Everything posted by zainkan
-
ان پیج کی کارآمد ٹپ
Thanks a lot ... This is specially for me.....
- Parvaz hai dono ke esi aik fiza me
-
ماں کی گود
ماں کی گود قادسیہ کی وادی میں جہاں ایک بڑا دریا بہتا ہے دو چھوٹی چھوٹی ندیاں باہم ملنے پر یوں گویا ہوئیں. پہلی بولی “کہو سہیلی راستہ کیسے کٹا تمہارا” دوسری نے کہا. “بہن میرا راستہ تو بہت ہی خراب تھا. پن چکی کا پہیہ ٹوٹا ہوا تھا اور چکی والا بوڑھا جو راستہ کاٹ کر مجھے اپنے کھیتوں میں لے جایا کرتا تھا مر چکا ہے. میں ہاتھ پاؤں مارتی جو دھوپ میں بیٹھے مکھیاں مارتے رہتے ہیں. ان کے کیچڑ سے پہلو بچاتی آرہی ہوں، مگر تمہاری راہ کیسی تھی؟ پہلی ندی بولی “میری راہ بلکل مختلف تھی. میں پہاڑوں پر سے اُچکتی ، شرمیلی بیلوں اور معطر پھولوں سے اُلجھتی چلی آرہی ہوں. چاندی کی کٹوریاں بھر بھر کر مرد اور عورتیں میرا پانی پیتے تھے اور چھوٹے چھوٹے بچے اپنے گلابی پاؤں میرے کنارے کھنگالتے تھے. میرے چاروں طرف قہقہے تھے اور رسیلے گیت تھے لیکن افسوس کہ بہن تیرا راستہ خوشگوار نہ تھا. “چلو جلدی چلو” دریا کی چیخ سنائی دی ، چلو چپ چاپ بڑھتے چلو مجھ میں سما جاؤ. ہم سمندر کی طرف جا رہے ہیں. آؤ میری گود میں پہنچ کر تم اپنی سب کوفت بھول جاؤ گی. خوشی اور غم کے تمام قصے خودبخود محو ہو جائیں گے. “آؤ کے ہم اپنے راستے کی تمام کلفتیں بھول جائیں گے. سمندر میں اپنی ماں کی گود میں پہنچ کر ہم سب کچھ بھول جائیں گے.”
-
انسان اور فطرت
ایک دن صبح میں بیٹھا فطرت پر غور کر رہا تھا کہ بادِ نسیم کا ہلکا سا جھونکا درختوں سے ہوتا ہوا میرے پاس سے گزر گیا. میں نے اس جھونکے کو ایک بھوے بھٹکے یتیم کی طرح آہیں بھرتے سنا ”اے بادِ نسیم تو کیوں آہیں بھرتی ہے؟” میں نے پوچھا بادِ نسیم نے جواب دیا ”اس لیے کہ میں شہر سے لوٹ کر آئی ہوں. جس کی سڑکیں سورج کی گرمی کی وجہ سے ابھی تک تپ رہی ہیں. محتلف بیماریوں کے جراثیم نرم و نازک پاکیزہ لباس کے ساتھ چمٹ گئے ہیں. کیا تم اب بھی آہیں بھرنے کا طعنہ دیتے ہو؟”. پھر میں نے پھولوں کے اشک آلود چہروں کی طرف دیکھا وہ آہستہ آہستہ سسکیاں لے رہے تھے.”اے حسین و جمیل پھولوں! تم کیوں روتے ہو؟” میں نے سوال کیا. ایک پھول نے اپنا نرم و نازک سر اٹھایا اور سرگوشی کے لہجے میں کہنے لگا. “ہم اس لیے روتے ہیں کہ ابھی کوئی شخص ہمیں توڑ کر لے جائے گا اور شہر کی کسی منڈی میں فروخت کر دے گا”. پھر میں نے ندی کو بیوی کی طرح آہ زاری کرتے سنا جیسے وہ اپنے اکیلے بچے کی موت پر ماتم کر رہی ہو “اے پاکیزہ ندی بھلا تو کیوں رو رہی ہے”؟ میں نے ہمدردی سے سوال کیا. یہ سن کر ندی نے کہا “میں اس لیے رو رہی ہوں کہ انسان نے مجھے شہر جانے پر مجبور کر دیا ہے. وہ مجھے گندی نالیوں میں ڈال کر میری پاکیزگی کو ملوث کرتا ہے اور میری صفائی قلب کو نجاست سے گندہ کرتا ہے”. پھر میں نے پرندوں کو آہیں بھرتے سنا پھر میں نے پوچھا “اے پیارے پرندوں تمہیں کیا دکھ ہے؟ تم کیوں آہیں بھرتے ہوِ اُن میں سے ایک پرندہ اُڑ کر میرے پاس آیا اور کہنے لگا! “یہ ابن آدم ابھی مسلح ہتھیاروں سے لیس ہو کر میرے اس کھیت میں آئیں گے اور اس طرح ہم پر حملہ آور ہوں گے جیسے ہم سچ مچ ان کے دشمن ہیں ہم اس وقت ایک دوسرے کو الوداع کہہ رہے ہیں کیوں کی ہمیں پتہ نہیں کہ کون شام کو صحیح سلامت گھر لوٹے گا اور کون موت کا شکار ہو گا. ہم جہاں جاتے ہیں موت ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتی” اب پہاڑوں کے پیچھے سورج طلوع ہو رہا ہے اور درختوں کی چوٹیوں پر اپنی سنہری کرنوں کو بکھیر رہا ہے. میں نے سراپا حُسن کی طرف دیکھا اور کہا “جس چیز کو دست قدرت نے جنم دیا ہے. انسان اُس کو کیوں برباد کر رہا ہے؟”.
-
اے وطن کے سجیلے جوانو
اے وطن کے سجیلے جوانو!!! فوج کے بارے میں جب بھی کوئی سنتا، پڑھتا، لکھتا یا بولتا ہے تو دو چار لطیفے ہیں جوذہن میں گھوم جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر بھلے لوگ کہتے ہیں کہ “فوجیوں کے دو ہی اصول ہیں: پہلا یہ کہ جو شے ساکن ہو اس پر چونا پھیر دو جبکہ جو متحرک دکھے اسے سیلوٹ ٹھوک دو۔”اہل زبان سے معافی ان الفاظ کے لئے، کہ یہ الفاظ کچھ اتنے اچھے نہیں ہیں، جیسے چونا “پھیر” دینا اور سیلوٹ “ٹھوک” دینا، لیکن کیا کیجیے لطیفے کا اصل لطف یہی ہیں۔ نچلی رینک کے سپاہیوں کو ملاحظہ کیجیے، وہ سویرے تڑکے کے بیچ اٹھتے ہیں اور “ڈرل” کے لیے بھاگم بھاگ شروع کر دیتے ہیں۔ ناشتے میں نہ جانے کیا کھاتے ہوں گے لیکن بعد میں انھیں منہ کی کھانی پڑتی ہے۔ منہ کی ایسے کہ ڈرل سے چھوٹے تو پریڈ اور پھر ایسی دوسری مصروفیات سے فارغ ہوتے ہی ان کا “اصل” کام شروع ہوتا ہے۔ حکم ملتا ہے، آپ گڑھے کھودیے، گڑھے کی تہہ پر چونا ڈال کر پھر بھر دیجیے۔ گملوں پر چونا پھیریے۔ ٹرکوں، جیپوں وغیرہ کے ٹائروں کو چمکا کر ایک بار پھر چونا پھیر دیں۔ درختوں کے تنوں کو ناپ کے حساب سے ٹھیک تین فٹ اونچائی تک گولائی میں چونا پھیرتے جائیے۔ سڑکوں، راستوں اور پگڈنڈیوں کے دونوں کناروں پر چونا ایسے پھیریے کہ ان پر پھرنے والا یہ سمجھے وہ ناک کی “سیدھ” میں پھر رہا ہے۔ اس کے علاوہ جہاں آپ کو اس روز کے لیے تعینات کیا گیا ہے، وہاں بت بن کر کھڑے رہیے اور جب بھی کوئی پاس سے گذرے، چٹاخ سے سیلوٹ “ٹھوک” دیں۔ سیلوٹ ایسی ہونی چاہیے کہ آپ کا ہاتھ، آپ کا ماتھا ٹھونکے اور بوٹوں کی دھمک گذرنے والے کا دماغ شل کر جائے ۔ آپ کی بندوق فوجی افسر کو یاد دلائے کہ وہ “فرعون” ہے اور عام شخص کو یہ بندوق ایسے ڈرائے کہ جیسے موت۔ سیلوٹ کا نتیجہ کچھ ایسے برآمد ہونا چاہیے کہ گذرنے والا اپنے دفتر اور کام تک پہنچتے پہچنتے کسی سدھ بدھ کا نہ رہے۔ میری ناقص رائے میں اکثر فوجی افسران کے دماغ کا سوچنے اور پھر درست انداز میں کام کرنے سے عاری ہونے کا یہی سبب ہے۔ بس ایسی ہی کچھ اور مصروفیات کے بعد یہ نچلی رینک کے اصحاب سوچتے ہوں گے کہ انھیں دن بھر منہ کی کھانی پڑی ہے۔ بھلا یہ کیسا دن تھا، امید ہے ان میں سے اکثر اپنی ان بیوقوفیوں پر ہنستے بھی ہوں۔ فوجی افسران بھی ایسا ہی کرتے ہیں لیکن ان کا حال تھوڑا مختلف ہوتا ہے۔ وہ سوچنے کے قابل تو تب ہی نہیں رہتے جب ایبٹ آباد کی فوجی اکیڈمی میں داخل ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ جب صبح صبح آٹھ دس چوندی چوندی سیلوٹوں کی دھمک ان کے دماغ تک پہنچتی ہے۔ اس کے بعد وہ جو بھی کرتے ہیں اپنے کام اور قوم کو چونا پھیرنے اورباقیوں کا دماغ ٹھوکنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ سمجھنے کے لیے کوئی بھی اچھی سی غیرجانبدار تاریخ پاکستان کا مطالعہ کیجیے۔ مجھے شرمندگی ہے کہ اس لطیفے سے کئی دوستوں کی دل آزاری ہوئی ہو گی۔ مجھے اس کا بھی دکھ ہے کہ یہ حقیقت ہے اور مجھے سب سے زیادہ افسوس فوجیوں کے اس رویے کا اس دن ہوا تھا جب زلزلے کے تیسرے دن معمولی بات پر تو تو میں میں ہوئی اور ایک لیفٹینیٹ نے کرنل کو مخاطب کیا اور میرے بھائی کی جانب اشارہ کرتے ہو کہا، “سر! اس کو اتنی تمیز نہیں کہ ایک فوجی افسر سے کیسے بات کی جاتی ہے؟” کرنل نے گردن کا سریا گھمایا تھا اور میرے بھائی نے ترکی بہ ترکی جواب دیا، “کرنل صاحب ! آپ کے جوانوں کو اتنی تمیز نہیں کہ سویلین سے کیسے بات کی جاتی ہے؟”۔ یہ واقعہ ایک خلا کو ظاہر کرتا ہے، یہ اس دیوار کو ظاہر کرتا ہے جو ہم کیڑے مکوڑے “سویلین” اور سیاست کے جرنیلوں نے اپنے فرعون “جوانوں” کے بیچ کھینچ رکھی ہے۔ جتنا افسوس مجھے تب ہوا تھا اس سے بڑھ کر مجھے خوشی کل ہوئی ہے۔ ایبٹ آباد کے فوجی ہسپتال میں فوجی جوانوں اور فوجی میڈیکل سٹاف کا رویہ نہایت قابل تحسین تھا۔ وہ نہایت مہذب انداز میں پیش آتے ہیں اور آپ کو حتی المکان سہولت فراہم کرتے ہیں اور تعجب خیز بات یہ ہے کہ اسی معاملے میں ایسا رویہ عوامی ہسپتالوں میں ناپید ہے۔ عوامی ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کا اکثریت رویہ درست ہوتا ہے لیکن باقی کے لوگ جیسے ڈسپنسر، نرسیں، قاصدین، خاکروب اور سیکورٹی کے افراد کچھ ایسا قابل تعریف رویہ روا نہیں رکھتے۔ سیاست کے جرنیل اور بندوق کی نال میں بندھے فوجی جوان بھی انسان ہیں، وہ بھی سوچتے ہیں لیکن کیا سوچتے ہیں؟ اس کا ثبوت ہماری تاریخ ہے۔ ہمارے اداروں کی دیواریں پھلانگتے فوجیوں کی وثق میں موجود تصاویر ہیں اور ایوان اقتدار میں بیٹھے رہے فرعون ہیں۔ ویسے ہمارے “سویلین” حکمران بھی کسی سے کم نہیں اور بس ایسے سمجھیے کہ اسی موقع پر بالا سطور میں بیان کیا گیا لطیفہ المیہ بن جاتا ہے جب میں سیاستدانوں کے قافلوں میں آگے پیچھے بندوق والوں کو دیکھتا ہوں۔ ان بندوقوں کی نالوں اور گاڑیوں کے ہوٹروں نے سیاستدانوں کے دماغوں کو بھی ایسے ہی بند کر رکھا ہے جیسے فوجی بوٹوں کی دھمک اور چونا پھیرنے کی عادت نے سیاست کے جرنیلوں کے دماغوں کا تیاپانچہ کر چھوڑا ہے۔ جاتے جاتے ایک اور لطیفہ بھی سنتے جائیے”دنیا کے تقریبا تمام ممالک کو فوج دستیاب ہوتی ہے۔ پاکستان کا حساب دوسرا ہے، یہاں کی فوج کو ایک ملک دستیاب ہے!”
-
مُلا نصیرالدین کی حاضر جوابی
مُلا نصیرالدین کی حاضر جوابی ایک بار بہت برف باری ہو رہی تھی. کافی ٹھنڈ ہو گئی تھی. مُلا نصیرالدین کے دوستوں نے کہا کہ اس سردی میں تو کوئی بھی زندہ نہیں رہ سکتا اور رات کا کوئی ایک لمحہ بھی باہر نہیں گزار سکتا. مُلا نصیرالدین نے کہا کہ میں رات گھر سےباہر کھلے آسمان کے نیچے گزاروں تو کیا تم میرے سب گھر والوں کی دعوت کرنے کو تیار ہو. سب دوستوں نے کہا کہ مُلا پاگل ہو گیا ہے بھلا ایسی سردی میں کون باہر رات گزار سکتا ہے. دوستوں نے کہا کہ اچھا موقع ہے مُلا اپنے آپ کو ہم سے زیادہ عقلمند سمجھتا ہے. چلو شرط لگا لیتے ہیں بیچارہ اپنی جان کے پیچھے پڑگیا ہے ..مُلا نے کہا کہ اگر میں شرط جیت گیا تو تم سب کو میرے گھر والوں کی دعوت کرنی ہو گی ورنہ میں تم سب کی دعوت کروں گا اگر شرط ہار گیا. دوستوں نے کہا ہمیں منظور ہے.آخر وہ رات بھی آ گئی ملا قمیض شلوار میں گھر سے باہر جا بیھٹا. سب دوست اسکو ایک بند کمرے کی کھڑکی سے جھانک کر دیکھ رہے تھے. مُلا ساری رات سردی میں ٹہڑتا رہا آخر کوصبح ہو گئی..اب تو دوست بڑے حیران ہوئے اور کہا کہ ہم نہیں مان سکتے کہ ایسا ہو سکتا ہے. تم زندہ کیسے بچ سکتے ہو اس سردی میں تو ایک پل باہر نہیں رہا جا سکتا اور تم قیمض شلوار میں ساری رات بیھٹے رہے . مُلا نے کہا کہ بھئی تم سب شرط ہار گئے ہو اب بھاگو مت میری دعوت کرو. ایک دوست نے کہا کہ ملا تم جہاں تھے وہاں کوئی گرم چیز تھی کیا یاد کرو ملا نے کہا کہ نہیں کوئی چیز نہیں تھی. اب تم میری دعوت کرو..دوست نے کہا کہ یاد کروآس پاس کوئی ایسی چیز تھی. ملا نے ذہن پر زور دیا اور کہا کہ ہاں یاد آیا جہاں میں بیھٹا تھا وہاں پر ایک کھڑکی میں موم بتی جل رہی تھی. مگر اتنی سی موم بتی سے کیا ہوتا ہے. اب تو دوستوں کے ہاتھ جیسے ملا کی کمزوری آ گئی. دوستوں نے کہا کہ ہاں جب ہی تو ہم بولیں کہ تم آخر بچ کیسے گئے. اس موم بتی کی گرمی کی وجہ سے تم شرط ہار گئے ہو. مُلا اب تم ھماری دعوت کرو ہم نے کہا تھا کہ تمہارے پاس کوئی گرم چیز نہیں ہو گی. مگر تم ساری رات ایک موم بتی کی گرمی میں زندہ رہے ..ملا سے کوئی جواب نہ بن سکا اگلے دن سب دوست ملا کے گھر دعوت میں جمع ہوئے. مُلا نے کہا کہ بیھٹو یاروں ابھی کھانا پک کر تیار ہو جاتا ہے دوست کافی دیر بیٹھے رہے اور انتظار کرتے رہے مگر کھانا نہیں آیا. دوستوں نے کہا کہ مُلا ابھی کتنی دیر اور ہے. مُلا نے کہا کہ بس تھوڑی دیر اور دوستوں نے کچھ دیر اور انتظار کیا جب کھانا نہیں آیا تو دوستوں نے کہا کہ تم ہم سب کو بیوقوف بنا رہے ہو بھلا کھانے میں اتنا ٹائم لگتا ہے. دکھاؤ ہم کو کھانا کہاں بن رہا ہے ہم بھی تو دیکھیں. مُلا سب کو اپنے باورچی خانے میں لے گیا دوستوں نے دیکھا کہ ایک بہت بڑا پیتلا رکھا ہوا ہے اور اس کے نیچے ایک موم بتی جل رہی ہے. دوستوں نے یہ دیکھا تو کہا کہ ابے مُلا کبھی اس موم بتی سے بھی کھانا بنتا ہے. پاگل تو نہیں ہو گیا کیا؟ مُلا نے کہا کہ جب موم بتی سے انسان بچ سکتا ہے تو کھانا نہیں بن سکتا. یہ بات سن کر سب دوست بہت شرمندہ ہوئے اور اگلے دن سب نے مُلا کےگھر والوں کی دعوت کی سب مُلا کی اس حاضر جوابی سے بڑے متاثر ہوئے…..
-
برصغیر کے نامور شاعر اور سفر نامہ نگار ابن 
برصغیر کے نامور شاعر اور سفر نامہ نگار ابن انشاء اردو شعر و ادب میں بے پناہ شہرت پانے والے ابنِ اِنشاء کا اصل نام شیر محمد تھا۔ آپ 15 جون 1927 ء کو ہندوستان کے ضلع لدھیانہ کی تحصیل پھلور کے گاوٴں تھلہ کے ایک راجپوت گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد کا نام منشی خان تھا۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے گاوٴں کے سکول میں حاصل کی۔ گاوٴں سے کچھ فاصلے پر واقع اپرہ قصبہ کے مڈل سکول سے مڈل اور 1941ء میں گورنمنٹ ہائی سکول لدھیانہ سے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور اول پوزیشن حاصل کی۔ اس زمانے میں “نوائے وقت” ہفتہ وار اخبار کی شکل میں شائع ہوتا تھا۔ ابنِ اِنشاء کی حمید نظامی سے خط کتابت تھی لہٰذا انہوں نے ایک خط میں مجید نظامی مرحوم سے لاہور آ کر “نوائے وقت” میں ملازمت اختیار کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ حمید نظامی نے مشورہ دیا کہ تمہیں مزید تعلیم حاصل کرنی چاہئے ۔ چنانچہ ان کے کہنے پر ابنِ اِنشاء لاہور آ گئے اور اسلامیہ کالج لاہور میں فرسٹ ایئر میں داخلہ لے لیا مگر تین مہینے کے مختصر قیام کے بعد وہ تعلیم ادھوری چھوڑ کر لدھیانہ چلے گئے ۔ بعد ازاں لدھیانہ سے انبالہ آ گئے اور ملٹری اکاوٴنٹس کے دفتر میں ملازمت اختیار کر لی لیکن جلد ہی یہ ملازمت بھی چھوڑ دی اور دلی چلے گئے ۔ اس دوران میں آپ نے ادیب فاضل اور منشی فاضل کے امتحانات پاس کرنے کے بعد پرائیویٹ طور پر بی اے کا امتحان پاس کر لیا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہیں اسمبلی ہاؤس میں مترجم کی حیثیت سے ملازمت مل گئی۔ بعد ازاں آل انڈیا ریڈیو کے نیوز سیکشن میں خبروں کے انگریزی بلیٹن کے اردو ترجمے پر مامور ہوئے اور قیام پاکستان تک وہ آل انڈیا ریڈیو ہی سے وابستہ رہے ۔ پاکستان بنا تو اپنے اہل خانہ کے ساتھ ہجرت کر کے پاکستان آ گئے اور لاہور میں سکونت اختیار کی۔ 1949ء میں وہ ریڈیو پاکستان کراچی کے نیوز سیکشن سے بطور مترجم منسلک ہو گئے ۔ اس دوران ابن اِنشاء کو اپنی ادھوری تعلیم مکمل کرنے کا خیال آیا تو انہوں نے اردو کالج کراچی میں 1951ء میں ایم اے اردو کی شام کی جماعتوں میں داخلہ لے لیا اور 1953ء میں ایم اے کا امتحان اعزاز کے ساتھ پاس کیا اور کراچی یونیورسٹی میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ ایم اے کرنے کے بعد انہوں نے ڈاکٹریٹ کیلئے تحقیقی کام کرنے کا بیڑہ اٹھایا اور اس سلسلے میں کافی تگ و دو کے بعد انہیں مارچ 1954ء میں مقالے کیلئے عنوان۔ (Tradition of nazm to the exclusion of ghazal in urdu poetry a historical critical survay from the earliest time to date) یعنی “اردو نظام کا تاریخی و تنقیدی جائزہ (آغاز تا حال) تفویض ہوا اور مولوی عبدالحق ان کے نگران مقرر ہوئے مگر بدقسمتی سے وہ اپنے اس مقالے کو مکمل نہ کر سکے کچھ عرصہ کراچی میں گزارنے کے بعد آپ لاہور تشریف لے آئے ۔ آپ کی بھرپور ادبی زندگی کا آغاز لاہور ہی سے ہوا۔ لاہور میں آپ کی رہائش ایبٹ روڈ کے قریب واقع تھی۔ 1941ء میں ابنِ اِنشاء کی شادی لدھیانہ میں عزیزہ بی بی سے ہوئی عزیزہ بی بی سے ابنِ اِنشاء کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہوئی بعد ازاں گھریلو ناچاقی کے سبب عزیزہ بی بی اور ابنِ انشاء میں علیحدگی ہو گئی مگر طلاق نہ ہوئی لہٰذا عزیزہ بی بی نے باقی تمام عمر ان کی بیوی کی حیثیت ہی سے زندگی بسر کی۔ 1969ء میں آپ نے دوسری شادی کی دوسری بیگم کا نام شکیلہ بیگم تھا۔ دوسری بیوی سے آپ کے دو بیٹے سعدی اور رومی پیدا ہوئے ۔ آپ نے کچھ عرصہ نیشنل بک فاوٴنڈیشن کے سربراہ کی حیثیت سے بھی خدمات سر انجام دیں۔ بالآخر ادبی افق پر روشن اس درخشاں ستارے نے 11 جنوری 1978ء کو لندن میں داعی اجل کو لبیک کہا. آپ نے سکول ہی کے زمانے میں شعر کہنا شروع کر دیا تھا اور شیر محمد کے ساتھ “مایوس صحرائی” تخلص اختیار کیا مگر بعد ازاں اپنے فارسی کے استاد مولوی برکت علی لائق کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے “مایوس صحرائی” کو ترک کرکے “قیصر” تخلص اختیار کیا۔ بعد ازاں 1945ء میں “ابنِ اِنشاء” کا قلمی نام اختیار کر لیا اور پھر اس نام سے شہرت و مقبولیت حاصل کی۔ ابنِ اِنشاء ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے ۔ انہوں نے غزل و نظم، سفر نامہ، طنز و مزاح اور ترجمے کے میدان میں طبع آزمائی کی اور اپنی شاعری و نثر کے وہ اَنمٹ نقوش چھوڑے کہ جن کی بنا پر اردو ادب میں ان کا نام ہمیشہ ہمیشہ کیلئے زندہ جاوید ہوگیا۔ آپ کی شعری و نثری تخلیقات کی تفصیل کچھ یوں ہے ۔ شاعری (چاند نگر 1955ء اس بستی کے اک کوچے میں 1976 ء اور دلِ وحشی 1985 ء) طنز و مزاح (اردو کی آخری کتاب 1971، خمارِ گندم 1980ء ) سفر نامے (چلتے ہو تو چین کو چلئے 1967، دنیا گول ہے 1972، ابنِ بطوطہ کے تعاقب میں 1974 ء اور نگری نگری پھرا مسافر 1989) تراجم (اندھا کنواں اور دیگر پر اسرار کہانیاں (ریڈ گرایلن پو کی کہانیاں) مجبور (چیخوف کے ناول کا ترجمہ) ۔ لاکھوں کا شہر (اوہنری کے افسانوں کا مجموعہ)۔ شہر پناہ (جان سٹین بک کا ناول THIS MOON IS DOWN ) چینی نظمیں ایڈ گرایلن پو کے افسانوں کے ترجمے، سانس کی پھانس، وہ بیضوی تصویر، چہ دلاور است دزدے، عطر فروش دوشیزہ کے قتل کا معمہ، ولہلم بش کے جرمن قصے کا ترجمہ (قصہ ایک کنوارے کا) بیرنن منش ہاوٴزن جرمن گپ باز کے کارناموں کا ترجمہ (کارنامے نواب تیس مار خان کے ) بچوں کا ادب (تارو اور تارو کے دوست۔ بچوں کی جاپانی کہانی کا اردو ترجمہ از کیکو مورایا۔ (شلجم کیسے اکھڑا بچوں کیلئے ایک پرانی روسی کہانی کا ترجمہ) طویل نظم، یہ بچہ کس کا بچہ ہے ؟ قصہ دْم کٹے چوہے کا بچوں کیلئے منظوم کہانی، میں دوڑتا ہی دوڑتا LOOK AT THIS CHILD (یہ بچہ کس کا بچہ ہے کا انگریزی ترجمہ) 1965ء کی جنگ سے متعلق مضامین کا مجموعہ، برف کی پوٹلی “اختر کی یاد میں” معروف صحافی محمد اختر کی وفات پر لکھے جانے والے مضامین اور تعزیت ناموں کا مجموعہ اور شاہ عبداللطیف بھٹائی کی سندھی شاعری کا اردو ترجمہ بھی آپ نے کیا۔ ابنِ اِنشاء کا تعلق ترقی پسند شعراء کی اس قبیل سے تھا جو اشتراکیت سے زیادہ سوشلزم کے حامی تھے ۔ مگر اس کے باوجود ان کی غزل پر کسی قسم کی چھاپ دکھائی نہیں دیتی۔ نظم ہو یا غزل ہر میدان میں ان کی شاعری لازوال ہے ۔ ان کے ہاں انسان کے معاشی اور سیاسی عدم استحکام کی جھلک اور کسک بھی ہے اور ایک عجیب پر اسرار رومانی ماحول بھی۔ یہ دونوں تجربے ان کی شاعری میں ساتھ ساتھ چلتے ہیں کبھی حسن سے لگاوٴ حد سے تجاوز کر جاتا ہے اور کبھی زندگی اپنی حد امکان سے زیادہ عزیز معلوم ہونے لگتی ہے ۔ ان کی نظموں پر مغربی شاعری اور ترقی پسندی کا غلبہ ہے جب کہ ان کی غزل مروجہ اصول و ضوابط کی پابند ہے وہ اپنی غزل میں میر سے بے حد متاثر نظر آتے ہیں لیکن ان کی شاعری میں رنگ میر کی تقلید کے ساتھ ساتھ نازک، شگفتگی اور ندرت اظہار بھی ہے ۔ انہوں نے میر کی تقلید کے باوجود اپنی غزل کو اپنے ماحول اور معاشرے سے ہم آہنگ کرتے ہوئے اپنے لئے ایک نئی راہ نکالی ہے اپنی اس خوبی کی بنا پر وہ اپنے دیگر ہم عصروں میں نمایاں مقام کے حامل ہیں۔ ہندی کے الفاظ کے استعمال نے ان کے کلام میں وہ چاشنی اور جاذبیت پیدا کر دی ہے کہ ان کے شعر سنتے ہی دل میں اتر جاتے ہیں اور قاری کو ان کی بات اپنی بات معلوم ہوتی ہے ان کی شاعری ترقی پسندی اور رومانیت کا حسین امتزاج ہے جس میں نغمگی اور موسیقیت کا عنصر نمایاں ہے ۔ ابنِ انشاء کا نام ان خوش نصیبوں میں شامل ہے جنہوں نے اپنے پہلے مجموعے ہی سے لازوال شہرت حاصل کی۔ انسانی جذبات کی نزاکتوں اور دل کے معاملات کی عکاسی میں ابنِ انشاء غزل میں ممتاز مقام پر دکھائی دیتے ہیں۔ غزل کے علاوہ ان کی نظموں میں بھی وہ چاشنی اور جاذبیت ہے کہ پڑھنے یا سننے والا عش عش کر اْٹھتا ہے ۔ اس سلسلے میں ان کی مشہور زمانہ نظمیں اس بستی کے اِک کوچے میں، فروگزاشت، سب مایا ہے ، یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، سائے سے، جب عمر کی نقدی ختم ہوئی، اردو ادب میں ان کا نام زندہ رکھنے کیلئے بہت کافی ہیں۔ ابنِ اِنشاء نے دوسری زبانوں میں لکھے گئے افسانوں، ناولوں اور مضامین کے ترجمے بھی کئے اور سفر نامے اور مزاحیہ مضامین بھی تحریر کئے ان کے مزاحیہ مضامین ان کی نثر کی بھرپور نمائندگی کرتے ہیں۔ ان میں حسن مزاح کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی یہی وجہ ہے کہ ان کے مضامین میں ان کی حسِ مزاح اپنے عروج پر ہے ۔ ان کی زبان نہایت سادہ اور رواں ہے ۔ انہوں نے ایسے ایسے جملے لکھے ہیں کہ پڑھنے والا دیکھتا رہ جاتا ہے ۔ مزاح کے ساتھ ساتھ طنز کا عنصر بھی نمایاں ہے ۔ ان کا کمال یہ ہے کہ وہ اپنے اسلوب اور اپنے لہجے میں بات کرتے ہیں جو صرف انہی سے مخصوص ہے ان کی زبان کی سلاست اور سادگی ان کے ہاں ایک ایسی روانی کو جنم دیتی ہے جو قاری پر کسی صورت گراں نہیں گزرتی۔ طنز و مزاح کی جو بے ساختگی، برجستگی، والہانہ پن اور کسب کمال انہیں اردو کے دیگر مزاح نگاروں سے منفرد و ممتاز کرتی ہے ۔ ابنِ اِنشاء نے نثر کے کلاسیکی لہجے کو طنز و مزاح کے جدید اسلوب میں اسی طرح ڈھالا ہے کہ دونوں یک قالب و یک جان ہو گئے ہیں ان کی تحریروں میں بیان کی چاشنی کے ساتھ ساتھ عہد حاضر کے آلام و استحصال کی جھلک بھی ملتی ہے ۔ سفرنامے میں بھی انہوں نے روایت سے ہٹ کر ایسا اسلوب اپنایا ہے کہ جو قاری کو کسی صورت بور نہیں ہونے دیتا۔ ان کے سفر ناموں میں طنز و مزاح کی رنگین کرنیں ان کے اسلوب کو وہ تازگی اور شگفتگی عطا کرتی ہیں کہ جس کے باعث وہ اس میدان میں بے مثال ہیں افسوس کہ اْردو شعر و ادب کی یہ معروف شخصیت آج ہم میں نہیں مگر ان کی شعری اور نثری تخلیقات اردو ادب میں ان کا نام ہمیشہ زندہ رکھنے کیلئے کافی ہیں ۔
-
جادو کا موتی
جادو کا موتی ویت نام کے کسی گاؤں میں ایک شکاری رہتا تھا۔ اس کا نام ڈائزنگ تھا اور وہ اکیلا ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں رہتا تھا۔ ایک دن وہ شکار تلاش کر رہا تھا کہ اُسے ایک شکرا نظر آیا جو سانپ پر جھپٹنے ہی والا تھا۔ ڈائزنگ کو سانپ پر ترس آ گیا ۔اُس نے تیر سے شکرے کو مار گرایا۔ سانپ بھاگتے بھاگتے رک گیا پھن اُٹھا کر ڈائزنگ کو دیکھا اور پھر بولاٴٴتمہارا بہت بہت شکریہ ڈائزنگٴٴ۔ تم نے مجھ پر جو احسان کیا ہے۔ میَں اُس کا بدلہ دینا چاہتا ہوں۔ یہ لو۔ یہ جادو کا موتی ہے۔ اِسے زبان کے نیچے رکھو گے تو دنیا کے ہر جانور کی بولی کا مطلب سمجھ سکو گے، لیکن ایک بات یاد رکھنا اپنے اِس علم کو نیک کاموں میں استعمال کرنا۔ پھر اچانک سانپ غائب ہوگیا۔ اُسی وقت ڈائزنگ کو ایک پہاڑی کوے کی کائیں کائیں سنائی دی۔ اُس نے جادوئی موتی زبان کے نیچے رکھا اور کوے کی کائیں کائیں کی طرف کان لگا دئیے کوا کہہ رہا تھاٴٴیہاں قریب ہی ایک جھاڑی میں ایک موٹا تازہ ہرن بیٹھا ہے۔ اگر تم وعدہ کرو کہ اُس کی کلیجی مجھے دے دو گے تو میَں تمھیں اُس تک لے جاؤں گا۔ کوا ڈائزنگ کو اُس جھاڑی کے پاس لے گیا، ڈائزنگ نے تیر سے ہرن کو شکار کیا اُس کی کلیجی کوئے کو دی اور گوشت گھر لے گیا۔ پھر وہ کوے کے ساتھ مل کر شکار کرنے لگا۔ دونوں خوش تھے۔ ڈائزنگ کو شکار کے لیے زیادہ دوڑ دھوپ کرنی نہیں پڑتی تھی اور پہاڑی کوئے کو مفت میں کلیجی مل جاتی تھی۔ ایک دن کوے کو آنے میں دیر ہوگئی تو ڈائزنگ اکیلا ہی شکار کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ کچھ دیر بعد اُس نے ایک شکار مارا اور اُس کی کلیجی درخت شاخ پر رکھ دی کہ کوا آ کر کھا لے گا، لیکن وہ کلیجی کوئی دوسرا پرندہ کھا گیا۔ اتنے میں کوا کائیں کائیں کرتا ہوا آ گیا ۔ اُسے کلیجی نہیں ملی، تو اُس نے ڈائزنگ کو خوب بُرا بھلا کہا۔ ڈائزنگ کو غصہ آ گیا۔ اُس نے کمان میں تیر لگایا اور کوئے پر نشانہ لگایا۔ کوا اُچھل کر ایک طرف ہو گیا اور تیر کچھ دور جا کر زمین پر گر پڑا۔ کوا چیخ کر بولاٴٴپہلے تم نے وعدہ خلافی کی اور اب میری جان لینے کی کوشش کی ۔ تمھیں اِس کی سزا ملے گیٴٴ۔ یہ کہہ کر اُس نے تیر کو چونچ میں دبایا اور گائوں کی طرف اُڑ گیا۔ گائوں کے پاس ایک نہر تھی اُس نہر میں کسی آدمی کی لاش پڑی تھی۔ شاید ڈوب کر مرگیا تھا کوے نے ڈائزنگ کا تیر مردے کے جسم میں گھونپ دیا اور جنگل کی طرف اُڑ گیا۔ کچھ دیر بعد چند لوگ نہر کے پاس سے گزرے۔ اُنھوں نے نہر میں لاش دیکھی تو رک گئے لاش میں تیر لگا ہوا تھا۔ یہ تیر ڈائزنگ کا تھا۔ اُنھوں نے پولیس کو خبر کردی اور پولیس نے ڈائزنگ کو قتل کے الزام میں گرفتار کرلیا۔ اب بے چارہ ڈائزنگ جیل کی کال کوٹھڑی میں پڑا آہیں بھرتا رہا۔ اُس کوٹھڑی میں بس مکھی مچھر تھے یا پسو اور چوہے جو اِدھر اُدھر دوڑتے پھرتے تھے۔ ڈائزنگ نے سوچا چلو اُنہی کی باتیں سن کر وقت گزاروں۔ اب وہ صبح ہوتے ہی جادوئی موتی زبان کے نیچے رکھ لیتا اور اُن جانوروں کی باتیں سنتا۔ ایک صبح ایک چڑیا دوسری چڑیا سے کہہ رہی تھی ٴٴاُس ملک کا بادشاہ بہت بے وقوف ہے۔ اُس کے غلے کے گودام سے روز رات کو چور چاولوں کی بوریاں چرا کر لے جاتے اگر یہی حال رہا تو چند دنوں میں سارا گودام خالی ہو جائے گاٴٴ۔ ڈائزنگ نے جیلر کو بلایا اور اُسے یہ بات بتائی۔ جیلر کو اُس کی بات کا یقین نہ آیا۔ اُس نے کہا تم کوئی جادو گر ہو کہ تمھیں یہاں بیٹھے بیٹھے چوری کی خبر مل گئی؟ ڈائزنگ بولا ٴٴمیری بات غلط ہو تو مجھے پھانسی دے دیناٴٴ۔ جیلر نے کوتوال سے بات کی کوتوال نے وزیر کو اطلاع دی اور وزیر نے یہ بات بادشاہ کو بتائی۔ اُسی رات بادشاہ کے سپاہیوں نے گودام پر چھاپہ مارا اور چوروں کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا گودام کے چوکیدار چوروں سے ملے ہوئے تھے وہ بھی پکڑے گئے۔ بادشاہ نے خوش ہوکر وزیر کو 100اشرفیاں دیں وزیر نے خوش ہوکر کوتوال کو 10اشرفیاں دیں۔ کوتوال نے خوش ہوکر جیلر کو ایک اشرفی دی۔ ڈائزنگ کو پھوٹی کوڑی بھی نہ ملی۔ چند دن بعد ڈائزنگ نے دیکھا کہ اُس کی کوٹھڑی کی چیونٹیاں باہر بھاگ رہی ہیں۔ ایک چیونٹی کہہ رہی تھی ٴٴچلو چلو کسی اونچی جگہ چلو۔ پہاڑوں پر موسلادھار بارشیں ہو رہی ہیں۔ سیلاب آنے والا یہ تمام گائوں کھیت اور کھلیان بہہ جائیں گےٴٴ۔ ڈائزنگ نے یہ بات جیلر کو بتائی۔ جیلر نے کوتوال کو بتائی کوتوال نے وزیر سے کہا اور وزیر نے بادشاہ کو بتایا۔ بادشاہ نے اسی وقت گاؤں گاؤں ہر کارے بھیج کر لوگوں کو خبردار کر دیا۔ لوگوں نے جلدی جلدی دریاؤں کے کنارے اونچے کئے اور کنکر پتھر ڈال کر پشتوں کو مضبوط کر دیا۔ اور اِس طرح سیلاب کا پانی بغیر کوئی نقصان پہنچائے گزر گیا۔ بادشاہ نے وزیر سے پوچھا ٴٴتمھیں یہ باتیں کون بتاتا ہے؟ٴٴ وزیر نے کہا کوتوال۔ کوتوال بولا جیلر اور جیلر بولا ڈائزنگ جو میری جیل میں قید ہے۔ بادشاہ نے اسی وقت ڈائزنگ کو بلایا اور اُس سے دریافت کیا کہ تمھیں یہ باتیں کیسے معلوم ہوتی ہیں؟ڈائزنگ نے سب کچھ سچ سچ بتا دیا۔ بادشاہ بہت خوش ہوا۔ اس نے ڈائزنگ کو اپنا وزیر بنا لیا۔ بادشاہ سلطنت کے کام کاج سے فارغ ہوتا تو ڈائزنگ کو لے کر کسی باغ یا جنگل میں چلا جاتا اور ڈائزنگ اسے مختلف جانوروں کی باتیں سناتا۔ بادشاہ بہت خوش ہوتا اور اُسے خوب انعام و اکرام دیتا۔ ڈائزنگ عیش و آرام میں ایسا مست ہوا کہ اپنے گاؤں کے اُن لوگوں کو بھی بھول گیا جو آڑے وقتوں میں اُس کی مدد کرتے تھے۔ ایک دن بادشاہ نے دریا کی سیر کا ارادہ کیا۔ پانی میں رنگ برنگ مچھلیاں تیر رہی تھیں اور ڈائزنگ اُن کی دلچسپ باتیں بادشاہ کو سنا رہا تھا اچانک ایک مچھلی نے کوئی ایسی بات کہی کہ جسے سن کر ڈائزنگ نے زور دار قہقہہ لگایا۔ اُس کا منہ کھلا تو موتی پانی میں گر پڑا۔ بادشاہ نے غوطہ خوروں کو حکم دیا کہ وہ پانی میں سے موتی نکال کر لائیں۔ غوطہ خوروں نے تمام دریا کھنگال ڈالا موتی کا کہیں پتا نہ چلا۔ بادشاہ کچھ دن اُداس رہا پھر اُس نے اپنی تفریح کا دوسرا سامان کر لیا اور ڈائزنگ کو محل سے نکال دیا۔ ڈائزنگ رنجیدہ ہو کر دریا کے کنارے بیٹھ گیا اور ریت میں موتی تلاش کرنے لگا، لیکن بے سود۔ اُسی طرح کئی دن گزر گئے۔ اُس کی کمر جھکے جھکے کبڑی ہوگئی۔ ہاتھ پائوں اکڑ گئے اب اُس سے کھڑا نہ ہوا جاتا تھا ۔ وہ کیکڑا بن گیا تھا۔ آپ کو کبھی جنوبی چین کے ساحلوں پر جانے کا اتفاق ہو تو آپ کو وہاں سینکڑوں چھوٹے چھوٹے کیکڑے اپنے پنجوں سے ریت کھودتے اور اس میں کچھ تلاش کرتے نظر آئیں گے لوگ کہتے ہیں کہ ڈائزنگ کی اولاد ہیں اور اُس موتی کو تلاش کر رہے ہیں جو سینکڑوں سال پہلے دریا میں گر گیا تھا۔
-
عقل مند گدھا
عقل مند گدھا جنگل کے بادشاہ ببر شیر نے چشمے کے کنارے والی چٹان کے نیچے گھنی جھاڑیوں سے جھانک کر دور تک پھیلے دھان کے لہلہاتے کھیت پر نظر ڈالی، بہت دور ایک درخت کے نیچے کوئی چیز ہلتی ہوئی نظر آرہی تھی، شہر نے پنجوں سے آنکھیں ملتے ہوئے دوبارہ اس طرف دیکھا، یقینا وہ کالا ہرن تھا، شیر رات سے بھوکا تھا۔ کالے ہرن کے لذیز گوشت کے تصور ہی سے اس کے منہ میں پانی آگیا اور ایک ماہر شکاری کی مانند جھاڑیوں کی آڑ لیتے ہوئے اس نے ہرن کی طرف قدم بڑھائے….دوسری طرف بانسوں کے جھنڈ میں ایک چیتا بھی ہرن پر نظریں جمائے ہوئے تھا۔ بھوک سے اس کے پیٹ میں بھی چوہے دوڑ رہے تھے۔ چیتے نے بھی ہرن کی طرف بڑھنا شروع کیا۔ ہرن دونوں طرف سے بڑھتے ہوئے خطروں سے بے خبر نرم نرم گھاس کھانے میں مشغول تھا. کبھی کبھی وہ اپنی بادام جیسی آنکھیں گھما کر ادھر ادھر دیکھتا اور پھر گھاس کھانے لگتا۔ جانور خطرے کی بو سونگھ لیتے ہیں۔ ہرن کی بے چین آنکھی ظاہر کر رہی تھیں کہ اس نے خطرے کی بو سونگھ لی ہے۔ اس نے کان کھڑے کر کے گردن گھما کر چشمے کی طرف دیکھا جہاں میدان میں دو ریچھ کے بچے کھیل رہے تھے، ابھی ہرن پہاڑ کی طرف رخ کرنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ مشرق اور جنوب سے شیر اور چیتے نے جھاڑیوں سے چھلانگیں لگائیں اور دونوں تیر کی طرح ہرن کی طرف لپکے، ہرن لمبی لمبی قلانچیں مارتا ہوا پہاڑوں کی طرف بھاگا۔ شیر اور چیتے کی رفتار کے مقابلے میں ہرن کی رفتار کم تھی، لیکن وہ اپنے ہلکے اور سڈول جسم کی وجہ سے ان دونوں کو غچہ دیتے ہوئے بھاگ رہا تھا، اس بھاگ دوڑ میں ان تینوں نے میلوں کا فاصلہ طے کر لیا، آخر کار ہرن ایک چٹان پر چڑھ گیا، جو اتنی اونچی تھی کہ اس پر شیر اور چیتا نہیں چڑھ سکتے تھے، شیر اور چیتا چٹان کے نیچے زبانیں نکالے ہانپ رہے تھے اور ہرن کو للچائی نظروں سے دیکھ رہے تھے، جب سانسیں درست ہوئیں تو شیر نے کہا۔ ”یہ میرا شکار ہے پہلے میں نے تاکا تھا“۔ چیتے نے غصے سے جواب دیا۔ ”آپ جنگل کے بادشاہ ضرور ہیں لیکن یہ جنگل ہے انسانوں کی دنیا نہیں کہ بادشاہ جو چاہے کرے، جانور اپنے حقوق کی حفاظت کرنا خوب جانتے ہیں۔ یہ میرا شکار ہے“۔ شیر دہاڑا: ”انسان ہو یا جانور‘ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون ہر جگہ چلتا ہے میں تم سے زیادہ طاقتور ہوں“۔ شیر اور چیتے کی تکرار سن کر ہرن نے اطمینان کا سانس لیا اور کہا ”میرے محترم بادشاہ ہو! یہ میری خوش نصیبی ہوگی کہ میں آپ جیسے شاہی خاندار کے افراد کی غذا بنوں، لیکن پہلے آاپ دونوں طے کر لیں کہ آپ میں سے کون میرا لذیذ گوشت نوش فرمائے گا“۔ شیر اور چیتا دوبارہ تکرار کرنے لگے، اسی دوران ادھر سے ایک گدھے کا گزر ہوا تو ہرن نے جھٹ سے مشورہ دیا ”میرے خیال سے آپ دونوں اس سلسلے میں گدھے صاحب سے مشورہ لے لیں، کیوں کہ مشورہ دینے کے لیے عقلمند ہونا ضروری نہیں“۔ شیر نے کہا ”چلو مجھے منظور ہے، وقت پڑنے پر گدھے کو بھی باپ بنانا پڑتا ہے“۔ چیتے نے گدھے کو حکم دیا ”گدھے کے بچے! ادھر آﺅ….“ گدھا پہلے تو ڈرا کہ کہیں یہ دونوں اسے ہی ہڑپ نہ کر لیں، پھر ڈرتے ڈرتے دانت نکالتا ہوا ان کے قریب آیا اور جب اس نے پورا قصہ سنا تو خوشی سے مشورہ دیا ”ہاں تو شیر صاحب آپ کا دعویٰ ہے کہ آپ نے ہرن پر پہلے نظرِ بد ڈالی جب کہ چیتے صاحب کا دعویٰ ہے کہ ہرن کو دیکھ کر پہلے ان کی رال ٹپکی، کیوں کہ یہاں کوئی گواہ نہیں ہے اس لیے میرا مشورہ ہے کہ آپ دونوں اپنی اپنی جگہ تشریف لے جائیں اور جب میں رینکنا شروع کروں تو آپ دونوں دوڑنا شروع کر دیں جو بھی پہلے یہاں پہنچ جائے گا وہی ہرن میاں کو نوش فرمانے کا حق دار ہو گا“۔ شیر اور چیتا بھوک سے بے تاب تھے، لیکن دونوں کو اپنی تیز رفتاری پر ناز تھا اس لیے انہوں نے گدھے کی تجویز مان لی اور یہ طے ہوا کہ دونوں اپنی اپنی جگہ لوٹ جائیں گے اور اس دوران ہرن صاحب چٹان سے اتر کر نہا دھو کر ان میں سے ایک کی خوراک بننے کے لیے میدان میں کھڑے ہو جائیں گے اور جیسے ہی گدھے صاحب اپنی بے سری آواز میں رینکنا شروع کردیں گے، دوڑ شروع ہوجائے گی۔ شیر اور چیتا اپنی اپنی جگہ واپس چلے گئے، جب کافی دیر تک گدھے کے رینکنے کی آواز نہ آئی تو دونوں کا ماتھا ٹھنکا، پہلے تو انہوں نے ایک دوسرے کو گھورا، پھر چٹان کی طرف دوڑنا شروع کیا، جب وہ چٹان کے نزدیک پہنچے تو دیکھا وہاں چاروں طرف ویرانی اور سناٹا تھا۔ ہرن کا کہیں پتا نہ تھا اور گدھے کے سر سے سینگ ہی نہیں پورا گدھا غائب تھا۔ شیر نے غصہ سے چیخ کر کہا۔ ”اس گدھے کے بچے نے ہمیں دھوکا دیا“۔ چیتے نے سر جھکا کر افسوس سے کہا۔ ”شیر صاحب! گدھا وہ نہیں ہم دونوں ہیں“۔
-
~!~ Shadi aur kanwara pan ~!~
انور مسعود کی مزاحیہ پنجابی شاعری اج کہیہ پکائیے ! چوہدری: اَج کہیہ پکائیے دس تیراکہیہ خیال اے رحماں: میں کہیہ خیال دساں میریکہیہ مجال اے چوہدری: رحمیاں چل اَج فیر چسکے ای لا لئیے لبَھ جان چنگیاں تے بھنڈیاں پکا لئیے رحماں: واہ واتُساں بُجھیاں نیں دلاں دیاں چوریاں میرا وی ایہہ دل سی پکائیے اج توریاں لُونواں والی بھِنڈی ہووے پوٹا پوٹا لمی ہووے ہری تے کچُور ہووے سوہنی ہووے کولی ہووے وچ ہون بکرے دی پُٹھ دیاں بوٹیاں نال ہون چھنڈیاں تندور دیاں روٹیاں مکھنے دا پیڑا ہووے لسی دا پیالہ بھِنڈیاں دے نخرے تے گرم مصالحہ ہووے بھنڈیاں بنانا وی تے کوئی کوئی جاندا رنھناں پکانا وی تےکوئی کوئی جاندا اُٹھاں فیر چوہدری پھڑاں میں تیاریاں بھنڈیاں بناواں اج رج کے کراریاں چوہدری: رحمیاں ہزار ہون مزیدار بھنڈیاں ہوندیاں نے کُجھ ذرا لیس دار بھِنڈیاں رحماں: دفع کرو چوہدری جی سبزیاں دی تھوڑ اے سانوں ایہہ لسُوڑیاں پکان دی کی لوڑ اے بندہ کاہنوں بھنڈیاں دی لیس دی ہواڑ لَئے ایہدے نالوں پَولی دی سریش بھانویں چاہڑ لَئے چوہدری : فیر کہیہ خیال اے تیرا جھڑی نہ منا لَئیے جے تو آکھیں رحمیاں کریلے نہ پکا لئَیے رحماں: ریس اے کوئی چوہدری جی آپ دے خیال دی جمی اے کوئی سبزی کریلیاں دے نال دی ڈِھڈ وچ اِنج جویں لو لگ پئی اے تساں گل کیتی اے تے رال واگ پئی اے سچ پچھو چوہدری جی ایہو میری راء اے مینوں وی چروکناں کریلیاں دا چاء اے چوہدری جی ہووے جے کریلا چنگا پلیا وچ ہووے قیمہ اُتے دھاگہ ہووے ولیا گنڈھیاں ٹماٹراں دے نال ہووے تُنیاں فیر ہووے گھر دے گھہیو وچ بھُنیا فیر کوئی چوہدری جی اُوس دا سواد اے پار وی پکایا سی تُوانوں وی تے یاد اے چوہدری : ہوربیبا مینوں ایہدی مینوں ہر گل بھاؤندی رحمیاں کریلیاں وچ کوڑ ذرا ہوندی اے رحماں: دفع کرو زہر تے چریتا مینوں لگدا ئے نِم تے دھریک دا بھراں مینوں لگدائے پلے پلے دنداں جیِبھ پئی سکدی کھا مر لئی تے تریہہ نیں مکدی تُمے دیاں گولیاں کریلیاں تو پھکیاں اینہاں نالوں چاہڑ لو کونین دیاں ٹکیاں چوہدری: رحمیاں فیر انج کر تُوں کوئی راء دے پُچھیں تے بتاؤنواں دا وی اپنا سواد اے رحماں: رب تہاڈا بھلا کرے کِڈی سوہنی گل اے ایہو جیئے ذائقے والا ہور کہیڑا پھل اے کالے کالے لشکدے تے گول مول چاہڑ لو چوہدری جی لون تے وتاؤں چًول چاہڑ لوں چوہدری: رحمیاں پکانے نوں تے جی بڑ کردائے بُھٹیاں دی گرمی تو جی ذرا ڈر دائے رحماں: سچ اے جی چوہدری جی ڈھڈ کاہنوں بالنا کھان والی چیز اے کوئی وینگناں دا سالنا بھٹھیاں دے ڈک وچ سُٹنے ضرور نے کاہنوں پَے بھخائے ، ساڈے ڈھڈ کوئی تندور نیں دفع کروبھٹھیاں نوں بَھٹھے کاہنوں ساڑیئے حبشیاں نوں چوہدری جی گھر کاہنوں واڑئیے کالیاں دے نال کاہنوں مارئیے اُڈاریاں ساڈیاں تےہیں امریکہ نال یاریاں چوھدری : وَدھ وَدھ بولناایں ایویں بڑبولیا سبزیاں توں جا تُوں سیاستاں نوں پھولیا دوجے دی وی سُن کجھ دوجے نوں وی کہن دے حکومتاں دی گل توں حکومتاں تے رہن دے چنگا فیر بُجھ میرا کی خیال اے ؟ رحماں: بُجھ لئی چوہدری جی چھولیاں دی دال اے
-
~!~ Shadi aur kanwara pan ~!~
اطہر شاہ خاں* مسٹر جیدی اطہر شاہ خان 1943ء میں برطانوی ہندوستان کے شہر رام پور میں پیدا ہوئے۔ خاندانی لحاظ سے اخون خیل پٹھان ہیں۔ آپ پاکستانی ڈرامہ نگار، مزاحیہ و سنجیدہ شاعر اور اداکار ہیں۔ اپنے تخلیق کردہ مزاحیہ کردار “جیدی” سے پہچانے جاتے ہیں۔ اصلی نام اطہر شاہ خان ہے۔ مزاحیہ شاعری میں بھی “جیدی” تخلص کرتے ہیں۔ پاکستان ٹیلی وژن کے پیش کردہ مزاحیہ مشاعروں کے سلسلہ “کشت زعفران” سے مزاحیہ شاعری میں مقبولیت حاصل کی۔ تخلیقی کام اطہر شاہ خان نے ٹیلی وژن اور سٹیج پر بطور ڈرامہ نگار اپنے تخلیقی کام کا آغاز کیا۔ آپ کے تحریر کردہ مزاحیہ ڈراموں نے بےپناہ مقبولیت حاصل کی۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں اطہر نے بتایا کہ وہ ایک دفعہ اپنے ہی ایک ڈرامے کے ایک اداکار کے ساتھ موٹر سائیکل پر سفر کر رہے تھے کہ سواری میں کوئی نقص پیدا ہو گیا، جب اسے ٹھیک کرنے کیلئے رکے تو لوگوں نے اداکار کو پہچان لیا لیکن مصنف (یعنی اطہر شاہ خان) کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا۔ بقول اطہر شاہ خان کے اس واقعہ نے انہیں اداکاری پر مائل کیا جس کے نتیجہ میں جیدی کا کردار تخلیق ہوا۔ جیدی کے کردار پر مرکوز پاکستان ٹیلی وژن کا آخری ڈرامہ “ہائے جیدی” 1997ء میں پیش کیا گیا۔ نمونۂ کلام ویسے تو زندگی میں کچھ بھی نہ اس نے پایا جب دفن ہو گیا تو شاعر کے بھاگ جاگے وہ سادگی میں ان کو دو سامعین سمجھا بس آٹھویں غزل پر منکر نکیر بھاگے ********* یارب دل جیدی میں ایک زندہ تمنا ہے تو خواب کے پیاسے کو تعبیر کا دریا دے اس بار مکاں بدلوں تو ایسی پڑوسن ہو “جو قلب کو گرما دے اور روح کو تڑپا دے” مزاحیہ کلام اطہر شاہ خاں* مسٹر جیدی ::: چار بیویاں ::: بیویاں چار ہیں اور پھر بھی حسینوں سے شغف بھائی تو بیٹھ کے آرام سے گھر بار چلا اجرت عشق نہیں دیتا نہ دے بھاڑ میں جا لے ترے دام سے اب تیرا گرفتار چلا سنسنی خیز اسے اور کوئی شے نہ ملی میری تصویر سے وہ شام کا اخبار چلا یہ بھی اچھا ہے کہ صحرا میں بنایا ہے مکاں اب کرائے پہ یہاں سایۂ دیوار چلا اک اداکار رکا ہے تو ہوا اتنا ہجوم مڑ کے دیکھا نہ کسی نے جو قلمکار چلا چھیڑ محبوب سے لے ڈوبے گی کشتی جیدی آنکھ سے دیکھ اسے ہاتھ سے پتوار چلا
-
~!~ Shadi aur kanwara pan ~!~
جب سے بیگم نے مجھے مرغا بنا رکھا ہے میں نے نظروں کی طرح سر بھی جھکا رکھا ہے برتنو!آج میرے سر پہ برستے کیوں ہو میں نے دھو دھا کے تمہیں کتنا سجا رکھا ہے پہلے بیلن نے بنایا میرے سر پر گومڑ اور چمٹے نے میرا گال سجا رکھا ہے سارے کپڑے تو جلا ڈالے میری بیگم نے زیب تن کرنے کو بنیان پھٹا رکھا ہے اے کنوارو! یونہی آباد رہو شاد رہو ہم کو بیگم نے تو سولی پر چڑھا رکھا ہے وہی دنیا میں مقدر کا سکندر ٹہرا! جس نے خود کو یہاں شادی سے بچا رکھا ہے حق نسواں کی جو لیڈر ہیں بتائیں تو زرا کس نے سرتاج کو جوتی پر اٹھا رکھا ہے روز لیتی ہے تلاشی وہ پولیس کی مانند پوچھتی ہے کہاں پیسوں کو چھپا رکھا ہے پی جا اس مر کی تلخی کو بھی ہنس کے اے شوہر مار کھانے میں بھی قدرت نے مزہ رکھا ہے
-
~!~ Shadi aur kanwara pan ~!~
Abhi shaadi ka pehla hi saal tha, Khushi ke maare mera bura haal tha, Khushiyaan kuchh yun umad rahin thi, Ki sambhale nahi sambhal rahi thi.. Subah subah madam ka chai le kar aana Thoda sharmate huye humein neend se jagana, Wo pyaar bhara hath hamare baalon mein phirana, Muskurate huye kehna ki.. Darling chai to pi lo, Jaldi se ready ho jao, Aap ko office bhi hai jaana. Gharwali bhagwan ka roop le kar aayee thi, Dil aur dimag par poori tarah chhayee thi, Saans bhi lete they to naam usee ka hota tha, Ik pal bhi door jeena dushwar hota tha.. 5 saal baad........ Subah subah madam ka chai le kar aana, Table par rakh kar jor se chillana, Aaj office jao to munna ko School chodte hue jana... Suno ek baar phir wohi awaaj aayi, Kya baat hai abhi tak chhodi nahi charpayee, Agar munna late ho gaya to dekh lena, Munna ki teachers ko phir khud hi sambhaal lena.. Na jane gharwali kaisa roop le kar aayi thi, Dil aur dimaag par kaali ghata chhayee thi, Saans bhi lete hain to unhi ka khayal hota hai, Ab har samay jehan mein ek hi sawal hota hai.. Kya kabhi woh din laut ke aayenge, Hum ek baar phir kunwaare Ho jaayenge.... ...!
- MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
-
Pinky
Welcome dear to UFC.............
-
رام لال کی خواہش
Good work dear.............
-
۔اعتراف کا لمحہ
Great......................
-
آنسو
Lovely toughts,........... Thanks for sharing...
-
Heart Hacker
Welcome dear to UFC.......
-
فیس بک مسلمانوں کی جاسوسی کیلئے استعمال
Nice thread...............
-
Nimra kanwal
Welcome dear to UFC......
-
World Map On Cow
Not bad.................
-
Incredible Dubai Metro
Good word dear....... ham to roz hi daikhy aur use karty hai.....
-
How To WaterMark A Logo On An Image
Nice thread.... I ll try
-
sex king
Welcome to UFC dear.... hope you ll enjoye here