January 12, 201610 yr بچپن اور لڑکپن میں بڑے شوق سے گندے گندے اشعار سنا کرتے تھےاس تھڑیڈ میں ادھر ادھر سے سنے سنائے گندے اشعار یا نظمیں شئر کی جائیں گی تو پہلی نظم حاضر خدمت ہے عرضِ حیات کا ہے ارمان بھوسڑی کاچوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کاوہ دیکھو اپنے اندر دو دو چڑھا رہی ہےڈر ہے کہ ہو نہ جائے چالان بھوسڑی کاجب سے ہوئی ہے شادی معشوق کی کسی سےجینے کا نہیں کوئی ارمان بھوسڑی کاچوتیں بنی ربڑ کی اور پلاسٹک کے لنڈکیا کیا بنا رہا ہے جاپان بھوسڑی کااب چودا بھی جا رہا ہے مندروں کی جانبکیا ماں چدوا رہا ہے شیطان بھوسڑی کاوہ دیکھو چھت کے اوپر جوڑی بنا رہے ہیںاور ڈر ہے کہ آ نہ جائے بڑا بھائی بھوسڑی کامعشوق نے کہا ہے سگریٹ نہ پینا جانوگٹکا چبا رہا ہے عمران بھوسڑی کاوہ آئے ہمارے گھر میں ہمیں لنڈ خبر نہیں ہےیہ ماں چدوا رہا تھا چوکیدار بھوسڑی کاہے رات بہت کالی گھر پہ سنبھل کے جانارستے میں چھن نہ جائے موبائیل بھوسڑی کاگانڈ مارنے کا شوق تو ہم بھی رکھتے ہیںیہ کیا کام دیکھا رہا ہے پٹھان بھوسڑی کالوڑے اپنے سنبھال لو میرے دوستوںورنہ بس رہ جائے گا نام بھوسڑی کااس نظم کی آڈیو ملاحظہ ہو Edited January 12, 201610 yr by Young Heart
January 13, 201610 yr زبردست جناب۔۔کیا بات ہے۔ واقعی میں نے بھی نظم اپنی نوجوانی کے اوائل میں سنی تھی۔
January 13, 201610 yr Author ACHA SILSLLA HAI NICE JOB بہت شکریہ اس پذیرائی کا کچھ تو گندے گندے شعر آپ نے بھی سنے ہونگے بچپن یا لڑکپن میں تو شئر کیجیے
January 14, 201610 yr Author زمانے سے بس یہی اک گلہ ہے جو بھی ملا ہے بہن کا چڈھ ہی ملا ہے۔ ہاہاہاہاہا بہت خوب ڈاکٹر صاحب بہن کے چڈ کو پنجابی میں غالباََ یوں کہیں گے کہ جو بھی ملا ہے پین لن ملا ہے
Create an account or sign in to comment