Everything posted by Guru Samrat
-
محبت اندھی ہوتی ہے
محبت اندھی ہوتی ہے دل حقیقت میں تو جسم کا وہ اعضا ہے جو سارے جسم کو آپس میں جوڑے ہوئے ہے اور اسے زندگی بخشتا ہے۔ لیکن خیالی اور شاعری میں اسے محبت و عشق کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔ کسی دل نے کہا میں بہت سخت ہوں۔ میں پتھر ہوں مجھ پر کسی چیز کا اثر نہیں ہے۔ میں نے اپنے آپ کو ہر طرف سے خول میں ڈھکا ہوا ہے میں نے اپنے دروازے پر لکھ دیا ہے کہ اندر آنا منع ہے۔ لیکن محبت پھر بھی اس دل میں داخل ہو جاتی ہے۔ دل کو اس پر بہت غصہ آتا ہے۔ دل نے اسے کہا تم نے دیکھا نہیں لکھا ہے کہ اندر آنا منع ہے تو پھر بھی اندر آ گھسی ہے۔ محبت نے معصومیت سے جواب دیا: محبت اندھی ہوتی ہے۔
-
محبت کا طوق
محبت کا طوق آزادی اکیلے آدمی کا سفر ہے، رسی تڑوا کر سرپٹ بھاگنے کا عمل ہے۔ محبت اپنی مرضی سے کھلے پنجرے میں طوطے کی طرح بیٹھے رہنے کی صلاحیت ہے۔ محبت اس غلامی کا طوق ہے جو انسان خود اپنے اختیار سے گلے میں ڈالتا ہے۔ یہ عہد پیری مریدی کا نہیں کہ مرشد منوائے اور سالک ماننے کے مقام پر ہو۔ یہ زمانہ شادی کا بھی نہیں کہ شادی میں بھی قدم قدم پر اپنی مرضی کو قربان کرنا پڑتا ہے۔ حضرت ابراھیم جس طرح اپنے بیٹے کو قربان کرنے پر راضی بر رضا رہے، یہ محبت کی عظیم مثال ہے۔ محبت میں ذاتی آزادی کو طلب کرنا "شرک" ہے، کیوں کہ بیک وقت دو افراد سے محبت نہیں کی جا سکتی، محبوب سے بھی اور اپنے آپ سے بھی۔ محبت غلامی کا عمل ہے اور آزاد لوگ غلام نہیں رہ سکتے۔
-
خاموشی
خاموشی اگر ہم زبان کی پھیلائی ہوئی مصبیتوں کا جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ خاموشی میں کتنی راحت ہے۔ زیادہ بولنے والا مجبور ہوتا ہے کہ ہو سچ اور جھوٹ ملا کر بولے۔ آواز انسان کو دوسروں سے متعلق کرتی ہے اور خاموشی انسان کو دوسروں سے تعارف کرواتی ہے۔ زندگی سراپہ اور سر بستہ راز ہے اور راز ہمیشہ خاموش ہوتا ہے اور اگر خاموش نہ ہو تو راز نہیں رہتا۔ باطن کا سفر ، اندرون بینی کا سفر، من کی دنیا کا سفر، دل کی گہرائیوں کا سفر، رازِ ہستی کا سفر، دیدہ وری کا سفر، چشمِ بینا کا سفر، حق بینی کا سفر، اور حق یابی کا سفر، خاموشی کا سفر ہے۔ خاموش انسان خاموش پانی کی طرح گہرے ہوتے ہیں۔ انسان بولتا رہتا ہے اور خاموش نہیں ہوتا کیونکہ خاموشی میں اسے اپنے روبرو ہونا پڑتا ہے اور وہ اپنے رُو برو ہونا نہیں چاہتا۔ انسان کے قبل از پیدائش زمانے خاموشی کے زمانے ہیں اور مابعد بھی خاموشی ہے۔
-
بقا کی بازی
بقا کی بازی مرد ھر بازی دماغ سے کھیلتا ھے کبھی کبھار کوئی ایک بازی ایسی ھوتی ھے جسے وہ دل سے کھیلتا ھے ۔ اورجس بازی کو وہ دل سے کھیلتا ھے اس میں مات کبھی نہیں کھاتا کیونکہ وہ بازی انا کی بازی ھوتی ھے ۔ عورت ھر بازی دل سے کھیلتی ھے مگر کبھی کبھار کوئی ایک بازی ایسی ھوتی ھے جسے وہ دماغ سے کھیلتی ھے اور اس وقت کم ازکم اس بازی میں کوئی اس کے سامنے کھڑا رہ سکتا ھے نہ اسے چت کر سکتا ھے اور وہ بازی بقا کی بازی ھوتی ھے ۔
-
تعلق کیا چیز ہے؟
تعلق کیا چیز ہے؟ یہ بھی حسیات سے تعلق رکھنے والی غیر مرئی خوبیوں میں سے ایک کیفیت ہے، جسے محسوس تو کیا جا سکتا ہے لیکن سمجھنے پر آئیں تو سمجھ نہیں سکتے۔ ماں کی محبت کے تعلق کو مامتا کہہ کر واضع نہیں کر سکتے۔ ڈکشنری میں یا لٹریچر سے اس کی وضاحتیں ملتی ہیں، مامتا نہیں ملتی۔ جہاد پر جان سے گزر جانے والے بہادر کے جذبے کو اس وقت تک سمجھا نہیں جا سکتا، جب تک آپ خود ایسی بہادری کا حصہ نہ بن جائیں۔ تعلق، زندگی سے نبرد آزما ہونے کے لیے صبر کی مانند ایک ڈھال ہے۔ جب کبھی جہاں بھی سچا تعلق پیدا ہو جاتا ہے، وہاں قناعت، راحت اور وسعت خود بخود پیدا ہوجاتی ہے۔ آپ کو اندر ہی اندر یہ یقین محکم رہتا ہے کہ "آپ کی آگ" میں سلگنے والا کوئی دوسرا بھی موجود ہے، دہرا وزن آدھا رہ جاتا ہے۔
-
ملٹی نیشنل خواہشیں
ملٹی نیشنل خواہشیں ایک گاؤں کا بندہ تھا، اسے نمبر دار کہہ لیں یا زیلدار اُس کو خواب آیا کہ کل ایک شخص گاؤں کے باہر آئے گا، وہ جنگل میں ہو گا اور اُس کے پاس دنیا کا سب سے قیمتی ہیرا ہو گا اور اگر کسی میں ہمّت ہے اور اُس سے وہ ہیرا لے سکے تو حاصل کر لے- چنانچہ وہ شخص جنگل میں گیا اور حیرانی کی بات یہ ہے کہ ایک درخت کے نیچے واقعی ایک بُدھو سا آدمی بیٹھا ہوتا ہے، اُس نے جا کر اُس شخص سے کہا کہ تیرے پاس ہیرا ہے، اُس نے جواب دیا، نہیں میرے پاس تو کوئی ہیرا نہیں- اُس نے کہا کہ مجھے خواب آیا ہے کہ تیرے پاس ایک ہیرا ہے- اُس نے پھر نفی میںجواب دیا کہ نہیں اور کہا کہ میرے پاس میرا ایک تھیلا ہے” گتُھلہ“ اس کے اندر میری ٹوپی، چادر، بانسری اور کچھ کھانے کے لیے سُوکھی روٹیاں ہیں، گاؤں کے شخص نے کہا، نہیں تم نے ضرور ہیرا چھپایا ہوا ہے، اس پر اُس پردیسی نے کہا کہ نہیں میں کوئی چیز چھپاتا نہیں ہوں اور ہیرے کی تلاش میں آنے والے کی بے چینی کو دیکھا (جیسا مجھ میں اور جیکی میں بے چینی ہے) اور تھیلے میں ہاتھ ڈال کر کہا کہ جب میں کل اس طرف آرہا تھا تو راستے میں مجھے یہ پتھر کا ایک خوبصورت،چمکدار ٹُکڑا ملا ہے- یہ میں نے تھیلے میں رکھ لیا تھا- اُس شخص نے بے قراری سے کہا، بیوقوف آدمی یہی تو ہیرا ہے تو اُس نے کہا ، اس کا میں نے کیا کرنا ہے تُو لے جا- وہ اُس پتھرکو لے گیا- وہ گاؤں کا شخص ہیرا پا کر ساری رات سو نہ سکا، کبھی اسے دیکھتا، کبھی دیوار سے ڈھو لگا کر پھر آنکھیں بند کر لیتا اور پھر اسے نکال کر دیکھنے لگتا- ساری رات اسی بے چینی میں گُزر گئی- صبح ہوئی تو لوٹ کر اُس شخص کے پاس گیا، وہ یسے ہی آلتی پالتی مارے بیٹھا تھا- اُس نے دیکھ کر کہا، اب میرے پاس کیا مانگنے آیا ہے- اُس نے کہا، میں تیرے پاس وہ اطمینان مانگنے آیا ہوں جو اتنا بڑا، قیمتی ہیرا دے کر تجھے نصیب ہے اور تُو آرام سے بیٹھا ہوا ہے، تیرے اندر بے چینی کیوں پیدا نہیں ہوئی- اُس نے جواب دیا کہ مجھے تو معلوم ہی نہیں کہ بے چینی کس طرح پیدا ہوتی ہے اور کیسے کی جاتی ہے
-
اپنے نونہالوں کی حفاظت کیجیے۔
Bohatt Khoob Faisal Bhai..Wese Ye Pari Kon Hai :S
-
Nimra kanwal
wellcome dear nimra ................wellcome to UFC world
-
اردو فن کلب ممبرز کیلیئے عیدی
Thread Closed.....Thanks
-
وراثت....انتخاب گرو سمراٹ
وراثت ماخوذ انتخاب گرو سمراٹ کسی جنگل میں بندروں کا ایک غول رہتا تھا اس جنگل میں چونکہ بہت زیادہ تعداد میں پھل وغیرہ اُگتے تھے اس لیے وہ سب بندر بہت اطمینان اور خوشی سے رہتے تھے۔ ایک دن ایسا ہوا کہ ایک سائنسدان اپنی بیٹی کے ساتھ اسی جنگل میں ریسرچ کے لیے آیا۔ خیمہ نصب کرنے کے بعد سائنسدان تو پودوں کے سیمپل اکھٹے کرنے نکل کھڑا ہوا مگر وہ لڑکی اس خیمہ کی تزین و آرائش کے لیے پیچھے رہ گئی۔ اس نے پہلے زمین پر ایک پراناقالین بچھایا۔ پر اس قالین پر بستر لگائے۔خیمے کی درمیانی ٹیک سے برقی لالٹین لٹکائی اور اس کے عین نیچے ایک چھوٹی سی میز اور اس پر سجاوٹی سیبوں سے بھرا ایک پیالہ رکھ دیا۔وہ سیب دیکھنے میں بہت تازہ، خوبصورت اور بڑے لگ رہے تھے۔ تمام بندر درختوں پر بیٹھے ان مصنوعی سیبوں کو لالچ سے دیکھ رہے تھے۔ لڑکی خیمہ کے سامنے کی جگہ صاف کرنے کے لیے زرا باہر نکلی تو ایک بندر نے تیزی سے جھپٹا مارا اور ایک مصنوعی سیب اٹھا لیا اور عین اسی وقت لڑکی کی نظر بھی اس پر پڑ گئی۔ لڑکی نے فوراً بندوق اٹھا کر نشانہ لیا اور فائر داغ دیا۔ مگر تمام بندر اتنی دیر میں وہاں سے بھاگ گئے تھے۔ کافی دیر تک بھاگنے کے بعد تعاقب نہ ہونے کا یقین ہونے پر تمام بندر رک گئے۔ چوربندر نے ہاتھ بلند کرکے سب کو سیب دکھایا۔ سب بندر حیرت سے اس بندر کو دیکھنے لگے اور اس کو خوش قسمت گرداننے لگے کہ اسے ایسا اچھا سیب مل گیا۔ اور کوشش کرنے لگے کہ ایک بار اس مصنوعی سیب کو ہاتھ لگا کر دیکھ سکیں۔ چور بندر نے سب کو جھڑکا اور یہ مصنوعی سیب لے کر ایک درخت کی سب سے اونچی شاخ پر جا بیٹھااور سیب کو کھانے کے لیے اسے منہ میں لے کر دبایا۔ مگریہ مصنوعی سیب سخت پلاسٹ کا بنا ہوا تھا جسے چبانے سے بندر کے دانتوں میں درد ہونے لگا۔ بندر نے دو تین بار اور کوشش کی مگر ہر بار اسے درد ہونے لگتا۔ وہ دن چور بندرنے اسی اونچی شاخ پر بھوکے رہ کر گزارا۔ اگلے دن وہ نیچے اتر آیا۔ دوسرے تمام بندر اسے احترام سے دیکھنے لگے کیونکہ اس وقت بھی اس کے ہاتھ میں وہ مصنوعی سیب موجود تھا۔ دوسرے بندروں سے ملنے والا احترام دیکھ کر اس بندر نے اس سیب پر اپنی پکڑ اور مضبوط کر دی۔ اب دوسرے بندر پھلوں کی تلاش میں نکل گئے اور تیزی سے ایک درخت سے دوسرے درخت پر چھلانگ لگاتے ہوئے پھل توڑ توڑ کر کھانے لگے۔ چور بندر کے ایک ہاتھ میں چونکہ مصنوعی سیب تھا اس لیے وہ درختوں پر نہیں چڑھ سکا۔ مگر وہ سیب بھی ہاتھ سے چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔ اس لیے وہ سارا دن بھوکا پیاسا رہا اور یہی سلسلہ اگے کچھ دنوں تک چلتا رہتا۔ دوسرے بندر اس کے ہاتھ میں مصنوعی سیب ہونے کی وجہ سے عزت کرتے مگر اسے کھانے کے لیے کچھ نہیں دیتے۔ بھوک سے بے حال وہ بندر اتنا نڈھال ہو چکا تھا کہ اس کو اپنا آخری وقت نظر آ رہا تھا۔ اس نے ایک بار پھر اس سیب کو کھانے کی کوشش کی مگر اس بار میں نتیجہ مختلف نہ تھا۔ اس کے دانت اس مرتبہ بھی درد کر رہے تھے۔ چور بندر کو اپنی آنکھوں کے سامنے درختوں سے لٹکے ہوئے پھل نظر آ رہے تھے مگراس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ ان درختوں پر چڑھ سکتا۔ آہستہ آہستہ اس کی آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند ہو گئیں۔ جان نکلتے ہی اس کی گرفت مصنوعی سیب پر ڈھیلی ہو گئی اور وہ مصنوعی سیب اس کے ہاتھ سے نکل کر لڑکھ گیا۔ شام کو باقی بندر آئےانہوں نے مرے ہوئے بندر کی لاش پر کچھ آنسو بہائے افسوس کیا اور اس کی لاش کو پتوں سےڈھانپ دیا۔ ابھی وہ اتنا کر ہی رہے تھے کہ ایک دوسرے بندر کو وہی مصنوعی سیب ملا۔ اور اس نے اپنا ہاتھ بلند کر کے سب کو وہ سیب دکھانا شروع کر دیا گرو سمراٹ
-
پرموشن لسٹ
Bohat Bohat Mubarik Ho Dear SeXXXmeen And Milesstone ..........I Hope App Apni Zimazari Pori Tarha Se Nibhao Gy ?
-
اردو فن کلب ممبرز کیلیئے عیدی
امید کرتا ہوں تمام ممبران خریت سے ہوں گے اور رمضان کے بابرکت مہینے سے پوری طرح مستفید ہو رہے ہوں گے ۔ ۔ عید کی بھی آمد آمد ہے جسکا سبھی کو شدد سے انتظار ہوتا ہے ۔ ۔ اس خوشی کے موقع پر آپ سب کیلیئے بھی ایک خوشخبری ہے وہ یہ کہ ایڈمن ( اردو فن کلب ایڈمنسٹریٹر ) کی طرف سے سب ممبرز کو عیدی بھیجھی جائے گی جو کہ پوائنٹس کی شکل میں ہو گی۔ ۔ رجسٹر ممبرز کیلیئے 2000 پوائنٹس سٹار ممبرز کیلیئے 2500 پوائنٹس ایکسپرٹ ممبرز کیلیئے 3000 پوائنٹس رائیٹرز کیلیئے 3000 پوائنٹس وی آئی پی کیلیئے 3000 پوائنٹس جونئر موڈریٹر کیلیئے 5000 پوائنٹس موڈریٹرز کیلیئے 10000 پوائنٹس سوپر موڈریٹرز کیلیئے 12000 پوائنٹس کو ایڈمن کیلیئے 15000 پوائنٹس تمام ممبرز کو عید بہت بہت مبارک ہو ۔ ۔ پوائنٹس چاند رات کو ارسال کر دیئے جائیں گے ۔ ۔ گرو سمراٹ
-
Paregnet Baby
But Dear Qudrat Ka Har Kaam Qanoon Se Hota Hai ,Or Larkion k Paregnet hone ki bhi ek umr hoti hai is ki detales main zaroor kuch chupa ho ga ............wo samne lain .
-
Heaven on Earth
good work...thanks
-
ایک آپشن کا اضافہ
thanks admin ,,,,,,,,,,,thanks ufc
-
ہم سب قصوروار ہیں؟ دلخراش انکشاف
thanks admin ..noted
-
How To Remove Water Mark On An Image
Good Work Dear .......Verry Nice dear main bhi app ko ek advice dena cahta hon Ap apni threads main uni coad urdu pad ka istmaal kia karo us se app ko samjhane main mazeed asaani ho gi thanks
-
کبھی تو خوشیاں ملیں گی
تایا جان اور تای جان نے اسے بھو بنانے کا فیصلہ کر لیا تھا پھر کمال صاحب سے فون پر رضامندی لی گی تو انھوں نے اللہ توکل کرکے ہامی بھر لی ۔ ادھرجبران نے بھی رضامندی دے دی جبکہ دیا نے اب تک جبران کو دیکھا تک نہ تھا جبکہ رانیہ سے سنتی آی تھی کہ جبران نہ صرف چاچا چاچی سے بلکہ انکی وجہ سے سارے امریکیوں سے ہی نفرت کرتا ہےاور کبھی بھی ماں باپ کی بات پہ راضی نہ ہوگا ،دیا ڈرتی تھی کہ کہیں جبران اسے نا پسند نہ کر دے مگر کسی سے کچھ کہ نہیں سکتی تھی بس وہ اتنے دنوں میں تای جان سے ہی قریب ہوی تھی مگر اس خوف کا اظہار وہ ان سے بھی نہ کر سکتی تھی۔بات پکی ہونے کے تیسرے دن تای جان نے اسے پریشان دیکھا تو اسے سمجھانے کی کوشش کی اور بتایا کہ جبران دل کا برا نہیں ہے بس غصے کا تیز ہے اور کچھ اثر گزری باتو ں کا ابھی تک ہے لیکن ذرا سی برداشت سے سارے مسلے حل ہو جایں گے وہ کہتیں تھیں کہ دیا اتنی اچھی ہے کہ سب خود ہی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر بھلا جبران کیوں نہیں سو دیا کو کچھ امید تو تھی مگر دل میں ڈر بھی تھا شادی سے دو دن پہلے جبران آگیا تھا دیا نے دروازے کی اوٹ سے اسے دیکھا تھا لمبا چوڑا ساننولی رنگت والا جبران اسکے من کو بھا گیا تھا اونہہ ابھی نہیں ابھی میں اسے اپنے دل میں جگہ کیسے دے دوں نجانے اسکے دل میں کیا ہے۔اس نے خود کو سرزنش کی اور ڈھیروں اداسی من میں سما گی۔دونوں ایک دوسرے سے ملے بھی مگر سبکی موجودگی میں سب کے ہنسی مذاق کا نشانہ بنتے رہے اور بات نہ ہو سکی دیا کے سارے خوف جوں کے توں دل میں موجود تھے اور آج سجی ہوی سیج پر وہ جبران کے نام ہو کر بیٹھی تھی مگر بھت ڈری ھوی ہراساں سی اچانک درواذے پر دستک ہوی تو وہ جلدی سے سنبھل کر بیٹھ گی اتنے میں تای جان کی آواز نے اسے حیران کر دیا۔تای جان نے بتایا کہ رانیہ کی طبیعت اچانک خراب ہوگی ہے جبران اسے لیکر اسپتال گیا ھے پھپا جان اور سارے مرد ادھر ہی ھیں ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ رانیہ نے کسی بات کی ٹینشن لی ھے جسکی وجہ سے نروس بریک ڈاون کا خطرہ تھا مگر شکر ہیکہ اب وہ خطرے سے باہر ہے اور ایڈمٹ ہے جبران وہیں ہے دیا کو بھت افسوس ہوا کہ اچانک رانیہ کو کیا ہو گیا لیکن وہ اسکے لیے دعا کرتے کرتے سو گی۔ صبح آنکھ کھلی تو دن چڑھ آیا تھا معلوم ہوا جبران وہیں ہے رانیہ کی طبیعت زیادہ خراب ہو گی تھی مگر اب ٹھیک ھے۔آج تو انکا ولیمہ تھا کیونکہ دعوت دی جا چکی تھی اسلیے سب شریک ہوے اور دعوت ختم ہو گی آج بھی پورا دن جبران سے بس سرسری سی بات ہوی اور رات کو وہ پھر اسپتال چلا گیا دوسرے دن رانیہ کی طبیعت کچھ ٹھیک ہوی تو وہ لوگ سب گھر واپس آے پھر رات تک پھپو کے پورشن میں رہے اگلے دن جبران اور دیا کی روانگی تھی سب اپنی اپنی تیاریوں میں تھے جب رانیہ دیا کہ پاس آی "دیا بولی: رانیہ تم ارے مجھے بلا لیتیں تو میں آجاتی کیا ہوا کچھ چاھییے کیا رانیہ بھت عجیب سی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی دیا گھبرا سی گی۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
-
Gun for Girls (boys panga na lena hum se)
hmm good achi hain sab ........is main cell dalte hain ya bettry...:)
-
کبھی تو خوشیاں ملیں گی
کبھی تو خوشیاں ملیں گی وہ بے حد خوبصورت سیج پر دلہن بن کر بیٹھی ہوئی تھی ،دل میں نئی نویلی دلہنوں کی طرح جزبات کا طلاطم تھا نہ کوی خوبصورت احساس بس وہم اور ڈر و خوف کا بسیرا تھا،تھکن سے اکڑی ہوئی کمر سیدھی کرنے کی غرض سےسرہانے سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند لیں کچھ سکون محسوس ہوا تو ذہن خود بخود چھے ماہ پہلے کی زندگی میں چلا گیا۔اس نے خود کو ڈھیلا چھوڑ دیا۔ ۔ ۔ ۔ صبور صاحب کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھے۔زندگی بھر حق حلا ل کی کمائی سے انہوں نے گھر چلایا اور بہت اچھا چلایا خاندان میں وہ خاصے متمول گھرانوں میں شمار کیے جاتے تھےاور خاندان بھی کافی بڑا تھا۔بڑے بیٹی اور ؓییٹےکی شادی انہوں نے بڑی دھوم دھام سے خانداں میں ھی کی تھی ۔بڑے بیٹے کا ایک ھی بیٹا تھا جبران جبکہ بیٹی کی بھی ایک ہی بیٹی تھی رانیہ،جبرا ن اور رانیہ میں دو سال کا فرق تھا دونوں میں بھت دوستی تھی مگر دونوں کی لڑایاں بھی اتنی ھی ھوتی تھیں رانیہ غصے کی بھت تیز تھی اپنی چیز کسی کو دینا اسکی فطرت کے خلاف تھااکلوتی ہونے کی وجہ سے بگڑ بھی گی تھی جبکہ والدین کے پیارنے جبران کی شخصیت مکمل کر دی تھی اور کچھ وہ فطرتا" حساس اور نرم دل تھا۔جب بھی ان دونوں کی لڑای ھوتی تو جبران بھاگ کر چاچو کے پاس پہنچتا اور شکایت کی پٹاری کھل جاتی پھر چاچو ھی دونوں کی صلح کرواتے۔جبر ان چاچو سے بھت زیادہ لگا ھوا تھادونوں ایکدوسرے کے بنا رہتے نہیں تھے۔صبور صاحب چھوٹے بیٹےکمال کو بھی بھت چاہتے تھےایک تو وہ سب سے چھوٹا تھا دوسرااسکی شکل اپنے دادا جی سے بھت ملتی تھی صبور صاحب کہتےکمال کو دیکھوں تو ابا جی یاد آتے ہیں۔ زندگی اچھے سے چل رہی تھی جب کمال کی پڑھای ختم ھوی تو اس نے دوستوں کی دیکھا دیکھی امریکہ جا کر پڑھنے کی ضد کی اور اس ضد کے آگے صبور صاحب بےبس ہوگےتو انہوں نے ایک شرط رکھی کے اپنی بہن کی بیٹی سے کمال کی منگنی کریں گے۔ پھر ہی اسے جانے دیں گےاپنے شوق کی خاطر کمال مان تو گے مگر دل سے راضی نہ تھے تبھی امریکہ میں پڑھای کے دوران ایک انگریز نام نہاد مسلمان لڑکی سارہ کے عشق گرفتار ہوے اور اس سے شادی کرلی صبور صاحب زندگی بھر کسی کے آگے نہ جھکے تھے مگر لاڈلے بیٹے نے انھیں اپنی بہن کے آگے شرمندہ کر دیا وہ یہ صدمہ برداشت نہ کر سکے اور سب کو روتا چھوڑ کر چلے گے،کمال نے سنا تو بھت پچھتایا مگر اب کیا ھوسکتا تھا بس پچھتاووں اورشرمندگی نے ایسا گھیرا کے عمر بھر پاکستان واپس نہ جانے کی قسم کھالی۔ادھر جبران چاچو کے جانے سے بھت اداس تھا پھر دادا کی حالت نے اور چاچو کی نافرمانی اور اس وجہ سے دادا کے انتقال نے اسکا دل چاچو سے برا کر دیا اور ان سب کی وجی وہ انگریز چاچی کو مانتا تھا اور بنا دیکھے ھی ان سے نفرت بھی کرتا تھا۔ دن مہینوں میں اور مہینے سالوں میں بدلتے رہے اس بیچ معلوم ہوا کہ کمال کے ہان بیٹی کی پیداش ہوی ھے کمال گھر فون کرتے تو تھے مگر ھمیشہ بےحد شرمندہ اور دکھی لگتے تھے اسی وجہ سے آہستہ آہستہ انھیں سب نے معاف کر دیا مگر وہ خود کو کبھی معاف نہ کر سکے۔اسی لیے پاکستان نہیں آتے تھے۔ دیکھتے دیکھتے انکی بیٹی" دیا" بھی اب بڑی ہو گی تھی حسن اس نے مغرب کا اور اخلاق مشرق کا لیا تھا اسکی تربیت باپ نے ہی کی تھی ماں مسلمان ہونے کے باوجود اسلام اور اخلاق سے کوسوں دور تھی سو یہ زمہداری باپ نے ہی اٹھای اور خوب ھی اٹھای انہوں نےہر طرح سے مکمل تربیت کی کوشش کی تھی دیا اب بیس سال کی ہو گی تھی تو کمال صاحب کو اسکی شادی کی فکر ستانے لگی ادھر انکی بیوی سارہ کا بھی کوی کزن سنی آجکل گھر کے بھت چکر لگا رہا تھا سارہ نے اسکو بیٹی دینے کا فیصلہ کر لیا تھا مگر وہ کہیں سے اس اہم زمہداری کو اٹھانے کے قابل نہیں تھا۔پورا دن فضول حرکتوں مین وقت کی بربادی اور ادھار پر اسکا گزارہ ہوتاتھا۔کم ال دیا کو اس سے بچانا چاہتے تھے ایک دن فون بات کرتے ہوے بھای سے تذکرہ کیا توبڑے بھای نے انھیں دیا کو پاکستان بھیجنے کی بات کی وہ بھای بھاوج کی چاہت اور اخلاق کے ھمیشہ متعرف رہے تھے سو انھوں نے دیا کو پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کر لیا اس بیچ ایک دن سنی کی حد سے بڑھتی ہوی جرات نے دیا کوبھت خوفزدہ کر دیا تھا وہ سنی کو بھت برا سمجھتی تھی اسکی حرکتیں بھی ایسی ہی تھیں اب تو وہ نشہ بھی کرنے لگا تھا اسے دیکھ کر دیا کو کراہت کا احساس ہوتا تھا،وہ جلد سے جلد اس مصیبت سے پیچھا چھڑانا چاہتی تھی تبھی جوں ہی کمال نے بیٹی سے پاکستان جانے کی بات کی تو وہ فورا" راضی ھو گی اور ماں سے چھپ کر تیاری کی اور باپ کی شفقت کے چھاوں تلے امریکہ سے پاکستان آگی پاکستان آتے ہوے وہ بھت پریشان تھی کہ جانے سبکا رویہ کیسا ہو مگر یہاں سب نے ہی اسے بھت محبت دی سواے رانیہ اور جبران کے, رانیہ کو ناجانے کیوں اس سے چڑ تھی اور جبران تو شہر سے باہر ھوتا تھا۔دیا فطرتا"محبت کرنے والی اور نرم دل حساس طبیعت لڑکی تھی اسے رانیہ کےروییے کا اندازہ نہیں ہوا رانیہ بھی جب اس سے ملتی تو اچھے سے ہی ملتی تھی اسلیےدیا کو احساس ہی نہ ہو سکا کہ رانیہ دل میں اسکے لیے کیسے جزبات رکھتی ہےباقی تو سب نے ہی دیا کو پسند کیااور اس نےبھی بھت جلد اپنی معصومیت اور اچھی فطرت کے باعث سب کے دلوں میں گھر کر لیا تھا۔تای سے ملکر اسے ممتا کا احساس ہوا وہ اکثر سوچتی کہ ممی کے اندر کبھی ایسی محبت کیوں محسوس نہ ہوی۔ جاری ہے
-
Family Photo
hmmm goood but is main tum kon si ho :S
-
چھوٹی
چھوٹی یہ لڑکیاں کتنی گُھنی، میثنی، چلاک اور۔۔۔۔۔۔۔ دراصل یہاں میں کُھل کر صنف نازُک کے بارے میں اپنے نادر خیالات کا اظہار نہیں کر سکتا نا۔۔۔ورنہ پڑھنے "والیاں" (کیوں کہ پڑھنے "والے" تو میرے خیالات سے 101% مُتفق ہوں گے) مُجھے میرے ناخنوں سمیت چبا جائیں گی اور لُقمہ اجل بننے کی ابھی مُجھے کوئی جلدی نہیں کیوں کہ ابھی سہرا کے پھول جو کھلنا باقی ہیں۔۔۔۔ لہاذا احتیاط لازم ھے اور اُسی احتیاطی قدم کے طور پر (میری عقل مندی کی انتہا دیکھیے) میں نے گنے چُنے بس ذرا سے القابات کا استعمال کیا کیوں کے تھورا تھورا تجُربہ تو مابدولت بھی رکھتے ھیں کہ اکثر اوقات ایسے القابات سے نوازے جانے کے بعد لڑکیاں بُرا ماننے کے بجائے کھی کھی کر ک جھینپنا اپنا فرض سمجھ لیتی ہیں۔۔۔۔۔ ہاں تو میں کیا کھ رہا تھا کہ یہ لڑکیاں بھی کتنی۔۔۔۔۔۔ میرے خیال میں عقل مند کو اشارہ ہی کافی ہے دُہرانے سے کیا فائدہ۔۔۔۔لیکن بات پھر گھوم پھر کے وہیں آ جاتی ہے بھلا لڑکیوں کا عقلمندی سے کیا واسطہ۔۔۔عقل کی تو ان کے پاس مندی ہی مندی رہتی ہے۔۔۔۔ آچھا تو میں کیا کھ رہا تھا کہ۔۔۔۔۔اب گھبرانا کیا کھ ہی دیتا ہوں۔ یہ لڑکیاں بھی نا بڑی چالو، بے رحم، سفاک، بدلہاز اور تو اور بڑی سیاست دان ہوتی ہیں کب کس وقت کیسے ہتھیار اؤل (ایموشنل بلیک میلنگ) کا استعمال کر کے پوری رعایا کو اپنے حق میں کرنے کا فن انہیں خوب آتا یے۔ بظاہر تو بڑی مسکینی بنی پھرتی ہیں مگر باطن میں چاچا شیطان بھی ان سے ایکسٹرا کلاسز لے رہے ہوتے ہیں۔۔۔۔پڑھنے والیوں کو یقیناً آگ لگ گئ ہو گی اس کڑوے سچ سے حلق کڑوا بلکہ زہریلا ہو گیا ہو گا اور آپ سوچ رہی ہوں گی بڑا ہی خبیث انسان ہے کس قدر مبالغہ آرائی (مبالغہ آرائی محض خواتین کے لئے کیوں کہ مُحترم و مُعزز مرد حضرات تو "بھائی" کی بات سے اگری شگری نگری سب کُچھ ہوں گے) سے کام لے رہا ہے۔ جی میں تو آ رہا ہو گا کہ میں سامنے آوں اور میرا سر پھاڑنے کے لئے کوئی بھاری قسم کی چیز رسید کر دیں۔۔۔ہے نا۔۔۔؟ دراصل مُجھے صنف نازک سے اتنا ذیادہ بیر بھی نہیں ہے اصل میں، میں اُن مردوں سوری اُن لڑکوں میں سے ہوں جنہیں اپنی محبوبہ کو چھوڑ کے ہر لڑکی میں کوئی نا کوئی عیب (اگر نا بھی ہو تو) ضرور نظر آ جاتا ہے۔۔۔۔۔ تو معملہ کُچھ یوں ہے کہ بندہ مظلوم کو متوقع ظلم کے اندیشے لاحق ہو گئے ہیں جس کی اہم سے بھی ذیادہ والی اہم وجہ ہمارے ابا اماں کی اکلوتی بیٹی اور ہماری اکلوتی بہن تارہ ہے جسے ہم سب چھوٹی کہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ مُحترمہ نے حال ہی میں اکیسویں سال میں انٹری ماری ھے لیکن کسی کو بتاتے وقت اُنکی اداکاراوں والی عمر بڑھنے کا نام ہی نہیں لیتی۔ (خواتین کے معملے میں ایک اور کڑوا سچ) ویسے تو اکلوتے ہم بھی ہیں لیکن آہ ری ہماری قسمت ہمارے نصیب میں وہ اکلوتوں والے لاڈ نہ آئے اور ہمارے سارے حقوق چھوٹی نے آ کر چھین لیئے۔گھر میں کُچھ بھی آئے اماں کی پُکار (ارے چھوٹی کہاں ہے اُسے دو نا پہلے وہ چھوٹی ہے۔) میرے کانوں میں سیسہ اُنڈیل دیتی اور وہ بھی بڑے مزے سے جلا جلا کے دکھا دکھا کے کھاتی بے رحم کو کبھی بھی بھائی کی ندیدی، بھوکی، پیاسی، بے چارے پن سے تکتی نظروں پہ رحم نہیں آیا۔۔۔۔۔صرف یہی نہیں ایسے غمزدہ واقعات کی تو نا ختم ہونے والی فہرست ہے جن میں میری دل آزاریوں اور حق تلفیوں کی داستانیں رقم ہیں۔۔۔۔آہ۔۔ہااااااا۔۔۔۔۔ اور اب جب کہ زندگی کا اہم ترین موڑ آچُکا ہے تو مُجھے خطرہ لاحق ہے کہ ادھر بھی میرے ساتھ ناانصافی کی جائے گی تو میں کیوں نہ دُکھڑا رووں۔۔۔۔۔ کیسے کیسے حسین خواب سجانے لگا تھا میں۔ ہائے۔۔۔حسین خوابوں پے چلنے کو تیار کھڑا بلڈوزر دیکھ مُجھے کسی پل چین نصیب نہیں ہوتا۔۔۔ ابھی تھورے ھی دن تو گُزرے ہیں۔۔۔۔دل میں کلیاں سی کھلنے لگیں، خزاں میں بھی بہاروں کا لُطف آنے لگا،گرمی میں بھی ٹھندک کا احساس ہونے لگا اور اس ٹائپ کے بہت سے واقعات رُونما ہونے لگے جنہیں ان شارٹ "محبت" کہا جاتا ہے۔۔۔۔۔جی ہاں جی مابدولت کو محبت ہو گئی ہے۔ کیا کہا۔۔۔۔کس سے؟ بھئ ظاہر ہے کسی لڑکی سے ہی ہوئی ہے۔۔۔آچھا آچھا تو آپ سوچ رہے ہیں کہ میں جو لڑکیوں کے معملے میں کُچھ معقول خیالات نہیں رکھتا تو پھر۔۔۔۔۔ارے بھئ بتایا تو تھا آپکو کہ محبوبہ چھوڑ کے باقی سب۔۔۔۔۔اور مرد قارئین صاحب زرا سچی سچی ایمان داری سے بتائیں کہ بھلا اپنی محبوبہ بھی کسی کو بُری لگتی ہے۔۔۔۔؟ تو بات کُچھ یوں ہوئی کہ ہمارے بے حد اصرار پے اماں ابا نے ہماری محبوبہ کے گھر والوں کے سامنے اپنے اکلوتے سپوت یعنی کے میرا رشتہ ڈالا۔۔۔۔اُنہیں خیر اعتراض تو کوئی نہ تھا بس ایک شرط تھی کے وٹا سٹا کریں گے یعنی اپنی بیٹی کے بدلے ہماری چھوٹی لینے کا ارادہ ظاہر کیا۔اُن کی اس شرط نے جہاں اماں ابا کو کُچھ سوچنے پے مجبور کیا تھا وہیں میرے ارمانوں کی سجی سجائی سیج کو توڑ پھوڑ کے رکھ دیا۔۔۔ایسا اس لیئے کہ مُجھے مُکمل یقین ہے کہ آگر اماں ابا مان بھی گئے تو چھوٹی تو ہرگز نہیں مانے گی۔بھلا اُسے کہاں نظر آئے گی بھائی کی خوشی۔۔۔۔اُس نے تو کسی ہائی فائی انجینیئر کے ارادے باندھ رکھے ہیں بھلا اُسے ہماری محبوبہ کے لائق،فائق،شائق قسم کے ڈاکٹر بھائی کہاں بھائیں گے اور مُجھے یقین کا بھی پورا یقین ہے کہ وہ بڑے دھڑلے سے ہمیشہ کی طرح اپنی مرضی کے خلاف ہونے والے کام سے انکار کر دے گی۔وہ تو بڑے آرام سے اپنی تمام تر سفاکیوں سمیت محض "نہیں" کھ کر پُر سکون ہو جائے گی مگر میں۔۔۔۔ مُجھ غریب کا تو سُکھ چین ھی مُجھ سے روٹھ جائے گا۔۔۔ہاے بیچارہ میں۔۔۔۔اُف حلق مین کانٹے چُبھنے لگے ہیں جلن ہونے لگی ہے ان شارٹ پیاس لگی ہے بھئ۔۔۔۔۔ایک منٹ میں زرا حلق تر کر آوں پھر آپ سے اپنے مزید دُکھ شیئر کروں گا۔۔۔۔ ارے۔۔۔۔بہت شکریہ آپ سب کا کہ ابھی تک مُجھے مزید جھیلنے کے مُنتظر ہیں۔۔۔۔اس وقت میں اپنا حلق تر کرنے کے ساتھ ساتھ گریبان بھی تر کر چُکا ہوں۔ او ہو اب میں ننھا بچہ تھوڑی نا ہوں جو پانی پیتے پیتے اپنی شرٹ پے بھی گرا لے۔۔۔بھئ میرا گریبان تو ندامت کے بائث بہنے والے آنسوون سے تر ہوا ہے۔ آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ یہ اچانک رسی کے بل کیسے نکل گئے۔۔۔ ابھی کُچھ دیر قبل جب میں پانی پینے کی غرض سے کیچن کی جانب جا رھا تھا تو ابا اماں کے کمرے کے پاس سے گُزرتے ہوے مُجھے اماں کی آواز سُنائی دی مُجھے شک ہوا کہ چھوٹی بھی وہیں ہے۔اماں اسے اپنے کسی فیصلے پر دوبارہ سوچنے کے لیئے اصرار کر رہی تھیں۔ پھر ذرا دیر خاموشی رہی اور مُجھے ہول اُٹھنے لگے، دل ڈوبنے لگا کہ ہو نہ ہو اس کمبخت چھوٹی نے انکار کر دیا ہے اور اماں بیچاری اپنے بیٹے کی خوشی کی خاطر اُس پر زور دے رہی ہیں۔ میں سانس روکے کھڑا رہا پھر چھوٹی کی آواز آئی "ماما جی میں نے آچھی طرح سوچ لیا ہے مُجھے اس رشتے سے کوئی اعتراض نہیں ہے۔کیا ہوا آگر لڑکا انجینیئر نہیں ہے تو اور پھر آپکو تو پتہ ہے لڑکیاں یوںہی آئڈییئل بنا لیتی ہیں۔ لیکن میرے لیے تو سب سے اھم بات یہ ہے کہ اس میں بھیئا کی خوشی ہے اور۔۔۔۔۔" اور بھی پتہ نہیں کیا کیا کہے جا رہی تھی آگر میں ادھ کھُلے درواذے سے چھوٹی کو دیکھ نا لیتا تو یقیناً شدت بے یقینی سے زمین بوس ہو جاتا۔۔۔پھر کیسی پیاس اور کہاں کا پانی۔۔۔۔وہاں سے لے کر اپنے کمرے تک آنے میں مُجھے کوئی تیس سیکنڈز لگ ہوں گے۔بدلنے کو ایک سیکنڈ میں بہت کُچھ بدل جاتا ہے تو آپ خود ہی سوچ لیں ان تیس سیکنڈز میں کیا کُچھ بدلا ہو گا۔۔ جی ہاں ٹھیک سمجھے آپ واقع میری سوچ بدل چُکی ہے مُجھے اس بات سے اختلاف تو نہیں (اپنی بات سے اختلاف مرد کی شان کے خلاف ہے) کہ لڑکیاں بڑی گُھنی،خامخاں بھاو کھانے والی اور ایموشنل بلیکمیلرز ہوتی ہیں لیکن میں اس بات کا بھی اعتراف کرتا ہوں کہ بظاہر لڑکیاں کیسی بھی ہوں مگر اُنکے اندر موجود "دل بھائی صاحب" بڑے ہی نرم مزاج ہیں۔ اپنی باتوں سے چاہے سفاکی کے ریکارڈ توڑ ڈالیں مگر دل بھائی صاحب بے حد مہربان ہیں اور سب سے اھم بات جو میں نے جانی اور فٹافٹ مان لی وہ یہ کہ ان لڑکیوں میں دوسروں کا خیال رکھنے اور خاص کر اپنوں کے لیئے اپنی خواہشوں کو ٹاٹا کھ کر اپنوں کی خو شیوں کو ویلکم کہنے کی صفت انہیں ہم مردوں سے جُدا اور نمایاں رکھتی ہے۔۔۔۔۔کیوں ہے کہ نہیں۔۔۔۔۔؟
-
ہم سب قصوروار ہیں؟ دلخراش انکشاف
sab doston ka bohat bohat shukriya ...........thanks
-
Bad Boy Is Here
wellcome sir wellcome
-
ہم سب قصوروار ہیں؟ دلخراش انکشاف
میری ملاقات سدرہ سے مقامی اخبار کے دفتر میں ہوئی تھی، میں اپنے صحافی دوست سے ملنے گیا تھا، اور سدرہ وہاں اپنی ایک رپورٹ کی اشاعت کے سلسلے میں آئی تھی، دونوں میں کافی زوردار بحث ہو رہی تھی، میرا دوست بضد تھا کہ سدرہ اس آرٹیکل کی اشاعت سے باز رہے، اور سدرہ بضد تھی کہ اسے شائع کیا جائے، مسئلہ کچھ ایسی نوعیت کا تھا کہ جب میں نے اس آرٹیکل کو پڑھا تو یہ اندازہ لگانا میرے لئے بھی مشکل نہیں رہا کہ یہ آرٹیکل سدرہ کے لئے کافی مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ ۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ سدرہ کو سمجھایا کیسے جائے وہ ایک اصولی بات کر رہی تھی اور میں اس کے جذبہ حب الوطنی سے متاثر بھی تھا، اس کی شخصیت کی خاص بات اسکی وہ معصومیت تھی جو ہر قسم کی آلودگی سے پاک تھی اس کا انداز گفتگو، اور جنون کی حد تک وطن پرستی نے مجھے خاصا متاثر کیا تو میں نے اپنی بات کا آغاز اسکو "بیٹا" کہہ کر کیا۔ ۔ اس نے بڑی حیرت سے میری طرف دیکھا کہ کیسا عجیب بندہ ہے جو عورت کو سب سے خوبصورت روپ میں مخاطب کر رہا ہے، بہرحال میں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا۔ ۔ "میری عمر کی طرف نہ دیکھو تم ایک ایسی لڑکی ہو جو اپنے اندر ایک بھرپور اخلاقی جرات رکھتی ہے۔ اور میںتم جیسی لڑکی کو "بیٹا" کہنا بھی فخر سمجھتا ہوں، اگر تم مجھے اس قابل سمجھو تو میں اس سلسلے میں تم سے کچھ بات کرنا چاہتا ہوں، اس نے جب رضامندی کا اظہار کیا تو میں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "تم ایک اچھی سوچ کی مالک اور عملی لڑکی ہو مگر تھوڑی سی عقل سے پیدل ہو"۔ ۔ اور میرا یہ اندھا تیر نشانے پر لگا ۔ کیونکہ اب اسکی آنکھوں میں تھوڑی سے دلچسپی تھی۔ کیونکہ میں یہ پہلے ہی محسوس کر چکا تھا کہ مجھے اسکو کیسے ہینڈل کرنا ہے۔ ۔ میں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ تم کیا سمجھتی ہو جو تم نے لکھا ہے وہ تمہارے علاوہ کوئی اور نہیں جانتا ہے، یہ معاشرہ اندھا ہے، پاگل ہے، یا کچھ اور ہے ؟ اس نے کہا آپ کا مطلب کیا ہے۔ ۔ میں نے تھوڑا سا اور بے تکلف ہوتے ہوئے کہا " نا لائق لڑکی تم اچھی خاصی پاگل بھی ہو، کبھی تمہاری والدہ نے تم کو بتایا کہ تم کچھ کچھ کریک بھی ہو"۔ ۔ اس مرتبہ اس کے چہرے پر مسکراہٹ بڑی واضح تھی، اور یہ وہ موقع تھا جب میں اسکو اچھی طرح سمجھا سکتا تھا۔ ۔ ۔ میں نے ایک دم پینترا بدلا اور نہایت سنجیدگی سے اسکو سمجھانا شروع کیا۔ ۔ "دیکھو گڑیا رانی یہ جو تم نے ایک عدد سینئر ایس پی صاحب کو اپنا نشانہ بنایا ہے تم اسے کیا سمجھتی ہو؟ وہ کوئی شریف انسان ہے، اور کیا اسکا کسی ایسے محکمے سے تعلق ہے جہاں انصاف سب کے لئے برابر ہے۔ یا عدالت اسے سزا دیگی ۔ تم کیا سمجھتی ہو یہ انڈین فلمز کیا ہیں؟ یہ سب ہمارے معاشرے کی کہانیاں پیش کرتی ہیں، جو کچھ اس میں دکھایا جاتا ہو وہ انڈیا میں کم اور ہمارے ملک میں زیادہ ہوتا ہے۔ سارے کردار ہمارے معاشرے کے ہوتے ہیں، یہ سارے افسران ایک جیسے ہوتے ہیں، ایک کلرک سے جج تک، اور اسکول ٹیچر سے ایک صحافی تک۔ ۔ یہ سب کے سب لوگ اپنی اپنی قیمتوں پر بکتے ہیں۔ ۔ تمہاری غلطی یہ ہے کہ تم غلط جگہ پر، غلط وقت پر، ایک حساس موضوع پر بحث کر رہی ہو، میری نظر میں تمہارا درجہ بلند ہے کیونکہ تم ایک اچھی لڑکی ہو، میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ تم یہ کام بند کر دو بلکہ تمہاری بےوقوفی یہ ہے کہ تم غلط وقت پر، غلط جگہ پر صحیح کام کرنا چاہتی ہو، تمہارا یہ آرٹیکل اپنی جگہ صحیح ہے مگر ذرا یہ تو سوچو کہ اسکو کیسے لوگوں کہ توجہ دلائی جائے"۔ ۔ تو یہ میری پہلی ملاقات تھی ایک پیاری دختر پاکستان سے۔ ۔جس کا وہ آرٹیکل تو شائع نا ہوا مگر اس آرٹیکل سے وہ جو کام لینا چاہتی تھی وہ میرے مشورے سے ہو گیا، اس دن وہ بڑی خوش تھی اور مجھ پر اسکا اعتماد اتنا زیادہ بڑھا کہ اس نے ڈرتے ڈرتے مجبے کال کیا۔ "سر ایک بات کرنی ہے آپ سے"۔ ۔ میں نے کہا "ہاں تو کہو نا کیا بات ہے، کیا کوئی رشتہ وغیرہ ڈھونڈ لیا ہے تم نے میرے لئے؟ "۔ ۔ اس پر وہ بہت ہنسی اور کہا کہ "اگر آپ کل فارغ ہیں تو ہمارے ساتھ ڈنر کرینگے ہمارے گھر پر۔ "۔ ۔ ۔ میں بڑی زور سے ہنسا اورکہا کہ تم کیا پورے محلے سے میری ملاقات کروانا چاہتی ہو نالائق"۔ ۔ خیر اس معمولی نوک جھونک کے بعد میں نے فون رکھ دیا اور اپنے سارے پروگرام ملتوی کرکے اگلے دن سدرہ سے ملاقات کا فیصلہ کیا۔ ۔ خیر جب میں اسکے گھر بعد مغرب پہنچا تو وہ میرا انتظار کر رہی تھی۔ ۔ مجھے ڈرائنگ روم میں بٹھا کر جب وہ واپس آتی تو ساتھ میں اس کی والدہ تھیں۔ ۔ میری حس مزاح ایکدم جاگی اور میں نے کہا "اوئے لڑکی تمہاری امی تو تمہاری سینئر ڈپلیکیٹ لگتی ہیں۔ اس بات پر دونوں خوب ہنسیں۔ ۔ بہرحال اسکی والدہ سے بات چیت پر پتہ چلا کہ وہ بھی خاصی تعلیم یافتہ خاتون ہیں۔ ۔ یوں رفتہ رفتہ مجھے ایک چھوٹی سے فیملی مل گئی۔ ۔ ایک سمجھدار ماں اور پیاری سے بہن۔ ۔ اور میں اس فیملی میں کچھ ایسے گھل مل گیا جیسے میرا جنم جنم کا ان سے ناطہ ہو۔ ۔ ۔ تو یہ ایک تفصیلی احوال تھا ایک ایسی لڑکی سے ملاقات کا جو اپنے معاشرے میں ہونے والی تبدیلیوں اور ان سے پیدا ہونے والی خرابیوں کو عملی جدوجہد سے ختم کرنا چاہتی ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ اب وہ کوئی قدم اٹھانے سے پہلے مجھ سے مشورہ کر لیتی ہے۔ حال ہی میں اس نے اپنے کچھ ساتھیوں کےساتھ ملکر ایک سروے کیا ہے، اور ایک ایسی تبدیلی پر اس نے بڑی محنت سے مواد جمع کیا ہےجس پر شاید ابھی کسی نے نہیں سوچا میں اس سلسلے میں ان تمام طالبعلموں کا مشکور ہوں جنہوں نے یہ کام کیا ہے خصوصا کراچی اور لاہور کے طلبہ اور طالبات کا جو اپنے معاشرے میں ہونے والی ان تندیلیوں کو سنجیدگی سے محسوس کر رہے ہیں اور عملی اقدامات کے لئے دوسروں کو اپنے ساتھ شامل بھی کررہے ہیں، گو یہ کام وہ لوگ اپنے آپ کو چھپا کر رہے ہیں مگر اس کو میں وقت کا تقاضہ سمجھتا ہوں، بہرحال وہ رپورٹ احاطہ کرتی ہے ہماری نوجوان نسل میں بڑہتی ہوئی بے راہ روی کا اور ان تمام عوامل کی بھی نشاندہی کرتی ہے جو ان تمام چیزوں کی خاص وجوہات ہیں۔ ۔ "کبھی آپ لوگوں نے سوچا کہ ہم جو آج ترقی کر رہے ہیں وہ کس حد تک مثبت ہے اور کس حد تک منفی ہے، ترقی کے نام پر جو زہر ہم خود اپنے ہاتھوں سے اپنی رگوں میں داخل کر رہے ہیں وہ ہمیں اور ہماری پروان چڑہتی ہوئی نسل کو کس حد تک تباہ و برباد کر رہا ہے اس پر شاید ابھی ہم میں سے کوئی غور نہیں کرنا چاہتا ہے کیونکہ اس کی رنگینی کچھ ایسی ہے کہ اس نے ہمارے سب مقدس رنگوں کو اپنے اندر مدغم کر لیا ہے، آپ لوگوں نے کبھی سوچا ہے کہ آج ہمارے بچے بچے کے پاس موبائل ہے، جس میں ہر منٹ کے حساب سے پیسہ ڈلتا ہے، اور کبھی اس پر غور کیا ہے کہ ہماری آمدنی میں تو کوئ اضافہ نہیں ہوا بلکہ گزشتہ برسوں میں خصوصا دور مشرفی میں جو مہنگائی ہوئی ہے وہ تقریبا چار سو فیصد کی حد سے تجاوز کر گئی ہے، اور بے روزگاری کا عالم یہ ہے کہ انڈسٹری تو پہلے ہی تباہ ہو چکی ہے اور کاروبار کی حالت سب کے سامنے ہے کہ آج ایک ارب پتی بھی ماہانہ بجٹ بنانے پر مجبور ہے ۔ تو یہ غریب لوگ کیسے گزارا کر رہے ہونگے۔ ۔ ہمارا پیارا پاکستان جہاں غریب آبادی کا تناسب ۲۰۰۷ کے اختتام پر ۸۱ فیصد تک ہو چکا ہے۔ وہ لوگ اپنی زندگی کی گاڑی کو کیسے کھینچ رہے ہیں یہ وہی جانتے ہونگے۔ ۔ مگر اس غربت کے باوجود ترقی کرنے کی حوس، انڈین چینلز کی بھرمار، گلیمر، اور ان تمام چیزوں کے ساتھ قدم قدم سے ملا کر چلنے کی کوشش میں ہم گناہوں کی کیسی دلدل میں گر رہے ہیں اس کا اندازہ آپ کو شاید آگے پڑہنے سے ہو جائے فالحال میں سرف شہر کراچی سے کلیکٹ کئے ہوئے اعداد و شمار آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں اور جو رپورٹ میں لاہور، فیصل آباد اور حیدرآباد کی دیکھ رہا ہوں وہ کراچی سے کہیں زیادہ خراب ہے۔ ۔ کراچی کی آبادی ۔ تقریبا ایک کروڑ انیس لاکھ (غیر سرکاری) مالدار طبقہ ۔ تقریبا دس فیصد متوسط طبقہ ۔ تقریبا اٹھارہ فیصد غریب طبقہ ۔ تقریبا باسٹھ فیصد ( جس میں انتہائی غریب طبقہ اسی فیصد ہے) گزشتہ پانچ سال میں ڈیڑھ کروڑ موبائل فروخت ہوئے! اوسطا فی موبائل کی قیمت تین ہزار روپے رہی ! گزشتہ پانچ سال میں مختلف موبائل کنکشنز دو کروڑ اسی لاکھ کی تعداد میں فروخت ہوئے۔ مطلب یہ کہ کراچی میں فروخت ہونے والے سم کارڈز کی تعداد دو کروڑ اسی لاکھ ہے، جس میں سے ایکٹیو کنکشنز پچاسی فیصد ہیں، مطلب تقریبا تمام سم کارڈز وقتافوقتا استعمال ہوتے ہیں، شرط صرف بیلنس کی ہوتی ہے۔ جس سم میں بیلنس ہے وہ زیر استعمال ہے۔ چودہ سال سے اوپر کی تمام لڑکیاں اور لڑکے ۔ موبائل ہولڈرز (تقریبا پچاسی فیصد ۔ تمام طبقات سے تعلق ہے) فی موبائل ہولڈر کنکشن کی تعداد تقریبا ۔ تین سم کارڈز فی سم کارڈ حاضر بیلنس اسی روپے (ہر وقت) صرف نوجوان لڑکے اور لڑکیاں روزانہ پچیس کروڑ روپے کا بیلنس استعمال کرتے ہیں جس میں کارڈز اور ایزی لوڈ دونوں شامل ہیں۔ سنیچر کے دن تک روزانہ پچیس کروڑ اور صرف اتوار کو بائیس کروڑ تک کا بزنس ہوتا ہے۔ مندرجہ بالا اعداد و شمار انتہائ حقیقی ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ یہ تمام کمپنیز اپنی آمدنی کو سرکاری افسران کی سرپرستی میں چھپا کر رکھتی ہیں تاکہ ٹیکس کی مد میں چھوٹ حاصل رہے۔ ان اعداد و شمار پر ذرا غور فرمائیے کہ یہ جو روزانہ پیسہ بیلنس کی مد میں استعمال ہو رہا ہے وہ کہاں سے آرہا ہے؟ بے روزگاری حد سے تجاوز کر چکی ہے، مہنگائی نے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ ڈالے ہیں، ان حالات میں تو انسان ایک وقت کی روٹی نہیں کھا سکتا یہ موبائل کی عیاشی کے لئے ان بچوں کو پیسہ کہاں سے مل رہا ہے، آیئے آگے بڑہتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (سو فیصد حقائق پر مبنی ایک اور رپورٹ دیکھیں) مانع حمل گولیاں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایبٹ کمپنی کے کچھ سیلز ایجنٹس اور مختلف میڈیسن کمپنیز کے کچھ اعلی عہدے داروں نے ایک سروے رپورٹ پیش کی جس کے تحت کراچی شہر میں ان گولیوں کی فروخت کا تناسب شادی شدہ جوڑوں کی نسبت غیر شادی شدہ افراد میں چار سو فیصد ہے، مطلب یہ ہے کہ فرض کریں کہ کراچی میں روزانہ میں سو شادی شدہ جوڑے ہیں اور وہ تمام بغیر کسی ناغے کے ان گولیوں کا استعمال کرتے ہیں اور ان تمام جوڑوں کی ضرورت ڈیڑہ سو گولیاں ہیں، اب اگر اسی شہر میں یہ گولیاں آٹھ سو کی تعداد میں فروخت ہو رہی ہوں اور ان کے خریدار نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ہوں تو اسکا کیا مطلب ہوا ؟ ؟ ؟ ؟ لیباریٹری رپورٹ:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کئی معتبر لیباریٹریز سے جب پیشاب کی تجزیاتی رپورٹ پر ٹیکنیشنز سے معلومات اکٹھی کی گئیں تو حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ لڑکیوں کے ہر دس سمپلز میں سے چار کے رزلٹس پازیٹیو ہوتے ہیں جب کہ ان کی عمر چودہ سے بائیس سال ہوتی ہیں، اور تمام ہی غیر شادی شدہ ظاہر کی جاتی ہیں۔ ۔ ۔ بیوٹی آئٹمز کی فروخت:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صرف کراچی میں ہی نہیں پاکستان کے تمام شہروں میں یہ چیز دیکھی جا سکتی ہے کہ یہ آئٹمز زیادہ فروخت ہو رہے ہیں۔ یہ وہ واحد بزنس ہے کہ جو اب تک کامیابی سے چل رہا ہے اور اس میں روزانہ اضافہ دیکھا جا سکتا ہے، ایک ایک آئٹم کی قیمت کا اندازہ آپ سب لوگوں کو اچھی طرح ہے، اس سے آگے کیا کہا جاسکتا ہے۔ ۔ ۔ ایک لیڈی ڈاکٹر جو ایک پوش علاقے میں اپنا کلینک چلاتی ہیں اور کافی سینئر ہیں جب میں نے طب سے متعلق ان حقائق کا تذکرہ کیا تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ سمراٹ میں انتہائ افسوس کے ساتھ تمہیں بتاتی ہوں کہ اب ہم رسوائ کی ایک ایسی راہ پر چل پڑےہیں جہاں سے واپسی بھی رسوائ کے ساتھ ہوگی جو اعداد و شمار ان طلبہ نے اکٹھا کئے ہیں وہ کچھ بھی نہیں ہیں حقیقت اس سے بھی زیادہ بھیانک ہے، میرے پاس اوسطا پندرہ کیسز روزانہ صرف اسی مقصد سے آتے ہیں کہ حمل ضایع کرانا ہے یا میں ابھی ماں نہیں بننا چاہتی ہوں، جب ان سے کہو کہ اپنے شوہر کو ساتھ لاؤ تو بجائے شوہر کے لڑکی کی ماں آجاتی ہے، وغیرہ وغیرہ، ۔۔۔۔ بقول ڈاکٹر صاحبہ کہ وہ اب ذہنی طور پر خاصی ڈسٹرب رہتی ہیں، کیونکہ وہ ایک مشرقی عورت کی حیثیت سے جو محسوس کرتی ہیں وہ خاصا تکلیف دہ ہے اور وہ اپنی بیٹیوں کے لئے پریشان ہیں۔ ۔ ۔ ۔ یہ تو ہوا لڑکیوں کا قصہ۔ ۔ ۔ اب آجائیے نوجوانوں کی طرف۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کراچی آج ایک ایسا شہر ہے جہاں زندگی انتہائی غیر محفوظ ہے، میں اسٹریٹ کرائمز اور ڈکیتیوں کے حوالے سے بات کر رہا ہوں، روزانہ موبائل چھیننے کی وارداتیں ایک ایسا معمول ہیںکہ اب لوگ ایف آتی آر درج کراتے ہی نہیں ہیں، بلکہ اب لوگ ایک دوسرے کو یہ نصیحت کرتے نظر آتے ہیں کہ دیکھو اگر کوئی موبائل یا نقدی مانگے تو حیل و حجت نا کرنا۔ بلکہ اپنی جان کی فکر کرنا۔ ۔ ۔ جی تو اہل وطن یہی وہ نو جوان ہیں جو اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے یہ سب کچھ کرتے ہیں اور بعد میں کچھ سیاسی جماعتیں ان کو استعمال کرتی ہیں، کیونکہ ان بچوں کو موبائل بیلنس کے، ہوشربا ملبوسات کیلئے، اور اپنی ساتھیوں کو بیلنس شئیر کرانے کے لئے پیسے درکار ہوتے ہیں۔ یہ سب کچھ صرف جرائم اور عصمت فروشی سے ہی حاصل ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔ آج ہم یہ باتیں تو شئیر کر رہے ہیں مگر سوچنا یہ کہ ہمارے یہ بچے کس کی وجہ سے اس راہ پر جا رہے ہیں، اس میں ہمارا قصور کتنا ہے، ان والدین کا قصور کتنا ہے، جب بچی انیتہائ بھڑکیلا میک اپ کرکےگھر سے ٹیوشن سنٹرکا کہ کر نکلتی ہے تو اس پر یہ چیک کیوں نہیں لگتا کہ سنٹر کا ٹائم کیا ہے اور دورانیہ کتنا ہے۔ ۔ ۔ یا لڑکا جب رات کو بارہ بجے گھر میں داخل ہو رہا ہے تو باپ کیوں نہیں پوچھتا کہ کہاں سے آرہے ہو، بہرحال یہ وہ دلخراش حقائق ہیں جو ہم کو قبول کرنے ہونگے اور اس کے سدباب کے لئے محض سرکار کی طرف نہیں انفرادی طور پر سوچنا اور کوشش کرنا ہوگی۔ افسوس یہ ہے کہ جب میں پوسٹ محفل میں انٹر کرونگا تو بعض لوگ یہی کہیں گے کہ ایسا تو نہیں ہوتا محض الزامات ہیں اور غیر مصدقہ رپورٹ ہے، اس میں ایسے تمام خواتین و حضرات کو یہ پیشگی اطلاع دے دوں کہ اگر آپ اس قسم کی صورتحال کا اگر شکار نہیں ہیں تو پلیز یہ نا سمجھیں کہ پورا معاشرہ ہی ایسے چل رہا ہے، بلکہ یہ سوچیں کہ کہیں ہمارے ارد گرد بے خبری میں تو کیہں ایسا کچھ نہیں چل رہا ہے۔ ۔ ۔ میں اتنا کہونگا کہ زیادہ بے خبری اچھی نہیں ہوتی ۔ ۔ ۔ گرو سمراٹ