Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

حلالہ کے بعد دوبارہ نکاح

Featured Replies

8 minutes ago, sohail25 said:

Meri ilam ke mutabik halala shaid hi kabhi aplicable hoota ho . halala ki zaroorat jab ap teen dafa talaq hassan se talaq de dain ( 3 talaq ka means 1 talaq ) agar ap teen dafa talaq de b dain tu

aurat ke tessre ayam se qabil rajhoo jaiz hai aur agar tesree ayyam se qabil rajho na ho tu fir nia naka nia haqmar ke sath usi aurat se jaiz hai

is tara 2nd time aur agar third time aisa ho jaye fir halala karna parta hai ...

mere zaati hail main itni dafa talaq yan kisi aurat ke nikal kar fir rajoo yan nia nika ke baad lakhon main koi 1 case ho ga jo dobara rajoo karna chahe ga

For reffernce kindly

 

surah baqra       aiyat # 228 to 240
surah talaq        aiyat  1 to 7
surah nisa         aiyat   35
surah baqra       aiyat  232 for concept of halala
ibne abbas         sahi muslim jild  # 2 hadith # 3491

بھائی آپ کی تین طلاقوں والی بات درست ہوگی -- یہ حوالے بھی درست ہونگے

لیکن پہلے تو یہ سمجھ لیجیے کہ میں نے ایک طلاق دینے والی جو بات کی ہے وہ سارے مسالک حتی کہ اہل تشیع میں بھی متفق ہے

کہ طلاق دینے کا طریقہ یہ ہے کہ ایک ہی طلاق دی جائے (تین نہ دی جائیں - اور یک مشت تو ہرگز نہ دی جائیں)۔ اور عدت تک انتظار کیا جائے - اسے غالبا کچھ مسالک میں طلاق احسن کہا گیا ہے کہ صحیح طریقۃ طلاق تو یہی ہے

دوسرا طریقہ ہے تین طلاقوں کا --- کہ تین طلاقیں اگر دینی ضروری ہی ہیں اور عورت سے صرف علیحدہ ہی نہیں ہونا بلکہ اسے اپنے لیے مکمل طور پر حرام کر دینا ہے تو پھر ایک طہر (پیریڈ کے بعد پاکیزگی میں) ایک ہی طلاق دی جائے اور تین طہر میں تین طلاقیں دے دی جائیں --- یہاں تک بھی میری معلومات کے مطابق اتفاق ہے -- اور اسے طلاق حسن کہا جاتا ہے --- تین طلاقوں کے بعد عورت حلالہ کے بغیر نکاح میں نہیں آسکتی

یہاں تک تو جو لکھا ہے اس میں تقریباََ سبھی متفق ہیں

میں نے اوپر کی پوسٹ میں جو کچھ لکھا کوشش کی تھی کہ صرف اتنا ہی لکھوں جس پر سب کا اتفاق ہے کوئی مسلکی بحث نہ چھیڑوں --- مگر ہماری عادت ہے کہ ہم اتفاق والی چیزوں پر گذارہ کرنے تیار نہیں ہوتے اور اتفاق والی باتوں کو مکمل نظر انداز کرکے اختلافی مباحث میں غیر ضروری الجھ جاتے ہیں

خیر اب ہے تیسری صورت --- جو کہ قانون کی خلاف ورزی ہے (کہ جو طریقہ بتایا گیا ہے اس کی خلاف ورزی ہے)۔ اور وہ ہے کہ ایک ہی مجلس میں یا ایک ہی موقع پر تین طلاقیں دے دی جائیں

یہاں مسالک میں اختلاف ہے -- کہ کیا ایک ہی بار دی گئی تین طلاقیں ایک ہی طلاق شمار ہونگی یا تین شمار ہونگی

حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی مسلک کے مطابق وہ تین طلاقیں شمار ہونگی ، اہل حدیث کے نزدیک ایک مجلس میں جتنی بھی طلاقیں دی جائیں ایک ہی شمار ہو گی (لیکن اتنی بات پر یہ بھی متفق ہیں کہ زیادہ طلاقیں دینا ایک ساتھ ہے گناہ کاکام)۔ اور غالباََ اہل تشیع کے نزدیک بھی ایک ساتھ تین طلاقیں ایک ہی شمار ہوتی ہیں ۔۔۔ بلکہ طلاق دینے کی کنڈیشنز ان کے ہاں اور بھی سخت ہیں کہ غصّے میں دی گئی طلاق نہیں ہوتی

یہاں کون صحیح ہے کون غلط میں اس بحث کا غیر ضروری سمجھتا ہوں - اور سبھی کا احترام کرتاہوں --- ان کی بحثیں میں پڑھی ہیں -- سبھی ان اوپر دیے گئے حوالوں اور حدیثوں سے ہی نتیجہ نکال رہے ہیں لیکن ان میں رائے کا اختلاف ہے - ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ایک تو صحیح تشریح کررہا ہے اور دوسرا غلط 

بھائی آپ کا جو مسلک ہے آپ وہ رائے رکھو اور کسی دوسرے پر اپنی رائے نہ ٹھوسو

ہاں البتہ اتنا ضرور ہے کہ  سازش کے تحت کئے گئے حلالہ کے سبھی متفقہ طور پرسخت  خلاف ہیں

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Author
  • Administrators

تمام رپلائی پڑهے بحث مثبت ہے

خدا نے انسانی فطرت کو جس طرح ترتیب دیا ہے کوئی کام اس سے الٹ کیا جائے تو ایک بار انسان کا کم عقل ذهن ہل کر رہ جاتا ہے. انسانی رشتوں میں میاں بیوی کا رشتہ جس قدر اہم ہے اسی قدر نازک بهی ہے.ہمارے مذهبی پیشواؤں نے اپنی ذاتی ضرورتوں کو مذہبی انداز میں اپنے تابع کر لیا. اور اپنے فائدے کو ہی مد نظر رکها.قصور مرد کا اور زیر عتاب بے چاری عورت ،،،ہوتا تو یہ کہ مرد کو کوئی  مالی یا اس قسم کی کوئی تادیبی سزا دی جاتی پهر بهی بات بنتی تهی. مگر نہیں انہیں قربانی ہمیشہ عورت سے ہی چاہیئے،ذرا سوچیں .جس خاوند کی عورت ایک رات کے لیئے کسی اور کے بستر پر ہو تو کیا وہ غیرت سے ہی نہ مر جائے گا.اگر اس بات کا اندازہ لگانا ہو تو دو پل کے لئے تصوراتی طور پر ہی خود کو اس کی جگہ پر رکه کر سوچیں .جواب با آسانی مل جائے گا

ایک طرح سے حلالہ اس چیز سے بهی غلط قرار پاتا ہے کہ یہ وہ نکاح ہے جو چهپ کر کیا جاتا ہے.جبکہ نکاح کا مطلب ہی اپنی شادی کا اعلان کرنا ہے.اور کوئی بهی نکاح شرطیہ یا مخصوص مدت تک کے لیئے نہیں کیا جاتا. میری معلومات کے حساب سے ایسا نکاح ہی غلط ہے. جبکہ حلالہ میں پہلے مدت کا تعین کیا جا رہا ہوتا ہے.اور پهر جب ایک بیوی ابهی اپنے پہلے خاوند کے نکاح میں موجود ہے وہ دوسرا نکاح کیسے کر سکتی ہے.طلاق کا سہی طریقہ وہی ہے تو اوپر ینگ ہارٹ نے لکها.مگر طلاق ایک نا پسندیدہ عمل ہے .خدا سب کو اس سے محفوظ رکهے.جہاں تک میری معلومات ہیں . اس معاملے میں ہر فرقہ کی الگ رائے ہے.اور ہر فرقہ سے تعلق رکهنے والہ اپنے فرقہ کی روشنی میں ہی اس بات پر بحث کرے گا.جیسا کہ ینگ ہارٹ نے کہا.میں بهی ہر فرقہ کا دل سے احترام کرتا ہوں.مگر ان حالات کو اگر قریب سے دیکھا جائے تو ان سب میں اہلحدیث فرقہ کی رائے بہتر محسوس ہوتی ہے.کیونکہ بهت سے دوسرے فرقے اپنے ذاتی معاملے میں اہلحدیث سے فتوی لیتے دیکهے گئے جبکہ دوسروں کو وہ حلالے کی چهری سے ذبح کرتے ہیں مجلس میں دی گئی تمام طلاقیں ایک ہی شمار ہو گی.اور عدت کے اندر خاوند رجوع کر سکتا ہے .رجوع کے لیئے عورت ست اتنا کہنا کافی ہو گا کہ میں نے تجه سے رجوع کیا.

ہاہاہاہا

یہی تو مجھے المیہ لگتا ہے --- ہم تین طلاقوں کے بحث میں اتنا الجھتے ہیں کہ لوگوں کے دماغ میں کہیں بیٹھ گیا ہے کہ ایک طلاق دینے سے مکمل علیحدگی ہوتی ہی نہیں ہے

سب سے پہلے تو لوگوں کے دماغ میں یہ بٹھانے کی ضرورت ہے کہ علیحدہ ہونے کے لیے ایک طلاق کافی ہے - تو پھر کہیں کوئی مسئلہ ہی نہیں

اوپر سے ظلم ہمارے ہاں طلاق رجسٹر کرانے کے طریق کار میں بھی ہے --- جب تک تین طلاقیں نہ لکھی جائیں طلاق ہی رجسٹر نہیں ہوتی - اب یہاں کیا کیا جائے - ہر کام ہی الٹا ہے -

 

دراصل مسالک کا اختلاف وہیں شروع ہوتا ہے جہاں سے قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے -  کیونکہ تلقین کی گئی تھی کہ علیحدہ ہونا ہے تو ایک ہی طلاق دو اور عدت کا انتظار کرو (کم از کم پچھتانے کی صورت میں دوبارہ نکاح کی گنجائش تو ہوتی)۔

لیکن دے ڈالی جاتی ہیں تین وہ بھی ایک ہی مجلس میں - تو یہاں خلاف ورزی ہوئی احکام کی۔ اور میرے نزدیک صریحاََ ظلم کیا گیا عورت پر

اسی لیے ایسے معاملے میں حضرت عمر تین اکٹھی طلاقیں دینے والے کو 20 کوڑے مارا کرتے تھے - کہ یہ صریحاََ دین کے ساتھ مذاق ہے

اب اختلاف یہ ہے کہ اگر تین طلاقیں دے دی ہیں تو انہیں تین سمجھا جائے یا ایک

میں نے چونکہ سبھی کی رائے کو ان سب کے نقطۃ نظر سے پڑھا ہے اور میرے خیال میں تو سبھی اپنی اپنی جگہ مضبوط مؤقف اور دلیلیں رکھتے ہیں - اگر اختلاف ہے تو صرف ان مسلک کے آئمہ میں نہیں بلکہ صحابہ کرام کے درمیان بھی اس معاملے پررائے کا اختلاف رہا ہے

ہم اگر یہ کہیں گے کہ ہمیں یہ مؤقف زیادہ بہتر لگتا ہے تو ساتھ ہی ذاتی رائے کے مطابق بھی کہہ دینا چاہیے -- مفتی نہ ہی بنیں تو بہتر ہے 

لیکن جیسے کوئی پھنسنے کے بعد راستہ تلاش کرتا ہے تو تین اکٹھی طلاقیں دے کر اہل حدیث کے مؤقف اختیار کرنے سے کچھ لوگوں کی نجات کا راستہ مل جاتا ہے  - جو کم از کم سازشی حلالے سے کہیں بہتر ہے

میرے نوٹس میں دو ایسے کیسزرہے ہیں جن میں اکٹھی تین طلاقوں کے بعد، اہل حدیث موقف کے مطابق دوبارہ نکاح کیا گیا

لیکن لوگوں کا ردّعمل بڑا ہی واھیات تھا --- سبھی محلے والے جینا حرام کیے رکھتے تھے - اور بے ہودہ تبصروں کا ریکارڈ قائم کرنے میں سبقت لینے کی کوششیں کرتے رہتے

میری جس سے بحث ہوتی میں لاکھ کہتا کہ ایک فقہ میں یہ گنجائش اور مؤقف ہے لیکن ہمارے ہاں ہر بندہ ہی کنویں کا مینڈک ہے - جو فتوی اس کے پاس ہے اس سے ہٹ کر سوچ ہی نہیں سکتا - دوسروں کے لیے سوائے مشکلات پیدا کرنے کے اور کوئی کام نہیں کرتا

لیکن بہرحال اگر طلاق ہی  شرعی قانون/طریق کار کے مطابق دی جائے تو مسئلہ تو پیدا ہی نہیں ہوتا

اب سازشی حلالے میں بھی دیکھ لیں

مالکی، شافعی، حنبلی کہتے ہیں کہ حلال کرنے کی نیت سے دوسرے شخص سے نکاح کرنے سے نکاح ہوگا ہی نہیں اور بیوی حلال ہی نہیں ہوگی - صرف زنا ہوگا

امام ابوحنیفہ کے نزدیک ہے تو یہ نہایت گناہ کا کام لیکن حلالہ ہو جائے گا اور بیوی حلال ہوجائے گی

جبکہ امام ابوحنیفہ کے اپنے دو قابل شاگردوں نے بھی ان کے مؤقف سے اختلاف کیا

حضرت عمر کا کہنا تھا میرے پاس کوئی سازشی حلالہ کا کیس آیا تو میں سنگسار کردوں گا - ان کے بیٹے کا مؤقف تھا کہ سازشی حلالہ کرکے 20 سال بھی نکاح میں رہیں گے تو زنا ہی کرتے رہیں گے، حضرت عثمان نے اپنے دور میں ایک اس طرح کے کیس میں میاں بیوی کی علیحدگی کروا دی تھی کہ یہ نکاح  ہوا ہی نہیں ہے

تو یہ سب پڑھ کر جب پتہ چلتا ہے کہ کچھ مولوی اور سنٹرز حلالہ کی سروسز دیتے ہیں تو اسے کیا کہا جائے

53 minutes ago, Administrator said:

تمام رپلائی پڑهے بحث مثبت ہے

خدا نے انسانی فطرت کو جس طرح ترتیب دیا ہے کوئی کام اس سے الٹ کیا جائے تو ایک بار انسان کا کم عقل ذهن ہل کر رہ جاتا ہے. انسانی رشتوں میں میاں بیوی کا رشتہ جس قدر اہم ہے اسی قدر نازک بهی ہے.ہمارے مذهبی پیشواؤں نے اپنی ذاتی ضرورتوں کو مذہبی انداز میں اپنے تابع کر لیا. اور اپنے فائدے کو ہی مد نظر رکها.قصور مرد کا اور زیر عتاب بے چاری عورت ،،،ہوتا تو یہ کہ مرد کو کوئی  مالی یا اس قسم کی کوئی تادیبی سزا دی جاتی پهر بهی بات بنتی تهی. مگر نہیں انہیں قربانی ہمیشہ عورت سے ہی چاہیئے،ذرا سوچیں .جس خاوند کی عورت ایک رات کے لیئے کسی اور کے بستر پر ہو تو کیا وہ غیرت سے ہی نہ مر جائے گا.اگر اس بات کا اندازہ لگانا ہو تو دو پل کے لئے تصوراتی طور پر ہی خود کو اس کی جگہ پر رکه کر سوچیں .جواب با آسانی مل جائے گا

ایک طرح سے حلالہ اس چیز سے بهی غلط قرار پاتا ہے کہ یہ وہ نکاح ہے جو چهپ کر کیا جاتا ہے.جبکہ نکاح کا مطلب ہی اپنی شادی کا اعلان کرنا ہے.اور کوئی بهی نکاح شرطیہ یا مخصوص مدت تک کے لیئے نہیں کیا جاتا. میری معلومات کے حساب سے ایسا نکاح ہی غلط ہے. جبکہ حلالہ میں پہلے مدت کا تعین کیا جا رہا ہوتا ہے.اور پهر جب ایک بیوی ابهی اپنے پہلے خاوند کے نکاح میں موجود ہے وہ دوسرا نکاح کیسے کر سکتی ہے.طلاق کا سہی طریقہ وہی ہے تو اوپر ینگ ہارٹ نے لکها.مگر طلاق ایک نا پسندیدہ عمل ہے .خدا سب کو اس سے محفوظ رکهے.جہاں تک میری معلومات ہیں . اس معاملے میں ہر فرقہ کی الگ رائے ہے.اور ہر فرقہ سے تعلق رکهنے والہ اپنے فرقہ کی روشنی میں ہی اس بات پر بحث کرے گا.جیسا کہ ینگ ہارٹ نے کہا.میں بهی ہر فرقہ کا دل سے احترام کرتا ہوں.مگر ان حالات کو اگر قریب سے دیکھا جائے تو ان سب میں اہلحدیث فرقہ کی رائے بہتر محسوس ہوتی ہے.کیونکہ بهت سے دوسرے فرقے اپنے ذاتی معاملے میں اہلحدیث سے فتوی لیتے دیکهے گئے جبکہ دوسروں کو وہ حلالے کی چهری سے ذبح کرتے ہیں مجلس میں دی گئی تمام طلاقیں ایک ہی شمار ہو گی.اور عدت کے اندر خاوند رجوع کر سکتا ہے .رجوع کے لیئے عورت ست اتنا کہنا کافی ہو گا کہ میں نے تجه سے رجوع کیا.

جی درست کہا آپ نے نکاح اعلانیہ ہوتا ہے چھپ کر نہیں

رجوع میں اس بات کو سمجھ لینا چاہیے کہ ایک اور دو طلاق کی صورت میں عدت کے اندر اندر رجوع کیا جاسکتا ہے - اور اس میں واقعی یہ کہنا کافی ہے کہ میں نے رجوع کیا یا جسمانی تعلق قائم کرلے --- عدت اگر گذر جائے اور رجوع نہ ہو تو طلاق واقع ہو جائے گی --- عدت کے بعد یہ گنجائش رہے گی کہ دوبارہ نکاح کرلیا جائے

لیکن اگر تین طلاقیں ہوگئیں تو دربارہ نکاح کی گنجائش ختم ہوجائے گی سوائے ایسی صورت کے کہ عورت کسی اور سے اصلاََ نکاح کی نیت سے نکاح کرے جسمانی تعلق قائم ہو اور پھر کسی وجہ سے نباہ نہ ہوسکے اور طلاق ہو جائے

یہ ہوگا اصل حلالہ

میرے نزدیک تو شادی کرتے وقت یہ ساری باتیں لڑکے اور لڑکی کو اچھی طرح سمجھا دینی چاہییں -اتنی بنیادی باتوں سے لاعلمی کے نتائج سب کے سامنے ہیں -- اس میں کیا راکٹ سائنس ہے

کسی کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ طلاق کا صحیح طریقہ کیا ہے

اور کوئی یہ بھی ماننے کو تیار نہیں کہ ایک طلاق کی علیحدگی کے بعد دوبارہ نکاح بھی ہوسکتا ہے

سب یہی سمجھتے ہیں کی طلاق ہو گئی تو اب حلالہ ضروری

  • Author
  • Administrators

معلوم نہیں آپ کو میری کون سی بات فتوی لگی اور کس بات پر آپ کو ہنسی آئی؟

حلالہ سنٹر اور اس طرح کی سہولت دینے والے واضح طور پر زنا کا کاروبار ہی کرتے ہیں

آپ کی باقی تمام باتوں سے میں متفق ہوں

آپ کی یہ بات کہ شادی سے پہلے لڑکے کو طلاق کا طریقہ یا یہ ساری باتیں سمجھا دینا چاہیں کچھ مناسب نہیں..اس سے شاید منفی تاثر پڑتا ہے.بلکہ اسے شادی کی اہمیت اور اس کو اس ذمہ داری کو نبھانے کا بتایا جائے 

عموما طلاق جب بھی دی گئی غصہ کی حالت میں ہی دی گئی تو اس صورت حال میں ایک یا تین کا ہوش مشکل ہی ریتا ہو گا. زیادہ دیکھنے سننے میں یہی آیا ہے. شاید اسی لیے ایک مجلس میں دی گئی تمام طلاقیں ایک ہی شمار کی جاتی ہے.

📢 Post Your Ad Here
2 minutes ago, Administrator said:

معلوم نہیں آپ کو میری کون سی بات فتوی لگی اور کس بات پر آپ کو ہنسی آئی؟

.

نہیں ہنسی مجھے آپ کی بات پر نہیں آئی عمومی رائے عامہ پر آئی - معذرت خواہ ہوں اگر اس سے آپ کی کوئی دل آزاری ہوئی ہو

فتوٰی کوئی بات نہیں لگی --- میں نے عمومی رویے کے بارے میں کہا جس میں ہم رائے نہیں دیتے فتوٰی دیتے ہیں

باقی یہ درست ہے اور فطری ہے کہ فقہہ کے مسالک میں آپ کو کوئی مؤقف زیادہ پسند آئے اور کوئی کم 

میں بھی اپنی رائے کو ذاتی رائے ہی سمجھتا ہوں اور میرے خیال میں اس طرح کے معاملات میں اکیڈیمک گفتگو ہونی چاہیے

باقی میرا ذاتی مؤقف تو یہی ہے کہ شادی سے پہلے ہی نکاح طلاق پر شرعی طریق کار اچھی طرح ذہن نشین کرادینا چاہیے

میرے خیال میں تو اس طرح کا کالم شادی سے پہلے دونوں لڑکی اور لڑکے کو پڑھوا دینا چاہیے - یہ کام مجھے نیٹ پر کہیں ملا --- بہتر لگا تو شئر کررہا ہوں

جب میری شادی ہونے والی تھی تو اس وقت مجھے ایک دوست نے بتایا کہ چلو مفتی صاحب کے پاس جاکرتمھیں شادی کا مذاکرہ کرواتے ہیں۔اس وقت یہ بات مجھے عجیب سی لگی کہ شادی کا مذاکرہ ! یہ کیا بات ہوئی ؟ لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ شادی کا مذاکرہ بہت اہم چیز ہے جس بندھن میں آپ داخل ہورہے ہیں اس کے معاملات پر کسی عالم دین کی تفصیلی گفتگو کو سننا اور شادی کے احکامات و ممنوعات کو سیکھنا بہت اہم ہے۔ لیکن ہمارے ہاں جب نوجوان کی شادی کروائی جاتی ہے تواسے اِدھر اُدھر کی بہت سی اوٹ پٹانگ باتیں توبتادی جاتی ہیں۔ لیکن کسی جید عالمِ دین سے اس کوشادی کا مذاکرہ نہیں کروایا جاتا۔
شادی کرنا جتنا اہم ہے اتنا ہی اہم اس رشتے کوخوش اسلوبی کے ساتھ ختم کرنے کا طریقہ بھی ہے۔ یہ کالم لکھنے سے پہلے میں نے اپنے کئی ایک احباب سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ کیا انہیں طلاق دینی آتی ہے توا نہوں نے جو جواب دیا وہ ورطہ حیرت میں ڈالنے والا تھا کہ انہیں طلاق دینے کا درست اور شرعی طریقہ نہیں آتا تھا۔ میری نظروں کے سامنے چشم وزدن میں ایسے کئی واقعات گھوم گئے کہ جہاں شوہر نے غصے میں اپنی بیوی کو طلاق تو دے دی اور پھر پچھتانے لگے کہ ہائے میں یہ کیا کر بیٹھا ! اورپھر لگے دوڑنے اور پوچھنے کہ کیا اس صورت حال سے نجات کا کوئی راستہ بھی ہے؟ پھر دو ہی راستے نظر آئے ایک تو یہ کہ انتہائی بے غیرت بن کر اپنی بیوی کو کچھ عرصے کے لیے کسی دوسرے مرد کے نکاح میں دے دیں تاکہ وہ اسے حلال کردے۔اسے عرفِ عام میں حلالہ کہتے ہیںاور دوسرا راستہ یہ ہے کہ اہلحدیث مسلک اختیار کریں اور ایک ہی مجلس میں دی گئی تین طلاقوں کو ایک سمجھ کر اپنی بیوی کو بغیر حلالے کے گھر واپس لے آئیں۔ اس پر علماء کے مناظرے اور بحثیں اور دنگل ہوتے رہتے ہیں لیکن کوئی بھی طلاق دینے کا درست طریقہ نہیں سکھاتا۔لیکن جب کوئی غریب غلط طریقے پر طلاق دے بیٹھتا ہے تو اب دنگل شروع ہوجاتا ہے اور فتوی بازی کا بازار گرم ہوجاتا ہے۔
عام حالات میں عموما طلاق کے موضوع پر بات نہیں کی جاتی اور یہ کہہ کرکہ اللہ کو حلال چیزوں میں سے سب سے ناپسندیدہ طلاق ہے اس موضوع کو ایک طرف رکھ دیا جاتا ہے اور جن لوگوں کو شادی کی بندھن میں باندھا جارہا ہو انہیں اس بندھن کو بہترین طریقے سے کھولنے کا طریقے نہیں سکھایا جاتا اور یہ کہہ کرکہ میاں ابھی شادی ہوئی نہیں اور تم طلاق کی باتیں کرتے ہو اس موضوع کو زیر بحث نہیں لایا جاتا۔ لیکن بہتر تو یہ ہے کہ جس کسی کو نکاح کی گرہ میں باندھا جائے اسے بھلے طریقے سے یہ گرہ کھولنی بھی سکھادی جائے تو بہت سے خاندان بعد میں بڑی مصیبتوں سے بچ جائیں گے۔یہ بھی دین کی ہی ایک بات ہے شریعت کا حصہ ہے اسے لازماً سیکھ لیا جانا چاہیے۔
جب طلاق دینے کا درست طریقہ معلو م نہیں ہوتا تو حلالے کے عمل کا سہارا لیکر خاندان بچایا جاتا ہے۔ اس مکروہ عمل کے پروان چڑھانے میں نادانستہ ان لوگوں کا بھی قصور ہے جو علمِ دین کے حقیقی وارث ہیں کہ بہت کم ہی عوامی اجتماعات میں جمعہ کے خطبوںمیں اور پبلک مقامات پر علماء کو طلاق دینے کا درست طریقہ سکھاتے ہوئے دیکھا گیا ہے وہ بحث کریں گے تو صرف تین طلاق دینے کے اختلافی موضوع پر کہ یہ طلاق ہوگئی یا نہیں ہوئی ۔ البتہ یہ کوئی نہیں بتاتا کہ طلاق دینے کا درست طریقہ کیا ہے تاکہ تین طلاق کا مسئلہ جنم ہی نہ لے۔اور حلالے جیسے عمل کا سہارا نہ لینا پڑے ۔حلالہ کروانا ایک ایسی قبیح رسم اور بے غیرتی کا عمل ہے کہ جس کے تصور سے ہی ایک شریف آدمی کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ حلالہ کروانے والے پر اللہ کے نبی ؐ نے لعنت فرمائی ہے انہیں ملعون قرار دیاہے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں کچھ لوگوں نے حلالہ کے مراکز کھول رکھے ہیں جہاں انہوں نے اس کام کے لیے سانڈ بھی پال رکھے ہیں اوراس لعنتی کام کے پیسے بھی لیتے ہیں۔کہنے کو تووہ مولوی صاحبان یا علماء کرام کہلاتے ہیں لیکن دراصل وہ طبقہ علماء کے نام پر دھبہ ہیںاوراس طبقے کی کالی بھیڑیں ہیں۔
طلاق دینے کے تین طریقے ہیں۔ پہلا طریقہ یہ ہے کہ بیوی ایام سے فارغ ہو تو اس سے تعلق قائم کئے بغیر ایک طلاق دے، اور پھر اس سے تعلق قائم نہ کرے، یہاں تک کہ اس کی عدّت گزر جائے،اس طرح عدت گزرنے کے ساتھ ہی نکاح ٹوٹ جائے گا۔ اس دوران طلاق کی عدت تین حیض ہے یعنی ایک طلاق دینے کے بعد تین حیض آنے پر نکاح ٹوٹ جائے گا۔ فائدہ اس طریقے کا یہ ہے کہ اس طرح کی طلاق دینے سے خوب سوچنے اور اپنے معاملے پر بار بار غور کرنے کا بہرپور موقع ملتا ہے۔اوراس طرح عدت گزرنے پر جب نکا ح ٹوٹ جائے گا تو میاں بیوی اگر چاہیں گے تو دوبارہ حلالہ کروائے بغیر بھی نکاح کرسکیں گے اورحلالے کی ذلت سے نجات مل جائے گی۔
دُوسرا طریقہ یہ ہے کہ الگ الگ تین طہروں میں تین طلاقیں دے، یہ صورت زیادہ بہتر نہیں، اور بغیر شرعی حلالہ کے آئندہ نکاح نہیں ہوسکے گا۔ (طہر کہتے ہیں پاکی کی حالت کو یعنی جب بیوی ایّام سے نہ ہو) تیسری صورت طلاقِ بدعت کی ہے، جس کی کئی صورتیں ہیں، مثلاً یہ کہ بیوی کو ماہواری کی حالت میں طلاق دے یا ایسے طہر میں طلاق دے جس میں صحبت کرچکا ہو، یا ایک ہی لفظ سے، یا ایک ہی مجلس میں، یا ایک ہی طہر میں تین طلاقیں دے ڈالے، یہ طلاقِ بدعت کہلاتی ہے۔ اس کا حکم احناف کے نزدیک یہ ہے کہ اس طریقے سے طلاق دینے والا گنہگار ہوتا ہے، مگر طلاق واقع ہوجاتی ہے، اگر ایک دی تو ایک واقع ہوئی، اگر دو طلاقیں دیں تو دو واقع ہوئیں، اور اگر اکٹھی تین طلاقیں دے دیں تو تینوں واقع ہوگئیں، خواہ ایک لفظ میں دی ہو، یا ایک مجلس میں، یا ایک طہر میں۔
شرعی حلالہ کسے کہتے ہیں؟ شرعی حلالہ کا مطلب ہے کہ نکاح ٹوٹنے کے بعد عورت کسی دوسرے مرد سے عام رواج کے مطابق نکاح کرلے اور پھر وہ نکاح بھی کسی وجہ سے ٹوٹ جائے یعنی وہ شوہر اسے اپنی آزاد مرضی سے طلاق دے دے یا بیوی نباہ نہ ہوسکنے کے وجہ سے خلع لے لے یا شوہر فوت ہوجائے اور عورت بیوہ ہوجائے۔ یا شوہر مفقود الخبر ہوجائے (یعنی گم ہوجائے) اور عدالت اس نکاح کو توڑ دے۔تو پھر وہ عورت اپنے پہلے شوہر پر دوبارہ حلال ہوجائے گی یہ تو ہے شرعی حلالہ۔کس حلالے پر لعنت کی گئی ہے؟ اگرکوئی مرداپنی بیوی کوتین طلاقیں دینے کے بعد پھر دوبارہ اس سے نکاح کرنے کا خواہاں ہو اور اس امر کے لیے وہ پہلے سے طے شدہ پلان کے مطابق اپنی اس مطلقہ عورت کا نکاح کسی دوسرے مرد سے اس شرط پر کروائے کہ وہ مرد اس عورت سے نکاح کرنے کے فوراً بعد پہلے سے طے شدہ معاہدے کے مطابق طلاق دے دے گاتو یہ وہ حلالہ ہے جس پر نبی اکرم ؐ لعنت فرمائی۔
جب کوئی شخص طلاق بدعت کے طریقے پر اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دے بیٹھتا ہے تو یہاں سے ایک علمی اختلاف اور بحث کا بھی آغاز ہوتا ہے ایک طبقے کے مطابق ایک ہی مجلس میں دی گئی تین طلاقیں ایک ہی شمار ہوںگی اور ایک ہی طلاق واقع ہوگی۔جبکہ دوسرا طبقہ یہ کہتا ہے کہ یہ طریقہ درست تو نہیں ہے کہ ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دی جائیں لیکن اگر کوئی اس طریقے پر تین طلاقیں دے دے تو تین طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں اور اسی وقت نکاح ٹوٹ جاتا ہے اور اب یہ میاں بیوی بغیر شرعی حلالے کے دوبارہ نکاح نہیں کرسکتے ۔ اور یہیں سے حلالہ کروانے کے مکروہ کاروبار کا بھی دروازہ کھل جاتا ہے۔ اس بحث کا آغاز تب ہوتا ہے جب طلاق دینے کے لیے تیسرا طریقہ اختیار کیا جائے حضرت عمر اپنے دور میں اس طریقے پر طلاق دینے والے کو کوڑے لگایا کرتے تھے۔لیکن اب اسے کوئی کچھ بھی نہیں کہتا۔
ہمارے ملک میں جب سے عائلی قوانین نافذ ہوئے ہیں اس دور سے اب تک یہ ہوتا چلا آرہا ہے کہ جب تک خاوند اپنی بیوی کو تین دفعہ طلاق نہ دے اس وقت تک طلاق کو موئثر نہیں سمجھا جاتا، یعنی ایک اور دو طلاق کی کوئی حیثیت ہی نہیں رہی۔ جب بھی کوئی شخص طلاق دیتا ہے یا یونین کونسل کی طرف سے طلاق دِلوائی جاتی ہے تو تین طلاقیں دی جاتی ہیں اور تحریر میں بھی تین ہی لکھی جاتی ہیں، ایک ہی مرتبہ تین طلاق دینا بُرا ہے، اس سے میاں بیوی کا رشتہ یکسر ختم ہوجاتا ہے، رُجوع اور مصالحت کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی، اور بغیر حلالہ شرعی کے دوبارہ نکاح بھی نہیں ہوسکتا۔
سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ اگر طلاق دینا چاہے تو بیوی کے اَیام سے فارغ ہونے کے بعد اس کے قریب نہ جائے اور اسے ایک رجعی طلاق دے دے، اس صورت میں جب تک عورت عدّت سے فارغ نہیں ہوجاتی، تب تک طلاق موئثر نہیں ہوگی، بلکہ نکاح بدستور قائم رہے گا، اور عدّت کے اندر شوہر کو رُجوع کرنے کا حق ہوگا، اگر شوہر نے عدّت کے اندر رُجوع نہ کیا تو عدّت کے ختم ہوتے ہی طلاق موئثر ہوجائے گی اور نکاح ختم ہوجائے گا۔ لیکن اس کے بعد بھی اگر دونوں کبھی مصالحت کرنا چاہیں تو دوبارہ نکاح ہوسکے گا۔یادرہے کہ عدت کے دوران بیوی شوہر کے گھر میں ہی رہے گی اور شوہر اسے گھر سے نہیں نکالے گا اور اس دوران اگر اس کے ساتھ تعلق قائم کرلے گا تو طلاق ختم ہوجائے گی۔اور یہ کہ خاوند کا حق ہے کہ وہ ایک طلاق دینے کے بعد عدت کے اندر اندر جب چاہے رجوع کرلے اس میں شوہر کی مرضی چلے گی عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ شوہر کو رجوع کرنے سے روکے اور نہ ہی عورت کے کسی عزیز رشتہ دار کا حق ہے کہ وہ شوہر کو رجوع کرنے سے روکے ہاں البتہ اس انداز سے طلاق واقع ہوجانے کے بعد دوبارہ نکاح میں عورت اور مرد دونوں کی مرضی چلے گی یعنی اگر عورت نہیں چاہے گی تو یہ نکاح دوبارہ نہ ہوسکے گا۔اور قرآن مجید میں اس بات کی صراحت بھی آتی ہے کہ عورت کے عزیز رشتہ دار ان دونوں کو دوبارہ نکاح کرنے سے نہ روکیں۔
بیوی کو اگر طلاق دینی ہو تو زبانی کیسے دی جاتی ہے؟ اور اگر لکھ کر دینی ہو تو کیسے دی جاتی ہے؟ علاوہ ازیں طلاق کے وقت کتنی رقم دینی پڑتی ہے؟ طلاق خواہ زبانی دے یا تحریری طور پر، اس کا طریقہ یہ ہے کہ ایک طلاق دے دے اور پھر اس سے رُجوع نہ کرے، یہاں تک کہ اس کی عدّت گزر جائے۔ مطلقہ عورت سے اگر خلوَت ہوچکی ہو تو اس کو اس کا پورامہر ادا کردینا ضروری ہے، اور اگر خلوَت نہیں ہوئی تو آدھا مہر دینا لازم ہے۔البتہ قرآن مجید میں آتا ہے کہ اگر مرد سارا مہر ادا کردے تو یہ افضل عمل ہے۔اور طلاق دیتے ہوئے مرد کے لیے یہ روا نہیں ہے کہ جو چیزیں وہ اپنی بیوی کو دے چکا ہو وہ واپس لے ، زیور کپڑے اور جو بھی سامان وہ بیوی کو دے چکا ہے وہ اب اس کی ملکیت ہے طلاق کے وقت وہ اس سے یہ سامان لینے کا روادار نہیں ہے۔

well actually i tried to explain the way of divorce is only one that is described in quran in surah talaq and that what was practice by holy prophet P B U H

SORRY TO SAY BUT

Divorce issue practiced almost in all fiqa aur not according to quran and sunnah

but muslim personal law implies here in pakistan and decisions are made accordingly regardless they are conflict with quran and sunnah itself .many cases pending in federal shirat court and supreme court .

one more example is law of inheritence is both shia muslim and suni muslin conflict with quran

majeed in few cases . any ways

i tried to explain according to Holy book and that has pirority on sunnah and sunna has perority on ijma and qias so on . ( theory of abrogation )

all said because according to me halala is something which is vary rare and discussed more than divorce . problem humere mashre ka unpar hoona hai .

  • Author
  • Administrators

ینگ ہارٹ صاحب

میں نے کبھی کسی بات کو دل پر نہیں لیا تو دل آزاری کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا

سہیل صاحب 

میرے خیال میں آپ کو اردو میں لکھنا چاہیئے تاکہ مجھ سمیت  تمام ممبرز با آسانی پڑھ سکیں اور تھریڈ کی خوبصورتی بھی برقرار رہے

5 minutes ago, sohail25 said:

well actually i tried to explain the way of divorce is only one that is described in quran in surah talaq and that what was practice by holy prophet P B U H

SORRY TO SAY BUT

Divorce issue practiced almost in all fiqa aur not according to quran and sunnah

but muslim personal law implies here in pakistan and decisions are made accordingly regardless they are conflict with quran and sunnah itself .many cases pending in federal shirat court and supreme court .

one more example is law of inheritence is both shia muslim and suni muslin conflict with quran

majeed in few cases . any ways

i tried to explain according to Holy book and that has pirority on sunnah and sunna has perority on ijma and qias so on . ( theory of abrogation )

all said because according to me halala is something which is vary rare and discussed more than divorce . problem humere mashre ka unpar hoona hai .

کوئی فرق نہیں پڑتا سہیل صاحب

مؤقف مختلف ہوسکتا ہے - اسے ہم اکیڈیمک بحث مباحثے تک رکھیں

میرا مؤقف یہ ہے کہ تمام ہی فقہوں کی بحث مجھے اختلاف سے زیادہ اکیڈیمک بحث لگی اور اکیڈیمک بحث میں رائے کا اختلاف تمام ہی قدیم و جدید علوم میں ہوتا ہے - اور سبھی کا مؤقف اپنی جگہ مضبوط دلائل کے ساتھ ہے

خیر

آپ کی اس بات سے مجھے مکمل اتفاق ہے جو عدالتوں اور کچہریوں میں طلاق کی  غلط پریکٹس چل رہی ہے

کہ ایک طلاق رجسٹر ہی نہیں ہوتی - مطلب یہ کہ عورت عدت کے بعد دوسرے مرد سے نکاح نہیں کرسکتی

جبکہ یہ تو تمام مسالک کا متفقہ مؤقف ہے کہ ایک طلاق کے بعد اگر عدت کے اندر رجوع نہ کیا گیا تو طلاق واقع ہو جائے گی اور عورت کسی دوسرے مرد سے نکاح کر سکتی ہے

📢 Post Your Ad Here

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.