Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Story Maker

Funds Transfer Agent
  • Joined

  • Last visited

Everything posted by Story Maker

  1. کتنا دشوار ھے فطرت کا بدلنا.... لوگ کعبە گئے پر دل سے برائی نە گئ...
  2. جانے اس کی جدائی کیا ہو گی جس کا ملنا ہی حادثہ ہے مجهے
  3. ‏ہم ہی تھے جو تیرے آنے تلک جلے ـــــ ورنہ سبھی چراغ ـــــــــ سرِ رہگزر نہ تھے ایسے انتخاب :جاسم نور
  4. ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﯾﮧ ﺍﻋﻼﻥ ﮨﻮ ﺍﮐﮧ ﺟﻮ ﺟﻮ ﺁﺩﻣﯽ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﮯ ﻭﮦ ﻓﻼﮞ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺁﺟﺎﺋﮯ ۔ ﺟﺲ ﭼﯿﺰ ﺳﮯ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻭﮨﺎ ﮞ ﺭﮐﮫ ﺩﮮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﺘﺒﺎﺩﻝ ﯾﻌﻨﯽ ﺟﺲ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﺍﭼﮭﺎ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎﮨﮯ ﻭﮦ ﺍﭨﮭﺎ ﻟﮯ ۔ ﺍﺱ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﻮ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺳﺐ ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﻘﺮﺭﮦ ﺩﻥ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﺌﮯ۔ (1 ) ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﺷﺪﮦ ﺗﮭﺎ ،ﺑﯿﻮﯼ ﺳﮯ ﺗﻨﮓ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﺁﯾﺎ ۔ (2 ) ﺍﯾﮏ ﮐﻨﻮﺍﺭﮦ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺍﺩﮬﻮ ﺭﺍ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﮔﯿﺎ (3 ) ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﮐﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻥ ﺗﮭﯽ ﻭﮦ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮﺁﮔﯿﺎ (4 ) ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﯽ ﺍﻭﻻ ﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﻭﮦ ﺍﻭﻻ ﺩ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﮔﯿﺎ (5 ) ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﭨﯽ ﺑﯽ ﮐﺎ ﻣﺮﯾﺾ ﺗﮭﺎ ۔ ﺳﺎﺭﯼ ﺭﺍ ﺕ ﮐﮭﺎ ﻧﺴﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﭨﯽ ﺑﯽ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺷﻮ ﮔﺮ ﻟﮯ ﺁﯾﺎ ۔ (6 ) ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺟﻮ ﺷﻮ ﮔﺮ ﮐﺎ ﻣﺮﯾﺾ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺷﻮﮔﺮ ﺭﮐﮫ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﭨﯽ ﺑﯽ ﻟﮯ ﺁﯾﺎ ۔ ﺍﺳﯽ ﻃﺮ ﺡ ﺳﺐ ﺧﻮﺷﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﮔﺌﮯ ۔ (1 ) ﺷﺎﺩﯼ ﺷﺪﮦ ﺟﻮ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﮔﮭﺮ ﺁﯾﺎ، ﺭﺍ ﺕ ﮨﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭘﮑﺎ ﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺑﺴﺘﺮ ﺑﭽﮭﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ۔ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﺎﺋﮯ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺗﻮﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﭼﻠﻮ ﺟﯿﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﺗﻮ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ۔ (2 ) ﺟﻮ ﻏﯿﺮ ﺷﺎﺩﯼ ﺷﺪﮦ ﺗﮭﺎ ﺑﯿﻮ ﯼ ﻟﮯ ﺁﯾﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺁﺗﮯ ﮨﯽ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﮐﯽ ﻟﺴﭧ ﮨﺎ ﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺩﮮ ﺩﯼ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻟﮯ ﺁﺅ ۔ ﻓﻼﮞ ﻟﮯ ﺁﺅﺳﺎﺭﮮ ﭘﯿﺴﮯ ﺧﺮﭺ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ، ﺟﯿﺐ ﺧﺎﻟﯽ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺑﻐﯿﺮ ﺷﺎ ﺩﯼ ﮐﮯ ﮨﯽ ﭨﮭﯿﮏ ﺗﮭﺎ ۔ (3 ) ﺟﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻭﻻ ﺩ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﭘﺸﯿﻤﺎﻥ ﮨﻮ ﺍﮐﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﺎ ﻓﺮﻣﺎﻥ ﺗﮭﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﺣﺎﻝ ﭼﺎﻝ ﮨﯽ ﭘﻮﭼﮫ ﻟﯿﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺎﻡ ﮨﯽ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﺗﮭﮯ ۔ (4 ) ﺟﻮ ﺍﻭﻻ ﺩ ﻟﮯ ﺁﯾﺎﺗﮭﺎ ﺑﮍﺍ ﺧﻮﺵ ﺗﮭﺎ ۔ ﻟﮍﮐﻮﮞ ﻧﮯ ﺁﺗﮯ ﮨﯽ ﺑﺎ ﭖ ﮐﻮ ﻟﭩﺎ ﮐﺮ ﻣﺎﺭﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺍﺏ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﭨﮭﯿﮏ ﺗﮭﺎ ۔ (5 ) ﺟﻮ ﺁﺩﻣﯽ ﭨﯽ ﺑﯽ ﻭﺍﻻ ﺗﮭﺎ ﺳﺎﺭﯼ ﺭﺍﺕ ﮐﮭﺎ ﻧﺴﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺷﻮﮔﺮ ﮐﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﻟﮯ ﺁﯾﺎ ۔ ﺳﺎﺭﯼ ﺭﺍﺕ ﺍﭨﮫ ﺍﭨﮫ ﮐﺮ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﮐﺮ ﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺳﺮﺩﯼ ﺗﮭﯽ ،ﺑﮍﺍ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﭨﯽ ﺑﯽ ﮨﯽ ﭨﮭﯿﮏ ﺗﮭﯽ ﭼﺎﮨﮯ ﺳﺎﺭﯼ ﺭﺍ ﺕ ﮐﮭﺎ ﻧﺴﺘﺎ ﺗﮭﺎﻟﯿﮑﻦ ﺑﺴﺘﺮ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮍﺍ ﺭﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﯾﮧ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﮐﺎ ﺍﭨﮭﻨﺎ ﺳﺮ ﺩﯼ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﻧﺎ ﺑﮍﺍ ﻣﺸﮑﻞ ﮨﮯ ۔ (6 ) ﺟﻮ ﺷﻮ ﮔﺮ ﻭﺍﻻ ﭨﯽ ﺑﯽ ﻟﮯ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺳﺎﺭﯼ ﺭﺍﺕ ﮐﮭﺎ ﻧﺴﺘﺎ ﺭﮨﺎ ﺻﺒﺢ ﺍﭨﮫ ﮐﺮ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﻭﮨﯽ ﺷﻮ ﮔﺮ ﭨﮭﯿﮏ ﺗﮭﯽ ﭼﻠﻮ ﭘﯿﺸﺎ ﺏ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﺳﻮ ﺗﻮ ﺟﺎ ﺗﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﺍﺱ ﮐﻢ ﺑﺨﺖ ﭨﯽ ﺑﯽ ﻧﮯ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﺎﺭﯼ ﺭﺍﺕ ﺳﻮﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺎ ۔ ﺑﮯ ﺷﮏ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻧﺎﺷﮑﺮﺍ ﻭﺍﻗﻊ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور صبر کرنا چاہئے اللہ ہمیں صبر و شکر کرنے کی توفیق دے۔ آمین
  5. لب خاموش سے افشا ہوگا راز ہر رنگ میں رسوا ہوگا دل کے صحرا میں چلی سرد ہوا ابر گلزار پہ برسا ہوگا تم نہیں تھے تو سر بام خیال یاد کا کوئی ستارہ ہوگا کس توقع پہ کسی کو دیکھیں کوئی تم سے بھی حسیں کیا ہوگا زینت حلقۂ آغوش بنو دور بیٹھوگے تو چرچا ہوگا جس بھی فن کار کا شہکار ہو تم اس نے صدیوں تمہیں سوچا ہوگا آج کی رات بھی تنہا ہی کٹی آج کے دن بھی اندھیرا ہوگا کس قدر کرب سے چٹکی ہے کلی شاخ سے گل کوئی ٹوٹا ہوگا عمر بھر روئے فقط اس دن رات بھیگی تو اجالا ہوگا ساری دنیا ہمیں پہچانتی ہے کوئی ہم سا بھی نہ تنہا ہوگا
  6. کئی بار اس کا دامن بھر دیا حسنِ دو عالم سے مگر دل ہے کہ اس کی خانہ ویرانی نہیں جاتی کئی بار اس کی خاطر ذرے ذرے کا جگر چیرا مگر یہ چشمِ حیراں، جس کی حیرانی نہیں جاتی نہیں جاتی متاعِ لعل و گوہر کی گراں یابی متاعِ غیرت و ایماں کی ارزانی نہیں جاتی مری چشمِ تن آساں کو بصیرت مل گئی جب سے بہت جانی ہوئی صورت بھی پہچانی نہیں جاتی سرِ خسرو سے نازِ کجکلاہی چھن بھی جاتا ہے کلاہِ خسروی سے بوئے سلطانی نہیں جاتی بجز دیوانگی واں اور چارہ ہی کہو کیا ہے؟ جہاں عقل و خرد کی ایک بھی مانی نہیں جاتی (فیض احمد فیض)
  7. سڑک مسافت کی عجلتوں میں گھرے ہوئے سب مسافروں کو بغور فرصت سے دیکھتی ہے کسی کے چہرے پہ سرخ وحشت چمک رہی ہے کسی کے چہرے سے زرد حیرت چھلک رہی ہے کسی کی آنکھیں ہری بھری ہیں کبیر حد سے ابھر رہا ہے صغیر قد سے گزر رہا ہے کسی کا ٹائر کسی کے پہیے کو کھا رہا ہے کسی کا جوتا کسی کی چپل چبا رہا ہے کسی کے پیروں میں آرہا ہے کسی کا بچہ کسی کا بچہ کسی کے شانے پہ جارہا ہے کوئی ٹھکانے پہ کوئی کھانے پہ جارہا ہے حبیب دستِ رقیب تھامے غریب خانے پہ جارہا ہے امیر پنجرہ بنا رہا ہے غلام کرتب دکھا رہا ہے اوراپنے بیٹے کے ساتھ چھت پر امین کنڈا لگا رہا ہے نظام تانگا چلا رہا ہے کسی کلائی پہ جگمگاتی ہوئی گھڑی ہے مگر ابھی وہ رکی ہوئی ہے کسی کے چہرے پہ بارہ بجنے میں پانچ سیکنڈ رہ گئے ہیں کسی کی ہاتھی نما پراڈو سڑک سے ایسے گزر رہی ہے سوائے اس کے کہیں بھی جیسے کوئی نہیں ہو کسی کی مونچھیں جھکی ہوئی ہیں کسی کی بانچھیں کھلی ہوئی ہیں کسی کی ٹیکسی کسی کی فوکسی ملی ہوئی ہیں کسی کے لب اور کسی کی آنکھیں سلی ہوئی ہیں کسی کے کپڑے پھٹے ہوئے ہیں کسی کی پگڑی چمک رہی ہے کسی کی رنگت کسی کی ٹوپی اڑی ہوئی ہے شریف نظریں اٹھا اٹھا کر کمان جسموں پہ اپنی وحشت کے تیر کب سے چلا رہا ہے نظیر نظریں چرا رہا ہے نفیس اپنے کلف کی شکنوں کو رو رہا ہے حکیم اپنے مطب کے شیشوں کو دھو رہا ہے کسی کی آنکھوں کے دھندلے شیشوں میں اس کے ماضی کی جھلکیاں ہیں کسی کی آنکھوں میں آنے والے حسین لمحوں کی مستیاں ہیں کسی کی آنکھوں میں رت جگوں کی کچھ ارغوانی سی ڈوریاں ہیں کسی کے کاندھے پہ اس کے خوابوں کی بوریاں ہیں کباڑخانے پہ باسی ٹکڑوں کی اور کتابوں کی بوریاں ہیں بزرگ برگد کے نیچے بوڑھا کھڑا ہوا ہے اور اس کے ہاتھوں میں ٹیپ لپٹی ہوئی چھڑی ہے پولیس کی گاڑی پکٹ لگا کر سڑک پہ ترچھی کھڑی ہوئی ہے اور ایک مزدورر اپنا دامن اٹھائے بے بس کھڑا ہوا ہے اور اک سپاہی کہ اس کے نیفے میں انگلیوں کو گھما رہا ہے وہیں پہ شاہد سیاہ چشمہ لگاکے خود کو چھپا رہا ہے نیوز چینل کی چھوٹی گاڑی بڑی خبر کی تلاش میں ہے دوسبزی والے بھی اپنی پھیری لگا رہے ہیں توپھول والے کے سرپہ پھولوں کی ٹوکری ہے کسی کی آنکھوں میں نوکری ہے کسی کی آنکھوں میں چھوکری ہے وقار سر کو جھکا رہا ہے فراز کھائی میں جارہا ہے تو گیلی سگریٹ کے کش لگا کر نواب رکشہ چلا رہا ہے سلیم کنی گھما رہا ہے وکیل وردی میں جارہا ہے ضمیر بغلیں بجا رہا ہے اورایک واعظ بتا رہا ہے خدا کو ناراض کرنے والے جہنمی ہیں خدا کو راضی کرو خدارا خدا کو راضی کرو خدارا اوراس کے آگے نصیر ، اکمل ، کمال ، شادا، غلام سارے نظر جھکائے کھڑے ہوئے ہیں کہ چشمِ بینا اگر کہیں ہے تو سمجھو پاتال تک گڑی ہے کسی کو اے سی خریدنا ہے کسی کو پی سی خریدنا ہے کسی کی بس اور کسی کی بی سی نکل رہی ہے عقیلہ خالہ کے دونوں ہاتھوں میں آٹھ تھیلے لٹک رہے ہیں اور آتے جاتے سبھی مسافر انہیں مسلسل کھٹک رہے ہیں ضیاءاندھیرے میں جارہا ہے گلاب کچرا جلا رہا ہے عظیم مکھی اڑا رہا ہے کلیم گٹکا چبا رہا ہے توگھنٹہ پیکج پہ جانے کب سے فہیم گپیں لڑا رہا ہے سبق مساوات کا سکھانے وزیر گاڑی میں جارہا ہے ثناءندا کو نئے لطیفے سنا رہی ہے حنا ہتھیلی کو تکتے تکتے پرانے رستے سے آرہی ہے اور اپنی بھاوج کا ہاتھ تھامے زبیدہ چیک اپ کو جارہی ہے وہ اپنی نظریں کبھی ادھر کو کبھی ادھر کو گھما رہی ہے مگر کوئی شے اسے مسلسل بلا رہی رہی ہے عجیب عجلت عجیب وحشت عجیب غفلت کا ماجرا ہے کہوں میں کس سے مرے خدایا یہ کیسی خلقت کا ماجراہے کہ اپنی مستی میں مست ہوکر یہ سب مسافر گزر رہے ہیں نئے مسافر ابھر رہے ہیں سڑک جہاں تھی وہیں کھڑی ہے مگر حقیقت بہت بڑی ہے سڑک پر بلّی مری پڑی ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاعر۔۔۔ عمران شمشاد
  8. ﻋﺠﺐ ﺍِﮎ ﺟﺸﻦ ﺳﺠﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﺮﯼ ﺳﻨﺴﺎﻥ ﺳﮍﮐﻮﮞ ﭘﺮ ﮐﮧ ﻣﺤﻮِ ﺭﻗﺺ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺳﮍﮐﻮﮞ ﭘﺮ ﺍﻣﯿﺮ ﺷﮩﺮ ﻧﮯ ﺑﺎﻧﭩﯽ ﯾﺘﯿﻤﯽ ﮐﺲ ﻟﯿﮯ ﮨﻢ ﭘﺮ ﺳﻮﺍﻟﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﻮ ﺑﭽﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺳﮍﮐﻮﮞ ﭘﺮ ﻣِﺮﮮ ﺑﯿﭩﮯ ﺩﻻﺅﮞ ﮔﺎ ﺗﺠﮭﮯ ﻣﯿﮟ ﻋﯿﺪ ﭘﺮ ﮐﭙﮍﮮ ﻟﮩﻮ ﻣﯿﮟ ﮈﻭﺏ ﮐﺮ ﺑﮑﮭﺮﺍ ﻣﮕﺮ ﭘﯿﻤﺎﻥ ﺳﮍﮐﻮﮞ ﭘﺮ ﺳﺮﺍﭘﺎ ﻣﻮﺕ ﺑﮑﮭﺮﯼ ﮨﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﺩﯾﮑﮫ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮩﯿﮟ ﺑﮯ ﮔﻮﺭ ﻻﺷﮯ ﺗﻮ ﮐﮩﯿﮟ ﺍﺭﻣﺎﻥ ﺳﮍﮐﻮﮞ ﭘﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﺘﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮐﮭﺘﺎ ﺁُﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮫ ﻟﻮﮞ ﺳﮕﺎﻥ ِ ﺯﺭ ﻣﭽﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺒﮭﯽ ﻃﻮﻓﺎﻥ ﺳﮍﮐﻮﮞ ﭘﺮ ﮨﯿﮟ ﯾُﻮﮞ ﺗﻮ ﻟﻮﮒ ﻻﮐﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ، ﻣِﺮﮮ ﺍﺱ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﻋﺎﺑﯽ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺘﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺳﮍﮐﻮﮞ ﭘﺮ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ﻋﺎﺑﯽ ﻣﮑﮭﻨﻮﯼ
  9. Watan naseeb Kahan apni qismatain hon gi Jahan bhi jain gai ham sath hijratain hon gi Kabhi ti sahaib e dewar o Dar banain gai hum Kabhi to sar pr hamaray nai chattain hon gi Abhi to qaid hai jazbon ki andhiyan dil main Hamara saber jo tota qayamataìn hon gi
  10. اُٹھ شیرِ مجاہد ہوش میں آ تعمیرِ خلافت پیدا کر کیوں فرقے فرقے ہوتا ہے اب ایک جماعت پیدا کر کر تو بھی ترقی دنیاں میں اسبابِ تجارت پیدا کر قارون کی دولت ٹھکرا دے عثمان کی دولت پیدا کر اسلام کا دم بھرتا ہے کفر سے پھر کیوں ڈرتا ہے یا تو اسلام کا نام نہ لے یا شوقِ شہادت پیدا کر ?خلیل الرحمان
  11. غزل سننے والوں کی ہووے خلاصی اکاسی، بیاسی، تراسی، چوراسی پچاسی، چھاسی، ستاسی، اٹھاسی ریاضی پڑھانے کی کوشش نہ کرنا نہ بابا یہ میری سمجھ میں نہ آسی اگر شوق سے علم حاصل کرے گا خدا تجھ کو بندے کا پتر بناسی اب اک دوسرے کو نصیحت نہ کرئیے نہ تُو میرا ماما، نہ میں تیری ماسی زباں خامشی کی ہی کام آگئی ہے نہ سننا پڑا تھا نہ دسنا پیاسی وزارت میں اس کو فلو ہو گیا تو وہ سرکاری خرچے پہ امریکہ جاسی گرانی اگر یونہی بڑھتی رہے گی تو خود سوچ پھر قوم کھسماں تو کھاسی؟ اگر تو گیا کوچہء دلبراں میں تو دلبر کے "ویروں" سے پاسے پھنیاسی یہی سوچ کر میں بھی سونے لگی ہوں ۔"خراٹا" میرا قوم کو اب جگاسی چلو ناز مقطع ہی اب عرض کردو غزل سننے والوں کی ہووے خلاصی
  12. ﻣﺸﺎﻕ ﺩﺭﺩ ﻋﺸﻖ ﺟﮕﺮ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ، ﺩﻝ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﮐﮭﺎؤں ﮐﺪﮬﺮ ﮐﯽ ﭼﻮﭦ، ﺑﭽﺎؤں کدھر کی چوٹ ﺁﺗﺶ
  13. ملبوس جب ہوا نے بدن سے چرا لیے دوشیزگانِ صبح نے چہرے چھپا لیے ہم نے تو اپنے جسم پہ زخموں کے آئنے ہر حادثے کی یاد سمجھ کر سجا لیے میزانِ عدل تیرا جھکاؤ ہے جس طرف اس سمت سے دلوں نے بڑے زخم کھا لیے دیوار کیا گری مرے خستہ مکان کی لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنا لیے لوگوں کی چادروں پہ بناتی رہی وہ پھول پیوند اس نے اپنی قبا میں سجا لیے ہر حُرملہ کے دوش پہ ترکش کو دیکھ کر ماؤں نے اپنی گود میں بچّے چھپا لیے (سبطِ علی صبا)
  14. جب تری جان ہو گئی ہو گی جان حیران ہو گئی ہوگی شب تھا مری نگہ کا بوجھ اس پر وہ تو ہلکان ہو گئی ہوگی اس کی خاطر ہوا میں خوار بہت وہ مری آن ہو گئی ہو گی ہو کے دشوار زندگی اپنی اتنی آسان ہو گئی ہوگی بے گلہ ہوں میں اب بہت دن سے وہ پریشان ہو گئی ہوگی اک حویلی تھی دل محلے میں اب وہ ویران ہو گئی ہوگی اس کے کوچے میں آئی تھی شیریں اس کی دربان ہو گئی ہوگی کمسنی میں بہت شریر تھی وہ اب تو شیطان ہو گئی ہوگی (جون ایلیا)
  15. مل ہی جائے گا کبھی، دل کو یقیں رہتا ہے وہ اسی شہر کی گلیوں میں کہیں رہتا ہے جس کی سانسوں سے مہکتے تھے در و بام ترے اے مکاں بول، کہاں اب وہ مکیں رہتا ہے اِک زمانہ تھا کہ سب ایک جگہ رہتے تھے اور اب کوئی کہیں کوئی کہیں رہتا ہے روز ملنے پہ بھی لگتا تھا کہ جُگ بیت گئے عشق میں وقت کا احساس نہیں رہتا ہے دل فسردہ تو ہوا دیکھ کے اس کو لیکن عمر بھر کون جواں، کون حسیں رہتا ہے (احمد مشتاق)
  16. اس شوخ سے جو میں نے کہا، جانِ من سنو، حج کر کے آیا ہوں، مجھے حاجی کہا کرو، وہ بولی حج کا اب یہ تقاضا ہے حاجی جی، اب جانِ من نہیں مجھے باجی کہا کرو. (سید سلمان گیلانی)
  17. ﺟﻮ "ﮨﻢ ﭘﮧ ﮔﺰﺭﮮ ﺗﮭﮯ ﺭﻧﺞ ﺳﺎﺭﮮ" ﻭﮦ "ﺧﻮﺩ ﭘﮧ ﮔﺰﺭﮮ" ﺗﻮ ﻟﻮﮒ ﺳﻤﺠﮭﮯ ﺟﺐ "ﺍﭘﻨﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺤﺒﺘﻮﮞ" کے"ﻋﺬﺍﺏ ﺟﮭﯿﻠﮯ" ﺗﻮ ﻟﻮﮒ ﺳﻤﺠﮭﮯ ﻭﮦ ﺟﻦ "ﺩﺭﺧﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﭼﮭﺎﺅﮞ" ﻣﯿﮟ ﺳﮯ "ﻣﺴﺎﻓﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﭨﮭﺎ ﺩﯾﺎ" ﺗﮭﺎ ﺍﻧﮩﯽ ﺩﺭﺧﺘﻮﮞ ﺳﮯ "ﺍﮔﻠﮯ ﻣﻮﺳﻢ ﺟﻮ ﭘﮭﻞ ﻧﮧ ﺍﺗﺮﮮ" ﺗﻮ ﻟﻮﮒ ﺳﻤﺠﮭﮯ ﻭﮦ "ﮔﺎﺅﮞ ﮐﺎ ﺍﮎ ﺿﻌﯿﻒ ﺩﮨﻘﺎﮞ" "ﺳﮍﮎ ﮐﮯ ﺑﻨﻨﮯ" ﭘﮧ ﮐﯿﻮﮞ ﺧﻔﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﺐ "ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ" ﺟﻮ ﺷﮩﺮ ﺟﺎ ﮐﺮ "ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮧ ﻟﻮﭨﮯ" ﺗﻮ لوگ سمجھے
  18. محبت کا ارادہ بدل جانا بھی مشکل ہے.... تمھیں کھونا بھی مشکل ہے تمھیں پانا بھی مشکل ہے.... اداسی تیرے چہرے کی گوارہ بھی نہیں لیکن.... تیری خاطر ستارے توڑ کے لانا بھی مشکل ہے.... ذرا سی بات پر آنکھیں بھگو کے بیٹھ جاتے ہو.... تمھیں تو اپنے دل کا حال بتانا بھی مشکل ہے....
  19. دل میں کوئی چراغ جلایا نہیں گیا خود کو بھی حالِ دل سنایا نہیں گیا تو خواب تھا سو دل میں سماتا بھی کسطرح آنکھوں میں آ گیا پھر چھپایا نہیں گیا ،، آواز دے کے تجھ کو چاہا تھا روک لوں لب ہل سکے نہ ،،، مجھ سے بلایا نہیں گیا ، تو بھی بچھڑ کے مجھ سے کیسے بدل گیا مجھ سے بھی اپنی ذات میں آیا نہیں گیا تو نے بھلا دیا ہے مگر یار دیکھ لے مجھ سے تو تیرا غم بھی بھلایا نہیں گیا ،، اک دشت میرے پیر سے لپٹا رہا سدا ،، اک میں تھا دشت میں بھی سمایا نہیں گیا گھبرا گیا تھا راستے کی تلخیوں سے وہ ،، میں اسکو چھوڑ کر یوں خدایا نہیں گیا ،،
  20. محبتوں میں خسارہ عجیب لگتا ہے ہمیں " دُعــــا "کا سہارا عجیب لگتا ہے شعورِ موسمِ ہجر و وصال رکھتے ہیں سو عِشق سارے کا سارا عجیب لگتا ہے کبھی تمہاری طلب بےقرار رکھتی تھی اور اب تو زکر تمہارا عجیب لگتا ہے ہمارے دل نے ارادہ تو کر لیا لیکن ابھی سفر کا ستارہ عجیب لگتا ہے کبھی چراغ جلائے تھے جس کے پانی پہ وہ جھیل اور وہ کنارہ عجیب لگتا ہے نوشی گیلانی
  21. ہم کافروں کی مشقِ سخن ہائے گُفتَنی اُس مرحلے پہ آئی کہ اِلہام ہو گئی دُنیا کی بےاُصول عداوت تو دیکھیے ہم بُوالہوس بنے تو وفا عام ہو گئی کل رات، اُس کے اَور مِرے ہونٹوں میں تیرا عکس اَیسے پڑا کہ رات تِرے نام ہو گئی (مصطفیٰ زیدی از قبائے سَاز )
  22. تُو نے دیکھی ہے وہ پیشانی، وہ رخسار، وہ ہونٹ زندگی جن کے تصور میں لٹا دی ہم نے.... تجھ پہ اُٹھی ہیں وہ کھوئی ہوئی ساحر آنکھیں تجھ کو معلوم ہے کیوں عمر گنوا دی ہم نے فیض
  23. شامِ غم جب بکھر گئی ہو گی جانے کس کس کے گھر گئی ہو گی؟ اِتنی لرزاں نہ تھی چراغ کی لَو اپنے سائے سے ڈر گئی ہو گی چاندنی ایک شب کی مہماں تھی صبح ہوتے ہی مَر گئی ہو گی دیر تک وہ خفا رہے مجھ سے دُور تک یہ خبر گئی ہو گی ایک دریا کے رُخ بدلتے ہی اِک ندی پھر اُتر گئی ہو گی جس طرف وہ سفر پہ نکلا تھا ساری رونق اُدھر گئی ہو گی رات سورج کو دھونڈنے کے لیے تا بہ حدِّ سحر گئی ہو گی میری یادوں کی دھوپ چھاؤں میں اُس کی صورت نکھر گئی ہو گی یا تعلّق نہ نبھ سکا اس سے یا طبیعت ہی بھر گئی ہو گی تیری پل بھر کی دوستی محسنؔ اُس کو بدنام کر گئی ہو گی (محسن نقوی)
  24. میں تنہائی کا حاصل ہو گیا ہوں بھری دنیا میں شامل ہو گیا ہوں اُسے آساں سمجھ لینے کی دُھن میں میں اپنے آپ مشکل ہو گیا ہوں بہت پتھر بنا ہوں ٹوٹنے کو مگر اک چوٹ سے دل ہو گیا ہوں
  25. تمہاری صبح حسین ہو رخ ِ سحر کی طرح تمہاری رات ہو روشن شبِ قمر کی طرح کوئی پوچھے جو جنت کا تو یہ کہہ سکو ہنس کر وہ بھی خوب جگہ ہے ہمارے گھر کی طرح

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.