Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

ایک جھلک

Featured Replies

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Author

 اپڈیٹ 6

میں چاچا کے کمرے گیا تو چاچا کہ ساتھ بھائی بھی بیٹھے  تھے مجھے ایک سیکنڈ کے لیے ڈر لگا کیوں کہ چاچا کہ چھرے کے تاثرات ہی پریشان کرنے والے تھے خیر میں چاچا کو سلام کیا اور کہا

میں۔جی چاچا جی تسی بلایا سی

چاچا۔(پریشانی سے)جی پتر

اس کے بعد چاچا تھوڑی دیر چپ رہے پھر بولے

چاچا۔اور سنا پتر پڑھائی کیسی ہو رہی ہے

میں۔ جی اچھی جا رہی ہے

اب مجھے تھوڑا ڈر لگ رہا تھا کہ شاید چاچی نے بتا دیا ہو  میرے چہرے پر پریشانی کہ آثار دیکھ کر چاچا بولے پتر کوئی مسئلہ 

میں۔نہیں چاچا جی

تھوڑا وقفہ کے ساتھ

میں۔چاچا جی وہ چاچی بتا رہی تھی کوئی ضروری بات کرنی ہے آپ نے

مجھے چاچا کے چہرے پر پریشانی بڑھتی صاف نظر آ رہی تھی

چاچا۔پتر ایک بات تو بتا اگر ہم تیری زندگی کا فیصلہ تجھ سے پوچھے بغیر کر دیں تو تو کیا کرے گا

میں۔(چونک کر ان کی طرف دیکھا لیکن دوسرے ہی لمحے بات کو سمجھ گیا)چاچاجی آپ میرے بڑے ہیں اگر آپ نے میرے لیے کوئی فیصلہ کریں گے تو اچھا ہی ہی کریں گے میرے بھلے کے لیے

چاچا۔شاباش میرا پتر مجھے تجھ سے یہی امید تھی

میں۔لیکن آپ نے فیصلہ کیا کون سا ہے میرے لیے؟

میرے اس سوال پر چاچا تھوڑا پریشان ہوئے مجھے لگا کے چاچا مجھے کچھ بتانا نہیں چاہتے

چاچا نے مجھے کہا بیٹا تو جا تیری امی تجھے بتا دیتی

خیر میرے ذہن میں کئی سوال تھے میں انہی سوالوں کے ساتھ کمرے سے نکلا آٹھ بج چکے تھے ہم سب نے مل کر کھانا کھایا کھانے کے دوران میں نے نوٹ کیا کے امی اور بھائی کچھ پریشان ہیں خیر ہم سب نے کھانا کھایا

میری عادت تھی کہ میں رات کو سونے سے پہلے امی کے پاؤں  دباتا تھا 

کھانا کھانے کہ بعد میں ایسے ہی واک کر رہا تھا کہ سعدیہ میرے پاس آئی

میں۔کیسی ہے میری گڑیا؟

سعدیہ۔میں بلکل ٹھیک ہوں بھائی وہ علینا باجی کہاں ہیں 

میں۔وہ اپنے کمرے میں ہوں گی 

سعدیہ۔اچھا بھائی

یہ کہ کر وہ علینہ کہ کمرے کی طرف چلی گئی جیسے ہی کمرے میں پہنچی اس نے مجھے آواز دی

سعدیہ۔بھائی آپ کو امی بلا رہی تھی 

میں۔اچھا گڑیا جا رہا ہوں

میں واک کرتا کرتا چاچی کہ پاس چلا گیا چاچی کچن میں ہی برتن صاف کر رہی تھی کیوں کہ وہ برتن دھوتے وقت تھوڑا ہل رہی جس کی وجہ سے ان کی گانڈ ایک ردھم کے ساتھ 71 72 کر رہی تھی میں سب کچھ بھول کے ان کو دیکھنے لگا 

وہ کہتے ہیں نا کہ عورت کی چھٹی حس بہت تیز ہوتی ہے چاچی نے ایک دم پیچھے مڑ کے دیکھا تو میری بھی آنکھیں ان سے ٹکرا گئی اور میں شرمندہ سا ہو کر رہہ گیا 

میں کچن میں چاچی کے پاس گیا اور کہا

میں۔جی چاچی آپ نے بلایا 

چاچی۔بلایا تو تھا لیکن تو تو کسی اور کو بلانے میں لگا ہوا تھا 

میں۔(ایک دم اچھل کر)ککک کس کو 

چاچی۔(ہنستے ہوئے)نہیں کسی کو نہیں

میں۔چاچی مجھے پتا ہے آپ مجھ سے ناراض ہو(ایک دم سنجیدہ ہو کر)

چاچی۔لو کر لو گل میں کیوں ناراض ہونے لگی اپنے پیارے بھتیجے سے

میں۔نہیں وہ دوپہر کو جو ہوا

میری بات کاٹتے ہوئے 

چاچی۔زین پتر وہ ایک حادثہ سمجھ کے بھول جاو وہ ایک حادثہ تھا لیکن جو ابھی تم کر رہے تھے وہ حادثہ نہیں تھا(چاچی کے خوبصورت چہرے پہ مسکراہٹ پھیل گئ)میں نے بھی مسکرانا ہی بہتر سمجھا

چاچی ایک دم سنجیدہ ہوتے ہوئے بولی

چاچی۔زین تمھاری تمھارے چاچا سے کیا بات ہوئی ہے 

میں نے بھی چاچی کو ساری بات بتا اور کہا چاچی پلیز مجھے بتاؤ کہ اصل بات کیا ہے 

چاچی کچھ بوتی اتنے میں کچن میں صوفیہ آتے ہوئے دکھائی دی اس سے تھوڑی بہت نوک جھوک ہوئی صوفیہ اپنی مثال آپ تھی ہم ہمیشہ ایک دوسرے سے لڑتے رہتے لیکن ایک دوسرے کہ بنا رہہ بھی نہیں پاتے تھے 

خیر میں کچن سے نکلا اور امی کے پاس بیٹھ کر ان کے پاؤں دبانے لگا

📢 Post Your Ad Here

ایسی سٹوری لکھنے کی ضرورت ہی نہیں جو تین سطر سٹوری لکھ لیتے ہو عجیب رائٹر ہو قسم سے سسپنس میں چھوڑ جاتے ہو.  نہ ہی پڑھنا بہتر ہے. 

  • Author

اپڈیٹ 7

امی اپنی چارپائی پے لیٹی ہوئی کسی گہری سوچ میں گم تھی میں امی کی ٹانگیں اپنی گود میں رکھے ان کے پاؤں دبا رہا تھا امی نے میری طرف دیکھنا شروع کر دیا ان کے چہرے پر پریشانی ہی پریشانی تھی

میں۔ایسے کیا دیکھ رہیں ہیں امی؟

امی۔دیکھ رہی ہوں کہ میرا بیٹا بڑا ہو گیا ہے سوچ رہی ہوں تیری شادی کر دوں

مجھے ایک دم چاچا کی بات یاد آئی

میں۔ امی وہ چاچا کہ رہے تھے کہ انہوں نے میرے بارے میں کوئی فیصلہ کیا ہے

امی۔(تھوڑی دیر بعد جواب دیا)بیٹا فیصلہ انہوں نے نہیں میں نے کیا ہے

میں۔تعجب سے کیسا فیصلہ

امی۔بیٹا میری بات غور سے سنو تمھاری خالا کا۔۔۔۔۔۔

in present

مجھے اور چاچا کریم کو دروازے کی بیل نے جگایا میں ایک دم چونک گیا

دوستو میں ابھی اپنی وائف کا نام نہیں بتاؤں گا آگے جا کہ آپ کو خود پتا چل جائے گا اس کی جگہ میں بیگم ہی لکھوں 

میں۔چاچا کریم لگتا ہے بیگم آ گئی ہے

چاچا کریم۔جی مجھے بھی یہی لگتا ہے

اتنے میں دوبارہ بیل ہوئی اور چاچا کریم اٹھ کر دروازہ کھولنے چلا گیا میں نے ٹائم دیکھا تو بارہ بجنے والے تھے

بیگم۔ ایک گھنٹے سے بیل بجا رہی  ہوں  کہاں تھے آپ دونوں؟ یہ

عمران(میرا بیٹا) دوڑ کر میرے گلے لگ گیا

میں۔میری جان مس کیا اپنے پاپا کو

عمران میرا بیٹا تھا پہلے میری ایک بیٹی ہوئی تھی لیکن لیکن وہ ایک مہینے سے زیادہ زندہ نہ رہہ سکی اس کے بعد عمران پیدا ہوا وہ ابھی سات سال کا تھا

بیگم۔مس کیا مت پوچھیے جب سے گئی تھی یہی پوچھ رہا تھا ماما پاپا کے پاس واپس کب جائیں گے

میں۔(عمران کے گال کو چوم کر)میرا پارا بیٹا پاپا کی جان جاؤ سو جاو اپنے کمرے میں بہت ٹائم ہو گیا ہے چاچا کریم جائیں عمران کو سلا دیں اور دودھ لازمی پلائیے گا

عمران چاچا کریم کے ساتھ اپنے کمرے میں چلا گیا اور میں اور بیگم اپنے کمرے میں آگئے

بیگم کمرے میں آتے ہی باتھ روم میں گھسا گئی اور پندرہ منٹ بعد نکلی میں بیڈ پے لیٹی چکا تھا بیگم آئی اور دوسری طرف میرے ساتھ لیٹ گئی

میں۔ہاں جان سنائو کیا حال ہے کیسے گزرے دن میرے بغیر کیا حال ہے وہاں سب کا؟

بیگم۔ ایک دم فرسٹ کلاس

میں۔کیوں میری یاد نہیں آئی تمہیں

بیگم۔بلکل بھی نہیں

میں۔(اٹھ کہ بیگم کہ اوپر بیٹھ گیا لیکن میں نے اس پر وزن نہیں ڈالا) ابھی بتاتا ہوں

یہ کہ کر میں نے اپنے تپتے ہوے ہونٹ بیگم کے ہونٹوں پر رکھ دئیے اور بیگم کے ہونٹ چوسنے لگا وہ بھی میرا ساتھ دے رہی تھی تقریبا ایک آدھ منٹ تک کسنک کے بعد میں نے منہ اوپر کیا اور بیگم

کی ناک کے ساتھ ناک رگڑتے ہوئے کہا

میں۔ ہاں اب بتائو یاد آئی کہ نہیں

بیگم نے پیار سے میرے ہونٹوں پے ایک بوسہ دیا اور کہا

بیگم۔زین آپ کو پتہ ہے میں زیادہ دن آپ سے دور نہیں رہ سکتی

یہ کہ کر بیگم نے اپنے ہونٹ میرے ساتھ جوڑ دیوار کسنک کرنے لگی میں بھی بیگم کا ساتھ دینے لگا

تھوڑی دیر بعد میں نے ہونٹوں کو چھوڑا اور بیگم کی نیک پر کسنک کرنے لگا یہ میری بیگم کا وییک پوائنٹ تھا بیگم کے منہ سے سسکیاں نکلنے لگی میں نے ایک ہاتھ میں بیگم کا ممہ لیا اور زور زور سے دبانے لگا بیگم کی ہلکی سی چیخ ماری

بیگم۔اھھھھھھھ۔۔۔۔۔ زین میری جان تمھارے ہی ہیں آرام آرام سے دباؤ

میں نے ہلکے ہلکے دبانے لگا اتنے میں بیگم کا ہاتھ نیچے کی طرف کھسکا اور میرا ناڑا کھولنے لگا  میں ایک دم اٹھا اور اپنے سارے کپڑے اتار کے بیگم کے کپڑے بھی اتار دیے اور ایک دوسرے چمٹ گئے جیسے ہی بیگم کا ننگا میرے ننگے جسم کے ساتھ ملا ہم دونوں کے منہ سے سسکی نلکی

میں۔کیوں اتنے دن لگا دیئے آنے میں میری جان

یہ کہ کر میں نے بیگم کا ممہ منہ میں لے لیا

بیگم۔آھھھھھھھھ۔۔۔۔۔میری جان میں خود آھھھ۔۔۔ جانی آرام سے۔۔ پچھلے دو ہفتوں سے تمھارے بنا تڑپتی رہی ہوں آھھھھھ

میں نے ایک ہاتھ بیگم کی پھدی پے رکھا اور ایک دم سے ایک انگلی پھلی میں ڈال دی اور انگوٹھے سے پھدی کا دانا مسلنے لگا

بیگم۔آھھھھھھھھھھھ۔۔۔۔ زین پلیز اب اور آھھھھھھھ۔۔۔ مت تڑپاو

اب میرا بھی برا ہال تھا میرا لن میں اب درد ہو رہا تھا  میں اٹھا اور بیگم کی ٹانگوں میں بیٹھ کر لن پھدی کے دانے پے رگڑنے لگا

بیگم۔سیییییییی۔۔۔ میری جان رگڑو نہیں ایک ہی جھٹکے میں اندر ڈال دو

میں۔پکا جانی ایک ہی جھٹکے میں وہ نیچے سے اپنی گانڈ اوپر کر رہی تھی کہ کسی طرح لن اندر چلا جائے

بیگم۔سیییییی۔۔۔۔۔۔ ہاں میری جان ایک جھٹکے میں

میں نے بھی اب بیگم کو زیادہ دیر تڑپاتا مناسب نا سمجھا اور لن کی ٹوپی پھدی کے سوراخ پے رکھ کر آہستہ آہستہ اندر کرنے لگا

بیگم۔آھھھھھھھھ۔۔۔میری جان ایک ہی جھٹکا لگاو

میں نے لن کو پھدی سے باہر کھینچا اور ٹوپی تک باہر لے آیا اور ٹوپی اندر ہی رہنے دی  اور ایک دم سے زور سے جھٹکا مارا بیگم کے منہ سے ایک لمبی سی آہ نکل اور  میں بیگم کو زور سے چودنے لگا

بیگم۔آھھھ۔زور زور سے چودو پھاڑ کہ رکھ دو آھھھ میری پھدی کا پھدا بنا دو  اھھھھھھ

بیگم جوش میں پتا نہیں کیا کیا بول رہی تھی کچھ دیر بعد ہی بیگم تڑپنے لگی اور مجھے میرے لن پے بیگم کی پھدی سے نکلتا ہوا پانی محسوس ہونے لگا اور مجھے بھی میرا خون ایک لن کی طرف جاتا ہوا محسوس ہو رہا تھا جلد ہی میں نے ایک زور دار جھٹکا مارا اور آھھھھھھ کےساتھ اپنے پانی سے بیگم کی پھدی کو بھرتا ہوا گرتا چلا گیا ہم دونوں کی سانسیں بے ترتیب تھی تبھی میں نے ایک آواز سنی اور ہم دونوں چونک گئے

  • Author
12 hours ago, Sameer k said:

ایسی سٹوری لکھنے کی ضرورت ہی نہیں جو تین سطر سٹوری لکھ لیتے ہو عجیب رائٹر ہو قسم سے سسپنس میں چھوڑ جاتے ہو.  نہ ہی پڑھنا بہتر ہے. 

OK bhai jesy ap ki marzi na prho

📢 Post Your Ad Here

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.