Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا

Featured Replies

  • Author

تیرے مقعد پہ رات بھر فرہاد


رکھ کے لوڑا کہے ہے بس استاد


Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Replies 144
  • Views 158.4k
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Most Popular Posts

  • کون کہتا ہے کہ غالب کا ننھا سا ہے سکڑے تو گنڈیری اکڑے تو گنا سا ہے  

  • زمانے سے بس یہی اک گلہ ہے جو بھی ملا ہے بہن کا چڈھ ہی ملا ہے۔

  • Young Heart
    Young Heart

    رات اک دم کسی نے سسکی لی نہیں معلوم کس نے کس کی لی

  • Author

پڑی تھی میں گھر میں جو اک دن اکیلی
امانت پہ تیرے میں دھر کر ہتھیلی
پڑوسن کی منجھی چھر ر چھر جو بولی
تمہاری قسم تم بہت یاد آئے

  • Author

پیڑ کو دیمک لگ جائے یا آدم زاد کے لنڈ
دونوں ہی کو امجد ہم نے بچتے دیکھا کم

  • Author

ایام حیض میں جو ٹپکتا ہے سرخ سرخ
لگتا ہے جیسے پان بھی کھاتی ہے بھوسڑی

Edited by Young Heart

  • Author

میر کی ٹانگیں چھت سے لگ گئیں، کچھ نہ دوا نے کام کیا
خود تو وہ امید سے ہوگئی، ان کو الگ جریان کیا

📢 Post Your Ad Here
  • Author

وہ آئیں میرے خواب میں احتلام ہو گیا


ان کی بھی عزّت بچ گئی، اپنا بھی کام ہو گیا


  • Author

اک روز سیر کرنے گئی چیل چوت میں
اڑتی رہی وہ چیل کئی میل چوت میں
اک دن وہ تھا کہ جاتی نہ تھی کیل چوت میں
اتنی چدی کہ بہنے لگے فیل چوت میں
میں کھول کے کھڑا تو ہوں اپنا ازار بند
جائے گا کس طرح یہ گرانڈیل چوت میں

  • Author

پاکیزگی پہ اپنی اسے کیا غرور تھا
وہ جارہی ہے نیفے کے کس بل سنوارتی

  • 2 weeks later...
  • Author

دکھایا جو روپیہ چمکتا ہوا
وہ لالچ میں پھر سامنے جھک گیا
ہوئی جبکہ تکلیف کہنے لگا
کریما بہ بخشائے بر حال ما
کہ ہستم اسیر کمند ہوا
کہا اس سے میں نے کہ اے دلربا
گھسیڑوں میں پورا کہ آدھا بتا
تو شرما کے مجھ سے یہ کہنے لگا
سپردم بہ تو ماےۂ خویش را
تو دانی حساب کم و بیش را
لٹایا انہیں اور بنایا نرس
دیا ان کی مقعد پہ لوڑا جو کس
وہ نیچے سے بولے کہ بس بھیا بس
ندایم غیر از تو فریاد رس
توعامیاں را خطا بخش و بس

  • Author

تھا کل تلک تو خوشامد سے گانڈ مرواتا
ہمہ شما کے اشارے پہ دوڑ کر آتا
پھرے تھا بیچ کی انگلی سے گانڈ کھجلاتا
ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا
وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے

📢 Post Your Ad Here

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.