Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

My Poetry Collection

Featured Replies

  • Author


میں جرم خموشی کی صفائی نہیں دیتا 
ظالم اسے کہیے جو دہائی نہیں دیتا

کہتا ہے کہ آواز یہیں چھوڑ کے جاؤ 
میں ورنہ تمہیں اذن رہائی نہیں دیتا

چرکے بھی لگے جاتے ہیں دیوار بدن پر 
اور دست ستم گر بھی دکھائی نہیں دیتا

آنکھیں بھی ہیں رستا بھی چراغوں کی ضیا بھی 
سب کچھ ہے مگر کچھ بھی سجھائی نہیں دیتا

اب اپنی زمیں چاند کے مانند ہے انورؔ 
بولیں تو کسی کو بھی سنائی نہیں دیتا 

  • 3 weeks later...
Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Replies 142
  • Views 18k
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Most Popular Posts

  • Story Maker
    Story Maker

    اب گناہ و ثواب بکتے ہیں مان لیجیے جناب بکتےہیں پہلے پہلے غریب بکتےتھے اب توعزت مآب بکتے ہیں بے ضمیروں کی راج نیتی میں جاہ و منصب،خطاب بکتےہیں شیخ،واعظ،وزیر اور شاعر سب یہاں پر جناب بکتے

  • Story Maker
    Story Maker

    Poet: جون ایلیا جی ہی جی میں وہ جل رہی ہوگی چاندنی میں ٹہل رہی ہوگی چاند نے تان لی ہے چادرِ ابر اب وہ کپڑے بدل رہی ہوگی سو گئی ہوگی وہ شفق اندام سبز قندیل جل رہی ہوگی سرخ اور سبز وادیوںک

  • Story Maker
    Story Maker

    اب کے سفر ھی اور تھا ، اور ھی کچھ سراب تھے دشتِ طلب میں جا بجا ، سنگِ گرانِ خواب تھے حشر کے دن کا غلغلہ ، شہر کے بام و دَر میں تھا نگلے ھوئے سوال تھے ، اُگلے ھوئے جواب تھے اب کے برس بہار کی ,

  • Author

دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا 
وہی انداز ہے ظالم کا زمانے والا 
اب اسے لوگ سمجھتے ہیں گرفتار مرا 
سخت نادم ہے مجھے دام میں لانے والا 
صبح دم چھوڑ گیا نکہت گل کی صورت 
رات کو غنچۂ دل میں سمٹ آنے والا 
کیا کہیں کتنے مراسم تھے ہمارے اس سے 
وہ جو اک شخص ہے منہ پھیر کے جانے والا 
تیرے ہوتے ہوئے آ جاتی تھی ساری دنیا 
آج تنہا ہوں تو کوئی نہیں آنے والا 
منتظر کس کا ہوں ٹوٹی ہوئی دہلیز پہ میں 
کون آئے گا یہاں کون ہے آنے والا 
کیا خبر تھی جو مری جاں میں گھلا ہے اتنا 
ہے وہی مجھ کو سر دار بھی لانے والا 
میں نے دیکھا ہے بہاروں میں چمن کو جلتے 
ہے کوئی خواب کی تعبیر بتانے والا 
تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فرازؔ 
دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا
احمد فراز

  • 11 months later...
  • Author


آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے
اس کے بعد آئے جو عذاب آئے
بام مینا سے ماہتاب اترے 
دست ساقی میں آفتاب آئے
ہر رگ خوں میں پھر چراغاں ہو 
سامنے پھر وہ بے نقاب آئے
عمر کے ہر ورق پہ دل کی نظر 
تیری مہر و وفا کے باب آئے
کر رہا تھا غم جہاں کا حساب 
آج تم یاد بے حساب آئے
نہ گئی تیرے غم کی سرداری 
دل میں یوں روز انقلاب آئے
جل اٹھے بزم غیر کے در و بام 
جب بھی ہم خانماں خراب آئے
اس طرح اپنی خامشی گونجی 
گویا ہر سمت سے جواب آئے
فیضؔ تھی راہ سر بسر منزل 
ہم جہاں پہنچے کامیاب آئے

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.