Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content since 14/05/26 in Posts

  1. آنگن کی چڑیاں۔ خزاں کے زرد پتون کو،جھونکے ہوا نے درختون سے ہی اتار دیا۔۔ تھی نشیمن کی روشنیان جنکو، زمانے کے تھپیڑون مین لہرا دیا۔ گھر کا سارا آنگن کیکر کے پتوں سے نہا گیا، تیزی سے دائیں بائیں ٹہلتے وجود کے قدموں میں تهوڑی لرزش آئی، دل بھی انہی زرد پتوں کی مانند کانپے جا رہا تھا۔ ارےےےمبارک ہو اس بار بیٹا ہوا ہے۔ کمرے کا دروازہ کھول کر اماں باہر نکلی، اس کی آواز میں محسوس کی جانے والی اُمڈتی خوشی تهی، حیات عالم کا وجود بے یقین آنکهیں لیے کهڑا تها۔ رنگین خوشنما چڑیوں کا ایک غول اڑا تها آسمان پر۔ سات بیٹیوں کے پیدا ہونے کے بعد بیٹا، برسوں سے صحرا میں بھٹکتے اس مسافر کو پانی کی بوندیں نصیب ہو ہی گئیں، باپ بننے کا احساس منفرد ہوتا ہے اور سات بیٹیوں کے بعد نرینہ اولاد کا ان کے آنگن میں اترنا گویا چاند ان کے گهر میں اتر آیا ہو۔ اکلوتے بیٹے کی محبت سات بیٹیوں کی محبت کو مات دے گئی دونوں ترازو میں محبت رکهی گئی۔تو بیٹے کی محبت بهاری نکلی ۔ سویرے سویرے اپنے چاند کو کاندهے پر لاد کر وہ کهیتوں میں کام کے لیے نکل جاتے ساتوں لڑکیاں دروازے کی اوٹ میں کهڑی ہو کر رشک بهری نگاہوں سے اپنے باپ کو دیکهتیں۔۔ "ہم بھی ابا کے ساتھ کهیتوں میں جائیں گی " ساتوں ہی باری باری اپنے دل کی بات اماں دادی کے سامنے اگل چکی تهیں ۔ جسے سن کرخوب قہقہہ بلند ہوا اور پھر بلند ہوتا گیا ساتوں شام کی اداسی کو آنکهوں میں لیے فلک شگاف قہقہے چارون طرف سن رہی تهیں ۔ ارےےے اب کڑیاں کهیتوں میں جائیں گی۔اور وہان اپنے ابا کا ہاتھ بٹائیں گی " دادی نے آٹا گوندتی اماں کو مخاطب کیا ان کا بھی جواباً قہقہہ ہی سننے کو ملا ۔ ارےے بیٹا کڑیوں کا کام ہوتا ہے چولہا چونکا کڑی اور منڈے کبهی برابر نہیں ہو سکتے ۔ دادی نے اب سنجیدگی کا روپ دهار لیا کیوں برابر نہیں ہو سکتے یہ بات تو ساتوں کو کبھی سمجھ مین نہیں آئی ۔ انہین ابا نے محبت نہ دی نہ دینی تهی ساتوں سارا دن آم کے درخت سے جهولا باندھ کر جھولتی رہتیں انہوں نے کئی بار دیکها دادی پهل اور مٹھائیاں بانٹتے وقت نا انصافی کرتی ہیں بهائی کا حصہ ساتوں پر حاوی ہوتا تها ایک دن ایک نے پوچھ ہی لیا دادی ہمین ہی ہر بار چیز کم کیون ملتی ہے اور بھائی کو زیادہ کیون۔؟؟ " کیونکہ وہ منڈا ہے " دادی نے وہی رٹا رٹایا جواب دیا اور ابا بھی کچھ نہ بولے ہر جگہ کڑی اور منڈے کا فرق وہ عید کا دن بهلانے والا تو ہرگز نہیں تها جب ابا اپنے لاڈلے کے لیے تین تین سوٹ بنوا کر لایا تھا اور ساتوں پهٹے پرانے کپڑوں میں نم آنکهیں لیےسبھی بچوں سے اپنی نگاہیں چرا رہی تهیں وقت پهسلتا گیا زندگی کے دن کم ہوتے گئے لیکن کڑی اور منڈے کا فرق کبهی ختم نہیں ہوا ساتوں سکول کی دیواریں کو دیکهتی رہ گئیں ۔مگرابا اور دادی نے اپنے لاڈلے کو خوب پڑهایا بار۔۔۔۔بار کی۔۔۔۔منتون ۔۔۔ترلون۔۔۔پر ۔۔۔کہا " کڑیاں بس گهر کے کام کرتی ہیں ۔۔صرف منڈے ہی پڑهتے ہیں "۔۔ابا نے سختی سے ایک دن کہ دیا ارےےے ہم کیوں نہیں پڑھ سکتیں سب سے چهوٹی والی نے منہ بسور کر کہا جواب ابا کی بجائے دادی سے سننے کو ملا تها " کڑیاں بطخوں کی طرح ہوتی ہیں نہ کبهی اڑ سکتی ہیں اور نہ کبهی اڑان بهر سکتی ہیں اور میرا منڈا تو عقاب ہے دیکهنا ایک دن لمبی اڑان بهرے گا "۔۔ پورے گهر میں زور دار قہقہہ ساتوں لڑکیوں کے روح کو گهائل کر گیا دادی نے انہیں بطخوں کے نام سے نواز دیا جو پورے گهر میں ہی مشہور ہو گیا اب تو پورے گهر میں سب کو " بطخوں کی ٹولی " کے نام سے یاد کیا جاتا راتیں رونے لگی تهیں آسمان سسک رہا تھا بس نہیں پھسلے تو انسانوں کے دل پھر ابا کو ایک بار پیسوں کی ضرورت پڑی ساتوں نے جمع شدے پرانے سکے ابا کے سامنے جا کر رکھ دیے " کڑیاں دهوکہ دے جاتی ہیں ہمیں تم لوگوں سے پیسہ نہیں لینا " بہت کوشش کی دعائیں کیں مگر ابا کے دل پہ لگا تالا نہ کهل سکا ساتوں مل کر ابا کے جوتے پالش کرتیں ان کی پگڑی رگڑ رگڑ کر خوب چمکاتیں ان کے وضو کا لوٹا ہمیشہ تیار رکهتیں بدلے میں ابا نے کبهی انہیں ایک نظر ہمدردی سے بھی نہ دیکھا ہمیشہ کہتے تھے بیٹیاں پرایا دهن ہوتی ہیں ہمارے کس کام کی اب تو عرصہ ہو گیا اب تو عادت ہو گئی پیار بهری نگاہیں ان سے اتنی ہی دور تهیں جتنا کہ چاند دور تها آنگن میں فرش پر لیٹی وہ سبھی آسمان پر چاند کو دیکھ رہی تهیں چاند انہیں دیکھ رہا تھا انہیں چاند پر رشک آیا چاند کو ان پر ترس آیا ایک ایک کر کے گهر کا آنگن خالی ہوتا گیا دادی کی بطخوں نے سفروں کے پیمان باندهنے شروع کیے ابا نے سب کے سروں پر پہلی اور آخری بار ہاتھ پهیرا اور اپنے فرائض سے دستبردار ہو گئے گهر کا آنگن سونا ہو گیا پرندے کبهی لوٹ کر نہ آئے پهر کبهی اس گهر میں بطخوں کی آوازیں نہ آئیں آم کا درخت اداس ہو گیا جهولا ٹوٹ کر زمین پر جا پڑا کسی کو فرق نہیں پڑا اور نہ پڑنا تها رونا دهونا تو اس دن ہوا جب بابا اور دادی کا لاڈلہ ائیر پورٹ پر ہاتھ ہلا کر سب کوالوداع کہہ رہا تھا جس سے دادی روئیں تو پھر روتی ہی چلی گئیں " اماں دو سال کے لئے ہی تو گیا ہے آ جائے گا واپس "۔ بابا نے دادی سے زیادہ ڈھارس اپنے دل کو دی فون پر گهنٹوں بات ہونے لگی تھی گهنٹے منٹوں میں تبدیل ہو گئے اور منٹ سکینڈوں میں " لڑکے کو پیسوں کی ضرورت ہے " دادی نے سب کو خبر سنائی اور پاس پیسے بلکل نہ تهے کیونکہ ادھار پہلے ہی بہت لے چکے تهے ساتوں بہنیں چلی آئیں ابا کا اداس چہرہ نہ دیکھ سکیں کسی نے بالی اتاری کوئی انگوٹھی دینے کے لیے تیار ہو گئی مگر ابا نے بہت غصے سے سب کو دیکها مین " بھکاری نہین ہوں اپنے منڈے کے لیے پیسے کا انتظام ہم خود کریں گے " ساتوں اداس چہرے لیے گهروں کو لوٹ گئیں ابا نے زمین بیچ دی سب کچھ ہاتھ سے جا رہا تها ایک چیز کو پانے میں ایک رشتہ بچانے میں کئی رشتے چهوٹے جا رہے تھے دو سال بیت گئے اس کے آگے کے دن بھی نہ رکے سرکتے گئے دادی دروازہ دیکهتی رہ گئیں خط آتے پرچی آتے مگر اک وہی نہیں آتا " ابا میں نے یہیں پہ ہی ویاہ کر لیا ہے " ایک خط میں اس نے لکها امیدیں دم توڑ گئیں دادی کا دل اس سے زیادہ کام نہ کر سکا اور بند ہو گیا دادی کے موت کے کچھ دن بعد اماں بھی سب سے رخصتی لے گئیں ابا گهر کے آنگن میں تنہا رہ گئے وقت نے انہیں بوڑھا کر دیا آنکهیں بنجر ہو گئیں چمن اجڑ چکا تها اب تو برسوں بہت گئے بیٹیاں آتیں دو چار لمحے باپ کو حوصلہ دیتیں اور شوہروں کے ڈر سے پلٹ جاتیں وہ دن دسمبر کا تها سردی سے درخت بھی کانپ رہے تھے ابا چار پائی پر پڑے صدیوں کے مریض معلوم ہوئے اپنا ماضی ایک فلم کی طرح آنکهوں کے سامنے چلتا ہوا دکهائی دیا ان کی پگڑی برسوں سے نہیں دهلی وضو کا لوٹا پهر کبهی تیار نہ ملا ساتوں بطخوں کے گھر سے چلے جانے سے رت ہی بدل گیا پھراچانک اندهیرےمیں روشنی آئی وہ ساتوں چلی آئیں ایک نے پگڑی دهو دی دوسری دوا کهلانے لگی ابا نے ساتوں کی آنکھوں میں دیکها جن میں پوشیدہ سا ایک شکوہ تها انہوں نے کبهی شکوہ کیا نہ عمر بھر کے کسی فعل کو جتایا پهر بھی ابا کی بوڑھی آنکهوں نے سب پڑھ لیا "۔ ابا ہم تو پرایا دهن ہیں آپ کا اپنا دهن کہاں ہے " ابا چارپائی پر لیٹے تهے ساتوں پاس بیٹهی تهیں ابا نے سب کے سر پر ہاتھ رکها ان کی آنکهیں رونے لگیں " دیکها ابا کڑیاں کبهی دهوکہ نہیں دیتیں ہمیشہ منڈے ہی دهوکہ دے جاتے ہیں " عقاب ہمیشہ اڑ جاتے ہیں بطخیں گهر میں ہی رہ گئیں ابا پهوٹ پهوٹ کر رو پڑے مجهے' اولڈ ایج ہوم ' میں ڈال دو وہ ساتوں سے نگاہیں چراتے ہوئے لرزتے ہونٹوں سے بولے آم کے زرد پتے آنگن میں آن گرے ساتوں کانپ اٹهیں وہ بیٹے ہوتے ہیں جو والدین کو ' اولڈ ایج ہوم ' میں پهینک آتے ہیں بیٹیاں کبهی ایسا نہیں کر سکتیں اگر والدین کو اپنے پاس رکهنے کا اختیار حوا کی بیٹیوں کو دیا جاتا تو دنیا میں کوئی ایک بھی ' اولڈ ایج ہوم ' نہیں ہوتا ۔ وہ نظریں چرا گئے نظریں ملانے کے قابل ہی نہیں رہے تهے " یوں تو مجهے اپنی محبت کے زیرِ بار نہ کرو " ساری زندگی ریت کا ایک ڈهیر بن گیا پروردگار کی دی ہوئی رحمتوں کی قدر نہ کر سکا نفرت کرتے وقت یہ بھی بهول گیا۔ پروردیگار نے جنت بھی تو عورت کے قدموں میں رکھ دی محبت کا قرض بڑا تها بہت بڑا وہ اس بوجھ تلے دب گئے سانس تهم گئی دل کی دهڑکن مزید کام نہیں کر سکی سات بطخوں کی چیخوں سے محلہ گونج اٹها آسمان رو رہا تھا آم کے درخت سے آنسو ٹپکنے لگے سب کی آنکهوں میں آنسو تهے لیکن سفید چادر میں ملبوس وہ لاش مسکرا رہا تھا اگر دنیا میں بیٹیاں نہ ہوتیں تو باپوں کے جنازے سناٹوں میں اٹهتے اور ان کے قبروں پر فاتحہ پڑهنے والے کہیں نہیں ہوتے " ہمیشہ عقاب اڑ جاتے ہیں بطخیں آنگن میں ہی رہ جاتی ہیں " ختم شدہ
  2. 🌟 اعلانِ ترقی | وڈ مین 🌟 فورم کے معیار، سنجیدگی اور مثبت روایات کو برقرار رکھتے ہوئے ہمیں یہ خوشی ہے کہ ہم ایک اہم اعلان آپ کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں۔ ہمارے معزز اور قابلِ قدر ممبر وڈ مین کو ان کی مسلسل محنت، معیاری اور بامقصد تحریروں، اور فورم کے لیے مثبت کردار کے اعتراف میں جونیئر رائٹر سے سینئر رائٹر کے عہدے پر ترقی دی جا رہی ہے۔اب سے انہیں تمام سینئر رائٹر کی سہولیات دستیاب ہوں گی ۔ ان کی تحریروں میں پختگی، ذمہ داری اور تخلیقی سوچ نمایاں رہی ہے، جس نے نہ صرف فورم کے معیار کو بہتر بنایا بلکہ دیگر اراکین کے لیے بھی ایک عمدہ مثال قائم کی۔ اب ان کی تحریریں فورم کے پیڈ سیکشن میں بھی نمایاں طور پر پیش کی جائیں گی۔ اگر ان کا اندازِ تحریر آپ سب کو پسند آئے تو اپنی قیمتی آراء سے ضرور آگاہ کریں، تاکہ مستقبل میں انہیں پیڈ ناولز/فائلز تحریر کرنے کا باقاعدہ موقع فراہم کیا جا سکے۔ ہمیں یقین ہے کہ وہ اپنی نئی ذمہ داریوں کو اسی جذبے اور سنجیدگی کے ساتھ نبھاتے ہوئے فورم کو مزید ترقی کی راہ پر گامزن رکھیں گے۔ فورم انتظامیہ کی جانب سے انہیں دل کی گہرائیوں سے مبارکباد اور نیک تمنائیں۔ تمام معزز اراکین سے گزارش ہے کہ وہ بھی اس خوشی کے موقع پر اپنی نیک خواہشات کا اظہار کریں۔ @Woodman ایڈمنسٹریٹر ۔۔اردو فن کلب
  3. اگر دنیا میں بیٹیاں نا ہوتیں تو ماں باپ کا گھرانہ سونا ہوتا پتہ نہیں کیوں لوگ بیٹیوں کو بوجھ سمجھتے ہیں ؟
  4. بھابھی کی بہن کو پٹا کے چودا اردو سیکس میں لایا ہوں اپنی سیکسی بابھی کی سیکسی بہن کی چدائی کیا کہانی جس نے مجھے شادی والے دن سے ہی پریشان کیا ہوا تھا میں نے جب اس کو شادی والے دن دیکھا تھا تب سے ہی میرے لن میں کھجلی ونے لگی تھی لیکن میں مجبور تھا کیونہ وہ غیر برادری کے لوگ تھے اور میں نہیں چاہتا تھا کہ میری وجہ سے بھائی کی عزت پہ حف آئے میں نے دل ے ساتھ ساتھ لن کے اوپر پہ ہاتھ رکھااور دونوں کو سمجھایا کہ پلیز ذرا صبر کر لوں یہ گرم پھدی اور نوکیلے نلز والی جوان سیکسی لڑکی کہیں نہیں جا رہی ایک نا ایک دن اس کی پھدی میں میرا لن ضرور جائے گا بس کچھ انتظار کرو او اسی طرح ایک سال ہونے کو تھا تب مجھے ا سکی پھدی لینے کا موقع ملنے کی امید لگ گئی تھی میری بھابھی کی سیکسی بہنا زیادہ ہمارے گھر نہٰں آتی تھی کیونکہ غیرا برادری تھی کزن تو تھے نہٰں تھوڑی اس کو جھجھک بھی ہوتی تھی پھر ایک دن سارے حالات میرے حق میں تھے اور میں نے پھر پرانی خواہش کو عملی جامہ پہنایااسی کہانی کو اردو سیکس میں شیئر کرنے لگا ہوں تاکہ جس طرح میں دوسروں کی لن پھدی کہانیاں پڑھ کے انجوائے کرتا ہوں دوسرے دوست میری کہانی پڑھ کے بھی رات کو سونے سے پہلے مٹھمار کے سوئیں تو ان کو معلوم ہو کہ کہانی پوسٹ کرنے کے بعد پرھنے والوں پہ جو گزرتی ہے اسکا اھتتام سوائے مٹھ مارنے کے اور کچھ نہیں ہوتا سب کی گرل فرنڈ یا بیوی نہٰں ہوتی جس کی پھدی لیکر بندہ سکون کے ساتھ سو جائے ہم کو مٹھ سے ہی گزارہ کرنا پڑتا ہے میرے نام کمال ہے اور میں چودنے کے معاملے مٰں بھی کمال ہی کرتا ہوں ا س لفظ کمال سے مجھے ایک شعر یاد آیا ہے انیس بیس غلطی ہو تو برا مت منائے گا بٹھا کے پہلو میں یار کو رات بھر غالب جو کچھ نہیں کرتے وہ کمال کرتے ہیں لیکن میں اس طرح کا کمال نہیں کرتا میں تو اس طرح کمال کرتا ہوں کہ بس ہاتھ ملا لے چودے بنا واپس نہیں جانے دونگا خیر یہ اپنے منی میاں مٹھو بننے والی بات ہے کبھی کسی لڑکی نے آزمانا ہو تو بتائے اور میرے عمر تئیس سال ہے اور میرے ایک بڑا بھائی جس کے بارے بتایا ہے کہ ا سکی شادی کو ایک سال ہونے والا ہے ہے اس کے نام حسن ہے اور اس کی عمر پچیس سال ہے اور وہ ایک آفس میں جاب کرتا ہے اور میرے بھای کے شادی ہو چکی ہے اور اس کا ایک بیٹا ہونے والا ہے اور میری امی کی بھی طبیعت خراب رہتی ہے تو وہ نانی کے گھر میں رہنے گئیں ہوئی تھی اور میں اکیلا گھر میں رہ رہا تھا تو میری بھابھی نے مجھے بولا کے تم میری بہن شیزہ کو بلا لاو کیونکہ میری بھی طبعیت خراب ہے مجھ سے اٹھا نہٰں جا رہا وہ ئے گی تو کم از م کھانا تو بنائ گی کپڑے استری کر دیا کرے گی وغیرہ وغیرہ اور میں تو چاہتا ہی یہی تھا وہ آئے اس کو بہانے سے پٹا کے اس کی پھدی ماروں اور نپلز چوسوں جس کے بڑے ممے مجھے سپنے میں تنگ کرتے تھے میں نے سوچا کے اگر شیزہ آی گی اور گھر میں بھی کوئی نہیں ہے میں بھابھی کی شادی کے دوران تو کچھ نہیں کر سکا اور اگر اب یہ آیے گی تو میں کچھ کر سکو گا مجھے اس کے نپلز والے ممے اور مست ہونٹ اچھے لگتے تھے اور مجھے اس کے پاکستانی بوبز لڑکی کے تو بہت اچھے لگتے ہیں اس کے نپلز والے ممے کا سائزچھتیس ہے اور اس پاکستانی بوبز والی کے لپس کے رنگ گلابی ڈارک ہے اور مجھے اس کے ہونٹ بہت اچھے لگتے ہے اور اس پاکستانی بوبز والی کا قد مجھ سے تھوڑا چھوٹا ہے اور یہ مجھ سے عمر میں تھوڑی مست جوانی والی گرم لڑکی اور چھوٹی ہے اس کی عمر بیس سال ہے اور پھر میں اس کو لینے اس کے گھر گیا اور جب یہ میرا ساتھ بائیک میں بٹھ کر گھر لانے لگا تو اس نے مجھ کو پکڑا ہوا تھا جب میں نے بائیک تیز کی تو اس نے مجھے بولا کے میں گر جاو گی آرام سے چلاو پھر میں نے اس کو بولا کے تم نے مجھے اب حلایا تو گر جاو گی پھر اس نے مجھے پکڑا لیا اور میرے ساتھ چپک گئی پھر جب ہم گھر پہنچے تو اس کو میں اپنے گھر کے اوپر والے روم میں لے آیا اور میں نے اس پاکستانی بوبز والی لڑکی کو بولا مجھے کچھ کھانا کے لیے دو تو اس نے بولا کے صبر کر جاو بناتی ہوں میں نے پھر اسے بولا کے مجھے بھوک نہیں ہے اور میں گھر سے باھر چلا گیا پھر تھوڑی دیر بعد اس نے مجھے فون کیا اور بولا کے گھر آجاو میں نے کھانا بنا دیا ہے میں نے بولا مجھے نہیں کھانا ہے اس نے مجھے بولا کے پلز پلز آجاو اب اور کھانا کھا لو میں نے بولا ٹھیک ہے میں اتا ہو پھر میں گھر چلا گیا اور میں کھانا کھانے لگ گیا اور پھر میں کھانا کھا کر سونے چلا گیا اور دو گھنٹے کے بعد جب میں سویا ہوا تھا تو وہ میرے پاس آئی اور ہولے سے بولی آپی کو میں نے ابھی سلایا ہے نیند کی گولی دی ہے ان کی طبیعت بہت خراب تھی متلی ہو رہی تھی تمہارے بھائی کی نائیٹ ڈیوٹی ہے آپی کو فل اندھیرے میں نیند آتی ہے جبکہ مجھے اندھیرے سے ڈر لگتا ہے کیا مٰں ادھر ایک سائڈ پہ سو جاوں اور میں جب اس کے پاس گیا تو اس نے مجھے زور سے سینے سے لگا لیا اور پھر رونے لگی پھر میں نے اسے چپ کروایا اور اس کو پکڑ کر سہلاتا اور سکون دیتا گیا اور میں تھوڑی دیر بعد میں نے اس کو ماتھے پر سکسی سی مست والی کس کی تو اس کی آنکھ کھل گئی اور یہ مجھے دیکھنے لگی پھر میں نے اس پاکستانی بوبز والی لڑکی کے لپس کو چوسنا لگا اور اس کے کیا بعد اس کے کپڑے اتارے اسکو گرم کر دیا تھا فل میں نے اور اس کے نپلز والے ممے کو اپنے گیلے منہ میں لا کر چوس رہا تھا اور اس نے میرا کھڑا ہوتا جوانی کا لنڈ پکڑنے لگی اور اس نے میرا کھڑا ہوتا جوانی کا لنڈ اپنا گیلے منہ میں چوسنے کے لیئے ڈالا جس سے مجھے پتہ لگ گیا کہ یہ سب جانتی ہے سکس کا اور پھر میں نے اس پاکستانی بوبز والی لڑکی کی چوت میں اپنا کھڑا ہوتا جوانی کا لنڈ ڈالنا لگا اور اسپیڈ سے سے اندر ڈال کر باھر نکالنے لگا اور پھر میں نے اس کے مست جوانی کی گرم چوت میں اپنی چدائی لگا کر کھلی پھدی کے اندر منی گرا دی اور چدائی کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ وہ پھدی دینا چاہتی تھی اور مجھے بے وقوف بنا رہی تھی کہ اندھیرے سے ڈر لگتا ہے ہم اب بھی اچھے دوست ہیں اور ا سکی اجازت سے ہی میں اردو سیکس کہانی کو اس فورم میں پوسٹ کر رہا ہوں۔۔
  5. Hi, I am fatima from pakistan and I am new member here. Please suggest me some good stories

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.