Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 05/02/25 in all areas

  1. بھائی ہاتھ جڑوا لو پیر پکڑوا لو۔ یہ نہ بولو۔ اب مزید نہیں سہی جاتی۔ ایک کہانی کا نتیجہ بھگت رہے ہیں۔ پیڈ ممبران ناراض ہیں کہ اس کی اپڈیٹ زیادہ آتی ہے اور کہانی کا اصل رائیٹر ناراض ہے کہ ہم نے کہانی پہ قبضہ کیا ہے اور ہم ڈھولکی کی طرح ہر طرف سے بج رہے ہیں
  2. یہ بندے اس نے کراچی سے ہی آپ کے پیچھے لگائے تھے جو دن رات آپ کی ریکی کر رہے تھے اور کل رات موقع مناسب جان کر انہوں نے حملہ کر دیا۔۔۔مجھے انتہائی افسوس ہے کہ میرے اک برسوں پرانے ساتھی نے دغا کی اور میں اسے پہچان ہی نہیں پایا۔۔۔ساری بات بتا کر حنیف نے غمزدہ انداز میں اپنا سر جھکا لیا۔ ************************ (74) میں نے پوچھا اب سردار علی کہاں ہے تو اس نے اسی طرح سر جھکائے ہوئے کہا کہ اسے میں کل رات ہی میں نہر میں ڈال چکا ہوں۔۔۔چونکہ پانی کا بہاؤ تیز تھا تو پتہ نہیں کہاں تک پہنچ چکا ہو گا۔۔۔کل اس سے ساری معلومات لینے کے بعد میں نے دو گولیاں اس کی کھوپڑی میں اتاریں اور فوراً آپ کی مدد کو پہنچا۔۔۔کیونکہ اس کے مطابق اس کے ساتھی آپ کے گھر پر حملہ کر چکے ہوں گے اور قدرت کی کرنی دیکھیے کہ میں عین وقت پر پہنچ گیا۔ میں اٹھا اور حنیف خان کو کندھوں سے پکڑ کر اٹھاتے ہوئے بولا!!!حنیف تم نے جو کیا سہی کیا اور میں اس پر تمہارا شکر گزار ہوں۔۔۔آج سے تم میرے لیے کام کرنے والے تنخواہ دار نہیں بلکہ دوست اور بھائی کی حیثیت سے رہو گے۔۔۔کچھ دیر اسی طرح کی باتوں میں گزر گئی پھر ہم دونوں نے اسے آج حویلی میں ہونے والی بات چیت سے مطلع کیا تو وہ بھی پرجوش ہو گیا۔۔۔سر اس طرح تو ہمیں اور کھل کھیلنے کا موقع ملے گا ہم ان کے اندر رہ کر ہی ان کی جڑیں کاٹیں گے۔۔۔میں نے حنیف کو بولا بس تم اپنی آنکھیں کھلی رکھنا اور چوکس رہنا کسی بھی وقت تمہاری ضرورت پڑ سکتی ہے۔ پھر میں اور نادر وہاں سے نکل کر گھر پہنچ گئے۔۔۔اگلے چار پانچ دن آرام میں گزر گئے۔۔۔پولیس والے دوبارہ ایک دفعہ آئے اور ہمارے بیانات لینے کے بعد کھانا کھا کر اور نظرانہ لیکر چلے گئے۔۔۔نادر اب روٹین سے حویلی جا رہا تھا۔۔۔چار پانچ دن میں میرا زخم بھی بھر چکا تھا تو پھر ایک دن نادر مجھے بھی حویلی لے گیا۔۔۔ایک بات بتاتا چلوں شمسہ کو بڑی مشکل سے رام کیا تھا وہ نہیں مان رہی تھی کہ میں بھی حویلی والوں کی ملازمت کروں۔۔۔لیکن یہ تو مجھے کرنا تھا کیونکہ میرے سامنے ایک مقصد تھا۔۔۔شمسہ کو جب یہ کہانی سنائی کہ حویلی والوں کے اثرورسوخ کی وجہ سے دوبارہ کبھی کوئی واردات نہیں ہو گی تو شمسہ نیم راضی ہو گئی۔ حویلی میں میرا پہلا دن تھا۔۔۔مجھے ایک کرولا کار دی گئی۔۔۔ٹیسٹ ڈرائیو کے بعد میں اسی اچھی طرح چیک کر چکا تھا۔۔۔تھوڑی دیر بعد مجھے اندر سے ایک ملازمہ نے بتایا کہ چھوٹی بی بی کو لاہور کسی کام سے جانا ہے تو میں تیار رہوں۔۔۔میں گاڑی کے پاس ہی موجود تھا کہ اندر سے شبینہ سیال آتی دکھائی دی۔۔۔جیسے کہ میں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ جمیل کے چہرے پر مردانہ وجاہت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔۔۔اس لیے شبینہ نے مجھے دیکھا تو جیسے ایک لمحے کیلئے اس کی نگاہیں مجھ سے چپک سی گئیں۔۔۔پھر اس نے اپنی نگاہیں بدلیں اور چپ چاپ آ کر گاڑی میں بیٹھ گئی۔۔۔اسی وقت دوڑتے ہوئے قدموں کی آواز سنائی دی۔۔۔میں جو گاڑی میں بیٹھ رہا تھا مڑ کر دیکھا تو اتنے عرصے بعد چھیمو کو اپنے سامنے پایا۔ وہ بھاگتی ہوئی آئی اور گاڑی کا دروازہ کھول کر شبینہ کے ساتھ بیٹھ گئی۔۔۔میں نے چپ چاپ گاڑی سٹارٹ کی اور حویلی سے باہر نکل آیا۔۔۔تقریباً دس منٹ بعد ہم لوگوں گاؤں سے نکل رہے تھے جب شبینہ کی آواز سنائی دی۔۔۔وہ مجھے کہہ رہی تھی کہ گاڑی ماڈل ٹاؤن لے چلو۔۔۔میں سیدھا گاڑی بھگاتا ہوا ماڈل ٹاؤن کی طرف چل پڑا۔۔۔ماڈل ٹاؤن میں ایک کوٹھی کے آگے شبینہ نے گاڑی رکوائی اور اتر کے چھیمو کو ساتھ لیکر کوٹھی میں داخل ہو گئی جبکہ میں نے وہیں ہلکا سا نیم دراز ہو کر سگریٹ سلگائی اور سوچنے لگا کہ یہ شبینہ کی کایا کیسے پلٹ گئی یہ تو انتہائی نک چڑھی اور مغرور لڑکی ہے پھر چھیمو جیسی ملازمہ کے ساتھ ایسے آنا وہ بھی دونوں ایک ہی سِیٹ پر بیٹھ جائیں۔بات کچھ ہضم نہیں ہو رہی تھی۔۔۔چھیمو کا خیال آتے ہی سوچوں کا رخ خود بخود چھیمو کے ساتھ گزرے وقت کی طرف ہو گیا اور اس کو سوچتے ہی میرا لن آہستہ سے سر اٹھانے لگا۔ ************************* (75) چھیمو پہلے کی نسبت تھوڑی صحت مند ہو چکی تھی اور اس کے جسم کی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہوا تھا۔۔۔اس کے ساتھ بیتا ہوا وقت یاد آ گیا کہ کیسے میں نے چھیمو اور راجی کی ایک ساتھ مل کر پھدی ماری تھی۔۔۔میں ابھی ان سوچوں میں ہی گم تھا کہ مجھے گاڑی کا دروازہ کھلنے کی آواز سنائی دی۔۔۔میں چونک کر سیدھا ہوا دیکھا تو وہ چھیمو تھی۔۔۔میں بیک مرر میں اس کو دیکھ رہا تھا۔۔۔وہ میری طرف دیکھ کر بولی چھوٹی بی بی کو یہاں ابھی دو گھنٹے لگیں گے ہمیں ایک اور کم جانا ہے اچھرہ۔ تم گاڑی گھماؤ اور اچھرہ کی طرف چلو وہاں ہمیں چھوٹی بی بی کے کچھ کپڑے درزن سے اٹھانے ہیں۔۔۔راستے میں میرا بہت دل کیا کہ میں اس سے کوئی بات کروں لیکن فلحال میں اپنے کمال ہونے کا راز کھولنا نہیں چاہتا تھا اس لیے چپ رہا۔۔۔اچھرہ سے ابھی واپس نکلے ہی تھے کہ راستے میں وہ بولی۔۔۔شاید تم مجھے اعتماد کے قابل نہیں سمجھتے جو اب تک خاموش ہو۔۔۔اسٹیرنگ سے میرے ہاتھ ہلکے سے ڈگمگائے اور گاڑی تھوڑا لہرا گئی لیکن میں نے مہارت سے گاڑی کو قابو کیا اور بولا یہ تم کیا کہہ رہی ہو میں سمجھ نہیں پایا تو وہ بولی اب بس کرو کمال۔۔۔اور کتنا چھپاؤ گے کتنے جھوٹ بولو گے۔۔۔مانا کہ بہت سارے مردوں نے مجھے اپنے نیچے لٹایا ہے مگر عورت اسے کبھی نہیں بھولتی جس کے نیچے وہ اپنی مرضی سے لیٹتی ہے۔۔۔کیونکہ وہ اسے اپنا مرد سمجھتی ہے اور اپنا مرد کبھی بھلایا نہیں جا سکتا۔ اور تم نے مجھ جیسی رانڈ کی خاطر جو کیا وہ میں کیسے بھول سکتی ہوں۔۔۔پھر تمہارے ساتھ جو ہوا جیسے ہوا اک اک لمحے کی خبر ہے مجھے۔۔۔میں نے گاڑی ایک سائیڈ پر روکی اور اسے اگلی سِیٹ پر آنے کو کہا۔۔۔وہ چپ چاپ اتر کر میرے ساتھ والی سِیٹ پر آ کر بیٹھ گئی۔۔۔میں نے گاڑی آگے بڑھائی اور نسبتاً ایک سنسان جگہ پر درختوں کے جھنڈ میں روک لی۔۔۔چھیمو کی طرف دیکھ کر پوچھا کہ تم کیسے کہہ سکتی ہو کہ میں کمال ہوں۔۔۔وہ بولی گاؤں میں جو چار لوگ تمہارے زندہ ہونے کے بارے میں جانتے تھے میں ان میں سے ایک ہوں اتنا تو تمہیں پتہ ہی ہو گا پھر چھیمو بولی یاد ہے تم نے اپنے گھر والوں کو بتایا تھا کہ جمیل کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے اور وہ مر چکا ہے مجھے یہ بات بینا نے بتائی تھی کیونکہ وہ میری پیاری سہیلی تھی اور نادر کی تمہارے ساتھ یاری بھی مجھ سے چھپی نہیں تھی۔۔۔اس لیے جب جمیل کو زندہ جاوید اپنے سامنے دیکھا تو اسی وقت مجھے شک ہوا۔۔۔چند دن پہلے باتوں ہی باتوں میں نارمل انداز میں تمہاری اس چھیمو نے ہی نادر کو یہ خبر دی تھی کہ حویلی میں کوئی بڑی میٹنگ ہونے والی ہے۔ پھر راجو کے بعد صفدر سیال کی بھی گانڈ میں گولیاں لگیں اور یہ قدر مجھے سوچنے پر مجبور کر گئی۔۔۔لیکن مجھے پکا یقین اس دن ہوا جب میں نے تمہیں دوپہر کے وقت اپنے تباہ شدہ گھر میں گھٹنوں کے بل بیٹھے روتے دیکھا۔۔۔میں بہت للچائی کہ بھاگ کر تمہارے پاس آ جاؤں اور تمہیں اپنی آغوش میں سمیٹ لوں پر میں نہیں کر پائی کیونکہ تم تم نہیں جمیل بن چکے ہو کیسے میں نہیں جانتی۔۔۔دنیا بہت بڑی ہے ہو سکتا ہے تم نے کوئی چکر چلایا ہو لیکن تم کمال ہو میرے کمال ہو وہ جزباتی لہجے میں بولتی گئی۔ میں نے اپنا ہاتھ بڑھا کر اس کے ہاتھ پر رکھا تو اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور اس نے رخ موڑ کر میری طرف دیکھا تو اس کے ہونٹ کپکپا رہے تھے۔۔۔میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا ہاں چھیمو میری جان میں کمال ہی ہوں۔۔۔وہ چیخ مار کر مجھ سے لپٹ گئی اور دیوانہ وار میرے چہرے کو چومنے لگی۔۔۔کمال۔کمال ہائے تم پھر سے مل گئے تو میرا سیروں خون بڑھ گیا۔میں نے اسے چپ کرواتے ہوئے کہا چھیمو یہ جگہ مناسب نہیں ہم پھر ملیں گے۔۔۔کسی اور جگہ پر بیٹھ کر بات کریں گے تسلی سے بات کریں گے۔ اس نے اپنے آنسو پونچھ لیے اچھی طرح چہرہ صاف کرنے کے بعد وہ نارمل ہو گئی تو میں نے گاڑی جھنڈ سے باہر نکالی اور روڈ پہ آگے بڑھا دی۔۔۔چھیمو یہ راز اپنے تک ہی رکھنا کہ میں کمال ہوں۔۔۔اور جمیل کیسے بنا۔۔چھیمو میری بات کاٹ کر بولی مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ تم جمیل کیوں اور کیسے بنے بس تم مجھے مل گئے اتنا کافی ہے اور رہ گئی بات کسی کو نہ بتانے والی تو کمال راجی کو یہ بات لازماً بتانا پڑے گی کیونکہ وہ تمہارے لیے وہ کام کر سکتی ہے جو شاید میں بھی نہ کر پاؤں۔۔۔میں نے پوچھا کہ وہ ایسا خاص کیا کر سکتی ہے جو اسے میرے بارے بتانا ضروری ہے تو چھیمو بولی کہ ابھی نہیں یہ بتاؤ دوبارہ کب اور کہاں ملو گے تب ساری بات تفصیل سے بتاؤں گی تو میں نے اسے رات آٹھ بجے میرے پرانے گھر پر ملنے کو کہا تو وہ بولی بس ٹھیک ہے رات کو میں ٹائم پہ گھر پر ملوں گی اور ساری تفصیل بتاؤں گی۔۔۔میں بھی چپ کر گیا کیوں کہ ہم لوگ ماڈل ٹاؤن پہنچ چکے تھے۔۔۔کوٹھی پہنچنے سے پہلے ہی میں نے گاڑی روک کر چھیمو کو احتیاطاً پچھلی سیٹ پر جانے کو کہا اور یہ چیز تھی بھی سہی آخر کو میں ڈرائیور جو تھا۔ ************************ (76) تھوڑی دیر بعد ہم تینوں واپس حویلی کی طرف جا رہے تھے۔۔۔راستے میں کسی نے کوئی بات نہیں کی اور خاموشی سے ہم لوگ حویلی پہنچ گئے۔۔۔باقی کا سارا دن ایسے ہی گزر گیا شام کو ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد میں وہاں سے اکیلے ہی نکل آیا کیونکہ نادر کسی کام سے نور سیال کے ساتھ گوجرانولہ گیا ہوا تھا۔۔۔گھر پہنچا تو شمسہ ماسی کے ساتھ گپیں لڑا رہی تھی۔۔۔مجھے دیکھ کر ماسی نے اجازت چاہی اور اٹھ کر چلی گئی۔۔۔شمسہ میرے لیے شام کے کھانے کے تیاری میں جت گئی۔۔۔میں نے اسے بتایا کہ نادر گوجرانولہ گیا ہوا ہے اور لیٹ آئے گا ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا کہ مجھے کسی کام سے رات کو لاہور جانا ہے تو وہ ساتھ والی ماسی کے گھر چلی جائے۔ میرے جانے کی بات سن کر شمسہ نے شاکی نظروں سے مجھے دیکھا تو میں نے کہا میری جان بس چند گھنٹوں کا کام ہے پھر میں واپس آ جاؤں گا شاید صبح سے پہلے ہی آ جاؤں۔۔۔اس نے ذیادہ کریدنے کی کوشش نہیں کی اور چپ چاپ کھانا تیار کرنے لگی۔۔۔اسی طرح کھانا کھانے کے بعد کافی دیر ادھر ادھر کی باتیں کیں اور میں شمسہ کو پیار سے بہلاتا پھسلاتا رہا پھر ٹائم دیکھا تو آٹھ بجنے والے تھے۔۔۔میں شمسہ کو ساتھ والی ماسی کے گھر چھوڑ کر خود گھر سے نکلا اور چکراتا ہوا نظریں بچا کر اپنے پرانے گھر میں گھس گیا۔۔۔میرا کمرہ ابھی تک سہی سلامت تھا۔۔۔توڑ پھوڑ تو یہاں بھی بہت ہوئی تھی لیکن ایک سائیڈ پر ہونے کیوجہ سے جلنے سے بچ گیا تھا۔ گھر میں داخل ہوتے ہی در و بام نے مجھے اپنی فیملی کی یاد دلا دی اور میں بوجھل قدموں سے اپنے کمرے کی جانب چل دیا۔۔۔کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تو دیکھا کہ کمرے کی اچھی طرح صفائی کی ہوئی ہے۔۔۔میرے دل میں پہلا خیال ہی چھیمو کا آیا۔۔۔ہو نہ ہو وہی آ کر صفائی ستھرائی کر گئی ہو جو کہ بعد میں چھیمو کے آنے پر ثابت بھی ہو گیا کہ کچھ دیر پہلے ہی وہ صفائی ستھرائی کر گئی تھی۔۔۔میرا بیڈ صحیح سلامت تھا چادریں میلی لیکن گرد سے پاک تھیں۔۔۔میں سیگریٹ سلگا کر لیٹ گیا اور چھیمو کے آنے کا انتظار کرتا رہا۔۔۔کچھ دیر بعد ہی دروازے پہ آہٹ ہوئی تو میں اٹھ کر بیٹھ گیا چھیمو دروازہ کھول کر اندر داخل ہو رہی تھی۔ مجھے دیکھتے ہی تیزی سے وہ میری طرف بڑھی اور گلے کا ہار بن گئی۔۔۔اس کے گداز مموں کا لمس اپنی چھاتی پہ محسوس کرتے ہی میرا لن ہوش پکڑتے ہوئے اس کی ٹانگوں کے درمیان ہی اکڑنے لگا۔۔۔اس اکڑاہٹ کو چھیمو نے بھی محسوس کر لیا۔۔۔میرے لن کو محسوس کرتے ہی چھیمو نے ایک ہاتھ سے میرے لن کو پکڑا اور ساتھ اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ کر دیوانہ وار انہیں چوسنے لگی۔۔۔چند لمحوں کی کسنگ کے بعد چھیمو اکڑوں زمین پر بیٹھ گئی اور میری شلوار اتار کر لن اپنے ہاتھوں میں پکڑ لیا۔۔۔وہ بڑے پیار سے میرے لن کو سہلاتے ہوئے بولی ہائے میں تو ترس گئی تھی اپنے اس شہزادے لن کو دیکھنے،چھونے،محسوس کرنے اور چوسنے کیلئے۔ پھر اس نے اپنی زبان نکال کر میرے لن کی ٹوپی پر اچھی طرح سے چاٹ لیا اور ٹوپی کو منہ میں لیکر لالی پاپ کی طرح چوسنے لگی۔۔۔چوستے چوستے جیسے اس نے غوطہ مارا اور میرے لن کو پورا اپنے منہ میں غائب کر لیا اس انداز سے میرے لن کی ٹوپی اس کے حلق میں پہنچ گئی جہاں اس نے اپنے حلق کو دباتے ہوئے میری ٹوپی کو گھونٹ مارا تو میں مزے سے ایک جھٹکا کھا گیا۔۔۔ساری احتیاط بالائے طاق رکھ کر میں نے اس کے بالوں کو اپنی مٹھیوں میں جھکڑتے ہوئے تیزی سے اس کے حلق کو چودنا شروع کر دیا۔۔۔اس کے منہ سے غاں غاں کی آوازیں ابھرنے لگیں۔ مگر میں ہر چیز سے بے نیاز اس کے حلق کو چودتا گیا۔۔۔یہاں تک کہ چھیمو کی حالت بری ہو گئی۔۔۔اس نے ایک جھٹکے سے اپنا منہ پیچھے کیا اور کھانستی ہوئی دہری ہو گئی۔۔۔تب مجھے ہوش آئی اور لگا کہ میں نے اس کے ساتھ ذیادتی کی ہے۔۔۔لیکن میں کچھ بولا نہیں چند لمحوں کے بعد جب چھیمو نارمل ہوئی تو میری طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔یہ چیز میرے شہزادے"ساتھ ہی اس نے اٹھ کر میرا لن اپنے ہاتھ میں پکڑا اور ایک زبردست چوپہ لگانے کے بعد اٹھ کر اپنے کپڑے اتار دیے۔ ساتھ ہی اس نے مجھے لٹاتے ہوئے میری ٹانگوں پر دوزانو بیٹھ کر میری لن کی ٹوپی کو اپنے ہاتھ سے پکڑ کر اپنی پھدی کا نشانہ لیا اور غڑاپ سے اس کے اوپر بیٹھ گئی۔۔۔میرا پورا لن ایک جھٹکے سے چھیمو کی پھدی میں غائب ہو گیا اور اس کے منہ سے ایک لمبی سسسییییییییییییییییی نکلی۔۔۔چھوٹتے ہی وہ تیزگام کی طرح اپنی گانڈ کو زور زور سے اچھالنے لگی۔۔۔اس کی ہر اچھال پر میرا لن جھٹکے سے اس کی پھدی کی دیواروں سے رگڑ کھاتا ہوا اندر باہر ہو رہا تھا۔ دو منٹ میں ہی وہ تھک گئی اور مجھ پر ڈھے سی گئی۔۔۔اب میں نے نیچے سے آہستہ آہستہ لن اندر باہر کرنا شروع کر دیا۔۔۔وہ میری آنکھوں میں دیکھتی ہوئی بولی۔۔۔شہزادے کیا اپنی چھیمو کا دودھ نہیں پیو گے۔۔۔دیکھو کیسے میرے نپلز تڑپ رہے ہیں۔۔ان مموں کا تو میں عاشق تھا۔۔۔میں نے چھیمو کو تھوڑا اوپر کھینچا تو اس کے بڑے بڑے ممے عین میرے منہ کے سامنے آ گئے۔۔۔آج بھی ان مموں کی اٹھان ویسے ہی برقرار تھی لگتا تھا کہ زمانے کے نرم و گرم "اتار چڑھاؤ" نے ان پر کوئی اثر نہیں ڈالا۔۔۔میں نے اس کا ایک نپل منہ میں لیکر چوستے ہوئے اپنے ہاتھوں سے اس کی گول مٹول اور خوب ابھری ہوئی گانڈ کو زور زور سے دبانے لگا۔۔۔میری اس حرکت نے جیسے چھیمو میں پھر جنون سا بھر دیا وہ ایک مرتبہ پھر اٹھی اور اپنے پاؤں کے بل بیٹھ کر میرے لن پر پوری جان سے جمپنگ کرنے لگی۔ ************************ (77) ہم دونوں کے جسم آپس میں ٹکرانے سے کمرے میں چھپ چھپ کی آوازیں ابھر رہی تھیں۔۔۔چند سیکنڈز میں وہ پھر تھک گئی اس بار میں نے اسے اپنے اوپر سے اٹھاتے ہوئے سائیڈ پر کیا اور اٹھ کر اپنے پورے کپڑے اتار دیے۔۔۔پھر میں نے چھیمو کو لٹاتے ہوئے اس کی ٹانگیں اٹھا کر اپنے کندھوں پر رکھیں اور حقیقتاً اس کے گوڈے اسی کے مونڈھوں کے ساتھ جوڑتے ہوئے پوری رفتار سے گھسے مارنے شروع کر دیے۔۔۔اس کی گیلی پھدی میں میرا لن بنا رکاوٹ کھدائی کر رہا تھا۔۔۔اب چھیمو کی سسکاریاں پورے عروج پر تھیں اور اس کے منہ سے افففف۔۔میری جان کمال کررر رہے ہو۔۔۔کب سے میں ترس رہی تھی۔۔۔آہ ظالم۔۔اففف۔۔۔آہہہ۔آہہہ اور زور سے جیسی آوازیں نکل رہی تھیں۔ چند گھسوں کے بعد چھیمو کا جسم لرزہ اور وہ کانپتے ہوئے جھڑتی چلی گئی۔۔۔اس کے منی سی اس کی پھدی لبالب بھر چکی تھی اور مجھے لتھڑی ہوئی پھدی مارنے کا مزہ نہیں آتا تھا اس لیے میں نے اپنا لن باہر نکال لیا۔۔۔میں نے اپنا لن باہر نکالا اور چھیمو کی سائڈ پر ہی لیٹ گیا۔۔۔چھیمو کو یوں سانس چڑھا ہوا تھا جیسے وہ میلوں دوڑتی ہوئی آئی ہو۔۔۔دو منٹ بعد جب اس کا سانس بحال ہوا تو وہ اٹھی اور میرے مرجھاتے ہوئے اسی کی منی سے لتھڑے لن کو اپنے منہ میں لے کر چوسنے لگی۔۔۔میرا لن گرتے گرتے پھر سے جی اٹھا۔۔۔چند جاندار چوپوں کے بعد ہی میرا لن پھر سے پوری طرح اکڑ چکا تھا۔ میں نے اس کو کھینچ کر بیڈ کے کنارے کیا اور خود زمین پہ کھڑا ہو کر اسی گھوڑی سٹائل میں الٹا کیا اور خاص انداز میں اس کی ٹانگیں آپس میں جوڑ کر اس کے گھٹنے فولڈ کیے اور اس کو نیچے کی طرف دبا دیا۔۔۔اس کنڈیشن میں اس کے پاؤں اور اس کی گانڈ بیڈ سے باہر تھی۔۔۔میں نے اس کے تھوک سے لتھڑا ہوا لن اس کی گانڈ کے سوراخ پر رکھ کر زوردار گھسہ مارا تو بھک کی آواز کے ساتھ میرا لن بڑی آسانی سے اس کی گانڈ میں اتر گیا۔۔۔چونکہ چھیمو کی پھدی اور گانڈ لگاتار متواتر بجتی رہی تھی اس لیے اس کی کھلی گانڈ میں میرا لن بنا کسی رکاوٹ کے جڑ تک اترتا چلا گیا۔۔۔میں نے آہستہ آہستہ ہلنا شروع کر دیا۔۔۔اس کی گانڈ اندر سے آج بھی بہت ذیادہ گرم تھی۔ چونکہ بڑے مموں کے ساتھ ساتھ بڑی گانڈ بھی میری کمزوری تھی تو مجھے لگ رہا تھا کہ میں ذیادہ دیر ٹھہر نہیں پاؤں گا اس لیے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کے کولہے تھامتے ہوئے ایک دم سپیڈ پکڑی اور تیزی سے گھسے مارنے شروع کر دیے۔۔چھیمو کی گول مٹول گانڈ میری ناف کے ساتھ ٹکرا کر کمرے میں تھپ تھپ کی آوازیں پیدا کر رہی تھی۔۔۔اسی پوزیشن میں لگاتار فل سپیڈ میں دو منٹ تک گھسے مارتا رہا۔۔۔میرے گھسے اب آخری دموں پر تھے۔۔۔میرا فارغ ہونے کا ٹائم قریب ہی تھا۔۔۔چھیمو اپنے دونوں ہاتھوں سے بیڈ کی میلی چادر کو جھکڑے۔۔۔سسکیاں بھرتی چلی جا رہی تھی۔۔۔آہ آہ افففف کی آوازوں کے ساتھ چھیمو کی گانڈ آگے پیچھے ہو رہی تھی نیچے سے وہ مسلسل اپنی پھدی میں دو انگلیاں اندر باہر کر رہی تھی۔۔۔پھر یکدم اس نے ایک لمبی سسکاری بھری اور پانی چھوڑ دیا۔ میں نے بھی دو گھسے اور مارے اور اس کی گانڈ میں پورا لن گھسا کر منی کی پچکاریاں مارنے لگا۔۔۔کچھ دیر بعد ہم دونوں ایک دوسرے کے بازوؤں میں لپٹے بیڈ پر پڑے ہوئے تھے۔۔۔میں نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے پوچھا!!! چھیمو دوپہر میں تم کچھ کہہ رہی تھیں کہ راجی میرے کسی کام آ سکتی ہے اس بات کے متعلق بتاؤ۔۔۔چھیمو بولی شہزادے سب سے پہلے تو یہ تیرا میرا چھوڑ دو اب ہمارا تمہارا دشمن سانجھا ہے اس لیے اب تیری میری نہیں ہماری بات کیا کرو۔ تمہارے چلے جانے کے بعد ایک دن کی بات ہے کہ میں اور راجی سیکس کیلئے بڑا خوار ہو رہی تھیں۔۔۔کیونکہ ہم حویلی میں ہی تھیں اور سیال زادوں میں سے کسی نے بھی ہمیں نہیں بلایا تھا پھر اوپر سے تم بھی غائب تھے تو ہم آپس میں ہی ایک دوسرے کے ساتھ لگ گئیں۔۔۔یہ وہ کمرہ تھا جو خادماؤں کیلئے مخصوص تھا چونکہ اس وقت وہاں کوئی بھی نہیں تھا اس لیے ہم بے فکری سے ایک دوسرے کی تسکین پوری کر رہی تھیں۔۔۔راجی نیچے لیٹی ہوئی تھی جبکہ میں اس کے اوپر تھی اور ہم دونوں ایک دوسرے کی پھدیاں چاٹ رہی تھیں تبھی ایک تیز کڑک سنائی دی۔ او کنجریو یہ کیا کر رہی ہو۔ ہم دونوں ہڑبڑا کر سیدھی ہوئیں اور دیکھا تو ہمارے ہوش رخصت ہو گئے کیونکہ۔ وہ۔ وہ۔ وہ۔

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.