Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Guru Samrat

Co Administrators
  • Joined

  • Last visited

Everything posted by Guru Samrat

  1. ویلکم جناب ! امید کرتا ÛÙˆÚº آپ ÛŒÛØ§Úº خوب مستی کریں Ú¯Û’ ۔اور اپنے ٹیلنٹ بھی ÛÙ… سے شیئر کریں Ú¯Û’ ۔شکریÛ
  2. امریکی ریاست ایریزونا کی ایک عدالت نے تین بچوں کو جنم دینے والے ایک ’ٹرانس جینڈر‘ مرد کی جانب سے طلاق کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ جج کا کہنا ہے کہ اس بات کے کافی ثبوت نہیں ہیں کہ تھامس بِیٹي کی جب شادی ہوئی تو وہ مرد تھے۔ اس امریکی ریاست میں ہم جنس افراد کی شادی پر پابندی ہے۔ کئی دہائیوں تک مرد کے طور پر رہنے والے بِیٹي نے 2008 میں سب سے پہلی بار ایک بیٹی کو جنم دیا اور وہ کل تین بار حاملہ ہوئے۔ وہ قانونی طور پر مرد ہیں لیکن انہوں نے اپنے زنانہ تولیدی اعضاء کے ذریعے بچوں کو جنم دیا کیونکہ ان کی اہلیہ بانجھ تھیں۔ تھامس بِیٹي کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جج کے فیصلے سے انہیں دھچکا لگا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا موکل اپنی گرل فرینڈ سے شادی کرنا چاہتا ہے اس لیے انہوں نے عدالتی حکم کے خلاف اپیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ترجمان کے مطابق ’بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ یہاں جج نے کسی دوسری ریاست میں ہونے والی شادی کو تسلیم نہیں کیا۔‘ اپنے عدالتی فرمان میں جج نے لکھا کہ یہ جوڑا ثابت نہیں کر پایا کہ جب بِیٹي کی شادی ہو رہی تھی تب وہ ایک مرد تھے۔ انہوں نے لکھا ’یہ فیصلہ اس نتیجے پر مبنی نہیں ہے کہ اس جوڑے میں سے ایک ٹرانس جینڈر مرد ہے اور اس وجہ سے یہ معاملہ ہم جنس شادی سے جڑ گیا ہے۔‘ تھامس بِیٹي نے 1979 میں ٹیسٹوسٹرون نامی ہارمون استعمال کرنے شروع کیے تھے اور 2008 میں ان کی چھاتی کا دو بار آپریشن ہوا تھا۔ اسی وقت ان کے پیدائشی سرٹیفکیٹ کو تبدیل کر کے ان کی جنس مرد کر دی گئی تھی۔ بِیٹي اور ان کی بیوی نینسی نے ایک سال بعد ہوائی میں شادی کر لی تھی۔ تھامس بِیٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ 39 سالہ بِیٹي نے ایک مرد کے طور پر قانونی شادی کی اور جب انہوں نے ہوائی میں ایک مرد کے طور پر پیدائش کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے درخواست دی تو انہیں یہ وضاحت کرنے کی ضرورت بھی نہیں تھی کہ ان کے پاس زنانہ اعضائے تولید ہیں۔ جب بِیٹي کو یہ پتہ چلا کہ ان کی بیوی ماں نہیں بن سکتی تو انہوں نے ٹیسٹوسٹرون کا استعمال روک دیا تاکہ وہ اپنے بچے کو جنم دے سکیں۔ وہیں نینسی بِیٹي کے وکیل نے کہا کہ جج کا فیصلہ مکمل تھا لیکن یہ وہ ایسا فیصلہ نہیں تھا جس کی توقع ان کی بیوی کر رہی تھیں۔
  3. راجھستان میں ماؤں کے دودھ کا بینک بھارت کی ریاست راجھستان میں ماؤں کے دودھ کے پہلے بینک نے کام شروع کر دیا ہے اور اسے 62 یونٹ دودھ عطیہ کیا جا چکا ہے۔ یہ بینک ایک غیر سرکاری تنظیم ماں باگوتی وکاس سنتاس نے اودھے پور شہر کے پان دھائی ہسپتال میں قائم کیا ہے۔ بینک حکام کا کہنا ہے کہ شمالی بھارت میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا بینک ہے بینک کے حکام کا کہنا ہے کے ماں کے دورھ سے ان بچوں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچےگا جن کی زندگیوں کو بیماریوں سے خطرہ ہے اور یہ بچے انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں زیرعلاج ہیں۔ بوہری بی بی پہلی ماں ہیں جنہوں نے اس بینک سے اپنے نوزائیدہ بچے کے لیے دودھ حاصل کیا بینک حکام کے مطابق اٹھائیس دن کی ایک بچی کو ماں کے دودھ کی ضرورت تھی اور اس بچی کے والدین نے بینک سے رجوع کیا۔ بینک کی جانب سے مہیا کیے جانے والا دودھ مفید ثابت ہوا اور بچی کی طبعیت میں تیزی سے بہتری آئی ہے۔ اودھے پور میں واقع اس دیویا مدر بینک کی کوارڈینٹر ارچنا شکتاوت کے مطابق’اگرچہ یہ ایک نئی پہل ہے لیکن لوگوں کا بہت مثبت ردعمل ہے‘۔ اس بینک نے پیر سے کام شروع کیا ہے اور بینک کی انتطامیہ کے مطابق خواتین کی ایک بڑی تعداد بینک میں دلچپسی لے رہی ہے۔ ارچنا شکتاوت کے مطابق’خواتین کو اس اقدام کے حوالے سے شعور دینے کے لیے آگاہی اجلاس منعقد کیے جا رہے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ اس کے بارے میں کچھ غلط فہمی پائی جاتی ہے اور ہمیں اس کو دور کرنا ہے‘۔ ارچنا شکتاوت کے مطابق نوزائیدہ بچوں کے لیے فارمولا دودھ صحت بخش نہیں ہوتا جبکہ ماں کا دودھ بچے کے لیے پہلی ویکسینشن اور سب سے بہترین ہوتا ہے۔ تنظیم اس تصور کے بارے میں خواتین کو شعور بھی دے رہی ہے ’بعض اوقات ذات بھی خواتین کے لیے ایک مسئلہ ہوتا ہے، اور ہم خواتین کے تمام ابہام دور کرتے ہیں اور انہیں شعور دیتے ہیں کہ ماں کے دورھ سے ذات پات کا کوئی لینا دینا نہیں ہے‘۔ بینک حکام کا کہنا ہے کہ شمالی بھارت میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا بینک ہے۔
  4. گڈ یار کے ڈی۔۔۔کیا واقعی کال سنٹر والوں کو ایسے ہی سوالوں کا سامنہ کرنا پڑتا ہے؟پڑھ کر مزہ آ گیا۔اگر مزید ہوں تو ضرور شیئر کریں۔شکریہ
  5. تمام نان ایکٹو ممبرز کے لیئے خوشخبری تمام نان ایکٹو ممبرز جن کا اکاؤنٹ اردو فن کلب پر لمیٹڈ ہو چکا تھا۔ان تمام ممبرز کو دوبارہ سے ایکٹو کر دیا گیا ہے۔ایک بار پھر سے وہ تمام ممبرز اردو فن کلب کی مکمل سہولیا ت سے مستفید ہو سکتے ہیں۔جن ممبرز کا اکاؤنٹ ایکٹو نہ ہوا ہو ۔وہ اسی تھریڈ میں رپلائی کر کے اپنا اکاؤنٹ فوری ایکٹو کروا سکتے ہیں۔یہاں ایک بات نوٹ کر لیں۔دوبارہ اگر کسی بھی وجہ سے کوئی ممبر اپنی ایکٹوٹی کم کرتا ہے۔یا 30 دن میں فورم پر کوئی تھریڈ نہیں بناتا یا کسی تھریڈ میں رپلائی نہیں کرتا۔یا لاگ ان ہی نہیں ہوتا۔تو اس ممبر کا اکاؤنٹ دوبارہ سے آٹو میٹک غیر فعال ہو جائے گا۔جس کی مکمل ذمہ داری ممبر پر ہو گی۔اور دوبارہ اکاؤنٹ ری ایکٹو کی فیس بھی وصول کی جا سکتی ہے۔شکریہ
  6. یقین کامل ایک کوہ پیما سخت سردی کے موسم میں برف کے پہاڑ کے اوپر چڑھ رہا کہ رات ہوگئ پر وہ رکا نہیں اور اپنی چڑھائی جاری رکھی۔ اس بار جب اس نے اپنا کُندہ برف میں پھنسانا چاہا تو وہ صحیح طرح سے پھنس نہ سکا اور وہ اپنے ہی زور میں رسی پکڑے کئ فٹ نیچے آگیا۔ اب حالت یہ تھی کہ وہ زمین اور آسمان کے درمیان اس طرح معلق ہوگیا کہ اگر اسی طرح لٹکا رہتا تو سردی سے ٹھٹر کے مر جاتا۔ اسی حالت میں وہ بڑے لجاحت سے خدا سے دعا کرتا ہے۔ آسمان سے آواز آتی ہے کیا تجھے مجھ پہ کامل یقین ہے؟ وہ جواب دیتا ہے یقیناً مجھے تیری ذات پہ مکمل بھروسہ ہے۔ آواز آتی ہے کہ تو پھر اپنی رسی کاٹ دے۔ وہ تذبذب کا شکار ہوتا ہے پر رسی کاٹنے سے انکار کردیتا ہے۔ صبح لوگ دیکھتے ہیں کہ ایک کوہ پیما سردی سے ٹھٹر کے مرگیا ہے اور زمین سے صرف دو فٹ اوپر ہے۔ کیا ہمیں بھی ایسا یقین ہے ؟؟؟
  7. سبق آموز واقعہ شام کے وقت ڈرائیور ایک خالی وین دوڑائے چلا جا رھا تھا۔ اس نے دیکھا کہ سڑک کے کنارے ایک بابا جی سواری کے انتظار میں کھڑے ہیں اچانک گاڑی کے ٹائر چرچرائے اور گاڑی آھستہ ھوتے ھوئے سڑک کے ایک طرف کھڑی ھو چکی تھی.. بابا جی آگے بڑھے اور وین کا دروازہ کھول کر ڈرائیور سے پچھلی سیٹ پر آبیٹھے... “کہاں جانا ھے آپ کو بابا جی؟“ ڈرائیور نے گاڑی دوڑاتے ھوئے سوال کیا۔ “مجھے کہیں نہیں جانا ھے... صرف آپ کے پاس بھیجا گیا ھے مجھے.... میں موت کا فرشتہ ھوں...“ “ہاہاہا... خوب مذاق کرتے ھیں آپ بھی بابا جی۔“ ڈرائیور نے قہقہہ لگایا... تھوڑی دیر بعد ڈرائیور کو سڑک کے کنارے دو عورتیں کھڑی نظر آئیں۔ ایک نے وین کو رکنے کا اشارہ کیا۔ ڈرائیور نے گاڑی روک دی۔ وہ خوش تھا کہ چلو گھر جاتے ھوئے کچھ پیسے بن جائیں گے... اس نے گاڑی کا دروازہ کھولا تو عورتیں بابا جی سے پچھلی سیٹ پر جا بیٹھیں... باجی! کہاں جانا ھے آپ کو؟“ ڈرائیور نے سٹیرنگ سنبھالتے ھوئے کہا۔۔ “ہمیں حیات نگر جانا ھے“ ایک عورت نے جواب دیا... ٹھیک ھے باجی... اور بابا جی اب آپ بھی بتا ھی دیں کہ آپ کو کہاں جانا ھے“ ڈرائیور نے گاڑی چلاتے ہوئے کہا.. “میں آپ کو بتا تو چکا ھوں کہ میں موت کا فرشتہ ھوں... عزرائیل... اور یہ کہ تمھاری موت گاڑی میں لکھی ھوئی ھے... مجھے اور کہیں نھیں جانا۔“ “ہاہاہاہا... ویگن میں ایک بار پھر قہقہہ بلند ھوا... “سنو سنو باجی! یہ بابا جی کہتے ھیں کہ میں موت کا فرشتہ ھوں... ہاہاہا...“ ڈرائیور نے خواتین کو مخاطب کر کے قہقہہ لگایا اور گاڑی مزید تیز کردی۔ “موت کا فرشتہ؟ بابا جی؟ کون بابا؟ کون موت کا فرشتہ؟ یہاں تو کوئی بھی نھیں ھے۔۔۔“ عورتوں نے حیرت سے جواب دیا۔۔ “ آپ دیکھو تو سہی... میرے پیچھے جو سفید کپڑے پہنے بابا جی بیٹھے ھیں... آپ سے اگلی سیٹ پر“ ڈرائیور نے دھیان سے گاڑی چلاتے ھوئے کہا... “ نہیں تو ادھر تو کوئی بابا جی نہیں ہے..... آپ مذاق کر رہے ھیں...“ عورتوں نے کہا تو ڈرائیور کا رنگ فق ھو گیا اس نے گاڑی روک دی... اب جو چپکے سے پیچھے دیکھا تو بزرگ کی آنکھوں سے وحشت ٹپک رھی تھی... جب کہ دونوں عورتیں بےنیاز ھو کر اپنی باتوں میں مگن تھیں... ڈرائیور خوفزدہ ھو گیا اور ڈر کے مارے کانپنے لگا... “تیری موت اسی گاڑی میں لکھی ھوئی تھی... اب وقت آن پہنچا ہے...“ موت کے فرشتے نے سرد لہجے میں کہا اور ڈرائیور کی طرف اپنا بھاری بھرکم ھاتھ بڑھا دیا... گاڑی میں ایک زوردار چیخ بلند ھوئی... ڈرائیور نے گاڑی کا دروازہ کھولا قریبی کھیتوں میں جاتی ھوئی پگڈنڈی پر دوڑ لگادی... دوڑتے ھوئے اچانک اس نے پیچھے مڑ کے دیکھا تو موت کا جعلی فرشتہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا گاڑی بھگا کے لے جا رھا تھا، جب کہ پیچھے بیٹھی خواتین کے قہقہے بلند ھو رہے تھے... اور ساتھ ھی وکٹری کی علامت بنائی جارھی تھی... ڈرائیور اب موت کے فرشتے کی ساری حقیقت سمجھ چکا تھا.... بےچارا سڑک کے کنارے خالی ھاتھ مل رھا تھا... (تو جناب! اس طرح بھی لوٹنے کی واردات ھو سکتی ھے... دھیان رکھیے گا)
  8. واقعی بابا آج آپ نہیں ہیں
  9. محبت آخر ہے کیا؟ "تمہیں آخر اعتراض کیا ہے نور؟ اور کتنی منتیں کرواؤگی۔ بھائی تو بھائی، امی بھی تم پر فدا ہوگئی ہیں۔ بس تم گھر میں بات کرو یا اگر خود نہیں کرنی تو نمبر دے دو امی خود بات کرلیں گی۔" جویریہ نے نور کے مسلسل ٹالنے پر چڑتے ہوئے کہا۔ "اور تم مجھے کتنا پریشان کرو گی، کس کا نمبر دوں تمہیں؟ امی ابو کا پہلے بھی بتاچکی ہوں میرے بچپن میں ہی انتقال ہوگیا تھا۔ باقی کسی اور کا میں ابھی دینا نہیں چاہتی۔ مجھے ابھی شادی ہی نہیں کرنی تو پھر اس سب کا فائدہ" نور نے بھی اسے سمجھانے کی کوشش کی جو مسلسل ایک مہینے سے اس کے پیچھے لگی تھی۔ جب سے اس نے جویریہ کے بے حد اسرار پر اس کی انگیجمنٹ اٹینڈ کی تھی تب سے اس کے گھر والے پیچھے پڑگئے تھے۔ نور کو رہ رہ کر اپنے اوپر غصہ بھی آرہا تھا کہ ضرورت ہی کیا تھی جانے کی۔ نور ہمیشہ ہی سب سے بہت زیادہ ریزروڈ رہتی تھی۔ مگر جویریہ میں زبردستی دوستی کرلینے کی ساری کوالیٹیز موجود تھیں۔ اس نے نا صرف نور سے دوستی کی تھی، بلکہ اسے اپنی انگیجمنٹ کے فنکشن میں آنے پر مجبور بھی کردیا تھا۔ نور بھی جویریہ ہرٹ نہ ہو اس ڈر سے چلی گئی تھی۔ مگر اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس کا ایسا نتیجہ بھی نکل سکتا ہے۔ "ٹھیک ہے، نہ دو نمبر۔ مگر یہ تو بتادو کیا تم کسی اور میں انٹرسٹڈ ہو؟" جویریہ نے مایوسی سے کہا۔ " جویریہ ہم کسی اور ٹوپک پر بات نہیں کرسکتے؟ کتنی دفعہ یقین دلاؤں کے ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے۔ میں بس ابھی ان چکروں میں نہیں پڑنا چاہتی۔ مجھے بہت پڑھنا ہے۔ اس لیے پلیز اب دوبارہ یہ ذکر نہیں کرنا۔ میں تو اسی بات پر پچھتارہی ہوں کہ تمہاری انگیجمنٹ میں جانے پر راضی ہی کیوں ہوئی تھی۔" نور بھی بار بار اسی ذکر پر چڑی بیٹھی تھی۔ "اچھا ٹھیک ہے۔ مگر ایک بات تم بھی کان کھول کر سن لو۔ تم صرف میری بھابھی بنو گی۔ طحٰہ بھائی تک میں نے تمہاری "شادی نہیں کرنی" کی رٹ پہنچادی تھی، مگر انہوں نے کہا ہے کہ وہ شادی کریں گے تو صرف نور سے اور وہ تمہارا ساری زندگی انتظار کرسکتے ہیں۔" جویریہ پرجوشی سے بتانے لگی تھی۔ "خدا کا واسطہ ہے جویریہ یہ فلمی ڈائلاگز تو مت جھاڑو۔" نور نے اس کے سامنے ہاتھ جوڑ دیے تھے۔ "تمہیں ہماری محبت اور خلوص فلمی ڈائلاگ ہی لگ سکتے ہیں۔ اتنی خوش قسمت ہو نور ورنہ آجکل کون اتنا خوار ہوتا ہے۔" جویریہ نے برا مناتے ہوئے کہا تو نور نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دینا ہی بہتر سمجھا۔ "ہاں، واقعی بہت خوش قسمت ہوں۔" اس نے دل میں سوچا تھا مگر کہا کچھ نہیں۔ * - - - * - - - * "آؤ ہم ڈراپ کردیں گے۔" وہ دونوں کالج سے باہر نکلیں تو گرمی کی شدت کو دیکھتے ہوئے جویریہ نے اوفر کی۔ "نہیں، بس آتی ہوگی۔ تم جاؤ۔" نور نے ہمیشہ کی طرح فوراً منع کردیا تھا۔ اور ویسے بھی جویریہ آج پھر وہی ضد لے کر بیٹھ گئی تھی۔ اتنی دفعہ منع کرنے کے باوجود جویریہ کی ایک ہی ضد تھی کہ اپنے گھر والوں سے ملواؤ۔ اس لیے نور نے صاف منع کردیا۔ "نور! اگر ہمارا یہ "احسان" لے لو گی تو تمہاری شان میں کوئی کمی نہیں آجائے گی۔ اور طحٰہ بھائی بھی ہیں۔ آجاؤ نا۔ اسی بہانے تمہارا گھر بھی دیکھ لیں گے۔" جویریہ نے مسکراتے ہوئے بھائی بھی ہیں پر زور دیا۔ "دیکھو منع مت کرنا چلو آؤ۔" اسے سوچ میں غرق دیکھ کر جویریہ اس کا ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھ گئی تھی۔ نور نے بھی کسی فیصلے پر پہنچتے ہوئے اس کے ساتھ قدم بڑھا دیے تھے۔ پورے راستے دونوں بہن بھائی خوب چہکتے رہے۔ جویریہ بار بار اسے بھی اپنی گفتگو میں گھسیٹنے کی کوشش کرتی رہی مگر اس نے مسکرانے کے علاوہ ان کی باتوں میں زیادہ حصہ نہیں لیا۔ "اچھا بھئی اب ذرا راستہ بتائیں گی؟" طحٰہ نے بیک ویو مرر میں نور کو دیکھتے ہوئے پوچھا تو وہ راستہ سمجھانے لگی۔ چند موڑ مڑ کر اس نے گاڑی روکنے کا کہہ دیا تو جویریہ اور طحٰہ نے جو اب تک اسے چھیڑنے میں مصروف تھے چونک کر پہلے اس بلڈنگ کی طرف دیکھا جہاں اس نے گاڑی رکوائی تھی پھر ناسمجھی کے عالم میں نور کی طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پر وہی پرسکون مسکراہٹ تھی۔ "تم مجھ سے پوچھتیں تھیں نا جویریہ کے میں تمہیں اپنے گھر لانے کی بات پر ہمیشہ ٹال کیوں دیتی ہوں؟ بس یہی وجہ تھی، یہی میرا گھر ہے۔" نور نے ان دونوں کے حیران چہروں کی طرف دیکھا تو دونوں بہن بھائیوں نے نظریں چرالی تھیں۔ "اندر نہیں آؤگی؟" میں ان کا جواب پہلے ہی جانتی تھی، مگر شاید انسان واقعی بہت نادان ہے، وہاں سے بھی امیدیں قائم کرلیتا ہے جہاں سے کسی اچھے برتاؤ کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ " جویریہ میری میٹنگ ہے دیر ہورہی ہے۔" جویریہ کو شش و پنج میں مبتلا دیکھ کر طحٰہ نے اس کی مشکل آسان کردی تھی۔ اور شاید نور کی بھی، جو خود بھی ہاں اور ناں کے بیچ میں ڈول رہی تھی۔ "خدا حافظ۔" اسے جواب مل گیا تھا۔ نور دروازہ کھول کر باہر نکل آئی اور اس کے اترتے ہی گاڑی زن سے آگے بڑھ گئی تھی۔ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا جہاں سے گاڑی ابھی دھول اڑاتی گزر گری تھی۔ پھر ایک نظر سامنے لکھے "دارلامان" کے بورڈ پر ڈالی۔ "یہ لوگ، سمجھتے ہی نہیں ہیں یا شاید انہیں ریجیکٹ ہونے کے بجائے ریجیکٹ کرنے کی عادت ہے۔ میرے انکار کو وہ ریجیکشن سمجھ رہے تھے اور اب میں کیا سمجھوں؟ کیا ان لوگوں کو ہم پہلے ہی مصیبتوں میں گھرے لوگوں کے جذبات سے ہی کھیلنا ہوتا ہے۔ ایسا پہلی دفعہ تو نہیں ہوا تھا۔ اس سے پہلے بھی اکثر لوگ میری طرف بڑھے تھے، مگر میں نے ہمیشہ ہر کسی کی حوصلہ شکنی کی تھی۔ کیونکہ ایک دو تجربوں کے بعد مجھ میں اس اذیت سے بار بار گزرنے کی ہمت نہیں تھی۔ محبت کے دعوے کرنے والے دارلامان دیکھ کر ایسے ہی پیچھے ہٹتے تھے۔ مگر جویریہ اور اس کی فیملی کچھ مختلف لگی تھی۔ میں نے بھی سوچا اتنی محبت اور خلوص کے دعویداروں کو ایک دفعہ آزما کر دیکھنا چاہیے مگر وہ بھی باقی سب جیسے نکلے۔ کبھی کبھی تو لگتا ہے خدا بھی ہم جیسوں کو ہی آزماتا ہے" دکھ سے سوچتے ہوئے میں نے آنکھوں میں امڈتی نمی کو پیچھے دھکیلا اور پھر اپنے خیالات پر شرمندگی بھی ہوئی۔ ایک نظر آسمان کی طرف ڈالی جہاں دور تک سورج کی روشنی پھیلی تھی اور میرے ہونٹوں پر بے ساختہ مسکراہٹ امڈ آئی تھی، میری زندگی میں محبت کی کمی کہاں ہے؟ میں اتنی کم ہمت نہیں ہوں کہ ان معمولی باتوں پر ہمت ہار دوں اور خدا سے شکوے شروع کردوں۔ اس دنیا میں کوئی خونی رشتہ نہ ہونے کے باوجود میں نے اپنے آپ کو کبھی اکیلا نہیں پایا تھا۔ میرا خدا، اور اس کی محبت مجھے ہر مشکل میں سمیٹ لیتی تھی۔ میں نور الحیا، جب سے آنکھ کھولی ہے اپنے آپ کو اسی جگہ پایا۔ ماں، باپ رشتہ دار، کسی کا کچھ پتا نہیں۔ میرا سب کچھ اس چھوٹے سے دارلامان میں بسنے والے وہ محبت کرنے والے لوگ ہیں جنہوں نے مجھے آج اس قابل بنایا ہے کہ میں معاشرے میں ٹھوکریں کھاتی نہیں پھررہی۔ انہیں دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اس دنیا میں اب بھی خدا اور انسانیت سے محبت کرنے والے موجود ہیں۔ انہوں نے مجھے بہت عیش و عشرت بھری نہ سہی، مگر ایک عزت دار زندگی دی اور اس قابل بنایا کے میں اپنے لیے کچھ کرسکوں۔ مجھے مہینوں یقین دلانے والی میری دوست جویریہ ابھی کچھ ہی دیر پہلے اپنی اور اپنے بھائی کی محبت کا ثبوت دے گئی ہے۔ میں ان جیسوں کے لیے بے شک بہت معمولی سہی مگر اندر بسنے والی اماں، جن سے میرا کوئی خونی رشتہ نہیں، اور یہاں بسنے والے مجھ جیسے بہت سے لوگوں کے لیے بہت خاص ہوں۔ میرے ایک دفعہ پوچھنے پر اماں نے بتایا تھا کے "دارلامان کے بہت سے بچوں کی طرح تمہیں بھی کوئی باہر رکھے جھولے میں ڈال گیا تھا۔ اور میں نے اسی وقت تمہارا نام نورالحیا، "زندگی کی روشنی" رکھا تھا۔ کیونکہ تمہارے چہرے پر اتنا نور تھا کہ مجھے یقین ہوگیا تم ہماری زندگی کی روشنی ہو۔ ورنہ یہاں آنے والے مجبوری میں وقت گزارتے ہیں، پھر اگر ان کی زندگی سنور جائے تو پیچھے مڑ کر دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے۔ مجھے یقین ہے میری نور بہت ترقی کرے گی، اور اپنے جیسوں کی زندگیوں میں روشنی کا ذریعہ بنے گی۔" اماں کے الفاظ میرے کانوں میں گونجے تو میں نے اندر کی طرف قدم بڑھادیے، جہاں وہ لوگ تھے جو ہر وقت محبت کے جھوٹے دعوے نہیں کرتے تھے، مگر بے لوث محبت میں گندھے دل ضرور رکھتے تھے۔ اور مجھے پورا یقین تھا، خدا اپنے آپ سے محبت کرنے والوں اور اس کی خاطر انسانیت سے محبت کرنے والوں کو کبھی مایوس نہیں کرتا۔ اس نے میرے لیے یقیناً کوئی بہت بہتر چن رکھا ہے۔ جس کے لیے اعلٰی خاندان، صرف نام کا خاندان نہیں ہوگا۔ جس کے لیے شرافت اور اچھا کردار اعلٰی خاندان سے تعلق رکھنا نہیں ہوگا۔ ضروری نہیں ہے سب کے لیے وہی لڑکیاں باکردار و عزت دار ہوں جو مغرب کی پیروی کرتے کرتے اپنے اعلٰی خاندانی وقار کو بھی پیچھے چھوڑتی نطر آتی ہیں۔ کچھ ہم جیسی بھی ہوتی ہیں، جن کے سر پر باپ بھائی کا سایہ نہیں ہوتا، مگر پھر بھی اپنی اقتدار کو مضبوطی سے تھامے رکھتی ہیں۔ یہ بات ہر کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ اس کے لیے خدا اور اس کے انسانوں سے محبت کرنے والا دل ہونا چاہیے۔ میرے لیے میرا خدا ہی کافی ہے۔ میں نے اپنے گرد لپٹی چادر کو مضبوطی سے پکڑا اور اندر کی طرف قدم بڑھادیے۔ ختم شد
  10. welcome dear i wish your friendly stay at ufc welcome again
  11. Ø¢ÛÙˆ یار۔ کونسا ٹرین Ù†Û’ Ø¢ جانا ÛÛ’ پاکستان میں۔ بے Ùکر ÛÙˆ Ú©Û’ کر لو نیند پوری۔
  12. مدثر بھائی کا پیپر

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.