ ہونے کا ابھی امکان نہیں تھا دومنٹ تک عروسہ کی گانڈ کی دھلائی کرنے کے بعد میں نے لن نکال کر ایک بار پھر سے راحت کی گانڈ میں ڈال دیا اور دھنا دھن بجانے لگا عروسہ کبھی راحت کے ممے چوستی تو کبھی راحت اسکے ممے چوستا ساتھ میں راحت کے لن کی مٹھ بھی لگانے لگا جو اب کھڑا ہونے لگا تھا اس میں پھر سے جان پڑنے لگی تھی میں اسی طرح لگا ہوا تھا کبھی عروسہ کی گانڈ میں اور کبھی راحت کی گاند میں مجھے دس منٹ ہو چکے تھے اور اب میں آنے ہی والا تھا اس وقت میرا لن عروسہ کی گانڈ میں تھا میں نے جلدی سے اپنا لن اسکی گانڈ سے نکال کر راحت کی گاند میں ڈالا اور دھکوں کی مشین چلا دی اور پھر جب میرا لن لاوا اگنے لگا تو میں نے اسے راحت کی گاند کی گہرائی میں پہنچا کر روک دیا میرے ہاتھ کی سپیڈ راحت کے لن پر بھی بڑھ گئی تھی وہ بھی تیز ہوتی سانسوں کے ساتھ اپنا پانی چھوڑنے لگا اور پھر ہم تینوں نڈھال ہو کر بیڈ پر گر پڑے ۔

آدھی سے زیادہ رات گزر چکی تھے رات کے چار بجنے والے تھے جب ہم تینوں ننگے بیڈ پر پڑے تھے پھر ہم اٹھے اپنے اپنے کپڑے پہنے اور پھر میں نے ان دونوں سے پوچھا کیوں دوستو مزہ آیا دونوں یک زبان بولے ہاں بہت زیادہ اور پھر مجھ سے دونوں چمٹ گئے کچھ دیر تک ہم تینوں ہی ایک ساتھ چمٹے رہے اور پھر اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے میں گھر آیا اور آکر اپنے بستر پر گر پڑا اور عروسہ کے بارے میں سوچنے لگا وہ اب اپنی چوت دینے کیلئے بھی مان گئی تھی اب مجھے چوت کا مزہ لینا تھا اب مجھے ایک کنواری چوت چودنی تھی یہی سب سوچتے ہوئے پتا نہیں کب میری آنکھ لگ گئی اور میں نیند کی دنیا میں چلا گیا۔

 

 

📢 Post Your Ad Here

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.