Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Story Maker

Funds Transfer Agent
  • Joined

  • Last visited

Everything posted by Story Maker

  1. عشق کیا چیز ہے یہ پوچھئیے پروانے سے زندگی جس کو میسر ہوئی جل جانے سے موت کا خوف ہو کیا عشق کے دیوانے کو موت خود کانپتی ہے عشق کے دیوانے سے
  2. پیار سے بڑھ کر نہیں دنیا میں کوئی روشنی پی گئے یہ روشنی تو آئینہ ہو جاؤ گے گفتگو میٹھی کرو، ہرشخص سے جھک کر ملو دشمنوں کے واسطے بھی دِلربا ہو جاؤ گے
  3. جستجو جس کی تھی اس کو تو نہ پایا ہم نے اس بہانے سے مگر دیکھ لی دنیا ہم نے تجکو رسوا نہ کیا اور خود بھی پشیماں نہ ہوئے عشق کی رسم کو اس طرح نبھایا ہم نے کب ملی تھی کہاں بچھڑی تھی ہمیں یاد نہیں زندگی تجھکو تو بس خواب دیکھا ہم نے اے ادا اور سنائیں بھی تو کیا حال اپنا عمر کا لمبا سفر طے کیا تنہا ہم نے
  4. کسی حال میں نہیں ہوں کوئی حال اب نہیں ہے جو گئی پلک تلک تھا وہ خیال اب نہیں ہے میں سکون پا سکوں گا یہ گماں بھی کیوں کیا تھا ہے یہی ملال کیا کم کہ ملال اب نہیں ہے نہ رہے اب اس کے دل میں خلشِ شکستِ وعدہ کہ یہاں کوئی حسابِ مہ و سال اب نہیں ہے یہ دیارِ دید کیا ہے گئے دشتِ دل سے بھی ہم کہ ختن زمین میں بھی وہ غزال اب نہیں ہے جو لیے لیے پھری ہے تجھے روز اک نگر میں مرے دل ترے نگر میں وہ مثال اب نہیں ہے لبِ پُر سوال لے کے ہمیں کُو بہ کُو ہے پھِرنا ہو کوئی جواب بر لب یہ سوال اب نہیں ہے
  5. میر تقی میر جُھوٹے بھی، پُوچھتے نہیں ٹُک حال آن کر انجان اِتنے کیوں ہُوئے جاتے ہو ، جان کر وے لوگ تم نے ایک ہی شوخی میں کھو دِئے پیدا کِیے تھے چرخ نے، جو خاک چھان کر جُھمکے دِکھا کے باعثِ ہنگامہ ہی رہے ! پر گھر سے در پہ آئے نہ تم، بات مان کر کہتے نہ تھے کہ جان سے جاتے رہیں گے ہم اچھّا نہیں ہے, آ نہ ہمیں اِمتحان کر کم گو جو ہم ہُوئے، تو سِتم کُچھ نہ ہوگیا اچھّی نہیں یہ بات ، مت اِتنی زبان کر ہم وے ہیں، جن کے خُوں سے تِری راہ سب ہے گُل مت کر خراب ہم کو تُو اوروں میں سان کر تا، کُشتۂ وَفا مجھے جانے تمام خلق تُربت پہ میری، خُون سے میرے نِشان کر ناز و عِتاب و خَشْم کہاں تک اُٹھائیے یا رب! کبھو تو ہم پہ اُسے مہربان کر افسانے ما و مَن کے سُنیں میر، کب تلک چل اب کہ سوویں, منہ پہ دوپٹّے کو تان کر میر تقی میر ..................
  6. دل کیا ملاؤ گے کہ ہمیں ہو گیا یقین تم سے تو خاک میں بھی ملایا نہ جائے گا _____!! داغ دہلوی
  7. کس کس کی چاہ کیجیے کس کس کی آرزو اک دل ہزا ر غم میں گرفتار ہو گیا _____!! داغ دہلوی
  8. Kaha Tha Na K Yon Sote Hue Mat Chor K Jana Mujhe Beshak Jaga Dena Bata Dena Tumhain Rasta Badlna Hai Meri Had Se Nikalna Hai To Tumhain Kis Bat Ka Dar Tha Main Tumhain Jane Nahi Deta Kahin Pe Qaid Kar Leta Ary Pagal Mohabbt ki Tabiyat Me Zabrdasti Nahi Hoti Jise Rasta Badlna Ho Usy Rasta Badlne Se Jise Had Se Nikalna Ho Usy Had Se Nikalne Se Na Koi Rok PAaya Hai Na Koi Rok PAaye Ga To Tumhain Kis Bat Ka Dar Tha Muje Beshak Jaga Dete Main Tumhain Dekh Hi Leta Tumhain Koi Dua Deta Kam Iz Kam Yon To Na Hota Mere Sathi Ye Haqiqat Hai Tumhare Bad Khone K Liye Kuch Bhi Nahi Baki Mgr Main Khone Se Darta Hon Main Ab Sone Se Darta Hon
  9. کیسے کہہ دوں کہ بدلتے ہوئے موسم تم ہو بے وفا وقت بھی اتنا نہیں جتنے تم ہو آو اِس بار کسی شخص کو ضامِن کر لیں میرے نزدیک تو ہر بار بدلتے تم ہو
  10. اُس نے مجھے سلام کِیا لام کے بغیر یہ بد دعا تھی مجھ کو مِرے نام کے بغیر ھر روز ماں کے چہرے کو تکتا ھوں پیار سے‫ ھر روز حج میں کرتا ھوں احرام کے بغیر‫ مَیں ھوں کہ میری آنکھ میں آنسو ہیں صبح صبح دنیا دِئیے جلاتی نہیں شام کے بغیر ساقی یہ تیری مست نگاہی کا فیض ھے پِیتا‫ ھوں میں شراب کسی جام کے بغیر گیلانی ایسے دوست کا بے دام ہوں غلام مجھ سے جو ملنے آئے کسی کام کے بغیر (سید سلمان گیلانی)
  11. جنگل کی شہزادی پیوست ہے جو دل میں، وہ تیر کھینچتا ہوں اک ریل کے سفر کی تصویر کھینچتا ہوں گاڑی میں گنگناتا مسرور جا رہا تھا اجمیر کی طرف سے جے پور جا رہا تھا تیزی سے جنگلوں میں یوں ریل جا رہی تھی لیلیٰ ستار اپنا گویا بجا رہی تھی خورشید چھپ رہا تھا رنگیں پہاڑیوں میں طاؤس پر سمیٹے بیٹھے تھے جھاڑیوں میں کچھ دُور پر تھا پانی، موجیں رکی ہوئی تھیں تالاب کے کنارے شاخیں جھکی ہوئی تھیں لہروں میں کوئی جیسے دل کو ڈبو رہا تھا میں سو رہا ہوں، ایسا محسوس ہو رہا تھا اک موجِ کیف پرور دل سے گزر رہی تھی ہر چیز دلبری سے یوں رقص کر رہی تھی تھیں رخصتی کرن سے سب وادیاں سنہری ناگاہ چلتے چلتے جنگل میں ریل ٹھہری کانٹوں پہ خوبصورت اک بانسری پڑی ہے دیکھا کہ ایک لڑکی میدان میں کھڑی ہے زاہد فریب، گل رخ، کافر، دراز مژگاں سیمیں بدن، پری رخ، نوخیز، حشر ساماں خوش چشم، خوبصورت، خوش وضع، ماہ پیکر نازک بدن، شکر لب، شیریں ادا، فسوں گر کافر ادا، شگفتہ، گل پیرہن، سمن بُو سروِ چمن، سہی قد، رنگیں جمال، خوش رو گیسو کمند، مہ وش، کافور فام، قاتل نظارہ سوز، دلکش، سرمست، شمعِ محفل ابرو ہلال، مے گوں، جاں بخش، روح پرور نسریں بدن، پری رخ، سیمیں عذار، دلبر آہو نگاہ، نورس، گلگوں، بہشت سیما یاقوت لب، صدف گوں، شیریں، بلند بالا غارت گرِ تحمل، دل سوز، دشمنِ جاں پروردۂ مناظر، دوشیزۂ بیاباں گلشن فروغ، کمسن، مخمور، ماہ پارا "دلبر کہ در کفِ اُو موم است سنگِ خارا" ہر بات ایک افسوں ہر سانس ایک جادو قدسی فریب مژگاں، یزداں شکار گیسو صحرا کی زیب و زینت، فطرت کی نورِ دیدہ برسات کے ملائم تاروں کی آفریدہ چہرے پہ رنگِ تمکیں، آنکھوں میں بے قراری ایمائے سینہ کوبی، فرمانِ بادہ خواری لوہا تپانے والی جلووں کی ضوفشانی سکّے بٹھانی والی اٹھتی ہوئی جوانی ڈوبے ہوئے سب اعضا حُسنِ مناسبت میں پالی ہوئی گلوں کے آغوشِ تربیت میں حُسنِ ازل ہے غلطاں شاداب پنکھڑی میں یا جان پڑ گئی ہے جنگل کی تازگی میں حوریں ہزار دل سے قربان ہو گئی ہیں رنگینیاں سمٹ کر 'انسان' ہو گئی ہیں چینِ ستمگری سے ناآشنا جبیں ہے میں کون ہوں؟ یہ اُس کو معلوم ہی نہیں ہے ہر چیز پر نگاہیں حیرت سے ڈالتی ہے رہ رہ کے اڑنے والی چادر سنبھالتی ہے آنچل سنبھالنے میں یوں بل سے کھا رہی ہے گویا ٹھہر ٹھہر کر انگڑائی آ رہی ہے کچھ دیر تک تو میں نے اُس کو بغور دیکھا غش کھا رہی تھی عقبیٰ، چکرا رہی تھی دنیا گاڑی سے پھر اتر کر اُس کے قریب آیا طوفانِ بے خودی میں پھر یہ زباں سے نکلا اے درسِ آدمیّت، اے شاعری کی جنت اے صانعِ ازل کی نازک ترین صنعت اے روحِ صنفِ نازک، اے شمعِ بزمِ عالم اے صبحِ روئے خنداں، اے شامِ زلفِ برہم اے تُو کہ تیری نازک ہستی میں کام آئی قدرت کی انتہائی تخئیلِ دلربائی بستی میں تُو جو آئے، اک حشر سا بپا ہو آبادیوں میں ہلچل، شہروں میں غلغلہ ہو رندانِ بادہ کش کے ہاتوں سے جام چھوٹیں تسبیحِ شیخ الجھے، توبہ کے عزم ٹوٹیں نظروں سے اتِّقا کے رسم و رواج اتریں زہّاد کے عمامے، شاہوں کے تاج اتریں آنکھیں ہوں اشک افشاں، نالے شرر فشاں ہوں کیا کیا نہ شاعروں کے ملبوس دھجیاں ہوں شہروں کے مہ وشوں پر اک آسمان ٹوٹے پروردۂ تمدن عشووں کی نبض چھوٹے اس سادگی کے آگے نکلیں دلوں سے آہیں جھک جائیں دلبروں کی خود ساختہ نگاہیں تیری ادا کے آگے شرما کے منہ چھپائیں ناپے ہوئے کرشمے، تولی ہوئی ادائیں تیری نظر کی رَو سے ہو جائیں خستہ و گم مشق و مزاولت کے پالے ہوئے تبسم امن و اماں کے رخ کو بے آب و رنگ کر دے دنیا کو حسن تیرا میدانِ جنگ کر دے کتنی ہی قسمتوں کے بدلے فلک نوشتے خوں اور دوستی کے کٹ جائیں کتنے رشتے تصنیف ہوں ہزاروں چبھتے ہوئے فسانے اِن انکھڑیوں کی زد پر کانپیں شراب خانے تیرے پجاریوں میں میرا بھی نام ہوتا اے کاش جنگلوں میں میرا قیام ہوتا یہ بَن، یہ گل، یہ چشمے، مجھ سے قریب ہوتے شاعر کے زیرِ فرماں یہ سب رقیب ہوتے کیوں، میری گفتگو سے حیرت فروش کیوں ہے؟ اے زمزموں کی دیوی اتنی خموش کیوں ہے؟ بجنے لگیں وفا کی محفل میں شادیانے ہاں دے لبوں کو جنبش، اے سرمدی ترانے یوں چپ ہے، مجھ سے گویا کچھ کام ہی نہیں ہے یہ وہ ادا ہے جس کا کچھ نام ہی نہیں ہے سننا تھا یہ کہ ظالم اِس طرح مسکرائی فریاد کی نظر نے، ارماں نے دی دُہائی عشوہ، جبیں پہ لے کر دل کی امنگ آیا چہرے پہ خون دوڑا، آنکھوں میں رنگ آیا شرما کے آنکھ اٹھائی، زلفوں پہ ہات پھیرا اتنے میں رفتہ رفتہ چھانے لگا اندھیرا چمکا دیا حیا نے ہر نقشِ دلبری کو دانتوں میں یوں دبایا چاندی کی آرسی کو سُن کر مری مچلتی آنکھوں کی داستانیں اُس کی نگاہ میں بھی غلطاں ہوئی زبانیں شرما کے پھر دوبارہ زلفوں پہ ہات پھیرا دیکھا تو چھا چکا تھا میدان پر اندھیرا کچھ جسم کو چُرایا، کچھ سانس کو سنبھالا کاندھے پہ نرم آنچل انگڑائی لے کے ڈالا تاریک کر کے، میری آنکھوں میں اک زمانہ جنگل سے سر جھکا کر ہونے لگی روانہ ہونے لگی روانہ، ارماں نے سر جھکایا دل کی مثال کانپا رہ رہ کے بن کا سایا بے ہوش ہو چلا میں، سینے سے آہ نکلی اتنے میں رات لے کر قندیلِ ماہ نکلی مڑ کر جو میں نے دیکھا، امید مر چکی تھی پٹری چمک رہی تھی، گاڑی گزر چکی تھی (جوش ملیح آبادی)
  12. ﻓُﻀﻮﻝ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﮯ ﺻﻔﺤﺎﺕ ﺑﮭﺮﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨُﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍَﭘﻨﮯ ﺍٓﭖ ﮐﻮ ﺍِﻟﮩﺎﻡ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨُﻮﮞ ﺍَﮔﺮ ، ﻣﮕﺮ ، ﻧﮩﯿﮟ ، ﮨﺮﮔﺰ ﮐﯽ ﮐﻨﺪ ﻗﯿﻨﭽﯽ ﺳﮯ ﺍَﻧﻮﮐﮭﮯ ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﮐﮯ ﭘَﺮ ، ﺷَﺮ ﮐﺘﺮﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨُﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﻧﺲ ﻧﮕﺮﯼ ﮐﺎ ﺑﮯ ﺣﺪ ﻋﺠﯿﺐ ﻣﺎﻟﯽ ﮨُﻮﮞ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﭘﻮﺩﻭﮞ ﮐﮯ ﺑﮍﮬﻨﮯ ﺳﮯ ﮈَﺭﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨُﻮﮞ ﻧﺠﺎﻧﮯ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺍُﮌﺍ ﺩﯼ ﮐﮧ ’’ ﺩِﻥ ﻣﻌﯿﻦ ﮨﮯ ‘‘ ﯾﻘﯿﻦ ﻣﺎﻧﯿﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺯ ﻣﺮﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨُﻮﮞ ﻣﺮﮮ ﻭُﺟﻮﺩ ﮐﻮ ﺍَﺷﮑﻮﮞ ﻧﮯ ﮔﻮﻧﺪﮪ ﺭَﮐﮭﺎ ﮨﮯ ﺫِﺭﺍ ﺑﮭﯽ ﺧﺸﮏ ﺭَﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﺑﮑﮭﺮﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨُﻮﮞ ﺩُﻋﺎ ﮐﻮ ﮨﺎﺗﮫ ﺍُﭨﮭﺎﺗﺎ ﺗﻮ ﺍُﺱ ﭘﮧ ﺣﺮﻑ ﺍٓﺗﺎ ﺍَﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺳﺴﺘﯽ ﭘﮧ ﺍِﻟﺰﺍﻡ ﺩَﮬﺮﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨُﻮﮞ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﺣُﺴﻦ ﮐﺎ ﮨﮯ ﺭُﻋﺐ ﺍِﺱ ﻗَﺪَﺭ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮔﻠﯽ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨُﻮﮞ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﺷﻌﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺍٓﮔﮯ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ ’’ ﻧﺎﻣﻌﻠﻮﻡ ‘‘ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﺷﻌﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﻣﮑﺮﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨُﻮﮞ ﺍُﺩﮬﻮﺭﮮ ﻗﺼﮯ ﮐﺌﯽ ﮐﺎﻧﺪﮬﺎ ﻣﺎﻧﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﺮﺍ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻨﮉﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﺍَﮐﺜﺮ ﭨﮭﮩﺮﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨُﻮﮞ ﺗﻤﺎﻡ ﻟﻮﮒ ﻣﺮﺍ ﺍٓﺋﯿﻨﮧ ﮨﯿﮟ ، ﺍُﻥ ﮐﮯ ﻃﻔﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﺍَﭘﻨﯽ ﺫﺍﺕ ﮐﮯ ﺍَﻧﺪﺭ ﺍُﺗﺮﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨُﻮﮞ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﮐﺎﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﮐﺎﺭ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮨُﻮﮞ ﻗﯿﺲؔ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﮐﮩﮧ ﮐﮯ ’’ ﺳﺪﮬﺮ ﺟﺎ ‘‘ ، ﺳﺪﮬﺮﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨُﻮﮞ (ﺷﮩﺰﺍﺩ ﻗﯿﺲ)
  13. قبر میں زِندہ گاڑ دیتا ہے صبر ، اینٹیں اُکھاڑ دیتا ہے عشق پرچھائیں جس پہ آ جائے دو جہاں چھوڑ چھاڑ دیتا ہے صرف اِک دِل کا رونا روتے ہو غم تو بستی اُجاڑ دیتا ہے تتلیاں چھوڑنے سے پہلے سخی پنکھ قدرے اُکھاڑ دیتا ہے شوق ’’ ہَل من مزید ‘‘ کہتا ہے عشق ، دامن کو جھاڑ دیتا ہے وَقت سے تین ، پانچ مت کرنا وَقت ، حلیہ بگاڑ دیتا ہے لکھ کے دِل بیتیاں لہو سے قیسؔ خشک ہوتے ہی پھاڑ دیتا ہے (شہزاد قیس)
  14. ایک سسکتی غزل لگتا نہیں ہے دل مرا "مودی دیار" میں کس کی بنی ہے یارو یہاں "دو ہزار" میں میں نے تو دفن کردی ہر اک دل کی آرزو میں بھی کھڑا ہوں یارو صف سوگوار میں خائف ہوں اپنے سائے سے لاریب کیا کہوں وحشت سی ہورہی ہے مجھے کوئے یار میں تجھ کو خبر کہاں کہ کئ میتیں اٹھیں شامل تھی جیسے موت بھی ان کی قطار میں اک گہرا داغ دے کے وہ روپوش ہوگیا الفت کہاں کسی بھی دل داغدار میں اب کے چمن میں پھولوں کے چہرے اتر گئے, یکلخت آگ لگ گئی فصل بہار میں یارب مرے چمن کی سبھی بلبلوں کی خیر صیاد لے رہا ہے مزے اب شکار میں جنبش قلم نے لی تویہ کچھ شعرہو گئے یوسف سکوں سا آیا دل بے قرار میں جمیل جامعی
  15. ۱ لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری آمدنی جلد ہو جائے نئے نوٹ کی صورت میں خدایا میری جلد 2000 کی نوٹوں کا میرا خزانہ ہو جائے 1000 اور 500 سے خالی میرا گھرانہ ہو جائے ہو بلیک دھن سے یونہی میرے وطن کی زینت جس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت کوئی ہو بینک میں نوٹ بھروانے کی صورت یا رب پھر کیوں کر ہو کسی یار و مددگارکی ضرورت یا رب ہو مرا کام امیروں کو ہدایت کرنا 100 اور 50 کی کرنسی میں کفایت کرنا مرے اللہ! دلالی سے بچانا مجھ کو بینک کی ہو جو راہ ہو اس رہ پہ چلانا مجھ کو ?????????? ۲ کوئی امید بر نہیں آتی نئی کرنسی نظر نہیں آتی ہم وہاں ہیں جہاں سے کیشیر کو لائن ہماری نظر نہیں آتی آگے آتی تھی خالی جیب پر ہنسی اب کسی بات پر نہیں آتی بینک کس منھ سے جاؤ گے غالب بھیڑ تم کو نظر نہیں آتی تیس دسمبر کا دن معین ھے نیند یوں رات بھر نہیں آتی شاعر---> نامعلوم ?????????? ۳ بہادر شاہ ظفر کی روح سے معذرت کے ساتھ لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں نہ پانچ سو میں چین و سکوں نہ ہزار میں دفتر سے چار دن کی جو چھٹی ملی مجھے ہر دن لگا رہا میں یہاں پر قطار میں بنکوں میں چار دن مرے برباد یوں ہوئے دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں کتنے مظالموں کو اے ظالم ترے سہیں اتنی جگہ کہاں ہے دل داغدار میں بیٹا، بہو،داماد وخسر اور دلہا، دلہن کاسہ لئےکھڑے ہیں یہاں سب قطار میں دریا میں بہ رہی ہے غریبی سے میَّتیں دوگز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں اچھے دنوں کی آس دلاکر فدا ہمیں مارے گا چائے والا کرنسی ہزار میں بنکوں میں چار دن میرے برباد یو ہوئے دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں شاعر---> نامعلوم
  16. لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی ہاتھ آ جائے مجھے میرا مقام اے ساقی! تین سو سال سے ہیں ہند کے میخانے بند اب مناسب ہے ترا فیض ہو عام اے ساقی مری مینائے غزل میں تھی ذرا سی باقی شیخ کہتا ہے کہ ہے یہ بھی حرام اے ساقی شیر مردوں سے ہوا بیشہء تحقیق تہی رہ گئے صوفی و ملا کے غلام اے ساقی عشق کی تیغ جگردار اڑا لی کس نے علم کے ہاتھ میں خالی ہے نیام اے ساقی سینہ روشن ہو تو ہے سوز سخن عین حیات ہو نہ روشن ، تو سخن مرگ دوام اے ساقی تو مری رات کو مہتاب سے محروم نہ رکھ ترے پیمانے میں ہے ماہ تمام اے ساقی!
  17. . ??? *غزل*??? فقط ملنے ملانے سے ملنساری نہیں آتی نہ ہو ایثار کا جزبہ تو پھر یاری نہیں آتی خدا اپنی عنایت سے مدارس کو چلاتا ہے مدارس میں کوئی امداد سرکاری نہیں آتی سبق ہم كو ملاہے یہ سنو قرآں کے پاروں سے ہمیں دہشت پسندوں کی طرفداری نہیں آتی ہماری رہبری کے واسطے قرآن اترا ہے اگر اس پر عمل کرتے تو دشواری نہیں آتی اگر ہم ایک ہوجائیں حکومت پھر ہماری ہو مسلمانوں میں لیکن کچھ سمجھداری نہیں آتی
  18. مٹ گيا ہوں مجھ کو مٹا رہنے دو ميرے جذبات کے شعلوں کو بجھا رہنے دو درد سہنے کي ہو گئي ہے اب عادت مجھ کو ميرے رستے ہوئے زخموں کو ہرا رہنے دو اب تو تعبير کي حسرت ہي نہيں ہے مجھ کو ميري آنکھوں ميں ميرا خواب چھپا رہنے دو مسکراہٹ پہ ميرا حق ہي نہيں ہے يارو ميرے ہونٹوں سے تبسم کو خفا رہنے دو دل جو ٹوٹا ہے تو آنکھيں نا چھلک جائيں آج آنکھوں کو ان اشکوں سے بھرا رہنے دو
  19. فیض احمد فیؔض ہم پروَرشِ لَوح و قلَم کرتے رہیں گے جو دِل پہ گُزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے اسبابِ غمِ عِشق بَہم کرتے رہیں گے وِیرانئ دَوراں پہ کَرَم کرتے رہیں گے ہاں تلخئ ایّام ابھی اور بڑھے گی ہاں اہلِ ستم، مشقِ سِتم کرتے رہیں گے منظُور یہ تلخی، یہ سِتم ہم کو گوارا دَم ہے تو مداوائے الَم کرتے رہیں گے مے خانہ سلامت ہے، تو ہم سُرخئ مے سے تزئینِ دَرو بامِ حَرَم کرتے رہیں گے باقی ہے لہُو دِل میں تو ہر اشک سے پیدا رنگِ لب و رُخسارِ صنم کرتے رہیں گے اِک طرزِ تغافُل ہے سو وہ اُن کو مُبارک اِک عرضِ تمنّا ہے سو ہم کرتے رہیں گے فیض احمد فیض
  20. واپس چلے جاتے ھیں لوگ ھمارا غم دیکھ کر، جیسے لہر چلی جاتی ھے کنارا دیکھ کر، مت دینا ھمارے جنازے کو کندھا، اے دوست ,کہیں زندہ نہ ھو جاؤں تیرا سہارا دیکھ کر...!‏‎......‎
  21. مــــــــــنزل سے آگے بڑھ کر منزل تلاش کر مــل جائے تجھکو دریا تو سمندر تلاش کر ہر شیشہ ٹوٹ جاتا ہے پتھر کی چوٹ سے پـــتھر ہی ٹوٹ جائے وہ شیشہ تلاش کر سجدوں سے تیرے کیا ہوا صدیاں گزرگئیں دنیا تیری بــدل دے وہ ســـــجدہ تلاش کر ایـــــــمان تیرا لُٹ گیا رہزن کے ہاتھوں سے ایـــــــماں تیرا بــــــــچالے وہ رہبر تلاش کر گھٹنے ٹکائے ســـر کو جھکایا ہوا ہے کیوں ظالــــــم کا سر اُڑا دے وہ جذبہ تلاش کر قـــــــــاتل ہی بن چُکا ہے منصف ہمارا اب قــاتل کو قــــتل کردے وہ قاتل تلاش کر ہر شخص جل رہا ہے عداوت کی آگ میں اس آگ کو بجھا دے وہ پانی تـــلاش کر کـــــردے ســــــوار اونٹ پہ اپنے غلام کو پـــیدل ہی خود چلے جو وہ آقا تلاش کر
  22. ﺷﮑﺴﺘﮧ ﺁﺋﯿﻨﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﺮﭼﯿﺎﮞ ﺍﭼﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ لگتیں ﻣﺠﮭﮯ ﻭﻋﺪﻭﮞ ﮐﯽ ﺧﺎﻟﯽ ﺳﯿﭙﯿﺎﮞ ﺍﭼﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺘﯿﮟ ﮔﺰﺷﺘﮧ ﺭُﺕ ﮐﮯ ﺭﻧﮕﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﺛﺮ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﮐﮧ ﺍﺏ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﮐﮭﻠﮯ ﺁﻧﮕﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﮌﺗﯽ ﺗﺘﻠﯿﺎﮞ ﺍﭼﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺘﯿﮟ ﻭﮦ ﮐﯿﺎ ﺍﺟﮍﺍ ﻧﮕﺮ ﺗﮭﺎ ﺟﺴﮑﯽ ﭼﺎﮨﺖ ﮐﮯ ﺳﺒﺐ ﺍﺑﺘﮏ ﮨﺮﯼ ﺑﯿﻠﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﻟﺠﮭﯽ ﭨﮩﻨﯿﺎﮞ ﺍﭼﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺘﯿﮟ ﺩﺑﮯ ﭘﺎﺅﮞ ﮨﻮﺍ ﺟﺲ ﮐﮯ ﭼﺮﺍﻏﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮩﻠﺘﯽ ﮨﻮ! ﻣﺠﮭﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﮐﮭﮍﮐﯿﺎﮞ ﺍﭼﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺘﯿﮟ ﺑﮭﻠﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻃﻮﻓﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﻟﮍﺗﮯ ﺑﺎﺩﺑﺎﮞ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﮨﻮﺍ ﮐﮯ ﺭُﺥ ﭘﮧ ﭼﻠﺘﯽ ﮐﺸﺘﯿﺎﮞ ﺍﭼﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺘﯿﮟ ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺁﺝ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺗﻌﻠﻖ ﺗﻮﮌ ﺁﯾﺎ ﮨﻮﮞ! ﻣﺮﯼ ﺟﺎﮞ، ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺿﺪﯼ ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﺍﭼﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺘﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺭَﺳﻦ ﺑﺴﺘﮧ ﺭﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺭﺍﺕ ﺩﻥ ﻣﺤﺴﻦ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﻭﮦ ﺳﮩﻤﯽ ﮨﺮﻧﯿﺎﮞ ﺍﭼﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺘﯿﮟ ‏ (ﻣﺤﺴﻦ ﻧﻘﻮﯼ)
  23. میں نے لمحوں میں صدیوں کی اذیّت پائی۔۔۔ اپنے احساس کو چند رشتوں کے حوالے کر کے
  24. شام کا دلفریب منظر هے ہاں..پر عالم تری جدائی کا کوئی آہٹ کہیں سنائی دے دل میں کوئی گمان تو گزرے ذندگی مختصر سفر میں هے.

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.