April 18, 201610 yr Author بھلا ہم غریبوں سے وہ کیوں چدائیں انہیں آکے دارا و جم چودتے ہیں نہیں نوکری ایسی ویسی ہماری وہ دیتے ہیں تنخواہ، ہم چودتے ہیں نہ جا طمطراق عبا و قبا پر ولی چودتے ہیں، برہم چودتے ہیں
April 19, 201610 yr Author کبھی ان کو دے کے جو دم چودتے ہیں بہت کرکے گرما گرم چودتے ہیں یہ غلمان جنت ہمارے لیے ہیں ہٹو اے فرشتو کہ ہم چودتے ہیں گریزاں وہ کیوں ہم سے اتنے ہیں یارب عدو جب انہیں دم بدم چودتے ہیں ہیں کنگال خالد مگر فضل رب سے مہربان و اہل کرم چودتے ہیں
April 24, 201610 yr Author ہمارے ساتھ جو کاٹی تھی ٹوٹی منجھی پر اسی حسین شب مختصر کی بات کرو تمہارے پاس فقط چار انگلیوں کا ہے جو خر کو مات کرے اس ذکر کی بات کرو خر: گدھا ذکر: لن
April 26, 201610 yr Author تمنا تھی کہ ان کے باپ کو ساحل پہ بٹھلا کر ہم ان کی مارتے کشتی میں کشتی ڈوبتی اپنی نکالا اس نے چاقو اور حملہ کردیا مجھ پر مرا کر گانڈ اس نے جب تمنا باندھ لی اپنی
April 28, 201610 yr Author کھودے جب کوہسار لوڑے سے کردیے میں نے غار لوڑے سے تیری فرقت میں میں نے بستر کو کردیا تار تار لوڑے سے دل تباہی کو میری کیا کم تھا کیوں کیا زیر بار لوڑے سے میں بھی تم کو کما کے دکھلاؤں جو چلے کاروبار لوڑے سے چوت ہو اور تیری صورت ہو نہ ہو فصل بہار لوڑے سے تجھ کو رسوا کرے گا اے خالد کہنا یہ بار بار لوڑے سے
April 29, 201610 yr 10 hours ago, Young Heart said: کھودے جب کوہسار لوڑے سے کردیے میں نے غار لوڑے سے تیری فرقت میں میں نے بستر کو کردیا تار تار لوڑے سے دل تباہی کو میری کیا کم تھا کیوں کیا زیر بار لوڑے سے میں بھی تم کو کما کے دکھلاؤں جو چلے کاروبار لوڑے سے چوت ہو اور تیری صورت ہو نہ ہو فصل بہار لوڑے سے تجھ کو رسوا کرے گا اے خالد کہنا یہ بار بار لوڑے سے واہ واہ واہ۔۔ کیا بات ہے۔ میں بھی تم کو کما کے دکھلاؤں جو چلے کاروبار لوڑے سے مزا ہی آ گیا۔ بڑی گہرائی میں کھڑی شاعری ہے۔
April 29, 201610 yr Author 12 hours ago, DR KHAN said: واہ واہ واہ۔۔ کیا بات ہے۔ میں بھی تم کو کما کے دکھلاؤں جو چلے کاروبار لوڑے سے مزا ہی آ گیا۔ بڑی گہرائی میں کھڑی شاعری ہے۔ پسندیدگی کا شکریہ اسی بحر میں کچھ اور شعر بھی پیش خدمت ہیں تم نے مضراب چوت میں رکھ لی میں بجاؤں ستار لوڑے سے ہم تو ڈولی میں چڑھ کے چودیں گے غل مچائیں کہار لوڑے سے
May 2, 201610 yr Author باغ میں جا کے وہ جھاڑی میں بلاتا ہے مجھے ساےۂ شاخ میں پھر لنڈ دکھاتا ہے مجھے جوہر لنڈ مجھے یوں تو بہت تھا معلوم پر چمن میں یہی رقصی نظر آتا ہے مجھے مدعا تھا مرا لوڑے کا تماشہ کرنا گھاس پر جلدی سے لیکن وہ لٹاتا ہے مجھے لوڑا سرماےۂ عالم بنا اندر جو گیا چرخ بھی اک بڑا خایہ نظر آتا ہے مجھے چودنے کو تو سبھی مجھ کو لٹا دیتے ہیں بعد جھڑنے کے نہ پر کوئی اٹھاتا ہے مجھے
May 5, 201610 yr Author چل تری کرکے تیرا ناس گئی سب وہ چنپا کلی کی باس گئی مرتے مرتے بھی خندہ رو تھی فرج موت کے منہ میں بے ہراس گئی ہاتھ ہت پھیریوں میں رکتا ہے ہائے وہ لذت مساس گئی حالت حیض ہوگئی طاری وائے گر علت نفاس گئی غم یہ ہے فرج کیوں ترے ہمراہ غیر لوڑوں کے آس پاس گئی جبر ایام سے جو کس روئی کھپ یہاں کھیتیوں کےپاس گئی ہم نے ماری توہوگئی جاوید اورنہ ماری تو بے قیاس گئی
Create an account or sign in to comment