Everything posted by Guru Samrat
-
پردیس ۔۔۔ اردو ادب کی لازوال سیکس کہانی
ÛŒÛ Ûمارے لیئے Ø¨ÛØª بڑی خوش خبری ÛÛ’Û”Ú©Û Ø§Ø¨ اس Ø³Ù„Ø³Ù„Û Ú©Ùˆ ب مکمل کر Ú©Û’ ÛÛŒ بند کیا جائے گا۔بس ایک رکوسٹ ÛÛ’Û”Ú©Û Ø§Ø³ Ú©ÛŒ اپڈیٹ ڈیلی بیس پر Ú©ÛŒ جائے۔آپ Ú©ÛØ§Ù†ÛŒ شروع کریں۔ÛÙ… اسے Ù¾Ú‘Ú¾Ù†Û’ Ú©Û’ لیئے شدت سے تیار Ûیں۔میری طر٠سے آپ Ú©Ùˆ رپ پاور کا Ú¯ÙÙ¹
-
خواہشات سے بنا ہوا کشکول
خواہشات سے بنا ہوا کشکول بادشاہ نے ایک درویش سے کہا۔۔ ” مانگو کیا مانگتے ہو؟" درویش نے اپنا کشکول آگے کردیا اور عاجزی سے بولا۔۔ ” حضور! صرف میرا کشکول بھر دیں۔۔" بادشاہ نے فوراً اپنے گلے کے ہار اتارے انگوٹھیاں اتاریں جیب سے سونے چاندی کی اشرفیاں نکالیں اور درویش کے کشکول میں ڈال دیں لیکن کشکول بڑا تھا اور مال و متاع کم ۔۔ لہٰزا اس نے فوراً خزانے کے انچارج کو بلایا۔۔ انچارج نے ہیرے جواہرات کی بوری لے کر حاضر ہوا‘ بادشاہ نے پوری بوری الٹ دی لیکن جوں جوں جواہرات کشکول میں گرتے گئے کشکول بڑا ہوتا گیا۔۔ یہاں تک کہ تمام جواہرات غائب ہوگئے۔۔ بادشاہ کو بے عزتی کا احساس ہوا اس نے خزانے کہ منہ کھول دیئے لیکن کشکول بھرنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔۔ خزانے کے بعد وزراء کی باری‘ اس کے بعد درباریوں اور تجوریوں کی باری آئی‘ لیکن کشکول خالی کا خالی رہا۔۔ ایک ایک کے کے سارا شہر خالی ہوگیا لیکن کشکول خالی رہا۔۔ آخر بادشاہ ہار گیا درویش جیت گیا۔ درویش نے کشکول بادشاہ کے سامنے الٹا‘ مسکرایا‘ سلام کیا اور واپس مڑ گیا‘ بادشاہ‘ درویش کے پیچھے بھاگا اور ہاتھ باندھ کر عرض کیا۔۔ ” حضور ! مجھے صرف اتنا بتادیں یہ کشکول کس چیز کا بنا ہوا ہے ؟" درویش مسکرایا۔۔ ” اے نادان ! یہ خواہشات سے بنا ہوا کشکول ہے‘ جسے صرف قبر کی مٹی بھر سکتی ہے۔
-
سفید فام عورت کے تکبر پر ایک قسم کاتھپڑ
جنوب افریقیا کے شہر جوھانسبرگ سے لندن آتے ہوئے پرواز کے دوران، اکانومی کلاس میں ایک سفید فام عورت جس کی عمر پچاس یا اس سے کچھ زیادہ تھی کی نشست اتفاقا ایک سیاہ فام آدمی کے ساتھ بن گئی۔ عورت کی بے چینی سے صاف لگ رہا تھا کہ وہ اس صورتحال سے قطعی خوش نہیں ہے۔ اس نے گھنٹی دیکر ایئر ہوسٹس کوبلایا اور کہا کہ تم اندازہ لگا سکتی ہو کہ میں کس قدر بری صورتحال سے دوچار ہوں۔ تم لوگوں نے مجھے ایک سیاہ فام کے پہلو میں بٹھا دیا ہے۔ میں اس بات پر قطعی راضی نہیں ہوں کہ ایسے گندے شخص کے ساتھ سفر کروں۔ تم لوگ میرے لئے متبادل سیٹ کا بندوبست کرو۔ ایئر ہوسٹس جو کہ ایک عرب ملک سے تعلق رکھنے والی تھی نے اس عورت سے کہا، محترمہ آپ تسلی رکھیں، ویسے تو جہازمکمل طور پر بھرا ہوا ہے لیکن میں جلد ہی کوشش کرتی ہوں کہ کہیں کوئی ایک خالی کرسی تلاش کروں۔ ایئرہوسٹس گئی اور کچھ ہی لمحات کے بعد لوٹی تو اس عورت سے کہا، محترمہ، جس طرحکہ میں نے آپ کو بتایا تھا کہ جہاز تو مکمل طور پر بھرا ہوا ہے اور اکانومی کلاس میں ایک بھی کرسی خالی نہیں ہے۔ میں نے کیپٹن کو صورتحال سے آگاہ کیا تو اس نے بزنس کلاس کو بھی چیک کیا مگر وہاں پر بھی کوئی سیٹ خالی نہیں تھی۔ اتفاق سے ہمارے پاس فرسٹ کلاس میں ایک سیٹ خالی ہے۔ اس سے پہلے کہ وہ سفید فام عورت کچھ کہتی، ایئرہوسٹس نے اپنی بات کو مکمل کرتے ہوئے کہا، ہماری کمپنی ویسے تو کسی اکانومی کلاس کے مسافر کو فرسٹ کلاس میں نہیںبٹھاتی، لیکن اس خصوصی صورتحال میں کیپٹن نے فیصلہ کیا ہے کہ کوئی شخص ایسے گندے شخص کے ساتھ بیٹھ کر اپنا سفر ہرگز طے نا کرے۔ لہذا۔۔۔۔ ایئرہوسٹس نے اپنا رخ سیاہ فام کی طرف کرتے ہوئے کہا، جناب محترم، کیا آپ اپنا دستی سامان اُٹھا کر میرے ساتھ تشریف لائیں گے؟ ہم نے آپ کیلئے فرسٹ کلاس میں متبادل سیٹ کا انتظام کیا ہے۔ آس پاس کے مسافر جو اس صورتحال کو بغور دیکھ رہے تھے، ایسے فیصلے کی قطعی توقع نہیں رکھ رہے تھے۔ لوگوں نے کھڑے ہو کر پر جوش انداز سے تالیاں بجا کر اس فعل کو سراہا جو کہ اس سفید فام عورت کے تکبر پر ایک قسم کاتھپڑ تھا۔
-
File Recoverry Full Softwear
اردو ÙÙ† کلب ممبرز ! آج میں جو ساÙÙ¹ ویئر آپ سب سے شیئر کر Ø±ÛØ§ ÛÙˆÚºÛ” اس سے آپ Ø¨ÛØª سے ÙØ§Ø¦Ø¯Û’ Ù„Û’ سکتے Ûیں۔ویسے تو انٹر نیٹ پر Ûمیں Ø¨ÛØª سے ریکوری ساÙÙ¹ ویئر مل ÛÛŒ جاتے Ûیں۔مگر جب ÛÙ… ان Ú©Ùˆ انسٹال کرتے Ûیں ۔تو ÙˆÛ ÛŒØ§ تو ٹرائل Ûوتے Ûیں۔اور مکمل کام Ù†Ûیں کرتے ۔یا پھر ÙˆÛ Ø§Ù†Ø³Ù¹Ø§Ù„ Ûوتے ÛÛŒ پیسوں کا Ù…Ø·Ø§Ù„Ø¨Û Ú©Ø± لیتے Ûیں۔میرے اس ساÙÙ¹ ویئر میں بھی میری کوئی ذاتی خوبی Ù†Ûیں۔بس ÛŒÛÛŒ خوبی ÛÛ’ Ú©Û Ø³Ø§ÙÙ¹ ویئر مکمل طور پر جائ٠ٹائم رجسٹرڈ Ûے۔اور اردو ÙÙ† کلب پر ÙØ±ÛŒ میں شیئر کیا گیا Ûے۔اس سے آپ ÛŒÛ ØªÙ…Ø§Ù… Ùوائد ØØ§ØµÙ„ کر سکتے Ûیں۔ ÙÙØ§Ø¦Ù„ریکوری سے کسی اسکین کا کارکردگی کا Ù…Ø¸Ø§ÛØ±Û اور Ú©Ú¾Ùˆ جانے والی پارٹیشن ØŒ بوٹ Ú©Û’ شعبوں اور دیگر ÙØ§Ø¦Ù„ نظام اجزاء Ú©Ùˆ تلاش کریں. Ù ÙØ§Ø¦Ù„ ریکوری ونڈوز ایکسپلورر ونڈوز میں Ø¸Ø§ÛØ± Ù†Ûیں کر رÛÛ’ Ûیں Ú©Û ÚˆØ³Ú©Ø³ Ú©Û’ ساتھ کام کرنے Ú©Û’ لئے ڈیزائن . پروگرام مکمل ڈائریکٹری درخت ڈسک ( وصولی ntfs پارٹیشن Ûونا بھی شامل ÛÛ’) دکھاتا ÛÛ’ اور تلاش اور ÙØ§Ø¦Ù„ÙˆÚº Ú©ÛŒ وصولی Ú©Û’ ایک آسان کا مطلب ÙØ±Ø§ÛÙ… کرتا ÛÛ’. بلٹ ریکوری مددگار آپ Ú©Ùˆ مکمل طور پر ØŒ ÛŒÛØ§Úº تک Ú©Û Ø§ÛŒÚ© نوسکھئیے صار٠کے پروگرام Ú©ÛŒ صلاØÛŒØªÙˆÚº کا ادراک کرنے Ú©Û’ لئے اجازت دیتا ÛÛ’. پروگرام آپ Ú©ÛŒ معلومات Ú©ÛŒ وصولی Ú©Û’ لئے Ú©ÛŒ اجازت دیتا ÛÛ’ : • Ú©Ú¾Ùˆ جانے یا خارج کر دیا پارٹیشن سے. • نظام کریش جب . • ایک وائرس ØÙ…Ù„Û’ Ú©Û’ بعد . • غلط تنصیبات Ú©ÛŒ ÙˆØ¬Û Ø³Û’ Ú©Ú¾Ùˆ دیا. • پرسنل کمپیوٹر اور نیٹ ورک Ú©Û’ ماØÙˆÙ„ سے اس Ú©ÛŒ منظوری . • منطقی ڈرائیوز کرنے Ú©Û’ لئے کسی بھی نقصان Ú©ÛŒ صورت میں . • ڈیٹا Ú©ÛŒ منطقی ÚˆÚ¾Ø§Ù†Ú†Û ( ØØ§Ø¯Ø«Ø§ØªÛŒ ÙØ§Ø±Ù…یٹ ØŒ ÙØ§Ø¦Ù„ سسٹم ØØ§Ø¯Ø«Û’ ) Ú©Ùˆ Ù¾ÛÙ†Ú†Ù†Û’ والے نقصان Ú©ÛŒ صورت میں . نئی خصوصیات : خرابیوں کا سراغ لگانے ڈسک • برا بلاکس کا Ù¾ØªÛ Ù„Ú¯Ø§Ù†Û’ Ú©Û’ لئے ØªØ¬Ø²ÛŒÛ Ú©Û’ یونٹ چلائیں • ڈسک Ú©Û’ مختل٠مقدار میں Ù…Ù„Ø§ØØ¸Û کریں • یونٹوں Ú©Û’ استعمال پر ØªÙØµÛŒÙ„ÛŒ معلومات ØØ§ØµÙ„ کریں • Ù…ÙØµÙ„ ØªØ¬Ø²ÛŒÛ Ø§ÙˆØ± Ûوشیار ڈسک Ú©ÛŒ معلومات ØØ§ØµÙ„ کریں ڈسک ØŒ Ùورم Ú©Û’ اوزار • ایک تصویر بنائیں - منتخب Ø´Ø¯Û ÚˆØ³Ú© Ú©ÛŒ تصویر Ú©ÛŒ ÙØ§Ø¦Ù„ پر لکھنا . ویسے، ایک ڈسک Ú©ÛŒ ناکامی، Ø¨ØØ§Ù„ یا سروس Ú©Ùˆ واپس کیا جانا چاÛیے تھا. • تصویری Ø¨ØØ§Ù„ - منتخب Ø´Ø¯Û ÚˆØ±Ø§Ø¦ÛŒÙˆ پر ایک Ù…ÙˆØ¬ÙˆØ¯Û ØªØµÙˆÛŒØ± Ú©ÛŒ ÙØ§Ø¦Ù„ لکھتا ÛÛ’. • کاپی ڈسک - Ø¨Ø±Ø§Û Ø±Ø§Ø³Øª ایک اور منزل ڈسک ڈرائیو کرنے Ú©Û’ لئے منتخب نقل کرتا ÛÛ’. بڑی ÛØ§Ø±Úˆ ڈرائیوز کاپی Ú©Û’ لئے Ø¨ÛØª اچھا . عنوان ( Ûیکس - ناظر ) براؤز کریں • ایک Ûیکس ایڈیٹر اور دستی Ú©Û’ اعداد Ùˆ شمار ØØ§ØµÙ„ کرنے میں ڈسک دیکھنے . ایک Ûیکس ناظرین Ú©Û’ ساتھ منتخب Ø´Ø¯Û ÚˆØ±Ø§Ø¦ÛŒÙˆ Ú©Û’ مواد Ú©Ùˆ دیکھنے Ú©Û’ لئے اس اختیار Ú©Ùˆ منتخب کریں. اس سے آپ ایک ڈسک ØŒ Ûیکساگونل پیٹرن تلاش کرنے Ú©Û’ لئے اجازت دیتا ÛÛ’. ای میل Ú©ÛŒ Ø¨Ø§Ø²ÛŒØ§ÙØª • ÛŒÛ Ø®ØµÙˆØµÛŒØª ØµØ§Ø±Ù Ù…ÙˆØ¬ÙˆØ¯Û Ø§ÙˆØ± ای میلز Ú©Ùˆ پرنٹ یا آپ Ú©ÛŒ ÛØ§Ø±Úˆ ڈرائیو Ú©Ùˆ Ø¨ØØ§Ù„ / بچانے Ú©Û’ لئے خارج کر دیا دونوں Ú©Ùˆ دکھانے Ú©Û’ لئے منتخب Ø´Ø¯Û Ø§ÛŒ میل Ú©Û’ ڈیٹا بیس سے اشیاء Ú©Ùˆ دیکھنے اور Ø¨ØØ§Ù„ کرنے Ú©Û’ لئے اجازت دیتا ÛÛ’. تائید ای میل کلائنٹس Ú©Ùˆ آؤٹ Ù„Ú© ایکسپریس ØŒ موسم، ونڈوز لائیو میل، موزیلا ØŒ بیکی اور یوڈورا شامل Ûیں. ÛŒÛØ§Úº سے ڈاؤن لوڈ کریں
-
کنٹرول الٹ ڈیلیٹ کا شارٹ کٹ ایک غلطی تھی، بل گیٹس
کنٹرول الٹ ڈیلیٹ کا شارٹ کٹ ایک غلطی تھی، بل گیٹس مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ونڈوز لاگ ان کرنے کے لئے کنٹرول+الٹ+ڈیلیٹ کی کمانڈ کا استعمال ایک غلطی تھی۔ یہ کمانڈ جسے کمپیوٹر کے ابتدائی ایام میں کمپیوٹر کو ری بوٹ کرنے کے لئے متعارف کروایا گیا تھا،مائیکروسافٹ کے جدید ترین آپریٹنگ سسٹم ونڈوز8 میں بھی موجود ہے۔ خاص طور پر بلیو اسکرین آف ڈیتھ کے بعد کمپیوٹر کو ری بوٹ کرنے کے لئے اس شارٹ کٹ کا استعمال تقریباً دو دہائی سے جاری ہے۔ بل گیٹس نے اس شارٹ کٹ کمانڈ کا ذمے دار آئی بی ایم کو ٹھہرایا۔ بل گیٹس کا کہنا تھا کہ وہ صرف ایک بٹن پر مشتمل کمانڈ کے حق میں تھے۔ کنٹرول+الٹ+ڈیلیٹکی کمانڈ کے موجد آئی بی ایم کے ڈیوڈ براڈ لے تھے۔ ڈیوڈ ابتداء میں کنٹرول+الٹ+اسکیپکو بطور شارٹ کٹ استعمال کرنے کے حق میں تھے۔ لیکن چونکہ یہ تمام کیز ایک ہی ہاتھ سے دبائی جاسکتی ہیں اس لئے ڈیوڈ نے بعد میں کنٹرول+الٹ+ڈیلیٹکا استعمال تجویز کیا۔ ان کیز کو ایک ہی ہاتھ سے پریس کرنا ممکن نہیں ہے۔ آئی بی ایم کی بیسویں سالگرہ کے موقعے پر ڈیوڈ نے کہا تھا کہ یہ شارٹ کٹ ان کا تخلیق کردہ ضرور ہے لیکن اسے مشہور کرنے میں سارا ہاتھ بل گیٹس کا ہے۔ ہارورڈ یونی ورسٹی میں عطیات جمع کرنے کی ایک تقریب کے دوران بل گیٹس کا کہنا تھا کہ ہم کمپیوٹر ری بوٹ کرنے کے لئے صرف ایک بٹن چاہتے تھے لیکن آئی بی ایم کے کی بورڈ بنانے والے انجینئر اس پر راضی نہیں تھے۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ اگر کمپیوٹر ری بوٹ کرنے کے لئے ایک ہی بٹن ہونا چاہئے تھا یا کنٹرول الٹ ڈیلیٹ کی کمانڈ ہی مناسب ہے؟
-
Photo to illustration Vector Effect
ریئلی Ú¯Úˆ تھینکس ÙØ§Ø± دس ٹیٹورئیل
-
گرل فرینڈز
ہاہاہا لائک اٹ برادر کیپ اٹ اپ۔۔۔۔بہت بہت شکریہ
-
~!~ [ Crazy Head Tattoos by Various Artists... ] ~!~
ÛØ§ÛØ§ÛØ§Ûا رئیلی Ú¯Úˆ یار ۔۔۔ویری ÙÙ†ÛŒ
-
’تیونس سے خواتین جہاد النکاح کے لیے شام جاتی ہیں‘
اگر یہ تھریڈ کسی وجہ سے بحث کا سبب بنا تو اس کو ڈیلیٹ کر دیا جائے گا
-
~!~ [ Hasnain Here.... [ ~!~
میں تو جناب Ú©Ùˆ Ù¾ÛÙ„Û’ ÛÛŒ ویلکم کر چکا Ûوں۔۔۔۔۔ویلکم اگین۔۔۔۔انجوائے کریں۔
-
HI,i am irfan1397
سٹوری پوسٹ تو کرو۔آٹو اپروو کر دیا جائے گا۔شکریÛ
-
تحفہ از گرو سمراٹ
تحفہ ایک روز جب میں اپنے دوستوں مدثراور لکی کے ساتھ آوارہ گردی کر رہا تھا کہ اچانک وہ دکھائی دی۔ وہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ جھومتی، گنگناتی اور باتیں کرتی ہوئی چلی جا رہی تھی۔ اس کی سہلیاں بھی اگرچہ دلکش تھیں لیکن وہ تو ستاروں کے درمیان چودھویں کے چاند کی طرح روشن روشن دکھائی دے رہی تھی۔ اس کی روشنی کے آگے تمام روشنیاں پھیکی پڑ چکی تھیں۔ وہ بلاشبہ شاعر کے حسین ترین تصورات سے بھی زیادہ خوب صورت تھی۔ اس وقت صورت حال یہ تھی کہ وہ اپنی سہلیوں کے ہمراہ آگے آگے چل رہی تھی۔ ہم تینوں دوست ان سے چند گز کے فاصلے پر تھے۔ پھر ہم نے اپنی رفتار تیز کر دی لیکن ہمیں یہ دیکھ کر سخت مایوسی ہوئی کہ وہ اپنی سہلیوں کے ساتھ ایک گھر میں داخل ہو گئی۔ ہم منہ لٹکائے واپس ہو گئے۔ چند دنوں بعد وہ پھر ایک جگہ دکھائی دی۔ اس بار وہ تنہا تھی۔ پرس اپنے شانے پر لٹکائے متوازن رفتار سے چلی جا رہی تھی۔ لکی نے آنکھیں گھماتے ہوئے کہا۔ ’’میرا خیال ہے کہ اس وقت وہ ہمارے متعلق ہی سوچ رہی ہے۔ دیکھو۔ ذرا غور سے دیکھو وہ شاید پھول کی پتیوں سے یہ شگون لے رہی ہے کہ ہم تینوں میں سے کون اسے سب سے زیادہ چاہتا ہے۔ کون ایسا ہے جو نہیں چاہتا۔‘‘ لکی نے یہ بات اس کے قریب سے گزرتے ہوئے ذرا زور سے کہی۔ اس نے چونک کر کہا۔ ’’کون نہیں چاہتا۔‘‘ اس نے اپنے… تصورات کی دنیا سے واپس آتے ہوئے بڑی معصومیت سے پوچھا۔ اس کی آنکھوں میں حیرانی تھی۔ میں نے محسوس کیا کہ اس کی نگاہوں کا مرکز لکی ہے۔ ہمیں اپنی طرف متوجہ دیکھ کر وہ شرمندہ سی ہوگئی۔ ’’معاف کیجیے گا۔‘‘ اس نے ذرا ٹھہر کر کہا۔ ’’آپ لوگ غلط سوچ رہے ہیں۔ میں تو یہ سوچ رہی ہوں کہ کل کا پرچہ کیسا رہے گا؟‘‘ ’’کل کس مضمون کا پرچہ ہے؟‘‘ لکی نے دریافت کیا۔ ’’کیمسٹری کا۔‘‘ اس نے جواب دیا۔ ’’اگر تم برا نہ مانو تو میں اپنے نوٹس تمہیں کو دے سکتا ہوں۔‘‘ لکی نے چہک کر کہا۔ ’’اوہ! آپ کی بڑی نوازش ہوگی۔‘‘ لڑکی ممنونیت سے بولی۔ ’’میں اسے کہاں آپ کے پاس پہنچا ئوں؟‘‘ لکی نے دریافت کیا۔ ’’گرلز ہاسٹل، بلاک نمبر دو، دوسری منزل، کمرہ نمبر پانچ۔‘‘ ’’اور تمہارا نام؟‘‘ لکی نے دریافت کیا۔ ’’وفا ۔‘‘ لڑکی نے مختصر جواب دیا۔ ’’بہت خوب صورت نام ہے۔‘‘ لکی نے تبصرہ کیا۔ وفا نے مسکرا کر پہلے لکی کی طرف اور پھر ہماری طرف دیکھا اور چلی گئی۔ ہم ایک دو لمحے اسے جاتے ہوئے دیکھتے رہے۔ پھر خود بھی آگے بڑھ گئے اور اپنے اپنے انداز میں اس کی تعریف کرتے رہے۔ لکی اسے نوٹس دیتا رہا۔ یہ نوٹس ہم تینوں کی مشترکہ محنت سے تیار ہوئے تھے۔ ہماری مشترکہ محنت رنگ لائی اور وہ امتحان میں کامیاب ہو گئی۔ ہم اسے مبارک باد دینے کے لیے اس کے ہاسٹل گئے۔ ہمارے ہاتھوں میں گلدستے تھے۔ اس نے ہماری مبارک باد اور گلدستوں کا شکریہ ادا کیا۔ پھر ہم نے مل کر تھیٹر دیکھا۔ تھیٹر میں ہم خاصے بے تکلف ہوگئے۔ ہم ایک دوسرے کے قریب آ گئے۔ ہفتہ وار چھٹیوں میں سیروتفریح ایک معمول بن گئی۔ ہم تینوں ہی اسے پسند کرنے لگے اور تینوں ہی ایک دوسرے پر ظاہر کرتے کہ ہماری محبت خود غرضی سے پاک ہے۔ وفا بھی ہم تینوں کو پسند کرتی تھی۔ اس کی کسی بات سے یہ ظاہر نہیں ہوتا تھا کہ وہ ہم تینوں میں سے کسے زیادہ چاہتی ہے۔ پھر بھی میری اور مدثرکی رائے تھی کہ ہم دونوں کے مقابلے میں اس کا جھکائو لکی کی طرف ہے۔ اسی دوران جنگ شروع ہو گئی۔ ہم تینوں بلکہ چاروں ایک دوسرے سے علیحدہ ہو گئے۔ جب الوداعی ملاقات کے لیے ہم وفا کے پاس گئے تو ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم میں سے کوئی بھی ماسکو آئے تو وہ وفا سے ضرور ملے مگر ملاقات کے وقت میز کے گرد چار کرسیاں ہوں گی۔ چنانچہ جنگ کے دوران ہم جب بھی ماسکو آتے تو وفا سے ضرور ملتے مگر الگ الگ کیونکہ ہم الگ الگ ہی ماسکو آتے تھے۔ اور ہر موقع پر معاہدے کے مطابق میز کے گرد چار کرسیاں ہی رکھی جاتی تھیں۔ ہم میں سے جس نے بھی وفا سے ملاقات کی اس نے یہی محسوس کیا کہ ہم سب جدا ہونے کے باوجود وہاں موجود ہیں اوریقینا ایک دن ایسا بھی آئے گا جب ہم چاروں یکجا ہو جائیں گے۔ اس طرح کچھ مدت گزر گئی۔ پھر میں اور مدثرساتھ ساتھ ماسکو پہنچے۔ ہم وفا سے ملنے کے لیے بے چین تھے۔ ہم پہلی فرصت میں اس سے ملے۔ ملاقات کے وقت بدستور چار کرسیاں رکھی گئیں۔ وفا نے جنگ کے بارے میں بہت سی باتیں دریافت کیں۔ پھر لکی کے بارے میں خاص طور پر پوچھا۔ ہم نے اسے لکی کی خیریت سے آگاہ کیا اور اس کی بہت زیادہ تعریف کی۔ کیونکہ ہمیں احساس تھا کہ وہ لکی کو زیادہ پسند کرتی ہے۔ لکی اسے برابر خط لکھتا رہتا تھا۔ وفا نے ہمیں اس کا خط پڑھ کر سنایا جس میں اس نے لکھا تھا کہ اسے جلد ہی محاذ سے واپس بلایا جا رہاہے اور ماسکو کے قریب ایک فیکٹری میں متعین کیاجا رہا ہے۔ میں نے اور مدثر نے ایک ٹھنڈی سانس بھری۔ لیکن وفا نے فوراً محسوس کرتے ہوئے ہمیں تسلی دی۔ ’’سب کچھ ایسا ہی رہے گا دوستو جیسا کہ اب ہے۔ کسی امتیاز اور فرق کے بغیر تم تینوں ہی میرے دوست رہو گے مگر اس کی آنکھوں میں ہم نے خوشی کی ایک کرن دیکھی جو لکی کے قریب آنے کی اطلاع پر نمودارہوئی تھی۔ نومبر میں ایک بار پھر میں اور مدثر فوجی اعزازت کی تقسیم کی ایک تقریب میں شرکت کے لیے پہنچے اور وفا سے ملے۔ وفا نے فون کرکے لکی کوبھی ماسکو بلا لیا۔ اس طرح ایک طویل مدت کے بعد ہم تینوں ایک ساتھ ہی وفا سے ملے۔ وفا نے اس موقع پر اپنی چند سہیلیوں کو بھی دعوت دینا چاہی مگر ہم نے منع کردیا۔ ہم یہ ملاقات صرف اپنے تک محدود رکھنا چاہتے تھے۔ وفا نے اپنا سب سے زیادہ دیدہ زیب لباس پہنا۔ وہ اس لباس میں پہلے سے کہیں زیادہ حسین دکھائی دیتی تھی۔ ہم تینوں ہی اسے بڑی محویت کے ساتھ دیکھتے رہے اور ماضی کی خوش گوار یادیں تازہ کرتے رہے۔ وفا لکی سے اس کی نئی ملازمت کے بارے میں زیادہ تر دریافت کرتی رہی۔ پھر وہ باتیں کرتے کرتے اچانک بولی۔ ’’میں نے تم تینوں کے لیے بہت لذیذ کیک تیار کیا ہے۔ یہ کیک میری طرف سے تمہارے لیے آج کی ملاقات کی یاد میں خصوصی تحفہ ہے۔‘‘ میں سمجھ گیا کہ وفا نے یہ خصوصی تحفہ کیوں تیار کیا ہے۔ میں نے ہچکچاتے ہوئے کہا۔ ’’وفا میرا دوستانہ مشورہ ہے کہ…‘‘ اس نے میری طرف توجہ دیے بغیر کہا۔ ’’ہاں! ہاں کہو کیا بات ہے؟‘‘ مدثراور لکی دونوں مجھے دیکھنے لگے۔ میں نے کہا۔ ’’ہم تینوں تمہیں بے پناہ چاہتے ہیں اور…‘‘ وفا نے جلدی سے میری بات کاٹ دی۔ ’’میں بھی تم تینوں کو اتنا ہی پسند کرتی ہوں اور اس میں کسی کے لیے کوئی کمی بیشی نہیں۔‘‘ اس کے لہجے میں سادگی تھی مگر میں نے محسو س کیا کہ وہ یہ بات محض اخلاقاً کہہ رہی ہے۔ ورنہ حقیقتاً وہ دل سے کسی ایک کو ہی پسندکرتی ہے لیکن وہ ایک کون ہے اوروہ دو کون ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ مجھے یقین نہیں تھا کہ وہ دوکون ہو سکتے ہیں۔ ’’سنو وفا ! میں تسلیم کرتا ہوں کہ تم ہم تینوں کو ہی پسند کرتی ہو اور کسی ایک کو دوسرے پر ترجیح نہیں دیتیں لیکن اگر یہ بات سچ ہے تو ایسا کرو کہ تم کیک میں ایک سکہ چھپادو۔کیک تین مساوی حصوں میں تقسیم کیا جائے گا اور پھر جس کے حصے میں بھی سکہ آئے گا وہ…‘‘ ’’…خوش نصیب ہو گا۔‘‘ لکی نے لقمہ دیا۔ وفا شرمیلے انداز میں مسکرائی۔ ٹھیک ہے۔ ہم یہی کرتے ہیں۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ کمرے سے باہر چلی گئی اور ہم بے تابی سے پہلو بدلنے لگے۔ ’’وہ آج بہت خوب صورت لگ رہی ہے۔‘‘ مدثر نے کہا۔ ’’یہ کوئی نئی بات نہیں۔‘‘ لکی بولا۔ ’’وہ ہمیشہ ہی خوب صورت لگتی ہے۔‘‘ ’’لگے گی کیوں نہیں…‘‘ میں نے کہا۔ ’’جب ایک لڑکی کی تین امیدوار ہوں تو وہ خود بخود خوب صورت لگے گی۔‘‘ گفتگو اس سے آگے نہیں چل سکی کیونکہ ہم تینوں آنے والے وقت کے خیال سے مضطرب تھے۔ اگرچہ میں نے ہی قرعہ اندازی کی تجویز پیش کی تھی لیکن اب مجھے افسوس ہو رہاتھا بلکہ خود پر غصہ بھی آ رہا تھا کہ ایسی دل خراش تجویز میرے ذہن میں کیوں آئی اور اگر ذہن میں آ ہی گئی تو اس محفل میں اس کا اعلان کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ اس موقع پر مجھے یہ محاورہ بھی یاد آیا کہ ’’پہلے تولو، پھر بولو‘‘ لیکن اب معاملہ الٹ ہو گیاتھا۔ میں نے پہلے بول دیا تھا اور اب تول رہا ہوں اور ترازو کے اس پلڑے میں مجھے بے وزنی کی کیفیت محسوس ہورہی تھی۔ مدثر کی آواز نے مجھے چونکا دیا۔ ’’معلوم ہوتا ہے تم سخت نروس ہو۔‘‘ میں نے فوراً جواب دیا۔ ’’نہیں۔ تم غلط سمجھ رہے ہو۔ میں بالکل ٹھیک ہوں البتہ ایک بات میری سمجھ میں نہیں آئی کہ تم سلگائے بغیر کس طرح سگریٹ نوشی کر لیتے ہو۔‘‘ میں نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ وہ سگریٹ سلگائے بغیر ہی سگریٹ کے گہرے کش لے رہاتھا لیکن دھواں نہ نکلنے کے باوجود اسے خیال نہ آیا کہ سگریٹ میں ابھی لائٹر نے اپنا کردار ادانہیں کیا ہے۔ میری بات سن کر وہ کھسیانے پن سے مسکرایا۔ اس نے سگریٹ ہونٹوں سے نکال کر پیکٹ میں رکھ لیا۔ ’’شاید وہ آ رہی ہے۔‘‘ اس نے آہستہ سے کہا اور پھر چپ ہو گیا۔ آخر انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں۔ وفا ایک پلیٹ میں کیک لیے ہوئے آ گئی۔ اس نے پلیٹ میز پر رکھی اور کہنے لگی۔ ’’اسے کون کاٹے گا؟‘‘ ہم نے ایک دوسرے کی طرف مشورہ طلب نگاہوں سے دیکھا۔ مدثر نے کچھ سوچ کر کہا۔ ’’ہمارے خیال میں اسے تم ہی کاٹو۔‘‘ پھر اس نے تائید طلب نگاہوں سے ہم دونوں کی طرف دیکھا۔ میں نے کہا۔ ’’ہاں یہ ٹھیک ہے۔ ہم وفا کا ہاتھ اپنی تقدیر کا ہاتھ سمجھ لیں گے۔‘‘ ’’اور لکی تمہارا کیاخیال ہے؟‘‘ وفا نے لکی کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھ کر پوچھا۔ ’’میں اپنے دوستوں کی تجویز سے متفق ہوں۔‘‘ لیکن اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کا دور دور تک پتا نہیں تھا۔ وفا نے چھری اٹھائی اور کیک کو تین حصوں میں تقسیم کردیا۔ ہم تینوں نے اپنے اپنے حصے کا ٹکڑا اٹھا لیا لیکن کافی دیر تک کیک کھانے سے انکار کرتے رہے۔ آخر مدثر نے کہا۔ ’’شروع کرو جو ہو گا دیکھا جائے گا۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے کیک کھاناشروع کردیا۔ میں نے اور لکی نے بھی بادلِ ناخواستہ اس کی تقلید کی۔ ہم بہت خاموشی اور احتیاط کے ساتھ کیک کا ایک ٹکڑا اپنے منہ میں رکھتے اور اسے دیر تک زبان کے سہارے منہ میں پھیرتے۔ جب اطمینان ہو جاتا کہ اس میں سکہ نہیں ہے تو اسے حلق سے نیچے اتارتے۔ وفا ایک طرف بیٹھی یہ تماشا دیکھتی رہی۔ اسی عالم میں مدثر نے ہمیں مخاطب کیا۔ ’’ساتھیو!…‘‘ میں نے اور لکی نے فوراً اپنے سینوں پر ہاتھ رکھ لیے۔ ہم دونوں اس نتیجے پر پہنچے کہ شاید مدثرکو سکہ مل گیا ہے۔ اس کی آواز مجھے بہت دور سے آتی ہوئی محسوس ہوئی۔ ’’کیاخیال ہے انٹرول نہ کرویں۔ اس دوران ایک ایک سگریٹ پی لیں۔‘‘ ’’نہیں…‘‘ میں نے ایک جھٹکے سے کہا۔ ’’کیک ختم کرلیں۔ سگریٹ بعد میں پیئں گے۔‘‘ ابھی امید باقی ہے۔ میں نے دل ہی دل میں کہا۔ اسی لمحے لکی اٹھ کھڑا ہوا۔ خوشی سے اس کاچہرہ سرخ ہورہاتھا۔ ’’دوستو! میں نے مقابلہ جیت لیا ہے۔‘‘ اس نے مداری کی طرح اپنے منہ سے بیس کوپک کا سکہ نکال کرہمارے سامنے رکھ دیا۔ مدثر نے ٹھنڈی سانس بھری۔ ’’میں پہلے ہی جانتا تھا کہ لکی خوش قسمت ثابت ہوگا۔‘‘ لکی نے مسکرا کر وفا کی طرف دیکھا اور اس کے سامنے جا کر گھٹنے کے بل بیٹھ کر بولا۔ ’’ڈارلنگ! قسمت نے اپنا فیصلہ سنا دیاہے۔‘‘ اس کے بعد ہماری ملاقات چھ ماہ بعد ہوئی۔ لکی نے خط کے ذریعے ہمیں اطلاع دی تھی کہ ان کی شادی ہو چکی ہے لیکن ابھی شادی کی دعوت نہیں ہوئی ہے۔ ہمارے لیے یہ بات حیران کن نہیں تھی کیونکہ ہمیں معلوم تھا کہ ہماری شرکت کے بغیر شادی کی دعوت نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ دونوں میاں بیوی دعوت میں ہماری شرکت کے خواہاں ہیں۔ چنانچہ ہم نے بھی ان کی ازدواجی زندگی کی پہلی خوشی میں شامل ہونے کے لیے چھٹی لی اور ماسکو پہنچ گئے۔ وفا کے گھرکاجانا پہچانا زینہ ہم نے خاموشی سے طے کیا اور ڈرائنگ روم کے دروازے تک پہنچ گئے۔ اندر سے مسرت سے بھرپور قہقہوں کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ ہم نے گھنٹی کا بٹن دبا کر اپنی آمد کی اطلاع دی ۔ دروازہ لکی نے ہی کھولا تھا۔ میں نے اس کی پیشانی چوم کر اسے شادی کی مبارک باد دی۔ پھر وفا آئی اور ہم نے اسے بھی شادی کی مبارک باد دی اور خوش گوار مستقبل کے لیے نیک تمنائوں کا اظہار کیا۔ یہ باتیں بڑی سنجیدگی سے ہو رہی تھیں۔ اچانک وفا نے کہا۔ ’’دوستو! تم ہماری شادی کی دعوت میں آئے ہو۔ ہمارا تحفہ کہاں ہے؟‘‘ مدثر نے کچھ دیر تک خاموشی اختیار کی اور سوچ کر بولا۔ وفا تمہارا تحفہ ادھار رہا۔ البتہ ہم اپنے جگری یار کو ضرور تحفہ دیں گے۔‘‘ اس نے بیس کوپک کا سکہ اپنی جیب سے نکال کر بڑے ادب واحترام سے لکی کے پھیلے ہوئے ہاتھ پر رکھ دیا۔ لکی اس انوکھے تحفے پر حیران رہ گیا۔ لیکن یہ حیرانی چندلمحوں کی تھی۔ پھر شاید وہ سارا معاملہ آہستہ آہستہ سمجھنے لگا تاہم وہ خاموش رہا۔ البتہ اس کی بیوی اور ہماری سابقہ محبوبہ لکی کی طرف پیار سے دیکھتی ہوئی بولی۔ ’’دراصل میں نے اس کیک میں لینن کی تصویر والے تین سکے رکھ دیے تھے۔‘‘ اس کی بات سن کر میرے ساتھی مدثر کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ میں نے بیس منٹ تک اپنے حصے کا سکہ منہ میں دبا کر رکھاتھا۔ ’’اور میں تو اسے حلق کے راستے معدے میں اتارنے ہی والا تھا۔‘‘ میں نے لقمہ دیا۔ ُُہماری ان باتوں سے لکی کے چہرے پر شرمندگی کے آثار نمودار ہوئے اوروہ جھکی جھکی نگاہوں سے ہماری جانب دیکھنے لگا۔ ٭٭
- زندگی کی مشکلات
-
میری غیر فطری سوچ نے تین نسلوں کو خوار کر دیا
is good ....islamic words removed kar din plz
-
~Muhabbton.Ka.Beyopaar ~
soo noce update dear verry nice plz more.........
-
complete keemat wasool
thanks for this but jahan tak storie shere ho chuki hai app wahan se baqi storie apne nam se shee karin ,
-
یہ انداز ہمارا
ایک دن میں اپنے امی ابو کے ساتھ رسٹورنٹ کهانا کهانے گیا، وہاں ہمارے علاوه ایک جوان جوڑا اور ایک ستر اسی ساله میاں بیوی بیٹھے تھے۔ ہم سب نے اپنے اپنے کھانوں کا آرڈر دے دیا اور کهانے کا انتظار کر رہے تھے که ایک اور صاحب رسٹورنٹ میں داخل ہوئے۔ تهوڑی دیر میں اس صاحب کا فون بجا اور زور زور سے باتیں کرنے لگا، اس کے فون کی آواز اتنی آہسته تھی کہ مجھے سنائی تک نہ دی۔ وه فون بند کر کے زور زور سے کہنے لگا که آج آٹھ سال کے بعد میرے گھر بیٹا ہوا ہے اور اس خوشی میں، میں سب کو کڑاہی کھلاونگا۔ میں اپنی جگہ سے اٹها اور آگے جا کر اسے مبارک باد دی اور کہا کہ ہم نے اپنے کھانوں کا آرڈر دے دیا ہے، یہ سنتے ہی اس نے کہا اچها چلو تم جو کھانا چاہو میں تمہارے کهانوں کا بل بھرونگا، ہم سب نے اسکی خواہش کے پیش نظر کڑاہی ہی منگوا لی اس نے ہمارے کھانے کا بل بھرا اور اپنا کھانا پیک کرواکے چلا گیا۔ چند دن بعد میں اپنے دوستوں کے ہمراه سینما گیا، کہ اچانک میری نظر اسی شخص پر پڑھی جو ایک پانچ سال کے بچے کے ساتھ ٹکٹ لے رہا تھا، میں اپنے دوستوں سے کچھ لمحے کے لئے دور ہوا اور اس شخص کے پاس پہنچا، جونہی اس نے مجھے دیکھا اس کے چہرے پر میں نے عجیب تاثر کا احساس کیا، بہرحال سلام دعا کے بعد میں نے کہا کہ ماشاالله اپکا بیٹا چند دنوں میں اتنا بڑا ہوگیا. جونہی اس نے یہ الفاظ سنے کہا چھوڑو ان باتوں کو، جب اس نے یہ کہا تو میرا تجسس اور بڑھ گیا اور میں نے اصرار کیا کہ وه مجهے حقیقت بتائے، بہت اصرار پر اس نے بتایا کہ اس دن جب وه رسٹورنٹ میں داخل تو ہاتھ دھونے کے لئے گیا، اور ہاتھ دھوتے وقت میں نے اس بوڑهے اور بڑهیا کی آوراز سنی کہ بڑهیا کہہ رہی تھی بہت دن ہوگئے گوشت کھائے ہوئے آج کڑاہی کھاتے ہیں تو اس پر بوڑھے نے کہا کہ پورے مہینے کے لئے میرے پاس صرف ہزار روپے ہیں اگر کڑاہی کهائیں گے تو پورے مہینے گزارا کیسے ہوگا؟ آج بھی صرف تمہاری ضد کی وجہ سے ہوٹل آئے ہیں۔ اس نے کہا کہ اسی وجہ سے میں نے یہ ڈراما کیا۔ میں نے سوال کیا کہ صرف انہی کے پیسے دے دیتے، تو اس نے جواب دیا میں انکی بے عزتی نہیں کرنا چاہتا تھا۔ یہ کہہ کر وہ خدا حافظ کہہ کر چلا گیا اور میں سوچ میں گم وہیں کھڑا رہا اسے دیکھتا رہا
-
بیٹیاں ہمیشہ قیمتی ہوتی ہیں
شادی کی پہلی رات میاں بیوی نے فیصلہ کیا کہ جب وہ کمرے میں پہنچ جائیں گے تو پھر دروازہ نہیں کھولیں گے چاہے کوئی بھی آ جائے. ابھی دروازہ بند ہوئے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ دلہے کے والدین کمرے کے باہر پہنچے تاکہ اپنے بیٹے اور بہو کو نیک تمناؤں اور راحت بھری زندگی کی دعا دے سکیں، دستک ہوئی بتایا گیا کہ دلہے کے والدین باہر موجود ہیں. دلہا دلہن نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا باوجود اس کے کہ دلہا دروازہ کھولنا چاہتا تھا اس نے اپنے فیصلے کو مدنظر رکھا اور دروازہ نہیں کھولا. والدین ناکام واپس لوٹ گئے. ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ دلہن کے والدین بھی دلہے کے گھر جا پہنچے تاکہ اپنی بیٹی اور داماد کو اپنی نیک خواہشات پہنچا سکیں اور انہیں سکھی زندگی کی دعا دے سکیں. ایک بار پھر کمرے کے دروازے پر دستک دی گئی اور بتایا گیا کہ دلہن کے والدین کمرے کے باہر موجود ہیں. دلہا دلہن نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا پھر اپنا فیصلہ ذہن میں تازہ کیا. باوجود اس کے کہ فیصلہ ہو چکا تھا دلہن کی آنسوؤں بھری سرگوشی سنائی دی نہیں میں اپنے والدین کے ساتھ ایسا نہیں کر سکتی اور فورا دروازہ کھول دیا. شوہر نے یہ سب دیکھا مگر دلہن کو کچھ نا کہا خاموش رہا. اس بات کو برسوں بیت گئے ان کے ہاں چار بیٹے پیدا ہوئے اور پانچویں بار ایک بیٹی پیدا ہوئی. شوہر نے ننھی گڑیا کے اس دنیا میں آنے کی خوشی میں ایک بہت بڑی پارٹی کا انتظام کیا اور اس پارٹی میں ہر اس شخص کو بلایا جسے وہ جانتا تھا اور خوب خوشیاں منائی گئیں. اس رات بیوی نے اپنے شوہر سے پوچھا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ آپ نے اتنی بڑی پارٹی کا اہتمام کیا جبکہ اس سے پہلے چاروں بچوں کی پیدائش پر ہم نے یہ سب کچھ نہیں کیا. شوہر مسکرایا اور بولا۔۔۔۔ یہ وہ ہے جو میرے لئے دروازہ کھولے گی. بیٹیاں ہمیشہ قیمتی ہوتی ہیں
-
~Muhabbton.Ka.Beyopaar ~
ویلکم بیک جٹ ØµØ§ØØ¨ ایک طویل غیر ØØ§Ø¶Ø±ÛŒ Ú©Û’ بعد واقعی ایک دھماکے دار انٹری دی ÛÛ’Û”Ú©ÛØ§Ù†ÛŒ Ø¨ÛØª اچھی ÛÛ’ مزید اپڈیٹ اور Ú©ÛØ§Ù†ÛŒÙˆÚº کا انتظار رÛÛ’ Ú¯Ø§Û”Ø¨ÛØª Ø¨ÛØª شکریÛÛ”Ú©Ú†Ú¾ پوائنٹس اور ریپو آپ Ú©Û’ لیئے Ú¯ÙÙ¹
-
48 دن کی بیٹری والا نوکیا آشا 501 اسمارٹ فون پاکستان میں جاری
نوکیا نے آج اعلان کیا ہے کہ نئے آپریٹنگ سسٹم پر چلنے والا پہلا اسمارٹ فون نوکیا آشا 501 ایک ہفتے کے اندر پاکستان میں جاری کردیا جائے گا۔ بیک وقت پاکستان اور تھائی لینڈ میں پیش کیا جانا والا نوکیا آشا 501 آنے والے ہفتوں میں یورپ، مشرق وسطیٰ اور افریقہ، ایشیا بحر الکاہل اور لاطینی امریکہ میں جاری ہوگا۔ بتایا گیا ہے کہ امریکہ، کینیڈا اور یورپی مارکیٹیں آشا 501 نہیں دیکھ سکیں گی کیونکہ ان بڑی مارکیٹوں پر نوکیا اپنی لومیا سیریز کے ذریعے نظریں مرکوز کیے ہوئے ہے۔ نوکیا آشا 501 نوکیا کی نئی اسمارٹ فون رینج کا حصہ ہے، جس کا مقصد ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں ان صارفین کو ہدف بنانا ہے جو پہلی بار اسمارٹ فون حاصل کرنے جا رہے ہیں۔ ایگزیکٹو وائس پریزیڈنٹ، موبائل فونز، نوکیا ٹیمو ٹوئیکانن نے کہا کہ “نیا نوکیا آشا 501 صارفین کو انگلیوں کی محض چند حرکتوں پر ان سب چیزوں تک فوری رسائی فراہم کرنے میں مدد دیتا ہے جنہیں وہ پسند کرتے ہیں۔ اپنے خوبصورت ڈیزائن کے ساتھ یہ اسمارٹ فون صرف دیکھنے ہی میں نہیں بلکہ کام میں بھی اعلیٰ ہے، اور بہترین قیمت کا حامل بھی۔” یہ امر قابل ذکر ہے کہ آشا سیریز فیچر فونز کا سلسلہ سمجھی جاتی ہے، لیکن فن لینڈ کے اس موبائل فون بنانے والے ادارے نے ایس40 میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کر کے اسمارٹ فون آپریٹنگ سسٹم کے دعوے کے ساتھ آشا 501 اسمارٹ فون جاری کیا ہے۔ نوکیا نے کہا کہ آشا 501 پاکستان میں تقریباً 10 ہزار روپے کی قیمت پر اور چھ رنگوں میں دستیاب ہوگا۔ امتیازی رنگ اور ڈیزائن نوکیا آشا 501 چھ رنگوں میں دستیاب ہے: ہلکے نیلے، شوخ سرخ، پیلے، شوخ سبز، سیاہ اور سفید میں۔ اس کا ہموار ڈیزائن صرف دو حصوں میں تقسیم ہے: ایک پائیدار اور ہٹانے کے قابل شیل اور اسکریچ سے محفوظ مضبوط گلاس ڈسپلے۔ چھوٹا اور استعمال میں آسان نوکیا آشا 501 صرف 98 گرامز وزن رکھتا ہے اور لانے لے جانے کے لیے بہترین ہے۔ تیز،حساس انٹرفیس نوکیاآشا 501 ایک سادہ سی حرکت پر کام کرتا ہے۔ سوائپ ہی فون کو ان لاک کرتا ہے، ایپس کو بند کرتا اور دو اسکرینز – ‘ہوم’ اور ‘فاسٹ لین’ – کے درمیان منتقل کرتا ہے۔ ہوم تین انچ کی کیپیسٹو ٹچ اسکرین کا مکمل استعمال کرتے ہوئے روایتی ایپلی کیشن لانچر ظاہر کرتاہے۔ فاسٹ لین دوسری اسکرین ہے جو فون پر حالیہ سرگرمی کو ظاہر کرتی ہے اور ساتھ ساتھ آنے والے مواقع کے بارے میں بتاتی ہے اور لوگوں کو ملٹی ٹاسک میں مدد دیتی ہے۔ فاسٹ لین فیس بک اور ٹوئٹر کے ساتھ سوشل انٹیگریشن کو بھی سپورٹ کرتی ہے، اور لوگوں کو فاسٹ لین سے براہ راست پوسٹ کرنے کی سہولت دیتی ہے۔ ایپس تک فوری رسائی اور بہت کچھ نیا آشا پہلے سے نوکیا ایکسپریس براؤزر کا حامل ہے جو انٹرنیٹ ڈیٹا کو 90 فیصد تک کم کردیتا ہے اور یوں موبائل براؤزنگ کو تیز تر اور سستا بناتا ہے۔ صارفین نوکیا آشا 501 کے ذریعے تفریح کی دنیا کا بھی لطف اٹھا سکتے ہیں کیونکہ اس میں فیس بک اور ٹوئٹر جیسی سوشل ایپس؛ لائن، نمبز اور وی چیٹ جیسی چیٹ سروسز پہلے سے انسٹال ہیں جبکہ 40 تک مفت ای اے گیمز بھی ڈاؤنلوڈ کے لیے دستیاب ہوں گے جیسا کہ پلانٹ ورسز زومبیز۔ ان کے علاوہ نوکیا اسٹور سے ڈھیروں مفت ایپس بھی حاصل کی جا سکتی ہیں جس میں شامل ہیں ہیئر میپس اور مواد کی تلاش کے لیے نئی ویب ایپ نوکیا ایکسپریس ناؤ ۔ 48 دن کی بیٹری نوکیا آشا 501 کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس میں ایک سم استعمال کرتے ہوئے 48 دن کا زبردست بیٹری اسٹینڈبائے ہے ۔ خصوصیات سائز اونچائی: 99.2 ملی میٹر چوڑائی: 58 ملی میٹر موٹائی: 12.1 ملی میٹر وزن: 98 گرامز [*]ڈسپلے ڈسپلے سائز: 3 انچ، ٹچ اسکرین کیو وی جی اے (320 ضرب 240) کنیکٹیوٹی سم کارڈ ٹائپ: مائیکرو سم یو ایس بی 2.0، بلوٹوتھ 3.0، ڈبلیو لین آئی ای ای ای 802.11 بی/جی/این، جی پی آر ایس، ایج [*]میموری صارف ڈیٹا اسٹوریج: ڈیوائس میں، میموری کارڈ میموری کارڈ کی قسم: مائیکرو ایس ڈی میموری کا زیادہ سے زیادہ سائز: 32 جی بی کیمرہ بنیادی کیمرے کا سینسر: 3.2 میگاپکسل [*]4 جی بی اضافی میموری (موبائل کے ساتھ مفت)، جسے 32 جی بی تک بڑھایا جا سکتا ہے [*]چالیس مفت ای اے گیمز جن کی مالیت 75 یوروز ہے نوکیا اسٹور سے ڈاؤنلوڈ کیے جا سکتے ہیں [*]دستیاب رنگ شوخ سرخ شوخ سبز ہلکا نیلا پیلا سفید سیاہ بیٹری: 2جی پر زیادہ سے زیادہ اسٹینڈبائے: 1152 گھنٹے 2جی پر زیادہ سے زیادہ ٹاک ٹائم: 17 گھنٹے
-
i am new user
ویلکم جناب
-
HI,i am irfan1397
جی شاید ÛŒÛ Ø¢Ù¾ Ú©Û’ لیئے ØÛŒØ±Ø§Ù† Ú©Ù† ثابت ÛÙˆ ۔مگر اردو ÙÙ† کلب میں ممبر اپنے کام Ú©ÛŒ ÙˆØ¬Û Ø³Û’ Ù¾Ûچانا جاتا Ûے۔آپ کا ÛŒÛØ§Úº آنا Ûمارے لیئے Ù†ÛØ§ÛŒØª خوشی کا باعث ÛÛ’Û”Ûمیں آپ Ú©ÛŒ طر٠سے ٹیلنٹ شیئر کرنے کا انتظار Ûے۔آپ اپنا قدم بڑھائیں۔وقت خود آپ Ú©Û’ لیئے دوست اور آسانیاں پیدا کرتا جائے گا۔شکریÛ
-
بجلی پیدا کریں۔ گل نوخیز اختر
پانچ گھنٹے سے لائٹ غائب تھی‘ شدید گرمی سے تنگ آکرمیں نے واپڈا کے دفتر فون کیا اور پوچھا کہ’’ حضور یہ غیر علانیہ لوڈشیڈنگ کیوں ؟ ‘‘۔۔۔جواب ملا’’بڑی معذرت‘ لیکن اب علانیہ سن لیجئے کہ یہ اکثر ہوتی رہے گی‘‘۔ ساتھ ہی فون بند ہوگیا ۔ مجھے بڑا مان تھا کہ میں نے لوڈشیڈنگ سے نمٹنے کے تمام انتظامات مکمل کرلیے ہیں‘ یو پی ایس کی بیٹریاں بھی بدلوا لی ہیں‘ چارجنگ فین بھی لے لیا ہے‘ جنریٹر بھی پٹرول سے فل کروا لیا ہے ‘ یہ ساری تیاریاں ایک ایسی لوڈشیڈنگ کے لیے تھیں جس میں لائٹ لمبی چلی جاتی ہے ۔اُس روز بھی ایسا ہی ہوا‘ لائٹ جاتے ہی یو پی ایس آن ہوگیا‘ دو گھنٹے بعد یو پی ایس ختم ہوا تو چارجنگ فین نے کام شروع کر دیا‘ ایک گھنٹے بعد وہ بھی نڈھال ہوگیاتو میں نے جلدی سے اٹھ کر جنریٹر سٹارٹ کیا‘ الحمدللہ پنکھا پھر سے چلنے لگا‘ لیکن دو گھنٹے مزید گزرگئے اور جنریٹر کا پٹرول بھی ختم ہونے لگا تو مجھے یقین ہوگیا کہ میں واپڈا سے شکست کھا گیا ہوں۔۔۔تاہم اس موقع پر ہمیشہ کی طرح میرا اخبار’’نئی بات‘‘ میرے کام آیا اور جب تک بجلی نہیں آگئی‘ میں اسی سے پنکھا جھلتا رہا۔ گرمی اور لوڈشیڈنگ نے لوگوں کی مت مار کے رکھ دی ہے‘ سوال کچھ پوچھیں‘ جواب کچھ ملتاہے۔میں نے کل اپنے ہمسائے سے پوچھا ’’گرمی کچھ زیادہ نہیں ہوگئی؟‘‘ اطمینان سے بولا’’ہاں۔۔۔لیکن قیمے والا نان زیادہ اچھا ہوتاہے‘‘۔ میں نے بوکھلا کر گرمی اور قیمے والے نان کے درمیان تعلق تلاش کرنے کی کوشش کی اور دوبارہ پوچھا’’بھائی جی! قیمے والے نان کا گرمی سے کیا تعلق؟‘‘ گھور کر بولا’’مجھے کیا پتا۔۔۔کسی ترکھان سے پوچھو‘‘۔۔۔میں سمجھ گیا کہ موصوف کو اندرونی و بیرونی گرمی مار گئی ہے لہٰذا بڑے ادب کے ساتھ ان کا ہاتھ پکڑ کر دکان پر لے گیا اور ایک عددصابن مع ایک عدد بوتل روح افزاء گفٹ کر دی۔ گرمی سے نمٹنے کے لیے لوگوں نے عجیب و غریب نسخے استعمال کرنا شروع کیے ہوئے ہیں‘ میرے محلے میں ایک صاحب ’’ستو ‘‘ والے پانی سے تاری لگاتے ہیں اور رات کو ائیر کولر میں پانی کی بجائے کچی لسی بھرکے چلاتے ہیں۔اُنہوں نے چھت والے پنکھے کے ساتھ ایلفی سے فالسے چپکائے ہوئے ہیں‘ دلیل یہ دیتے ہیں کہ فالسہ ٹھنڈا ہوتاہے۔اپنا نام انہوں نے سلطان جابر کی بجائے ’’سلطان تربوز‘‘ رکھ لیا ہے ۔روزدوپہرایک ڈیڑھ بجے چھٹی کے وقت گرلز کالج کے باہر کھڑے ہوجاتے ہیں‘ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح آنکھوں کو ٹھنڈک نصیب ہوتی ہے۔لباس کے معاملے میں بھی انہوں نے گرمی کا بہترین توڑ نکالا ہے‘ فریج کا نیچے والا خانہ خالی کروا کے اس میں اپنے استری کیے ہوئے کپڑے رکھ دیے ہیں‘ یوں ہر وقت ٹھنڈا لباس پہنتے ہیں۔چائے میں برف ڈال کے پیتے ہیں اوردوپہر کو جسم پر برف کے گولے کی مالش کرواتے ہیں۔ اُن کے گھر والے ٹھنڈے پانی کو ترس گئے ہیں کیونکہ موصوف نے فریج کے دروازے کے سامنے چارپائی لگوا لی ہے اور سارا سارا دن فریج کا دروازہ کھول کر ٹھنڈی ہوا لیتے ہیں ۔انہوں نے ہر گرم چیز سے سخت پرہیز شروع کر دی ہے‘ مثلاً آم نہیں کھاتے‘ چکن سے دور ہوگئے ہیں اور بیگم کو میکے بھجوا دیا ہے۔۔۔!!!۔ بدترین لوڈشیڈنگ اور گرمی سے تنگ آکر میں نے سوچ لیا ہے کہ اس ملک میں رہنا ہے تو اپنی بجلی خود پیدا کرنی ہوگی‘ یقین کریں بجلی کی بندش کی وجہ سے پسینے کا یہ عالم ہوتا ہے کہ دفتر سے واپسی پر نہانے کی بجائے سروس کرانے کو جی چاہتا ہے۔ میں نے بجلی سے نمٹنے کے لیے کچھ طریقے سوچے ہیں‘ آپ بھی اِن سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ایک نہایت سستا اور آسان طریقہ تو یہ ہے کہ مری‘ کاغان یا گلگت شفٹ ہوجائیں‘ اگر اس میں پرابلم ہو تو لوکل نسخہ یہ ہے کہ سائیکل کی پرانی ٹیوبیں اکٹھی کریں‘ سب کو پنکچر لگوا کے ہوا بھروا لیں اوربیڈ کے نیچے سٹور کر لیں۔ جب بھی لائٹ لمبی جائے اور گرمی لگے تو ٹیوب کا وال کھول کر چہرے کے قریب کرلیں ‘ زندگی آسان ہوجائے گی۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ململ کی دھوتیاں سلوا لیں‘ دھوتی وہ واحد لباس ہے جس میں سخت گرمی میں بھی ’’ہولے ہولے سے ہوا لگتی ہے‘‘۔ تیسرا طریقہ یہ ہے کہ کسی اے ٹی ایم مشین کے باہر Not Working کا کاغذ چپکا کر خوداندر آرام سے ٹانگیں پسار کے سو جائیں ‘ ایمان سے بڑا ٹھنڈا ماحول ہوتاہے۔چوتھا طریقہ ہے کہ ٹنڈ کروا لیں‘ لیکن ٹنڈ کی بجائے wax کروا لیں تو زیادہ مناسب رہے گا ‘ اس سے گرمی بھی نہیں لگتی اور سر پر بار بار ہاتھ پھیرنے کو بھی دل کرتاہے۔پانچواں طریقہ یہ ہے کہ روز رات کوکسی بس کی چھت پر بیٹھ کر اپنے شہر سے پانچ سو کلومیٹر دور نکل جایا کریں ۔۔۔ہوا بھی لگے گی ‘ جھولے بھی آتے رہیں گے اور نیند بھی نہیں ٹوٹے گی۔چھٹا طریقہ یہ ہے کہ اپنے کمرے میں بیس کبوتر چھوڑ کر کمرہ بند کردیں اور ہاتھ میں ایک چھڑی لے کر سوجائیں‘ جب بھی گرمی لگے‘ چھڑی زور سے دیوار پر ماریں‘ کبوتر گھبرا کر پھڑپھڑائیں گے اور یوں مفت کی ہوا ملے گی‘ لیکن یاد رہے کہ اس طریقے پر عمل کرنے سے پہلے کبوتروں کو بھوکا رکھنا بہت ضروری ہے ورنہ ایک ہی رات میں ٹشو کا سارا ڈبہ ختم ہوسکتا ہے۔۔۔!!!ساتواں طریقہ ذرا مشکل ہے‘ کمزور دل والے حضرات اس پر بالکل عمل نہ کریں۔ طریقہ یہ ہے کہ کسی بھی سرکاری ہسپتال کے مردہ خانے کے انچارج کو چار پیسے لگائیں ‘ ایک بیڈ حاصل کریں اور Chill کریں ۔ یہاں نہ ٹی وی کی آواز آئے گی‘ نہ خراٹوں کی ۔۔۔لیکن اخلاق کا تقاضا ہے کہ آپ بھی اپنی آوازوں پر کنٹرول رکھیں۔اسی سے ملتا جلتا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ محلے میں جہاں بھی کوئی فوتیدگی ہوجائے وہاں فوراً پہنچیں‘ آج کل میت کے سرہانے برف رکھ کر پنکھا چلا دیا جاتاہے‘ آپ نے صرف یہ کرنا ہے کہ پنکھے کے عین سامنے آکر دھاڑیں مار مار کر رونا ہے اور کوشش کرنی ہے کہ جنازہ زیادہ سے زیادہ لیٹ ہوجائے‘ اگر میت کے لواحقین تدفین کے لیے جلدی پر زور دے رہے ہوں تو انہیں باور کرائیں کہ یہ ٹھیک طریقہ نہیں ‘ پہلے پاکستان کے تمام شہروں سے مرحوم کے رشتہ داروں کو آلینے دیں۔۔۔!!! کاش کبھی ایسا بھی ہو کہ گرمیاں ‘ سردیوں میں آئیں‘ یقین کریں جون جولائی کا لطف دوبالا ہوجائے گا۔ انتخاب ۔گرو سمراٹ ۔۔۔تحریر ۔گل نوخیز اختر
-
HI,i am irfan1397
ویلکم برادر
-
الیکشن 2013 نتائیج کی کچھ جھلکیاں
الیکشن 2013 نتائج کی کچھ جھلکیاں لاہور (نمائندگان + نوائے وقت رپورٹ) قومی اسمبلی کی 268 سیٹوں کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے 125 پر برتری لی ہوئی تھی جبکہ تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی پیچھے تھیں، تحریک انصاف 35 اور پیپلز پارٹی 32 پر سبقت لئے ہوئے تھی۔ الیکشن میں حصہ لینے والے کئی برج الٹ گئے، پرویز اشرف، منظور وٹو، فردوس عاشق، قمر الزمان کائرہ، نذر گوندل، صمصام بخاری، ابرار الحق، امیرمقام، سردار مہتاب عباسی، غلام احمد بلور ہار گئے۔ اے این پی قومی اسمبلی کی کوئی نشست نہ جیت سکی۔ این اے 68 سے نوازشریف نے 78111 ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کر لی جبکہ ان کے مخالف تحریک انصاف کے نور حیات کلیار نے 28372 ووٹ حاصل کئے۔ این اے 1 پشاور سے پی ٹی آئی کے عمران خان 66465 ووٹوں کے ساتھ جیت گئے۔ اے این پی کے غلام احمد بلور نے شکست تسلیم کر لی۔ وہ 1427 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 17 ایبٹ آباد سے پی ٹی آئی کے ڈاکٹر محمد اظہر خان 35414 ووٹوں سے آگے تھے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے سردار مہتاب عباسی 18802 ووٹوں کے ساتھ دوسری پوزیشن پر تھے۔ این اے 116 نارووال کے 104 پولنگ سٹیشنوں سے ملنے والے نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے دانیال عزیز 36831 ووٹ لیکر پہلے نمبر پر جبکہ پیپلز پارٹی کے طارق انیس چودھری 14424 ووٹ لیکر دوسرے نمبر تھے۔ این اے 170 وہاڑی 4 مسلم لیگ (ن) کے سعید احمد خان منہیس 58706 ووٹوں کے ساتھ پہلے پی ٹی آئی کے اورنگ زیب خان کھچی 46900 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 226 میرپور خاص میں پی پی پی کے حسین شاہ جیلانی 19354 ووٹوں کے ساتھ برتری لئے ہوئے تھے۔ مسلم لیگ فنکشنل کے قربان علی شاہ 6548 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 213 نواب شاہ سے پی پی پی کی ڈاکٹر عذرا افضل 7118 ووٹوں کی برتری لئے ہوئے تھیں۔ آزاد امیدوار سردار شیر محمد رند 1078 ووٹوں کے ساتھ دوسری پوزیشن پر تھے۔ این اے 222 ٹنڈو محمد خان پیپلز پارٹی کے نوید قمر 30939 ووٹوں کے ساتھ سبقت لئے ہوئے تھے۔ مسلم لیگ فنکشنل کے سجاد سرہندی 9302 ووٹوں کے ساتھ دوسری پوزیشن پر تھے۔ این اے 51 راولپنڈی مسلم لیگ (ن) کے جاوید اخلاص 82330 ووٹوں سے کامیاب ہو گئے، پیپلز پارٹی کے راجہ پرویز اشرف نے 21125 ووٹ لئے۔ پشاور 2 این اے 2 سے تحریک انصاف کے انجینئر حامد الحق کامیاب قرار پائے، انہوں نے 41361 ووٹ حاصل کئے۔ این اے 233 دادو پیپلز پارٹی کے عمران ظفر لغاری 12369 کے ساتھ برتری لئے ہوئے تھے، مسلم لیگ (ن) کے لیاقت علی خان جتوئی 9082 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھے۔ ضلع میانوالی کے قومی اسمبلی کے دونوں حلقوں سے تحریک انصاف نے بھاری ووٹوں کی برتری سے جیت لی ہیں، غیر سرکاری نتائج کے مطابق حلقہ این اے 71 سے عمران خان نے بھاری اکثریت سے مدمقابل مسلم لیگ (ن) کے امیدوار عبید اللہ شادی خیل کو شکست دی ہے۔ اسی طرح تحریک انصاف کے امجد علی خان نے مسلم لیگ (ن) کے حمیر حیات روکھڑی کو بھاری ووٹوں سے شکست دی ہے، امجد علی خان نے 95270 سے زیادہ ووٹ حاصل کئے جبکہ مدمقابل مسلم لیگ (ن) کے حمیر حیات روکھڑی نے 30500 کے قریب ووٹ حاصل کئے ہیں۔ این اے 133 ننکانہ صاحب مسلم لیگ (ن) محمد برجیس طاہر 11926 ووٹوں کے ساتھ لیڈ ہوئے تھے۔ پی ٹی آئی کے محمد ارشد ساہی 6647 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 139 قصور 2 میں مسلم لیگ (ن) کے وسیم اختر شیخ 29620 ووٹوں کے ساتھ سبقت لئے ہوئے تھے۔ پی پی پی کے چودھری منظور احمد 13619 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 150 ملتان 3 میں پی ٹی آئی کے مخدوم شاہ محمود قریشی 12616 ووٹ لیکر آئے تھے۔ مسلم لیگ (ن) رانا محمود الحسن 10655 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھے۔ رائے ونڈ سے نامہ نگار کے مطابق این اے 128 سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ملک محمد افضل کھوکھر 98491 ووٹ لے کر پہلے جبکہ پی ٹی آئی اے کے ملک کرامت علی کھوکھر 57020 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھے۔ حسب سابق خواتین نے مردوں کے مقابلے میں زیادہ ووٹ ڈالے جبکہ نتائج کے آنے پر مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کے نعرے بازی اور ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالنے کا سلسلہ جاری رہا۔ این اے 227 میرپور خاص میں پیپلزپارٹی کے میر منور علی تالپور 56685 ووٹ لیکر آگے تھے۔ مسلم لیگ فنکشنل کے سید عنایت علی شاہ 13301 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 141 قصور 4 سے مسلم لیگ (ن) کے رانا محمد اسحاق خان 60231 ووٹ لے کر آگے تھے جبکہ آزاد امیدوار آصف نکئی 35599 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 228 عمر کوٹ (اولڈ میرپور خاص 3) پیپلزپارٹی کے نواب محمد یوسف تالپور 25692 ووٹ لیکر آگے تھے۔ تحریک انصاف کے مخدوم شاہ محمود قریشی 21071 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 186 بہاولپور 4 میں مسلم لیگ (ن) میاں ریاض حسین پیرزادہ 24145 ووٹوں سے برتری لئے ہوئے تھے۔ مسلم لیگ ق کے طارق بشیر چیمہ 15312 ووٹ لیکر دوسری پوزیشن پر تھے۔ این اے 110 سیالکوٹ میں مسلم لیگ (ن) خواجہ محمد آصف 932667 ووٹ لے کر جعیت گئے پی ٹی آئی کے محمد عثمان ڈار 70312 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ این اے 115 ظفروال مسلم لیگ (ن) کے میاں رشید 67760 ووٹوں سے جیت گئے جبکہ آزاد امیدوار عرفان عابد 36234 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ این اے 59 اٹک 3 سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار آصف علی ملک 15831 ووٹوں کے ساتھ پہلے نمبر پر رہے جبکہ آزاد امیدوار محمد زین الٰہی 10706 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ این اے 137 ننکانہ میں مسلم لیگ (ن) کے رائے منصب علی خان 39499 ووٹ لیکر آگے تھے جبکہ آزاد امیدوار مہر اعجاز احمد 30084 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 95 گوجرانوالہ سے مسلم لیگ (ن) کے عثمان ابراہیم 30782 ووٹوں کے ساتھ برتری حاصل کئے ہوئے تھے جبکہ پی ٹی آئی کے علی اشرف مغل 8523 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 96 گوجرانوالہ سے مسلم لیگ (ن) کے خرم دستگیر خان 33335 ووٹوں کے ساتھ آگے تھے جبکہ پی ٹی آئی کے ایس اے حمید 17759 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 97 گوجرانوالہ سے مسلم لیگ (ن) کے محمد رشید ورک 73219 جیت گئے جبکہ پی ٹی آئی کے رانا نعیم الرحمن 18381 دوسرے نمبر پر رہے۔ این اے 98 گوجرانوالہ سے مسلم لیگ (ن) کے میاں طارق 28211 ووٹوں کے ساتھ برتری حاصل کئے ہوئے تھے جبکہ پی پی پی کے امتیاز صفدر وڑائچ 1252 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 99 گوجرانوالہ سے مسلم لیگ (ن) کے رانا عمر نذیر 66163 و وٹوں کے ساتھ جیت گئے جبکہ پی پی پی کے ذوالفقار بھنڈر 19603 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ این اے 100 گوجرانوالہ سے مسلم لیگ (ن) کے اظہر قیوم ناہرا 49407 ووٹ لے کر جیت گئے جبکہ آزاد امیدوار رانا بلال اعجاز نے 33244 ووٹ حاصل کئے۔ این اے 101 گوجرانوالہ سے مسلم لیگ (ن) کے جسٹس (ر) افتخار چیمہ 27440 ووٹ لئے جبکہ (ج) لیگ کے محمد احمد چٹھہ 21600 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھے۔ عارفوالا میں مسلم لیگ (ن) نے میدان مار لیا، این اے 166 سے مسلم لیگ (ن) کے رانا زاہد حسین خان 43 پولنگ سٹیشنوں سے 20023 ووٹ لے کر آگے تھے جبکہ پی ٹی آئی کے امجد جوئیہ 7543 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 144 اوکاڑہ سے مسلم لیگ (ن) کے عارف چودھری 57300 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کی بیگم سکندر اقبال دوسرے نمبر پر تھی۔ این اے 20 مانسہرہ ون سے مسلم لیگ (ن) کے سردار محمد یوسف 28270 ووٹ لے کر لیڈ لئے ہوئے تھے، تحریک انصاف کے محمد اعظم خان سواتی 14840 ووٹ لے کر دوسری پوزیشن پر تھے۔ این اے 65 سرگودھا 2 میں مسلم لیگ (ن) کے محسن شاہ نواز رانجھا 14950 ووٹوں کے ساتھ پہلے، مسلم لیگ (ق) کے چودھری غیاث احمد 8407 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 4 پشاور 4 میں تحریک انصاف کے گلزار خان 46862 ووٹ لے کر پہلے، مسلم لیگ (ن) کے ناصر خان موسیٰ زئی 38000 ووٹوں سے دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 102 حافظ آباد ون میں مسلم لیگ (ن) کی سائرہ افصل تارڑ 30957 ووٹوں سے پہلے نمبر پر تھیں، آزاد امیدوار چودھری شوکت علی 22853 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 227 میرپور خاص میں پیپلز پارٹی کے منور علی تالپور 58057 ووٹوں کے ساتھ آگے، مسلم لیگ فنکشنل کے سید عنایت علی شاہ 13654 ووٹوں کے ساتھ دوسری پوزیشن پر تھے۔ این اے 26 بنوں جے یو آئی کے اکرم خان درانی 30736 ووٹ لے کر پہلی، آزاد امیدوار مولانا نسیم علی شاہ 5719 ووٹوں کے ساتھ دوسری پوزیشن پر تھے۔ این اے 203 شکارپور کم سکھر لاڑکانہ مسلم لیگ (ن) کے غوث بخش خان 25534 ووٹوں کے ساتھ پہلے، پیپلز پارٹی کے سردار واحد بخش 1389 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 125 لاہور 8 تحریک انصاف حامد خان 16421 ووٹوں کے ساتھ لیڈ لئے ہوئے تھے، مسلم لیگ (ن) کے خواجہ سعد رفیق 12936 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 154 لودھران ون سے تحریک انصاف کے جہانگیر خان ترین 72735 ووٹ لے کر کامیاب ان کے مدمقابل آزاد امیدوار محمد صدیق خان بلوچ 41639 ووٹ حاصل کر سکے۔ این اے 109 منڈی بہا¶الدین ٹو سے مسلم لیگ (ن) کے ناصر اقبال بوسال 53690 ووٹوں کے ساتھ سبقت لئے ہوئے تھے، پیپلز پارٹی کے نذر محمد گوندل 18322 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 66 سرگودھا 3 سے چودھری حامد حمید (مسلم لیگ ن) 32460 ووٹ لے کر پہلے اور عبداللہ ممتاز کاہلوں (تحریک انصاف) 10060 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 76 میں 100 پولنگ سٹیشنوں کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے محمد طلال چودھری 42623 ووٹوں کے ساتھ آگے تھے، پیپلز پارٹی کے ملک نواب شیروسیر 13388 کے ساتھ دوسرے، پاکستان تحریک انصاف کے محمد وقار وصی 4692 ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر تھے۔ این اے 145 رینالہ خورد میں مسلم لیگ (ن) کے عاشق شاہ کرمانی 20 ہزار ووٹوں کے ساتھ آگے تھے۔ این اے 145 اوکاڑہ 3 سے مسلم لیگ (ن) کے سید عاشق حسین کرمانی کو 25609 سے واضح برتری حاصل تھی جبکہ آزاد امیدوار رانا خضر حیات 7500 لے کر دوسرے جبکہ پی پی کے صمصام بخاری 6129 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر تھے۔ این اے 168 وہاڑی ٹو سے پیپلز پارٹی کی نتاشا دولتانہ 22201 ووٹوں کے ساتھ پہلے، مسلم لیگ (ن) کے سید ساجد مہدی 14243 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 151 ملتان فور سے مسلم لیگ (ن) کے سکندر حیات خان 10259 ووٹ لے کر آگے، پی ٹی آئی کے محمد سلیمان قریشی (تحریک انصاف) 8396 ووٹ لے کر پیچھے تھے۔ این اے 223 ٹنڈو الہ یار کم مٹیاری حاجی عبدالستار (پیپلز پارٹی) 43430 ووٹ لے کر پہلے، راحیلہ گل مگسی (مسلم لیگ ن) 21940 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 200 گھوٹکی ون سے علی گوہر مہر (پیپلز پارٹی) 68499 ووٹ لے کر جیت گئے، خالد احمد خان لُنڈ (آزاد) 39436 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ این اے 119 لاہور ٹو سے مسلم لیگ (ن) کے حمزہ شہباز شریف 25346 ووٹوں کے ساتھ برتری لئے ہوئے تھے، پی ٹی آئی کے محمد مدنی 9425 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 199 سکھر کم شکارپور ٹو سے پی پی پی کے سید خورشید شاہ 72 ہزار سے زائد ووٹ لے کر جیت گئے۔ مسلم لیگ (فنکشنل) کے عنایت اللہ دوسری پوزیشن پر رہے۔ این اے 143 اوکاڑہ ون سے مسلم لیگ (ن) کے ندیم عباس ربیرہ 98410 ووٹ لے کر سبقت لئے ہوئے تھے، مسلم لیگ (ق) کے رائے محمد اسلم کھرل 82848 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 60 چکوال ون سے مسلم لیگ (ن) کے میجر (ر) طاہر اقبال 20565 ووٹوں کے ساتھ لیڈ لئے ہوئے تھے، آزاد امیدوار سردار غلام عباس خان 14269 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 198 سکھر کم شکارپور ون سے پیپلز پارٹی کے نعمان اسلام شیخ 12426 ووٹ لے کر پہلے، متحدہ کے منور علی چوہان 4536 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 44 قبائلی علاقہ 9 سے مسلم لیگ (ن) کے شہاب الدین خان 17356 ووٹ لے کر جیت گئے، جماعت اسلامی کے سردار خان 7263 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ اےن اے 89 مےں 80 پولنگ سٹےشنوں کے غےر حتمی، غےر سرکا ری نتائج کے مطابق مسلم لےگ (ن) کے شےخ محمد اکرم 30069 ووٹ لےکر پہلے نمبر پر ، جبکہ متحدہ دےنی محاز کے مولانا محمد احمد لدھےانوی 20890 ووٹ لےکر دوسرے نمبر پر رہے ۔ اےن اے 88 مسلم لےگ (ن) کی غلام بی بی بھروانہ 32990 ووٹ لےکر پہلے نمبر پر جبکہ آزاد امےدوار مخدوم سےد اسد حےات 28251 لےکر دوسرے نمبر پر رہے۔ ضلع راولپنڈی اور اسلام آباد کی قومی اسمبلی کی 9 نشستوں پر مسلم لیگ (ن) نے 5 اور تحریک انصاف نے 3 اور عوامی مسلم لیگ نے ایک نشست پر کامیابی حاصل کی ہے۔ این اے 48 اسلام آباد ون سے تحریک انصاف کے صدر مخدوم جاوید ہاشمی نے مسلم لیگ (ن) کے انجم عقیل کو شکست دے دی ہے جبکہ این اے 49 سے مسلم لیگ (ن) کے ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے تحریک انصاف کے الیاس مہربان کے مقابلے میں کامیابی حاصل کی جبکہ این اے 51 پر مسلم لیگ (ن) کے راجہ جاوید اخلاق نے پیپلز پارٹی کے رہنما و سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو شکست دے دی۔ قومی اسمبلی کے سابق قائد حزب اختلاف چودھری نثار علی خان این اے 52 پر مسلم لیگ (ن) کے محمد بشارت راجہ کو شکست دی جبکہ این اے 53 پر تحریک انصاف کے غلام سرور خان کے ہاتھوں شکست کھا گئے۔ اسی طرح این اے 54 سے مسلم لیگ (ن) کے ملک ابرار، تحریک انصاف کی حنا منظور کے مقابلے میں جیت گئے ہیں۔ این اے 55 پر عوامی مسم لیگ کے صدر شیخ رشید احمد نے مسلم لیگ (ن) کے ملک شکیل اعوان کو شکست دے دی جبکہ این اے 56 سے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے مسلم لیگ (ن) کے حنیف عباسی کے مقابلے میں کامیابی حاصل کی۔ حلقہ اےن اے 104 گجرات سے مسلم لےگ (ن) کے سابق اےم اےن اے نوابزادہ مظہر علی خان ق لیگ کے امےدوار چودھری وجاہت حسےن سے آگے تھے۔ حلقہ اےن اے 105 مےں پروےز الٰہی جیت گئے۔ مسلم لےگ (ن) کے چودھری مبشر حسےن دوسرے جبکہ الحاج افضل گوندل تیسرے، پےپلز پارٹی کے احمد مختار 9503 چوتھے نمبر پر تھے۔ اےن اے 106 مےں مسلم لےگ (ن) کے چودھری جعفر اقبال آزاد امےدوار سےد نور الحسن سے آگے جا رہے تھے جبکہ قمرزمان کائرہ تےسری پوزےشن پر تھے۔ اےن اے 107 مےں مسلم لےگ (ن) کے عابد رضا آگے جبکہ (ق) لےگ کے رحمن نصےر مرالہ دوسری پوزےشن پر تھے۔ این اے 161 ساہیوال سے مسلم لیگ (ن) کے چودھری محمد اشرف کو 67400 ووٹوں کی واضح برتری حاصل تھی جبکہ مدمقابل امیدوار تحریک انصاف ملک محمد یار ڈھکو نے 22 ہزار ووٹ لئے۔ این اے 160 سے مسلم لیگ (ن) کے سید عمران احمد شاہ کو 20 ہزار ووٹوں کی واضح برتری حاصل تھی۔ تحریک انصاف کے امیدوار علی شکور خاں دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے وہاڑی کے 69 پولنگ سٹیشنوں پر آزاد امیدوار طاہر اقبال چودھری 22925 ووٹ لے کر پہلے اور مسلم لیگ (ن) کی تہمینہ دولتانہ 21098 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر تھیں جبکہ پی ٹی آئی کے آفتاب خاں کھچی 6526 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر تھے۔ این اے 168 سے 93 پولنگ سٹیشنوں کے رزلٹ کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے سید ساجد مہدی سلیم شاہ 25347 ووٹ لیکر پہلے اور پی ٹی آئی کے اسحاق خان خاکوانی 21135 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 162 چیچہ وطنی سے تحریک انصاف کے رائے حسن نواز خاں اور آزاد امیدوار حاجی محمد ایوب میں سخت مقابلہ رہا۔ این اے 163 چیچہ وطنی میں مسلم لیگ (ن) کے چودھری منیر ازہر جٹ واضح برتری سے کامیاب رہے۔ این اے 171 ڈیرہ غازیخان سے مسلم لیگ (ن) کے محمد امجد فاروق کھوسہ 24173 ووٹوں کے ساتھ برتری کے ساتھ آگے تھے۔ پیپلز پارٹی کے خواجہ شیراز محمود 19784 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 142 قصور 5 سے مسلم لیگ (ن) کے رانا محمد حیات خاں 30044 ووٹوں کے ساتھ برتری حاصل کئے ہوئے تھے جبکہ (ق) لیگ کے سردار طالب حسن نکئی 25452 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 139 قصور کے 102 پولنگ سٹیشنز کے رزلٹ کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے امیدوار وسیم اختر شیخ 35323 ووٹ لے کر سب سے آگے تھے جبکہ پیپلزپارٹی کے امیدوار چودھری منظور نے 15652 اور تحریک انصاف کے سردار محمد حسین ڈوگر نے 10203 ووٹ حاصل کئے تھے۔ این اے 141 سے مسلم لیگ (ن) کے رانا اسحاق خاں 60231 ووٹ لیکر جیت گئے۔ آزاد امیدوار سردار آصف نکئی نے 35599 ووٹ حاصل کئے۔ این اے 135 کے 231 میں سے 37 پولنگ سٹیشنوں کے غیرحتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے چودھری برجیس طاہر 20545 ووٹ لیکر پہلے اور تحریک انصاف کے حاجی محمد ارشد ساہی 13634 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 76 سے چودھری طلال 30 ہزار ووٹوں کی برتری سے آگے تھے۔ این اے 16 ہنگو تحریک انصاف کے حاجی خیال زمان ہوئے تھے جے یو آئی (ف) کے مولانا میاں حسین جلالی 8 ہزار ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ضلع خوشاب کی دوقومی اور چار صوبائی نشستوں پر کلین سویپ کر دیا۔ حلقہ این اے 70 سے ملک شاکر بشیر اعوان 22 ہزار سے زائد، سمیرا ملک 25 ہزار سے زائد ووٹ لیکر اپنے مخالف امیدواروں کو چت کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ غیرحتمی نتائج کے مطابق ملک شاکر بشیر اعوان حلقہ این اے 70، سمیرا ملک حلقہ این اے 69 سے ایم این اے منتخب ہو گئیں۔ این اے 62 جہلم ون سے چودھری خادم حسین مسلم لیگ (ن) 50525 ووٹ لے کامیاب ہو گئے، چودھری محمد ثقلین تحریک انصاف 23500 دوسرے نمبر پر رہے۔ این اے 63 جہلم ٹو سے راجہ اقبال حیدر مہدی (مسلم لیگ ن) 62735 ووٹ لے کر جیت گئے، چودھری فواد حسین (ق لیگ) 35650 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ 11 مئی کے انتخابات میں غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی نے اندرون سندھ جبکہ ایم کیو ایم نے کراچی میں میدان مار لیا۔ دونوں جماعتوں نے اندرون سندھ اور کراچی میں بالترتیب فیصلہ کن اکثریت حاصل کرلی ہے۔ غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق ابتدائی گنتی میں کراچی میں قومی اسمبلی کی 20 میں سے 18 نشستوں پر ہونے والی پولنگ میں ایم کیو ایم نے 12 سیٹیں جیت لیں تھیں جبکہ 3 نشستوں پر پاکستان پیپلز پارٹی کو واضح برتری حاصل ہے۔ واضح رہے کہ کراچی میں قومی اسمبلی کی کل 20 نشستیں ہیں ایک نشست این اے 254 کورنگی پر امیدوار کے قتل کی وجہ سے الیکشن ملتوی کیا جاچکا تھا جبکہ دوسری نشست این اے 250 پر مختلف جماعتوں کی شکایات اور ڈی آر او کی شکایات پر الیکشن کمیشن نے 42 پولنگ سٹیشنوں پر پولنگ روک دی اور یہاں دوبارہ پولنگ کرانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ کراچی میں قومی اسمبلی کی نشستوں حلقہ این اے 239 ماری پور کیماڑی پر سلمان مجاہد بلوچ پی پی پی واضح برتری کے ساتھ آگے تھے۔ این اے 240 بلدیہ سے ایم کیو ایم کے خواجہ سہیل منصور‘ این اے 241 اورنگی سے ایم کیو ایم کے ایس اے اقبال قادری‘ این اے 242 قصبہ اورنگی سے ایم کیو ایم کے محبوب عالم‘این اے 243 نیو کراچی نارتھ کراچی سے ایم کیو ایم کے عبدالوسیم‘ این اے 244 نیوکراچی فیڈرل بی ایریا سے ایم کیو ایم کے شیخ صلاح الدین‘ این اے 245 نارتھ ناظم آباد سے ایم کیو ایم کے ریحان ہاشمی‘ این اے 247 ناظم آباد‘ گلبہار سے ایم کیو ایم کے سفیان یوسف‘ این اے 248 لیاری سے پیپلز پارٹی کے شاہجہان بلوچ‘ این اے 249 رنچھوڑ لائن گارڈن سے ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فاروق ستار‘ این اے 251 محمود آباد سوسائٹی سے ایم کیو ایم کے علی رضا عابدی‘ این اے 252 ایم کیو ایم کے رشید گوڈیل‘ این اے 253 گلشن اقبال سے ایم کیو ایم کے مزمل قریشی‘ این اے 255 لانڈھی سے ایم کیو ایم کے آصف حسنین‘ این اے 256 شاہ فیصل سے ایم کیو ایم کے اقبال محمد علی خان‘ این اے 257 ملیر سے پی پی پی کے نسیم خان‘ این اے 258 گڈاپ‘ بن قاسم سے پیپلز پارٹی کے عبدالرزاق راجہ جیت رہے تھے۔ سندھ میں پاکستان مسلم لیگ فنکشنل تیسری بڑی جماعت کی حیثیت سے سامنے آئی ہے اس نے خیرپور اور سانگھڑ کے اضلاع میں کامیابی یقینی بنالی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں نے کراچی اور اندرون سندھ کے بعض حلقوں میں حوصلہ افزا تعداد میں ووٹ حاصل کئے ہیں جبکہ مسلم لیگ نون نے بھی اندرون سندھ دادو اور خیرپور میں بھرپور ووٹ حاصل کئے ہیں۔ نبیل گبول این اے 248 کراچی 8 سے ایک لاکھ 78 ہزار ووٹوں سے جیت گئے۔ این اے 170 وہاڑی سے مسلم لیگ (ن) کے سعید احمد 57846 ووٹوں سے کامیاب ہوئے ہیں جبکہ تحریک انصاف کے اورنگزیب کھچی 46 ہزار سے زائد ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 67 سے مسلم لیگ ن کے امیدوار ڈاکٹر ذوالفقار احمد بھٹی 85201 ووٹ لیکر کامیاب قرار پائے ہیں ان کے مدمقابل مسلم لیگ ق کے چودھری انور علی چیمہ تھے۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق حلقہ این اے 94 کے 86 پولنگ سٹیشنوں کے رزلٹ کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے چودھری اسد الرحمن 31657 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر رہے۔ این اے 93 سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار چودھری جنید انوار 36541 ووٹ لیکر کامیاب ہو گئے ان کے مقابلے میں تحریک انصاف کے چودھری محمد اشفاق نے 26283 ووٹ لئے۔ این اے 189 سے مسلم لیگ ن کے میاں عالم داد لالیکا نے 242 پولنگ سٹیشنوں میں سے 185 پولنگ سٹیشنوں میں 54 ہزار ووٹ حاصل کرکے برتری حاصل کی ہے دوسرے نمبر پر تحریک انصاف کے میاں ممتاز احمد میتانہ ہیں جنہوں نے 18 ہزار ووٹ لئے۔ این اے 30 سوات سے تحریک انصاف کے سلیم الرحمن 39600 ووٹ لیکر کامیاب ہو گئے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے امیرمقام ہار گئے۔ این اے 29 سوات سے تحریک انصاف کے مراد سعید 35200 ووٹ لیکر کامیاب جبکہ جے یو آئی (ف) کے مولانا نظام الدین ہار گئے۔ این اے 61 چکوال سے مسلم لیگ (ن) کے سردار ممتاز خان (ق) لیگ کے پرویز الٰہی کو ہرا کر کامیاب ہوگئے۔ انہوں نے 33 ہزار سے زائد ووٹ لئے۔ این اے 3 پشاور 3 سے تحریک انصاف کے ساجد نواز 19250 ووٹوں کے ساتھ پہلے، جے یو آئی (ف) کے حاجی غلام علی 5200 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ این اے 204 لاڑکانہ ون سے پیپلز پارٹی کے محمد ایاز سومرو 9866 ووٹ لیکر کامیاب ہو گئے۔ مسلم لیگ فنکشنل کی مہتاب اکبر راشدی 3875 ووٹ لیکر دوسری پوزیشن پر ہیں۔ این اے 184 بہاولپور ٹو سے مسلم لیگ (ن) کے میاں نجیب الدین اویسی 32400 ووٹ لیکر جیت گئے۔پی پی پی کی خدیجہ عامر 11100 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہیں۔ این اے 154 لودھراں ون سے تحریک انصاف کے جہانگیر خان ترین 72735 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے۔ آزاد امیدوار محمد صدیق خان بلوچ 41639 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 182 لیہ ٹو سے مسلم لیگ (ن) کے پیر سید محمد ثقلین شاہ بخاری 66342 ووٹوں کے ساتھ لیڈ لئے ہوئے تھے، پیپلز پارٹی کے ملک نیاز احمد جھکڑ 57629 ووٹوں کے ساتھ دوسری پوزیشن پر تھے۔ این اے 141 قصور فور سے مسلم لیگ (ن) کے رانا محمد اسحاق خان 60231 ووٹ لے کر جیت گئے، آزاد امیدوار سردار آصف نکئی نے 35599 ووٹ لئے۔ این اے 159 خانےوال فور سے مسلم لیگ (ن) کے چودھری افتخار نذیر 95340 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے، تحریک انصاف کے ملک غلام مرتضیٰ متیلا نے 45248 ووٹ لئے۔ این اے 69 خوشاب ون سے مسلم لیگ (ن) کی امیدوار سمیرا ملک 57731 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئیں جبکہ ان کے مقابلے میں تحریک انصاف کے ملک عمر اسلم اعوان نے 26507 ووٹ حاصل کئے۔ این اے 70 خوشاب ٹو سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے شاکر بشیر اعوان 72547 ووٹ لے کر جیت گئے، ان کے مقابلے آزاد امیدوار شجاع محمد بلوچ نے 42797 ووٹ لئے۔ این اے 66 سرگودھا سے مسلم لیگ (ن) کے حامد حمید 37900 ووٹ لیکر کامیاب رہے جبکہ ان کے مقابلے میں پی ٹی آئی کے بیرسٹر عبداللہ ممتاز کو 12265 ووٹ ملے۔ پیپلز پارٹی کے تبسم قریشی کو 8357 ووٹ ملے۔ این اے 67 سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ذوالفقار بھٹی 85201 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ انور علی چیمہ کو 62900 ووٹ ملے۔ این اے 94 سے مسلم لیگ (ن) کے اسد الرحمن رمدے 55757 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ہیں۔ این اے 33 لوئر دیر سے جماعت اسلامی کے صاحبزادہ عتیق اللہ 33 ہزار سے زائد ووٹوں سے کامیاب ہوئے ہیں۔ این اے 186 بہاولپور فور سے مسلم لیگ (ن) کے ریاض حسین پیرزادہ 31633 ووٹوں کے ساتھ پہلے نمبر تھے، تحریک انصاف کے نعیم الدین وڑائچ 20316 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 207 گاڑکانہ کم شکارپور سے پی پی پی کی فریال تالپور 70800 ووٹ لیکر جیت گئیں۔ غنویٰ بھٹو (پیپلز پارٹی شہید بھٹو) نے 20400 ووٹ لئے۔ این اے 129 لاہور بارہ سے مسلم لیگ (ن) کے میاں محمد شہباز شریف 73179 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے۔ چودھری محمد منشا سندھو (تحریک انصاف) نے 19237 ووٹ لئے۔ این اے 49 اسلام آباد ٹو سے مسلم لیگ (ن) کے ڈاکٹر طارق فضل چودھری 67150 ووٹ لے کر آگے، تحریک انصاف کے چودھری الیاس مہران 42507 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 182 بہاولپور سے مسلم لیگ (ن) کے میاں نجیب الدین 32400 ووٹ لیکر جیت گئے۔ این اے 170 وہاڑی سے مسلم لیگ (ن) کے سعید احمد منہیس 58705 ووٹ لیکر کامیاب ہو گئے، تحریک انصاف کے اورنگزیب کھچی 46988 ووٹ لے سکے۔ این اے 124 سے مسلم لیگ (ن) کے شیخ روحیل اصغر 119000 ووٹ لےکر کامیاب ہو گئے۔ تحریک انصاف کے ولید اقبال نے 20589 ووٹ لئے۔ این اے 174 راجن پور سردار جعفر خان لغاری (مسلم لیگ ن) 61000 ووٹ لیکر لیڈ لئے ہوئے تھے، سردار نصراللہ خان دریشک 42700 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھے۔ شیخوپورہ کے حلقہ این اے 134 سے مسلم لیگ ن کے سردار عرفان ڈوگر 29700 ووٹ لیکر جیت گئے ہیں جبکہ ان کے مدمقابل مسلم لیگ ق کے خرم منور منج نے 26800 ووٹ حاصل کئے ہیں۔ این اے 5 نوشہرہ ون پرویز خٹک (تحریک انصاف) 15729 ووٹوں کے ساتھ سبقت لئے ہوئے تھے، آصف لقمان قاضی (جماعت اسلامی) 6764 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر تھے۔ این اے 6 نوشہرہ 2 سراج محمد خان (تحریک انصاف) 14941 ووٹوں کے ساتھ پہلے، سید ذوالفقار علی شاہ باچا (مسلم لیگ ن) 7716 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 182 لیہ سے مسلم لیگ ن کے امیدوار محمد ثقلین بخاری جیت گئے۔ این اے 214 نوابشاہ سے پیپلز پارٹی کے غلام مصطفےٰ شاہ 89000 سے زائد ووٹ لیکر کامیاب ہو گئے۔ این اے 87 سے مسلم لیگ ن کے مہر غلام محمد لالی نے واضح برتری حاصل کی۔ غیرسرکاری، غیر حتمی نتائج کے مطابق فیصل آباد ڈسٹرکٹ کے قومی اسمبلی کے دس حلقوں میں مسلم لیگ (ن) نے کلین سویپ کر لیا ہے۔ اسی طرح صوبائی اسمبلی کی 21 نشستوں میں سے 20 نشستوں پر مسلم لیگ ن نے کامیابی حاصل کی ہے جبکہ ایک نشست مسلم لیگ ن کے سابق رکن صوبائی اسمبلی ظفر اقبال ناگرہ نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے جیتی ہے اور اعلان کیا ہے کہ وہ یہ نشست میاں محمد نواز شریف کو تحفے میں پیش کریں گے۔ پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما راجہ ریاض احمد خان بری طرح شکست سے دوچار ہو گئے۔ اسی طرح این اے 77 اور پی پی 55 میں (ق) لیگ کے سینئر رہنما چودھری ظہیر الدین خان بھی بری طرح شکست سے دوچار ہو گئے۔ این اے 75 چک جھمرہ میں مسلم لیگ ن کے امیدوار کرنل (ر) غلام رسول ساہی نے پیپلز پارٹی کے طارق محمود باجوہ اور تحریک انصاف فواد چیمہ کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی ہے۔ این اے 76 میں مسلم لیگ ن کے امیدوار طلال چودھری نے پیپلز پارٹی کے نواب شیر وسیر اور تحریک انصاف کے وقار وصی ظفر کوشکست دے کر کامیابی حاصل کی ہے۔ این اے 77 میں مسلم لیگ ن کے امیدوار چودھری عاصم نذیر نے چودھری ظہیر الدین کو شکست دی ہے۔ این اے 78 تاندلیانوالہ میں بھی مسلم لیگ ن کے امیدوار رجب علی بلوچ نے آزاد امیدوار چودھری صفدر شاکر کو شکست دی ہے۔ این اے 79 سمندری میں مسلم لیگ ن کے امیدوار شہباز بابر گجر کامیاب ہوئے ہیں۔ این اے 80 میں مسلم لیگ ن کے امیدوار میاں محمد فاروق نے رانا آصف توصیف اور تحریک انصاف کے میاں محمد نعیم کو شکست دی ہے۔ این اے 81 میں مسلم لیگ ن کے امیدوار ڈاکٹر نثار احمد نے پیپلز پارٹی کے چودھری سعید اقبال کو شکست دی ہے۔ این اے 82 میں مسلم لیگ ن کے رانا محمد افضل کامیاب ہوئے ہیں۔ انہوں نے سنی اتحاد کونسل مسلم لیگ ق اور پیپلز پارٹی کے حمایت یافتہ امیدوار صاحبزادہ حامد رضا اور تحریک انصاف کے کیپٹن (ر) نثار اکبر کوشکست دی ہے۔ این اے 84 میں مسلم لیگ ن کے امیدوار چودھری عابد شیرعلی نے پیپلز پارٹی کے ملک اصغر علی قیصر اور تحریک انصاف کے فرخ حبیب کوشکست دے کر کامیابی حاصل کی ہے۔ این اے 85 میں مسلم لیگ ن کے امیدوار حاجی محمد اکرم انصاری نے پیپلز پارٹی کے ملک سردار اسلم ٹرالے والے اور تحریک انصاف کے بریگیڈئر (ر) امتیاز کاہلوں کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی ہے۔ این اے 112پر مسلم لیگ (ن) کے امیدوار رانا شمیم احمد خان کو مخالف امیدوار پر واضح برتری حاصل ہے۔208 پولنگ سٹیشنوں سے ملنے والے غیر حتمی نتائج کے مطابق رانا شمیم احمد خان نے اب تک 98245جبکہ انکے قریب ترین امیدوار سلمان سیف چیمہ نے 27359ووٹ حاصل کئے۔ na-111میں مسلم لیگ (ن) کے چوہدری ارمغان سبحانی الیکشن پہلی پوزیشن پر تھے جبکہ پی ٹی آئی کے امیدوار چوہدری محمد اجمل چیمہ دوسرے نمبر پر تھے اور پیپلز پارٹی کی امیدوار سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان تیسرے نمبر پر تھیں۔ شیخوپورہ کے حلقہ این اے 133 سے مسلم لیگ ن کے میاں جاوید لطیف 57732 ووٹ لیکر جیت گئے جبکہ ان کے مدمقابل آزاد امیدوار چودھری محمد سعید ورک نے 18416 ووٹ حاصل کئے۔ این اے 117 منڈی بہاﺅ الدین سے مسلم لیگ ن کے طارق یعقوب 25180 ووٹ لیکر کامیاب جبکہ ان کے مدمقابل پی ٹی آئی کے جاوید نے 13592 ووٹ لئے۔ این اے 122 لاہور ایاز صادق 70324 ، عمران خان 61244، این اے 4 پشاور گلزار خان 33720 (تحریک انصاف) ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے۔ ناصر موسیٰ زئی (مسلم لیگ ن) 6421 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ این اے 89 سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار شیخ محمد اکرم 47938 ووٹ لیکرکامیاب ہو گئے۔ ان کے مقابلے میں مولانا احمد لدھیانوی کی 32529 ووٹ حاصل کئے ہیں۔ این اے 10 مردان 2 علی محمد خان (تحریک انصاف) 11000 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے۔ شیخ الحدیث مولانا محمد قاسم جمعیت علماءاسلام (ف) 7000 ووٹ لے سکے۔ این اے 33 اپر دیر صاحبزادہ طارق اللہ (جماعت اسلامی) 30554 ووٹ لے کر جیت گئے۔ نجم الدین خان (پیپلز پارٹی) 19174 نے ووٹ لئے۔ این اے 122 لاہور 4 سردار ایاز صادق (مسلم لیگ ن) 70324 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے۔ عمران خان (چیئرمین تحریک انصاف) 61244 ووٹ لئے۔ این اے 165 پاکپتن 2 سید محمد اطہر حسین شاہ گیلانی (مسلم لیگ ن) 51500 ووٹ لے کر آگے۔ میاں احمد رضا خان مانیکا (تحریک انصاف) 22500 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھے۔ خانیوال کے قومی حلقہ 157 میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے محمد خان ڈاہا 150 پولنگ سٹیشنوں میں 30 ہزار سے زائد ووٹ لے کر جیت رہے تھے جبکہ ان کے مقابلے میں پاکستان مسلم لیگ (ق) کے امیدوار سردار حامد یار ہراج 20 ہزار ووٹ حاصل کر سکے۔ تحریک انصاف کے امیدوار کرنل عابد کھگہ تیسرے نمبر پر رہے۔ این اے 181 لیہ 1 صاحبزادہ فیض الحسن (مسلم لیگ ن) 71324 ووٹ کے ساتھ آگے، سردار بہادر احمد خان سیہڑ (پیپلز پارٹی) 53622 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 210 کشمور سے پیپلز پارٹی کے احسان الرحمن جیت گئے۔ این اے 145 اوکاڑہ 3 سید محمد عاشق حسین شاہ (مسلم لیگ ن) 63345 ووٹوں کے ساتھ پہلے، سید صمصام علی بخار (پیپلز پارٹی) 31525 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر تھے۔ شیخوپورہ کے حلقہ این اے 131 سے مسلم لیگ (ن) کے رانا افضال 36989 ووٹ لیکر جیت گئے ہیں جبکہ ان کے مدمقابل آزاد امیدوار عمر آفتاب ڈھلوں نے 17932 ووٹ حاصل کئے ہیں۔ این اے 224 بدین سردار کمال خان (پیپلزپارٹی) 67670 ووٹ لیکر آگے علی اصغر ہالیپوتو (مسلم لیگ (فنکشنل) 44900 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر تھے۔ این اے 10 مردان سے تحریک انصاف کے علی محمد خان 21811 ووٹ لیکر جیت گئے جبکہ جے یو آئی (ف) کے مولانا محمد قاسم 16900 ووٹ لیکر ہار گئے۔ پاکپتن این اے 165 سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سید اطہر گیلانی نے غیرسرکاری غیر حتمی نتائج کے مطابق 56000 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی جبکہ ان کے مدمقابل تحریک انصاف کے امیدوار میاں احمد رضا مانیکا 32459 ووٹ حاصل کرکے دوسرے نمبر پر رہے۔ این اے 145 اوکاڑہ مسلم لیگ(ن) کے عاشق حسین کرمانی 65345 ووٹ لیکر جیت گئے جبکہ این اے 160 ساہیوال مسلم لیگ (ن) کے پیر عمران شاہ کامیاب ہو گئے۔ این اے 160 سے مسلم لیگ (ن) کے پیر عمران شاہ کامیاب ہو گئے۔ جنرل الیکشن 2013ءمیں ملتان میں گیلانی خاندان کے امیدواران کو بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ وزیراعظم پاکستان کے اہم ترین عہدہ پر چار سال براجمان رہنے کے باوجود سید یوسف رضا گیلانی حالیہ انتخابات میں اپنی سیاسی ساکھ بچانے میں بری طرح ناکام ہو گئے۔ ضلع ملتان کے قومی اسمبلی کے تین حلقوں میں سابق وزیراعظم کے بھائی سید احمد مجتبیٰ گیلانی سمیت ان کے دو صاحبزادوں سید عبدالقادر گیلانی اور سید علی موسیٰ گیلانی پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدواران کے طور پر میدان میں تھے جنہیں غیر حتمی نتائج کے مطابق بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ صوبائی حلقہ پی پی 200 پر بھی سید یوسف رضا گیلانی کے تیسرے صاحبزادے سید علی حیدر گیلانی امیدوار تھے جنہیں انتخابی مہم کے دوران انتخابات سے دور وز قبل اغوا کر لیا گیا اور وہ بھی شکست سے دوچار ہوئے۔ اس طرح گیلانی خاندان کو ملتان میں چار نشستوں پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ این اے 60 چکوال سے مسلم لیگ ن کے میجر (ر) طاہر اقبال 109000 ووٹ لیکر جیت گئے جبکہ آزاد امیدوار سردار غلام عباس خان ہار گئے۔ این اے 31 شانگلہ سے مسلم لیگ (ن) کے عباداللہ جیت گئے جبکہ تحریک انصاف کے امیدوار ہار گئے۔ این اے 40 قبائلی حلقہ 5 محمد نذیر خان (آزاد) 18252 ووٹ لیکر آگے پیر محمد عقل شاہ جمعیت علماءاسلام (ف) 12238 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 190 مسلم لیگ ن کے رائے طاہر بشیر چیمہ کو 27 ہزار ووٹوں کی برتری حاصل ہے جبکہ مسلم لیگ (ض) کے اعجازالحق دوسرے نمبر پر ہیں۔ این اے 180 مظفرگڑھ 5 سردار عاشق حسین گوپانگ (آزاد) 57672 ووٹوں کے ساتھ آگے سید محمد عبداللہ شاہ غازی (مسلم لیگ ن) 39622 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 172 ڈی جی خان آزاد امیدوار جمال لغاری جیت گئے۔ این اے 151 ملتان سکندر بوسن 98584 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے۔ عبدالقادر گیلانی 72654 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ این اے 91 سے آزاد امیدوار نجف عباس سیال 76594 ووٹ لیکر کامیاب جبکہ مسلم لیگ (ن) کے صاحبزادہ محبوب سلطان 72569 ووٹ حاصل کر سکے۔ این اے 223 ٹنڈو الہ یار عبدالستار بچانی پیپلزپارٹی 76332 ووٹ لے کر پہلے ڈاکٹر راحیلہ گل مگسی مسلم لیگ (ن) 48765 دوسرے نمبر پر تھیں۔ این اے 87 چنیوٹ غلام محمد لالی مسلم لیگ (ن) 63000 ووٹوں کے ساتھ آگے، مخدوم سید فیصل صالح حیات آزاد 42525 دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 86 چنیوٹ قیصر احمد شیخ مسلم لیگ (ن) 65000 ووٹوں کے ساتھ سبقت لئے ہوئے تھے۔ ذوالفقار علی شاہ (پیپلزپارٹی) 42102 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ملتان این اے 148 سے مسلم لیگ ن کے عبدالغفار ڈوگر جیت گئے۔ انہوں نے شاہ محمود قریشی کو ہرایا۔ غفار ڈوگر نے 78 ہزار اور شاہ محمود نے 50 ہزار ووٹ لئے۔ قصور کے حلقہ این اے 139 سے مسلم لیگ ن کے شیخ وسیم اختر 85502 ووٹ لیکر جیت گئے۔ ان کے مدمقابل پیپلزپارٹی کے چودھری منظور احمد نے 20314 ووٹ حاصل کئے۔ لاہور (نامہ نگاران+ نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ ن نے پنجاب اسمبلی کی 291 نشستوں پر ہونے والے الیکشن کے غیر حتمی نتائج کے مطابق واضح اکثریت حاصل کر لی۔ 95 نشستوں پر مسلم لیگ ن کے امیدواروں کی جیت کنفرم ہو گئی جبکہ آخری اطلاعات تک مزید 50 سے زائد سیٹوں پر مسلم لیگ ن کے امیدواروں کو برتری حاصل تھی جبکہ تحریک انصاف کے 5 امیدواروں کی جیت کنفرم ہوئی جبکہ 30 مقامات پر ان کے امیدوار برتری حاصل کئے ہوئے تھے۔ 10 آزاد امیدواروں کی جیت بھی کنفرم ہو گئی جبکہ پیپلز پپارٹی کی 2 سیٹوں پر جیت ہوئی جبکہ 25 سیٹوں پر ان کے امیدواروں کو برتری حاصل تھی۔ مونس الٰہی نے 2 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ پی پی 32 سے ق لیگ کے عامر سلطان چیمہ نے کامیابی حاصل کی۔ پی پی 29 سے مسلم لیگ ن کے دستگیر لک کامیاب ہوئے۔ پی پی 28 سے مسلم لیگ ن کے ڈاکٹر مختار احمد بھرت، پی پی 30 سے طاہر احمد سندھو جیت گئے۔ پی پی 33 سے مسلم لیگ نے کے عبدالرزاق ڈھلوں جیت گئے۔ ان کے مقابل میں تحریک انصاف کے آصف بگا تھے۔ پی پی 36 سے مسلم لیگ ن رانا منور غوث کامیاب ہوئے۔ ان کے مدمقابل فیصل جاوید گھمن آزاد امیدوار تھے۔ پی پی 37 سرگودھا سے مسلم لیگ ن کے نظام الدین سیالوی 46956 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے۔ تحریک انصاف کے امیدوار اصغر لازی نے 24656 ووٹ حاصل کئے۔ پی پی 58 سے مسلم لیگ ن کے چودھری شاہد خلیل نور 18100 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے دوسرے نمبر پر احسن ریاض فتیانہ نے 14900 ووٹ حاصل کئے۔ پی پی 55 سے مسلم لیگ ن کے رانا شعیب ادریس کو 20 ہزار سے زائد ووٹوں کی برتری حاصل ہے۔ پی پی 190 میں مسلم لیگ ن کے امیدوار میاں منیر، پیپلزپارٹی کے اشرف خان سوہنا کے مقابلے میں 11000 ووٹوں کی برتری سے کامیاب ہو گئے۔ پی پی 132میں مسلم لیگ ن کے امیدوار چودھری اویس قاسم خان 31 ہزار ووٹ لے کر کامیاب رہے۔ مدمقابل آزاد امیدوار سید سعیدالحسن شاہ نے 17 ہزار ووٹ حاصل کئے۔ پی پی 230 عارفوالہ سے مسلم لیگ ن کے ڈاکٹر فرخ جاوید پہلے نمبر پر، پی ٹی آئی کے محمد نعیم ابراہیم دوسرے پر رہے۔ مسلم لیگ ن کے ڈاکٹر فرخ جاوید نے کامیابی کی ہیٹ ٹرک مکمل کر لی۔ پی پی 73 پر مسلم لیگ ن کے مولانا الیاس چنیوٹی 39500 ووٹ لیکر کامیاب ہو گئے ان کے مقابلے میں تحریک انصاف کے قاضی حسن علی نے 14000 ووٹ حاصل کئے۔ پیپلزپارٹی کے امیدوار سید کلیم امیر نے 9500 ووٹ حاصل کئے۔ پی پی 162 شیخوپورہ سے مسلم لیگ ن کے محمد خرم گلفام 21422 ووٹ لیکر کامیاب رہے۔ آزاد امیدوار اعجاز احمد بیہول 13288 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔ پی پی 118 منڈی بہا¶الدین سے ق لیگ کے چودھری مونس الٰہی 27930 ووٹ لیکر کامیاب ہو گئے۔ مسلم لیگ ن کے سکندر حیات گوندل دوسرے نمبر پر رہے۔ ننکانہ میں پی پی 172 سے مسلم لیگ (ن) کے ملک ذوالقرنین ڈوگر نے 22712 ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی۔ بہاولپور میں پی پی 273 سے مسلم لیگ ن کے امیدوار میاں کاظم علی پیرزادہ جیت گئے۔ ق لیگ کے بلال مصطفی گردیزی دوسرے نمبر پر رہے۔ پی پی 39 خوشاب سے مسلم لیگ ن کے جاوید اقبال 36297 ووٹ لیکر جیتے۔ پی ٹی آئی کے ملک امیر مختار اعوان نے 26133ووٹ لئے۔ پی پی 22 پر مسلم لیگ ن کے خضر حیات کھگہ، پی پی 22 سے ملک ندیم کامران، پی پی 223 سے ارشد خان لودھی کو واضح برتری حاصل ہے۔ پی پی 68 فیصل آباد 18 سے مسلم لیگ (ن) کامیاب قرار پائی۔ شیخ اعجاز احمد نے 49568 ووٹ حاصل کئے جبکہ پی ٹی آئی کے محمد لطیف نذر 30478 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ پی پی 72 فیصل آباد 22 سے مسلم لیگ (ن) کے خواجہ محمد اسلام 2200 ووٹ لے کر کامیاب رہے جبکہ پی ٹی آئی کے شیخ سلیمان عارف 15214 ووٹ سے دوسرے نمبر پر رہے۔ پی پی 100 گوجرانوالہ 10 سے مسلم لیگ (ن) کے چودھری شمشاد احمد خان کامیاب ہوئے۔ انہوں نے 28754 ووٹ حاصل کئے۔ پی ٹی آئی کے یاسر عرفات رامے نے 5863 ووٹ حاصل کئے۔ پی پی 265 لیہ چار سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار مہر اعجاز احمد اچلاتا 33725 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ پی پی پی کے سردار سجن خان کنگوانی 19001 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ پی پی 266 لیہ 5 سے چودھری اشفاق احمد آزاد امیدوار 22513 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ آزاد امیدوار مہر فضل حسین سمرا 14202 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ پی پی 273 بہاولپور سات سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار میاں محمد کاظم علی پیرزادہ 32000 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے۔ پی ٹی آئی کے راﺅ طارق محمود 17112 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ پی پی 274 بہاولپور 8 سے مسلم لیگ (ن) کے محمد افضل گل 21068 ووٹ سے کامیاب ہوئے۔( ق) لیگ کے ریاض احمد 13884 ووٹ لے سکے۔ پی پی ون راولپنڈی سے مسلم لیگ (ن) کے راجہ اشفاق سرور 28832 ووٹ لے کر کامیاب رہے۔ سردار محمد سلیم خان 16566 ووٹ حاصل کئے۔ پی پی 219 خانیوال سے مسلم لیگ (ن) کے کرم داد واہلہ نے 42236 ووٹ حاصل کئے۔ پی ٹی آئی کے میاں جاوید جہانیاں 21985 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ پی پی 263 لیہ سے پی پی کے شہاب الدین خان 23370 ووٹ لے کر کامیاب رہے۔ پی پی 262 لیہ سے پی ٹی آئی کے عبدالمجید خان نیازی 14190 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ آزاد امیدوار چودھری محمد اظہر مقبول نے 13983ووٹ لے کر دوسری پوزیشن حاصل کی۔ پی پی 263 لیہ 3 سے پی پی پی کے شہاب الدین خان 23370 ووٹ حاصل کر کے کامیاب رہے۔ دوسرے نمبر پر مسلم لیگ (ن) کے ملک عبدالشکور سورگ 18832 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ صوبائی حلقہ پی پی 177قصور شہر مسلم لیگ (ن) کے امیدوار حاجی نعیم صفدر انصاری34292 ووٹ حاصل کر کے سب سے آگے ہیں جبکہ تحریک انصاف کے سید مظفر حسن کاظمی نے6362 ووٹ حاصل کئے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے اشفاق کمبوہ 5301 ووٹ حاصل کئے۔ پی پی 178میں 45 پولنگ سٹیشنز کے رزلٹ کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ملک احمد سعید 19323 ووٹ حاصل کر کے سب سے آگے آزاد امیدوار شاہد مسعود نے 7278 ووٹ حاصل کئے، جماعت اسلامی کے امیدوار سردار فیصل نے 4390 ووٹ حاصل کئے۔ گجرات میں پی پی 108مےں مسلم لےگ (ن) کے نوابزادہ حےدر مہدی کامیاب ہو گئے۔ پی پی 109مےں مسلم لےگ (ن) کے مےجر (ر) معےن نواز پہلے اورمسلم لےگ (ق) کے چوہدری شفاعت حسےن دوسری پوزےشن پر پی پی 110مےں چوہدری مونس الٰہی (ن) لےگ کے چوہدری رضا متہ سے آگے ہےں پی پی 111مےںمسلم لےگ (ن) کے حاجی عمران ظفر تحرےک انصاف کے چوہدری سلےم سرور جوڑا سے آگے ہےں پی پی 112مےں مسلم لیگ (ن) کے چوہدری اشرف دےونہ 15180 ووٹ لے کر جیت گئے۔ پی پی 113 میں مسلم لیگ (ن) کے میاں طارق محمود (ق) لیگ کے اعجاز رنیاں سے آگے ہیں۔ پی پی 114مےں مسلم لےگ (ن) کے ضلعی صدر و امےدوار ملک حنےف اعوان، پی ٹی آئی کے راجہ نعےم نواز سے آگے ہےں، پی پی 115مےں مسلم لےگ (ن) کے چوہدری شبےر رضا اپنے بھائی چوہدری نعےم رضا سے آگے ہےں۔ پی پی 265 سے مسلم لیگ (ن) کے مہر اعجاز کامیاب ہو گئے۔ وہاڑی کے حلقہ پی پی 236 سے مسلم لیگ (ن) کے میاں ثاقب خورشید 4000 ووٹوں کی برتری سے پہلے، رانا طاہر محمود خاں دوسرے نمبر پر ہیں۔ پی پی 274 بہاولپور سے مسلم لیگ (ن) کے افضل گل 20880 ووٹ لیکر کامیاب رہے۔ چیچہ وطنی میں حلقہ پی پی 224 سے تحریک انصاف کے امیدوار چودھری وحید اصغر ڈوگر کو واضح برتری حاصل ہے۔ پی پی 225 میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار چودھری محمد ارشد جٹ کو برتری حاصل ہے۔ پی پی 226 میں مسلم لیگ (ن) کے چودھری محمد حنیف جٹ کو واضح برتری حاصل ہے۔ پی پی170 کے 132 میں سے 75 پولنگ اسٹیشنوں کے غیر حتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار چودھری طارق محمود باجوہ سابق ایم پی اے 16997 ووٹ لے کر پہلے اور آزاد امیدوار طارق سعید گھمن 5817 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔ پی پی 171 کے 137 میں سے 70 پولنگ اسٹیشنوں کے غیر حتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے رانا محمد ارشد 29 ہزار ووٹ لے کر پہلے اور تحریک انصاف کے سردار افتخار ڈوگر 12 ہزار ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔ پی پی 53 سے مسلم لیگ (ن) کی امیدوار عفت معراج کو 25ہزار ووٹوں کی برتری حاصل ہے۔میانوالی سے پی پی 45پر پی ٹی آئی کے احمد خان بھچر 36543 ووٹ حاصل کر کے کامیاب ہو گئے۔ مسلم لیگ ن کے علی حیدر نور نیازی 12345 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔ پی پی 200 ملتان سے مسلم لیگ ن کے شوکت حیات بوسن کامیاب ہو گئے۔ پی پی 40 سے مسلم لیگ ن کے وارث کلو، پی پی 39 سے ملک جاوید اعوان رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہو گئے۔ پی پی 163 شیخوپورہ سے مسلم لیگ ن کے خرم اعجاز چٹھہ 36927 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے۔ آزاد امیدوار رانا اعجاز نے 12700 ووٹ لئے۔ پی پی 52 چک جھمرہ سے مسلم لیگ ن کے افضل ساہی کامیاب ہوئے، پی پی کے منظور احمد کو شکست ہوئی، پی پی 168 سے آزاد امیدوار رانا علی سلمان 22396 ووٹ لیکر جیت گئے۔ ان کے مدمقابل مسلم لیگ ن کے رانا تنویر ناصر نے 16221 ووٹ حاصل کئے۔ سیالکوٹ سے پی پی 121 پر مسلم لیگ (ن) کے رانا محمد اقبال ہرناہ کو پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کے امیدواروں پر واضح سبقت حاصل ہے۔ پی پی 123 میں مسلم لیگ (ن) کے چوہدری محمد اکرام کو پی ٹی آئی کے امیدوار میر عمر فاروق مائر پر چند ہزار کی برتری حاصل ہے۔ پی پی 124۔ 125 میں بھی مسلم لیگ (ن) کے امیدوار لیڈ کر رہے ہیں۔ حلقہ اےن اے 62 جہلم (1) سے مسلم لیگ ن کے امیدوار چوہدری خادم حسین 50525ووٹ لے کر سر فہرست تھے۔ پی پی 24، پی پی 25 جہلم، پی پی 26، پی پی 27 کے پولنگ سٹیشنوں سے غیرسرکاری و غیرحتمی الیکشن نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کے امیدواروں کو اپنے حریفوں پر واضح برتری حاصل ہے۔ پی پی 24 میں مسلم لیگ ن کے راجہ اویس خالد 22188 ووٹ کے ساتھ پہلے نمبر پر، پی ٹی آئی کے کرنل (ر) محمد تاج 9458ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر، 50پولنگ سٹےشن سے مسلم لیگ ن کے امےدوار مہر محمد فیاض 19146 ووٹ کے ساتھ پہلی پوزیشن پر اور پی ٹی آئی کے چوہدری عابد 8530ووٹ لے کردوسرے نمبر پر ہیں۔ پی پی26 میں مسلم لیگ ن کے امیدوارچوہدری لال حسین 14957 ووٹوں کے ساتھ پہلے، پی ٹی آئی کے عثمان چوہان 8790 ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر ہیں۔ پی پی27 میں 82 پولنگ اسٹےشن سے غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کے امےدوار چوہدری نذر گوندل 23734 ووٹ حاصل کر کے پہلے ق لیگ کے چوہدری عابد جوتانہ 14392 کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ پی پی 165 شیخوپورہ سے آزاد امیدوار علی اصغر منڈا 41165 ووٹ لیکر جیتے۔ پی پی 105 حافظ آباد سے مسلم لیگ ن کے ملک فیاض کو برتری حاصل ہے۔ پی پی 2 راولپنڈی سے مسلم لیگ ن کے راجہ محمد علی کامیاب ہوئے۔ پی پی 11 راولپنڈی سے تحریک انصاف کے راشد حفیظ ڈار جیت گئے۔ پی پی 174 سے مسلم لیگ ن کے جمیل حسن گڈ خان 7177 ووٹ لیکر جیت گئے۔ انکے مدمقابل آزاد امیدوار آغا علی حیدر نے 18080 ووٹ لئے۔ پی پی 169 سے مسلم لیگ ن کے چودھری سجاد گجر 20400 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے۔ پی پی 261 سے آزاد امیدوار عامر گوپانک کامیاب رہے۔ پی پی 31 سرگودھا 4 سے آزاد امیدوار مظہر علی رانجھا کامیاب رہے۔ انہوں نے 22954 ووٹ حاصل کئے۔ پی ٹی آئی کے انصر اقبال ہرل نے 14423 ووٹ لئے۔ پی پی 82 جھنگ 6 سے مسلم لیگ ن کے حامی میاں محمد اعظم چیلہ سیال 32680 ووٹ لیکر کامیاب ہو گئے۔ آزاد امیدوار غضنفر علی خان جیوانہ نے 30100 ووٹ لئے۔ پی پی 168 شیخوپورہ 7 سے آزاد امیدوار علی سلمان 22396 ووٹ کے ساتھ کامیاب رہے۔ مسلم لیگ ن کے رانا تنویر احمد ناصر نے 16521 ووٹ لئے۔ پی پی 33 سرگودھا 6 سے مسلم لیگ ن کے چودھری عبدالرزاق ڈھلوں 22314 ووٹ لیکر کامیاب رہے۔ پی ٹی آئی کے چودھری آصف علی بگا نے 14231 ووٹ لئے۔