Update 013
عام طور پر اگر دیکھا جائے تو کہانیوں میں کچھ ایسا ہی ہوتا ہے
ہیرو جوان ہوتا ہے اور ایک کے بعد ایک کرکے اس کو چوتیں ملنی شروع ہو جاتی ہیں
لیکن حقیقی زندگی اس سے تھوڑی مختلف ہے
حقیقی زندگی میں ایسا نہیں ہوتا کہ آپ کے اردگرد موجود سبھی لڑکیاں آپ سےچدنے کو بےتاب ہوں
مجھے چوت کامزہ تو لگ گیا تھا لیکن صرف ایک ہی بار
اس کے بعد سے ہمیشہ جب بھی کوئی اس طرح بنتا کوئی نہ کوئی مسئلہ بیچ میں پڑ جاتا
آج بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا
بے چارے منا نے اپنی بہنوں کی چدائی پر چھاپا مار دیا تھا
میں آج بھی منا کو دیکھتا ہوں تو مجھے بہت ہنسی آتی ہے
خیر میں جب کمرے میں آیا تو مہوش کا میسج آیا ہوا تھا
اس نے بتایا تھا کہ خطرہ ٹل گیا
میں اور مہوش ایسے ہی میسج پر باتیں کرتے رہے
میں تو لڑکا تھا تو میری اتنی گانڈ پٹی ہوئی تھی وہ دونوں تو بیچاری لڑکیاں تھی
مہوش اور نوشین کا بھی ڈر کے مارے برا حال تھا
مہوش بار بار یہی کہہ رہی تھی کہ اگر آج پکڑے جاتے تو پتا نہیں کیا ہو جاتا
خیر وہ دن کسی نہ کسی طرح گزر گیا
میں نے پھر مہوش سے بات کرنے کی کوشش کی
اس کو سمجھایا کے بار بار چھاپا نہیں پڑے گا
لیکن وہ واقعی بہت ڈری ہوئی تھی
خیر میرے بہت سمجھانے پر اس نے کہا کہ کچھ دن ٹھنڈے ہو کر بیٹھ جاؤ
میں سمجھ گیا کہ اب کچھ دن اور مٹھ پر ہی گزارا کرنا پڑے گا
ایسے ہی دن گزرتے رہے
میں نے کئی بار میں بھی مہوش اور نوشین کو منانے کی کوشش کی
لیکن دونوں میں سے کوئی بھی نہیں مانی
ایک دن مہوش کی امی میرے گھر آئیں
ان کے ہاتھ میں مٹھائی کا ایک چھوٹا سا ڈبہ بھی تھا
میوش کی امی نے بتایا کہ نوشین کا رشتہ پکا ہو گیا ہے
یہ سن کر میرے چہرے پر اداسی چھا گئی
بیٹھے بیٹھے ایک اور چوت ہاتھ سے نکل گئی
میں اوپر اپنے کمرے میں آیا اور نوشین کو میسج کر دیا مبارک ہو
نوشین کا کوئی رپلائی نہیں آیا
اسے بھی پتہ تھا کہ یہ بات میں طنز میں کہہ رہا ہوں
دن گزر گیا
میں سو گیا
اگلے دن اٹھا اور اسکول چلا گیا
واپس آکر موبائل دیکھاتو اس میں مہوش کا میسج آیا ہوا تھا
مہوش نے میسج کیا تھا کہاں ہو
میں نے رپلائی کیا گھر پر
میسج آیا میرے گھر آؤ
میں نے اوکے کا میسج کیا اور مہوش کے گھر کر چلا گیا
پہنچ کر میں نے دستک دی تو دروازہ نوشین نے کھولا
نوشین مجھے دیکھ کر مسکرائی
لیکن میں نے اپنا چہرہ سنجیدہ ہی بنائے رکھا کیونکہ میں اس سے ناراض تھا
نوشین دروازے سے ہٹ گئی اور مجھے اندر آنے کا راستہ دیا
میں گھر کے اندر پہنچا
اندر برآمدے میں لکڑی کے تخت پر مہوش بیٹھی تھی
مجھے دیکھ کر اس کے چہرے پر ہمیشہ کی طرح مسکراہٹ آگئی
مہوش نے مجھے اپنے پاس تخت پر بیٹھنے کا اشارہ کیا
میں اس کے پاس جا کر بیٹھ گیا
نوشین بھی آ گئی اور میرے سامنے کھڑی ہو گئی
نوشین نے ایک نظر مجھے دیکھا اور پوچھا وقاص تم مجھ سے ناراض ہو؟
میں نے کہا جی نہیں میں کیوں آپ سے ناراض ہونے لگا
میں نے یہ بات طنزیہ کی تھی جس کو نوشین بھی سمجھ گئی تھی
نوشین آگے بڑھی اور میرا ہاتھ پکڑ کے بیٹھ گئی
میں نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور کہا کہ آپ کا بھائی آئے گا مجھے چلنا چاہیے
میں تخت سے اٹھنے لگا تو نوشین نے میرا ہاتھ پکڑا
اور مجھے اپنی طرف زور سے کھینچا
میں سیدھا نوشین سے چپک گیا
نوشین کا قد اس وقت قریب میرے برابر ہی تھا
ہم دونوں کے ہونٹ آپس میں ملتے ملتے بچے
ہم دونوں کے چہرے ایک دوسرے سے بہت قریب تھے
نوشی آگے بڑھی اور میرے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے ہلکا سا چھوڑ کے پیچھے ہو گئی
اب میرے اندر آگ بھڑک گئی تھی
میں آگے بڑھا
اپنے ہاتھوں سے نوشین کا چہرہ پکڑا
اور اپنے ہونٹ نوشین کے ہونٹوں پر جما دیئے
نوشین نے اپنے ہونٹ کس کے بند رکھے ہوئے تھے
اور اپنے ہاتھ میرے سینے پر رکھ کر مجھے دور کر رہی تھی
میں گھر سے یہ سوچ کر آیا تھا کہ اگر آج یہ مچھلی میرے ہاتھ سے نکل گئی تو پھر کبھی ہاتھ میں نہیں آئے گی
میں کس کرتے ہوئے اپنی زبان اس کے ہونٹوں پر پھیرے جا رہا تھا
آخر کو نوشین نے اپنے ہونٹ کھول ہی دیا
اب نوشین دیکس میں برابرکا میرا ساتھ دے رہی تھی
میں نے نوشین کے چہرے کو چھوڑا
اور میرے ہاتھ نوشین کے جسم پر جگہ جگہ بھٹکنے لگے
پہلے میں نے نوشین کے مموں کو دبایا
اور پھر ہاتھ پیچھے لے گیا پیٹھ کی جانب
وہاں سے ہاتھوں کو لکھتا ہوا نیچے نوشین کے چوتڑوں پر لایا
اور نوشین کی گانڈ کو پوری طاقت سے دبایا
نوشین کے ہونٹ میرے ہونٹوں کے بیچ میں ہی کانپے
مہوش سامنے بیٹھے یہ منظر بڑے غور سے دیکھ رہی تھی
آخر کو صبر نہیں ہوا اور وہ بھی اٹھ کر ہماری طرف آ گئی
میں نے نوشین کے ہونٹوں کو چھوڑا اور فورا اسے مہوش کا سر پکڑ کر اسے کس کرنے لگا
مہوش پوری طرح سے گرم تھی اور فورا ہی میرا ساتھ دینے لگی
اب میں کس مہوش کو کر رہا تھا لیکن میرے ہاتھ نوشین کی گانڈ پر تھے
نوشین پوری طرح مجھ سے چپکی ہوئی تھی تھی اور مہوش میرے دائیں طرف تھی
میں نے اپنے ہاتھوں کو نوشین کی کمیض کے اندر ڈالنا شروع کیا
اپنے ہاتھوں کو نوشین کے پیٹ پر پھرتا ہوا اوپر کی جانب بڑھانے لگا
نوشین مجھے روک نہیں رہی تھی
جو کہ میرے لیے بھی حیران کن تھا
بھلا ایسی لڑکی جس کی ایک مہینے بعد ہی شادی ہو
وہ کیوں اپنا کنواراپن ضائع کروا کے اپنی زندگی برباد کرے گی
میں دیر نہ کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو نوشین کے مموں پر لے گیا
برا کے اوپر سے ہی مموں پر پہلے ہاتھ پھیرا اور پھر دبایا
میرے ہونٹ ابھی مہوش کے ہونٹوں کے بیچ میں تھے
مہوش زور سے میرے ہونٹوں کو چوسے جا رہی تھی
میرے ہاتھوں میں ایک بہن کے ممے تھے اور ہونٹوں میں دوسری بہن کے ہونٹ