Leaderboard
-
Javaidbond
Previous Members7Likes65Posts -
catanddog
Previous Members2Likes38Posts -
Jahanara
Active Members1Likes44Posts -
Raeeskhan
Active Members1Likes3Posts
Popular Content
Showing most liked content on 28/07/23 in Posts
-
کنٹین والی لڑکی
1 like
-
مجرِم یا۔۔۔
1 likeسر جلدی سے اٹھیں اور آپ کی وائف کو میں اٹھا لیتا ہوں گھر میں کوئی اور بیڈ روم ہے تو اس میں فوری شفٹ ہو جائیں۔۔۔کیونکہ کلاشنکوف کی تڑتڑاہٹ گاؤں میں سنی گئی ہو گی لازمی کوئی نہ کوئی نکلے گا اس سے پہلے کہ لوگوں کو اس چیز کا ادراک ہو کہ گڑبڑ کہاں ہے ہمیں اس کمرے کو سیٹ کرنا ہو گا اور ان لاشوں کو غائب کرنا ہو گا۔ اتنا کہہ کر اس نے شمسہ کو اٹھایا۔میں آگے بڑھ کر سیڑھیاں چڑھتا ہوا اوپر نادر کے کمرے کی طرف گیا۔۔۔کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا مجھے تشویش ہوئی میں تیزی سے اندر داخل ہوا تو دیکھا کہ نادر بیڈ پر ہی آڑا ترچھا انٹا غفیل پڑا ہوا تھا اس کے سر پر ایک گھومڑ بھی موجود تھا لازماً گن سے اس کے سر پر ضرب لگائی گئی تھی۔ میں نے آگے بڑھ کر نادر کو جھنجھوڑا تو میرے کاندھے میں درد کی ٹھیسیں اٹھنے لگیں۔۔اسی وقت حنیف خان شمسہ کو اٹھائے اندر داخل ہوا اس نے شمسہ کو بیڈ پر لٹانے کے بعد ایک چادر اس پر ڈال کر نادر کو دیکھا اور بولا سر پریشانی کی کوئی بات نہیں نادر بھائی کو سر پر ضرب لگا کر بیہوش کیا گیا ہے اور میڈم تھوڑی دیر بعد خود بخود ہوش میں آ جائیں گی۔۔۔پھر اس نے نادر کی ناک کو چٹکی میں پکڑا اور اس کے منہ کو دباتے ہوئے اس کا سانس روک دیا چند ہی لمحوں میں نادر کے جسم میں حرکت محسوس ہوئی تو وہ اس کو جھنجھوڑنے لگا۔۔۔اس کے جھنجھوڑنے پر نادر کو ہوش آ گئی اور وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔۔سانس رکنے کی وجہ سے اس کا چہرہ سرخ ٹماٹر ہو رہا تھا۔ نادر نے میری طرف دیکھا تو فوراً تشویش سے بولا کمالے کیا ہوا یہ خون؟ حنیف نے مختصراً اسے سارے حالات بتائے تو وہ فوراً اٹھ کر اس کے ساتھ چل پڑا مجھے وہیں رہنے کی تاکید کرتے ہوئے وہ نیچے چلے گئے۔۔۔تقریباً پندرہ منٹ بعد نادر اوپر آیا تو اس کے ہاتھ میں اسپرٹ کی بوتل اور کاٹن پکڑی ہوئی تھی۔۔۔اس نے کپڑا ہٹا کر میرا زخم دیکھا تو اس کے منہ سے سیٹی سی نکل گئی۔۔۔کمالے یار!!! تیرے تو کاندھے کا بیڑہ غرق ہو گیا۔۔۔اس چمار کی اولاد نے استرا مار کر اچھا خاصا ٹک لگا دیا ہے۔ ************************ (70) خون بہنے کی وجہ سے میرا رنگ زرد ہو چکا تھا اور کافی کمزوری محسوس ہو رہی تھی۔۔۔بہرحال نادر نے میرا زخم اسپرٹ سے دھونے کے ساتھ ساتھ مجھے بتایا کہ حنیف اور نادر نے ملکر کمرے سے دو لاشیں غائب کر کے پیچھے سٹور روم میں ڈال دی ہیں۔۔اور حنیف خان بظاہر چلا گیا ہے۔۔۔ابھی سب لوگ باہر اکٹھے ہو رہے ہیں تو ہمیں اٹھ کر باہر نکلنا چاہیے اور کمرہِ واردات میں چلنا چاہیے۔ میرے زخم کو دھو کر نادر نے کاٹن رکھ کر پھر سے کپڑا باندھ دیا اور ہم دونوں اٹھ کر نیچے چل دیے۔۔۔نیچے اس استرے والے بدمعاش کی لاش موجود تھی ساتھ ہی کلاشنکوف بھی پڑی ہوئی تھی اور اس کا استرا لاش سے چند قدم کے فاصلے پر المارے کے ساتھ کھلی حالت میں زمین پر پڑا ہوا تھا۔۔۔پیسے موجود نہ دیکھ کر میں نے نادر سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ پیسے ہٹا دیے ہیں۔ چند منٹوں بعد گاؤں کے چند لوگ گھر میں داخل ہوئے اور نادر ان کو سیدھا کمرے میں لے آیا۔۔۔کیونکہ رات کا وقت اور گاؤں کا ماحول تھا تو کلاشنکوف کی تڑتڑاہٹ صورِ اسرافیل کی طرح گونجی تھی اس لیے آس پاس کے لوگوں کو اندازہ تو ہو ہی گیا تھا کہ کہاں فائرنگ ہوئی ہے اس لیے چند منٹ انہیں لگے لوگوں کو اکٹھا کرنے میں اس کے بعد وہ ہمارے گھر پہنچ گئے۔۔۔نادر نے انہیں مختصراً حالات بتائے کہ یہ دو ڈاکو تھے اور جمیل یعنی مجھے لوٹنے کی غرض سے آئے تھے جمیل اوپر والے کمرے میں اپنی بیوی کے ساتھ سو رہا تھا مگر نادر کی آنکھ کھلنے پر اس نے ڈاکوؤں کو للکارا تو اسی وقت انہوں نے فائرنگ کر دی جوابی فائرنگ میں نادر نے کلاشنکوف والے ڈاکو اپنے پستول سے مار گرایا جبکہ دوسرا ڈاکو نادر سے گتھم گتھا ہو گیا۔ اسی وقت شور سن کر جمیل بھی نیچے آیا اور نادر کی مدد کرنے کی کوشش کی تو اس ڈاکو نے پتہ نہیں کہاں سے استرا نکالا اور گھما دیا جس سے جمیل کو زخم آیا اور وہ گر گیا۔۔۔نادر نے ٹانگ مار کر ڈاکو کو پرے دھکیلا تو وہ اٹھ کر فوراً بھاگ نکلا۔۔۔چونکہ جمیل کو زخم بھی آیا تھا اور شمسہ کی بھی فکر تھی اس لیے ہم ڈاکو کا پیچھا نہیں کر پائے۔۔۔لوگ ہم سے اظہارِ افسوس کرنے لگے اور ایک نے تو واضح کہا کہ چونکہ جمیل باہر کے ملک سے آیا ہے تو لازمی ڈاکو اس کی کمائی لوٹنے آئے ہوں گے۔نادر نے کسی کو ڈاکٹر امتیاز کی طرف بھیج دیا حالات بتا کر کہ وہ آتے ہوئے ضروری سامان لے آئے۔۔۔اسی وقت باہر کہیں فائرنگ کی آواز سنائی دی۔۔۔تو سب لوگ ایک دم چوکنا ہو گئے میں نے نادر کی طرف دیکھا تو اس نے مجھے آنکھ دبا کر اشارہ کیا میں کچھ کچھ سمجھ گیا۔ ابھی سب لوگ باہر نکل کر جائزہ لینے کی سوچ ہی رہے تھے کہ حنیف خان باہر سے اندر آیا اور کسانوں کی طرح پھولی ہوئی سانسوں میں بولا۔۔۔بھایا جی وہ باہر گلی میں بھی دو لاشیں پڑی ہیں۔سب لوگ باہر کی طرف بھاگے تو نادر نے مجھے آہستہ سے بتایا یہ سب طے شدہ ہے چونکہ ہمارے پاس تمہیں بتانے کا ٹائم نہیں تھا اور لاشیں غائب کرنے کا اس سے اچھا اور کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ سارا گاؤں جاگ چکا تھا کچھ ہی دیر میں امتیاز بھی اپنے بریف کیس کے ساتھ آ گیا۔۔۔گاؤں میں رہنے والے لوگ جانتے ہوں گے کہ گاؤں کے ڈاکٹر ہمیشہ اپنے پاس ایک اٹیچی نما بریف کیس رکھتے ہیں جس میں ایمرجنسی ضرورت کی اہم اشیاء موجود ہوتی ہیں۔۔۔امتیاز نے میرا زخم چیک کیا اور ٹانکے لگانے شروع کر دیے۔ میں نے نادر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔نادر!!! بھائی اب اس مصیبت کا کیا کریں جو سامنے پڑی ہے یہ کہہ کر میں نے لاش کی طرف اشارہ کیا تو نادر چپ چاپ میری طرف دیکھتے ہوئے کچھ سوچنے لگا۔۔۔پھر جیسے اس کے دماغ میں کوئی اچھوتا خیال آیا ہو وہ بولا کرنا کیا ہے جمیل بھائی میں ابھی وڈے چوہدری صاحب کو اطلاع کرواتا ہوں ان کا بہت اثر و رسوخ ہے وہ اس معاملے کو اچھی طرح سے دیکھ لیں گے۔ ************************ (71) میں چپ ہی رہا کیونکہ نادر سارے حالات جانتے ہوئے بھی یہ کر رہا تھا تو اس میں کوئی تو خاص بات ہو گی۔۔۔نادر نے کسی ذریعے حویلی اطلاع کرواتا دی تھی۔۔۔تبھی آدھے گھنٹے بعد باہر دو گاڑیاں رکنے کی آواز سنائی دی۔۔۔آواز سن کر نادر باہر نکل گیا چند لمحوں بعد نور سیال اور وڈے چوہدری کا خاص ٹٹو شاہنواز اور نادر پولیس کے لوگوں کے ساتھ اندر داخل ہوئے۔۔۔ان کو دیکھتے ہی میرا خون کھول اٹھا پر حالات کا تقاضہ یہی تھا کہ میں فلحال وقت کی چال دیکھوں۔ نادر نے انہیں ساری کہانی بلا جھجک بتائی اور اس لاش کو اپنے کھاتے میں ڈالتے ہوئے بتایا کہ کیسے اس نے ایک ڈاکو کو مار گرایا۔۔۔پھر لوگوں سے باہر والی لاشوں کا سنا تو سارے سپاہی لوگوں کے ساتھ باہر نکل گئے جبکہ نور سیال اور انسپکٹر میرے پاس کھڑے رہے۔۔۔نور سیال نے سگریٹ سلگاتے ہوئے کہا کہ انسپکٹر تم جانتے ہو تمہیں کیا کرنا ہے بس اتنا یاد رکھنا کہ نادر چوہدری صاحب کا خاص آدمی ہے اس کو اس معاملے میں ذیادہ نہیں گھسیٹنا۔۔۔اب جاؤ باہر جا کر اپنی ضروری کاروائی کرو اور اس لاش اور ڈکیتوں کا اسلحہ کو بھی یہاں سے اٹھواؤ۔ پھر وہ میری طرف متوجہ ہوا۔۔۔جمیل باؤ تم بے فکر رہو تم نادر کے بھائی ہو تو مطلب اپنے خاص آدمی ہو۔۔۔کوئی تم لوگوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھے گا یہ میرا یعنی نور سیال کا وعدہ ہے تم سے۔۔۔پھر وہ نادر کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔نادر کل اپنے بھائی کو ساتھ لیکر حویلی آ جانا بیٹھیں گے کچھ بات چیت کریں گے۔ ابھی میں چلتا ہوں۔۔۔اگلے ایک گھنٹے میں پولیس کے لوگ ہمارے بیانات لینے کے بعد لاشوں کو اٹھا کر جا چکے تھے۔۔۔گاؤں کے لوگ بھی اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔۔۔تب حنیف خان اور نادر میرے سامنے بیٹھ گئے اور حنیف خان نے بتانا شروع کیا کہ کیسے اس نے لاشیں گھر کی پچھلی دیوار سے باہر گرائیں اور اٹھا کر گلی میں ڈال کر چند ہوائی فائر کر دیے اور اسی طرح لاشوں کو بھی ٹھکانے لگا دیا۔۔۔اسی وقت اوپر سے کسی کے تیز تیز قدموں سے سیڑھیاں اترنے کی آواز سنائی دی تو نادر تیزی سے اٹھ کر باہر نکلا چند لمحوں بعد شمسہ کو لیے ہوئے اندر داخل ہوا۔ شمسہ کے گلے میں دوپٹہ نہیں تھا اور اس کے بھرپور اٹھان کے ممے اس کی سسکیوں کے سبب اوپر نیچے ہو رہے تھے شمسہ کمرے میں داخل ہوتے ہی تیر کی طرح میری طرف آئی جبکہ حنیف خان منہ پھیر کر کھڑا ہو گیا۔۔۔نادر نے فوراً الماری سے چادر نکال کر شمسہ کو دی شمسہ نے چادر سے اپنا آپ کور کیا اور میرے پاس بیٹھ کر رونے لگی میں نے اور نادر نے ملکر اسے تسلی دی اور بتایا کہ وہ لوگ ڈاکو تھے ہمیں لوٹنے آئے تھے مگر خود لاشوں میں تبدیل ہو گئے۔۔۔اب سب ٹھیک ہے پولیس آ کر جا چکی ہے۔۔۔تمہیں فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہماری باتیں سن کر شمسہ کی ڈھارس بندھی مگر میرے کاندھے پر بندھی ہوئی پٹی دیکھ کر اسے تشویش ہوئی تو میں نے فوراً اسے تسلی دی کہ صرف تھوڑی سی چوٹ لگی ہے باقی سب ٹھیک ہے۔۔۔مجھے تجسس تو تھا کہ حنیف خان سے سارے حالات جان لوں کہ وہ کیسے یہاں پہنچ گیا لیکن شمسہ بری طرح سے سہمی ہوئی تھی اس لیے میں حنیف خان کو کہ صبح ملاقات کا کہہ کے شمسہ کو لیکر دوسرے کمرے میں چلا آیا۔۔۔پھر کافی دیر تک شمسہ کو تھپک تھپک کر سلانے کی کوشش کرتا رہا اور آخرکار وہ سو ہی گئی۔۔۔میں نے رات کا بقیہ حصہ سوتے جاگتے نکال دیا۔ ************************* (72) اگلے دن صبح نادر نے ناشتے کے بعد ساری بات بتائی کہ کیوں اس نے اس معاملے میں سیالوں کی مدد لی ہے۔۔۔پہلی بات تو یہ کہ ہم اس وقت فلحال اس پوزیشن میں نہیں تھے کہ اکیلے اس مسئلے سے نجات حاصل کر سکتے۔۔۔اس لیے وڈے چوہدری کا پولیس میں اثر ورسوخ کام آیا اور ہم باآسانی اسے مسئلے سے نکل آئے۔ دوسری بات کمالے میں چاہتا ہوں کہ ہم لوگ اسی بہانے تھوڑا سیالوں کے نزدیک ہو جائیں اور ان کے اندر رہ کر سرنگ لگاتے ہوئے اپنا کام کریں۔۔۔ہم دونوں نہیں جانتے کہ سیال فیملی کہاں تک پھیلی ہوئی ہے اور ہمیں ان سے کیسے نبٹنا ہے۔۔۔تو اپنا کام آسان کرنے کیلئے ہمیں ان کے اندر گھس کر ان کے ساتھ رہتے ہوئے ان کی آنکھوں میں دھول جھونک کر وہیں سے ابتدا کرنی ہو گی اگر صرف سیالوں کو مار ڈالنا ہو تو وہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں آج ہی کرائے کے بندوں کا انتظام کرتے ہیں اور دو چار دن میں ان پر متواتر حملے کرنے شروع کر دیتے ہیں آخر کب تک جئیں گے مر ہی جائیں گے لیکن میرے بھائی کیا اس سے ہمارا بدلہ پورا ہو جائے گا نہیں کمالے نہیں۔۔۔ہم سیالوں کے اندر گھس کر انہیں ایسے نقصان پہنچائیں گے کہ ان کی آنے والی نسلیں بھی کسی سے پنگا لیتے وقت دس ہزار بار سوچیں۔۔۔اسی لیے تم سے بنا پوچھے میں اس معاملے میں سیالوں کو لے آیا۔ میں نے کچھ سوچتے ہوئے کہا!!! نادر یار وہ بات تو ٹھیک ہے لیکن ایک چیز مجھے تشویش میں مبتلا کیے ہوئے ہے کہ یہ رات کو کنجر کے پتر ڈاکو کہاں سے آ گئے اور مانا کہ چلو آ ہی گئے تو وہ رقم لوٹنے کے بعد ہمیں مارنا کیوں چاہتے تھے اور عین وقت پر حنیف خان کہاں سے ٹپک پڑا۔۔۔نادر میرے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا کہ یار توں ٹھنڈ رکھ سارے حالات میں جان گیا واں تے تینوں سب کچھ دس دیواں گا فلحال فٹافٹ نکل اور وڈی حویلی چل میرے نال۔۔۔میں نے کندھے اچکائے اور کپڑے بدل کر اس کے ساتھ جانے کیلئے تیار ہو گیا۔۔۔میرے کاندھے کی سوجن اب رات کی نسبت کافی کم تھی۔۔۔ڈاکٹر امتیاز کی دی ہوئی دوائیں اور انجکشن اپنا اثر دکھا رہے تھے۔ شمسہ کو ساتھ والی ماسی کے گھر چھوڑ کر میں اور نادر باہر نکلے اور لوگوں سے ملتے ملاتے سیدھا وڈی حویلی پہنچ گئے۔۔۔حویلی میں داخل ہوتے وقت میرے دل میں کھد بد ہو رہی تھی پر میں سمجھتا تھا کہ مجھے اب ہوش سے کام لینا ہو گا۔۔۔حویلی کے مہمان خانے میں ہمیں بٹھایا گیا اور نادر اٹھ کر باہر چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد نادر اندر داخل ہوا اور مجھے مخاطب کیا! چلو جمیل بھائی چوہدری صاحب ہمارے منتظر ہیں۔۔۔میں سمجھتا تھا کہ نادر مجھے جمیل کہہ کر کیوں بلا رہا ہے وجہ صرف یہی تھی کہ ہم دشمنوں کی کچھار میں موجود تھے۔۔۔ہم لوگ وہاں سے نکلے اور مختلف راہداریوں سے گزرتے ہوئے ایک کمرے کے دروازے پر جا پہنچے۔۔۔نادر نے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہو گیا۔۔۔میں بھی اس کی پیروی میں اندر داخل ہو گیا۔ یہ ایک شاندار کمرہ تھا اعلیٰ بیش قیمت فرنیچر کے ساتھ مزین۔۔۔بہترین صوفے، سامنے موجود ٹی وی اور وی سی آر دیکھ کر دماغ میں ایک مشعل سی جل اٹھی اور مجھے چھیمو کی داستان یاد آ گئی۔۔۔یہی وہ کمرہ تھا جہاں چوہدری نے چھیمو اور راجی کی پھدی ماری تھی۔۔۔میں دل ہی دل میں بولا۔۔۔چوہدری کب تک آخر میرے ہاتھ سے بچے گا۔۔۔ایک دن تو آئے گا ناں جب تو میرے سامنے زمین پر پڑا کتوں کی طرح گھگھیا رہا ہو گا۔ کمرے میں دونوں بھائی ظفر سیال اور مظفر سیال موجود تھے جبکہ نور سیال بھی ایک طرف بیٹھا ہوا تھا۔۔۔ان کے سامنے میز پر شراب اور دیگر لوازمات موجود تھے۔ دعا سلام کے بعد نادر نے میرا تعارف کروایا اور کل کے سارے واقعات دوبارہ چوہدری کے سامنے دہرانے شروع کر دیے۔۔۔سارے واقعات سننے کے بعد چوہدری نے ہممم کیا اور اپنی مادری زبان (گالی گلوچ کرنے) کے انداز میں بولا۔۔۔ان ڈاکوؤں کی بہن کو لن یہ ہمارے گاؤں میں کہاں سے آ گئے کتی کے پتر۔۔۔تبھی نور سیال بولا! پاپا آپ بے فکر رہیں میں نے پولیس کو بول دیا ہے وہ تفتیش کر رہی ہے۔۔۔جلد ہی نتائج سامنے آ جائیں گے۔۔۔چوہدری دھاڑتے ہوئے بولا ویسے ہی جیسے کراچی سے نتائج آ رہے ہیں۔۔پھر میری موجودگی کا خیال کرتے ہوئے چوہدری چند لمحے خاموش رہا پھر مجھ سے بولا۔۔جمیل تم نادر کے بھائی ہو اور نادر میرا خاص آدمی ہے۔اس لیے میں چاہتا ہوں کہ تم بھی اس کے ساتھ ہی ہمارے پاس کام کرو۔ ************************ (73) اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ سب کو پتہ چل جائے گا کہ تم ہمارے آدمی ہو پھر کوئی تمہاری طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھے گا۔۔۔میں نے اثبات میں سر ہلا دیا تو اچانک جیسے اس کے بھائی ظفر سیال کو کچھ یاد آیا تو وہ مجھے مخاطب کرتے ہوئے بولا جمیل کیا تم ڈرائیونگ کرنا جانتے ہو تو اس سے پہلے کہ میں بولتا نادر نے جواب دیا کہ چوہدری صاحب جمیل بھائی سعودیہ میں کمپنی کی گاڑیاں ہی تو چلاتے تھے۔۔۔تو بس ٹھیک ہے پھر طے ہوا کہ آج سے تم میری بیٹی شبینہ کے محافظ ہو گے بظاہر تم اس کیلئے گاڑی چلاؤ گے۔۔۔لیکن اصل میں تم اس کی حفاظت کرو گے۔۔۔دراصل اس نے اندر باہر آنا جانا ہوتا ہے تو اس کیلئے ایک محافظ کم ڈرائیور کی ضرورت ہے۔ میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔۔کچھ دیر وہاں بیٹھنے کے بعد ہم لوگ وہاں سے اٹھ کر گھر کی طرف چل پڑے۔۔۔راستے میں نادر مجھے موڑ کر ڈیرے کی طرف لے گیا۔۔۔ڈیرے پر حنیف خان سے ملاقات ہوئی تو حنیف نے دعا سلام کے بعد ہمیں بیٹھنے کی جگہ دی۔۔۔میں نے پوچھا ہاں بھئی حنیف خان کیسے ہو۔؟تو وہ نظریں جھکائے بولا!!! میں ٹھیک ہوں سر لیکن میں کل رات والے واقعے پر بہت شرمندہ ہوں اس سب میں میری اپنی غفلت ہے جو میں وقت پر آگاہ نہیں ہو سکا تو میں حیرانگی سے اس کی طرف دیکھ کر بولا۔۔۔میں سمجھا نہیں تو کس غفلت کی بات کر رہے ہو۔۔۔بھائی میں تو تمہارا شکریہ ادا کرنے آیا ہوں اور تم ہو کہ مجھے عجیب ہی کہانی سنا رہے ہو۔ حنیف نے الجھن زدہ نظر سے نادر کی طرف دیکھا تو نادر نے کہا نہیں حنیف ابھی تک اس کو کسی بات کی خبر نہیں۔۔۔میں سوالیہ نظروں سے دونوں کو دیکھتے ہوئے اکتاہٹ سے بولا ارے یار کیا پہلیاں بجھا رہے ہو صاف اور سیدھی بات کرو ناں کہ مسئلہ کیا ہے تو نادر نے کہا حنیف تم خود ہی بتاؤ۔۔۔حنیف ایک ٹھنڈی سانس لیکر بولنا شروع ہوا۔۔۔سر رات کو جو ڈاکو آپ کے گھر آئے تھے وہ دراصل کراچی سے ہی آپ لوگوں کا پیچھا کرتے ہوئے یہاں پہنچے تھے۔۔۔بے شک ان کا مقصد آپ کو لوٹنا ہی تھا۔۔۔مگر وہ کوئی نئے بندے نہیں اپنے ہی بھیدی تھے۔ میں خاموشی سے نظریں سکوڑے اس کی طرف دیکھتا رہا۔۔۔کل شام آپ لوگوں کے جانے کے بعد سردار علی تھوڑی دیر کیلئے غائب ہو گیا۔۔۔میں سمجھا یہیں کہیں ہو گا آ جائے گا۔۔۔کیونکہ پہلے بھی دو چار دفعہ وہ چہل قدمی کا کہہ کر آگے پیچھے نکل جاتا تھا۔۔۔اس لیے میں نے ذیادہ تردد نہیں کیا۔۔۔کافی دیر بعد وہ لوٹا تو کچھ بے چین سا لگ رہا تھا میرے پوچھنے پر اس نے ٹال دیا۔۔۔پھر ہم لوگ سونے کیلئے چارپائیوں پر لیٹ گئے۔۔۔تھوڑی دیر بعد سردار علی چپکے سے اٹھا اور دبے پاؤں اندر کمرے میں چلا گیا۔۔۔میں چونکہ ابھی سویا نہیں تھا لیکن اس کی یہ حرکت مشکوک سی لگی اس لیے نیم وا آنکھوں سے اسے دیکھتا رہا۔ دو منٹ بعد ہی وہ کمرے سے برآمد ہوا تو مجھے اس کے ہاتھ میں سائلنسر لگا ریوالور نظر آیا۔۔۔اس نے میرے پاس آ کر ریوالور کا رخ میری طرف کر دیا۔۔۔اس کی آنکھوں میں ایک اجنبیت بھری چمک تھی میں نے فوراً حرکت میں آنے کا فیصلہ کیا اور لیٹے ہی لیٹے اپنی داہنی ٹانگ اٹھا کر زور سے ریوالور والے ہاتھ پر ماری تو ریوالور اس کے ہاتھ سے نکل کر کہیں دوسری طرف جا گرا اور میں اس سے گتھم گتھا ہو گیا۔۔۔چند منٹ کی مشقت کے بعد میں نے اس پر قابو پا لیا اور اس کو باندھنے کے بعد تفتیش شروع کی۔۔۔پہلے پہل تو وہ اڑی کرتا رہا پھر اپنے ہاتھ کی چار انگلیاں کٹوانے اور تھوبڑا سجھوانے کے بعد وہ بول پڑا۔۔۔کل آپ پر حملہ اسی خبیث نے کروایا تھا۔۔۔حالانکہ کراچی میں اسے اس کا حصہ مل چکا تھا لیکن پھر بھی اس کی نظر ان روپوں پر تھی جو آپ کراچی سے لائے تھے۔ظاہری سی بات ہے کہ اس بارے انہیں سردار علی نے ہی بتایا تھا۔1 like
-
مجرِم یا۔۔۔
1 likeدوسرے دن دوپہر کے وقت حنیف خان اور سردار علی بھی پرانے کپڑوں میں ملبوس کسانوں کے بھیس میں گاؤں پہنچ گئے۔۔۔نادر نے ان کو میری زمین پر موجود ڈیرے پر ٹھہرا دیا جو کہ ویران پڑا ہوا تھا اور وڈے چوہدری سے بات کر کے میری زمین پر قبضہ جما لیا اب سب کی نظروں میں ہمارا خاندان تو ختم ہو چکا تھا اس لیے وہ زمین لاوارث پڑی تھی پھر اس زمین پر سچ مچ باقاعدہ کھیتی باڑی کا آغاز کر دیا گیا۔۔۔میں حنیف سے ملا تو مسکراتے ہوئے کہا!!! حنیف یار تم بھی سوچتے ہو گے کہ کہاں ہم ایک جنگ شروع کرنے نکلے تھے اور کہاں لا کر مزدوری کرنے پر لگا دیا۔۔۔حنیف مسکراتے ہوئے بولا: سر یہ تو کچھ بھی نہیں۔۔۔میں نے اپنی فیملی کا بدلہ لینے کیلئے پتہ نہیں کتنے بھیس بدلے ہیں اور کن کن مشکلوں سے گزرا ہوں۔۔۔ویسے بھی یہ کھیتی باڑی میرے لیے ایک نیا تجربہ ہے اس لیے میں تو اس کام کو خوب انجوائے کر رہا ہوں۔ سردار علی نے بھی اس سے ملتے جلتے جذبات کا اظہار کیا۔۔۔میں نے حنیف خان کے ذریعے کراچی سے کچھ بھیس بدلنے کا سامان منگوایا تھا۔۔۔جو کہ اس نے لا کر ہمارے حوالے کر دیا۔۔۔یہ سب ریڈی میڈ سامان تھا۔۔۔جس میں نقلی مونچھیں،، سر کے بالوں کیلئے وگیں،، اور اسی طرح کے چہرہ بدلنے والے چھوٹے موٹے لوازمات شامل تھے۔۔۔سرِشام ہی مجھے اپنے گھر کے در و دیوار شدت سے یاد آنے لگے۔۔۔میرا دل ایک دم تڑپ اٹھا۔۔۔میں اسی وقت وہاں سے نکلا اور اپنے گھر کی طرف چل دیا۔۔۔اسی وقت نادر باہر سے گھر آ رہا تھا۔۔۔مجھے یوں تیزی سے جاتے دیکھ کر وہ میرے پیچھے ہو لیا۔۔۔چند منٹ بعد میں اپنے تباہ شدہ گھر میں داخل ہو رہا تھا۔۔۔دو اڑھائی مہینوں میں ہی میرا گھر ایسے لگنے لگا جیسے یہاں بھوتوں کا بسیرا ہو۔ گھر میں داخل ہوتے ہی میرے آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور میں بھرائی آنکھیں لیے گھر میں چکرانے لگا۔۔۔پھر جس جگہ مجھے آخری وقت میری ماں زمین پر گھسٹتی ہوئی ملی تھی وہاں آ کر میرا ضبط ٹوٹ گیا۔۔۔میں بے اختیار رو دیا۔۔۔پتہ نہیں کتنی دیر میں وہاں گھٹنے ٹیکے روتا رہا۔۔۔مجھے ہوش تب آئی جب مجھے اپنے کاندھے پر کسی کا ہاتھ محسوس ہوا۔۔۔میں نے سرخ آنکھوں کے ساتھ مڑ کر دیکھا تو وہ میرا یار غمگسار نادر تھا۔ ************************ (66) مجھے اٹھا کر اس نے سینے سے لگایا اور بولا: کمال میرے دوست اب رونا نہیں دیکھ تو سہی ہم ان سیالوں کا کیا حشر کریں گے۔۔۔ان کیلئے ہی تو یہ سب پکھیڑا ڈالا ہوا ہے۔۔۔بہت جلد ہی ہم ان کو خاک و خون چٹائیں گے۔۔۔چل اب آنسو پونچھ لے اور نکل یہاں سے میں تجھے ایک خوشخبری سناتا ہوں۔ میں نے آنسو پونچھے اور نادر کے ساتھ وہاں سے باہر نکل آیا۔۔۔نادر مجھے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تقریباً کھینچتے ہوئے دوبارہ ڈیرے کی طرف لے گیا۔۔۔ڈیرے کی طرف جاتے ہوئے راستے میں نادر نے مجھے بتایا کہ سیالوں کی حویلی سے ایک خبر ملی ہے۔۔۔اور خبر یہ کہ وڈے چوہدری اور اس کے بھائی ظفر سیال کی موجودگی میں ایک میٹنگ رکھی گئی ہے چونکہ بیٹا ظفر کا بھی مارا گیا ہے تو وہ بھی غم و غصے کا شکار ہے۔۔۔شاید صفدر سیال کی گانڈ میں لگی گولیوں اور تمہارے اس خط نے جو تم صفدر سیال کی لاش کے پاس چھوڑ آئے تھے انہیں کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے تو ممکنہ حالات سے نمٹنے کیلئے انہوں نے ایک خفیہ میٹنگ بلائی ہے۔۔۔یہ میٹنگ کل رات کے اندھیرے میں وڈی حویلی میں ہی ہو گی۔ میں نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا یہ خبر تمہیں کیسے ملی تو اس نے کہا کہ تمہاری ایک غائبانہ پرستار نے یونہی باتوں ہی باتوں میں برسبیلِ تذکرہ یہ خبر پہنچائی ہے۔۔۔میں نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا تو اس نے کہا وقت آنے پر بتا دوں گا بلکہ تمہیں اس سے ملوا بھی دوں گا۔۔۔یہ باتیں کرتے کرتے ہم لوگ ڈیرے پر پہنچ گئے۔۔۔ڈیرے پر پہنچ کر خبر کا ذریعہ بتائے بغیر نادر نے ساری بات حنیف خان اور سردار علی کے سامنے رکھی۔ نادر کی بات سن کر حنیف خان کی آنکھیں کسی خیال کے تحت چمک اٹھیں اور عین اسی وقت میرے منہ سے نکلا۔۔۔نادر یہ تو پھر اچھا موقع ہے یار سیالوں پر ایک کاری ضرب لگانے کا۔۔۔حنیف خان بھی جوش سے بولا پھر دیر کس بات کی سر۔۔۔جتنا ذیادہ سوچیں گے اتنی بات الجھتی جائے گی اور انہیں ٹائم ملتا جائے گا جو کہ ہمارے حق میں اچھا نہیں۔۔۔ہمیں اس پار یا اس پار والی پالیسی پر عمل کرنا چاہیے۔۔۔میں نے نادر کی طرف دیکھا تو نادر بولا۔۔۔وہ تو ٹھیک ہے یار پر شمسہ کا کیا کریں۔ میں نے کہا کرنا کیا ہے تم اسے اس کے گاؤں چھوڑ آو۔۔۔کوئی بھی بہانہ بنا دینا۔۔۔نادر سر کھجاتے ہوئے بولا کہ یہ اتنا آسان نہیں اس پگلی نے مجھ سے پوچھنا ہے کہ تم مجھے کیوں چھوڑنے جا رہے ہو۔۔۔ابھی کل ہی تو واپس آئی ہوں۔۔۔میں نے کہا نادر جو بھی ہو جیسے بھی ہو اس کو ہر صورت چھوڑ کر آؤ۔۔۔اس کا ہمارے ساتھ رہنا خطرے سے خالی نہیں۔ نادر نے کہا چلو ابھی ہمارے پاس وقت ہے آج کی رات کوئی بہانہ سوچتا ہوں اور کل علی الصبح اسے گاؤں چھوڑ آتا ہوں۔۔۔وہاں سے اٹھتے وقت ایسے ہی میں نے سردار علی کی طرف دیکھا تو مجھے اس کی آنکھوں میں کچھ اجنبیت سی محسوس ہوئی۔۔۔میں نے باہر نکل کر نادر سے اس کا تذکرہ کیا تو نادر بولا ارے نہیں یار تم خواہ مخواہ وہم کر رہے ہو وہ اپنا جانثار ساتھی ہے۔۔۔یاد کرو صفدر سیال والی مہم میں ہر وقت اور ہر جگہ اس نے ہمارا ساتھ دیا ہے۔ محتاط رہنا اچھی بات ہے پر فضول کے وہم کو دل میں جگہ مت دو۔۔۔اسی طرح باتیں کرتے ہوئے ہم لوگ گھر پہنچ گئے۔۔۔شمسہ نے کھانا بنایا ہوا تھا۔۔۔کھانا کھانے کے بعد نادر اوپر کمرے میں چلا گیا جبکہ ہم دونوں اپنے بیڈ روم میں پہنچ گئے۔۔۔شمسہ پھر سے تیار تھی اور ہوتی بھی کیوں نا، ایک لمبے عرصے بعد اسے اس کا خاوند ملا تھا تو یہ پیاس مٹانی تو لازمی تھی۔۔۔ایک بھرپور چدائی کے بعد ہم ننگے ہی بیڈ پر لیٹ گئے اور شمسہ مجھ سے لپٹ کر سو گئی۔ ************************ (67) سوتے سوتے مجھے لگا جیسے میں خواب دیکھ رہا ہوں۔۔۔میرا لن مستی میں فل جھوم رہا ہے اور ایک پری مہہ وش اپنی نشیلی نگاہوں کے ساتھ اسے دیکھ رہی ہے۔۔۔پھر اس نے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر میرے لن کو اپنے مخروطی ہاتھوں میں پکڑ لیا۔۔۔پھر قریب ہو کر اپنا منہ کھولا اور میرے لن کو منہ میں لیکر چوسنے لگی۔جس سے میرا لن اپنی پوری اکڑ میں آ کر تن گیا۔۔۔اف فف کیا مزہ آ رہا تھا اور میں خواب میں ہی سوچ رہا تھا کہ کاش یہ لمحہ حقیقت ہوتا۔ اس مہہ وش نے میرے لن کو اپنے منہ میں لیکر آہستہ آہستہ اپنے منہ کو چودنا شروع کر دیا۔۔۔پھر لن کو اندر باہر کرتے وقت اس کے دانت میرے لن کی ٹوپی سے رگڑے گئے تو میرا دماغ مجھے نیند سے جگانے لگا۔۔اور میری آنکھ کھل گئی میرا دماغ نیند سے شعور کی کیفیت میں آنے لگا۔۔۔مجھے محسوس ہوا کہ میں خواب نہیں دیکھ رہا ہوں میرا لن واقعی کسی کے منہ میں ہے۔وہ شمسہ تھی جو کہ گھٹنوں کے بل اوندھی ہوئی میرا لن چوس رہی تھی۔۔۔اس نے ایک ہاتھ سے میرا لن پکڑا ہوا تھا جبکہ دوسرے ہاتھ سے وہ اپنی ٹانگوں کے بیچ کھجا رہی تھی۔ میں نشے کی سی کیفیت محسوس کرنے لگا۔۔یقین مانو دوستو میں اسے سچ مچ اپنی بیوی سمجھنے لگا تھا صرف ایک دن میں ہی اس کا جادو مجھ پہ چل چکا تھا۔۔۔وہ بڑی تیزی سے میرا لن چوس رہی تھی۔۔۔کبھی کبھی وہ زبان نکال کر میرے ٹٹے بھی چاٹ جاتی۔۔۔میں حیران تھا کہ وہ اتنی رغبت سے میرا لن چوس رہی تھی جیسے یہ اس کیلئے یہ دنیا کی سب سے پسندیدہ شے ہو۔ میں نے شمسہ کو پکڑ کر نیچے لٹایا اور خود اس کی ٹانگیں اٹھاتے ہوئے اپنا لن اس کی پھدی کے ہونٹوں میں رکھ کر ایک زور کا گھسہ مارا تو لن غڑاپ کر کے پھدی میں غائب ہو گیا۔۔۔اوئی ماں ایییییییییی۔۔۔شمسہ کے منہ سے گھٹی گھٹی سی آواز نکلی۔میں نے دھیمی رفتار میں گھسے مارنے شروع کر دیے۔۔۔آہستہ آہستہ میری رفتار بڑھتی گئی اور ٹھیک دو منٹ بعد ہی کمرے میں پوچ پوچ کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں۔۔۔اگلے چند منٹ میں ہی شمسہ کی سانسیں بے ترتیب ہونے لگیں اور وہ لرزتی ہوئی چھوٹ گئی۔ چھوٹنے کے بعد شمسہ نے اپنی ٹانگیں اٹھا کر میری کمر پر باندھ لیں اور زور و شور سے مجھے چومنے لگی۔۔۔میں نے اپنی رفتار اور بڑھا دی۔۔۔میرے موٹے تازے لن کی ضربیں شمسہ کی بچی دانی پر لگ رہی تھیں۔لیکن یہ ضربیں شمسہ کو درد کی بجائے انتہائی مزہ دے رہی تھیں۔۔۔جلد ہی یہ مزہ اپنی حدوں کو چھونے لگا۔۔۔میرے زور دار جھٹکوں کا ساتھ شمسہ بھی دینے لگی۔۔۔جب میں لن اندر کرتا تو شمسہ اپنی نیچے سے اپنی گانڈ کو اوپر اچھالتی۔جس سے میرا لن ٹٹوں تک اس کی پھدی کی گہرائیوں میں گھس جاتا جو ہم دونوں کیلئے بڑا پر لطف تھا۔ لن تیزی سے اندر باہر آ جا رہا تھا اور شمسہ کی اچھالیں بھی خوب تھیں غرض کہ ہم دونوں کے درمیان ٫٫لن پھدی کا مقابلہ عروج پہ تھا،،۔ تقریباً تین منٹ بعد مجھے اپنے جسم میں چیونٹیاں سی رینگتی ہوئی محسوس ہوئیں کو کہ اس امر کا اشارہ تھا کہ میرا لن اب پانی نکالنے کو تیار ہے۔۔۔عین اسی وقت شمسہ نے نیچے سے اپنی پھدی سے گھونٹ بھرنے شروع کر دیے اور مجھے اپنے لن پر بڑھتی ہوئی گرمی کا احساس ہوا۔۔۔یہ گرمی اس آگ کی تھی جو پچھلے کئی عرصے سے شمسہ کے اندر بھری ہوئی تھی۔۔۔شمسہ کے جسم میں اکڑاہٹ پیدا ہوئی اور مجھے بھی لن میں گدگدی ہوتی محسوس ہوئی۔۔۔ہم دونوں منزل کے قریب تھے اس لیے دونوں کا جوش دیدنی تھا۔۔۔اسی وقت مجھے اپنے لن پر گرم گرم احساس ہوا جو کہ دراصل شمسہ کے چھوٹنے والے منی کا تھا اور احساس کے ساتھ ہی میرے لن نے بھی ہار مانتے ہوئے پچکاریاں مارنی شروع کر دیں۔ ٫٫لن پھدی کا مقابلہ خوب رہا تھا،،۔ فارغ ہونے کے بعد ہم دونوں نے واش روم میں جا کر ایک دوسرے کو صاف کیا اور کپڑے پہن کر واپس بیڈ پر آ لیٹے۔شمسہ میری بانہوں میں چھپ کر سو گئی۔۔۔سوتی ہوئی وہ کسی معصوم ہرنی کی طرح لگ رہی تھی جیسے سالوں تپتے صحرا میں چلنے کے بعد اب کسی سایہ دار گلشن میں پہنچ کر آرام کر رہی ہو۔۔۔اس کی زلفوں سے کھیلتے کھیلتے جانے کب میری بھی آنکھ لگ گئی۔ ************************ (68) یوں لگا جیسا کوئی زوردار دھماکہ ہوا ہو یا زلزلہ آیا ہو۔۔۔اس زلزلے کی لہر سے میری آنکھ کھل گئی۔۔۔ابھی پوری طرح سے آنکھیں کھلی بھی نہیں تھیں کہ مجھے ایک نہایت شاندار قسم کی ضرب اپنے منہ پر سہنی پڑی۔میں الٹ کر بیڈ سے نیچے گرا۔۔۔گرتے ساتھ ہی میں جوش سے اسپرنگ کی طرح اچھل کر کھڑا ہوا۔۔۔جو منظر میرے سامنے تھا اس منظر نے میرا جوش ایک دم پیشاب کی جھاگ طرح بٹھا دیا۔ کمرے میں تین عدد آدمی موجود تھے جنہوں نے اپنے سروں پر ڈھاٹے باندھ کر منہ بھی چھپائے ہوئے تھے۔۔۔ان میں سے ایک میرے منہ پر غالباً اپنے پاؤں کی ضرب لگا کر واپس ہو رہا تھا جبکہ دوسرے نے کلاشنکوف سے مجھے کور کیا ہوا تھا۔۔۔جو سب سے نازک بات تھی وہ یہ کہ تیسے نے شمسہ کو بالوں سے پکڑ کر اپنے سینے سے لگایا ہوا تھا اور دوسرے ہاتھ سے اس کا منہ بھینچ رکھا تھا۔۔۔اسی منظر نے میرا جوش یک دم ٹھنڈا کر دیا۔ شمسہ کی آنکھیں خوف سے پھیلی ہوئی تھیں اور وہ مچل مچل کر اس غنڈے کی گرفت سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔میں نے اس غنڈے سے کہا: یہ معصوم ہے اسے چھوڑ دو اور مجھ سے بات کرو تم لوگ کیا چاہتے ہو۔۔۔جس غنڈے نے شمسہ کو پکڑا ہوا تھا وہ استہزایہ لہجے میں بولا: میں صرف اتنا چاہتا ہوں کہ تم چپ چاپ میرے سامنے خاموشی سے بیٹھ جاؤ۔۔۔کسی بھی قسم کی حرکت انتہائی مہنگی ثابت ہو گی۔۔۔خاص طور پر اس چڑیا کا گلا ایک سیکنڈ میں کاٹ دوں گا۔میں نے اس کی بات سن کر غور کیا تو اس کے ہاتھ میں کھلا ہوا ایک استرا موجود تھا۔ میں نے ایک مرتبہ پھر آواز دے کر شمسہ کو پچکارتے ہوئے اس خبیث کو کہا۔۔۔میں نے کہا ناں میری بیوی کو چھوڑ دو پھر تسلی سے بات کرو کہ تم لوگ ہم سے کیا چاہتے ہو۔۔۔اسی وقت اس کا دوسرا ساتھ جس نے میرے ٹھوکر رسید کی تھی یہ جسامت سے مجہول نشے باز لگتا تھا لیکن اس کے ہاتھ میں سائلنسر لگا ریوالور موجود تھا اور وہ کافی اضطراری کیفیت میں معلوم ہوتا تھا کیونکہ اس کا ریوالور بار بار اس کے ہاتھوں میں گھوم رہا تھا۔ ایسے لوگ دوسروں سے ذیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔اسی اضطراری کیفیت کے زیرِ اثر گولی چلانے میں وہ سیکنڈ بھی ضائع نہیں کرتے۔۔۔وہ مجھ سے ڈائریکٹ بولا۔۔دیکھو ہم تمہارے بارے میں سب کچھ جانتے ہیں اس لیے چھپانا فضول ہو گا۔۔۔چپ چاپ رقم ہمارے حوالے کر دو ہم بنا کوئی نقصان پہنچائے یہاں سے واپس چلے جائیں گے۔میرا دل تھوڑا سکون میں آ گیا کیونکہ میں سمجھ رہا تھا یہ سیالوں کے کارندے ہیں لیکن یہ تو کچھ اور ہی معاملہ تھا۔ میں نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے غیر معمولی انداز میں سرہانے کے پاس ہوتے ہوئے پوچھا کون سی رقم کی بات کر رہے ہو میں تو مزدور آدمی ہوں۔۔۔اسی وقت اس مجہول سے آدمی نے اپنا ہاتھ سیدھا کیا ساتھ ہی ٹھک کی آواز ابھری اور بے آواز گولی بلکل میرے کان کے پاس سے گزر کر دیوار میں جا لگی۔یہ دیکھ کر شمسہ اس کے بازوؤں میں ہی جھول گئی وہ خوف اور ڈر کی ذیادتی کی وجہ سے بیہوش ہو چکی تھی۔ میں نے اسے گرتے دیکھ کر ایک دم اٹھنے کی کوشش کی تو دوسرے آدمی نے شمسہ کو زمین پر گراتے ہوئے اس کی گردن پر استرا رکھ دیا اور سفاک لہجے میں بولا کہ اگر ایک قدم بھی آگے بڑھایا تو اس بلبل کی گردن کاٹ دوں گا۔۔۔میں نے کہا رکو میں پیسے دیتا ہوں۔۔۔میں نے الماری کا پٹ کھولنے کیلئے ہاتھ بڑھایا تو نوجوان چیخا۔۔۔خبردار پیچھے ہٹ جاؤ۔۔۔ہمیں کیا پاگل سمجھا ہوا ہے۔چلو شاباش میرا منا پیچھے ہٹ کر بیڈ پر لیٹ جا۔۔۔الماری میں خود چیک کروں گا۔۔۔میں چپ چاپ بیڈ پر لیٹ گیا۔۔۔سرہانے کے ساتھ ہی بیڈ کے نیچے میرا لیوگر پڑا ہوا تھا۔ میں لیوگر اٹھانے کے چکر میں تھا لیکن دو قباحتیں تھیں ایک تو وہ تین آدمی تھے اوپر سے اگر میں ذرا بھی ہلتا تو انہیں شک ہو جاتا اس لیے میں مناسب وقت کے انتظار میں تھا۔۔۔مجھے حیرت ہو رہی تھی کہ اتنی اٹھا پٹخ کی آوازیں سن کر بھی نادر ابھی تک نہیں آیا۔۔۔نوجوان نے الماری کھولی اور تلاشی لینے لگا جلد ہی ساری رقم اس کے ہاتھ میں آ گئی۔۔۔یہ وہ رقم تھی جو میں صفدر کی کوٹھی سے اٹھا لایا تھا۔۔۔ہم نے پیسے گنے تو نہیں تھے لیکن بلاشبہ وہ لاکھوں روپے تھے۔ ************************ (69) پیسوں کی گڈیاں نکال کر اس نے بیڈ پر رکھیں اس سارے وقت میں تیسرا آدمی کلاشنکوف سے مجھے کور کیے رہا۔۔۔اب اس نوجوان نے میری ٹانگوں کی طرف بیڈ کے پاس کھڑے ہوتے ہوئے مجھے کہا پیسے تو مل گئے اب تم چھٹی کرو۔۔۔ہم تمہیں ذندہ چھوڑنے کا رسک نہیں لے سکتے اور پھر وہ نہایت خباثت بھرے انداز میں شمسہ کی طرف دیکھ کر بولا کہ اس بلبل کو تو ہم ساتھ لے جائیں گے بڑے دنوں سے کوئی تگڑی پھدی نہیں ماری۔۔۔میرا دماغ تیزی سے بچاؤ کا طریقہ سوچ رہا تھا پر مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔۔۔استرے والے آدمی نے استرا بند کر کے جیب میں ڈال لیا تھا جبکہ دوسرے آدمی نے بھی کلاشنکوف کو ڈھیلے ہاتھوں پکڑا ہوا تھا۔۔۔مجہول جوان نے ریوالور کا رخ میری طرف کرتے ہوئے کہا کہ کوئی آخری خواہش ہو تو۔۔۔اس کی آواز اس کے منہ میں ہی رہ گئی شِپ کی آواز ابھری اور اس کے عین ماتھے کے بیچوں بیچ سوراخ ہو گیا۔۔۔اور وہ جھٹکا کھا کر پیچھے گرا۔۔۔اس کے ساتھ ہی باقی دونوں نے مڑ کر روشن دان کی طرف دیکھا کیونکہ شِپ کی آواز وہیں سے ابھری تھی دراصل یہ آواز سائلنسر لگی گن کی آواز تھی۔۔۔میں نے اس موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا اور سائیڈ پر گھوم کر بیڈ سے گرتے ہی اپنا لیوگر اٹھایا اور سانپ کی سی تیزی سے اپنی جگہ چھوڑ کر اڑتے ہوئے دوسری طرف چھلانگ لگائی۔ یہ صرف لمحوں کا کھیل تھا کیونکہ اسی وقت کلاشنکوف کی تڑتڑاہٹ ابھری اور قریب و جوار میں پھیل گئی۔۔گولیاں اس جگہ کو چھیدتی ہوئی گزر گئیں جہاں ایک لمحہ پہلے میں موجود تھا۔اسی وقت ایک مرتبہ پھر شِپ کی آواز ابھری اور کلاشنکوف والے کے منہ سے چیخ نکلی اور وہ بھی زمین بوس ہو گیا۔۔۔یہاں میں ایک سنگین غلطی کر گیا جس کا مجھے خمیازہ بھگتنا پڑا۔۔۔میں استرے والے کو بھول گیا تھا اس نے مجھ پر چھلانگ لگائی تھی میں بس غیر ارادی طور پر اپنا سر بچا گیا اور داہنی طرف چھلانگ لگائی۔۔۔لیکن مجھے اپنے بائیں کاندھے میں مرچیں سی بھرتی ہوئی محسوس ہوئیں۔استرے کا وار میرے کاندھے پر لگا تھا اور گوشت کو کاٹتا ہوا استرا صاف نکل گیا۔ میں نے گرتے ہی مڑ کر لیوگر کا ٹرائیگر دبا دیا۔۔ٹھک ٹھک کی آواز دو بار ابھری اور تیسرا بھی چیخ مارتے ہوئے زمین بوس ہو گیا۔۔۔دو گولیاں اس کے سینے سے گزرتی ہوئی پار نکل گئیں۔۔۔اسی وقت دروازہ کھلا اور حنیف خان اندر داخل ہوا۔۔۔میں اسے دیکھ کر حیران رہ گیا۔حنیف نے اندر داخل ہوتے ہی طائرانہ نظر سے جائزہ لیا۔۔۔تینوں خبیث جہنم رسید ہو چکے تھے۔حنیف میری طرف آیا اور میرے کاندھے کو ہلا جلا کر اچھی طرح دیکھنے کے بعد اس نے فٹافٹ شمسہ کے ڈوپٹے کو کس کر باندھ دیا جس سے خون کا اخراج کافی حد تک کم ہوا لیکن مجھے مسلسل اپنے کاندھے میں درد کی ٹھیسیں محسوس ہو رہی تھیں۔1 like
-
مجرِم یا۔۔۔
1 likeشمسہ نے مسکراتے ہوئے اپنے نرم و ملائم،، نازک ہاتھوں سے میرے لن کو پکڑا جو کہ اس کی مٹھی میں سمانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔۔۔شمسہ میرے لن کی ٹوپی پر زبان پھیرتی ہوئے اسے منہ میں لیکر چوسنے لگی۔۔۔میرے جیسا تجربہ کار کھلاڑی بھی اس کی تاب نہ لا سکا اور میرے منہ سے بے اختیار سسکاریاں نکلنے لگیں۔ شمسہ نے جو میرے منہ سے مزے کی سسکاریاں سنیں تو وہ اور جوش سے میرے لن کی ٹوپی کو چوسنے لگی اور چوستے چوستے اس نے میرا لن ہاتھ سے چھوڑ کر جیسے ایک غوطہ مارتے ہوئے کمال خوبصورتی سے میرے پورے لن کو منہ میں لیتے ہوئے لن کی ٹوپی کو اپنے حلق سے ٹچ کیا اور واپس لن باہر نکال کر پھر سے ٹوپی چوسنے لگی۔۔۔میرے منہ سے بے اختیار ایک آہہہ نکلی۔۔۔یا حیرت یہ شمسہ اور جمیل تو بہت پہنچے ہوئے لگتے ہیں۔ اب اس نے لن کو ایک سائیڈ پر جیسے لٹا دیا اور قلفی کی طرح چوسنے لگی۔۔۔میرے برداشت کی حد ایک دم ختم ہو گئی اور میں نے شمسہ کے منہ کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑتے ہوئے پورا لن اس کے منہ میں گھسا کر اس کے منہ کو پھدی کی طرح چودنا شروع کر دیا۔۔۔شمسہ کی زبان شہوت کی شدت سے شعلہ و جوالہ بنی ہوئی تھی۔۔۔میں نے بے اختیار اس کے بالوں کو اپنی مٹھیوں میں جھکڑ کر ایک زور کا گھسہ مارا تو میرا پورا لن جڑ تک اس کے منہ میں غائب ہو گیا اور ٹوپہ اس کے حلق سے ٹکرانے لگا۔ شمسہ کو ایک دم کھانسی نما ابکائی آئی۔۔۔اس نے اپنا منہ پیچھے کر کے میرا لن باہر نکالا تو ساتھ ہی ڈھیر سارا تھوک برآمد ہوا۔۔۔شمسہ اس تھوک کے ساتھ ہی آدھے لن کو پھر سے منہ میں لیکر چوستی گئی۔۔۔میری برداشت ختم ہوتی جا رہی تھی۔۔۔مجھے لگا کہ چند سیکنڈ اور میرا لن اس کے منہ میں رہا تو میں چھوٹ جاؤں گا۔۔۔میں نے شمسہ کو بتایا کہ میں چھوٹنے والا ہوں تو اس کی چوپے لگانے کی رفتار اور بڑھ گئی اور وہ بڑی سپیڈ سے لن کو اندر باہر کرنے لگی۔۔۔وہ میرا لن منہ میں لیے ہوئے مسلسل میری آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔ مجھے اس کی خوبصورت بلوری آنکھوں میں شہوت کے ساتھ ساتھ پیار کا ایک سمندر موجزن دکھائی دیا۔۔۔میں بڑے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیر رہا تھا۔۔۔شمسہ میرا لن چوسنے میں مگن تھی جبکہ اس کی آنکھیں میری آنکھوں میں پیوست تھیں۔۔۔آخرکار میرا لن شمسہ کی گرم جوانی سے شکست کھانے کے قریب پہنچ گیا اور میرے جسم کو جھٹکا لگا۔۔۔جھٹکا محسوس کرتے ہی شمسہ نے میرے چوتڑوں پر اپنے ہاتھ ٹکاتے ہوئے انہیں دبا دیا اور میں جو اپنا لن اس کے منہ سے باہر نکالنے کی سعی میں مصروف تھا اپنے چوتڑوں پر اس کے ہاتھوں کے دباؤ کو محسوس کرتے ہی وہیں رک گیا۔ پھر ایک جھٹکے کے ساتھ منی کی پہلی پچکاری شمسہ کے حلق سے ٹکرائی تو اس نے اپنے ہونٹوں کی گرِپ میرے لن کی ٹوپی پر مضبوط کر لی۔۔۔پھر دوسری پچکاری پہلے سے بھی ذیادہ طاقت سے شمسہ کے حلق سے ٹکرائی۔۔۔میرے ہاتھوں کی گرفت شمسہ کے بالوں پر مضبوط ہوتی چلی گئی۔۔۔پھر تیسری پچکاری،، اس کے بعد چوتھی پچکاری،، میرا لن مسلسل شمسہ کے منہ میں پچکاریاں مار رہا تھا۔۔۔لیکن شمسہ نے میری منی کا ایک بھی قطرہ اپنے ہونٹوں سے باہر نہیں نکلنے دیا۔ ************************ (64) میری منی کو وہ ساتھ ساتھ ہی اپنے حلق سے نیچے اتارتی جا رہی تھی۔۔۔میرا اپنے پیروں پر کھڑا ہونا دوبھر ہو گیا اور میں شمسہ کو لیے ہوئے بیڈ پر گر پڑا۔۔۔میرا لن اتنی منی نکلنے کے بعد بھی ابھی تک تنا ہوا تھا۔۔۔لن ابھی تک شمسہ کے منہ میں تھا جسے وہ چوستی جا رہی تھی۔۔۔شمسہ نے میرا لن چوس چاٹ کر اچھی طرح صاف کرنے کے بعد اپنے منہ سے باہر نکالا اور مسکرا کر میری طرف دیکھا تو میں نے بھی مسکراتے ہوئے اپنی بانہیں کھول دیں۔۔۔اس نے ایک جست لگائی اور میری بانہوں میں سما گئی۔۔۔شمسہ کا سر میرے چوڑے چکلے سینے پر تھا اور میں بڑے پیار سے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہا تھا۔ شمسہ اٹھی اور ابھی آئی کا کہہ کر ننگی ہی کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔تھوڑی دیر بعد جب وہ واپس آئی تو اس کے چاند سے مُکھڑے سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔۔۔میں نے پوچھا۔۔۔میری جان کیا ہوا کہاں گئی تھی تو وہ بولی منہ صاف کرنے گئی تھی واش روم میں۔۔۔اتنا کہہ کر وہ جھکی اور اپنی پینٹی اتار دی۔۔۔پھر کھڑے ہو کر اس نے اپنی برا بھی اتار دی۔ میں اس کے ہوشربا جسم کو دیکھ کر مبہوت رہ گیا۔۔۔گول مٹول ممے،، صاف شفاف پیٹ،، گلابی نرم و نازک سی چوت جو کہ کسی کھلے ہوئے گلاب کی مانند چمک رہی تھی۔۔۔اس کا چاندی جیسا بدن۔آج تک میں نے ان لڑکیوں کی ہی پھدی ماری تھی جو کہ پہلے ہی مختلف مردوں سے چدائی کر چکی تھیں۔۔۔لیکن شمسہ پہلی لڑکی تھی جس نے اپنا سارا جسم صرف اپنے خاوند کیلئے سنبھال کر رکھا تھا۔۔۔مجھے اس طرح سکتے کی حالت میں دیکھ کر شمسہ کے ہونٹوں پر ایک شریر مسکراہٹ نمودار ہوئی اور اس نے ایڑھیوں کے بل گھوم کر اپنی پشت میری جانب کر لی۔۔۔جب میری نظر اس کی پتلی کمر سے ہوتی ہوئی اس کی ابھری ہوئی بے داغ دودھیا گانڈ پر پڑی میں تو جیسے سانس لینا ہی بھول گیا۔ شمسہ کو ایک اور شرارت سوجھی اور وہ مزید جھک گئی۔۔۔جس سے اس کی گانڈ کا سوراخ واضح ہو گیا۔۔۔مجھ پر تو جیسے مسلسل سکتے کی کیفیت طاری ہو گئی۔۔۔ہر مرد کی طرح ممے اور گانڈ میری بھی کمزوری تھی لیکن یہ نظارہ واقعی دیکھنے لائق تھا۔۔۔شمسہ سیدھی ہوئی اور بڑی ادا سے میرا اکڑا ہوا لن اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا تو اس کے ہاتھ کا لمس محسوس کر کے میں بھی ہوش میں آ گیا۔۔۔میں جیسے خواب سے چونک گیا۔۔۔مجھے احساس ہی نہیں تھا کہ میرا لن ایک بار پھر اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ اکڑ چکا ہے۔۔۔پھر مجھ پہ جیسے جنونیت کا دورہ پڑ گیا۔۔۔میں نے شمسہ کو کھینچ کر اپنے پہلو میں لٹایا اور اس پہ ٹوٹ پڑا۔ ہونٹ، کان، ناک، آنکھیں، گردن، لویں، بال، سینہ، ممے، پیٹ، ناف، رانیں، پنڈلیاں، ہاتھ، ہاتھوں کی انگلیاں،، غرض کے اس کے جسم کا ایک ایک ذرہ چومتا گیا۔۔۔میں شمسہ کی حالت سے بے خبر تھا جو بے چینی سے اپنا سر زور زور سے پٹخ رہی تھی،، آہیں بھر رہی تھی،، اس کی پھدی مسلسل پانی چھوڑ رہی تھی مگر میں اپنے جنون میں مگن اسے چومتا چاٹتا جا رہا تھا۔۔۔پھر میں نے شمسہ کو اپنی بانہوں میں بھرتے ہوئے اس کی زبان چوسنا شروع کر دی۔۔۔میرا انداز بے حد جنونی تھا جو کہ شمسہ کے جزبات کو اور بھی بھڑکا گیا۔۔۔اب معاملہ شمسہ کی برداشت سے بھی باہر ہوتا جا رہا تھا۔۔۔وہ میرے لن کو پکڑ کر اپنی پھدی کی طرف کھینچ رہی تھی۔ وہ اب لن سے چدنا چاہتی تھی۔۔۔اس لمحے کیلئے اس نے بہت انتظار کیا تھا۔۔۔ہمیشہ اپنے آپ سے کیا ہوا خاموش عہد نبھایا اور اپنے جسم کو صرف اپنے خاوند کیلئے سنبھال کر رکھا تھا۔۔۔یہ الگ بات تھی کہ جو لن اس کے نصیب میں آ رہا تھا وہ اس کے خاوند جمیل کا نہیں بلکہ میرا یعنی کمال عرف جمیل کا تھا۔۔۔میں شمسہ کی بےتابی کو محسوس کرتے ہوئے اٹھ کر اس کی ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گیا۔۔۔اور اپنے ہاتھ کی دو انگلیاں اس کی بھیگی ہوئی پھدی میں ڈال کر اسے انگلیوں سے چودنا شروع کر دیا۔۔۔شمسہ لن لینے کیلئے مری جا رہی تھی جبکہ میں اس کی آگ کو مزید ہوا دے رہا تھا۔ اب میں نے ذیادہ دیر کرنا مناسب نہ سمجھا اور اپنے لن کو شمسہ کی نازک پھدی کے ہونٹوں میں رگڑنے لگا۔۔۔شمسہ مزے سے تڑپتے ہوئے اپنی پھدی کے سوراخ کو میرے لن کی رینج میں لانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔میں نے آرام سے اپنے لن کو شمسہ کی پھدی کے سوراخ پر سیٹ کیا۔۔۔اس سے پہلے کہ میں گھسہ مارتا،، شمسہ نے پوری جان سے اپنی پھدی کو لن پر دبایا تو میرا لن اس کی پھدی کی دیواروں کو رگڑتا ہوا پھدی کی گہرائیوں تک اتر گیا۔۔۔شمسہ کے منہ سے ایک تیز سسکاری نکلی۔۔۔آہ۔ہ۔ہ۔ہ۔ شمسہ کی پھدی کی گرِپ کافی ٹائٹ تھی۔۔۔اس کا چہرہ شہوت ملی تکلیف سے ٹماٹر کی طرح سرخ ہو چکا تھا۔۔۔لیکن ساتھ ہی خوشی کی ایک جھلک اس کے چہرے پر نظر آ رہی تھی۔۔۔میں نے آہستہ آہستہ سے اس کی پھدی میں لن اندر باہر کرنا شروع کر دیا۔۔۔میں چار انچ تک لن کو باہر نکالتا اور پھر سے شمسہ کی پھدی میں جڑ تک گھسا دیتا۔۔۔اسی دوران شمسہ کی ہمت جواب دے گئی اور اس کا جسم اکڑنا شروع ہوا تو میں نے اپنے گھسوں کی رفتار بڑھا دی۔۔۔لیکن لن ابھی بھی میں نے پورا باہر نہیں نکالا تھا۔۔۔بلکہ کسی پسٹن کی طرح اس کی پھدی میں اندر باہر کرتا گیا۔۔۔شمسہ نے اپنی ٹانگیں اٹھا کر میری کمر پر باندھ لیں اور اپنے ناخنوں سے میرے کندھوں کو ادھیڑنے لگی۔ میں سمجھ گیا کہ شمسہ چھوٹنے لگی ہے تو میں نے اس کی زبان کو چوستے ہوئے گھسے مارنے چالو رکھے۔۔۔اچانک شمسہ کے جسم کو جھٹکے لگنے شروع ہو گئے اور اس کی پھدی سے پانی ایک پریشر کے ساتھ میرے لن سے ہوتا ہوا میرے ٹٹوں کو بھگو گیا۔۔۔اب میرا لن پوری آسانی سے اس کی پھدی کے اندر باہر ہو رہا تھا۔۔۔شمسہ میرے ہونٹوں کو چوم رہی تھی۔۔۔ہر طرف کیف تھا، مستی تھی ، مزہ تھا،، میرے گھسے مسلسل جاری تھے اور کمرہ پچک۔پچک کی آوازوں سے گونج رہا تھا۔ یہ آوازیں ہم دونوں کے ہیجان میں اضافہ کر رہی تھیں۔۔۔میرا لن شمسہ کی پھدی کی گہرائیوں کی سیر کرنے میں مصروف تھا۔۔۔اب میرے دھکوں میں تیزی آتی جا رہی تھی۔۔۔ساتھ ساتھ ہی پچک۔پچک کی آوازوں میں بھی۔۔۔ نیچے سے شمسہ بھی گانڈ اٹھا اٹھا کر لن کو اپنی پھدی کی آخری سرحد تک لینے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔میں اب پورا لن باہر نکال کر اتنی زور سے گھسہ مارتا کہ میرا لن سیدھا اس کی بچہ دانی سے جا ٹکراتا۔۔۔دس منٹ تک اسی طرح گھسے مارنے کے بعد مجھے لگنے لگا کہ اب میں چھوٹنے لگا ہوں۔۔۔میں کپکپاتے ہوئے بولا: شمسہ میں چھوٹنے لگا ہوں تو وہ بھی مزے سے سرشار بولی۔۔۔اندر ہی چھوٹ میری جان میں بھی نکلنے والی ہوں۔۔۔تبھی میرے لن سے منی کا سیلاب نکلا اور شمسہ کی پھدی کو سیراب کرتا گیا۔۔۔شمسہ بھی کانپتے ہوئے پانی چھوڑ گئی۔۔۔اس کے چہرے پر ایک اطمینان تھا،، سکون تھا۔۔۔وہ میرے سینے پر سر رکھ کر لیٹ گئی۔ ************************ (65) کچھ دیر بعد اچانک بولی۔۔۔جمیل تم کچھ بدل گئے ہو۔۔۔میں اندر سے تو تھوڑا پریشان ہوا لیکن بظاہر ہنستے ہوئے پوچھا۔۔۔شمسہ ایسا تمہیں کیوں محسوس ہوا۔۔۔وہ کہنے لگی: جمیل تمہارا پیار کرنے کا انداز بدل گیا ہے اور پہلے تم سیکس میں اتنا ٹائم نہیں نکالتے تھے۔۔۔اب ٹائمنگ بہت بڑھ گئی ہے اوپر سے تمہارا لن بھی تو کتنا موٹا اور لمبا لگتا ہے نا۔۔۔میں نے اس کے سر پر چپت لگاتے ہوئے کہا: نہیں پگلی ایسی کوئی بات نہیں یہ سب تمہارا وہم ہے۔ اتنی دیر بعد ملی ہو نا تو اس لیے ایسا محسوس ہو رہا ہے۔۔۔ویسے جب سعودی میں میرے ساتھ حادثہ ہوا تو میرے پورے جسم پر چوٹیں لگی تھیں۔۔۔بیرونی چوٹوں کے ساتھ ساتھ اندرونی طور پر بھی بہت ٹوٹ پھوٹ ہوئی تھی۔۔۔پورا جسم درد کرتا تھا۔۔۔شاید یہ ان دوائیوں کا ہی اثر ہو کہ پہلے جو کمی یا کمزوری تھی وہ دور ہو گئی اور اب میں پہلے سے ذیادہ فٹ ہوں۔ شمسہ کو اچانک کچھ یاد آیا تو وہ اٹھ کر بیٹھ گئی اور میرے سینے سے ناف تک ہاتھ پھیرتے ہوئے سوالیہ لہجے میں بولی۔۔۔جمیل تمہارے جسم پر تو کسی چوٹ کا نشان نہیں؟ میں نے کہا یار وہ لوگ بہت اعلیٰ قسم کی دوائیاں استعمال کرتے ہیں۔۔۔روزانہ تین ٹائم میرے جسم پر موجود نشانات پر کچھ خاص جڑی بوٹیوں کا لیپ کرتے تھے۔۔۔یہ اسی لیپ کا کمال ہے کہ سارے نشانات مٹ گئے۔۔۔وہ پیار بھرے انداز میں میرے سینے پر سر رکھتے ہوئے بولی: اب میں تمہیں کہیں نہیں جانے دوں گی۔۔۔میں بھی پیار سے اس کے سر کے بالوں میں انگلیاں پھیرتا رہا۔۔۔پھر ہم نے سیکس کا ایک اور دور چلایا اور کافی دیر بعد تھک کر سو گئے۔ اگلے دن صبح نادر گھر آ گیا تو شمسہ اسے دیکھتے ہی بولی: نادر اب تم یہ وڈے چوہدری کی نوکری چھوڑ دو۔۔۔جمیل گھر آ گیا ہے نا تو اس کے ساتھ مل کر کھیتی باڑی کیا کرو۔۔۔اس سادہ لوح،، معصوم کو کیا پتہ تھا کہ ہم لوگ کس گرداب میں پھنسے ہوئے ہیں۔۔۔اگلے دن نادر نے مجھے بتایا کہ سندھی مارواڑی کا ایک آدمی سٹین گنیں اور سارا ایمونیشن پہنچا گیا ہے۔۔۔نادر نے یہ سامان پتہ نہیں کس وقت رسیو کیا اور کیسے گھر کے اوپر والے کمرے میں پہنچا دیا۔۔۔میں نے نادر کے ساتھ اوپر جا کر گنیں چیک کیں تو بلکل ورکنگ آرڈر میں تھیں۔1 like
-
مجرِم یا۔۔۔
1 like@udas punchipunchipunchipppunchippunchpunchi @fairi And @alone_leo82 آپ دونوں نے سہی پہچانا کمال پاشا اب جمیل کے روپ میں آئے گا اور بلکل ہی تھوڑے سے ٹھہراؤ کے بعد نت نئے ہنگامے پھر سے منتظر ہیں۔ بہت جلد ہی اپڈیٹ دینے کی کوشش کروں گا فلحال تو کام میں اتنا مصروف ہوں کہ آج اپڈیٹ دینے کے دو تین دن بعد جا کر کمنٹس دیکھنے اور جواب دینے کا ٹائم ملا۔۔ کوشش کروں گا کہ آپ لوگوں کو ذیادہ انتظار نہ کرنا پڑے۔1 like
-
مجرِم یا۔۔۔
1 likeمجھ سے ٹکرانے والا بھی پھرتی سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔وہ چوہدری کا پالتو کتا شاہنواز تھا۔۔۔جیسے ہی اس کی نظر میرے چہرے پر پڑی تو وہ حیرت سے چلایا۔۔۔اوئے کمالے تو؟؟ساتھ ہی اس کا ہاتھ اپنے نیفے کی طرف بڑھا۔۔۔میرے ہاتھ میں بھی لیوگر پکڑا ہوا تھا میں نے ایک جھٹکے سے ہاتھ آگے کیا اور ٹرائیگر دبا دیا۔۔۔ارے یہ کیا۔گولی نکلنے کی بجائے ٹرچ کی آواز نکلی۔ ************************ (36) مجھ سے ایک سنگین غلطی ہو چکی تھی۔۔۔الماری سے ایمونیشن تو اٹھا لیا لیکن جلدی جلدی میں گولیاں بھرنا بھول گیا۔۔۔اب میرے پاس اتنا ٹائم بھی نہیں تھا کہ میں ڈب سے اپنا ریوالور نکالتا۔۔۔میرے پاس ایک آخری راستہ تھا جس پر میں نے فوری عمل کیا۔۔۔میں نے میکانکی انداز میں اپنے ٹانگ چلائی اور ایک ٹھوکر شاہنواز کے پیٹ میں ماری۔۔۔وہ اوغ کی آواز کے ساتھ اوندھا ہوا تو میں نے اس کی طرف چھلانگ لگائی لیکن وہ ایک دم سنبھل کر چیختے ہوئے داہنی طرف بھاگا۔۔۔اس کے چلانے کے ساتھ ہی دوسری طرف سے بھی کسی کے چیخنے کی آواز سنائی دی۔۔۔لازمی سی بات تھی کہ اس کی آواز پہرے داروں نے سن لی تھی اور اب میرے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ میں اس کے پیچھے بھاگتا۔۔۔چنانچہ میں نے اس کا خیال چھوڑا اور بھاگتے ہوئے صحن کراس کر کے باہر والی دیوار کے پاس پہنچ گیا۔۔۔ جیسے ہی میں دیوار کے پاس پہنچا تو ایک دھماکہ میرے سر پر ہوا۔۔۔میں وہیں زمین پر گر گیا۔۔۔یہ دھماکہ گولی کا تھا جو کہ نوشاد نے چلائی تھی۔۔۔وہ وہیں سے بیٹھی ہوئی آواز میں چلایا۔ بھایا جلدی کرو۔ میں دو قدم پیچھے ہوا اور پھر بھاگتے ہوئے جمپ مار کر دونوں ہاتھوں کے بل دیوار کے کنارے پر لٹک گیا۔اسی وقت نوشاد نے ایک مرتبہ پھر گولی چلائی اور چیخا بھایا نکلو۔۔۔میں نے ہاتھوں کے زور پر اپنا پورا جسم اٹھایا اور دیوار پر لیٹ کر دوسری طرف کود گیا۔۔۔اس طرف زمین ذرا نیچی تھی لیکن نرم ہونے کیوجہ سے میں کسی قسم کی چوٹ سے محفوظ رہا۔۔۔اتنی دیر میں نوشاد بھی درخت سے نیچے اتر آیا۔۔۔میں نے بھی لیوگر ڈب میں ڈالا اور اپنا ریوالور ہاتھ میں پکڑ لیا۔ حویلی میں ہر طرف ہاہاکار مچی ہوئی تھی۔۔۔ہم دونوں ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے ہوئے کماد میں داخل ہو گئے۔ہمارے پیچھے لوگوں کے چلانے اور بھاگنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔۔۔چند ایک گولیاں چلنے کی بھی آواز سنائی دی لیکن ہم لوگ رکے بغیر کھیتوں کے اندر اندر سے ہی بھاگتے ہوئے اپنے ڈیرے پر پہنچ گئے۔۔۔ڈیرے پر جا کر میں نے نوشاد کو ساری بات بتائی اور لیوگر بھی دکھایا۔۔۔ہیروں والا قصہ دانستہ گول کر گیا۔۔۔راجو کی موت کا سن کر نوشاد خوشی سے بولا:بھایا اچھا کیا جو دھرتی کے اس بوجھ کو کم کیا۔ لیکن شاہنواز والے ٹکراؤ کا سن کر وہ پہلے تھوڑا سا پریشان ہوا پھر کندھے جھٹک کر بولا جو ہو گا دیکھا جائے گا فلحال وہ لوگ کھلے عام کوئی انتقامی کاروائی کرتے وقت لاکھوں بار سوچیں گے اور ہم اتنی دیر تک کوئی نا کوئی ترکیب سوچ لیں گے۔۔۔۔فلحال آپ یہاں آرام کرو آپ کا گھر جانا ٹھیک نہیں۔۔۔ہم لوگ کافی دیر تک ایسے ہی باتیں کرتے رہے۔پھر نوشاد بولا:بھایا میں گاؤں جاتا ہوں اور وہاں کے حالات دیکھ کر تھوڑی دیر بعد واپس آؤں گا۔ میرے سر ہلانے پر وہ اٹھا اور پستول ڈب میں لگا کر وہاں سے نکل گیا۔۔۔میں کچھ دیر تو چارپائی پر لیٹا رہا۔۔۔پھر اچانک مجھے ہیروں کی یاد آئی تو میں اٹھ بیٹھا۔۔۔کافی دیر سوچنے کے بعد مجھے ایک محفوظ جگہ سوجھ گئی۔۔۔میں اپنی جگہ سے اٹھا اور کمرے سے بیلچہ اٹھا کر کھیتوں میں نکل گیا۔۔۔کھیت میں جا کر ادھر ادھر جگہ ڈھونڈے لگا۔ادھر ادھر دیکھنے کے بعد میں نہر کی طرف چل پڑا۔۔۔نہر کے ساتھ ساتھ کیکر کے درختوں کی بہتات تھی۔ یہ درخت بہت پرانے تھے میں ایک کافی پرانے لیکن نسبتاً مضبوط درخت کے پاس گیا اور بیلچے سے درخت کی جڑوں کے پاس ہی زمین کھودنے لگا۔۔۔کافی گہرا گڑھا مار کے میں نے ایک شاپر میں اچھی طرح لپیٹ کر ہیروں کی تھیلی،لیوگر اور اس کا ایمونیشن احتیاط سے گڑھے کے اندر رکھے پھر اس کے اوپر کافی سارا گھاس پھونس ڈال کر دوبارہ مٹی ڈال کے گڑھا بند کر دیا۔۔۔اس درخت کو ترتیب کے حساب سے نمبر لگا کر میں نے ذہن نشین کر لیا۔۔۔اور تازہ کھدے ہوئے گڑھے پر اس انداز میں تھوڑی پرانی مٹی اور گھاس وغیرہ ڈال دی کہ کسی کو شک نہ ہو یہاں زمین کی تازہ کھدائی ہوئی ہے۔ اس کام سے فارغ ہو کر میں دوبارہ جا کر سگریٹ سکھاتے ہوئے چارپائی پر لیٹ کر گہرے گہرے کش لینے لگا۔۔۔کافی دیر گزر گئی تقریباً دو گھنٹے گزر گئے تھے مگر نوشاد واپس نہیں آیا۔۔۔اب رات کا تقریباً ایک بج چکا تھا۔۔۔میں نے سوچا کہ ہو سکتا ہے نوشاد اپنے گھر چکر لگانے چلا گیا ہو۔۔۔آخر وہ بھی تو پوری رات سے غائب تھا نا۔۔۔سوچتے سوچتے پتہ ہی نہیں چلا کہ کب میری آنکھ لگ گئی۔ ابھی میری آنکھ لگے ہوئے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ دھپ دھپ کی آواز سے میری آنکھ کھل گئی۔۔۔میں نے فٹافٹ اپنا ریوالور چیک کیا اور گھات لگا کر بیٹھ گیا۔۔۔دھپ دھپ کی آواز سے اندازہ ہو رہا تھا کہ کوئی بھاگتا ہوا میری طرف ہی چلا آ رہا ہے۔۔۔چند لمحوں بعد ہی آنے والا میری نظروں کے سامنے تھا۔ ************************ (37) وہ نوشاد کا چھوٹا بھائی ٹونی تھا جو کہ نوشاد سے ایک سال چھوٹا تھا۔۔۔ٹونی بھاگتا ہوا ڈیرے کی طرف ہی آ رہا تھا اسے دیکھ کر میں اوٹ سے باہر نکل آیا وہ مجھے دیکھتے ہی چلاتے ہوئے بولا۔۔۔کمال بھائی وہ وہ وڈے چوہدری اور اس کے گماشتے آپ کے گھر میں گھس گئے ہیں اور توڑ پھوڑ کرتے ہوئے سب کو مار رہے ہیں۔۔۔پھر روتے ہوئے بولا ان کو روکنے کیلئے نوشاد بھائی آگے گیا لیکن انہوں نے نوشاد بھائی کو مار ڈالا۔ ٹونی کی بات سن کر میری آنکھوں کے آگے جیسے سرخ چادر سی تن گئی۔ مجھے نہیں یاد کہ میں کیسے وہاں سے بھاگتے ہوئے نکلا اور کہاں کہاں ٹھوکریں کھاتا ہوا گاؤں کی آبادی تک پہنچا۔۔۔راستے میں دو تین جگہ میں نے ٹھوکر کھائی اور زمین پر لڑھکنیاں کھاتے ہوئے گرا۔۔لیکن جیسے ہی میری آنکھوں کے سامنے گھر والوں کے چہرے آتے میں پھر سے اٹھ کر بھاگ پڑتا۔۔۔یوں ہی گرتے پڑتے پندرہ منٹ میں آبادی میں پہنچ گیا۔۔۔دور سے ہی مجھے اپنے گھر کی طرف سے آگ کی لپٹیں اٹھتی دکھائی دیں۔ میں بھاگتے ہوئے گھر کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ میرا پورا گھر آگ میں جل رہا تھا اور وڈے چوہدری کے دو بیٹے ہاشم اور کامران اپنے تین چار گماشتوں کے ساتھ جیپ میں بیٹھ کر تیزی سے نکل رہے تھے۔۔۔میں نے بھاگتے بھاگتے ریوالور نکالا لیکن اس سے پہلے کہ میں گولی چلاتا وہ میری رینج سے دور نکل گئے۔۔۔انہوں نے مجھے آتے ہوئے نہیں دیکھا تھا ورنہ وہ مجھ سے وہیں ٹکرا جاتے۔ جیسے ہی میں گھر کے دروازے پر پہنچا اور اندر جانے کی کوشش کی۔۔۔تبھی ایک سائیڈ سے چھیمو کی ماں اور نوشاد کی ماں نکلیں اور انہوں نے مجھے اپنے بازوؤں میں کس لیا۔۔۔نہیں نہیں پتر!!!ہم تمہیں اندر نہیں جانے دیں گے۔۔۔میں نے سرخ انگارہ آنکھوں سے انہیں دیکھا اور زور لگا کر ایک جھٹکے سے اپنا آپ چھڑوایا اور بھاگتے ہوئے اندر داخل ہو گیا۔۔۔ویسے تو سارے گھر کو آگ لگی ہوئی تھی لیکن امی اور بینا کا کمرہ بری طرح جل رہا تھا۔ میں نے ادھر ادھر دیکھا تو مجھے ایک کمبل نظر آیا جو کہ امی نے کل سے دھو کر دیوار پر خشک ہونے کیلئے ڈالا ہوا تھا۔۔۔میں نے پھرتی سے اپنے اوپر لپیٹا۔۔۔خاص طور پر اپنے سر چہرے اور گردن کو چھپایا اور ایک چھلانگ مار کر آگ میں سے ہوتا ہوا کمرے کے دروازے پر جا پڑا۔۔۔دروازہ پہلے ہی کافی جل چکا تھا۔۔۔میرا بوجھ برداشت نہ کر پایا اور ایک چرچراہٹ کے ساتھ ٹوٹ کر اندر گرتا چلا گیا۔۔۔اندر جاتے ہی میں نے کمبل اتار کر ادھر ادھر دیکھا تو مجھے ابو،اور بینا دونوں نظر آ گئے۔ ابو کا جسم تو بری طرح سے جل رہا تھا۔۔۔بینا کا جسم بھی جل چکا تھا۔۔۔یوں لگتا تھا کہ جیسے ان دونوں کے اوپر باقاعدہ پٹرول ڈال کر آگ لگائی گئی ہو۔۔۔وہ دونوں اپنی سانسیں پوری کر چکے تھے۔۔۔میں نے روتی انگارہ آنکھوں سے امی کی تلاش میں ادھر ادھر نظریں دوڑائیں تو امی کو کہیں نہ پا کر زور سے چیخا۔ امی جان،امی جان۔ میں جتنی شدت سے چیخا تھا اتنی شدت سے دھواں میرے پھیپھڑوں تک پہنچ گیا اور میں بری طرح سے کھانستا ہوا لڑکھڑا کر جلتے ہوئے دروازے پر گرا۔۔۔آگ کی لپٹیں میرے چہرے پر لگیں۔۔۔تکلیف سے میری چیخیں نکل گئیں۔۔۔میرے چہرے پر یوں جلن ہو رہی تھی جیسے کھلے زخموں پر مرچیں ڈال دی گئی ہوں۔۔۔میں خود کو سنبھالتے ہوئے کمرے سے چھلانگ مار کر باہر نکلا۔۔۔باہر آتے ہی کھانستے کھانستے میں حلق کی پوری شدت سے چلایا۔امییییی،تبھی اچانک مجھے جیسے ایک کمزور سی آواز سنائی دی۔ میں نے سر گھما کر دیکھا تو مجھے اپنے کمرے کی طرف سے دوبارہ آواز سنائی دی۔۔۔میں واضح طور پر امی کی آواز پہچان گیا۔۔۔میں اپنے کمرے کی طرف بھاگا تو امی راستے میں ہی دیوار کی اوٹ میں زمین پر پڑی دکھائی دیں۔۔۔میں وہیں ان کے پاس دو زانو ہو کر بیٹھ گیا۔۔۔ان کا پورا جسم بھی بری طرح سے جلا ہوا تھا۔۔۔پتہ نہیں کیسے وہ گھسٹتے ہوئے وہاں سے یہاں تک پہنچی تھیں۔۔۔شاید مجھے ہی ڈھونڈتے ہوئے ادھر گئی ہوں گی۔۔۔امی کی حالت بہت خراب تھی ان کا سانس بھی رک رک کر آ رہا تھا۔ میں نے احتیاط سے ان کا سر اپنے زانو پر رکھا اور روتے ہوئے بولا امی یہ کیا ہو گیا۔۔۔تو امی نے جیسے کچھ کہنے کی کوشش کی۔۔۔میں نے فوراً سر جھکا کر اپنے کان ان کے لبوں کے پاس کیے تو امی کی مدھم سی آواز سنائی دی۔۔۔کمال پتر!!!وڈے چوہدری کے سب لوگوں نے ہماری آنکھوں کے سامنے بینا کی بے حرمتی کی۔۔۔اس کی عز۔ز۔ز۔عزت لو۔و۔ٹ لی۔۔۔اتنا کہتے ہی امی کو ہچکی آئی اور وہ ہچکی ان کی سانس کی ڈور کاٹ گئی۔ میرا سینہ غم اور غصے سے لبریز ہو گیا۔۔۔پھر تکلیف اور غم دونوں کی شدت برداشت نہ کر پایا اور وہیں بے ہوش ہو کر امی کے ساتھ ہی گرتا چلا گیا۔ پتہ نہیں کب تک میں بیہوش پڑا رہا۔ ************************ (38) جب آنکھ کھلی تو خود کو ایک بیڈ پر موجود پایا۔۔۔میرے چہرے پر چاروں طرف پٹیاں لپٹی ہوئی تھیں۔۔۔جسم پر بھی جا بجا پٹیاں چڑھی ہوئی تھیں۔۔۔میں نے سر گھما کر دیکھا تو کوئی انجان سا کمرہ تھا لیکن سارے آلات بلکل کسی ہسپتال کی طرح لگتے تھے۔۔۔ بیڈ کے ساتھ لگا ہوا اسٹینڈ اور اس پر لٹکتی ہوئی بوتل اور کمرے کے اندر موجود سفید چادریں اس امر کا واضح اشارہ تھیں کہ میں کسی ہسپتال کے بیڈ پر ہی پڑا ہوا ہوں۔۔۔پر مجھے یہاں لیکر کون آیا۔۔۔ابھی اسی شش و پنج میں مبتلا تھا کہ دروازہ کھلا اور ایک نہایت خوبصورت لڑکی نرس کے لباس میں اندر داخل ہوئی۔۔۔مجھے ہوش میں دیکھ کر بولی اوہ تو آپ کو ہوش آ گیا میں ابھی ڈاکٹر کو بلاتی ہوں۔ میں نے کمزور سی آواز میں اسے پکارا۔۔۔رکو:میری بات سنو تو وہ پلٹ کر میری طرف آئی اور بولی:ہاں کہو تو میں نے پوچھا کہ میں کہاں ہوں؟اور مجھے یہاں کون لایا ہے؟تو اس نے جواب دیا کہ آپ اس ٹائم لاہور کے ایک پرائیویٹ کلینک میں ہیں اور میں نہیں جانتی کہ آپ کو کون لایا ہے۔۔۔مجھے بس اتنا پتہ ہے کہ آپ آج پورے چار دن بعد ہوش میں آئے ہیں۔۔۔اب ذیادہ باتیں مت کریں بولنا آپ کیلئے نقصان دہ ہے۔۔۔اتنا کہہ کر وہ باہر نکل گئی۔ امی ابو اور بینا کو یاد کر کے میری آنکھیں بھر آئیں۔۔۔چند منٹ بعد ایک ڈاکٹر اور دو نرسیں کمرے میں داخل ہوئیں۔۔۔ڈاکٹر نے اچھی طرح میرا چیک اپ کیا اور مجھ سے چند باتیں کر کے میری ذہنی حالت چیک کرنے کے بعد واپس جانے لگا تو میں نے ڈاکٹر سے پوچھا کہ ڈاکٹر مجھے یہاں کون لے کر آیا ہے تو ڈاکٹر نے بتایا کہ مجھے بیہوشی کی حالت میں ٹونی نام کا ایک جوان لایا تھا۔ ابھی وہ باہر ہی ہے میں اس کو بھیج دیتا ہوں لیکن دوست ذیادہ باتیں مت کرنا۔۔۔تمہیں ابھی ریسٹ کی ضرورت ہے۔۔۔میرے اثبات میں سر ہلانے پر ڈاکٹر نرسوں سمیت باہر چلا گیا۔۔۔صرف دو منٹ بعد ہی ٹونی اندر آ گیا۔۔۔مجھے دیکھتے ہی وہ میرے پاس بیٹھ کر بولا کمال بھائی اب کیسی طبیعت ہے۔۔۔میں نے کہا ٹونی یہ سب باتیں چھوڑو مجھے یہ بتاؤ کہ تم مجھے یہاں کیسے لے کر آئے اور وہاں کیا کیا ہوا۔۔۔ٹونی نے بتانا شروع کیا:بھائی اس دن رات کو نوشاد بھائی گھر آیا تو اس نے آتے ہی امی سے دو آدمیوں کا کھانا بنانے کو کہا۔۔۔شاید وہ کھانا اپنے اور آپ کیلئے ہی بنوا رہا تھا۔۔۔اسی وقت گھر کے باہر کچھ لوگوں کی موجودگی اور کھٹ پٹ کی آواز سن کر نوشاد بھائی بھاگتے ہوئے گھر سے باہر نکلا۔ (نوشاد میرا ہمسایہ تھا اور اس کا گھر میرے گھر کی داہنی سائیڈ پر تھا۔) باہر وڈے چوہدری کے دو بیٹے اور اس کے چند آدمی دیوار پھاند کر آپ کے گھر میں گھس رہے تھے۔۔۔جتنی دیر تک نوشاد بھائی وہاں پہنچا انہوں نے گھر میں گھس کر دروازہ اندر سے بند کر لیا۔۔۔ان لوگوں کے پاس اسلحہ اور بڑے بڑے چاقو تھے۔ نوشاد بھائی گھر کا دروازہ بند دیکھتے ہی اپنی سائیڈ سے دیوار پھلانگ کر آپ کے گھر میں کودا۔۔۔جیسے ہی اس کے پاؤں اندر لگے انہوں نے نوشاد پر حملہ کر دیا۔۔۔ان کتوں نے چاقو کے ساتھ نوشاد کی آنتیں ادھیڑ ڈالیں اور اسے مردہ سمجھ کر دیوار کے اوپر سے واپس پھینک دیا۔۔۔میں بھاگ کر نوشاد کے پاس گیا تو اس نے اٹکتے ہوئے آخری سانسوں میں بس چند الفاظ کہے۔۔۔باؤ کمال ڈیرے پر ہے۔ اتنا کہہ کر اس کی گردن ڈھلک گئی۔۔۔میں وہاں سے بھاگتا ہوا نکلا اور آپ کے پاس پہنچ گیا۔۔۔باقی کی کاروائی آپ کو معلوم ہے۔۔۔جب میں بھاگتا ہوا واپس پہنچا تو لوگ آپ کے گھر والوں کو گھر سے باہر نکال کر چارپائیوں پر ڈال رہے تھے۔۔۔نوشاد،چاچا، اور بینا کی لاشیں دیکھ کر میری اپنی حالت خراب تھی۔ میں احتیاطاً اندر جھانکنے چلا گیا دیوار کی اوٹ سے جیسے ہی میں آگے بڑھا میں نے آپ کو اور چاچی کو اس حالت میں دیکھا۔۔۔چاچی کی سانسیں پوری ہو چکی تھیں۔ پھر پتہ چلا کہ آپ زندہ ہیں تو میں چھیمو کی مدد سے آپ کو دیوار سے گزار کر چھیمو کے گھر لے گیا۔۔۔اس کے سارے گھر والے اس وقت باہر تھے۔۔۔پھر میں نے سوچا کہ چاچی کو کوئی نہ کوئی تو ڈھونڈ ہی لے گا۔۔۔اس لیے میں آپ کو فوراً آپ کی ہی گاڑی جو کے احاطے میں کھڑی تھی ڈال کر ڈسپنسری لے گیا۔۔۔وہاں سے ڈاکٹر امتیاز کو ساتھ بٹھایا اور ہم لوگ آپ کو سیدھا یہاں لے آئے۔۔۔آپ کی حالت بہت خراب تھی اس لیے آپ کو علاج کے دوران مسلسل بیہوش رکھا گیا۔ اب ڈاکٹر امتیاز سے ڈسپنسری کے نمبر پر رابطہ کرتا رہا ہوں میں اور وہاں کے حالات معلوم کرتا رہا ہوں۔۔۔میں نے نم آنکھوں کے ساتھ پوچھا کہ ٹونی میرے امی ابو،بینا اور نوشاد۔۔۔اتنا کہہ کر میں نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا تو اس نے بوجھل لہجے میں بتایا:بھائی ان کو اسی دن گاؤں کے قبرستان میں دفن کر دیا گیا تھا۔ چاہے میرا دکھ بڑا تھا لیکن بھائی تو اس کا بھی مرا تھا۔۔۔میں نے اپنی آنکھیں موند لیں اور آنکھوں کے آنسو پینے کی کوشش کرنے لگا۔ ************************* (39) اگلے بیس بائیس روز تک اسی کلینک میں رہا۔۔۔ٹونی نے دن رات میرا خیال رکھا۔۔۔اب میری جلن ختم ہو چکی تھی لیکن زخموں پر کھرنڈ ابھی باقی تھا۔۔۔ان دنوں میں ڈاکٹر امتیاز کی وساطت سے صرف اتنا پتہ چلا کہ سیالوں کے خیال میں وہ مجھے مار چکے تھے۔ وہ نوشاد کو ہی کمال سمجھ بیٹھے تھے۔۔۔میرے بارے میں صرف ڈاکٹر امتیاز کے علاوہ ٹونی،چھیمو اور ان دونوں کی مائیں جانتی تھیں۔۔۔مگر انہوں نے اس بات کا کسی سے بھی ذکر نہیں کیا۔۔ویسے گاؤں میں پولیس گئی تھی اور اس سارے کیس کو ڈاکوؤں کی کارستانی کہہ کر معاملہ نِبٹا دیا تھا۔۔۔گاؤں والے سب جانتے تھے لیکن سیالوں کے ڈر سے کسی نے اپنا منہ نہیں کھولا۔۔۔حتٰی کہ چوہدری رحمت علی کڑیال نے بھی اس معاملے میں ذیادہ سرگرمی نہیں دکھائی۔پتہ نہیں کیوں! حالانکہ وہ ابو جان کے ساتھ کافی دفعہ مل چکا تھا لیکن پھر بھی اس نے کوئی خاص سرگرمی نہیں دکھائی۔۔۔پولیس بعد میں بھی ایک دو بار وہاں گئی۔۔۔پھر کیس داخل دفتر کر دیا۔۔۔میں دل ہی دل میں قسم کھا چکا تھا کہ میری دنیا تو لٹ ہی گئی۔۔۔پر اب سیالوں کے خاندان کے کسی ایک فرد کو بھی زندہ نہیں چھوڑنا۔ چاہے مرد ہو یا عورت سب کو اذیت ناک موت ماروں گا۔۔۔میری بینا کا کیا قصور تھا۔۔۔ہر وقت ماں کی کہی ہوئی آخری بات یاد آتی کہ انہوں نے والدین کے سامنے بینا کی عزت لوٹ لی۔ کافی دن اسی اذیت کے ساتھ گزار دیے پھر ایک دن جب مجھ سے برداشت نہیں ہوا تو رات کے وقت میں چھپتے چھپاتے کلینک سے نکل آیا۔۔۔اس وقت ٹونی گاؤں گیا ہوا تھا اس نے صبح واپس آنا تھا۔۔۔آتے وقت میں نے کلینک کے ہی ایک مریض کا مفلر اٹھا کر اچھی طرح چہرے پر لپیٹا اور باہر نکل گیا۔۔۔میری جیبوں میں ایک روپیہ بھی نہیں تھا۔۔۔یہ لاہور کا ہی ایک پوش علاقہ تھا۔۔۔میں عام راستوں سے ہٹ کر چلتا ہوا رائے ونڈ روڈ کی طرف جانے لگا۔ راستے میں ایک ٹریکٹر ٹرالی والے سے لفٹ لی جو کہ اینٹیں لیکر پتوکی جا رہا تھا۔۔۔مطلب وہ میرے گاؤں کے باہر والے روڈ سے گزرتا۔۔۔ایک گھنٹے بعد میں اپنے گاؤں والے سٹاپ پر اتر گیا اور سست روی سے چلتا ہوا گاؤں کے اندر جانے والی سڑک پر چل پڑا۔۔۔میں نے ذہن میں یہ سوچا ہوا تھا کہ اگر کسی کو سڑک پہ آتے دیکھوں گا تو راستے سے ہٹ کر کھیتوں میں چھپ جاؤں گا۔ لیکن اس کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی۔۔۔کیونکہ رات اندھیری ہو چکی تھی اس لیے سارا گاؤں سو رہا تھا۔۔۔میں چلتے چلتے گاؤں کی سائیڈ سے ہوتا ہوا سیدھا اپنے ڈیرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔ڈیرے پر پہنچ کر میں سیدھا نہر کے ساتھ والے کیکر کے درختوں کی طرف گیا جہاں میں نے ہیرے اور گن چھپائی تھی۔۔۔ڈیرے کے کمرے سے میں نے بیلچہ اٹھایا اور مطلوبہ جگہ پر پہنچ کر آہستہ آہستہ زمین کھودنے لگا۔ کھدائی کے درمیان لگنے والے جھٹکوں سے میرے چہرے پر ایک دفعہ پھر سے جلن ہونا شروع ہو گئی۔۔۔لیکن میں ہمت سے لگا رہا۔۔۔پھر تھوڑی سی محنت کے بعد میں گڑھے سے وہ شاپر نکالنے میں کامیاب ہو گیا۔۔۔گن نکالنے کے بعد میں نے اچھی طرح سے اسے چیک کیا۔۔۔گولیاں بھرنے کے بعد ایک بے آواز فائر بھی کر کے دیکھا۔ لیوگر پوری طرح ورکنگ آرڈر میں تھا۔۔۔ہیروں کی تھیلی میں نے واپس گڑھے میں ڈالی اور گڑھا پر کرنے کے بعد تیز تیز قدموں سے وڈی حویلی جانب چل پڑا۔۔۔میں نہیں جانتا تھا کہ حویلی میں کتنے لوگ ہیں۔۔۔اسلحہ تو ظاہر ہے ان کے پاس خوب ہو گا۔۔۔لیکن مجھے اپنے گھر والوں کی موت اور بینا کی بے حرمتی کا بدلہ لینا تھا۔۔۔اس لیے بلا تھکان اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے حویلی کی طرف قدم اٹھاتا گیا۔ میں اپنے سلگتے ہوئے دماغ کے زیرِ اثر ہاتھ میں لیوگر لیے مرنے یا مار دینے کا عہد دل میں لیے حویلی کی طرف قدم بڑھاتا جا رہا تھا کہ تبھی ایک موڑ کراس کرتے ہی میرے بائیں پہلو کماد کی فصل سے ایک سایہ برآمد ہوا اور مجھے لیتے ہوئے کھیت میں جا پڑا۔ میں گرتے ہوئے یکدم پلٹا اور لیوگر والا ہاتھ اوپر اٹھایا ہی تھا کہ اپنے سامنے نادر کو دیکھ کر ششدد رہ گیا۔۔۔نادرے کو دیکھتے ہی میرے آنسو بہہ نکلے اور میں نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگا لیا۔۔۔سچ کہتے ہیں جب بھری دنیا میں آپ خود کو اکیلا محسوس کر رہے ہوں اور ایسے میں کوئی اپنا مہربان مل جائے تو یوں لگتا ہے کہ انسان تیز کڑک دھوپ سے ایک دم مہکتے ہوئے گلزار کے سائے میں آ گیا ہو۔ روتے روتے میری ہچکی بندھ گئی اور میں ٹوٹے ہوئے الفاظ میں نادر کو سب بتانے کی کوشش کرنے لگا تو نادر نے میری پیٹھ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔ ناں سجن ناں مرد دیاں اکھاں اچوں اتھرو نئیں وگنے چائیدے۔۔۔میں سب جان گیا آں۔۔۔تیرے اتے کی مصیبت آئی کی کی ہویا۔۔۔کنے کیتا،مینوں سب پتہ لگ گیا۔۔۔پر کمالے:ہجے اور ویلا نئیں آیا کہ اسی اوناں نال ٹکر لئیے۔۔۔مناسب وقت دا انتظار کر۔۔۔تے اونی دیر تک اپنی کھوئی ہوئی طاقت بحال کر۔۔۔ویکھ میرے سوہنے ویر توں اپنا کی حال کیتا ہویا اے۔۔۔میں نے آنسو صاف کرتے ہوئے خود کو نادر سے الگ کیا اور بولا نہیں نادرے آج مجھے مت روک۔ میں تو اپنے پیاروں کو تو دفنا نہیں سکا پر قسم کھاتا ہوں کہ ان کنجری کے بچوں کو بھی دفن ہونے کے قابل نہیں چھوڑوں گا۔۔۔نادر نے سختی سے میرا بازو پکڑ کر لیوگر چھینتے ہوئے کہا۔۔۔کمالے کی ہو گیا۔۔۔کی گل تینوں اپنے نادر تے یقین نئیں۔۔۔میرا ویر میں ہر طرح تیرے نال آں۔۔۔موت وی آؤ گی تے تیرے توں پہلے میں اونوں ٹکراں گا پر میری گل من جا۔۔۔ہجے او وقت نئیں آیا۔ چل ایتھوں کسے مناسب جگہ تے بیٹھ کے ساری گل تینوں سمجھاندا واں۔۔۔نادر کے مجبور کرنے پر میں اس کے ساتھ واپس چل پڑا۔۔۔کچھ دیر بعد ہی ہم لوگ ڈیرے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ نادر نے چارپائی پر بیٹھتے ہی مجھے بتانا شروع کیا۔۔۔کمالے مجھے تین دن پہلے یہ ساری خبریں ملیں تو میں تبھی کراچی سے واپسی کیلئے چل پڑا۔۔۔یہاں پہنچ کر سارے حالات معلوم کیے۔۔۔پتہ چلا کہ سیال اپنی سمجھ میں تجھے مار چکے ہیں۔۔۔پر ایہہ تقدیر دا ہیر پھیر اے۔۔۔توں بچ گیا۔۔۔مینوں امتیاز کولوں ہی پتہ لگیا کہ ٹونی اور امتیاز تینوں لاہور اک پرائیویٹ کلینک تے رکھ کے تیرا علاج کروا رئے نیں۔۔۔میں سیالاں دی کھوج اچ لگ گیا۔ کافی کچھ معلوم کیتا تے اوناں خبراں دے مطابق ہن اسی فلحال اوناں تے حملہ نئیں کر سکدے۔۔۔وڈے چوہدری نے سکیورٹی فل ٹیٹ کر چھڈی اے۔۔۔میں ہن گھر بیٹھا روٹی کھا ریا سی کہ مینوں امتیاز دا پیغام ملیا کہ بہت ضروری کم اے۔۔۔میں فٹافٹ ہر شے چھڈ کے اونوں ملیا تے اونے دسیا کہ کمال کلینک توں پج گیا اے۔۔۔میں فوری سمجھ گیا کہ توں کتھے جاویں گا۔۔۔اس لئی میں پچھلے دو گھنٹے توں اوتھے کماد کولے تیرا انتظار کر ریا سی۔ ہن میری گل دھیان نال سن۔۔۔فلحال سانوں موقع توں ہٹ جانا چاہیدا تے اپنی طاقت بڑھانی چائیدی۔۔۔ہجے تیرا علاج وی تے باقی ریندا ناں۔۔۔اس سارے کم واسطے سانوں ایتھوں جانا پینا۔۔۔توں اپنا علاج پوری توجہ نال کرواویں تے میں اپنی طاقت بڑھاواں گا۔۔۔فیر موقع محل ویکھ کے سیالاں دی ٹِگنی ٹیٹ کر دیواں گے۔۔۔میں نے بہت ضد کی لیکن نادر آخر نادر تھا اور بلا آخر مجھے اس کے خلوص کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑے۔ ************************ (40) اس رات میں نے چھپ کر شمسہ کی لاعلمی میں نادر کے گھر میں پناہ لی۔۔۔اگلے دن نادر مجھے گھر میں رہنے کا کہہ کر باہر جانے لگا تو میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ وہ شمسہ کو چند مہینے کیلئے کراچی میں نوکری کا عذر کر کے اس کے گاؤں چھوڑنے جا رہا ہے۔۔۔کیونکہ اپنی واپسی کا تو پتہ نہیں کب آئیں گے اس لیے اگر اسے اکیلی کو چھوڑ گئے تو بعد میں پریشانی ہوتی رہے گی۔ جانے سے پہلے میں نے نادر کو نہر والے کیکر کے نیچے موجود ہیروں کی تھیلی بارے بتایا تو میری بات سن کر نادر بولا چل کوئی گل ناں اودا وی کچھ کرنے آں۔۔۔ تو فکر نا کر بس گھروں باہر مت نکلیں۔۔۔میرے وعدہ کرنے پر نادر شمسہ کو لیکر چلا گیا اور شام ڈھلے واپس آ گیا۔۔۔آتے ہی اس نے ہیروں کی تھیلی میرے حوالے کی اور کہا فلحال اپنے پاس رکھو پھر سوچتے ہیں۔ شام کے وقت نادر نے ڈاکٹر امتیاز اور ٹونی کو گھر بلایا اور ان کو ساری بات سمجھا کر کہا کہ تم لوگ اپنی آنکھیں کھلی رکھنا۔۔۔ہم لوگ یہاں سے جا رہے ہیں لیکن کہاں جائیں گے یہ نہیں بتا سکتا۔حالات کے مطابق دیکھا جائے گا۔۔۔سچ پوچھو تو میں بھی نہیں جانتا تھا۔۔۔اور نہ ہی میں نے نادر سے کچھ پوچھا کیونکہ جتنا وہ میرے لیے کر رہا تھا مجھے اچھا نہیں لگا کہ میں اس سے اس بارے میں کچھ استفسار کروں۔ جاتے جاتے میں ڈاکٹر امتیاز اور ٹونی سے گلے ملا اور رندھے ہوئے لہجے میں ان کا شکریہ ادا کیا کہ ان دونوں نے دوستی اور لحاظ داری کا صحیح رشتہ نبھایا۔۔۔اس کے بعد میں اور نادر رات کے وقت وہاں سے چل پڑے۔ گھر سے نکلنے سے پہلے نادر نے جمیل کی چند تصاویر اپنی جیب میں رکھیں اور میں چاہتے ہوئے بھی اس سے اس بارے میں پوچھ نہیں سکا۔۔۔گاؤں سے نکلنے کیلئے ہم لوگوں نے رات کا وقت اس لیے منتخب کیا تھا تا کہ کسی کی نظروں میں آئے بغیر وہاں سے نکل سکیں۔۔۔کیونکہ میرا جلا ہوا چہرہ کسی کو بھی شک میں ڈال سکتا تھا۔ گاؤں سے نکلتے وقت میں نے مفلر چہرے پر اچھی طرح لپیٹ لیا۔۔۔گاؤں سے نکل کر ہم لوگ سیدھا لاہور پہنچے اور رات کی ٹرین سے کراچی نکل گئے۔ نادر کے مطابق ہمیں ہمارے پروگرام کے مطابق کراچی میں ہی رہنا چاہیے۔ اس کی چند وجوہات تھیں۔ وجہ نمبر1:کراچی کی اندر گراؤنڈ سرگرمیوں کے بارے میں نادر اچھی طرح جانتا تھا۔۔۔وہاں سے ہمیں اپنے مطلب کے لوگ مل سکتے تھے۔۔۔ایسے لوگ جنہیں ہم اپنے جانثاروں کی فہرست میں شامل کر لیتے اور ان پر سیالوں کا اثرورسوخ اثر انداز نہ ہوتا۔ وجہ نمبر 2:میرے جلے ہوئے چہرے کا علاج لاہور کی نسبت کراچی میں ذیادہ بہتر طریقے سے ہو سکتا تھا۔ وجہ نمبر 3:ہم ہیروں کو کراچی میں ہی ٹھکانے لگا سکتے تھے۔۔۔کیونکہ لاہور میں وڈے چوہدری کی رسائی کہاں تک ہے اس کا ہمیں کوئی اندازہ نہیں تھا۔ ************************ (41) کراچی پہنچنے کے بعد ہم نے نادر کے ایک پٹھان دوست جس کا نام نایاب خان تھا کے گھر رات گزاری۔۔۔وہ روایتی پٹھانوں کی طرح حد سے زیادہ مہمان نواز ثابت ہوا۔۔۔بے چارہ محنت کش آدمی تھا رکشہ چلا کر اپنی روزی کماتا تھا۔۔۔نایاب لالو کھیت میں رہتا تھا جبکہ اس کی فیملی صوبہ سرحد کے قریب کسی گاؤں میں رہتی تھی۔ اگلے دن صبح مجھے گھر میں ہی رہنے کی تائید کر کے نادر نایاب خان کے ساتھ گھر سے نکل گیا۔۔۔ان کی واپسی چار گھنٹوں بعد ہوئی۔۔۔آتے ہی نادر مجھے گلے لگاتے ہوئے بولا:کمالے میری جان تو بہت خوش نصیب ایں۔۔۔میں صبح دا کوئی چنگا ڈاکٹر لبھ ریا سی۔۔۔آخر ایک پرائیویٹ ڈاکٹر دا پتہ لگ گیا اے۔۔۔بہت قابل سرجن اے۔۔۔کل صبح اونوں جا کے ملاں گے۔ اگلی صبح ناشتہ کرنے کے بعد قریباً دس بجے ہم لوگ ڈیفنس کے پوش ایریا میں ایک کوٹھی میں موجود تھے۔۔۔کوٹھی کے باہر کسی سرجن ڈاکٹر کرنل رحمان کی نیم پلیٹ لگی ہوئی تھی۔۔۔یہ کوٹھی کہیں سے بھی کلینک نہیں لگتی تھی لیکن میں یہ سوچ کر چپ رہا کہ نادر کچھ سوچ سمجھ کر ہی یہاں تک پہنچا ہو گا۔ کچھ دیر بعد ہی ہم دونوں ڈاکٹر کے سامنے بیٹھے تھے۔۔۔ڈاکٹر درمیانے قد لیکن بھاری تن توش کا مالک تھا ڈاکٹر نے مجھے دیکھا تو مجھے ساتھ لیکر اندر ایک کمرے میں چلا آیا۔۔۔یہ کمرہ بلکل کلینک کی طرز پر تیار کیا گیا تھا۔۔۔ایک چھوٹا سا آپریشن ٹیبل اور ایک لانگ چئیر کے ساتھ ساتھ سرجری کے کافی آلات وہاں موجود تھے۔ ڈاکٹر نے مجھے لٹا کر محدب عدسے سے میرا تفصیلاً معائنہ کیا۔۔۔تھوڑی دیر بعد ہم لوگ واپس سٹِنگ روم میں آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ ڈاکٹر نے بولنا شروع کیا:مسٹر نادر میں نے کبھی بھی غیر قانونی کام میں ہاتھ نہیں ڈالا لیکن تمہارے بیان کو مدنظر رکھتے ہوئے اور لالہ نایاب خان کی سفارش اور یقین دہانی پر یقین کرتے ہوئے کہ یہ کوئی غیر قانونی کام نہیں میں تمہارے دوست کا علاج کروں گا۔۔۔لالہ کا مجھ پر ایک ایسا احسان ہے کہ جس کی وجہ سے میں اسے کبھی بھی انکار نہیں کر سکتا۔ بہرحال ہم موضوع سے نکل رہے ہیں۔۔۔پھر وہ ڈائریکٹ مجھ سے مخاطب ہو کر بولا کہ تمہارا کیا نام ہے؟میں نے اپنا نام بتایا تو وہ بولا:مسٹر کمال میں تمہارا علاج کرنے پر تیار ہوں۔۔۔لیکن اس کیلئے میری چند شرائط ہوں گی۔ نمبر 1:جب تک تم میرے زیرِ علاج رہو گے کوئی تمہیں یہاں ملنے نہیں آئے گا۔ نمبر 2:ٹھیک ہونے کے بعد میں تمہارا سارا ریکارڈ ضائع کر دوں گا۔۔۔یہ صرف ایک احتیاطی تدبیر ہے۔ نمبر 3:تمہیں علاج کی ساری رقم چار لاکھ روپے ایڈوانس جمع کروانی ہو گی۔ ڈاکٹر کے منہ سے چار لاکھ سن کر میں تھوڑا پریشان ہوا لیکن نادر اسی وقت بولا۔۔۔ڈاکٹر صاحب تسی بے فکر رہو سانوں تواڈیاں شرطاں منظور نیں۔۔۔تسی صرف اینا دسو کہ کب سے علاج کرنا شروع کریں گے۔ نادر کی بات سن کر ڈاکٹر بولا:اگر تم آج ہی پیسے جمع کروا دیتے ہو تو میں کل صبح ہی سارے انتظامات مکمل کرنے کے بعد کل شام سے ہی کام شروع کر دوں گا۔۔۔اور دو ہفتے بعد تم اپنے دوست کو ٹھیک چہرے کے ساتھ لیجا سکتے ہو۔ میں نے زبان کھولتے ہوئے ڈاکٹر سے پوچھا۔۔۔ڈاکٹر میرا سارا چہرہ برباد ہو چکا ہے کیا یہ بلکل پہلے کی طرح ٹھیک ہو جائے گا؟تو ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے کہا کہ دوست فکر مت کرو یہ تو کچھ بھی نہیں میں اس سے بھی ذیادہ بگڑے ہوئے چہرے ٹھیک کر چکا ہوں۔۔۔بس تم گھر جاؤ اور خود کو ذہنی طور پر سرجری کیلیئے تیار کر لو۔ ڈاکٹر کے ساتھ سارے معاملات طے کرنے اور اس کا شکریہ ادا کرنے کے بعد ہم لوگ وہاں سے نکلے اور ٹیکسی میں بیٹھ کر نایاب خان کے گھر پہنچ گئے۔۔۔تنہائی میسر آتے ہی میں نے پہلا سوال نادر کی طرف داغ دیا۔۔۔نادر مجھے ایک بات تو بتاؤ یار!!!ہمارے پاس تو بلکل بھی پیسے نہیں چار لاکھ کہاں سے دو گے؟ نادر مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔اوئے کمالے میرے یار توں وی جھلا ای ایں۔۔۔خزانہ جیب اچ پائی پھرنا ایں اور مینوں پچھنا ایں کہ پیسے کتھوں آون گے۔۔۔لیا کڈ او ہیرے اوناں نوں وی ٹھکانے لائیے۔۔۔قصہ مختصر اسی دن نادر نے وہ ہیرے ٹھکانے لگا دیے۔۔۔ہیروں کی قیمت ہماری توقع سے بھی ذیادہ موصول ہو گئی۔ ************************ (42) میں سمجھا تھا کہ چند لاکھ روپے کے ہوں گے۔۔۔لیکن جب نادر نے ایک چیک بک اور رسید میرے سامنے رکھی تو رسید پر لکھی ہوئی رقم پڑھ کر میری سٹی گم ہو گئی۔۔۔چار کروڑ اکہتر لاکھ روپے کی خطیر رقم نادر اپنے نام سے اکاؤنٹ کھول کر بینک میں جمع کروا آیا تھا۔ جبکہ سات لاکھ ایک بریف کیس میں کیش موجود تھا۔۔۔یعنی ٹوٹل ملا کر چار کروڑ اٹھہتر لاکھ میں ہیروں کا سودا ہوا تھا۔۔۔میں نے حیرانگی سے نادر سے پوچھا۔۔۔نادر یہ۔یہ اتنے پیسے؟تو وہ میرے کندھے پر ہاتھ مار کر بولا میری جان او ہیرے بہت قیمتی سن۔ وڈے چوہدری دے کم کاج دا خیال رکھدے ہوئے تیرے ویر دے وی کجھ تعلقات بن گئے نیں۔۔۔اس لئی اک بلکل نویں پارٹی نال ہیروں دا سودا کیتا۔۔۔میں ڈائیریکٹ نئیں گیا بلکہ اک درمیانی پارٹی نوں وچ پایا۔۔۔پچیس لاکھ اوناں نیں کمیشن لیا تے اپنا سودا ہو گیا۔ تے مزے دی اک ہور گل دساں۔۔۔اس پارٹی نے ہی مینوں اکاؤنٹ کھلوا کے دتا اے۔۔۔ورنہ تینوں پتہ بینک اچ کھاتہ کھولنا اتنا آسان کم نئیں۔۔۔اکاؤنٹ کھولنے واسطے ایک نام نہاد کمپنی دا بزنس شو کیتا تے باقاعدہ اودے کارڈ وی چھپوائے نیں۔۔۔یہاں ایک بات میں دوستوں کو بتاتا چلوں کہ نادر اچھی طرح اردو بول بھی سکتا تھا اور سمجھ بھی سکتا تھا۔۔۔لیکن چونکہ عادت سے مجبور تھا اس لئے کم از کم میرے ساتھ وہ ہمیشہ پنجابی میں ہی بات کرتا تھا۔ اگلے دن ہم لوگ گھر سے نکلے اور سیدھا ڈاکٹر کے پاس پہنچ گئے۔۔۔ڈاکٹر کو چار لاکھ ادا کرنے کے بعد نادر نے پوچھا!!!ہاں ڈاکٹر صاحب ہم لوگ کب آئیں؟ڈاکٹر نے جواب دیا:دوست تم لوگ آج شام کو ہی آ جاؤ اور یاد رکھنا کہ شرط کے مطابق کمال کے علاج کے دوران کوئی بھی ملاقاتی یہاں نہیں آ سکتا۔۔۔ہاں اگر تمہیں کوئی ضروری بات کرنی ہو تو یہ میرا نمبر رکھ لو اس پر کال کر لینا میں تمہاری بات کروا دوں گا۔۔۔لیکن کال بھی اہم ضرورت کے تحت کرنا۔۔۔یہ کہہ کر ڈاکٹر نے ایک کارڈ نکال کر نادر کی طرف بڑھایا جسے نادر نے پکڑ کر دیکھتے ہوئے جیب میں رکھ لیا۔ اسی شام نادر مجھے ڈاکٹر کی کوٹھی پر چھوڑ کے اپنا خیال رکھنے کا کہہ کر چلا گیا۔۔۔ڈاکٹر مجھے لیکر سیدھا اپنے آپریشن روم میں چلا آیا اور لانگ چئیر پر لٹا کر دو گھنٹے تک میرے چہرے کی مختلف ڈرائنگز بناتا رہا۔۔۔خاموشی سے تنگ آ کر میں نے ڈاکٹر سے باتیں کرنی شروع کر دیں۔ ڈاکٹر صاحب ایک بات تو بتائیں کہ آپ میرے چہرے کا علاج کیسے کریں گے؟ڈاکٹر مسکراتے ہوئے بولا یار پریشان کیوں ہوتے ہو میں ہوں نا سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ویسے تمہاری معلومات کیلئے بتا دیتا ہوں کہ میں تمہاری پلاسٹک سرجری کروں گا اس کیلئے میں نے باہر کے ملک سے سارا سازوسامان منگوا کر رکھا ہوا ہے۔ دو ہفتے میں تمہارا چہرہ ایسے ہو جائے گا کہ تم خود بھی کوئی جلے کا نشان یا داغ وغیرہ ڈھونڈ نہیں پاؤ گے۔۔۔آپریشن کے دوران ذیادہ تر میں تمہیں نیند کی دوائی دے کر رکھوں گا۔۔۔قصہ مختصر اس رات ڈاکٹر نے میرے چہرے کی مختلف اقسام کی ڈرائنگز بنائیں اور فارغ ہونے کے بعد مجھے کوٹھی کے ہی ایک آرام دہ کمرے میں شفٹ کر دیا۔۔۔اگکے دن سے باقاعدہ میرے چہرے کی مرمت شروع ہو گئی۔ چونکہ ساری تفصیل میں پہلے ہی بتا چکا ہوں اس لیے ہم علاج کا دورانیہ تھوڑا فارورڈ کرتے ہوئے آگے چلتے ہیں۔ ان دو ہفتوں میں ڈاکٹر نے مجھے ذیادہ تر نیند کی حالت میں ہی رکھا۔۔۔میرے کھانے پینے کا انتظام ڈاکٹر ہی کرتا تھا۔۔۔جب کھانے کی ضرورت محسوس ہوتی میں بتا دیتا تو تھوڑی دیر بعد ہی ایک ملازمہ آ کر کھانا دے جاتی۔۔۔وقت گزاری کیلئے مختلف اقسام کے اخبارات،ناولز موجود تھے۔۔۔اس کے علاوہ چند عدد فلموں کے کیسٹس اور وی سی آر بھی موجود تھا۔ میں جب نیند سے اکتا جاتا تو فارغ وقت میں یا تو اخبارات پڑھتا رہتا یا پھر فلمیں دیکھتے ہوئے سگریٹ پھونکتا رہتا۔۔۔یہیں سے مجھے سگریٹ کی باقاعدہ لت لگ گئی۔ میرا چہرہ ہر وقت پٹیوں میں ڈھکا رہتا۔۔۔صرف آنکھیں ناک کے دو سوراخ اور کھانے کیلئے منہ کھلا تھا۔۔۔باقی پورے چہرے پر پٹیاں لپٹی رہتی تھیں۔۔۔ان دو ہفتوں میں صرف ایک دفعہ سات دن بعد نادر کا فون آیا۔۔۔میری خیر خیریت معلوم کر کے اس نے رابطہ منقطع کر دیا۔ آج میری ڈاکٹر کے پاس آخری رات تھی کہ صبح میرے چہرے سے پٹیاں اتر جانی تھیں۔۔۔مجھے بے چینی سے صبح کا انتظار تھا۔۔۔وقت کاٹے نہیں کٹتا تھا اس لیے سگریٹ پہ سگریٹ پھونکتا رہا۔۔۔رات بارہ بجے میرے سگریٹ ختم ہو گئے تو میں بے چینی سے پہلو بدلنے لگا۔ میرے سرہانے ایک انٹرکام لگا ہوا تھا جس کے ذریعے میں ضرورت کے تحت ڈاکٹر سے رابطہ کر لیتا تھا۔۔۔میں نے انٹرکام پر کافی دفعہ کال کرنے کی کوشش کی پر شاید کسی فنی خرابی کی وجہ سے انٹرکام نہیں چل رہا تھا۔۔۔میں بیڈ سے اٹھا۔۔۔چپل پہنے اور ڈاکٹر کو ڈھونڈتے ہوئے اپنے کمرے سے باہر چل پڑا۔ ************************ (43) کمرے سے نکلتے ہی سامنے کوریڈور سے گزر کر جب میں دوسرے کنارے پر پہنچا تو میرے کانوں میں ایسی آواز آئی جیسے کسی لڑکی نے مزے سے سسکاری بھری ہو۔۔۔میں نے دھیان سے کان لگا کر سنا تو مسلسل سسکاریاں سنائی دینے لگیں۔۔۔میں ان آوازوں کا پیچھا کرتے ہوئے ایک کمرے کے دروازے پر پہنچ گیا۔ آوازیں اسی کمرے سے آ رہی تھیں۔۔۔دروازہ کھلا پا کر میں نے احتیاط سے اندر جھانکا تو میرے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔۔۔کمرے میں ڈاکٹر کے ساتھ ایک نوخیز لڑکی موجود تھی دونوں مادرذاد ننگے تھے۔۔۔لڑکی سیدھی لیٹی ہوئی تھی اور ڈاکٹر اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے اپنا لن اس کی پھدی میں ڈالے زور زور سے جھٹکے مار رہا تھا۔ مجھے لگتا تھا کہ ڈاکٹر چھوٹنے کے قریب ہے کیونکہ ڈاکٹر کے جھٹکوں میں بے قراری پائی جاتی تھی۔ مجھے دو مہینے سے ذیادہ عرصہ گزر گیا تھا کہ میں نے اپنا پانی نہیں نکالا تھا یہ صورتحال دیکھتے ہی میرا لن پوری طرح سے اکڑ گیا اور میری شلوار میں تنبو بن گیا۔۔۔میں نے ہاتھ سے اپنا لن سہلانا شروع کر دیا۔۔۔چند جھٹکوں کے بعد ڈاکٹر نے اپنا درمیانے سائز کا لن باہر نکالا اور لڑکی کے پیٹ کی طرف کر کے تیزی سے مٹھ مارتے ہوئے اس کے پیٹ پر ہی ساری منی نکال دی اور خود اس لڑکی کے اوپر ڈھیر ہو گیا۔۔۔میں وہیں کھڑا ہوا دیکھ رہا تھا کہ تبھی اچانک۔ اچانک اس لڑکی نے منہ موڑ کر دروازے کی طرف دیکھا تو مجھے وہاں کھڑے دیکھ کر پہلے تو حیرت سے اس کا منہ کھلا رہ گیا۔۔۔پھر اس نے اپنے آپ پر کمال کنٹرول کرتے ہوئے منہ پر انگلی رکھ کر مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور آنکھ مار دی۔۔۔عین اس وقت جب وہ مجھے آنکھ مار رہی تھی اس کی نظر نیچے میری شلوار میں بنے ہوئے تنبو پر پڑی تو اس کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔ اسی وقت میں وہاں سے واپس مڑ کر چلتے ہوئے کوریڈور سے واپس باہر کے گیٹ کی طرف چل پڑا۔۔۔گیٹ کے پاس پہنچ کر میں نے چوکیدار کے کیبن میں جھانکا تو چوکیدار کو موجود دیکھ کر میں نے اس سے کہا:بھائی اگر تمہیں تکلیف نہ ہو تو میرا ایک کام کر دو۔۔۔میرے سگریٹ ختم ہو گئے ہیں وہ لا دو۔ چوکیدار نے مجھے کہا صاحب آپ اپنے کمرے میں جائیں سگریٹ تھوڑی دیر میں ہی آپ تک پہنچ جائیں گے۔۔۔میں سست روی سے چلتا ہوا واپس کمرے میں آ کر لیٹ گیا۔۔۔لیٹتے ہی مجھے ڈاکٹر کی چدائی کا سین اور پھر اس لڑکی کا جسم یاد آ گیا۔۔۔جسے سوچتے ہی میرا لن دوبارہ کھڑا ہونا شروع ہو گیا۔۔۔لیکن میں اسی طرح لیٹے ہوئے میگزین دیکھ کر اپنا دھیان بٹانے لگا۔ کوئی پندرہ منٹ بعد چوکیدار آ کر مجھے دو پیکٹ سگریٹ کے دے گیا اور میں سگریٹ سلگا کر کش لگاتے ہوئے وقت گزارنے لگا۔۔۔تھوڑی دیر بعد اچانک مجھے دروازے کے باہر قدموں کی آواز سنائی دی تو میں جو کہ دروازے کی طرف ہی منہ کیے لیٹا تھا۔۔۔چونک کر دروازے کی طرف دیکھا تو اسی نوخیز حسینہ کو کمرے میں آتے ہوئے پایا۔۔۔اس کا آنا بھی قیامت خیز تھا۔ یوں لگتا تھا کہ وہ نہا کر آئی ہے۔۔۔کیونکہ اس کے گیلے جسم پر تولیہ بندھا ہوا تھا جو کہ بمشکل اس کی گانڈ تک آتا تھا۔۔۔نیچے اس کی رانیں اور ٹانگیں پوری ننگی تھیں۔۔۔اس کے بال خشک تھے۔۔۔مطلب کہ وہ گردن کے نیچے سے نہا کر آئی ہے۔۔۔اندر آتے ہی اس نے مجھے دیکھا اور بے پروائی سے میرے سامنے کرسی کر بیٹھ کر توبہ شکن انداز میں اپنی ایک ٹانگ اٹھا کر دوسری ٹانگ پر رکھی اور میری طرف دیکھنے لگی۔ اس کی ٹانگ کے نیچے کا نظارہ دیکھ کر میرا لن ایک دفعہ پھر کھڑا ہو گیا۔۔۔چند لمحے وہ میری طرف دیکھتی رہی پھر وہ کرسی سے اٹھی اور میرے پاس آ کر اس نے سائیڈ میز سے سگریٹ کی ڈبی سے ایک سگریٹ نکالا اور سگریٹ سلگا کے واپس اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ گئی۔ آخرکار میں نے ہی سکوت توڑا۔۔۔جی فرمائیے کیسے آنا ہوا۔۔۔وہ بلکل میری نقل اتارتے ہوئے بولی:کیا میں نے تم سے پوچھا تھا کہ جی فرمائیے کیسے آنا ہوا۔۔۔میں کھسیاہٹ زدہ لہجے میں بولا:وہ تو میں بس سگریٹ ڈھونڈتے ہوئے ادھر جا نکلا تھا۔۔۔وہ مجھے چڑاتے ہوئے بولی۔۔۔کیوں وہاں کیا سگریٹ کی دکان کھلی تھی۔۔۔اور جب اندر آ ہی گئے تو واپس کیوں نہیں چلے گئے؟ اب کی بار میری جھجھک ختم ہو چکی تھی تو میں رسانیت سے بولا کہ ارادہ تو یہی تھا کہ واپس لوٹ جاؤں پر جب اندر حسن کی ایک مجسم دیوی کو اپنی اداؤں کے خزانے لٹاتے دیکھا تو قدم وہیں جم گئے اور میں چاہ کر بھی واپس نہ مڑ پایا۔۔۔میری بات سن کر وہ بہکی ہوئی نگاہوں سے مجھے دیکھتے ہوئی بولی۔۔۔دیکھو یار میں کوئی روایتی عورت تو ہوں نہیں جو رسمی باتیں کروں اور گھما پھرا کر مجھے بات کرنا نہیں آتا۔۔۔میرا نام شبنم ہے اور میں ڈاکٹر کی بیوی ہوں پر وہ ابوالہوس میری ابلتی ہوئی جوانی کا مقابلہ نہیں کر پاتا۔کمینہ انسان۔ بہت جلد ہی بلکہ چند جھٹکوں میں ٹھس ہو جاتا ہے۔۔۔میں پھر گرم کی گرم مچلتی رہ جاتی ہوں۔۔۔تو مدعے پر آتے ہیں۔۔۔میرا دل تم پہ آ گیا ہے۔۔۔اس لیے میں اس وقت تمہارے سامنے اس حالت میں موجود ہوں۔۔۔بولو کیا کہتے ہو اس بارے میں؟ ************************ (44) میں کوئی"چپڑ قناطیہ"تو تھا نہیں کہ کسی لڑکی کی اتنی کھلی ڈھلی آفر نہ سمجھ پاتا۔۔۔لیکن پھر بھی میں نے ایک مبہوم سی مدافعت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے پوچھا۔۔۔لیکن وہ ڈاکٹر صاحب کہاں ہیں؟شبنم بڑے رسان سے بولی وہ گدھا دارو پی کر گانڈ اٹھائے سو رہا ہے۔۔۔اب اگلے چند گھنٹے اسے ہوش نہیں آئے گا۔۔۔اس کی بات سن کر میں نے اپنے چہرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے استہزایہ انداز میں کہا۔۔۔شبنم!!!کیا اس پٹیوں لپٹے چہرے کے ساتھ ہی؟اتنا کہہ کر میں چپ ہو گیا۔ میری بات سن کر وہ ہنستے ہوئے بولی۔۔۔او کم آن یار مجھے تمہاری شکل سے کیا لینا دینا مجھے تو تمہارا لن اپنی پھدی کے اندر چاہیے۔۔۔ویسے بھی صاف سی بات ہے کہ ہم دونوں صرف آج رات کے ساتھی ہیں۔۔۔اس کے بعد ہمارا کوئی لینا دینا نہیں۔۔۔میں اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا:اگر کل صبح میں ڈاکٹر کو بتا دوں کہ پچھلی رات میں اس کی بیوی کے ساتھ رنگ رلیاں مناتا رہا ہوں تو پھر؟ وہ بڑے تحمل سے بولی۔۔۔پھر کیا کچھ بھی نہیں بس اتنا ہو گا کہ کراچی سے گم ہو جاؤ گے یا پھر ہو سکتا کہ تمہارا کوئی ایکسیڈنٹ ہو جائے۔۔۔یا پھر راستے پہ چلتے ہوئے کوئی بے آواز آوارہ گولی تمہارا مزاج پوچھ لے گی۔۔۔میں نے گہری نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا تو وہ اٹھ کر میرے قریب آئی اور نیچے جھک کر ایک دم مجھے گلے سے دبوچتے ہوئے بولی۔۔۔اب بس کرو!!!کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ میں کب سے تمہارا لن لینے کیلئے مری جا رہی ہوں اور تم میرا انٹرویو لیے جا رہے ہو۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ یار غصہ کیوں کرتی ہو میں تو بس ایسے ہی شغل کر رہا تھا تو اس نے میرا گلا چھوڑ دیا اور اٹھ کر کھڑی ہوتے ہوئے بولی۔ کسی کی جان جا رہی ہے اور آپ کی ادا ٹھہری۔ یہ کہتے ہی ہاتھ اوپر لیجا کر اس نے اپنا تولیہ اتار پھینکا۔۔۔شبنم ایک نہایت خوبصورت لڑکی تھی۔۔۔میری ہی ہم عمر لگتی تھی لیکن اس کا جسم اس کی عمر سے کافی بڑا لگتا تھا۔۔۔کسے ہوئے پیٹ پر چھتیس سائز کے سڈول ممے ایسے شان سے سر اٹھائے کھڑے تھے جیسے کسی نے درمیانے سائز کے فٹبال درمیان سے کاٹ کر لگا دیے ہوں۔۔۔ان مموں پہ چھوٹے چھوٹے گلابی رنگ کے نپلز بڑے بھلے لگ رہے تھے۔۔۔کمر بلکل پتلی سی نہ ہونے کے برابر۔۔۔اس کی گانڈ کافی موٹی اور باہر نکلی ہوئی تھی۔۔۔یوں لگتا تھا کہ جیسے گوشت کی پہاڑیاں ہوں۔ میں نے اٹھ کر اپنی قمیض اتار دی۔۔۔اس سے پہلے کہ میں کچھ اور کرتا اس نے میرے سینے پر ہاتھ رکھ کے دباؤ ڈال کر مجھے لٹاتے ہوئے کہا۔۔۔نہیں نہیں تم کچھ نہیں کرو گے تم سکون سے لیٹ جاؤ۔۔۔میں خود ہی سب کچھ کر لوں گی۔۔۔میں کندھے اچکاتے ہوئے چِت لیٹ کر شوق طلب نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا۔ وہ آرام سے میرے ساتھ بیڈ پر ہی بیٹھ گئی اور میرے سینے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے نیچے کی طرف لیجانے لگی۔۔۔دوستو اپنی جسمانی ساخت تو میں پہلے ہی بتا چکا ہوں۔۔۔اس لیے میرے جیسا بانکا جوان دیکھ کر اس کی آنکھیں بنا کچھ کہے ہی نشیلی ہوتی جا رہی تھیں۔ چند لمحے وہ ایسے ہی میرے سینے پر ہاتھ پھیرتی رہی۔پھر اس نے اپنا ہاتھ نیچے لیجا کر میرا لن شلوار کے اوپر سے ہی پکڑ لیا اور میرے لن کو پکڑتے ہی اس کی آنکھوں میں تیز چمک ابھر آئی۔۔۔اس نے دونوں ہاتھوں سے میرے لن کو ٹٹولنا شروع کر دیا۔۔۔وہ اچھی طرح میرے لن کی لمبائی اور موٹائی ماپ رہی تھی۔ ************************ (45) وہ میرے پہلو میں بیٹھی ہوئی میرے لن کو سہلا رہی تھی۔۔۔میں نے اپنا ایک ہاتھ آگے بڑھایا اور اس کے ممے کو پکڑ کر دبا دیا۔۔۔اس کا مما میرے ہاتھ میں آتے ہی اس کے منہ سے ایک لذت بھری سسکاری نکلی۔۔۔سسسسی۔۔۔ساتھ ہی اس نے اپنا بدن ڈھیلا چھوڑ دیا۔۔۔میں نے آہستہ آہستہ اس کے گول مٹول مموں کو دبانا شروع کر دیا۔۔۔کچھ دیر میں ایسے ہی ایک ہاتھ سے باری باری اس کے ممے دباتا رہا۔۔۔شبنم میرے لن کو اپنے ہاتھ میں جھکڑے منہ چھت کی طرف کر کے آنکھیں بند کیے سیییییی سیییییی کرتی رہی۔ پھر میں نے اس کے مموں کو چھوڑ کر اپنا ہاتھ بڑھاتے ہوئے اس کی کمر میں ڈالا اور اسے اپنی طرف کیا تو شبنم نے اپنی آنکھیں کھول کر میری طرف دیکھا۔۔۔میں واضح طور پر اس کی نشیلی آنکھوں میں سرخ ڈورے تیرتے ہوئے دیکھ سکتا تھا۔ پھر وہ آہستہ سے جھکتی گئی اور اپنے ہونٹوں سے میرے ہونٹوں کو ہلکے سے چوم لیا۔۔۔چونکہ میرے چہرے پر میرے ہونٹ ہی پٹیوں سے آزاد تھے۔۔۔اور وہ بھی آس پاس کا ایریا پٹیوں میں کسے ہونے کی وجہ سے ہلکے سے سوجھے ہوئے تھے اور صاف سوجن نظر آتی تھی۔۔۔اس لیے شبنم نے انتہائی احتیاط کے ساتھ صرف ہونٹ چومنے پر اکتفا کیا۔۔۔اس کا ایک ہاتھ مسلسل میرے لن کو سہلا رہا تھا۔ میں نے اسے اپنے ساتھ پہلو میں لٹا لیا اور پہلو کے بل ہوتے ہوئے اپنا ایک ہاتھ اس کے پیٹ پر پھیرتے ہوئے اس کی ناف میں انگلی سے چھیڑخانی کرنے لگا۔۔۔میں جتنا ذیادہ اس کی ناف کو چھیڑتا شبنم اتنا ذیادہ مچلتی۔۔۔میں نے دھیرے سے اپنا ہاتھ نیچے سرکایا تو میرا ہاتھ اس کی پھدی کی نرم و ملائم جلد سے ہوتا ہوا پھدی کے ہونٹوں تک جا پہنچا۔۔۔میرے ہاتھ کی انگلیوں نے جیسے ہی اس کی پھدی کے ہونٹوں کو چھوا تو اس کے جسم کو ایک جھٹکا لگا۔ اس کی پھدی کافی زیادہ گیلی ہو چکی تھی جس سے نکلنے والی رطوبت کی چپچپاہٹ میں اپنی انگلیوں پر محسوس کر رہا تھا۔۔۔میں اس کی نازک اور بالوں سے صاف پھدی کے ہونٹ مسل رہا تھا اور وہ اپنی گانڈ اٹھا اٹھا کر ایسے میرے ہاتھ پر رگڑ رہی تھی کہ جیسے پورا ہاتھ اندر لینا چاہتی ہو۔۔۔دو منٹ بعد ہی اس کی سسکیوں میں شدت پیدا ہو گئی۔۔۔میں نے بھی اس کی پھدی کے ہونٹوں کو رگڑنے کی سپیڈ تیز کر دی۔ ساتھ ہی میں نے اپنے اسی ہاتھ کی دو انگلیاں اندر گھستے ہوئے پھدی کے دانے کو زور سے مسلا تو شبنم نے ایک دم اپنی ٹانگیں زور سے بھینچ لیں۔۔۔اس کے منہ سے ایک لذت بھری سسکی نکلی۔۔۔۔ہائےےےےےےےے امی جی۔ی۔ی۔ی۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی شبنم کی پھدی نے پانی چھوڑ دیا۔ چند سیکنڈ بعد میں نے اپنا ہاتھ باہر نکال کر بیڈ شیٹ کے ساتھ ہی صاف کیا اور اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔کیا ہوا شبنم جی۔۔۔یہ تو آپ ہی چند سیکنڈز میں ٹھس ہو گئیں۔۔۔تو وہ میرے اکڑے ہوئے لن پر ہلکا سا ہاتھ مار کر بولی۔۔۔بکواس مت کرو یار۔۔۔اس بڈھے نے مجھے پہلے ہی کافی گرم کر دیا تھا اوپر سے تمہاری انگلیوں میں جادو ہے جادو،،جو میں برداشت نہیں کر پائی۔ اسی لیے گنگا بہہ گئی۔ رکو ابھی تمہیں بتاتی ہوں۔۔۔یہ کہتے ہی اس نے میری شلوار کر ہاتھ ڈالا اور میرا ازاربند کھول کر شلوار اتار دی۔۔۔میرا لن کسی شیش ناگ کی طرح مچل کر شلوار سے باہر نکلا اور فل مستی میں سر اٹھائے جھومنے لگا۔۔۔شبنم بڑی نشیلی نگاہوں سے میرے لن کو دیکھ رہی تھی۔۔۔پھر شبنم نے آگے بڑھ کر میری ٹانگوں کے درمیان بیٹھتے ہوئے میرے لن کو اپنے ہاتھ سے پکڑتے ہوئے اپنا منہ نیچے کیا اور میرے لن کی ٹوپی کو منہ میں لیکر چوسنے لگی۔۔۔وہ اتنی لگن سے میرا لن چوس رہی تھی کہ میرا لن اپنی پوری اکڑ میں آ کر تن گیا۔ اف فف اس کا گرم گرم منہ کیا مزہ دے رہا تھا۔۔۔میں سب بدلے ودلے بھول کر سوچنے لگا کہ کاش وہ اسی طرح میرا لن اپنے منہ میں لیے بیٹھی رہے اور یہ لمحہ امر ہو جائے۔۔۔شبنم میرے لن کو منہ میں لیے آہستہ آہستہ سے اپنے منہ کو چودنا شروع ہو گئی۔۔۔میں نشے کی سی کیفیت محسوس کرنے لگا۔ شبنم بہت تیزی سے میرا لن چوس رہی تھی۔۔۔بیچ میں کبھی کبھی وہ اپنی پوری زبان نکال کر میرے ٹٹوں پر پھیرتی تھی۔۔۔میں حیران تھا کہ شبنم اس رغبت سے میرا لن چوس رہی تھی جیسے یہ اس کیلئے دنیا کی سب سے پسندیدہ شے ہو۔۔۔صرف پانچ منٹ کے اندر ہی شبنم کے جاندار چوپوں نے مجھے منزل کے قریب کر دیا۔ میرا جسم اکڑنے لگا تو میں نے کہا شب۔شب۔شبنم میرا پانی نکلنے والا ہے۔۔۔بس کرو اب لن کو منہ سے باہر نکال لو۔۔۔لیکن وہ میری بات سنی ان سنی کر کے اور تیزی سے لن کو چوسنے اور میرے لن کی ٹوپی کو اپنے حلق تک لیجانے لگی۔۔۔تبھی میرے جسم کو آخری جھٹکا لگا اور میرے لن سے منی کی دھاریں خارج ہونے لگیں۔۔۔شبنم نے اپنے ہونٹوں کو گرِپ کر کے میری ساری منی اپنے منہ میں ہی جمع کرنا شروع کر دی۔ ************************* (46) جب میرے لن سے منی کا آخری قطرہ بھی نکل گیا اور میرے لن نے جھٹکے مارنے بند کر دیے تو شبنم نے بڑے احتیاط سے میرا لن اپنے منہ سے باہر نکال لیا۔۔۔شبنم نے لن کو منہ سے باہر نکالتے وقت اس چیز کا خاص خیال رکھا کہ منی کا ایک قطرہ باہر نہ گرنے پائے۔۔۔پھر میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بڑے سیکسی انداز میں وہ منی کا گھونٹ بھرتے ہوئے اپنے حلق سے نیچے اتار گئی۔ میں ابھی حیرت زدہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا کہ اچانک شبنم نے پھر سے میرے لن کو پکڑ کر اپنی زبان باہر نکالی اور میرے لن کو اچھی طرح سے چاٹ چاٹ کر صاف کرنا شروع کر دیا۔۔۔اس کے گرم منہ کی حدت سے میرے مردہ ہوتے ہوئے لن میں ایک دفعہ پھر جان پڑنا شروع ہو گئی۔۔۔دو منٹ بعد ہی میں اس کو نیچے فرش پر بٹھائے اپنا لن اس کے منہ میں ڈالے اس کے منہ کو چود رہا تھا۔ دو منٹ تک ایسے ہی اس کے منہ کو چودنے کے بعد میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے شبنم کے چہرے کو پکڑتے ہوئے لن کو اس کے حلق کی گہرائی تک لیجا کر چودنا شروع کر دیا۔۔۔جیسے ہی میرے لن نے اس کے حلق کو چھوا تو اسے کے منہ سے اوغ۔اوغ کی آواز نکلی۔۔۔یوں لگا جیسے ابکائی لینے لگی ہو۔۔۔لیکن اس نے کمال مہارت سے اپنے آپ کو سنبھال لیا۔۔۔تقریباً پانچ منٹ کی جاندار حلق چودائی کے بعد میرا لن اپنے پورے جوبن پر آ چکا تھا۔ میں نے اپنا لن اس کے منہ سے باہر نکالا اور اسے بیڈ پر لیٹنے کو کہا۔۔۔وہ سیدھی بیڈ پر لیٹ گئی اور اپنی ٹانگیں کافی ساری کھول لیں۔۔۔میں اس کی کھلی ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گیا۔۔۔پھر اپنے لن کو پکڑ کر اس کی پھدی کے ہونٹوں پہ رکھا۔۔۔شبنم کی پھدی ایک دم مست پھدی تھی۔۔۔اس پر ایک بھی بال نہیں تھا۔۔۔کسی کنواری پھدی کی طرح اس کے ہونٹ بھی آپس میں ایک دم ٹائٹ ہو کر جڑے ہوئے تھے۔۔۔میں نے لن کو پھدی کے ہونٹوں کے درمیان رکھتے ہوئے آہستہ سے پش کیا تو لن کی ٹوپی پھدی کو چیرتی ہوئے اندر گھس گئی۔ شبنم کے چہرے پر ہلکی سی تکلیف کے آثار تھے۔۔۔میں آہستہ آہستہ دباؤ بڑھاتا گیا۔۔۔شچنم نیچے سے مچلتی گئی پر میں رکا نہیں۔۔۔نتیجتاً بیس سیکنڈ میں ہی میرا پورا لن اس کی پھدی میں غائب ہو چکا تھا۔۔۔میں نے ہلنے کی کوشش کی تو شبنم نے اپنے دونوں ہاتھ میرے پیٹ پر رکھ دیے۔۔۔جیسے مجھے روکنا چاہتی ہو۔۔۔میرے سوالیہ نظروں سے دیکھنے پر اس نے کہا۔۔۔تھوڑی دیر یہاں ہی رکو۔۔۔پہلی بار اتنا صحت مند لن اندر لیا ہے۔ تھوڑی دیر اسے محسوس تو کرنے دو۔۔۔کچھ دیر بعد جب اس کو سکون ملا تو وہ بولی اب آہستہ آہستہ سے دھکے لگانا شروع کرو۔۔۔میں نے آہستہ آہستہ پمپنگ کرنی شروع کر دی۔۔۔شبنم اب پورا لن اندر لینے کے بعد مستی بھری آوازوں سے مجھے سب اوکے ہے کا سگنل دے رہی تھی۔۔۔میں نے آہستہ آہستہ اپنی سپیڈ بڑھانی شروع کر دی۔۔۔شبنم بھی میرا ساتھ دے رہی تھی۔۔۔لن اندر جاتے ہی وہ اپنی گانڈ کو پیچھے دبا کر میرا ساتھ دیتی۔ میں جیسے ہی گھسہ مارتا۔۔۔شبنم کے ممے باؤنس ہو کر اوپر کو اچھلتے اور اس کے ڈانس کرتے مموں کو دیکھ کر مجھے اور جوش چڑھتا جاتا۔۔۔اور میں مزید زور سے گھسہ مارتا۔۔۔شبنم اف فف فف ہائےےےےےےے کی آوازیں نکال کر میرے مزے کو دوبالا کر رہی تھی۔۔۔شبنم کی پھدی اب اندر سے بلکل ہموار ہو چکی تھی جس کی وجہ سے میرا لن باآسانی اندر باہر آ جا رہا تھا۔ ************************* (47) میرے اور شبنم کے جسم آپس میں ٹکرانے کیوجہ سے کمرے میں پوچ پوچ کی آوازیں آ رہی تھیں۔۔۔اب شبنم نیچے سے گانڈ اٹھا اٹھا کر پورا لن اندر لے رہی تھی اور میرا لن اس کی بچہ دانی تک مار کر رہا تھا۔۔۔مسلسل دس منٹ تک گھسے مارنے کے بعد اچانک شبنم نے اپنی دونوں ٹانگیں اوپر اٹھا کر میری کمر پر باندھتے ہوئے پیروں کی مدد سے شکنجہ بنا کر مجھے اپنے شکنجے میں بھینچ لیا۔۔۔میں اپنی پوری طاقت کے ساتھ گھسے مار رہا تھا۔۔۔شبنم سسکیاں بھرتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ تیز۔تیز۔ہاں راجہ۔۔۔اور تیز۔ اس کی پھدی مسلسل رطوبت چھوڑ رہی تھی جس کیوجہ سے میرا لن پھسل پھسل کر اندر جا رہا تھا۔۔۔اب میرے دماغ میں ہلچل مچنا شروع ہو گئی اور میں بنڈ پھاڑ گھسے مارنے لگا۔۔۔شبنم بھی اب مزے کے ساتھ پورے فارم میں تھی۔۔۔اور پانی نکالنے کیلئے تیار ہو رہی تھی۔ اوہ میری پھدی۔۔۔آہ۔۔ممممم۔ممممم۔۔میں گئییییی۔۔۔ میں نے فل جوش میں تین چار گھسے اور مارے تو میرے جسم کو ایک جھٹکا لگا تو میں نے پوری طاقت سے لن کو جڑ تک پھدی میں گھسا دیا اور میرے لن نے اس کی پھدی کے اندر ہی پانی چھوڑنا شروع کر دیا۔۔۔میرا منی اندر گرنے کی دیر تھی کہ شبنم کی ٹانگیں بھی کانپیں اور اس نے بھی لرزتے ہوئے منی کی برسات کر دی۔ میں نڈھال ہو کر شبنم کے اوپر گر کے ہانپنے لگا جبکہ وہ بھی ہانپتے ہوئے تیز تیز سانسیں لے رہی تھی۔۔۔اس طرح کوئی دس منٹ تک اپنی سانسیں بحال کرنے کے بعد وہ اٹھی اور اپنا تولیہ اٹھا کر پھر سے باندھ کر ایک سگریٹ سلگا کر مجھے دیا اور میرے سامنے کرسی پر بیٹھ گئی۔۔۔جبکہ میں ابھی تک ننگا لیٹا ہوا تھا۔ وہ کھوئے کھوئے سے انداز میں مجھے دیکھتی رہی۔۔۔پھر وہ اچانک بولی دیکھو میں بھی کتنی بدھو ہوں۔۔۔ابھی تک تمہارا نام نہیں پوچھا۔۔۔میں نے بتایا کہ میرا نام کمال پاشا ہے۔۔۔وہ میری آنکھوں میں تکتے ہوئے بولی تمہارا یہ حال کیسے ہوا۔۔۔اس کا اشارہ میرے جلے ہوئے چہرے کی طرف تھا۔۔۔میں نے کچھ لمحے سوچا پھر نہ جانے کیوں اسے نہایت اختصار کے ساتھ ساری کہانی خود ہر بیتے سارے حالات بتاتا چکا گیا۔ صرف ہیروں کا قصہ گول کر گیا۔۔۔پیسوں کے بارے میں اسے بتایا کہ ہم لوگ زمیندار لوگ ہیں کافی زمین تھی جو اب ساری کی ساری بلا غیرے شرکت میری ہے۔۔۔میری بات سن کر وہ سرشار لہجے میں بولی"مسٹر کمال پاشا!!!تم چاہو تو فرض کر سکتے ہو کہ تمہارے ہاتھ پارس پتھر لگ گیا ہے۔۔۔کچھ استفادہ کرنا چاہو تو کر سکتے ہو۔۔۔کوئی کام کہیں اٹکا ہوا ہو تو بتا سکتے ہو۔۔۔کوئی مسئلہ درپیش ہو تو صرف اشارہ کر دو۔ پھر وہ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بولی میں تو نہ تین میں ہوں نہ تیرہ میں۔۔۔لیکن میرا جو یہ نام نہاد عاشق شوہر کرنل ہے ناں!!!۔باہر دنیا کیلئے بہت بڑی توپ قسم کی شے ہے لیکن بیڈروم میں میرا ہاتھ بندھا غلام ہے۔۔۔اس لیے اگر کوئی مسئلہ درپیش ہے اور تم سمجھتے ہو کہ اس میں ہماری ضرورت پیش آ سکتی ہے تو واضح بتا دو۔۔۔تمہارا کام باآسانی ہو جائے گا۔ ہاں ایک کام ہے جس کو کرنے کیلئے مجھے تمہاری مدد کی ضرورت پڑے۔۔۔میں نے ایک لمحہ توقف کے ساتھ تھوڑا مکھن لگانی کی کوشش کرتے ہوئے رومینٹک انداز میں کہا۔۔۔لیکن فلحال اس موضوع کو رہنے دو۔۔۔ابھی تم مجھے ملی ہو،تمہارا ساتھ مجھے ملا ہے،مجھے جی بھر کر سیراب تو ہو لینے دو۔۔۔پہلے مجھے کچھ دیر تک اس خوشی کو محسوس تو کر لینے دو۔۔۔میری روح میں پیاس کا اک صحرا پھیلا ہوا ہے۔۔۔اسے کچھ دیر تو تمہاری محبت کی شبنم جذب کرنے دو۔۔۔وہ چپ چاپ میری آنکھوں میں دیکھتی رہی لیکن جیسے ہی میں نے اپنی بات ختم کی وہ تالیاں بجانے کے انداز میں بولی"تقریر اچھی کر لیتے ہو۔ پر میری جان میں اس وقت سے بہت آگے آ چکی ہوں جب لڑکیاں اس قسم کی باتوں پر مر مٹتی تھیں۔۔۔تم کیا جانو میں کتنا بڑا صحرا پار کر کے یہاں تک پہنچی ہوں۔۔۔پھر وہ اٹھتے ہوئے بولی بہرحال میری آفر اپنی جگہ برقرار ہے جب بھی کوئی ضرورت پیش آئے مجھے کال کر لینا تمہارا کام ہو جائے گا کانٹیکٹ نمبر وہی ہے جس پر تم لوگ ڈاکٹر سے رابطہ کرتے ہو۔۔۔ اوکے اب اچھے بچوں کی طرح سو جاؤ۔۔۔صبح کا دن تمہارے لیے نئی خوشیوں کی امید لیکر آ رہا ہے۔۔۔اس کا اشارہ پھر میرے چہرے کی طرف تھا۔۔۔گڈ نائٹ کہہ کر اس نے ایک دفعہ پھر جھکتے ہوئے میرے ہونٹوں کو چوم لیا اور پھر مڑ کر کمرے سے نکلتی چلی گئی۔۔۔شبنم کے جانے کے بعد میں نے کپڑے پہنے اور واش روم میں جا کر فریش ہونے کے بعد واپس بیڈ پر آ کر لیٹ گیا۔ جاری ہے۔۔۔1 like
-
مجرِم یا۔۔۔
1 likeسب دوستوں کا شکریہ جنہوں نے اپنا ٹائم نکال کر اس سٹوری کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ اپنے کمنٹس سے نوازا۔ اگلی اپڈیٹ میں سٹوری کو ایک اور نیا رخ دیا جائے گا اور باقی کرداروں کو فلحال پسِ پشت ڈال کر میں کردار کو آگے بڑھا جائے گا۔۔۔کچھ نئے کردار بھی شامل ہوں گے اور سٹوری کو ایک ترتیب سے ان کرداروں کے ساتھ لنک کرنے کی بھرپور کوشش کروں گا۔ مجھے نہیں لگتا کہ اگلی اپڈیٹ میں کوئی سیکس سین ہو گا۔بہرکیف میں کوشش کروں گا کہ سٹوری کی ڈیمانڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے اس میں کوئی سیکس سین ڈال سکوں۔۔۔1 like
-
مجرِم یا۔۔۔
1 like(24) کچھ دیر ریسٹ کرنے کے بعد جب ہم نارمل ہو گئے تو میں نے راجی سے پوچھا۔۔۔راجی تم خود کو میرے ساتھ کیسا محسوس کر رہی ہو۔ میرا پیار کرنا کیسا لگا۔ میرے منہ سے یہ الفاظ نکلنے کی دیر تھی کہ راجی کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے اور وہ روتے ہوئے بولی۔ کمال باؤ۔ تم واقعی کمال ہو۔ چھیمو بڑی خوش نصیب ہے جو اسے تم جیسا پیار کرنے والا ملا۔۔۔ورنہ ہم جیسی لڑکیوں کے نصیب میں تو زبردستی چدائی اور حلق میں پھنسے لنوں کا منی پینا ہی لکھا ہوا ہے۔۔۔ابھی جب تم نے تھوڑی دیر پہلے مجھے ہونٹوں پر چوما تو مجھے یقین نہیں ہوا کہ مجھ جیسی رانڈ کو کوئی ہونٹوں پر بھی چوم سکتا ہے۔ ان ہونٹوں پر جہاں آج تک سیال زادوں کے لن رگڑے گئے۔۔۔ان گشتی کے بچوں نے کبھی بھی مجھے پیار سے کس نہیں کی۔۔۔میرے راضی خوشی چدوانے کے باوجود وہ لوگ زبردستی چدائی کو فوقیت دیتے ہیں۔ مجھے اچانک ایک بات یاد آئی تو میں بول اٹھا راجی مجھے جب چھیمو نے تم دونوں کی داستان سنائی تھی تو اس نے بتایا تھا کہ پہلی دفعہ سیال زادوں سے چدوانے کے بعد تم خود وڈے چوہدری کے آگے لیٹنے کو تیار ہو گئی تھی اور اپنی مرضی سے پھدی مروائی تھی۔ اگر تم مظلوم ہو تو وہ سب کیا تھا جو اس دن وڈے چوہدری کے کمرے میں ہوا۔ میری بات سن کر راجی کچھ دیر خاموش رہی پھر جیسے خلا میں تکتے ہوئے بولی۔ جو بات میں ابھی بتانے جا رہی ہوں وہ تو چھیمو بھی نہیں جانتی۔۔۔اس دن میں جان بوجھ کر حویلی گئی تھی۔۔۔مجھے پتہ تھا کہ یہ سب ہو گا۔ لیکن اس درندگی کے ساتھ ہو گا یہ میں نے سوچا بھی نہیں تھا۔۔۔لیکن سوال یہ ہے کہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی میں چوہدری کہ حویلی میں گئی ہی کیوں۔ تو یہ جاننے کیلئے چند سال پہلے کا قصہ سناتی ہوں۔ ہم دو بہنیں تھیں۔ میرا نام تو تم جانتے ہی ہو جبکہ مجھ سے چھوٹی کا نام نغمہ تھا۔ رنگ روپ میں اتنی خوبصورت کہ پریاں بھی دیکھ کر شرما جائیں۔ جسم کی اٹھان بھرپور تھی۔ وہ ہم سب کی لاڈلی تھی۔ گھر میں میرے امی ابو میں اور نغمہ ٹوٹل چار لوگ ہی تھے۔۔۔صرف مکان اپنا تھا زمین بلکل بھی نہیں تھی اس لیے ابا لوگوں کی زمینوں میں کھیتی باڑی کر کے گھر کی دال روٹی چلاتے تھے۔ مجھے بچپن سے ہی گانے کا بہت شوق تھا۔۔۔آس پاس کے گاؤں میں اور خود اپنے گاؤں میں اگر کوئی شادی بیاہ ہوتا تو مجھے اسپیشل بلایا جاتا تھا کہ میں وہاں رنگ جماؤں۔ اس طرح چار پیسے کی آمدنی بھی ہو جاتی۔ اور میرا گانے کا شوق بھی پورا ہو جاتا تھا۔ زندگی سکون سے گزر رہی تھی۔۔۔کہ تبھی اچانک ہماری زندگی میں ایک ایسا بھونچال آیا کہ سب کچھ تہس نہس ہو گیا۔ ہوا کچھ یوں کہ ایک دن ہمارے گاؤں کی دوسری نکڑ پر موچیوں کے گھر شادی تھی۔۔۔ان کی عورتیں گانا گانے کیلئے مجھے بلا کر لے گئیں۔ آدھی رات تک کا فنکشن تھا۔ رات کو جب فارغ ہوئے تو انہوں نے مجھے کافی پیسے دیے۔۔۔اور ایک بزرگ ملازمہ جس کا نام ماسی صغراں ہے۔۔۔مجھے اس کے ساتھ واپس گھر بھیج دیا۔۔۔ماسی صغراں ہمارے گھر کے ساتھ ہی رہتی تھی۔ **************************** (25) ماسی کی داستاں بھی عجیب تھی۔۔۔ماسی کا خاوند کافی سال پہلے نشے کی ذیادتی کی وجہ سے مر گیا۔ پھر ایک دن ماسی کا جواں سال بیٹا پیسے کمانے گھر سے نکلا تو آج تک واپس نہیں آیا۔ ماسی دائی کا کام بھی جانتی تھی مگر اس کا ذیادہ تر وقت ادھر ادھر کے گھروں میں ہی گزرتا تھا۔ جھاڑو پونچھا کر کے روٹی پانی کھا پی لیتی اور اسی طرح اس کی زندگی کی گاڑی بھی چل رہی تھی۔ میں اور ماسی شادی کی باتیں کرتے ہوئے جیسے ہی میرے گھر کے قریب پہنچے تو مجھے گھر کے سامنے ایک بڑی جیپ کھڑی دکھائی دی جس میں کچھ لوگ بیٹھ رہے تھے۔ جیپ دیکھتے ہی ماسی کے منہ سے نکلا ***** خیر۔ میں نے گھبرا کر ماسی سے کچھ پوچھنا چاہا تو ماسی نے مجھے سختی سے چپ رہنے کا اشارہ کیا اور میرا بازو پکڑ کر پاس ہی موجود درختوں کے جھنڈ میں داخل ہو گئی۔۔۔چند منٹ بعد جیپ سٹارٹ ہوئی اور غراتی ہوئی ہمارے سامنے سے گزرتی چلی گئی۔ جیپ میں چار گن مینوں کے ساتھ دو سوہنے سوہنے منڈے بھی موجود تھے۔ بعد میں پتہ چلا کہ وہ سوہنے منڈے وڈے چوہدری کا پتر صفدر سیال اور اس کا کوئی شہری دوست تھے۔ میرا دل تیزی سے دھڑکنے لگا کہ بندوق بردار آدمیوں کا میرے گھر میں کیا کام۔۔۔میں ہولتے دل کے ساتھ تیزی سے آگے بڑھی اور ماسی سے اپنا بازو چھڑا کر بھاگتے ہوئے درختوں کے جھنڈ سے باہر نکلی اور سیدھا اپنے گھر میں داخل ہو گئی۔۔۔جیسے ہی میں گھر میں پہنچی تو۔ جیسے ہی میں گھر میں پہنچی تو اندر کمرے کی طرف بھاگی۔۔۔کمرے میں داخل ہو کر جو منظر میری آنکھوں نے دیکھا۔اسے دیکھ کر میرے منہ سے چیخ نکلی۔۔۔سامنے فرش پر میرے ابا اور امی کی لاشیں خون میں لت پت پڑی ہوئی تھیں۔ امی کا جسم پورا ننگا تھا اور ان دونوں کے سینوں میں دستے تک خنجر پھنسے ہوئے تھے۔ میں پھٹی آنکھوں کے ساتھ لڑکھڑائی تو سہارا لیتے لیتے فرش پر کسی چیز کے ساتھ پاؤں الجھے اور میں گر پڑی۔۔۔میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا رہا تھا۔ چند لمحات کے بعد جب آنکھیں دیکھنے کے قابل ہوئیں تو میری نظر اس چیز پر پڑی جس سے میرے پاؤں الجھے تھے۔ اس چیز کو دیکھ کر یوں لگا آسمان سر پہ آن گرا ہو۔۔۔وہ میری بہن، چھوٹی لاڈلی بہن، نغمہ کی لاش تھی۔۔۔جس کے بدن پہ کپڑوں کے نام پر ایک تار بھی نہیں تھا۔ نغمہ کو اس حالت میں دیکھ کر اور پے در پے جھٹکوں نے مجھے تکلیف سے نجات دلائی اور میں چیخیں مارتے روتے روتے بیہوش ہو کر وہیں زمین پر گر گئی۔ پھر جب ماسی صغراں اندر آئی اور اس نے سارا ماجرہ دیکھا تو اس کی حالت بھی مجھ سے مختلف نہ تھی۔۔۔لیکن وہ بیہوش ہونے سے بچ گئی۔ جہاندیدہ تھی سارا معاملہ سمجھ گئی۔۔۔اس نے جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر مجھے اٹھایا پھر پانی کے چھینٹے میرے منہ پر ڈالے اور جب مجھے ہوش آیا تو دیکھا ماسی مجھے ہلا رہی تھی۔ چند لمحے تو میں غائب دماغ سی ماسی کی طرف دیکھتی رہی لیکن جب شعوری کیفیت میں واپس آئی تو ایک دفعہ پھر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔ماسی مجھے چپ کرواتی رہی۔ میں روتے ہوئے پوچھا رہی تھی ماسی یہ سب کیا ہو گیا۔۔۔کون لوگ تھے وہ اور ان کی ہمارے ساتھ کیا دشمنی تھی جو انہوں نے یہ کر دیا۔ اتنا کہہ کر میں نے لاشوں کی طرف اشارہ کیا تو دیکھا کہ اب امی اور نغمہ کی لاشیں ننگی نہیں تھیں۔۔۔اس وقت غم کی شدت میں اس بات پر دھیان نہیں دے کہ ان کے ننگے جسموں کو کپڑے کس نے پہنائے۔ مجھے روتی کو چپ کرواتے ہوئے اور دلاسے دیتے ہوئے ماسی نے کہا۔۔۔چپ کر جا میری دھی۔۔۔فٹا فٹ اپنے آپ نوں سانبھ لے پر کسے نوں پتہ نا چلے کہ لاشاں پہلے ننگیاں سن۔۔۔ایہہ بری گل اے لوکی طرح طرح دیاں گلاں کرن گے۔۔۔میں روتی ہوئی بولی پر ماسی وہ لوگ کون تھے تو ماسی نے جواب دیا کہ پتر مینوں کی پتہ کون سی۔ پر شکلاں توں تے ڈاکو ہی لگدے سی۔ (26) بہرحال کسی نا کسی طرح ماسی مجھے اٹھا کر چلاتے ہوئے وہاں سے باہر لائی اور شور مچا مچا کر گاؤں والوں کو گھروں سے اٹھا لیا۔ جب گاؤں والے اکٹھے ہوئے اور انہیں اس حادثے کا پتہ چلا تو ہر آنکھ اشکبار ہو گئی۔ کسی نے پولیس کو اطلاع کر دی تو پولیس بھی آ گئی اور چند گھنٹے ادھر ادھر گھوم پھر کے روٹی ٹکر کھانے کے بعد ساری کاروائی ڈاکوؤں کے سر ڈال کر لاشوں کو دفنانے کا کہہ کر چلی گئی۔ سب کو دفنا دیا گیا اور میں اس دنیا میں اکیلی رہ گئی۔۔۔ماسی نے میرے گھر کو تالا لگایا اور مجھے ساتھ اپنے گھر لے گئی۔۔۔چند دن تو میں گم صُم رہی۔ ہر وقت امی ابو اور نغمہ کے ہنستے کھلکھلاتے چہرے نظروں کے سامنے آتے رہتے اور میں گھنٹوں تک گھٹنوں میں سر دیے روتی رہتی۔ ماسی بے چاری میری اشک جوئی کرتی رہی اور حوصلہ دیتی رہی۔۔۔آہستہ آہستہ وقت گزرتا گیا۔ دستورِ دنیا بھی یہی ہے اور وقت کا تقاضا بھی کہ جانے والے کی یاد آہستہ آہستہ دماغ سے جھڑنے لگتی ہے چنانچہ میرا غم بھی کم ہوتا گیا۔ پھر میں اور ماسی اکٹھے ہی گھر سے نکلتے اور لوگوں کے گھر کام کاج کر کے سرِشام ہی گھر کو لوٹ آتے۔ زندگی آہستہ آہستہ پھر سے ٹریک پر آ گئی تھی۔۔۔پھر چار مہینے بعد ایک دن ماسی کی طبیعت بہت ذیادہ خراب ہو گئی۔۔۔ماسی کو بہت تیز بخار تھا۔ میں نے گاؤں کی اکلوتی ڈسپنسری پر موجود کمپاؤنڈر کو بلایا تو اس نے ماسی کو چیک کرنے کے بعد مجھے ایک دوائی دی کہ یہ ماسی کو ہر چار گھنٹے بعد کھلاتی رہنا اور اس کے ماتھے پر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کرتی رہنا۔۔۔کل تک بخار ٹھیک ہو جائے گا۔ میں ساری رات ماسی کے سرہانے بیٹھی رہی اور دوائی کھلانے کے ساتھ ساتھ پٹیاں کرتی رہی۔۔۔لیکن جوں جوں دوا کی مرض بڑھتا گیا!!!۔ اگلے دن ماسی کی طبیعت تھوڑا سنبھل گئی لیکن شام تک ماسی کی حالت بہت خراب ہو گئی۔۔۔میں نے ماسی سے کہا کہ میں جاتی ہوں کسی کو کہہ کر تانگے کا بندوبست کر کے آپ کو ہسپتال لیکر چلتے ہیں۔ لیکن ماسی نے مضبوطی سے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنے پاس بٹھا لیا اور بولی۔ دھیے نا کر ایتھے میرے کول رہ مینوں لگدا میرا آخری ویلا آ گیا۔۔۔تے پتہ نئیں میں کس ویلے ٹر جانا۔ میرے کول بہ جا تے دھیان لا کے میری گل سن۔۔۔اتنا کہہ کر ماسی کمزوری سے ہانپنے لگی۔ میں نے فٹافٹ دو گھونٹ پانی ماسی کو پلایا اور پھر ضد کی کہ شہر چلتے ہیں۔ ماسی غصے سے بولی بکواس نہ کر میری گل دھیان نال سن۔۔۔اک گل اے جیڑی تینوں نئیں پتہ پر ہن میں مردے مردے سینے تے بھار لے کے نئیں مرنا چاندی اس لئی اج سب کجھ تینوں دساں گی۔ پتر رضیہ!!!سب توں پہلے او ٹرنک کھول۔۔۔ماسی نے سامنے پڑے ایک پرانے ٹرنک کی طرف اشارہ کیا۔۔۔میں نے اٹھ کر کھولا تو ماسی بولی:سب توں تھلے اک خاکی رنگ دا لفافہ پیا ہونا اونوں کڈ بار۔ میں نے ڈھونڈ کر لفافہ نکالا اور ماسی کے ہاتھ پر رکھ دیا تو ماسی نے مجھے بتایا کہ پتر میں اک اک پیسہ جمع کر کے کچھ رقم جوڑی سی۔۔۔کہ منڈے دا ویاہ کر دیواں گی پر او اک دن ایسا گیا کہ مڑ واپس ای نئیں آیا۔ ************************** دنیا کیندی او مر مک گیا ہونا پر میرا یعنی ماں دا دل کیندا کہ میرا پتر زندہ اے۔ میں پیسے جوڑ جوڑ انتظار کردی رئی پر او ناں آیا۔۔۔فیر اک دن میں کسے کم لاہور گئی سی تے اوتھے مینوں میرا پھپھی دا پتر ٹکر گیا۔ اسی دونوں اک دوجے نوں مل کے تے بڑے خوش ہوئے۔۔۔اک دوجے دا حال احوال پچھیا۔ میرے پتر بارے جان کے اونوں بڑا ای افسوس ہویا۔۔۔فیر اکثر میل ملاقات ہوندی رئی۔۔۔میں اودے گھر وی آندی جاندی رئی۔۔۔اک دن میں لاہور گئی تے اونوں ملی۔۔۔گلاں باتاں اچ اونے ذکر کیتا کہ آپاں ایتھے اک موقعے دی دکان لبھ رئی اے۔ بڑی چنگی جگہ تے ہے۔۔۔تیرے کول جنے پیسے نیں لگا کے تے دکان خرید لے۔۔۔جیڑے پیسے گھٹن گے میں پا دیواں گا۔۔۔آخر توں میری بہن ایں۔ پر میری گل من جا تے دکان لے لا۔۔۔اک تے دکان دا کرایہ آندا رہو نالے اگاں اودا ریٹ وی بڑھ جاؤ۔ ہر پاسے فیدہ ای فیدہ۔ میں بڑا سوچیا فیر میں سارے پیسے اکٹھے کیتے کجھ پیسے ادھار چکے تے لاہور چلی گئی۔۔۔جیڑے پیسے کم ہوئے او میرے بھرا نیں پا دتے تے او دکان میری نام تے خرید لئی۔۔۔پکے پیپر تے انگوٹھے لگ گئے۔ (27) پتر!!!میں چند دن توں سوچ رئی سی کہ طبیعت ٹھیک نہیں ریندی تے او میرا پتر وی پتہ نئیں کدوں آوے۔ پر میرا دل کیندا آوے گا ضرور۔ بہرحال تینوں یاد اے ناں پچھلے ہفتے میں لاہور گئی سی۔۔۔میں نے ثبات میں سر ہلایا تو ماسی پھر سے بولی:میں اپنے بھرا نوں ساری گل دس کے پکے کاغذ تے تیرا نام لکھا کے دکان تیرا نام کر دتی۔ میں تے انگوٹھا لا چھڈیا تے توں میری دھی رانی۔۔۔توں وی انگوٹھا لا لے۔۔۔میں نے کچھ کہنے کیلئے منہ کھولا تو ماسی نے ایک دم کہا ناں ناں پتر ٹیم ناں ضائع کر ہجے میری گل پوری نئیں ہوئی۔ میرے مرنے توں بعد توں اس دکان دی مالک ایں۔۔۔جے کدی میرا پتر واپس آ جاوے تے اونوں ساریاں گلاں دس دویں۔۔۔نالے اونوں دسیں کہ تیری ماں دی بڑی خواہش سی کی تیری یعنی رضیہ دی تے میرے منڈے دی شادی ہو جاوے۔ اگر او من جاوے تاں اودے نال ویاہ کر لویں۔۔۔جے نا منے تے لاہور آلی دکان ویچ کے اودی رقم دے دو حصے کر لینا اک تیرا تے اک میرے پتر دا۔ جے کدرے او ناں آیا تے توں آزاد ایں۔۔۔دکان تیری ہوئی۔۔اودے واسطے جیڑے پیسے میں ادھار چکے سی او میں پورے کر دتے نیں۔ ساتھ ہی ماسی نے ایک پرچہ میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا کہ ہا میرے بھرا دے گھر دا پتہ ہے۔ دکان دے کرائے دا سارا حساب اوہی رکھدا۔۔۔اونوں مل لویں۔بڑا ایماندار اے تیرا خیال رکھے گا۔۔۔اتنی بات کہہ کر ماسی پھر کھانسنے اور ہانپنے لگی تو میں نے فٹا فٹ ماسی کو دو گھونٹ پانی کے ساتھ دوائی دی۔ اور سرہانے بیٹھ کر پھر سے پٹیاں کرتی رہی۔۔۔کچھ دیر بعد جب ماسی کی طبیعت کچھ بحال ہوئی تو وہ پھر بولنا شروع ہوئی۔ پتر رضیہ!!!سب توں اہم گل۔ تینوں یاد اے او رات جس دن تیرے ماں پیو تے پین دا قتل ہویا سی۔۔۔یاد اے نا او رات۔ ماسی کی بات سن کر میں بیٹھے بیٹھے جیسے کھو گئی۔۔۔میرے لبوں سے نکلا ماسی وہ رات میں کیسے بھول سکتی ہوں۔۔۔آج بھی میری نگاہوں کے سامنے ان کی ننگی لاشیں آتی ہیں۔ تو ماسی آہستہ سے بولی راجی اس دن میں تیرے توں اک گل چھپائی سی۔۔۔میں ایک دم خیالوں کی دنیا سے باہر آ گئی اور حیرانی سے بولی وہ کیا بات تھی ماسی۔ تو ماسی بولی پتر تینوں پتہ اے ناں کہ میں دائی آں۔۔۔تے ایداں دے معاملات میری نظر توں بچ نئیں سکدے۔ میرے دل میں اندیشوں نے گھر کرنا شروع کر دیا۔۔۔ماسی اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بولی اس رات توں نٹھ کے اپنے گھر وڑ گئی تے میں وی تیز تیز قدماں نال تیرے پیچھے آئی تے اندر لاشاں ویکھ کے میرا وی حال برا ہو گیا سی۔دماغ نوں چکر آ گیا نالے اکھاں اگے ہنیرا۔ فیر اچانک تیرا یاد آیا،،تھوڑی ہوش پھڑی تے فٹا فٹافٹ تینوں چیک کیتا تے ساہ چلدا ویکھ کے مینوں حوصلہ ہویا۔۔۔فیر میں تینوں چھڈ کے سب توں پہلے تیرے پیوں نوں ویکھیا اودے ساہ مک چکے سن۔ تیری ماں دے ساہ وی مک چکے سن۔۔۔نغمہ وی دور جا چکی سی۔۔۔پر اک چیز میں غور نال ویکھی،،چیک کیتا تے میرا دماغ سن ہو گیا۔ اتنا کہہ کر ماسی نے چند لمحے سانس لیا اور بولی کہ تیری ماں تے نغمہ دوناں دی عزت لٹی گئی۔ اوناں نال زبردستی ہوئی۔۔۔اسے واسطے میں تیرے ہوش توں آن توں پہلے کھچ دھو کے اوناں دوناں بدنصیباں نوں کپڑے پا چھڈے۔ میں کدے وی ہا گل تینوں نہ دسدی پر اج مینوں لگدا کہ میرا ویلا آ گیا تے اج ساری گل کھول چھڈی۔ ہن میں آرام نال مر سکاں گی۔۔۔میں پتھرائی ہوئی آنکھوں سے ماسی کو دکھتے ہوئے بولی۔۔۔ماسی وہ کون لوگ تھے۔پھر اچانک کچھ یاد آیا تو آنکھیں سکوڑے ماسی کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔ ماسی تم ان کو جانتی ہو نا۔۔۔تو ماسی نے ہاں میں سر ہلاتے ہوئے کہا کہ او گورا سوہنا منڈا یاد ای جیڑا جیپ دی اگلی سیٹ تے بیٹھا سی۔۔۔تو میں نے اس کی شکل دل میں یاد کرتے ہوئے کہا ہاں ماسی یاد ہے کون تھا وہ مجھے بتاؤ کون تھا وہ؟ تو ماسی بولی او منڈا نال آلے پنڈ چک اکتیس دے وڈے چوہدری دا منڈا سی۔۔۔اودا نام صفدر سیال اے۔ میں اوناں کنجراں نوں چنگی طرح جاندی آں۔پہلے وی آس پاس دے پنڈاں وچ او کنجر اپنے یاراں نال مل کے ایداں دیاں دو چار وارداتاں کر چکیا۔ لوگ سب جاندے نیں پر اوناں تو ڈردے رو دھو کے چپ وٹی رکھدے۔۔۔اس دن اوناں نیں تیری ماں تے پین دی عزت لٹی سی۔اس گل دا میں بعد اچوں پتہ وی لوایا سی۔پر میں خاموش رئی۔تینوں دسن دی ہمت نہ ہوئی۔ اس کے بعد میں ساری رات ماسی کی خدمت کرتی رہی اور اس واقعے بارے سوچتی رہی۔۔۔رات بارہ بجے کے قریب ماسی کی آنکھ کھلی اور مجھے اپنے سرہانے بیٹھے دیکھ کر بولی۔۔۔کملی نا ہووے تے۔ چل اٹھ منجی تے پے کے سو جا کل رات دی توں اکھ نئیں لائی۔۔۔میں ہن ٹھیک آں چل شاباش میری دھی رانی۔۔۔سچ پوچھو تو ساری رات سوچ سوچ کر دماغ سن ہو چکا تھا اس لیے نیند سے میری بھی آنکھیں بوجھل ہو رہی تھیں۔۔۔چنانچہ اٹھ کر ماسی کے ساتھ ہی موجود اپنی چارپائی پر لیٹ گئی۔۔۔اور اس واقعے کے بارے میں سوچتے سوچتے میری آنکھ لگ گئی۔ (28) میری آنکھ کھلی تو دیکھا کہ دن چڑھ آیا تھا۔ میں نے ماسی کی طرف دیکھا تو وہ چادر اوڑھے سو رہی تھی۔۔۔میں اٹھی اور اٹھ کر واش روم چلی گئی واپس آ کر میں نے ماسی کو دیکھنے کیلئے جیسے ہی چادر اٹھا کر ماسی کے ماتھے کو چھوا تو پتہ چلا کہ ماسی تو کب کی سانس پورے کر چکی تھی۔ اب تو اس کی لاش بھی اکڑ رہی تھی۔۔۔میں ایک دفعہ پھر یتیم ہو چکی تھی۔۔۔میں ماسی کی لاش سے لپٹتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔تھوڑی دیر تک سارے گاؤں کو پتہ چل گیا اور شام تک ماسی کو بھی دفنا دیا گیا۔ شام کو ماسی کے ہمسائے چاچی کنیز اور اس کا خاوند ملک رمضان مجھے اپنے گھر لے گئے۔۔۔ماسی کے گھر کو بھی تالا لگا دیا گیا۔ چند دن بعد جب باتوں ہی باتوں میں انہیں پتہ چلا کہ اب ماسی کا کوئی بھی نہیں اور ماسی کا مکان خالی ہے تو انہوں نے آنے بہانے مکان پر قبضہ کر لیا۔ مجھے یہ بتایا کہ ماسی نے ان سے کافی ادھار پیسے لیے تھے اس لیے اب مکان پر ان کا حق ہے ساتھ ہی انہوں نے مجھ سے دھوکے سے ایک کورے کاغذ پر انگوٹھا لگوا کر مجھے یہ کہہ کر گھر سے نکال دیا کہ رضیہ تم بڑی منحوس ہو۔۔۔پہلے اپنے پورے گھر کو کھا گئی پھر ماسی کو بھی نگل گئی۔ اب ہم تمہیں اپنے گھر نہیں رکھ سکتے اس لیے تم یہاں سے چلتی بنو۔۔۔میں نے بنا کوئی بات کیے ماسی کے گھر سے اپنا تھوڑا سا سامان اٹھایا اور اپنے گھر آن بسی۔ اب میری زندگی کا ایک ہی مقصد تھا۔ انتقام۔ انتقام۔ انتقام۔ پر کیسے؟میں ٹھہری ایک عورت ذات اور وہ ٹھہرے وڈے چوہدری۔۔۔انہی سوچوں میں دو مہینے نکل گئے۔ میں لوگوں کے گھر کام کاج کر کے اپنا پیٹ کاٹ رہی تھی۔ایک دن اچانک مجھے پتہ چلا کہ چک اکتیس کے وڈے چوہدری کے پتر کی شادی ہے اور اسے گھر میں کام کاج کیلئے ملازمائیں چاہیے۔۔۔یہ سننے کی دیر تھی کہ میں نہا دھو کر صاف ہوئی اور بنا کسی کو بتائے تانگے میں بیٹھ کر وہاں پہنچ گئی۔ آگے کہ ساری کہانی تمہیں پتہ ہے کہ کیسے سیال زادوں نے ہم دونوں کی عزت اتاری۔۔۔اور اس کے بعد ہم کیسے کامی کے ذریعے وڈے چوہدری تک پہنچے۔ جب چوہدری نے زبردستی چھیمو پر ہاتھ ڈالا تو میں نے دل میں فیصلہ کیا کہ او کمزور عورت ایک یہی ذریعہ ہے کہ تو مستقل یہاں رہ سکتی ہے۔ واپس تو میں جانا نہیں چاہتی تھی۔۔۔کیونکہ میں اس لیے تھوڑی نہ آئی تھی کہ چوہدری اور اس کے کنجروں سے پھدی مروا کر واپس چلی جاؤں۔۔۔میرے سامنے ایک مقصد تھا جس کو پورا کرنے کیلئے میرا وہاں رہنا ضروری تھا۔ اور وہ مقصد تھا صفدر سیال کا قتل!!!۔ **************************** (29) میں نے چونک کر راجی کی آنکھوں میں دیکھا تو اس کی آنکھوں میں مجھے بجلیاں لپکتی ہوئیں نظر آئیں۔ میں نے اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا نہیں راجی نہیں تم ایسا کچھ بھی نہیں کرو گی۔ ان چوہدریوں کے ظلم دیکھ دیکھ کر میرے اندر بھی ان کیلئے نفرت پیدا ہو چکی ہے۔ وہ مجھ سے بھی پنگا لے چکے ہیں۔۔۔بس موقع محل دیکھ کر ہم ان پر ہاتھ ڈالیں گے۔ راجی قطعیت سے بولی۔ نہیں کمال بابو یہ میری لڑائی ہے اور اسے میں خود ہی لڑوں گی۔۔۔چاہے مجھے اپنی جان کیوں نہ دینی پڑے۔۔۔بس تم مجھ پر ایک مہربانی کرو۔ کبھی کبھی مجھے یاد کر لیا کرنا میں آ جایا کروں گی اور تمہارا پیار مجھے سہارا دیتا رہے گا۔ میں نے اس کی نم ہوتی آنکھوں سے نکلتے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا پھر بھی راجی!میں یہی کہوں گا کہ تھوڑا تحمل سے کام لو۔۔۔ہم کچھ ایسا پلان کریں گے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ اس کے علاوہ تم جب چاہو چھیمو کے ساتھ آ سکتی ہو۔۔۔میں تمہیں بھی اتنا ہی پیار دوں گا جتنا کہ چھیمو کو۔۔۔اچھا ایک بات تو بتاؤ اتنی دیر سے تم یہاں ہو کیا تمہیں صفدر سیال نظر نہیں آیا۔ تو میری بات سن کر راجی بولی: کمال بابو!!!۔ صفدر سیال وڈے چوہدری کے چھوٹے بھائی چوہدری ظفر سیال کا چھوٹا بیٹا ہے۔۔۔چوہدری ظفر سیال کے دو بیٹے اور ایک بیٹی شبینہ سیال ہے یہ دونوں وڈے چوہدری اپنی فیملیوں کے ساتھ اسی حویلی میں رہتے ہیں۔ مگر ان کا کراچی میں ٹرانسپورٹ کا کاروبار ہے۔۔۔اور سنا ہے کہ ناجائز اسلحہ کی تجارت اور ساتھ ساتھ ڈاکوؤں سے بھی اس کے تعلقات ہیں۔ اس لیے وہ یہاں نہیں آتا اور اگر آیا بھی ہو تو وڈی حویلی تک نہیں پہنچا۔۔۔میں اسی آس پر وہاں ٹکی ہوئی ہوں کہ کبھی نہ کبھی تو اس سے سامنا ہو گا نا۔ اس کی شکل میرے دل د دماغ پر نقش ہو چکی ہے۔۔۔جس دن اس کا میرا آمنا سامنا ہوا!!!وہ دن اس کی زندگی کا آخری دن ہو گا۔ میں نے کہا راجی میں پھر کہہ رہا ہوں کوئی بے وقوفی مت کرنا اور اپنی زندگی کی حفاظت کرنا۔ ہم مل جل کر کوئی راستہ نکالیں گے کہ تمہیں اپنا انتقام لینے کا موقع مل جائے تو راجی منہ سے کچھ نہیں بولی بس مجھے گھورتی رہی۔ پھر تھوڑی دیر بعد وہ دونوں وہاں سے چلی گئیں اور میں خیالات کے تانے بانے بنتا نیند کی آغوش میں چلا گیا۔ *********************** (30) اگلے دن میرے آنکھ کھلی اور معمول کے مطابق ناشتہ کر کے میں گھر سے نکلا تو پتہ چلا کہ آج گاؤں میں ناظم کے الیکشن ہو رہے ہیں۔۔۔ابو صبح سے ہی گھر سے غائب تھے۔ دراصل ابا جان کی گاؤں میں کافی عزت تھی اس لیے الیکشن کے انتظامات میں وہ بھی پیش پیش تھے۔ معلومات حاصل کرنے پر پتہ چلا کہ سیالوں کی طرف سے وڈا چوہدری مظفر سیال الیکشن میں امیدوار ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے پر ساتھ والے گاؤں سے چوہدری رحمت علی کڑیال امیدوار تھا۔ دراصل ہمارے سسٹم میں ناظم کے تحت آس پاس کے آٹھ گاؤں آتے تھے۔۔۔تو ناظم ہونے کا مطلب آٹھ گاؤں کا سربراہ۔۔۔اس لیے دونوں پارٹیوں میں کانٹے دار مقابلہ تھا۔ پولنگ سٹیشن بن چکے تھے تمام انتظامات مکمل تھے۔۔۔صبح آٹھ بجے گاؤں کے سکول میں ووٹنگ شروع ہو گئی۔ لوگ جوق در جوق آ کر ووٹ ڈال رہے تھے۔۔۔میں بھی گیا تو ابا جان مجھے وہیں پولنگ سٹیشن کے باہر چارپائی پر بیٹھے مل گئے۔ میں نے ابا جان کو پکڑا اور ایک سائیڈ پر کھڑی گاڑیوں کے جھرمٹ میں لیجا کر پوچھا ابا جان ہمارے ووٹ کس سائیڈ پر ہیں؟ تو ابا جان مجھے حیرت سے دیکھتے ہوئے بولے:یار یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے۔۔۔ پتر! کتے کے منہ میں کھیر نہیں سجتی۔۔۔کھیر کھانے کیلئے بندہ بننا ضروری ہے۔ ہمارے گھر کے اور ہمارے سارے ہاریوں کے اور ان کے خاندانوں کے ووٹ چوہدری رحمت علی کڑیال کو جا رہے ہیں۔ کیونکہ سب جانتے ہیں کہ وڈے چوہدری مظفر سیال کی نیت کیسی ہے اگر وہ الیکشن جیت گیا تو سب پر عرصہِ حیات تنگ کر دے گا۔ اس لیے ہم سب چوہدری کڑیال کو سپورٹ کر رہے ہیں۔۔۔اور دیکھ لینا **** کی رحمت سے کڑیال ہی جیتے گا۔ اب گھر جاؤ،،اپنی ماں،بہن کو بھی لیکر آؤ اور ووٹ ڈالو۔۔۔اتنا کہہ کر ابا جان واپس جا کر گاؤں کے معززین کے ساتھ چارپائی پر بیٹھ گئے۔ میں نے بھی گھر کی طرف جانے کیلئے قدم بڑھائے۔۔۔سامنے کھڑی ایک پجیرو کے پاس سے گزرتے وقت بے ارادی طور پر میری نظر پجیرو کے شیشے میں گئی!!!تو میں نے دیکھا کہ چند منٹ پہلے جہاں میں اور ابا جان کھڑے باتیں کر رہے تھے عین اسی جگہ پر وڈے چوہدری کا ایک کارندہ کھڑا پیچھے سے مجھے گھور رہا تھا۔ اس کا نام بعد میں پتہ چلا کہ یہی چوہدری کا پالتو کتا شاہنواز ہے۔ اس وقت تو میں نے دھیان نہیں دیا اور گھر چلا گیا لیکن یہ بات لاشعور میں رہ گئی کہ میں نے وڈے چاہدری کا پالتو کتا وہاں کھڑا دیکھا تھا۔ میں گھر سے امی اور بینا کو ساتھ لے گیا اور ووٹ ڈالنے کے بعد ان کو واپس گھر پہنچا دیا۔۔۔سارا دن آرام سے گزر گیا۔شام کو نتیجہ آ گیا۔۔۔چوہدری رحمت علی کڑیال واضح برتری حاصل کرتے ہوئے جیت گیا۔ وڈے چوہدری مظفر سیال سے یہ ہار برداشت نہیں ہوئی اور اسی ہار کے غصے میں انہوں نے ایک ایسا کام کر ڈالا جس کی وجہ سے میری دنیا بھی تہہ و بالا ہو گئی۔ اگلے دن دوپہر تین بجے میں گھر سے باہر نکل رہا تھا کہ اچانک مجھے اپنی داہنی سمت سے اپنا نام سنائی دیا۔۔۔میں نے مڑ کر داہنی طرف دیکھا تو زمینوں پر کام کرنے والے دو لڑکے زور زور سے میرا نام پکارتے ہوئے بھاگتے چلے آ رہے تھے۔ میں وہیں ٹھٹھک گیا۔ قریب آتے ہی پھولی سانسوں کے ساتھ ا ہوں نے کچھ کہنے کی کوشش کی ہر ان کی سانس اس بری طرح سے پھولی ہوئی تھی کہ نہ وہ صحیح طرح سے کچھ بول پا رہے تھے اور نہ ہی میں ان کی بولی سمجھ پا رہا تھا۔ چند لمحوں بعد ان میں سے ایک سانس روک کر بولا۔ باؤ کمال۔ کھیتوں پر۔ چاچا جمال۔ سیال لڑائی۔ بس یہ تین چار الفاظ ہی مجھے ساری بات سمجھانے کیلئے کافی تھے۔میں لپک کر اندر گیا اور اپنا ریوالور جو کے چند دن پہلے ہی خریدا تھا ڈب میں لگا کر وہاں سے باہر نکلا اور ان لڑکوں کے ساتھ تیزی سے کھیتوں کی طرف بھاگا۔۔۔بھاگتے بھاگتے ان سے بھی آگے نکل گیا۔۔۔میں بھگٹٹ بھاگتا ہوا کھیتوں کی طرف جا رہا تھا کہ راستے میں ہی سامنے سے مجھے اپنے ہاری چارپائی اٹھائے آتے دکھائی دیے۔۔۔مجھے بھاگتے دیکھ کر انہوں نے چارپائی وہیں زمین پر رکھ دی پھر دو تین لوگوں نے آگے ہو کر مجھے روکا۔ میں ان کے پاس پہنچا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ سیالوں نے ابا جان کو بہت بری طرح سے پیٹا ہے۔۔۔اس لیے ان کو فوری طور پر ٹانگے میں ڈال کر ڈسپنسری بھیج دیا ہے۔جبکہ یہ ایک اور ملازم کو بڑی بری طرح سے مارا ہے اس کو بھی اب ڈسپنسری لے جا رہے ہیں۔ میں وہیں سے مڑا اور بھاگتے ہوئے ڈسپنسری جا پہنچا۔وہاں پہنچ کر دیکھا تو برآمدے میں ہی چارپائی پر ابا جان بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔ان کی حالت دیکھ کر میں غیض و غضب میں مبتلا ہو گیا۔ ابا جان کا سر پھٹا ہوا تھا جہاں سے خون بہہ کر پوری قمیض کو رنگین کر چکا تھا۔جبکہ ابا کی داہنی آنکھ بھی بری طرح مضروب ہوئی تھی۔۔۔آنکھ پھول کر سوجھی ہوئی تھی۔۔۔میں نے فوراً ڈاکٹر سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ چوٹیں تو خاصی لگی ہیں لیکن فکر کرنے کی کوئی بات نہیں۔آنکھ بھی بچ گئی ہے اور سر پر لگنے والی چوٹوں سے دماغ بھی متاثر نہیں ہوا۔۔۔بس ان کو اب سخت آرام کی ضرورت ہے۔ ابا جان کی مرہم پٹی ہونے کے دوران میں نے اپنے ایک ملازم کو گھر کی طرف دوڑایا کہ احاطے سے گاڑی لے آئے وہ ملازم بھی گاڑی چلانا جانتا تھا۔۔۔ڈاکٹر سے دوسرے لڑکے شاکر کے بارے پوچھا تو ڈاکٹر جس کا نام امتیاز اور وہ میرا دوست تھا نے بتایا کہ اس کی حالت بہت خراب ہے۔ اس کی ایک ٹانگ ٹوٹ چکی ہے۔۔۔کسی بھاری چیز سے اس کی ٹانگ پر ضرب لگائی گئی ہے۔۔۔منہ اور سر پر بھی خاصی چوٹیں آئی ہیں۔۔۔ناک سے بھی خون بہہ رہا ہے۔ ابھی تک اس کو ہوش نہیں آیا۔۔۔میں ڈاکٹر امتیاز کو اس لڑکے کا خیال رکھنے اور خود تھوڑی دیر تک واپس پہنچنے کا کہہ کر وہاں سے نکل کر اباجان کے پاس پہنچ گیا۔۔۔مجھے دیکھتے ہی اباجان نے مجھے اشارے سے اپنے پاس بلایا اور کراہتے ہوئے بولے: کمال پتر!!!میری لاعلمی میں کوئی حرکت مت کرنا۔ تمہیں اصل بات کی آگاہی نہیں ہے۔۔۔میں پریشانی سے بولا ابو یہ وقت ان باتوں کا نہیں ہے۔۔۔آپ چپ چاپ اپنی مرہم پٹی کروائیں۔۔۔پھر ہم گھر چلتے ہیں۔۔۔اس موضوع پر پھر بات کریں گے۔۔۔اباجان کچھ نہیں بولے بس مجھے دیکھتے ہوئے کراہتے رہے۔۔۔مرہم پٹی ہونے کے بعد میں نے اپنی گاڑی جو کہ اتنی دیر تک گھر سے منگوا چکا تھا کا دروازہ کھولا اور ابا جان کو بٹھایا تو ابا جان بولے:پتر!!! وہ شاکر بھی زخمی ہوا تھا۔ تو میں نے ان کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ وہ بلکل ٹھیک ہے آپ فکر مت کریں میں ابھی ڈاکٹر سے ہی مل کر آیا ہوں۔۔۔یہ کہہ کر میں نے گاڑی موڑی اور بڑے آرام سے گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔۔۔گھر پہنچ کر میں نے ابا جان کو گاڑی سے نکالا اور سہارا دیتے ہوئے گھر کے اندر لے گیا۔ ************************ (31) ابا جان کو اس حالت میں دیکھتے ہی امی اور بینا دونوں پریشان ہو گئیں۔۔۔میں نے ان کو مختصراً صورتحال بتا ہی رہا تھا کہ گھر کے باہر موٹر سائیکل رکنے کی آواز سنائی دی۔۔۔میں الٹے قدموں باہر نکلا تو کمپاؤنڈر نظر آیا۔۔مجھے دیکھتے ہی بولا۔۔۔بھایا شاکر کی حالت بہت خراب ہو رہی ہے۔اس کو شہر ہسپتال لیجانا پڑے گا۔۔۔آپ جلدی سے گاڑی لے آئیں۔۔۔میں پریشانی کی حالت میں گھر کے اندر داخل ہوا اور گاڑی کی چابی اٹھا کر باہر نکلنے لگا تو دروازے تک پہنچتے ہی امی کی آواز سنائی دی۔۔۔رکو کمال!!!میں وہیں رک گیا تو امی جان بولیں:کمال!!!کہاں جا رہے ہو تو میں نے کہا امی وہ شاکر کی حالت بہت خراب ہے میں اس کو لیکر شہر ہسپتال جا رہا ہوں۔۔۔ آپ ابوجان کا خیال رکھیں اور اگر ابو میرے بارے میں پوچھیں تو بتا دیجیے گا کہ میں کہاں گیا ہوں۔۔۔تو امی میرا ماتھا چومتے ہوئے بولیں:میرے لال جلدی واپس آنا میرا دل ہولتا رہے گا۔۔۔میں جی اچھا امی کہہ کر ان کا ماتھا چومتے ہوئے وہاں سے باہر نکلا اور گاڑی بھگاتے ہوئے ڈسپنسری پہنچا تو باہر ہی کھڑے ڈاکٹر امتیاز نے بتایا کہ شاکر کی حالت بہت خراب ہے۔۔۔اس کا سانس رک رک کر آ رہا ہے۔ اب گاؤں میں تو ایسی سہولتیں موجود نہیں کہ اس کو آکسیجن وغیرہ لگا کر باقاعدہ علاج کیا جا سکے تو اسی لیے آپ کو بلایا کہ آپ گاڑی لے آئیں تو اس کو لاہور لے چلتے ہیں۔۔۔ہم یہی باتیں کرتے ہوئے ڈسپنسری کے اندر پہنچے تو اسی وقت ایک کمرے سے رونے پیٹنے کی آواز سنائی دی۔۔۔میں نے سر گھما کر دیکھا تو شاکر کا والد روتا ہوا آ رہا تھا۔۔۔میں نے اس کا بازو تھامتے ہوئے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ چاچا انور آپ پریشان مت ہوں۔۔۔ہم شاکر کو لیکر لاہور ہسپتال جا رہے ہیں۔۔۔تو چاچا انور دھاڑیں مار مار کر روتے ہوئے بولا نہیں پتر!!!شاکر کو اس کی ضرورت نہیں رہی اب۔۔۔وہ ہمیں چھوڑ کر چلا گیا۔ یہ سنتے ہی مجھ پر سکتہ طاری ہو گیا۔ میں تیزی سے اندر کمرے میں داخل ہوا تو شاکر کی ماں اس سے لپٹ کر رو رہی تھی۔۔۔مجھے دیکھتے ہی وہ دھاڑیں مارتے ہوئے اپنا سر پٹخنے لگی۔۔۔میں نے تیزی سے ان کو تھامتے ہوئے صبر کی تلقین کی اور خود نظریں گھما کر شاکر کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھیں بند ہو چکی تھیں۔اور ناک سے نکلا ہوا خون بھی جم چکا تھا۔ سر پر لگنے والی چوٹوں نے شاکر کو جانبر نہیں ہونے دیا۔۔۔میں وہیں ان کے ساتھ رہا اور شاکر کی لاش کو لیکر اس کے گھر تک پہنچا کر خود وہاں سے نکلا اور اپنے گھر پہنچ گیا۔۔۔میری زمینوں اور احاطے پر کل ملا کر چودہ لوگ کام کرتے تھے۔۔۔چونکہ ہم اپنے سب ملازمین کے دکھ سکھ میں ان کے ساتھ کھڑے ہوتے تھے تو اس وقت ہمارے دکھ کی گھڑی میں سارے ملازمین گھر پہنچے ہوئے تھے۔۔۔اس وقت شام کے سات بج چکے تھے۔ میں سب لوگوں سے ملا۔۔۔وہ لوگ ابا جان کا حال چال پوچھنے آئے تھے۔۔۔تھوڑی دیر بعد وہ چلے گئے۔۔۔ان کے جانے کے بعد ہمارا ایک ہاری نوشاد جو کہ میری ہی عمر کا تھا لیکن مجھ سے اور ابا جان سے بہت پیار کرتا تھا وہ بھی آ گیا۔۔۔میں اسے اندر اپنے کمرے میں لے آیا اور بٹھا کر پوچھا کہ وہاں کیا بات ہوئی کیسے ہوئی۔۔۔نوشاد نے بتانا شروع کیا۔بھایا!!!ہم لوگ کھیتوں میں کام کر رہے تھے۔۔۔چونکہ آج پانی کی باری ہماری تھی اس لیے دو بندوں نے پانی کاٹ کر اپنے کھیت میں چھوڑنے کی کوشش کی تو وڈے چوہدری کے دو پاؤں والے کتے بھونکنے لگے کہ آج پانی ہماری سائیڈ پر چلے گا۔ شاکر انہیں بتانے کیلئے آگے گیا کہ آج شیڈول کے مطابق ہماری باری ہے تو انہوں نے شاکر کو بری طرح سے مارنا پیٹنا شروع کر دیا۔۔۔ہم لوگوں نے بیچ بچاؤ کروانے کی کوشش کی تبھی پچھلی طرف سے ان کے چھ رائفل بردار آدمی موقع پر پہنچ گئے اور انہوں نے ہمیں زدوکوب کرنا شروع کر دیا۔۔۔ چچا جمال نے آگے ہو کر انہیں روکنے کی کوشش کی تو وڈے چوہدری کے بیٹے راجو سیال نے چچا کے پیٹ میں ایک ٹھوکر ماری اور انہیں گرا کر لاٹھی سے مارنے لگا۔۔۔ اس کام میں اس کا ساتھ چوہدری کا خاص کتا شاہنواز بھی دے رہا تھا۔۔۔میں نے خود اپنے کانوں سے سنا کہ وہ دونوں چچا کو پیٹتے ہوئے گالیاں دیتے ہوئے کہہ رہے تھے۔ تیرے اتنے پر نکل آئے کہ تو ہمارے مخالفین کا ساتھ دے گا۔اتنا کہہ کر نوشاد چپ کر گیا۔۔۔جبکہ میری رگوں میں میرا خون کھولنے لگا تھا۔ میری مٹھیاں آپوں آپ غصے سے بھینچ گئیں۔مجھے کھڑا ہوتے دیکھ کر نوشاد بولا:بھایا میں نے بڑی کوشش کی کہ چچا جان کو بچا لوں۔۔۔لیکن وہ مجھے اٹھا اٹھا کر دور پٹخ دیتے تھے۔۔۔کافی مار پیٹ کرنے کے بعد جب انہوں نے دیکھا کہ چاچا اور شاکر دونوں کی حالت خراب ہو چکی ہے تو وہ گالیاں دیتے ہوئے چلے گئے۔۔۔میں بہت شرمندہ ہوں بھایا۔میں نے اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا نوشاد تمہیں معلوم ہے کہ میں اس وقت کہاں سے آ رہا ہوں۔۔۔ پھر میں نے اپنے دونوں ہاتھ آگے کیے اور بولا کہ میں اپنے ان ہاتھوں سے شاکر کی لاش کو اٹھا کر اس کے گھر چھوڑ کر آیا ہوں۔۔۔ابا جان کا حال بھی تم دیکھ چکے ہو۔۔۔اور کتنا برداشت کریں گے ان کنجروں کو۔۔۔آج میں ان کنجروں کو زندہ نہیں چھوڑوں گا۔ پھر میں نے نوشاد کو مختصراً یہ بھی بتایا کہ کس طرح وہ لوگ لوگوں کی لڑکیوں کو خراب کر رہے ہیں۔۔۔نوشاد جواب دیتے ہوئے بولا ہمارے لوگ بھی سب کچھ جانتے ہیں لیکن کہاں کوئی کسی پرائی آگ میں کودتا ہے۔۔۔ویسے بھی آج تک اپنے گاؤں میں انہوں نے ایسی کوئی حرکت نہیں کی پاس پڑوس کے گاؤں میں ہی ان کی سرگرمیاں سننے میں آئی ہیں۔۔وہ بھی صرف سنا ہے آنکھوں سے کبھی نہیں دیکھا اس لیے آج تک سب چپ رہے۔۔۔ میں نے بھی چھیمو کا ذکر کرنا مناسب نہ سمجھا۔ لیکن بھایا اب شاکر مر گیا۔۔۔اس کا کیا قصور تھا وہ تو صرف بات کرنے گیا تھا۔۔۔اور میرے باپ جیسے چچا کا یہ حال کیا ہے۔۔۔پھر وہ اپنی گردن نفی میں ہلتے ہوئے بولا:نہیں نہیں کم از کم میں تو یہ سب برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔بھایا اب تم بدلہ لو نہ لو کم از کم میں تو پیچھے ہٹنے والا نہیں۔۔۔ان سیالوں کو کتے کی موت ماروں گا۔۔۔نوشاد کو اتنے جوش میں دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے اور میں اسے گلے لگاتے ہوئے بولا:نوشاد میرے بھائی تم کچھ نہیں کرو گے جو بھی کرنا ہو گا میں کروں گا۔ بس جہاں مجھے تمہاری ضرورت پڑی میں پکار لوں گا فلحال تم میرے ساتھ چلو اور کوئی ہتھیار ہے تمہارے پاس؟؟۔۔۔نوشاد نے الٹا مجھ سے پوچھ لیا بھایا اسلحہ کا کیا کرو گے تمہارے پاس کیا ہے۔ میں نے اپنی ڈب سے ریوالور نکال کر اسے دکھایا تو اس کی آنکھوں میں چمک آ گئی اور وہ بولا بس ٹھیک ہے بھایا میرے پاس بھی پستول ہے میں بھی وہ لے آتا ہوں۔۔۔تو میں نے کہا نوشاد تم کھیتوں میں اپنے ڈیرے پر پہنچو میں بس تھوڑی دیر بعد وہاں ملتا ہوں۔۔۔خیال سے جانا۔ کسی کو کانوں کان بھی پتہ نہیں لگنا چاہیے کہ کیا ہو رہا ہے اور کس قسم کی کھیر پک رہی ہے۔۔۔نوشاد نے میری طرف دیکھتے ہوئے سر ہلایا اور اٹھ کر باہر کی طرف چل پڑا۔ نجانے مجھے کیوں محسوس ہوا کہ نوشاد کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی۔۔۔نوشاد کے جانے کے بعد میں اپنے کمرے سے نکلا اور امی کے کمرے میں چلا گیا۔۔۔ابو کا بستر بھی اندر کمرے میں ہی لگایا گیا تھا تا کہ ان کا خیال رکھا جا سکے۔۔۔ابو دوائی کے زیرِ اثر سو رہے تھے۔۔۔بینا اور امی بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ مجھے دیکھ کر امی سوالیہ لہجے میں بولیں:ہاں پتر!!!گاؤں والے چلے گئے؟تو میں نے سر ہلاتے ہوئے کہا کہ جی امی وہ سب لوگ چلے گئے۔۔۔اب آپ لوگ بھی سو جائیں۔۔۔میں بھی سوتا ہوں۔اتنا کہہ کر میں نے جھکتے ہوئے ابو کا ماتھا چوما اور وہاں سے باہر نکل آیا۔۔۔باہر کے دروازے کی کنڈی اندر سے لگا کر میں اپنے کمرے میں چلا آیا۔ ************************* (32) مجھے سچ میں بلکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ آج میں کیا کر جاؤں گا۔۔۔بس اتنا یاد ہے کہ بدلہ لینا ہے اور سیالوں کو سبق سکھانا ہے۔۔۔چند منٹ سوچنے کے بعد میں وہاں سے نکلا اور اپنے پلان کے تحت میں چھیمو کے گھر کی دیوار پھلانگ کر ان کے صحن میں اتر گیا۔۔۔چھیمو کے گھر والے اندر کمرے میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔۔۔میں دبے پاؤں چلتا ہوا سیدھا باہر کے دروازے کے پاس پہنچا۔ دروازہ کھلا ہوا تھا میں چپکے سے گلی میں نکل آیا۔۔۔باہر نکل کر میں نے ادھر ادھر دیکھا مباداً کوئی مجھے ایسے چوروں کی طرح نکلتے دیکھ لے تو کیا سوچے گا۔۔۔لیکن اطراف میں سناٹا تھا۔۔۔میں تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا اپنے ڈیرے پر پہنچ گیا۔۔۔ڈیرہ ہم اس جگہ کو کہتے ہیں جو ہم نے اپنے کھیتوں میں کام کرنے کے دوران آرام کرنے کے لیے ایک کمرہ سا بنایا ہوتا ہے۔ میں ڈیرے پر پہنچا تو نوشاد مجھے کمرے کے باہر چارپائی بچھائے بیٹھا سگریٹ پیتے ہوئے مل گیا۔۔۔مجھے دیکھ کر وہ اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔میں نے اس کے شانے پر وزن ڈالتے ہوئے اسے اپنے ساتھ ہی چارپائی پر بٹھایا اور اسی سے لیکر ایک سگریٹ سلگا کر سوچنے لگا کہ اب مجھے کیا کرنا چاہیے۔۔۔میں وہاں پہنچ تو جاؤں گا لیکن اندر کیسے گھسوں گا۔۔۔چند منٹ میں وہاں بیٹھا سوچتا رہا پھر میں نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا جو ہو گا دیکھا جائے گا اور ساتھ ہی اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔میرے ساتھ ہی نوشاد بھی اٹھ گیا۔ ہم دونوں کھیتوں کے بیچوں بیچ ہوتے ہوئے وڈے چوہدری کی حویلی کی طرف چل دہے۔۔۔چلتے وقت نوشاد نے چارپائی سے دو چادریں اٹھائیں جو کہ وہ ساتھ لایا تھا۔۔۔ایک چادر مجھے دینے کے بعد دوسری چادر اس نے اپنے شانوں پر ڈال لی۔۔۔میں نے پوچھا:نوشاد یہ کس لیے تو وہ بولا بھایا یہ کام آئیں گی۔۔۔میں نے اس کا مطلب سمجھتے ہوئے اپنے قدم بڑھا دیے۔ ایک عجیب طرح کی وارفتگی میری راہنما تھی۔۔۔ہمارا رخ وڈے چوہدری کی حویلی کی طرف ہی تھا۔۔۔ذہن میں واضح تصور نہیں تھا کہ مجھے وہاں جا کر کیا کرنا ہے۔۔۔بس ایک ہی سوچ میرے دماغ میں چنگاریاں بھرتی جا رہی تھی کہ انہوں نے میرے باپ کی یہ حالت کی ہے۔۔۔اب بغیر مزاحمت ان فرعونوں کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالنے۔ ان کنجروں کو ان کی اوقات یاد دلانی ہے کہ شریف آدمی سے بڑا بدمعاش کوئی نہیں ہوتا۔۔۔میں یہ بھی جانتا تھا کہ ابھی تک میں بیگناہ تھا ایک دفعہ ہتھیار اٹھا لینے کے بعد میں جرم کی راہ پر چل پڑوں گا۔۔۔لیکن اس سے پہلے کچھ تو تڑپ پھڑک لینا چاہیے۔ اگر میرے باپ کو کچھ ہو گیا تو۔۔۔یہ تصور ہی میرے لیے جان لیوا تھا۔ میں اپنے خیالوں میں گم تھا جب دور سے حویلی کی مدھم روشنیاں نظر آنے لگیں۔۔۔میں اور محتاط ہو گیا۔۔۔کماد اور مکئی کے کھیتوں سے ہوتا ہوا میں وسیع و عریض عمارت کے پچھواڑے کی جانب نکل گیا۔۔۔سامنے سے حویلی کے بے رحم اور سنگلاخ چار دیوادی نظر آنے لگی۔۔۔اس چار دیواری کے کئی حصے ٹیوب لائٹس کی روشنیوں میں چمک رہے تھے۔۔۔میں نے نوشاد کے کندھے پر ہاتھ مارا اور اسے جھک کر چلنے کو کہا۔۔۔پھر ہم محتاط قدموں سے قریب تر قریب ہوتے چلے گئے۔ کماد کے کھیت بیرونی چار دیواری سے ملے ہوئے تھے۔۔۔یہاں رک کر ہم دونوں نے چادریں اس طرح چہروں پر لپیٹ لیں کہ صرف ہماری آنکھیں کھلی تھیں۔۔۔میں نے نوشاد کو اشارے سے ریوالور دکھاتے ہوئے پوچھا کہ اس کا پستول کدھر ہے تو اس نے بھی اپنی شیروانی کی جیب سے پستول نکال کر دکھایا۔۔۔ہم دونوں نے جھکے جھکے انداز میں حویلی کی دیوار کے ساتھ آگے بڑھنا شروع کر دیا۔ آخر کار ایک جگہ جہاں سے حویلی کی دیوار مڑ کر دوسری سائیڈ پر جا رہی تھی وہاں سے مجھے چند اینٹیں اس انداز میں اکھڑی دکھائی دیں کہ اگر ہم احتیاط سے چڑھتے تو اوپر پہنچ سکتے تھے۔۔۔جیسے ہی میں نے دیوار پر ہاتھ رکھا تو نوشاد نے میرا کندھا تھپتھپایا اور دھیمی آواز میں بولا:بھایا یہاں سے نہیں آگے راستہ ہے۔۔۔میں اس کے ساتھ چلتا ہوا آگے گیا تو دیوار کے ساتھ ساتھ مڑنے کے بعد چند قدم آگے مجھے ایک قد آدم درخت نظر آیا۔ میں نوشاد کی بات سمجھ گیا تھا۔درخت اس انداز میں تھا کہ اس کی بڑی بڑی ٹہنیاں حویلی کے اندر جھکی ہوئی تھیں۔۔۔یہاں دیوار پر روشنی بھی نہیں تھی۔میں اور نوشاد باری باری اوپر چڑھ گئے۔۔۔اوپر چڑھنے کے بعد میں نے اندر کا جائزہ لیا تو مجھے ادراک ہوا حویلی کے اندر کا فرش دیوار سے کچھ آٹھ نو فٹ نیچے تھا۔۔۔میں نے نوشاد کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ نوشاد تم یہیں رک کر میرا انتظار کرو گے۔اس نے ناں میں سر ہلاتے ہوئے کچھ کہنے کی کوشش کی تو میں نے کہا سمجھا کرو یار۔۔۔اگر میں پھنس گیا تو تم میرے لیے کچھ نہ کچھ تو کر ہی سکتے ہو ناں۔۔۔اگر دونوں ایک ساتھ پھنس گئے تو بہت برا ہو گا۔ نوشاد نے نا چاہتے ہوئے بھی حامی بھر لی۔۔۔میں نے پھر کہا نوشاد میں چاہے ایک گھنٹے تک واپس نہ آؤں تم نے میرے پیچھے نہیں آنا۔۔۔ہاں اگر میں کہیں پھنس گیا تو فائر کر دوں گا یا حویلی میں کسی بھی قسم کے فائر کی آواز سنو تو اندر آ جانا۔ نوشاد کے سر ہلانے پر میں شاخ سے لپٹ کر آگے ہوا اور حویلی کی دیوار پر لیٹ کر اندر کی طرف لٹکتے ہوئے ہاتھ چھوڑ دیے۔۔۔کچے فرش پر گرنے سے ہلکی سی دھپ کی آواز سنائی دی۔میں تیزی سے اٹھ کر ساتھ موجود گملوں میں لگے ہوئے پودوں کے پیچھے ہو گیا۔۔۔وہیں بیٹھے بیٹھے میں نے چند لمحے آس پاس کی سن گن لی۔۔۔کسی قسم کی ہلچل نہ محسوس کرنے کے بعد میں اٹھا اور دبے پاؤں چلتے ہوئے اندرونی کمروں کی جانب چل پڑا۔ ************************** (33) چند وسیع و عریض کمروں سے گزر کر میں ایک نیم روشن کوریڈور میں پہنچا۔۔۔یہاں ایک زینہ نظر آ رہا تھا جو کہ اوپر کی بجائے نیچے جا رہا تھا۔۔۔مطلب میں پہلے ہی گراؤنڈ فلور پر تھا تو یہ زینہ مجھے سپردِ خاک کر دیتا مطلب نیچے تہہ خانے میں لے جاتا۔ اس سے پہلے کہ میں سوچتا مجھے کدھر کو جانا ہے کوریڈور کے دوسرے سرے سے مجھے کسی کے چلنے کی آواز سنائی دی۔میں بلا سوچے سمجھے تیزی سے دبے پاؤں زینے سے سیڑھیاں اتر کر نیچے چلا آیا۔۔۔سیڑھیوں کے اختتام پر ایک دروازہ دکھائی دیا جس کے دونوں پٹ کھلے ہوئے تھے۔۔۔اندر داخل ہونے پر پتہ چلا کہ یہ واقعی ایک تہہ خانہ تھا لیکن میرے تصورات سے بلکل مختلف۔۔۔فلمی تہہ خانوں کی طرح نہ اس میں پیٹیاں تھیں نہ گاڑیوں کے استعمال شدہ ٹائر اور ڈرم۔۔۔حتیٰ کے فرش پر جھاڑ جھنکاڑ والا کوئی مدقوق قیدی بھی نظر نہیں آیا۔ بلکہ یوں کہیے کہ فرش ہی نظر نہیں آیا۔۔۔نیچی چھت کے ایک وسیع کمرے میں دبیز قالین بچھا ہوا تھا۔۔۔اس کمرے میں تین اطراف صوفے لگے ہوئے تھے۔۔۔اور پیچھے ایک قد آدم الماری تھی۔ رنگین ٹی وی،وی سی آر۔ (جو ان دنوں عجوبہ سمجھا جاتا تھا) فریج،تمام آسائشیں اس کمرے میں موجود تھیں۔۔۔میں ابھی کھڑا ہونقوں کی طرح کمرے کی سجاوٹ ہی دیکھ رہا تھا کہ تبھی مجھے کسی کے سیڑھیاں اترنے کی آواز سنائی دی۔۔۔میں نے ادھر ادھر دیکھا تو صرف سیڑھیوں کا دروازہ ہی ایک ایسی جگہ نظر آئی جہاں میں چھپ سکتا تھا۔۔۔میں نے ایک زقند بھری اور بھاگتے ہوئے دروازے کے پیچھے چھپ گیا۔چند لمحوں بعد ہی کمرے میں دو آدمی داخل ہوئے۔ وہ باتیں کرتے ہوئے سیدھا سامنے صوفے کی طرف گئے۔۔۔اچانک میں نے سوچا کے اگر وہ سامنے صوفے پر بیٹھ گئے تو میرا دیکھ لیا جانا اظہر من الشمس تھا۔۔۔چنانچہ اس سے پہلے کے وہ صوفے پر بیٹھتے میں سرعت سے دروازے کی اوٹ سے نکلا اور دروازے کے دوسرے پٹ کی اوٹ میں چھپ گیا۔۔۔وہ دونوں واقعی سامنے صوفے پر بیٹھ گئے۔ بیٹھنے کے بعد جیسے ہی ان کا رخ میری طرف ہوا میری ساری حسیات کھچ کر آنکھوں میں چلی آئیں۔۔۔میری قسمت نے یاوری کی تھی۔۔۔سامنے صوفے پر ریاض عرف راجو سیال اور اس کا کوئی آدمی بیٹھے تھے۔۔۔ریاض کو دیکھ کر میرا دماغ غصے سے کھولنے لگا کہ یہی وہ بھین کا چھنکنا ہے جس کی خاطر میں یہاں آیا ہوں۔ ************************ (34) بیٹھتے ہی راجو نے اپنی ڈب سے ایک جرمن لیوگر نکالا اور سامنے میز پر رکھ دیا۔۔۔چونکہ مجھے اسلحے کا شوق تھا اور اکثر میں اسلحے کے بارے معلومات حاصل کرتا رہتا تھا اس لیے دیکھتے ہی لیوگر کو پہچان لیا۔گن کے آگے ایک لمبی سی نال لگی ہوئی تھی جس کے بارے میں جانتا تھا کہ اس کو سائلنسر کہتے ہیں۔ میں جو ان پر جھپٹنے کو پر تول رہا تھا راجو کے ہاتھ کی رسائی میں گن دیکھ کر وہیں رک گیا۔۔۔وہ مجھے سے تقریباً دس میٹر کی دوری پر صوفے پہ بیٹھے تھے۔۔۔اگر میں وہاں سے بھاگ کر بھی ان کی طرف جانے کی کوشش کرتا تو ناممکن سی بات تھی۔۔۔کیونکہ جیسے ہی میں دروازے کی اوٹ سے باہر نکلتا میرا دیکھ لیا جانا یقینی تھا۔۔۔اور لیوگر راجو کی رسائی میں تھا۔ ریوالور میرے پاس بھی تھا لیکن وہ میں نے انتہائی ایمرجنسی کیلئے رکھا ہوا تھا میں یہاں گولی نہیں چلانا چاہتا تھا کیونکہ جیسے ہی گولی چلتی ساری حویلی کو پتہ چل جاتا۔۔۔اس لیے میں وہیں دبکا ان کی باتیں سننے لگا۔۔۔راجو نے جیب سے ایک چھوٹی سی چرمی تھیلی نکالی اور اسے کھول کر احتیاط سے میز پر الٹ دیا۔۔۔میری آنکھیں ایک دم چندیا گئیں۔ تھیلی میں سے قمیض کے بٹن برابر شیشے کی طرح چمکتے ہوئے ہیرے باہر نکلے۔۔۔میں فلموں میں پہلے ہی ہیرے دیکھ چکا تھا۔۔۔لیکن آج پہلی مرتبہ اپنی آنکھوں کے سامنے ہیرے دیکھ رہا تھا۔۔۔راجو نے ہیرے باہر نکالے اور اٹھا اٹھا کر غور سے انہیں دیکھنے لگا۔۔۔اچھی طرح ہیرے دیکھنے اور پرکھنے کے بعد راجو نے ہیرے واپس تھیلی میں ڈالے اور تھیلی اٹھا کر اس آدمی کو دیتے ہوئے کہا کہ اسے پیچھے الماری میں رکھ دو۔۔۔ساتھ ہی راجو نے اسے چابیوں کا ایک گچھا پکڑایا تو وہ آدمی سعادت مندی سے اٹھا اور ہیروں کی تھیلی لیجا کر الماری میں رکھ کر دروازہ بند کر کے واپس مڑا تو اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ راجو نے اپنا جرمن لیوگر اس کی طرف سیدھا کیا ہوا تھا۔۔۔وہ آدمی ہکلاتے ہوئے بولا:بب۔بب۔باس یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔۔۔تو راجو قہقہ لگا کر بولا:میں اپنے پیچھے کبھی بھی کوئی ثبوت نہیں چھوڑتا۔۔۔اگر تمہیں زندہ چھوڑ دیا تو یہ راز میرے علاوہ تم بھی جانتے ہو جو کہ میں نہیں چاہتا۔۔۔تو وہ آدمی ہاتھ جوڑتے ہوئے بولا:بب۔باس میں نے آپ کا نمک کھایا ہے تو نمک حرامی کیسے کر سکتا ہوں تو راجو دانت پیستے ہوئے بولا:جب تو اپنے مالک کا نہ ہوا تو میرا کہاں سے ہو گا۔ یہ کہتے ہی راجو نے گولی چلا دی۔۔۔سائلنسر ہونے کی وجہ سے ہلکی سی ٹھک کی آواز کے ساتھ گولی نکلی جو کے سیدھا اس کی داہنی آنکھ سے تھوڑا اوپر کھوپڑی میں لگی۔اور اس کی کھوپڑی پرزوں میں تقسیم ہو گئی۔۔۔وہ آدمی گرنے سے پہلے ہی مر چکا تھا۔۔۔میرے لیے یہی موقع تھا۔۔۔راجو نے اس کو مارنے کے بعد لیوگر صوفے پر پھینکا اور آگے ہو کر الماری کو تالا لگانے لگا۔ میرے لیے یہ لمحہ انتہائی اہمیت کا حامل تھا۔۔۔میں دروازے کی اوٹ سے باہر نکلا اور دبیز قالین پر دبے قدموں تیزی سے راجو کی طرف بڑھا۔۔۔جیسے ہی میں اس کے قریب پہنچا اس کی چھٹی حِس نے اسے گڑبڑ کا احساس دلایا اور اس نے مڑنا چاہا۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ پوری طرح مڑ پاتا میں نے دو قدم بھاگ کر چھلانگ لگائی اور اسے لیتا ہوا نرم نرم روئی جیسے قالین پر گِرا۔۔۔راجو کے جسم پر ہاتھ پڑتے ہی مجھے اندازہ ہو گیا تھا وہ بھی ایک مضبوط جسم کا مالک اور کڑیل جوان ہے۔ نیچے گرتے ہی اس کے منہ سے ایک انتہائی فحش گالی نکلی۔۔۔کیڑا اوئے کسی کتی ماں دا جنیا۔۔۔ساتھ ہی اس نے بے دریغ ایک ٹکر میری پیشانی پر دے ماری۔۔۔مجھے اس سے اس حرکت کی قطعاً توقع نہیں تھی۔۔۔ٹکر اور گالی کھا کر میرا دماغ بھی گھوم گیا۔۔۔میں نے ایک ہاتھ اس کی ٹھوڑی پر جما دیا۔۔۔وہ زور لگا کر مجھے پہلو کے بل نیچے گرانے کی کوشش کرنے لگا۔اسی کوشش میں میرے چہرے سے میری چادر بھی اتر گئی۔ اسی وقت مجھے اس کے بائیں ہاتھ کی غیر موجودگی کا احساس ہوا۔۔۔بایاں ہاتھ مجھ سے پنجا آزما نہیں تھا بلکہ کسی اور کام میں مصروف تھا۔۔۔میری یہ خبرداری میری زندگی کی ضمانت بن گئی۔۔۔ورنہ جو گراری دار چاقو راجو کی قمیض کے نیچے سے اس کے ہاتھ میں برآمد ہوا وہ ایک لمحے بعد میری آنتیں قالین پر ڈھیر کر دیتا۔۔۔چاقو کے باہر آتے آتے میں نے راجو کی کلائی جکڑ لی اور دوسرے ہاتھ سے ایک طوفانی مکا اس کی ناک پر دے مارا۔۔۔اسی وقت وہ سمجھ گیا کہ اس کا واسطہ بھی کسی سخت جان سے پڑا ہے۔۔۔اس نے اچانک چاقو ہاتھ سے چھوڑ دیا اور دونوں ہاتھ اپنی ناک پر رکھ کر لوٹ پوٹ ہونے لگا۔ میں نے چاقو اٹھایا اور پھل مطلب دھار والی سائیڈ سے پکڑتے ہوئے پوری جان سے چاقو کا دستہ اس کی کھوپڑی پر جماتے ہوئے دوسرے ہاتھ سے اس کا منہ بند کر دیا۔۔۔اگلے ہی لمحے وہ ہاتھ پاؤں جھٹک کر ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گیا۔۔۔اس کے بیہوش ہوتے ہی میں اس کے اوپر سے اٹھ کر سائیڈ پر ہو گیا اور لمبی لمبی سانسیں لینے لگا۔ یہ میری زندگی کی پہلی لڑائی تھی۔۔۔دو منٹ سانس درست کرنے کے بعد میں سیدھا ہوا راجو کو ہلا کر دیکھا تو الماری کی چابیاں مجھے اس کے نیچے سے مل گئیں۔۔۔میں نے پھرتی سے الماری کو کھولا تو کھولتے ہی میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔۔۔الماری کے ایک خانے میں بڑے بڑے نوٹوں کی گڈیاں چنی ہوئی تھیں۔۔۔جبکہ دوسرے خانے میں کچھ ملبوسات پڑے تھے۔۔۔سب سے نچلے خانے میں چند رائفلیں اور ان کا ایمونیشن پڑا ہوا تھا۔ رائفلیں دیکھ کر میری آنکھیں چمک اٹھیں۔۔۔لیکن مجھے کسی اور چیز کی تلاش تھی۔۔۔میں نے پیچھے ہو کر نظر دوڑائی تو الماری کے سب سے اوپر والے خانے میں نوٹوں کی گڈیوں کے ساتھ ہی مجھے وہ چرمی تھیلی نظر آ گئی جس میں ہیرے تھے۔ میں نے تھیلی کھولی اور اس میں ہاتھ ڈال کر ایک ہیرا باہر نکال کر اپنی ہتھیلی پر رکھتے ہوئے اسے دیکھنے لگا۔۔۔روشنی میں ہیرا پورا آب و تاب سے چمک رہا تھا۔۔۔پھر کچھ سوچ کر میں نے تھیلی واپس رکھی اور مڑ کر راجو کی طرف دیکھا جو کہ ابھی تک بیہوش تھا۔۔۔میں نے ادھر ادھر نظر دوڑائی تو مجھے میرے مطلب کی چیز نظر نہیں آئی۔۔۔پھر میری نظر گھومتی ہوئی راجو پر ہی آن ٹکی۔ راجو نے بھی شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی مطلب شلوار میں نالا ضرور ہو گا۔۔۔میں نے ٹٹول کر اس کا نالا کھولا اور زور لگا کر شلوار سے باہر نکال لیا۔۔۔راجو کو پہلو کے بل لٹاتے ہوئے اس کے ہاتھ پیچھے کر کے باندھ دیے۔۔۔پھر آگے بڑھ کر میں نے تہہ خانے کا دروازے اندر سے بند کر دیا۔۔۔دروازہ بند کرنے سے امید تھی کہ اندر کی آواز باہر تک نہیں جائے گی۔۔۔پھر الماری سے ایک قمیض نکال کر اسے پٹیوں میں پھاڑ دیا۔۔۔ان پٹیوں سے میں نے راجو کی ٹانگیں بھی باندھ دیں اور باقی ماندہ پٹیوں کا گولہ بنا کر اس کے منہ میں ٹھونس دیا۔ یہ سب کرنے کے بعد میں نے دوسرے آدمی کی طرف دیکھا تو اس کی کھوپڑی سے خون بہہ بہہ کر قالین کو داغ دار کر چکا تھا۔۔۔پھر میں نے فریج کھولی اور اندر سے ٹھنڈے پانی کی بوتل نکال کر آدھی بوتل اپنے معدے میں اتاری اور باقی پانی راجو کے چہرے پر انڈھیل دیا۔۔۔چند لمحوں بعد ہی راجو ہوش میں آ گیا۔۔۔کچھ دیر تو وہ خالی نظروں سے مجھے دیکھتا رہا۔۔۔پھر جب اس کے دماغ کو صورتحال کی سمجھ آئی تو وہ اپنے ہاتھوں اور پاؤں کو جھٹکے دیتے ہوئے اوں اوں کرنے لگا۔ ************************ (35) راجو کو ہوش دلانے سے پہلے میں نے اپنی چادر واپس چہرے پر لپیٹ لی تھی۔۔۔پہلے مارا ماری میں وہ ٹھیک سے میرا چہرہ نہیں دیکھ پایا تھا۔۔۔ہوش آنے کے بعد میں نے اس کو گالی دیتے ہوئے کہا او رانی خاں کے سالے،،کسے کتی کے پتر اپنی کتی زبان ذرا قابو میں رکھنے اور شور نہ مچانے کا وعدہ کرے تو میں تیرے منہ سے کپڑا نکالتا ہوں۔۔۔اس کے ہاں میں سر ہلانے پر میں نے آگے بڑھ کر اس کے منہ سے کپڑا باہر نکال لیا۔ کون ہے تو؟؟اس نے غصیلی سرگوشی کی۔" میں نے کچھ لمحے سوچنے کے بعد اپنے چہرے سے چادر ہٹا دی۔۔۔مجھے دیکھ کر اس کی آنکھیں پھیل گئیں۔۔۔اس کی حالت دیکھ کر میں سمجھ گیا کہ وہ مجھے اچھی طرح سے جانتا ہے۔۔۔مجھے دیکھتے ہی اس نے مجھ سے ایک نازیبا رشتہ جوڑا اور اس کے منہ سے بوچھاڑ کی صورت میں گالیاں نکلنا شروع ہو گئیں۔ میں نے ایک زور کا طمانچہ اس کے گال پر مارا۔۔۔اور پھناتے ہوئے بولا کہ اب تو نے ایک بھی گالی بکی تو تیری زبان کاٹ دوں گا ساتھ ہی زمین پر پڑا گراری دار چاقو اٹھا کر اس کی آنکھوں کے سامنے لہرایا۔۔۔وہ چاقو کو نظر انداز کرتے ہوئے بولا:کیا چاہتے ہو مجھے ایسے کیوں باندھا ہوا ہے۔۔۔تم جانتے نہیں ہو کہ ہم کون ہیں۔۔۔میں نے کھڑے ہوتے ہوئے ایک ٹھوکر اس کے جبڑے پر ماری تو اس کے منہ سے ایک دھاڑ برآمد ہوئی۔۔۔کتی کے بچے ہو تم۔۔۔تو نے میرے باپ پر ہاتھ اٹھایا اور اس معصوم شاکر کا کیا قصور تھا جسے تم نے مار ڈالا۔ مرنے کی بات سن کر ایک لمحے کیلئے اس کا چہرہ تاریک ہوا پھر وہ سنبھلتے ہوئے بولا:تم نے پہلے میری کزن شبینہ کے ساتھ بدتمیزی کی میں برداشت کر گیا۔۔۔پھر کل تیرے باپ نے میرے پاپا کو گالی دی۔۔۔تم لوگوں کو کیا لگا ہم آسانی سے ہضم کر جائیں گے نہیں۔۔۔اور اب تم حویلی کے اندر گھس کر مجھ سے الجھ گئے۔۔۔ہم تمہارا نام و نشان تک مٹا دیں گے۔۔۔اور شبینہ کو چھیڑنے کے بدلے میں تیری بہن کو یہاں اٹھا لاؤں گا۔۔۔وہ سب کے سامنے ناچے گی اور پھر میں اس کی پھدی ماروں گا۔ اس کے منہ سے یہ بکواس سننا تھی کہ میرے دماغ پر جیسے چھپکلی سی رینگ گئی۔۔۔دم سمٹ کر میری آنکھوں میں آ گیا۔۔۔میں عجیب لہجے میں بولا:گشتی کے بچے تو میری بہن کو اٹھائے گا،،نچائے گا اور اور۔۔۔اس کے آگے الفاظ میرے منہ میں ہی اٹک گئے۔۔۔جب میرے منہ سے آواز نکلی تو اپنی آواز سن کر مجھے ٹھیک ٹھاک تسلی ہوئی۔۔۔اس وقت میرے لہجے میں وہ درندگی تھی جو شاید پتھر کو بھی پانی کر دیتی۔میں یکا یک اس کے پاس بیٹھا اور ایک ہاتھ سے اس کا جبڑا اتنی زور سے بھینچا کہ درد کے مارے اس کا منہ کھل گیا۔ میں نے دوسرے ہاتھ سے کپڑا پھر سے اس کے منہ میں ٹھونس دیا۔۔۔پھر صوفے سے لیوگر اٹھا کر میں اس کی ٹانگوں کے بیچ بیٹھتے ہوئے غرایا۔۔۔تجھے میں زندہ چھوڑوں گا تو ہی یہ سب کر پائے گا نا۔۔۔اس کے ساتھ ہی میں نے اس کی شلوار کھینچتے ہوئے لیوگر کے آگے لگے سائلنسر کی نال پورے زور سے اس کی گانڈ میں گھسائی اور پاگلوں کی طرح ٹرائیگر دباتا گیا۔۔۔اس کے منہ سے چیخ بھی نہ نکل سکی۔۔۔مجھے ہوش تب آئی جب گن سے ٹرچ کی آواز سنائی دی۔ میں پانچ منٹ تک وہیں صوفے پر بیٹھ کر اپنے آپ پر قابو پاتا رہا۔۔۔تھوڑی دیر بعد جب دماغ کچھ سوچنے سمجھنے کے قابل ہوا تو میں نے الماری میں سے چرمی تھیلی اٹھائی۔۔۔اچھی طرح تلاشی لینے پر مجھے الماری سے ہی لیوگر کا ایمونیشن بھی مل گیا جو کہ تین ڈبوں کی شکل میں تھا۔۔۔میں نے ایمونیشن اپنی جیبوں میں ڈالا۔۔۔لیوگر کی نال صوفے کے ساتھ رگڑ کر صاف کی اور تہہ خانے سے نکل آیا۔۔۔اب چونکہ میرا بدلہ بھی پورا ہو چکا تھا اور میں ہیروں کی شکل میں بھی سیالوں کو ایک کاری ضرب لگا چکا تھا تو اب مجھے یہاں سے نکلنے کی فکر تھی۔ میں دبے قدموں چلتا ہوا سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اوپر پہنچا اور آس پاس دیکھ کر وہاں سے باہر نکلا۔۔۔چند لمحوں بعد میں کوریڈور کراس کر کے صحن کی طرف کھلنے والے دروازے کے پاس پہنچ چکا تھا۔۔۔جیسے ہی میں دروازے سے باہر نکلنے لگا سامنے سے اچانک کوئی اندر کی طرف مڑا اور میں نا چاہتے ہوئے بھی اس سے ٹکرا گیا۔۔۔جس سے میں ٹکرایا اس نے سنبھلنے کیلئے ہوا میں ہاتھ مارے تو میری چادر کا پلو اس کے ہاتھ میں آیا جسے کھینچتے ہوئے وہ زمین پر جا پڑا۔۔۔چادر کا پلو اس کے ہاتھ میں ہونے کی وجہ سے میرے جسم کو ایک جھٹکا لگا اور چادر کھل کے نیچے گر گئی۔1 like
- پردیس ۔۔۔ اردو ادب کی لازوال سیکس کہانی