May 7, 201610 yr Author اب تولیے کی تم کو ضرورت نہیں رہی لوڑے سے چوت صاف کیے جارہا ہوں میں تا اتنی دیر میں ذرا کپڑے بدل سکو لوڑے کو زیر نیف کیے جارہا ہوں میں
May 15, 201610 yr Author جھانٹ پھیلائے کیر بیٹھا ہے بوریے پر فقیر بیٹھا ہے پہلے سینے پہ شست باندھی ہے تب نشانے پہ تیر بیٹھا ہے لنڈ تنہا کھڑا ہے محفل میں ہر صغیر و کبیر بیٹھا ہے کیر زاہد ہے یا کوئی مردہ پیش منکر نکیر بیٹھا ہے حلقۂ پشم میں ہے خامۂ مست بیڑیوں میں اسیر بیٹھا ہے
May 18, 201610 yr Author غرض داؤ لوڑے نے ڈھب کے نہ کھیلے بھلا خود وہ کہتی کہ آ میری لے لے بڑھاپے میں مشکل سے ملتی ہیں چوتیں جوانی میں لگتے ہیں پیسے نہ ڈھیلے نمائش کے جنگل میں منگل کے منگل سنا ہے کہ لگتے ہیں پھدیوں کے میلے بہت اب کے چھائی ہے لوڑوں پہ مستی نہ نکلا کرو تم اکیلے ڈکیلے صنم شربت وصل کا نام سن کر نہ بولا کرو بول کڑوے کسیلے رقیبوں کی مارو حسینوں سے پہلے غرض عاشقی میں بھی ہیں کیا جھمیلے
May 24, 201610 yr Author تر وہاں پائی گئی ہے فرج جب ماری گئی گانڈ ہی اے وا بچاری تشنہ لب ماری گئی اس طرح سے اور اتنی روز و شب ماری گئی ہائے اس کافر کی رنگت، اس کی چھب ماری گئی مہر آخر وقت عند ..... ہی بخشا گیا فرج اول روز سے عند الطلب ماری گئی شور طبل وبوق میں سنتا ہوں لوڑوں کی فغاں شہر میں اک کس بڑی عالی نسب ماری گئی سانحات عبرت انگیزفلسطیں کچھ نہ پوچھ ہائے کیا کون عرب پیش عرب ماری گئی مدعی کی مار کر رکھ دی مزے میں ہم نے گانڈ اور اس ڈھب سے کہ سب حیراں ہیں کب ماری گئی
June 2, 201610 yr Author آنکھ چھپ چھپ کے لڑاتے ہیں ترے جوبن سے سر کو نہوڑائے جو بیٹھے ہیں حرامی پن سے ہے وہ کس کھیت کی مولی کہ جلوں میں اس سے غیر کا یار پہ دل ہے تو مرے بینگن سے احتیاط ایسی کہ سائے سے نہ سایا بھڑ جائے شوق وہ ہے کہ لپٹ کر ہی رہا بھنگن سے شکر کر فرج کہ تو صاحب اولاد ہوئی کوں کا مت چاہ برا بیر نہ رکھ سوکن سے
July 6, 20169 yr Author چھوڑیے کس کے عاشق و معشوق ہم ہی جلاق ہیں ہمیں مجلوق زار نالی نہ پوچھ مقعد کی کارتوسوں سے تنگ ہے بندوق گھر بلاتی ہے پیار کرتی ہے میرا لوڑا ہے فرج کا معشوق لنڈ میرا کلید قفل نشاط گانڈ اس کی نشاط کا صندوق دیکھ یہ اہتمام عیش و طرب رنڈیاں چد رہی ہیں سوق بسوق دیکھ تنظیم و اتحاد و یقیں لوگ تھامے کھڑے ہیں جوق بہ جوق بے الف تھے حواریان کرام جانے لوقا ہی نام تھا یا لوق
July 15, 20169 yr Author آؤ کیوں بنتے ہو انجان یہی ہوتا ہے وصل کی شب تو مری جان یہی ہوتا ہے اے تری فرج رہے گردش ایام سے تنگ بددعاؤں کا بھی عنوان یہی ہوتا ہے پہلے ہوتے تھے کبھی وصل کے سودے چھپ کر آج کل تو سر میدان یہی ہوتا ہے خوب ہے، خوب رہیں لنڈ کی صحبت میں خراب دل میں فرجوں کے بھی ارمان یہی ہوتا ہے آب ہی آب لڑالیتی ہے منیا آنکھیں لنڈ پر اٹھتے ہیں طوفان یہی ہوتا ہے پیٹنے کے لیے دربان تلے رہتے ہیں خود ہی پھر ہٹتے ہیں دربان یہی ہوتا ہے
Create an account or sign in to comment