Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا

Featured Replies

  • Author

 

کون کہتا ہے کہ غالب کا ننھا سا ہے

سکڑے تو گنڈیری اکڑے تو گنا سا ہے

 

 

ہاہاہاہاہا

چچا غالب سے معذرت کے ساتھ

 

بے خودی بے سبب نہیں غالب

سچ بتاؤ کس نے گانڈ ماری ہے

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Replies 144
  • Views 158.2k
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Most Popular Posts

  • کون کہتا ہے کہ غالب کا ننھا سا ہے سکڑے تو گنڈیری اکڑے تو گنا سا ہے  

  • زمانے سے بس یہی اک گلہ ہے جو بھی ملا ہے بہن کا چڈھ ہی ملا ہے۔

  • Young Heart
    Young Heart

    رات اک دم کسی نے سسکی لی نہیں معلوم کس نے کس کی لی

  • Administrators

ایک لڑکی غالب کا دل توڑ کر چلی گئ تو غالب نے عرض کیا

وہ چلی گئی ہماری شکل پر موت کے
چلو اسی بہانے دیدار تو ہوئے اس کی چوت کے

ایک لڑکی نے غالب سے لیٹ نائیٹ ملنے کا وعدہ کیا اور بہت انتظار کے بعد لڑکی ملنے پہنچی غالب نے عرض کیا

لے جا اپنی چوت کسی اور کو دے دے
غالب کو اپنے ہی ہاته سے قرار آ گیا

  • Author

ایک لڑکی غالب کا دل توڑ کر چلی گئ تو غالب نے عرض کیا

وہ چلی گئی ہماری شکل پر موت کے

چلو اسی بہانے دیدار تو ہوئے اس کی چوت کے

ایک لڑکی نے غالب سے لیٹ نائیٹ ملنے کا وعدہ کیا اور بہت انتظار کے بعد لڑکی ملنے پہنچی غالب نے عرض کیا

لے جا اپنی چوت کسی اور کو دے دے

غالب کو اپنے ہی ہاته سے قرار آ گیا

 

ہاہاہاہاہاہاہا

 

واہ جی واہ بہت خوب

 

اسی طرح کسی شاعر نے فرمایا

 

وہ آئیں میرے خواب میں احتلام ہوگیا

ان کی بھی عزّت بچ گئی اپنا بھی کام ہوگیا

  • Author

کہا جاتا ہے کہ ایک دفعہ سرِ بازار کسی لڑکی نے غالب کو نامرد اور بے اولاد ہونے کا طعنہ دیا جس پر غالب کا ردّعمل تھا


 


کون کہتا ہے کہ غالب کا کھڑا نہیں ہوتا


سربازار جو نہ دوں تا غالب نہ کہیو


  • Author

ایک لڑکی تھی سترہ سال کی - بہت خوبصورت تھی اور سامنے ایک لڑکا رہتا تھا پچیس سال کا
جس نے بڑی کوشش کی کہ دے دے، دے دے لیکن نہیں دی - زمانہ گذرتا گیا جب لڑکا اسی سال کا ہوگیا اور لڑکی تہتّر کی ہوگئی تو ایک دن آگئی کہ بھئی لے لو تو لڑکے نے اپنی طرف دیکھا اور لڑکی کی طرف دیکھا پھر اس پر ایک نظم کہی - ملاحظہ ہو

اب جو تم مرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو

میں نے مانا کہ تم اک پیکرِ رعنائی تھیں
چوچیاں بارھویں سال ہی ابھر آئیں تھیں
ہر نظر باز کی تفریح تھیں ہرجائی تھیں
اپنے جوبن کے خریداروں پر اترائی تھیں
اس وقت نہ پوچھا تو اب کیوں آئی ہو
یہ چدی اور پٹی چوتیاں لائی ہو
اب جو تم میرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو

مجھ کو یاد ہیں وہ تمہارے نشیلے جوبن
رس بھرے رس داررسیلے جوبن
جن کی نوکیں چبھیں دل میں وہ نوکیلے جوبن
اب کیا رہا اب تو ہوگئے ڈھیلے جوبن
ہاتھ کتنے حرامیوں نے گرمائے ہیں
اتنے کھینچے ہیں کہ پیٹ پہ لٹک آئے ہیں
اب جو تم میرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو

چوتوں نے مرے لوڑے کی یوں ماری ہے
اک مدت سے بے چارے پر بے ہوشی طاری ہے
اب نہ سدھ ہے نہ احساس ہے نہ ہوشیاری ہے
یہ اک ہیرو ہے جو معذور اداکاری ہے
اب تو لہنگے کی ہوا سے بھی نہ ہوش آئے گا
کھول کے لیٹ بھی جاؤ تو نہ جوش آئے گا
اور اے دوست !!!  اب تو اس کام سے بھی گھن آتی ہے
صرف سوچنے سے مری گانڈ پھٹی جاتی ہے
اب جو تم مرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو

اک زمانہ تھا جب مجھے کام مزہ دیتا تھا
رنگ اپنا میں ہر چوت پہ جما دیتا تھا
ایک اک کونے میں چوتوں کے ہلا دیتا تھا
اچھے اچھے لوڑوں کو میں نظروں سے گرا دیتا تھا
ایک ہی موقع میں وہ چبھنے کا مزہ پاتی تھی
چدھ کہ ہر چوت دعا دیتی چلی جاتی تھی
لیکن اے دوست
اب نہ وہ میں ہوں نہ لوڑے میں دم باقی ہے
پھٹ چکی گانڈ اب صرف بھرم باقی ہے
اب جو تم مرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو

یہ کہانی ہے حرف بہ حرف مرے لوڑے کی
سر نیچے رہتا ہے نیچی ہے نظر لوڑے کی
گانڈ میں گھس گئی سب اینٹھ مرے لوڑے کی
اپنی حالت پر افسوس کیا کرتا ہے
چوت کو دیکھ کے منہ موڑ لیا کرتا ہے
اب جو تم مرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو

تم ایک سفلس ہو سوزاک ہو کوئی کیا جانے
خشک ہوں چوت کے کونے کوئی کیا جانے
اب تو لوڑے کو نہ آفت میں پھنساؤں گا میں
اس گڑھیا میں تو غوطہ نہ لگاؤں گا میں
جھک کے دیکھو تو ذرا بھوسڑے کی حالت زار
یہ وہ تلیّا ہے جس پہ چھائی ہوئی ہے سوار
نام باقی نہ رہا صرف نشان باقی ہے
اب تو جھانٹیں ہی جھانٹیں ہیں چوت کہاں باقی ہے
اب جو تم مرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو

دیکھتی رہتی تھیں نظریں مرے لوڑے کی بہار
چوبیسوں گھنٹوں کھرا رہتا تھا میرا ہتھیار
موتتا تھا تو جاتی تھی گزوں دور  پیشاب کی دھار
مرے لوڑے کا ہوتا تھا حسینوں میں شمار
لیکن اے دوست اب تو ایک بالشت کی بھی نہیں جا پاتی ہے
دھار پیشاب کی ٹٹوں پہ ٹپک جاتی ہے
اب جو تم مرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو

 

آڈیو ملاحظہ ہو

Edited by Young Heart

📢 Post Your Ad Here
  • Author

 

اچھی غزل ہے۔اس سے پہلے میری نظروں سے نہیں گزری۔اور آڈیو پر کبھی توجہ نہیں دی۔لائیک اٹ ڈیئر امیزنگ

 

 

بہت شکریہ پسندیدگی اور پذیرائی کا

لیکن اپنے اجزائے ترکیبی کے لحاظ سے اسے نظم کہیں گے -- غزل نہیں

  • Author

قدم قدم پہ بھرے گھر نے پاسبانی کی


مگر وہ چد کے رہی خیر ہو جوانی کی


  • Author
On 1/16/2016 at 2:27 PM, Administrator said:

 

اچھی غزل ہے۔اس سے پہلے میری نظروں سے نہیں گزری۔اور آڈیو پر کبھی توجہ نہیں دی۔لائیک اٹ ڈیئر امیزنگ

 

 

یہ نظم تو پیروڈی ہے

 

اصل نظم بہت خوبصورت ہے

 
اب میرے پاس تُم آئی ہو ، تو کیا آئی ہو

میں نے مانا کہ تم اِک پیکرِ رعنائی ہو

چمنِ دہر میں روحِ چمن آرائی ہو

طلعتِ مہر ہو ، فردوس کی برنائی ہو

بِنتِ مہتاب ہو ، گردوں سے اُتر آئی ہو

مجھ سے مِلنے میں اب اندیشہءِ رُسوائی ہے

میں نے خود اپنے کیے کی یہ سزا پائی ہے

خاک میں، آہ، ملائ ہے جوانی میں نے

شعلہ زاروں میں جلائی ہے جوانی میں نے

شہرِ خوباں میں گنوائی ہے جوانی میں نے

خواب گاہوں میں گنوائی ہے جوانی میں نے

حُسن نے جب بھی عنائت کی نظر ڈالی ہے

میرے پیمانِ محبت نے سِپر ڈالی ہے

اُن دِنوں مُجھ پے قیامت کا جُنوں طاری تھا

سَر پے سرشاری و عِشرت کا جُنوں طاری تھا

مہ پاروں سے محبت کا جُنوں طاری تھا

شہر یاروں سے رقابت کا جُنوں طاری تھا

بِسترِ مخمل و سنجاب تھی دُنیا میری

ایک رنگین و حسیں خواب تھی دُنیا میری

کیا سُنو گی میری مجروح جوانی کی پُکار

میری فریادِ جِگر دوز میرا نالاءِ زار

شِدتِ کرب میں ڈوبی ہوئی میری گُفتار

میں کہ خود اپنے مذاقِ طرب آگیں کا شِکار

وہ گُدازِ دلِ مرحوم کہاں سے لائوں؟

اب میں وہ جذبہءِ معصوم کہاں سے لائوں؟

اب میرے پاس تُم آئی ہو، تو کیا آئی ہو

مجاز لکھنوی

 
  • Author

گوری رنگت پہ نہ جا اے غالب


جائے مخصوصہ سب کی کالی ہے


📢 Post Your Ad Here

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.