کہانی میں اب واقعی حرامی پن آتا جا رہا ہے۔بہت خوب ڈاکٹر خان ۔آپ کی یہ سیئریل بھی کافی غضب کی ہے۔
کہانی کا ابتدائی نام حرامی سوچا تھا۔مگر بعد میں اسے بدل کر ہوس کر دیا۔
ابھی تو سکندر نے حرامی پن کرنا سیکھا ہے اور دیکھ لیجیئے کہ حرامی پن کرنے سے منٹوں بعد ہی اسے زندگی کی پہلی لڑکی مل گئی۔ اب جلد ہی وہ چودنا بھی سیکھ جائے گا۔ ابھی اسے خاص معلوم نہیں ہے مگر جمیل بھی تو کبھی لاہور کی گلیوں اور سڑکوں کو گواچی گاں کی طرح دیکھتا تھا۔ اب دیکھیے۔۔۔۔وہ شہر کی مافیا پر راج کرنے کے پلان بنا رہا ہے۔
سکندر تو خود اپنی پیدائش کے متعلق مشکوک ہے کہ جائز بھی ہے یا نہیں۔انتظار کیجیے،جناب،سکندر بھی ایک نہ ایک دن حرامی پن میں پی ایچ ڈی کرے گا۔