November 1, 20178 yr Author میں جرم خموشی کی صفائی نہیں دیتا ظالم اسے کہیے جو دہائی نہیں دیتا کہتا ہے کہ آواز یہیں چھوڑ کے جاؤ میں ورنہ تمہیں اذن رہائی نہیں دیتا چرکے بھی لگے جاتے ہیں دیوار بدن پر اور دست ستم گر بھی دکھائی نہیں دیتا آنکھیں بھی ہیں رستا بھی چراغوں کی ضیا بھی سب کچھ ہے مگر کچھ بھی سجھائی نہیں دیتا اب اپنی زمیں چاند کے مانند ہے انورؔ بولیں تو کسی کو بھی سنائی نہیں دیتا
November 16, 20178 yr Author دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا وہی انداز ہے ظالم کا زمانے والا اب اسے لوگ سمجھتے ہیں گرفتار مرا سخت نادم ہے مجھے دام میں لانے والا صبح دم چھوڑ گیا نکہت گل کی صورت رات کو غنچۂ دل میں سمٹ آنے والا کیا کہیں کتنے مراسم تھے ہمارے اس سے وہ جو اک شخص ہے منہ پھیر کے جانے والا تیرے ہوتے ہوئے آ جاتی تھی ساری دنیا آج تنہا ہوں تو کوئی نہیں آنے والا منتظر کس کا ہوں ٹوٹی ہوئی دہلیز پہ میں کون آئے گا یہاں کون ہے آنے والا کیا خبر تھی جو مری جاں میں گھلا ہے اتنا ہے وہی مجھ کو سر دار بھی لانے والا میں نے دیکھا ہے بہاروں میں چمن کو جلتے ہے کوئی خواب کی تعبیر بتانے والا تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فرازؔ دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا احمد فراز
October 21, 20187 yr Author آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے اس کے بعد آئے جو عذاب آئے بام مینا سے ماہتاب اترے دست ساقی میں آفتاب آئے ہر رگ خوں میں پھر چراغاں ہو سامنے پھر وہ بے نقاب آئے عمر کے ہر ورق پہ دل کی نظر تیری مہر و وفا کے باب آئے کر رہا تھا غم جہاں کا حساب آج تم یاد بے حساب آئے نہ گئی تیرے غم کی سرداری دل میں یوں روز انقلاب آئے جل اٹھے بزم غیر کے در و بام جب بھی ہم خانماں خراب آئے اس طرح اپنی خامشی گونجی گویا ہر سمت سے جواب آئے فیضؔ تھی راہ سر بسر منزل ہم جہاں پہنچے کامیاب آئے
Create an account or sign in to comment