Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Story Maker

Funds Transfer Agent
  • Joined

  • Last visited

Everything posted by Story Maker

  1. ?????????? *تُو کُجا مَن کُجا* تو امیرِ حرم، میں فقیرِعجم تیرے گن اور یہ لب، میں طلب ہی طلب تو عطا ہی عطا، میں خطا ہی خطا تو کجا من کجا، تو کجا من کجا تو ابد آفریں، میں ہوں دو چار پل تو یقیں میں گماں، میں سخن تُو عمل تو ہے معصومیت میں نری معصیت تو کرم میں خطا، تو کجا من کجا تو ہے احرامِ انوار باندھے ہوئے میں درودوں کی دستار باندھے ہوئے کعبۂ عشق تو، میں ترے چار سو تو اثر میں دعا، تو کجا من کجا تو حقیقت ہے میں صرف احساس ہوں تو سمندر، میں بھٹکی ہوئی پیاس ہوں میرا گھر خاک پر اور تری رہگزر سدرۃ المنتہیٰ، تو کجا من کجا میرا ہر سانس تو خوں نچوڑے مرا تیری رحمت مگر دل نہ توڑے مرا کاسۂ ذات ہوں، تیری خیرات ہوں تو سخی میں گدا، تو کجا من کجا ڈگمگاٰؤں جو حالات کے سامنے آئے تیرا تصور مجھے تھامنے میری خوش قسمتی، میں ترا اُمتی تو جزا میں رضا، تو کجا من کجا میرا ملبوس ہے پردہ پوشی تری مجھ کو تابِ سخن دے خموشی تری تو جلی میں خفی، تو اٹل میں نفی تو صلہ میں گلہ، تو کجا من کجا دوریاں سامنے سے جو ہٹنے لگیں جالیوں سے نگاہیں لپٹنے لگیں آنسوؤں کی زباں ہو میری ترجماں دل سے نکلے سدا، تو کجا من کجا تو امیر ِحرم، میں فقیرِعجم تیرے گن اور یہ لب، میں طلب ہی طلب تو عطا ہی عطا، میں خطا ہی خطا تو کجا من کجا،تو کجا من کجا *شاعر مظفر وارثی* ??????????
  2. ابنِ مریم ہوا کرے کوئی میرے دکھ کی دوا کرے کوئی شرع و آئین پر مدار سہی ایسے قاتل کا کیا کرے کوئی چال جیسے کڑی کمان کا تیر دل میں ایسے کے جا کرے کوئی بات پر واں زبان کٹتی ہے وہ کہیں اور سنا کرے کوئی بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی نہ سنو اگر برا کہے کوئی نہ کہو گر برا کرے کوئی روک لو گر غلط چلے کوئی بخش دو گر خطا کرے کوئی کون ہے جو نہیں ہے حاجت مند کس کی حاجت روا کرے کوئی کیا کِیا خضر نے سکندر سے اب کسے رہنما کرے کوئی جب توقع ہی اٹھ گئی غالبؔ کیوں کسی کا گلہ کرے کوئی
  3. چنگاریاں نہ ڈال میرے دل کے گھاؤ میں میں خود ہی جل رہا هوں دکھوں کے الاؤ میں ھے کوئی اہلِ دل جو خریدے میرا مزاج میں زخم بیچتا ھـوں محبّت کے بھاؤ میں
  4. یوں بہت ہنس کے ملا تھا لیکن دل ہی دل میں وہ خفا ہو جیسے
  5. دل ناداں کو دھڑکنے کا بہانہ دیدے میرے مولا کوئ موسم تو سہانہ دیدے انکو تہزیب کے ورثوں سے کہاں دلچسپی نئ نسلوں کو کوئ خواب پرانا دیدے یہ ہوس زادوں کی بستی ہے الہی سن لے ادھ کھلی کلیوں کو محفوظ ٹھکانا دیدے جس طرف دیکھے اک عالم مایوسی ہے فتح کا تو میرے ہونٹوں کو ترانا دیدے مجھکو درکار نہیں درہم و دینار خدا علم و عرفان کا تو مجھکو خزانا دیدے اب بھی موجود گھررں میں ہیں بتان آزر اپنے بنذوں کو تو وحدت کا ترانہ دیدے افق فریدی دہلی
  6. ﮐﺮﺏ ﭼﮩﺮﮮ ﺳﮯ مہ ﻭ ﺳﺎﻝ ﮐﺎ ﺩﮬﻮﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺁﺝ ﻓُﺮﺻﺖ ﺳﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﮯ ﺭﻭﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﭘﮭﺮ ﮐﺴﯽ ﻧﻈﻢ ﮐﯽ ﺗﻤﮩﯿﺪ ﺍُﭨﮭﺎﺋﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﭘﮭﺮ ﮐﺴﯽ ﺟِﺴﻢ ﮐﻮ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﻮﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﭽﮫ ﺗﻮ ﮨﻮ ﺭﺍﺕ ﮐﯽ ﺳﺮﺣﺪ ﻣﯿﮟ ﺍُﺗﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺳﺰﺍ ﮔﺮﻡ ﺳُﻮﺭﺝ ﮐﻮ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﮈﺑﻮﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺑﺞ ﮔﺌﮯ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺩﻭ، ﺍﺏ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺁﻧﮯ ﺳﮯ ﺭﮨﮯ ﺁﺝ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﯽ ﺑﺪﻥ ﺍﻭﮌﮪ ﮐﮯ ﺳﻮﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﻧﺮﻡ ﺩﮬﺎﮔﮯ ﮐﻮ ﻣﺴﻠﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﭩﮑﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﺨﺖ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻣﻮﺗﯽ ﻣﯿﮟ ﭘُﺮﻭﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺍِﺗﻨﯽ ﺟﻠﺪﯼ ﺗﻮ ﺑﺪﻟﺘﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﮔﺮﺩﺁﻟﻮُﺩ ﮨﮯ ﺁﺋِﯿﻨﮯ ﮐﻮ ﺩﮬﻮﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﻣﻮﺕ ﺳﮯ ﺧﻮﻑ ﺯﺩﮦ ﺟِﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﺑﯿﺰﺍﺭ ﮨﯿﮟ ﻟﻮﮒ ﺍِﺱ ﺍَﻟﻤﯿﮯ ﭘﮧ ﮨﻨْﺴﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﺭﻭﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ (ﺷﺎﮨﺪ ﮐﺒﯿﺮ)
  7. ??????????? دعاؤں میں یا رب اثر چاہتا ہوں میں تیری ہی سیدھی ڈگر چاہتا ہوں نہ شہرت کی خواہش نہ زر چاہتا ہوں میں جنت کے لعل و گہر چاہتا ہوں یہ دنیا سفر ہے مسلسل سفر ہے مسافر ہوں زادِ سفر چاہتا ہوں ملے جس کا ثمرہ مجھے آخرت میں الہی میں ایسا شجر چاہتا ہوں میں ظلمت میں بھٹکا ہوا اک پرندہ بہت تھک گیا ہوں سحر چاہتا ہوں ترے دین کی سر بلندی کی خاطر میں حضرت عمر کا جگر چاہتا ہوں ترے در پہ جھک کر جو اٹھے نہ ہرگز میں ایسی جبیں ایسا سَر چاہتا ہوں ???????????. محمدعمران
  8. ھم تم ھوں گے بادل ھو گا رقص میں سارا جنگل ھو گا وصل کی شب اور اتنی کالی ان آنکھوں میں کاجل ھو گا ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﮔﺴﺘﺎﺧﯽ ﮐﯽ ھﮯ ﺩﺷﺖ ﯾﻘﯿﻨﺎً ﺟﻞ ﺗﮭﻞ ھﻮ ﮔﺎ ﺗﯿﻎِ ﻧﻈﺮ ﺳﮯ ﮈﺭﻧﺎ ﮐﯿﺴﺎ ؟ ﺩﻝ ﭘﮧ ﻭﺍﺭ ﻣﺴﻠﺴﻞ ھﻮ ﮔﺎ کس نے کیا مہمیز ھوا کو ؟؟ شاید ان کا آنچل ھو گا پیار کی راہ پہ چلنے والو رستہ سارا دلدل ھو گا ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﺩﺍﻧﯽ ھﻮ ﮔﯽ ﺑﮭﻮﻻ ﺑﮭﺎﻻ ﺳﺎﻧﻮﻝ ھﻮ ﮔﺎ کیا ملنا فاروق سے لوگو ھو گا کوئی پاگل ھو گا (فاروق روکھڑی)
  9. ﺷﺎﻡ ﺳﮯ ﺁﻧﮑﮫ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﯽ ﺳﯽ ﮨﮯ ﺁﺝ ﭘﮭﺮ ﺁﭖ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ ﺳﯽ ﮨﮯ ﺩﻓﻦ ﮐﺮﺩﻭ ﮨﻤﯿﮟ ﮐﮧ ﺳﺎﻧﺲ ﻣﻠﮯ ﻧﺒﺾ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﺳﮯ ﺗﮭﻤﯽ ﺳﯽ ﮨﮯ ﮐﻮﻥ ﭘﺘﮭّﺮﺍ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﺮﻑ ﭘﻠﮑﻮﮞ ﭘﮧ ﮐﯿﻮﮞ ﺟﻤﯽ ﺳﯽ ﮨﮯ ﻭﻗﺖ ﺭﮨﺘﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﯿﮟ ﭨﮏ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﺕ ﺑﮭﯽ ﺁﺩﻣﯽ ﺳﯽ ﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺭﺷﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺎ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﻻﺯﻣﯽ ﺳﯽ ﮨﮯ ﺁﺋﯿﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﺍﻟﮓ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ ﯾﮧ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺑﮭﯽ ﺑﺎﮨﻤﯽ ﺳﯽ ﮨﮯ (ﮔﻠﺰﺍﺭ)
  10. ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺷﮩﺮ ﮐﺎ ﻣﻮﺳﻢ ﺑﮍﺍ ﺳﮩﺎﻧﺎ ﻟﮕﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺷﺎﻡ ﭼﺮﺍﻟﻮﮞ ﺍﮔﺮ ﺑﺮﺍ ﻧﮧ ﻟﮕﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺑﺲ ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺅ ﮨﻤﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺑﮭﻼﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﯾﺪ ﮨﻤﯿﮟ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﻟﮕﮯ ﺟﻮ ﮈﻭﺑﻨﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺗﻨﮯ ﺳﮑﻮﻥ ﺳﮯ ﮈﻭﺑﻮ ﮐﮧ ﺍٓﺱ ﭘﺎﺱ ﮐﯽ ﻟﮩﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﭘﺘﮧ ﻧﮧ ﻟﮕﮯ ﺍﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﺗﻮ ﮐﮭﻼﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﭘﮭﻮﻝ ﺻﻔﺤﻮﮞ ﭘﺮ ﮨﻤﯿﮟ ﺟﻮ ﺯﺧﻢ ﻟﮕﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺩﻭﺳﺘﺎﻧﮧ ﻟﮕﮯ ﻭﮦ ﺍﮎ ﺳﺘﺎﺭﮦ ﮐﮧ ﺟﻮ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺩﮐﮭﺎﺋﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﻭﮦ ﺍﮎ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﮧ ﺟﻮ ﺣﺮﻑ ﻣﺤﺮﻣﺎﻧﮧ ﻟﮕﮯ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺐ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﮯ ﻗﯿﺼﺮ ﺟﻮ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﻧﮧ ﻟﮕﮯ ﺍﻭﺭ ﺍٓﺷﻨﺎ ﻧﮧ ﻟﮕﮯ ‎‏. (ﻧﺬﯾﺮ ﻗﯿﺼﺮ)
  11. یاروں کی خامشی کا بھرم کھولنا پڑا اتنا سکوت تھا کہ مجھے بولنا پڑا صِرف ایک تلخ بات سُنانے سے پیشتر کانوں میں پُھول پُھول کا رس گھولنا پڑا اپنے خطوں کے لفظ جلانے پڑے مجھے شفاف موتیوں کو کہاں رولنا پڑا خوشبو کی سرد لہر سے جلنے لگے جو زخم پُھولوں کو اپنا بندِ قبا کھولنا پڑا کتنی عزیز تھی تری آنکھوں کی آبرو محفل میں بے پیے بھی ہمیں ڈولنا پڑا سُنتے تھے اُ س کی بزمِ سُخن نا شناس ہے محسنؔ ہمیں وہاں بھی سُخن تولنا پڑا (محسن نقوی)
  12. شب انتظار (فیض احمد فیض) تم آئے ہو نہ شب انتظار گزری ہے تلاش میں ہے سحر، بار بار گزری ہے جنوں میں جتنی بھی گزری، بکار گزری ہے اگرچہ دل پہ خرابی ہزار گزری ہے ہوئی ہے حضرت ناصح سے گفتگو جس شب وہ شب ضرور سر کوئے یار گزری ہے وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے نہ گل کھلے ہیں، نہ ان سے ملے، نہ مے پی ہے عجیب رنگ میں اب کے بہار گزری ہے چمن پہ غارت گلچیں سے جانے کیا گزری قفس سے آج صبا بے قرار گزری ہے
  13. حیا جس میں نہیں وہ شباب اچھا نہیں لگتا بکھر جائیں جو کھل کر وہ گلاب اچّھا نہیں لگتا لڑکپن ہو چکا رخصت جوانی جھوم کر آئی تیرا گھر سے نکلنا بے نقاب اچھا نہیں لگتا شہزاداثری
  14. خوشبو جیسے لوگ ملے افسانے میں ایک پرانا خط کھولا انجانے میں شام کے سائے بالشتوں سے ناپے ہیں چاند نے کتنی دیر لگا دی آنے میں رات گزرتے شاید تھوڑا وقت لگے دُھوپ اُنڈیلو تھوڑی سی پیمانے میں جانے کس کا ذکر ہے اس افسانے میں دَرد مزے لیتا ہے جو دہرانے میں دِل پر دستک دینے کون آ نکلا ہے کس کی آہٹ سنتا ہوں ویرانے میں ہم اس موڑ سے اُٹھ کر اگلے موڑ چلے اُن کو شاید عمر لگے گی آنے میں (گلزار)
  15. راہ آسان ہو گئی ہوگی جان پہچان ہو گئی ہوگی موت سے تیری درد مندوں کی مشکل آسان ہو گئی ہوگی پھر پلٹ کر نگاہ نہیں‌آئی تجھ پہ قربان ہو گئی ہوگی تیری زلفوں کو چھیڑتی تھی صبا خود پریشان ہو گئی ہوگی ان سے بھی چھین لو گے یاد اپنی جن کا ایمان ہو گئی ہوگی دل کی تسکین پوچھتے ہیں آپ ہاں مری جان ، ہو گئی ہوگی مرنے والوں پہ سیف حیرت کیوں موت آسان ہو گئی ہوگی (سیف الدین سیف)
  16. ﻏﻢ ﮐﮯ ﻣﺎﺭﮮ ﺟﻮ ﺻﺪﺍ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ... ﺗﺨﺖ ﺷﺎﮨﻮﮞ ﮐﮯ ﮨِﻼ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ... ........................................... ﺑﮭﯿﮕﮯ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﯿﮟ ﺳُﻠﮕﺘﮯ ﺁﻧﺴﻮ ... ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﻼ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ... ............................................ ﺍﯾﺴﯽ ﺑﺨﺸﯽ ﮬﮯ ﺍُﺩﺍﺳﯽ زندگی ﻧﮯ ... ﮐﮯ ﺍﺏ ﻟﻄﯿﻔﮯ ﺑﮭﯽ ﺭُﻻ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ... ............................................ ﻣﯿﺮﮮ ﺻﺤﺮﺍ ﮐﮯ ﯾﮧ ﻧﻨﮭﮯ ﺟُﮕﻨﻮ ... ﺍﮨﻞِ ﻇُﻠﻤﺖ ﮐﻮ ﺿﯿﺎﺀ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ... ........................................... ﺍﺏ ﮐﮯ ﻧﮧ ﮬﻢ ﮐﻮ ﺻﺪﺍﺋﯿﮟ ﺩﯾﻨﺎ ... ﮬﻢ ﻧﮧ ﻟﻮﭨﯿﮟ ﮔﮯ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ...!!! ...........................................
  17. *بہت اکرام ہورہا ہوگا جنید تیرا* آسماں سج رہا ہوگا فرشتے بھی مسرور ہونگے کہ کیا کہنے اس عاشق کے نبی کی خدمت میں سلام کے پیش کرنے میں محبت کی انتہا دیکھو کہ خادم خود چلا آیا جنکی مدحتوں میں تیری جنید ہےزندگی گزری ان سے ملاقات کی گھڑیاں ان کے دیدار کے لمحوں سے جو اضطراب تھا تیرا خوب تسکین پاگیاہوگا قابل رشک ہے تو کیا مقام ہے تیرا خدا کی راہ میں نکلے اسی کے پاس جا پہنچے عجب دل کی کیفیت ہے عجب لمحات ہیں اس وقت رلا گیا ہم سب کو بچھڑنے کا یہ انداز تیرا... جمع وترتیب .. ملک محمد نعیم فاضل جامعہ اکلکوا مہاراشٹر
  18. ہم سردی کی نیم لحافی شاموں میں - - - اک دوجے کی آنکھ سے فلمیں دیکھیں گے
  19. حال میں اپنے مست ہوں غیر کا ہوش ہی نہیں رہتا ہوں اس جہاں میں یوں جیسے یہاں کوئی نہیں
  20. میں ہوں ہمالہ تو سر کرے وہ جو ہوں میں صحرا تو گھر کرے وہ بِلا ضرورت ہے زندگی یہ کسی کو دے دو بسر کرے وہ میں قید میں ہوں خود اپنے اندر جو ملنا چاہے تو در کرے وہ علاج ہے گر تو زہر بھی دو ہے شرط یہ بس اثر کرے وہ مرے جرائم کا فیصلہ ہو ہو خود جو صالح مگر کرے وہ جو تجھ کو دنیا سمجھ گیا ہو بھلا تری کیا قدر کرے وہ میں جو ہوں ابرک،وہی ہوں لکھتا جو فرق پائے خبر کرے وہ
  21. یہ ہو نہ ہو کمال ہے شوقِ وصال کا ورنہ ہماری شاعری دیوانگی نہ تھی لفظوں میں مسکراہٹیں رنگینیاں سی ہیں جب سے کسی کی بات میں بیگانگی نہ تھی جب سے ہماری سوچ میں اُس کا خیال ہے ہر شعر پُر یقین تھا حیرانگی نہ تھی لکھا مرا جو پڑھ چکے وہ جانتے ہیں سب صحرا میں اب بہار ہے ویرانگی نہ تھی پہلے بھی لوگ چاہتے ابرک تمہیں ہی تھے لکھے میں تیرے یوں کبھی فرزانگی نہ تھی .................................................اتباف ابرک
  22. اب کے سفر ھی اور تھا ، اور ھی کچھ سراب تھے دشتِ طلب میں جا بجا ، سنگِ گرانِ خواب تھے حشر کے دن کا غلغلہ ، شہر کے بام و دَر میں تھا نگلے ھوئے سوال تھے ، اُگلے ھوئے جواب تھے اب کے برس بہار کی , رُت بھی تھی اِنتظار کی لہجوں میں سیلِ درد تھا ، آنکھوں میں اضطراب تھے خوابوں کے چاند ڈھل گئے ، تاروں کے دم نکل گئے پھولوں کے ہاتھ جل گئے ، کیسے یہ آفتاب تھے ؟ سیل کی رھگزر ھُوئے ، ھونٹ نہ پھر بھی تر ھُوئے کیسی عجیب پیاس تھی ، کیسے عجب سحاب تھے عمر اسی تضاد میں , رزقِ غبار ھو گئی جسم تھا اور عذاب تھے ، آنکھیں تھیں اور خواب تھے آنکھوں میں خون بھر گئے ، رستوں میں ھی بِکھر گئے آنے سے قبل مر گئے ، ایسے بھی انقلاب تھے ساتھ وہ ایک رات کا ، چشم زدن کی بات تھا پھر نہ وہ التفات تھا ، پھر نہ وہ اجتناب تھے ربط کی بات اور ھے ، ضبط کی بات اور ھے یہ جو فشارِ خاک ھے ، اِس میں کبھی گلاب تھے اَبر برس کے کھُل گئے ، جی کے غبار دھل گئے آنکھ میں رُو نما ھوئے ، شہر جو زیرِ آب تھے درد کی رھگزار میں چلتے تو کِس خمار میں چشم کہ بے نگاہ تھی ، ھونٹ کہ بے خطاب تھے ”امجد اسلام امجد“
  23. شکوہ ، گلہ ، شکایت ، ناراض , رونا دھونا کچھ اور بات ہم سے کرتا نہ کیوں ہے کوئی ہر انجمن میں گھوما سب محفلوں کو دیکھا دیتے ہیں زخم سارے بھرتا نہ کیوں ہے کوئی ...................................................
  24. "تیسری نسل" لاشوں پہ سیاست کرنے کو بابا کی تجوری بھرنے کو پھر تخت پہ لڑنے مرنے کو بھٹو کا نواسا آیا ہے پِھر جُھوٹے وعدے؟ جی بابا! مذموم ارادے؟ جی بابا! بھیڑوں کے لبادے؟ جی بابا! تیّار پیادے؟ جی بابا! مزدور کا بچہ؟ بے وقعت دہقان کا بچہ؟ خادم ہے مجبور کا بچہ؟ مرنے دو نادان کا بچہ؟ ایندھن ہے یہ ایندھن خوب جلانے کو اِک نسْل نئی کو کھانے کو اور جُھوٹے خواب دکھانے کو بھٹو کا نواسا آیا ہے (ابنِ منیب)
  25. پاگل کسے کہتے ہیں؟؟.. جو ہوش گنوا بیٹھے! جو روڈ پہ جا بیٹھے! جو مانگ کے کھا بیٹھے! جو بھوک چھپا بیٹھے! کہتے ہیں اسے پاگل؟!! بے شرم پھرے جو وہ! ٹھوکر سے گرے جو وہ! شکوہ نہ کرے جو وہ! بے موت مرے جو وہ! ہے کون بھلا پاگل؟!! ننگا ہو بدن جس کا! گندا ہو رہن جس کا! آزاد ہو من جس کا! خالی ہو ذہن جس کا! کیا اس کو کہیں پاگل؟!! گھر بھول گیا ہو جو! در بھول گیا ہو جو! زر بھول گیا ہو جو! شر بھول گیا ہو جو! وہ شخص ہے کیا پاگل؟!! عزت سے ہو ناواقف! ذلت سے ہو ناواقف! دولت سے ہو ناواقف! شہرت سے ہو ناواقف! کیا اس کو کہیں پاگل؟!! تم بات مری مانو! جو سچ ہے اسے جانو! اس گول سی دنیا میں! صرف ایک نہیں پاگل! کچھ اور بھی ہیں پاگل!! جو ماں کو ستاتا ہے! دل اس کا دکھاتا ہے! جو باپ کے اوپر بھی! جھٹ ہاتھ اٹھاتا ھے! وہ شخص بھی ہے پاگل!! جو رب کو بھلا بیٹھا! جو کرکے خطا بیٹھا! دولت کے نشے میں جو! جنت کو گنوا بیٹھا! وہ شخص بھی هے پاگل! جو علم نہ سیکھے وہ! جو دین نہ جانے وہ! جو خود کو بڑا سمجھے! جو حق کو نہ مانےوه! ہے وہ بھی بڑا پاگل!! دنیا میں جو کھویا ہے! غفلت میں جو سویا ہے! جو موت سے ہے غافل! جو عیش کا جویا ہے! اس کو بھی کہو پاگل!!!

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.