March 7, 201610 yr Author ہاہاہا۔۔ بہت ہی عمدہ جناب۔۔ شعر کو پسند کرنے کا بہت شکریہ عمران پیا اب آہی گئے ہیں تو کوئی گندہ سا شعر ہی شئیر کرتے جائیں آپ نے بھی تو کچھ گندے گندے شعر سنے ہونگے ایک سیاسی شعر ---------------- ہم بُبے ہی تاڑتے رہے اور وہ پیلتے رہے حکومت چل سکی نہیں دھکیلتے رہے ہر روز سانحہ اک نیا ہی سامنے آیا اور ہم ٹٹے کھجا کھجا کر ہی کھیلتے رہے
March 9, 201610 yr Author شعر کہیں شاعری کہیں یا گائیں کوئی گاناتیری نانی ٹانگ اٹھائے تو چودے میرا نانا
March 10, 201610 yr Author ان کی گلی سے گذرے تو چوبارہ نظر آیا ان کی گلی سے گذرے تو چوبارہ نظر آیا اس کی ماں نکلی اور بولی گانڈ پھاڑ دوں گی بھونسڑی کے جو دوبارہ نظر آیا Edited March 10, 201610 yr by Young Heart
March 11, 201610 yr Author میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے طفیل اسی عطّار کے لونڈے کا لیے بیٹھے ہیں
March 12, 201610 yr Author صبح دم ایسے تنا ہوتا ہےجیسے لوہے کا بنا ہوتا ہے Edited March 12, 201610 yr by Young Heart
March 12, 201610 yr چودنے دو کسی کو کسی کے غم چودتے ہیں۔ کسی کو کسی کے خم چودتے ہیں۔ کسی کو کسی کے زعم چودتے ہیں کسی کو کسی کے صنم چودتے ہیں کسی کو کسی کے بلم چودتے ہیں یہ شرفا بنا کر بھرم چودتے ہیں سیاست دان نامِ وطن چودتے ہیں صحافی بزور ِقلم چودتے ہیں، لونڈے جو دکھا کر فلم چودتے ہیں پھر یار بنا کر فلم چودتے ہیں کئی تو بنا کر بہن چودتے ہیں جو سب چودتے ہیں تو انکار کیوں ہے کہ نہ آپ چودتے ہیں نہ ہم چودتے ہیں۔
March 12, 201610 yr Author تیر میں ہے نہ تلوار میں ہے جو کچھ بھی ہے شلوار میں ہے ہاہاہا -- بہت ہی اعلٰی - حقیقت تو یہی ہے کسی زمانے میں اسی قسم کا سیاسی شعر سنا کرتے تھے نہ تیر چاہیے ہے نہ تلوار چاہیے ہمیں تو بس ان کی شلوار چاہیے (اصل الفاظ "ان" کی بجائے کچھ اور تھے لیکن میں نے انہیں تبدیل کیا کیونکہ وہ کسی کا نام تھا اور شعرمخالف سیاسی سپورٹر کے منہ سے سنا تھا) Edited March 12, 201610 yr by Young Heart
March 12, 201610 yr Author On 3/12/2016 at 1:44 PM, DR KHAN said: چودنے دو کسی کو کسی کے غم چودتے ہیں۔ کسی کو کسی کے خم چودتے ہیں۔ کسی کو کسی کے زعم چودتے ہیں کسی کو کسی کے صنم چودتے ہیں کسی کو کسی کے بلم چودتے ہیں یہ شرفا بنا کر بھرم چودتے ہیں سیاست دان نامِ وطن چودتے ہیں صحافی بزور ِقلم چودتے ہیں، لونڈے جو دکھا کر فلم چودتے ہیں پھر یار بنا کر فلم چودتے ہیں کئی تو بنا کر بہن چودتے ہیں جو سب چودتے ہیں تو انکار کیوں ہے کہ نہ آپ چودتے ہیں نہ ہم چودتے ہیں۔ بہت ہی بہترین اور کمال نظم ہے فحش الفاظ میں حقائق بیان ہوئے ہیں اسی کا ایک ورژن میرے پاس بھی ہے یہ عالم بہ زور علم چودتے ہیں یہ حاکم بہ زور حکم چودتے ہیں یہ تاجر بہ زور رقم چودتے ہیں مصیبت ہماری تمہاری ہے بھائی نہ تم چودتے ہو نہ ہم چودتے ہیں Edited February 13, 20179 yr by Young Heart
Create an account or sign in to comment