February 11, 201610 yr Author لڑکی تھی لکھنؤ کی تو لڑکا پشور کاماری یہاں کے لوڑے نے جا کر کہاں کی چوتدیتا ہے دھونس مجھ کو گورنر کے نام کیاٹھ تیری اور تیرے گورنر کی ماں کی چوت
February 13, 201610 yr Author ابھی تو جوان ہوںابھی تو میں جوان ہوںبہار کا سمان ہوںاٹھاؤ بوتل تیل کیسرحدوں کے میل کیاپنی مٹھی اپنا لنڈزن ڈزن ڈزن ڈزنگاؤں کی یہ چھوکریاںچدی چدائی رنڈیاںکھلے ہوئے ہیں بھوسڑےان سے تو کنارہ کرمٹھ پہ گذارہ کرکالج کی یہ لڑکیاںہلاتی ہیں جب چھاتیاںکھلے ہوئے ہیں بھوسڑےان سے تو کنارہ کرمٹھ پہ گذارہ کر لڑکی کی آواز میں ویڈیو ملاحظہ ہو
February 15, 201610 yr Author تھوک سے مٹھ نہ لگا اے مرے اچھے فنکار ایک لمحے کو ٹھہر میں تجھے صابن لا دوں
February 16, 201610 yr Author دوستو! ہے فرج وہ زندہ شہیدجس کے مرنے پر منا کرتی ہے عیدفرج کو ہر چند کیجے مستفیدگانڈ کو یکسر نہ رکھیے نا امیدہاتھ رکھتے ہی کیا چانٹا رسید’کم نظر بے تابی جانم ندید‘کیا کہوں اس کی انانیت کا حالہے یہ لوڑا دوسرا سرمد شہیدنامرادی اس کس بے کس کی ہائے’منحصر مرنے پہ ہو جس کی امید‘فرج کو برسوں گل حکمت کیاتب ہوا ہے بادۂ عشرت کشیدتھام کے رکھتی اگر لوڑے کو فرجیوں نہ ہوتی گانڈکی مٹی پلیدسخت گیری کون کافر کی نہ پوچھلنڈ کیا لونڈا ہے گویا زر خریدہجر میں صابن کا استعمال بھینسخۂ ارزاں ہے اور خاصا مفیدنام لیجے اور یہ استادہ ہوابھوسڑی مرشد ہے اور لوڑا مرید
February 17, 201610 yr Administrators ایک شعر کچھ یاد آ رہا ہے۔ دودھ جیسے مموں سے دودھ تم پلاؤ نا لن کو ہاتھ میں پکڑو مسلو اور ہلاؤ نا چودنا ہے اب مجھ کو اور صبر نہیں ہوتا مجھ کو اپنی چھوٹی سی چوت تو دکھاؤ نا
February 20, 201610 yr Author پہلے اس نے کُس کہا پھر ما کہا پھر در کہا اس طرح ظالم نے کُس مادر کے ٹکڑے کردیے
Create an account or sign in to comment